انا للہ وانا الیہ راجعون

ادارہ

مولانا اللہ یار خانؒ 

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین مولانا اللہ یار خان طویل علالت کے بعد تریسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا اللہ یار خان مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سینئر اساتذہ میں سے تھے اورنعمانیہ روڈ پر جامع مسجد فیروزی کے خطیب تھے۔ انہوں نے کم وبیش بیس برس تک مدرسہ نصر ۃ العلوم میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ ان کی نماز جنازہ مدرسہ نصرۃ العلوم میں نماز عصر کے بعد مولانا زاہدا لراشدی نے پڑھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں، علماء کرا م ، طلبہ اور دینی کارکنوں نے شرکت کی اور اس کے بعد انہیں ان کی وصیت کے مطابق قبرستاں کلاں میں حضرت مولانا صوفی عبدالحمیدخان سواتیؒ کے قریب دفن کردیا گیا۔ مولانا زاہدالراشدی نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا اللہ یارخان درویش صفت، حق گواور قناعت پسند عالم دین تھے۔ انہوں نے ساری زندگی دین کی تعلیم کو عام کرنے میں بسر کی اور سادگی، حمیت اور جہدمسلسل میں اپنے اکابر کی روایات کو باقی رکھا۔ مولانا صوفی محمد ریاض سواتی اور مولانا قاضی محمدیوسف کے علاوہ مرحوم کے فرزند مولانا محمدشعیب نے بھی خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیاکہ وہ اوران کا خاندان اپنے مرحوم والد کے دینی وتعلیمی مشن کو جاری رکھیں گے۔

مولانا اللہ یارخان ؒ کا تعلق ضلع بھکر سے تھا، لیکن انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ گوجرانوالہ میں بسر کیا۔ وہ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف اورعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کے خصوصی متعلقین میں سے تھے۔ 

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند کریں اور ان کے پس ماندگان کو ان کا سلسلہ حسنات جاری رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آمین

الحاج میاں محمد رفیق ؒ 

گوجرانوالہ کی معروف سماجی شخصیت الحاج میاں محمد رفیق آف الہلال انڈسٹریز ۲۲؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو قضاے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مرحوم، مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے پرانے ساتھیوں میں سے تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم کے ساتھ ساتھ دیگر دینی اداروں کے ساتھ تعاون میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ وہ ایک دور میں جمعیۃ اہل سنت گوجرانوالہ کے صدر رہے اور انھی کی صدارت کے دور میں جی ٹی روڈ پر اٹاوہ پھاٹک کے قریب ایک اسلامی یونی ورسٹی کے قیام کا فیصلہ ہوا جس کا ابتدائی نام نصرۃ العلوم اسلامی یونی ورسٹی تجویز کیا گیا۔ پھر یہ فاروق اعظم اسلامی یونی ورسٹی میں تبدیل ہوا اور اس کے بعد حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کی تجویز پر اسے ’’شاہ ولی اللہ یونی ورسٹی‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے لیے شاہ ولی اللہ ٹرسٹ قائم کیا گیا جس میں ان کے ساتھ مولانا زاہد الراشدی، الحاج شیخ محمد اشرف مرحوم، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، الحاج شیخ محمد یعقوب اور پروفیسر غلام رسول عدیم نے سال ہا سال تک سرگرمی کے ساتھ کام کیا جبکہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نے بھرپور سرپرستی فرمائی۔ الحاج میاں محمد رفیق مرحوم اس ادارے کے قیام کے لیے تن من دھن کے ساتھ سالہا سال تک سرگرم عمل رہے اور ان کی مساعی سے شاہ ولی اللہ کیڈٹ کالج اور شاہ ولی اللہ میڈیکل کمپلیکس کے ساتھ ایک بڑی مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے الحاج میاں محمد رفیق مرحوم کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک ان تھک اور پرخلوص راہ نما تھے اور ان کی تعلیمی ودینی خدمات ایک عرصہ تک یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔

اخبار و آثار

نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۱۱ و ۱۲

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟
محمد مشتاق احمد

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر عبد القدیر خان

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں
محمد عمار خان ناصر

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج
مولانا مفتی محمد زاہد

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات
محمد زاہد صدیق مغل

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق
مولانا محمد وارث مظہری

مولانا فضل محمد کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

مکاتیب
ادارہ

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘
ادارہ

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی
ادارہ

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
ادارہ

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار
ادارہ

انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ