’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘

ادارہ

(۱۷ اگست ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘ کے زیر عنوان ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اقبال انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبہ تاریخ کے استاد ڈاکٹر افتخار اقبال نے گفتگو کی، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمار خان ناصر نے نقابت کے فرائض انجام دیے۔ اس تقریب کی روداد افادۂ عام کے لیے یہاں شائع کی جا رہی ہے۔)


محمد عمار خان ناصر 

دینی مدارس کا نظام اور ان کا سماجی کردار، یہ اس وقت ہر سطح پر، ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع ہے۔ تعلیم کے دائرہ میں، سیاست کے دائرے میں ہے اور بین الاقوامی سطح پر تہذیب وثقافت کی جو ایک کشمکش ہے، اس دائرے میں بھی ان مدارس کے نصاب ونظام کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ہم مختلف عنوانات پر وقتاً فوقتاً کئی پروگرام منعقد کر چکے ہیں جن میں دینی مدارس کے نصاب ونظام اور ان کے معاشرتی کردار کے مختلف پہلو زیر بحث آتے رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے خاص طور پر تدریس حدیث کے منہج اور اس میں کن کن پہلوؤں سے بہتری پیدا کرنے کی گنجائش ہے، اس عنوان پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی مختلف موضوعات پر نشستیں منعقد ہوتی رہی ہیں۔ کافی عرصے سے ہماری خواہش تھی کہ دینی مدارس کے کردار کا وہ تناظر بھی سامنے لایا جائے جوبین الاقوامی سطح پر زیر بحث آتا ہے اور جو بین الاقوامی سطح پر پالیسی سازوں اور مفکرین کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ ظاہر ہے کہ نصاب کے جو فنی اور تعلیمی پہلو ہیں، وہ بین الاقوامی سطح پر اس طرح دلچسپی کا موضوع نہیں ہیں، لیکن دینی مدارس کا ایک سماجی کردار ہے، معاشرے کی اسلامی تشکیل میں ان کا ایک کردار ہے جو سیاسی لحاظ سے بھی، تہذیبی لحاظ سے بھی اور عالم اسلام اور مغرب کے مابین فکری کشمکش کے لحاظ سے بھی بین الاقوامی سطح پر بحث ومباحثہ کاموضوع ہے۔ یہ پہلو بھی ہمارے سامنے آنا چاہیے کہ مغرب کے لوگ جو اپنے زاویے سے اس پورے سسٹم کو دیکھتے ہیں اور اس کا مطالعہ کرتے ہیں، ان کا کیا نقطہ نظر ہے؟ ان کے تحفظات کیا ہیں؟ ان کی طرف سے تبدیلی، بہتری او ر اصلاح کا جو مطالبہ کیا جاتا ہے، اس کا پس منظر کیا ہوتا ہے؟ 

ہمارے نہایت محترم بزرگ ڈاکٹر ممتا زاحمد صاحب گزشتہ کم وبیش پینتیس سال سے اس موضوع پر اور خاص طو ر پر پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دینی مدارس کے کردار کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔ کافی عرصہ امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں۔ ہیمپٹن یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے شعبے میں استاد ہیں اور آج کل بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے ایک ذیلی ادارے ’’اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ ‘‘ کے ڈائریکٹر کے طو رپر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دینی مدارس کے نصاب ونظام اوراس کے مختلف پہلوؤں پر ان کے تحریری مقالات، مونو گراف بھی چھپ چکے ہیں۔ کافی سالوں سے ہمارا ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب سے رابطہ بھی ہے اور ہماری یہ خواہش اورکوشش رہی کہ کسی موقع پر ان کو زحمت دی جائے کہ وہ تشریف لائیں اور ان کے مشاہدات اور مطالعہ وتجزیہ سے ہم مستفید ہوں۔ میں ڈاکٹر صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اپنا قیمتی وقت میں عنایت کیا۔ ان کے ساتھ بنگلہ دیش سے ہمارے معزز مہمان ڈاکٹر افتخار اقبال صاحب بھی تشریف لائے ہیں۔ انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں انہوں نے ۲۰۰۵ء میں پی ایچ ڈی کی ہے اور ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبہ تاریخ میں تدریس کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطالعہ و تحقیق کا خاص موضوع بھی یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مدارس کانظام کیا ہے اور وہ قومی حوالے سے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ممتازا حمد صاحب کی عنایت سے ہمیں ان کو بھی یہاں زحمت دینے کا موقع ملا۔ میں ڈاکٹر صاحب کا، ان کے ادارے کا اور ان کے رفقا جناب عمر قذافی صاحب اور جناب محمد اسماعیل صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان کی توجہ اور تعاون سے آج کی اس نشست کا انعقاد ممکن ہوا۔ 

ڈاکٹر ممتاز احمد 

سب سے پہلے میں عزیز محترم عمار کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے کچھ ٹوٹے پھوٹے خیالات آپ کے سامنے پیش کر سکیں۔ ایک مد ت سے میری خواہش تھی کہ میں ’’ الشریعہ اکادمی ‘‘ میں حاضر ہوں۔ میں ان کے والد معظم مولانا زاہد الراشدی کے مداحوں میں سے ہوں۔ صرف ایک باراسلام آباد میں میری ان سے ملاقات ہوئی، لیکن ایک ہی ملاقات میں انہوں نے میرا دل موہ لیا اور اس کے بعد ان کی تحریروں کودیکھ کر ایک طرح سے میرے دل میں ان کے لیے محبت پیدا ہوتی گئی۔ میں سمجھتاہوں کہ اس وقت پاکستان کی دینی صحافت میں جس قدر خوبصورت نثر لکھنے والے یہ دونوں باپ بیٹا ہیں، میرے نزدیک بہت کم اس پایے کی نثر دینی صحافت میں لکھی جا رہی ہے بلکہ ادبی صحافت میں بھی اس کی مثال کم ملتی ہے۔ 

دوسری چیز مجھے جو ’’الشریعہ اکادمی‘‘ اور اس کے لکھنے پڑھنے والے لوگوں میں نظر آئی اور جو پاکستان کے کسی بھی دینی حلقے اور کسی بھی مدرسے میں مجھے دیکھنے میں نظر نہیں آئی، وہ ہے اختلاف رائے کو رواداری کے ساتھ قبول کرنا، دوسرے کی رائے کو احترام کے ساتھ سننا، اگر اس سے اتفاق نہ ہو تو نہایت ہی احترام کے ساتھ اس سے اختلاف کا اظہار کرنا۔ یہ ایک ایسی خوشگوار اور ایسی حیرت انگیز روایت اس ادارے نے قائم کی ہے کہ آپ کو پورے پاکستان میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ آپ پورے پاکستان کے مدارس کودیکھ لیں۔ پورے پاکستان کے علمی خانوادوں کو دیکھ لیں۔ آپ کو یہ روایت نہیں ملے گی کہ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کے ساتھ دینی اور علمی مسائل پر برسر بحث ہیں، ایک دوسرے سے اختلاف کا اظہار کر رہے ہیں اور محبت اور احترام کا رشتہ پھر بھی قائم ہے۔ کیا آپ کسی عام مدرسے میں اس کا تصور کر سکتے ہیں؟ میرے نزدیک ناممکن ہے اور یہ اتنی خوشگوار اور حیرت انگیز چیز ہے کہ اس کی جتنی بھی قدر کی جائے، وہ کم ہے۔ اس وجہ سے کہ ہمارے ہاں لوگ اختلاف رائے کی بنیاد پر نہ صرف ذاتی دشمنیاں بنا لیتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں اور یہاں صورت یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں باپ اور بیٹا ایک دوسرے کے ساتھ علمی اور دینی مسائل پر بحث ومباحثہ کر رہے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے لیے احترام اور محبت کا اور باپ بیٹے کا رشتہ وہی ہے جو روایتی طور پر ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں اس کی کوئی اور روایت نہیں ملے گی۔ 

تیسری چیز جو اس ادارے میں، میں نے دیکھی، وہ یہ کہ علمی مسائل پر از سر نو بحث کرنے اور گفتگو کرنے سے ڈر اور خوف نہیں ہے۔ ہمارے ہاں کچھ مسائل کو چیک ؟؟ بنا لیا گیا ہے اور کچھ مسائل کو ہم نے قالینوں کے نیچے دبا کر رکھا ہوا ہے کہ اس کا تو نام بھی نہ لو۔ الشریعہ وہ پرچہ ہے جس میں دین کے اکثر علمی اور مذہبی مسائل پر کھل کر بحث ہوتی ہے اور لوگوں کو اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کے مواقع دیے جاتے ہیں۔ الشریعہ وہ پرچہ ہے جس میں الشریعہ میں لکھنے والوں کے خلاف، ان کی اپنے رائے کے خلاف لوگوں کی چیزیں چھپتی ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ ہماری دینی روایت کا بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید استحکام اور ترقی بخشے اور مولانا زاہدالراشدی اوران کے بیٹے عمار کی کوششوں میں برکت دے اور اس روایت کو باقی جگہوں پر بھی پھیلانے میں اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہو۔ 

میں عمار کا بہت شکریہ ادا کرتاہوں کہ انھوں نے ہمیں دعوت دی، یہ فورم مہیا کیا اور اتنے اچھے لوگوں سے ملنے کا موقع دیا۔ میرا تعلق انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک ادارے ’’اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ سے ہے۔ یہ ادارہ چند سال پہلے قائم کیا گیا تھا اور اس ادارے کے قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ عالم اسلام اور پاکستان کوجو مسائل درپیش ہیں، ان مسائل پر لوگوں کو وعظ کر کے اپنی رائے کو ان اوپر ٹھونسنے کے بجائے اسلامی نقطہ نظر سے گفتگو کی جائے، مکالمے کیے جائیں، لوگوں کی باتیں سنی جائیں اور ان باتوں کی روشنی میں ایک اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اوراگر اتفاق رائے نہ بھی ہو سکے تویہ کوئی بری بات نہیں ہوگی۔ یہی بہت ہوگا کہ ہم نے لوگوں کی بات سنی اور انہوں نے ہماری بات سنی۔ مسائل کی کچھ تشریح ہوئی، لوگوں کے اندر اور خود ہمارے اندر اس بات کا شعور پیدا ہوا کہ یہ وہ مسائل ہیں جن کا سامنا اس وقت عالم اسلام کو کرنا پڑر ہا ہے اور جن پر ایک تسلسل کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری ہے۔ ان میں جمہوریت کا مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کامسئلہ ہے۔ ریڈیکل ازم ( Redicalism) کا مسئلہ ہے، Terrorism کا مسئلہ ہے اورا س کے علاوہ دوسرے بہت سے مسائل ہیں۔ مغرب سے ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ جدیدیت اور اسلام کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ آج کی سیاست میں مسلمانوں کا رول کیا ہونا چاہیے؟ پاکستان کی حد تک ریاست اور معاشرے کے تعلقات کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر کیسے استوار کیا جا سکتا ہے؟ معیشت میں، معاشرت میں، قانون میں، زندگی کے ہر میدان میں ہم اسلام کی تعلیمات پر کس طرح عمل پیرا ہو سکتے ہیں جس سے اسلام کی صحیح روح ہمارے سامنے واضح ہو۔ اسلام کے بارے میں یہ جو تصور عام کر دیا گیا ہے کہ اسلام کامقصد صرف ہاتھوں کو کاٹنا، سنگسار کرنا، پتھر مارنا، کوڑے مارنا اور لوگوں کی گردنیں کاٹنا اور خودکش حملے کرنا اور ہائی جیکنگ کرنا ہے۔ یہ اسلام نہیں ہے، بلکہ اسلام وہ ہے جو ہمیں آپس میں محبت، بھائی چارہ، حسن سلوک، حسن اخلاق، صبر اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ تو یہ ’’اقبال انسٹیٹیوٹ‘‘ کا مقصد ہے۔ اس مقصد کے لیے ہم بے شمار کام کرتے ہیں۔ پبلک لیکچرز کا اہتمام کرتے ہیں، سیمینار زکرتے ہیں، کانفرنسز کرتے ہیں۔ جس طرح آج کی نشست ہوئی ہے، اس طرح کی نشستوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ کچھ پبلی کیشنز بھی ہمارے پیش نظر ہیں۔ آپ میں سے جو بھی اسلام آباد آئے تو ہمارے ادارے ’’اقبال انسٹیٹیوٹ‘‘ کا ضرور وزٹ کرے۔ ہمارا دفتر فیصل مسجد کے کیمپس میں ہے۔ اور جو شخص بھی ہمیں جہاں اورجس وقت بلانا چاہے، ہم خود حاضر ہونے کے لیے تیار ہیں۔ 

ان ابتدائی کلمات کے بعد اب میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ 

آج کل کے اخبارات میں آپ بھی دیکھ رہے ہیں، آپ کو خود بھی اندازہ ہو گا کہ امریکی معاشرے میں کیا ہو رہا ہے۔ سب سے اہم خبریں جو امریکی اخبارات میں اور پھر ان کی وساطت سے پوری دنیا کے دوسرے اخبارات میں چھپ رہی ہیں، وہ امریکی معیشت اور امریکی اقتصادی کساد بازاری سے متعلق ہیں۔ آپ نے پڑھا ہو گا کہ امریکہ کے بینک ناکام ہو گئے ہیں، امریکی انشورنش کمپنیاں ناکام ہو گئیں اور سالانہ امریکی خسارہ ایک ٹرلین ڈالر یعنی ایک ہزار ارب ڈالر ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکا کو دو بلین ڈالر روزانہ چین سے لیناپڑتا ہے اور جب تک امریکا کو چین سے یہ قرضہ نہ ملے، اس وقت تک اس کی معیشت نہیں چل سکتی۔ یہ سپر طاقت کی معیشت کا حال ہے کہ چینی قرضوں کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ 

اس سب کے باوجود امریکہ میں ایک انڈسٹری ایسی ہے جوگزشتہ سات آٹھ سال سے مسلسل بڑھ رہی ہے، ترقی کر رہی ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سی انڈسٹری ہے؟ وہ ہے اسلام کی انڈسٹری۔ اسلام پر جو کتابیں شائع ہو رہی ہیں، ٹیلی ویژن پروگرام ہو رہے ہیں، سیمینار زہو رہے ہیں، کانفرنسز ہو رہی ہیں ا ور یونیورسٹیوں میں جو تحقیقی وتصنیفی کام ہو رہے ہیں، ان کے حجم کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اس لیے میں اس کو اسلام انڈسٹری کہتا ہوں۔ اس انڈسٹری میں بہت کام ہو رہا ہے۔ ۱۹۷۶ء میں جب میں پہلی بار امریکہ گیا تو یونیورسٹی آف شگاگو کے بک اسٹور میں یہ دیکھنے کے لیے گیا کہ اسلام کے متعلق کتنی کتابیں ہیں۔ وہاں ایک سیکشن تھاجس پر World Religions لکھا ہوا تھا۔ اس میں خاصی بڑی تعداد میں کتابیں تھیں۔سب سے زیادہ عیسائیت کے متعلق، پھر یہودیت اور پھر ہندومذہب کے متعلق۔ اس وقت مجھے یونیورسٹی آف شگاگو کے بک اسٹور میں اسلام کے متعلق صرف تین کتابیں ملیں۔ یہ وہ یونیورسٹی ہے جو تحقیقی سطح کی یونیورسٹی ہے۔ لیکن آپ اگر آج یونیورسٹی آف شگاگو میں جائیں تو تین چاربڑے شیلف اسلام سے متعلق کتابوں سے آپ کوبھرے ہوئے نظر آئیں گے۔ 

جب ۱۱؍ستمبر۲۰۰۱ء کا واقعہ پیش آیا تو اس کے فوراً بعد دو تین مہینے کے اندر قرآن مجید کے تقریباً پچاس لاکھ مسطے امریکہ میں فروخت ہوئے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ امریکہ میں اتنی تعداد میں لوگوں نے قرآن مجید خریدا، لیکن اس میں بے وقوفی کی اور بری بات یہ ہے کہ نائن الیون کے واقعے کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے ایک دفعہ ایک امریکی سے میں نے سوال کیا کہ نائن الیون کے واقعہ کوسمجھنے کے لیے قرآن مجید کو کیوں پڑھا جا رہا ہے؟ کیا جن لوگوں نے طیارہ ہائی جیک کیا، انھوں نے قرآن مجید میں یہ پڑھا ہوگا کہ کس طرح ہائی جیک کرنا ہے؟ بہرحال امریکی عوام میںیہ تجسس ضرور پایا جاتا ہے کہ ہم دیکھیں تو سہی کہ وہ کون سی کتاب ہے جو مسلمانوں کو اس طرح کے دہشت گردی کے کاموں پر اکساتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر بری بات میں اچھی بات بھی نکل آتی ہے۔ اس طرح اسلام کے متعلق نہایت اچھی او ر اسی طرح الٹی سیدھی، جو کتاب بھی لکھی گئی، اس کو امریکہ کے پبلشرز نے چھاپنا شروع کر دیا۔

۲۰۰۵ء میں، میں نے امریکہ کا جو ہائیر ایجوکیشن کا میگزین ہے جو عام طورپر یونیورسٹی کے اساتذہ کے لیے ہوتا ہے، اس کے چار پانچ شمارے دیکھے۔ اس میں جتنی Jobs خالی تھیں، وہ اسلامیات کے اساتذہ کے لیے تھیں اور لکھا ہوا تھا کہ ہمیں اس وقت اسلامک اسٹڈیز پڑھانے کے لیے ایک پروفیسر چاہیے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں کوئی بندہ بھی نہیں ملا تو اسلامک اسٹڈیز پڑھا سکے۔ سعودی عرب کے ایک شہزادہ ہیں، پرنس ولید جنھوں نے بہت سا پیسہ جوا کھیل کر کمایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں امریکی یونیورسٹیوں میں اسلام پڑھانے کے لیے پچاس ملین ڈالر دیتا ہوں۔ بیس پچیس ملین ڈالر انہوں نے جارج سٹائن یونیورسٹی کو او ر بیس پچیس ملین ڈالر ہارورڈ یونیورسٹی کو دیا۔ ایک صاحب مجھ سے مشورہ لے رہے تھے کہ کون سی یونیورسٹی کوپیسہ دیں۔ میں نے کہا کہ پرنس ولید کو رقم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام امریکہ کی اپنی ضرورت ہے اور مجبوری ہے اور اب اسلام ایک حقیقت بن چکا ہے۔ وہ اس پر خرچ کریں گے اور سعودی عرب کو پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام اب ان کے گلے کی ایک ہڈی بن چکاہے، اس کو اگلنے یا نگلنے دونوں کے لیے ان کو اپنے وسائل اور ذرائع خرچ کرنے پڑیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہارورڈ کی اپنی Endowment تیس چالیس بلین ڈالر کی ہے تو پرنس ولید کے بیس بائیس ملین ڈالر کی کیا حیثیت ہے؟ یہ تو سمندر میں قطرے کے برابر ہے۔ بہرحال سعودیوں کا ایک اپنا مزاج ہوتا ہے۔ انہوں نے پیسے دے دیے۔ 

یہ اسلام انڈسٹری ہے اور اس انڈسٹری کا مرکز نگاہ مدرسہ ہے۔ اب امریکہ میں صحافت کے میدان میں، یونیورسٹی کے میدان میں ہر شخص مدارس کے موضوع پر اپنے آپ کو سمجھتا ہے اور ہر شخص مدارس کے نظام تعلیم پر اس طرح اتھارٹی سے بات کرتا ہے جیسے وہ دارالعلوم یا بنوری ٹاؤن سے پڑھا ہوا ہو۔ ایک دفعہ ہیلری کلنٹن نے سینٹ میں مدارس کے بارے میں بات کی تومیں ٹیلی ویژن پر سن رہا تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا، ایسا لگتا ہے جیسے یہ بنوری ٹاؤن کی پڑھی ہوئی ہے۔ اس کے بات کرنے کا انداز ایسا ہی تھا کہ مدرسوں میں یہ ہو رہا ہے اور وہ ہو رہا ہے۔ 

ایک اور بات یہ کہ وہاں کے لوگوں کی مدارس کے بارے میں جو باتیں ہیں، کچھ تو وہ ہیں جو سنی سنائی ہیں او ر کچھ وہ باتیں ہیں جو یہاں کے صحافی لکھتے ہیں اور وہ ان کو پڑھتے ہیں۔ وہ ہمارے پاکستانی صحافیوں کی لکھی ہوئی چیزیں پڑھتے ہیں۔ نیو یارک ٹائمزکے پاس مدارس کے بارے میں جاننے کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ پاکستان میں موجود کچھ صحافی ہیں، وہ لکھتے ہیں اور وہ ان کو پڑھتے ہیں۔ اب یہ سارے صحافی جو انھیں بتا رہے ہیں کہ مدرسہ میں کیا ہو رہا ہے، میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے بھی آج تک مدرسہ میں قدم تک نہیں رکھا۔ لیکن وہ بڑے تیقن کے ساتھ ایسے لکھتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے ان لوگوں نے ساری زندگی مدارس میں Study کرنے میں لگائی ہو۔ یہ لوگ غلط سلط باتیں لکھتے ہیں اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کو لندن ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ چھاپ دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ اس کو پالیسی پڑھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کیا ان کے خیالات بنیں گے۔

اس کی چند مثالیں دیتا ہوں۔ نیویار ک میں دو سال پہلے ایک اسکو ل خلیل جبران ا کیڈمی کے نام سے تھا اور یہ خلیل جبران ایک لبنان کے سیکولر رومانی شاعر تھے۔ نیویارک میں کچھ عرب عیسائیوں نے ایک اسکول قائم کیا جس میں زبانیں پڑھائی جاتی تھیں۔ امریکہ میں میٹرک کی تعلیم میں لازم ہوتا ہے کہ غیر ملکی کم از کم دو زبانیں جرمن، فرنچ یونانی اور اٹالین وغیرہ سیکھیں۔ انہوں نے دیگر زبانو ں کے ساتھ ساتھ خلیل جبران اکیڈمی میں عر بی زبان کو بھی ساتھ شامل کر لیا، کیوں کہ اس میں عرب زیادہ تھے۔ اس پر یہ شور مچ گیا کہ اب نیویارک میں مدرسہ قائم ہو گیا ہے۔ نیویارک کی سٹی کونسل اس کے پیچھے پڑ گئی، اس کی پرنسپل کو استعفا دینا پڑا اور اس ادارے کو جو امدادمل رہی تھی، روک لی گئی۔ پچھلے سال میں نے پڑھا کہ اس کی جو پرنسپل تھی، اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی لیکن معلوم ہو گیا تو بچ گئی۔ 

ا س کے علاوہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب صدر اوباما انتخابی مہم چلا رہے تھے تو ان کے خلاف کسی نے شور مچادیا کہ وہ پانچ سال کی عمر میں انڈونیشیا گئے تھے او ر سی این این نے یہ خبر لگادی کہ یہ تو مدرسہ کا پڑھا ہوا آدمی ہے اور شاید ان کے گمان میں ان مدارس میں بم بنائے جاتے ہیں اور تعلیم نہیں دی جا تی۔ بہرحال اس کے بعد صدر اوبامہ اور اس کی بیوی نے مسلسل دو ماہ تک تردید کی کہ انڈونیشیا میں جو اسکول ہوتا ہے، اس کو مدرسہ کہاجاتا ہے اور اس میں جنرل ایجوکیشن ہوتی ہے جس میں میتھ، بیالوجی وغیرہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ 

۱۱؍ستمبر۲۰۰۱ء سے پہلے امریکہ میں اور مغرب میں کوئی شخص بھی مدرسہ سے واقف نہ تھا۔ میں نے ۱۹۷۵ء میں مدارس پر کام کرنے کا ارادہ کیااور مغربی پاکستان میں بھی کچھ مدارس کا چکر لگایا۔ میرے خیال میں اس وقت کسی کو معلو م نہ تھا کہ مدرسہ کس چڑیا کا نام ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی رینج میں اچانک مدرسہ آگیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انیس ہائی جیکرز جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کیا تھا، ان میں سے کوئی بھی مدرسہ کا پڑھا ہوا نہ تھا۔ آپ ان انیس کی لسٹ دیکھ لیں۔ ان میں سعودی تھے، کویتی تھے اور جرمن تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ عطا محمدجس نے پہلا حملہ کیا، وہ جرمنی کی کسی انجینئرنگ یونیورسٹی کا پڑھا ہو اتھا۔ پھروہاں پر یہ بات ہو رہی تھی کہ طالبان مدرسوں کے پڑھے ہوئے ہیں اور یہ دہشت گردی کر رہے ہیں، دہشت گرد پیدا کر رہے ہیں، اس لیے ان مدارس کو بند کر دینا چاہیے۔ میں نے ایک شخص سے کہا کہ بھائی! یہ دیکھو کہ عطامحمد تو ایک جرمن یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا تو کیا آپ اس یونیورسٹی کو بند کر دیں گے؟ اس لیے کہ سب سے بڑا دہشت گرد تو وہی تھاجس نے first attack کیا۔ اس کے بعد دیکھیں !خالد شیخ محمد کا نام آپ نے سنا ہو گا۔ بہت معروف آدمی ہے اور راولپنڈی میں پکڑا گیا ہے۔ اس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے اور کہتے ہیں کہ اب بھی معترف ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جرنلسٹ کی ہلاکت میں اس کا ہاتھ تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ نائن الیون کی اوریجنل پلاننگ بھی اسی نے کی تھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ خالد شیخ محمدکہاں کا پڑھا ہوا ہے؟ بنوریہ کا یا حقانیہ کا یا دارالعلوم کا نہیں، لندن اسکول آف اکنامکس کا جو لندن کا سب سے ممتاز ادارہ ہے۔ تو میں لوگوں سے یہ کہا کرتا تھا کہ اگر آپ کا معیار یہ ہے کہ ہر وہ ادارہ جس سے کوئی دہشت گرد پڑھ کر نکلا ہے، اس پر پابندی لگادینے چاہیے تو ٹونی بلیئر صاحب کو سب سے پہلے لندن اسکول آف اکنامکس کو بند کر دینا چاہیے جس نے سب سے بڑا دہشت گرد پیدا کیا ہے۔ 

اس طرح کی بہت سی باتیں مغرب میں زیر بحث آتی رہتی ہیں۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مغرب میں، وہاں کے پریس میں، وہاں کے اداروں میں اور عام پبلک میں کس طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ طالبان کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سب کے سب مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں اور خاص طور پر شمال مغرب کے صوبہ کے جو مدارس ہیں، وہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق پاکستان کے سارے مدارس طالبان ہی کی طرح کے لوگ پیدا کر رہے ہیں جو لڑتے ہیں، گولیاں چلاتے ہیں، راکٹ چلاتے ہیں، جو لوگوں کو کوڑوں کی سزا دیتے ہیں، بم بناتے ہیں، جھگڑتے ہیں، لوگوں کے گلے کاٹتے ہیں، پتھروں سے سنگسار کرتے ہیں۔ صبح ایک آدمی کو پکڑا اور ایک آدھ گھنٹہ اس سے تفتیش کی، اگلے آدھ گھنٹے میں اس کا سرقلم کر دیا۔ لیں جی انصاف ہوگیا ۔ تو اس طرح کا تاثر پایا جاتا ہے کہ طالبان چونکہ پاکستان کے مدارس کے پڑھے ہوئے ہیں، اس لیے سارے پاکستان کے مدارس طالبان ہی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ تاثر بہت گہرا اور مضبوط ہے۔ 

جب واشنگٹن یا امریکہ کے دوسرے شہروں میں اس طرح کی کانفرنسز ہوتی ہیں تو میں کہتا ہوں کہ دیکھیں آپ کو دو چیزوں کے بارے میں بنیادی فرق کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں ایک تو وہ مدارس ہیں جو پاکستان بننے سے پہلے موجود تھے اور پاکستان بننے کے بعد اس میں ایک تدریجی ارتقا ہوا ۔ طلبہ کی تعداد بڑھتی گئی تو پورے پاکستان میں، سندھ میں، سرحدمیں، بلوچستان میں، پنجاب میں اور آزاد کشمیر میں ایک تدریجی رفتار کے ساتھ ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ یہ وہ مدارس ہیں جو خالص دینی تعلیمی کے لیے بنائے گئے اور ان میں سوائے دینی تعلیم کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ 

اس کے بعد ۱۹۸۰ء کی دہائی میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس کی مزاحمت کے لیے کچھ افغان مجاہدین کے گروپ منظم کیے گئے۔یہ آپ سب جانتے ہیں کہ پانچ یا چھ گروپوں کومنظم کیا گیا اور ان مجاہد تنظیموں کا ہیڈ کوارٹر پشاور تھا۔ ان کو تائید حاصل تھی پاکستان حکومت کی، سعودی حکومت کی، آئی ایس آئی کی، برٹش حکومت کی اور سب سے بڑھ کر امریکہ کی تائید حاصل تھی۔ اس دوران جو افغان مہاجرین پاکستان میں آئے ہوئے تھے، ان کی تعداد ایک اندازہ کے مطابق ۵ ملین کے لگ بھگ تھی۔ پچاس لاکھ کے لگ بھگ افغان مہاجرین پاکستان میں پشاور اور بلوچستان کے بارڈر پر موجود تھے۔ ان کے لیے رہائشی کیمپ لگائے گئے اور اس کے لیے مسلمان ممالک نے امداد دی۔ 

اس وقت سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ جو مہاجرین ہیں، ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کیا ہو گا۔ ان مہاجرین کے کیمپ میں اسکول کھولے گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسکول کس کی مدد سے کھولے گئے؟ یہ اسکول سعودی عرب کی امداد سے اور امریکی ڈالر کی امداد سے کھولے گئے اور ان سکولوں میں دو چیزیں مقصود تھیں، بلکہ میرے خیال میں تعلیم وہاں ثانوی مقصد تھا جبکہ پہلا مقصد وہاں نوجوان افغان مہاجرین کو جہاد کے لیے اور سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرناتھا۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مدارس جو مہاجرین کے کیمپ میں قائم کیے گئے، مدارس نہیں تھے جہاں تعلیم دی جاتی تھی بلکہ یہ پاکستان اور افغان سرحد پر قائم کیے گئے جنگی کیمپ تھے جہاں جنگی تربیت دی جاتی تھی۔ ان کو مدارس کا نام دے دیا گیا۔ ان اداروں کا بنیادی تشخص تعلیم تھا ہی نہیں، ان اداروں کا بنیادی تشخص لڑاکا فوج کو تیار کرنا تھا جو امریکی ڈالر لے کر، سعودی ریال لے کر، پاکستانی آئی ایس آئی کا روپیہ لے کر افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کریں جو ایک اچھا مقصد تھا۔ میںیہ نہیں کہتا کہ سوویت یونین کو نکالنے کااچھا مقصد نہیں تھا۔ لیکن دیکھیں، ہو کیا رہا ہے۔ یہ ادارے تیار کیے جا رہے ہیں سوویت یونین کے خلاف جہادی تیار کرنے کے لیے، جنگجو تیار کرنے کے لیے اور اس کو مذہبی جواز دینے کے لیے ان اداروں کا نام ٹریننگ سنٹر نہیں رکھا جاتا بلکہ مدرسہ کانام دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو لڑاکا فوج تیار ہوتی ہے، اس کوہم کہتے ہیں کہ مدارس جنگجو تیار کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ ’’مدارس‘‘ کس نے قائم کیے؟ کس کا پیسہ لگا تھا؟ برطانیہ کا پیسہ لگا تھا، سعودیوں کا پیسہ لگا تھا، امریکہ کا پیسہ لگا تھا۔ اگریہ آگ ہے تو امریکہ کی لگائی ہوئی ہے۔ میں ان لوگوں سے صاف کہتا ہوں کہ آپ لوگ اس سے بری الذمہ نہیں ہیں۔ باقی جن دینی مدارس کا بنیادی تشخص حقیقتاً مدرسے کا ہے، وہ بالکل اس سے الگ تھلگ رہے۔ وہ تو قال اللہ وقال الرسول کی بات کرتے رہے۔ 

۸۳۔ ۱۹۸۴ء کی بات ہے۔ میں یونیورسٹی آف اٹلانٹا میں گیا تو وہاں ایک امریکی پروفیسر ہیں جان سٹرے۔ وہ افغانستان میں تین چار سال رہے۔ انہوں نے وہاں پشتو بہت اچھی سیکھی، دری بھی سیکھی۔ دری وہ ایسے بولتے تھے جیسے ایک Nativeآدمی بولتا ہے۔ افغانستان سے ان کو بہت دلچسپی تھی۔ وہاں ایک کانفرنس تھی۔ میں وہاں گیا تو انھوں نے مجھے بتایا کہUSIGکو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ۲۵ملین ڈالر دیے گئے ہیں کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے جو اسکول چل رہے ہیں، ان کے لیے نصابی کتاب تیار کریں۔ ذرا خیال فرمائیے! افغان مہاجرین کے بچوں کو جو کتابیں پڑھائی جانے والی تھیں، وہ کہاں تیار ہو رہی ہیں؟ امریکہ میں۔ ان نصابی کتابوں کو تیار کرنے کے لیے پیسہ کون دے رہا تھا ؟ امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ۔ تیار کرنے والے کون تھے؟ امریکی۔ چنانچہ پہلی جماعت کے لے کر پانچویں جماعت تک کے لیے نصابی کتابیں اس زمانے میں تیار ہوئیں۔ اس قاعدے کودیکھنے کا موقع اس خاکسار کوبھی ملا ہے ۔ اس میں الف، A سے اللہ ہے جس میں ظاہر ہے کہ کوئی بری بات نہیں ہے لیکن ب،B سے بندوق ہے۔ K سے کلاشنکوف ہے ۔ Jسے جہاد ہے۔ Tسے ٹینک ہے۔ R سے Russian Soldier ہے اور R سے Rocket ہے اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہیں۔ پورے کا پورا قاعدہ ہے جو بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تو لڑنے جھگڑنے کی اور دہشت گردی کے لیے ذہن سازی کون کر رہا ہے؟ ہم نے تونہیں کی۔ یہ امریکیوں نے کی ہے۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ مدارس سے جو لوگ نکلتے ہیں، بہت ہی لڑاکا ہوتے ہیں، ان میں رواداری نہیں ہوتی۔ آپ خود بتائیں جس نے T سے ٹینک پڑھا ہو اور S سے Suicide Bombing پڑھا ہو اور K سے کلاشنکوف پڑھا ہو، کیا اس سے آپ امن کی، رواداری کی، صلہ رحمی کی، حسن اخلاق کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ 

تویہ صورت حال ہے۔ جب امریکہ کے لوگ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ مدارس سے ایسی نسل نکل رہی ہے جو جنگجو ہے اور دہشت گرد ہے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ جناب! یہ پھل آپ کا لگایا ہوا ہے۔ یہ پودا آپ کا لگایا ہوا ہے جو اب بار آور ہو کر آپ کے خلاف تیار ہے۔ 

ایک اور چیز کہی جاتی ہے کہ مدارس میں جہاد اور قتال کی تعلیم دی جاتی ہے، دوسروں سے نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے، فرقہ واریت کے جذبات پیدا کیے جاتے ہیں، امریکہ سے اور مغرب سے نفرت کے جذبات پیدا کیے جاتے ہیں۔ یہ تاثر ہے امریکہ کا مدارس کے بارے میں کہ پاکستان کے مدارس میں کوئی پڑھائی وغیرہ نہیں ہوتی، صرف جنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ گویا ہر مدرسہ ایک ملٹری ٹریننگ کیمپ ہے۔ نیویارک سے ایک امریکی افسر ۹۹۰ ا ء میں پاکستان آیا او ر مدرسہ حقانیہ میں مولانا سمیع الحق صاحب سے ملاقات کی۔ نیویارک ٹائمز کے فرنٹ پیج پر اس نے ایک Story لکھی اور اس کا نام رکھا: University of Jihad ۔ اسی طرح اس نے دارالعلوم بنوری ٹاؤن کا وزٹ کیا اور اس کا عنوان رکھا: Jihad Factory ۔ اسی طرح یہ بات عام طورپر وہاں کے اخبارات میں لکھی جاتی ہے اور میڈیا میں آتی ہے کہ یہاں کے جو مدارس ہیں، ان میں دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ مدارس میں جو معصوم طلبہ ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرت بھری جا رہی ہے۔ جہاد اور قتال کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ خودکش حملوں کی تربیت دی جارہی ہے۔ ہندوؤں، یہودیوں، عیسائیوں اور یہاں تک کہ شیعوں کو قتل کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس لیے ان مدارس سے کوئی اچھی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ یہاں سے جو پڑھ کر نکلے گا، وہ وحشی ہوگا، درندہ ہوگا ، خونخوار ہوگا۔ گویا یہ تاثر قائم کیا گیا ہے کہ یہ مدارس ملٹری کیمپ اور جہاد کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ 

ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مذہبی حلقے نے اورہمارے علماء کرام نے ان تعصبات کو مضبوط کرنے کے لیے کیا رول ادا کیا ہے۔ ایک صاحب ہمارے حلقے میں ایک جانے پہچانے عالم دین ہیں۔ میں ان کا نام نہیں لوں گا۔ وہ خود کو طالبان کا باوا آدم اور طالبان کی تاریخ کا موجد کہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ طالبان کے امیر ملا عمر ان کے مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں، حالانکہ ملاعمر نے ان کے مدرسے میں قدم تک نہیں رکھا۔ جب کبھی کوئی میڈیا کا آدمی اور صحافی ان کے مدرسے میں ملنے آتا تھاتو وہ بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ ملاعمر نے ہمارے ہی مدرسہ سے ڈگری حاصل کی ہے اور طالبان رہنماؤں میں فلاں وزیر، فلاں وزیر، فلاں وزیر ہمارے مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں۔ معلوم نہیں ان کا مقصد کیا تھا۔ میرے خیال میںیہ بات ہے کہ ان کے ہاں جو امریکی صحافی آتاہے، وہ ان سے جو کچھ سننا چاہتا ہے تو وہی بات وہ ان کو سنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکیوں کے سامنے یہ بات کرنے سے کہ میں طلبہ کو یہاں جہاد کی تعلیم دے رہا ہوں اور یہ بڑے ہو کر امریکہ کے خلاف جہاد کریں گے اورفلسطین کو فتح کریں گے اور یہی میرے بچے کشمیر پر جا کر حملہ کریں گے، ان کے خیال میں شاید اس سے امریکیوں کی نظر میں ان کی قدروقیمت بڑھ جائے گی۔ یہ بھی ایک طریقہ ہے اپنی قدر وقیمت بڑھانے کا۔ ان کا طریقہ واردات یہی ہے۔ جب بھی کوئی امریکی صحافی ان کے پاس آتا ہے تو نہایت مبالغہ کے ساتھ بڑھا چڑھا کر باتیں کرتے ہیں۔ 

اسی سلسلے میں، میں ایک اور بات بھی کہوں گا۔ لال مسجد کے المیہ سے پہلے ہونے والے واقعات نے بھی ہے مدارس اور علما کے بارے میں ایک منفی تاثر اور تعصب قائم کرنے میں بہت کردار ادا کیا ہے۔ ۲۰۰۷ء کے شروع میں جب یہ مسئلہ شروع ہوا تو میں اس وقت امریکہ میں تھا اور وہاں ان کے اخبارات کو مسلسل دیکھ رہا تھا۔ مدرسہ حفصہ کی طالبات کی طرف سے سب سے پہلے ایک پبلک لائبریری پر قبضہ کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں ہوئیں اور ایک یا دو پولیس والوں کو وہ پکڑ کر لے گئے اور ایک دو دن تک انہیں محبوس رکھا۔ اس کے بعد ایک خاتون کو اغوا کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ بدکاری کو فروغ دے رہی تھی۔ اس کے بعد ڈی وی ڈی کی دوکانوں پر حملہ کیا گیا اوران میں سے ایک دو کو جلا دیا گیا۔ ان کو دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کرنا شروع کر دیا گیا۔ اور سب سے آخر میں چینیوں کو اغوا کر کے لے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ غازی عبدالرشیدمرحوم اور غازی عبد العزیز کے دھواں دار بیانات اور جمعہ کے خطبے ہوتے رہے اور وہ روزانہ پریس کانفرنسز کر رہے تھے کہ ہم یہ کر دیں گے، ہم وہ کر دیں گے۔ اگر شرعی نظام نافذ نہ کیا گیا تو ہم ریاست کے خلاف بغاوت کریں گے۔ پھر کہا گیا کہ اگر شریعت نافذ نہ کی گئی تو ہماری بچیاں شہادت کے لیے تیار ہیں۔ پھر اس کے ساتھ آپ کیا دیکھتے تھے کہ بڑی بچیاں اسلام آباد میں انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے، سی این این کے کیمروں کے سامنے کھڑی ہیں، سر سے پاؤں تک سیاہ برقعوں میں ملبوس اور ہاتھوں پر دستانے ہیں۔ اور کیا دیکھتے ہیں کہ ہاتھ میں آٹھ دس فٹ کی لاٹھی۔ آپ نے تصویریں دیکھی ہوں گی۔ 

نیویارک ٹائمز میں، میں نے پہلی تصویر دیکھی جو اس کے فرنٹ پیج پر شائع ہوئی۔ اتنی بڑی تصویر تھی، آپ یقین جانیے کہ وہ تصویر اتنی خطرناک نظر آرہی تھی کہ چہرہ بالکل بندہے، تھوڑی سی آنکھیں نظر آرہی ہیں، پورا جسم سیاہ کپڑے میں ملبوس ہے، ہاتھوں پر دستانے اور ہاتھوں میں بارہ فٹ کی لاٹھی اٹھائی ہوئی ہے۔ نیویارک ٹائمز میں تصویر کے ساتھ لکھا ہو اہے کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم اس حکومت کے خلاف بغاوت کریں گی۔ ہم سٹرکوں پر لڑیں گی، ہم پولیس سے لڑیں گی۔ جب یہ تصاویر شائع ہوئیں تواس وقت امریکہ کی رائے عامہ پر کا اس کا کیا اثر ہوا، آپ کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔ جو باہر رہتا ہے، اس کو اندازہ ہے۔ ایک متعلمہ لال مسجد کی چھت پر کھڑی ہے، ایک دروازے پر ہے اور کچھ مین گیٹ کے سامنے تین قطاروں میں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر ان کے ذہین میں ایک مسلمان خاتون کا تاثر قائم نہیں ہوا بلکہ ہٹلر کے گسٹاپو کا تاثر قائم ہوا۔ اس کے بعد اگر ہم شکایت کریں کہ مغرب ہمارے بارے میں غلط تاثر رکھتا ہے تو شاید ہم حق بجانب نہیں ہوں گے۔ ہماری بہنیں لاٹھیاں لہرا تے ہوئے اسٹیٹ کو چیلنج کر رہی تھیں اور میڈیا کو بتا رہی تھیں کہ ہم اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں اور شہادت کے لیے تیار ہیں۔ بعد میں جولائی میں لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ صدر مشرف نے نہایت بے حیائی اور بے غیرتی کے ساتھ جس طرح بچیوں کو بھون ڈالا، وہ الگ داستان ہے، لیکن مغربی میڈیا میں مدارس کے بارے میں پہلے سے موجود تعصبات میں لال مسجد کے واقعہ نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایک اور بات یہ ہے کہ مغرب کے میڈیا اور اخبارات میں مدارس کی تعداد کے بارے میں خاصی مبالغہ آمیز باتیں شائع ہوتی ہیں۔ میں نے مختلف اخبارات میں چھ، سات اور آٹھ لاکھ مدارس کی رپورٹیں پڑھی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں جسے ایک پاکستانی رپورٹر نے تیار کیا ہے، مدارس کی تعداد ایک لاکھ بتائی گئی ہے۔ اسی طرح طلبہ کی تعداد تیس لاکھ، چالیس لاکھ اور آخری رپورٹ کے مطابق پچاس لاکھ بتائی جاتی ہے۔ یہ سب ہوائی باتیں ہیں۔ کسی نے مدرسہ کا سروے نہیں کیا، نہ ہی کوئی مدارس سے پوچھنے کے لیے گیاہے اور نہ ہی ان کو کسی ادارے وفاق المدارس یا تنظیم المدارس نے بتایا ہے۔ 

آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں۔ ایک چھوٹے سائز کا اخبار کرسچن سائنس مانیٹر آتاہے جو میرے نزدیک صحیح خبریں شائع کرتا ہے۔ آج سے چار پانچ سال پہلے ایک خبر اس کے صفحہ اول پر شائع ہوئی اور اس کی ہیڈلائن گوجر خان سے متعلق تھی۔ میں پڑھ کر چونک اٹھا کہ شاید پہلی دفعہ کسی امریکی اخبار میں میرے شہر گوجرخان کی ہیڈ لائن لگی ہے۔ اس کی سرخی یہ تھی کہ صدر مشرف کی کوششوں کے باوجود پاکستان میں مدارس کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ خبر گوجر خان کی تھی اور ان کے راولپنڈی کے نمائندے نے دی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ اس نے سروے کیا ہے جس کے مطابق گوجرخان میں پچاس مدرسے ہیں۔ گوجرخان میرا شہر ہے اور میں سال میں کم از کم دو مرتبہ اپنے شہر ضرور آتا ہوں۔ میں شہر کے چپے چپے سے واقف ہوں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جس محلے میں ہم رہتے ہیں، اس کے بارے میں لکھا تھا کہ چھ مدرسے توا س محلے میں ہیں۔ میں نے ذہن پر بہت زور دیاکہ کون سے چھ مدرسے اس محلے میں ہیں۔ میں اسی وقت اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھا اور اس کے ایڈیٹر کو ای میل بھیجا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جس محلے میں چھ مدرسے بتائے ہیں ، میرا اسی محلے سے تعلق ہے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پورے شہر گوجرخان میں آٹھ یا دس مدارس سے زیادہ نہیں ہیں۔ ان آٹھ میں بھی میں جن کو صحیح طور پر مدرسہ کہوں، ن کی تعداد چار ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مبالغہ ہے، لہٰذا آپ دوبارہ اپنے نمائندہ سے تصدیق کر لیں۔ اگر میں پاکستان کے جنگ یا ڈان کو ای میل کرتا تو وہ میرا ای میل ردی کی ٹھوکری میں پھینک دیتے۔ لیکن امریکہ کے اخبار کرسچن سائنس مانیٹر کی بڑائی ہے کہ اگلے دن اس کے ایڈیٹر کا مجھے ای میل آتا ہے اور وہ لکھتا ہے کہ آپ کا بہت شکریہ۔ آپ نے ہمیں توجہ دلائی کہ اس خبر میں بہت مبالغہ آرائی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ میں موجودنہ تھا۔ ہمارے جو اسلام آباد میں نمائندے ہیں، انھوں نے ہمیں رپورٹ بھیجی تھی۔ لیکن اب جب آپ نے اس پر اعتراض اٹھایا ہے تو ہم نے اسلام آباد کے ایک دوسرے صحافی کو ۵۰۰ ڈالر دیے ہیں اور اس کو کہا ہے کہ وہ گوجر خان جائے اور اس صحافی کو ساتھ لے جائے جس نے پچاس مدارس کی رپورٹ دی ہے اور جا کر دیکھے کہ وہ پچاس مدرسے کہاں ہیں۔ اس کے چار یا پانچ دن کے بعد مجھے ایڈیٹر کا ای میل آیا اور اس نے کہا کہ آپ کی بات کسی حد تک صحیح تھی۔ جس صحافی کو ہم verify کرنے کے لیے بھیجا تھا، اس نے انیس مدرسے بتائے ہیں۔ میں نے جواب میں اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد لکھاکہ یہ انیس کی تعداد بھی مبالغہ پر مبنی ہے۔ 

اصل بات یہ ہے کہ باہر کی دنیا میں جن لوگوں نے مدارس پر کام کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ پچاس ہزار یا ایک لاکھ مدرسے ہیں تو وہ پاکستان کی ہر مسجد کو مدرسہ شمار کرتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں خطیب صاحب یا امام صاحب صبح بچوں کو تھوڑا سا قرآن پڑھا دیتے ہیں تو وہ باہر لکھ دیتے ہیں ’’مسجد امیر حمزہ‘‘ اور اس کے نیچے لکھ دیتے ہیں ’’مدرسہ تجوید القرآن‘‘۔ تو وہ لوگ اس کو بھی مدرسہ شمار کر لیتے ہیں ۔ یہ ایک Trickہے جس کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ساری رپورٹس میرے نزدیک صریح جھوٹ پرمبنی ہیں اور اسلام آباد میں بیٹھ کر کی جانے والی اس رپورٹنگ کو انٹرنیشنل میڈیا تحقیق کے بغیر من وعن قبول کر لیتا ہے۔ مثلاً ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں دس سے پندرہ فی صدلوگ مدرسہ میں پڑھ رہے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ کس طرح مبالغہ آمیز ی کی جاتی ہے۔ 

آخر میں ایک اور چیز کا میں ضرور ذکر کرنا چاہوں گا۔ چار سال پہلے جب مدارس کے بارے میں بہت شوروغل مچا کہ مدارس کس چڑیا کانام ہے، یہ مدارس والے کیا کر رہے ہیں اور کیا پڑھا رہے ہیں تو ورلڈبینک والوں نے مجھ سے کہا کہ میں ان کو مدارس کے نظام کے بارے میں ایک لیکچر دوں۔ خیر میں نے لیکچر دیا تو اس کے بعد تین چار سوال آئے ۔ ان میں ایک سوال یہ تھا کہ مدرسہ کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے، پیسہ کہاں سے آتاہے اور کون دیتاہے۔ اگر آپ انٹرنیشنل رپورٹس پڑھیں تو یہی تاثر ملتا ہے کہ سارے مدرسے سعودی فنڈز سے چل رہے ہیں۔ سعودی فنڈز کے بغیر کوئی مدرسہ چل نہیں سکتا ۔ میں نے انہیں کہا کہ بات یہ ہے کہ سعودی فنڈنگ کے بارے میں تو زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ۱۹۷۹ء کے بعد عراق اور سعودی عرب کے درمیان شیعہ سنی محاذ آئی شروع ہوئی تو اس وقت کچھ سنیوں کو، کچھ اہل حدیث کو سعودیوں نے پیسہ دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی تو مدرسے چل رہے تھے۔ ان کو فنڈز کہاں سے ملتا تھا؟ دوسری بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے اگر پیسہ دیا ہے تو وہ اپنے ہم عقیدہ مدارس کو دیا ہے۔ خاص طور پر اہل حدیث کو خوب پیسہ دیا ہے۔ میں نے کہا کہ جو دیہات میں چھوٹے چھوٹے مدرسے ہیں، ان کو کون فنڈ دے رہا ہے؟ ان کو تو کمیونٹی فنڈنگ دے رہی ہے۔ 

میں نے انہیں بتایا کہ میں پشاور گیا تو وہاں جی ٹی روڈ پر ایک مدرسہ تھا جس میں چالیس کے لگ بھگ طلبہ تھے اور ان میں دس پندرہ کے قریب کتابیں پڑھنے والے تھے، باقی چھوٹے طلبہ تھے۔ میں نے اس مدرسہ کے مولانا صاحب سے پوچھا کہ آپ کے مدرسہ کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ انہوں نے پہلے تو ہچکچاہٹ ظاہر کی ۔ پھر وہ مجھے مدرسہ کے احاطے سے باہر لے گئے اور سامنے جی ٹی روڈ پر دو دوکانیں دکھائیں جو جنرل اسٹور کی طرح تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دوکانوں کا مالک بہت نیک اور اچھا آدمی ہے۔ وہ ایک دوکان کی آمدن اپنے پورے خاندان پر صرف کرتا ہے اور دوسری دوکان کی پوری آمدن مدرسہ کو دے دیتا ہے جس سے ہمیں کسی اور سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بنگلہ دیش میں، میں نے ایک مدرسہ کی چھپی ہوئی رپورٹ دیکھی جس میں عطیات کے بارے میں لکھا ہوا تھاکہ انڈے چار عدد، دو مرغیاں، فلاں نے اتنے کلو چاول دیے ، فلاں نے اتنی چیز دی۔ ان سب چیزوں کا حساب کتاب لکھا ہوا تھا۔ یہ وہ واقعات ہیں جو امریکیوں کو معلوم نہیں۔ 

دوسرا سوال جوورلڈ بینک کی تقریر کے دوران مجھ سے لوگوں نے پوچھا، وہ مدرسے کے نظام تعلیم سے متعلق تھا۔ کیا وجہ ہے کہ مدرسے سے جو لوگ نکلتے ہیں، بہت بد ذہن ہوتے ہیں، ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ دنیا کے حالات کیا ہیں، معیشت کیسے چل سکتی ہے، معاشرت کیسے چلتی ہے، سیاسی نظام کیسے چل سکتا ہے وغیرہ۔ وہ اپنی زندگی میں مست ہیں، ہر جگہ اپنے مذہبی ذہن کو لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ میں اس کا جواب دینے وا لا ہی تھا کہ سامعین میں سے چھ آفیسرز کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اپنا تعارف کرانا شروع کر دیا۔ ایک کا تعلق مالی سے تھا، دوسرے کاتعلق مالیکانیا سے تھا، تیسرا نائیجیریا سے تھا، چوتھاتنے کاؤں سے تھا، پانچواں گمبیا سے تھا اور ایک شاید کسی اور ملک سے تھا۔ان سب نے کہا کہ ہم مدرسو ں کے پڑھے ہوئے ہیں۔ ہماری ابتدائی اورہائی اسکول تک کی تعلیم مکمل دینی تعلیم ہوئی ہے۔ اس کے بعد ہم کالجوں میں گئے ہیں۔ ان میں سے چا رآدمیوں کے پاس اکنامکس میں امریکی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہے اور دونے کہا کہ ہم نے انجینئر نگ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور وہ اس وقت ورلڈ بینک کے بڑے ماہرین معاشیات میں سے تھے۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ نے جو سوال کیا تھا، اس کا جواب تو آپ کو مل گیا ہے۔ گویا مدرسہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد، پوری دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ جدید تعلیم میں بھی اتنی ہی کامیابی حاصل کریں جتنی انہوں نے دینی تعلیم میں کی۔

میں بنگلہ دیش کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے ملاہوں۔ ان میں بیشتر مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں۔ سید سجاد حسین شاہ، ڈاکٹر سید علی اشرف، ڈاکٹر سید علی احسن، یہ سب مدرسے کے پڑھے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ڈھاکہ یونیورسٹی اور بنگلہ دیش کی دیگر یونیورسٹیوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جو ٹاپ کے پروفیسر ہیں، وہ سب مدرسہ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ مدرسے میں پڑھنے کے بعد ان کا ذہنی افق صرف مدرسہ ومسجد کی امامت وخطابت اور مدرسہ کی استادی تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ معاشرہ میں ہر سطح پر کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

یہاں پاکستان میں بعض مدارس کے بارے میں مجھے بتایا جاتا ہے کہ اگر کوئی طالب علم دسویں جماعت کی تعلیم کی تیاری کرتا ہوا نظر آتا ہے تو اسے مدرسہ سے فارغ کر دیا جاتا ہے کہ یہ دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جانا چاہتا ہے۔ غالباً آپ کا خیال یہ ہے کہ وہ آپ کے شکنجے سے نکل گیا ہے اور اس نے دینی تعلیم کو چھوڑ دیا ہے۔ میں گزارش کروں گا کہ اگر آپ لوگوں نے اسے دینی تعلیم دی ہے تو وہ اس تعلیم کی شمع ہر جگہ روشن کرے گا، خواہ وہ کسی یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہو، خواہ کسی اسکول میں اور خواہ وہ پولیس میں پہرے دار کے طورپر کام کر رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ آپ کے مدرسہ کا پڑھا ہوا ہر فرد امامت خطابت ہی کرے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ 

میں آپ سے اجازت چاہتاہوں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ 

ڈاکٹر افتخار اقبال

ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب میرے استاد ہیں اور مجھے مدرسہ اور اس کے نصاب ونظام سے انھوں نے ہی متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے جو گفتگو کی ہے، وہ بہت جامع ہے اور اس کے بعد میں زیادہ بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

پاکستان کے مدارس کے مسائل کا اور خاص طور پر جو مغرب میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، اس کا انہوں نے ذکر کیا۔ کم بیش یہی صورتحال بنگلہ دیش کے مدارس کے بارے میں بھی پائی جاتی ہے۔ 

میری معلومات کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور بھار ت کے مدارس میں طلبہ کی مجموعی تعداد ساٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں ساٹھ فی صد طلبہ بنگلہ دیش میں جبکہ باقی چالیس فی صد پاکستان اور بھارت میں ہیں۔ بنگلہ دیش میں مدارس کے طلبہ کی تعداد ۳۵ لاکھ ہے۔ اس کی وجہ عام طورپر یہ سمجھی جاتی ہے کہ بنگلہ دیش ایک غریب ملک ہے اور آبادی زیادہ ہے اور وہاں کے لوگ عصری تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے، لہٰذا زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں بھیج دیتے ہیں۔ یہ وجہ کسی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن بالکلیہ درست نہیں ہے کیونکہ متوسطہ طبقات بھی او ر اعلیٰ طبقات بھی اپنے بچوں کو مدارس میں بھیجتے ہیں۔ غربت کے علاوہ بھی کئی اسباب ہیں جن کے تحت لوگوں کا رجحان مدارس کی طرف زیادہ ہے۔ مدارس کانظام بہت مقبول ہے اور لوگ اسے بڑے احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ 

ایک وجہ یہ ہے کہ عصری تعلیم کے مدارس اورکالجز میں ملک کی سیاسی کشمکش کا بھی کافی اثر ہے۔ طلبہ میں مختلف سیاسی تنظیمیں ہیں اور آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے عصری تعلیمی اداروں کا ماحول اور فضا تعلیم کے لیے اچھا نہیں ہے۔ پھر وہاں کا ماحول سیکولر ہے جبکہ بنگلہ دیش کے عوام کا عمومی مزاج مذہبی نوعیت کا ہے، اس لیے لوگ پسند نہیں کرتے کہ اپنے بچوں کو عصری اداروں میں بھیجیں۔ پھر یہ کہ بنگلہ دیش کی جتنی آبادی ہے، سرکاری نظام تعلیم اس کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ چنانچہ مدارس نے اس خلا کو پر کیا ہے اور وہ وہاں کے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی ان کے ساتھ زیادہ وابستگی ہے اور انہیں کہیں باہر سے فنڈنگ کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔

نائن الیون سے پہلے عرب ممالک سے مدارس کو فنڈنگ ملتی تھی جو نائن الیون کے بعد کم وبیش بند ہو چکی ہے، لیکن مدارس کے نظام میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ ان کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ہم نے مدارس کے ذرائع آمدن پر باقاعدہ سروے کیا تو معلوم ہواکہ یہ نظام مکمل طور پر وہاں کی مقامی آبادی کی معاونت پر مبنی ہے۔ سروے میں مقامی لوگوں کے تعاون کی ۲۳ مختلف صورتیں آئیں۔ مثلاً زکوٰۃ وصدقات اورگھر میں جو کچھ کھانا پکایا گیا ہو، اس کا ایک حصہ مدارس کو بھیج وغیرہ۔ ا س طرح کی ۲۳ کے قریب مختلف صورتوں میں مدارس کو معاونت ملتی رہتی ہیں۔ چونکہ یہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے، اسلام کے ساتھ وابستگی قائم رہتی ہے، ان کی اصلاح ہوتی ہے، اس لیے مدارس کے اس کردار کی وجہ سے مقامی آبادی ان کے ساتھ بہت زیادہ جڑی ہوئی ہے اور ان کی خدمت کو اپنا کام سمجھتی ہے۔ 

تعلیم و تعلم / دینی مدارس

(نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء)

نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۱۱ و ۱۲

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟
محمد مشتاق احمد

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر عبد القدیر خان

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں
محمد عمار خان ناصر

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج
مولانا مفتی محمد زاہد

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات
محمد زاہد صدیق مغل

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق
مولانا محمد وارث مظہری

مولانا فضل محمد کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

مکاتیب
ادارہ

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘
ادارہ

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی
ادارہ

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
ادارہ

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار
ادارہ

انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter