قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان

(۲۴ دسمبر ۲۰۰۴ء کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے علامہ صاحب کا خطاب ضروری تسہیل کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ 

محترم صدرِ مجلس، جنرل خالد مقبول صاحب، معزز زعمائے قوم، اور معزز خواتین و حضرات! میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کا یہ اقدام، جو تسلسل کے ساتھ اہم قومی امور پر غور و خوض اور تبادلۂ خیال کے لیے کرتے رہتے ہیں، یقیناً لائقِ تحسین ہے۔ اور اس سے بہت سے اہلِ فکر و دانش کا نقطۂ نظر سننے اور آپس میں خیالات و نظریات کا تبادلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بڑی کارآمد، پرمغز اور فکر انگیز باتیں ہو چکی ہیں۔ میں اپنی گفتگو کو موضوع کے حساب سے دو حصوں میں تقسیم کروں گا:

  1. ایک قائد اعظم کے افکار، اس کو الگ سے، چند پہلو، جو میں نے ان کی تقاریر، ان کے بیانات، اور ان کی ہدایات سے اخذ کیے ہیں، وہ پہلے الگ سے بیان کروں گا۔ تاکہ ان کے افکار کی روشنی میں ہم پاکستان کے اس تصور کا ایک خاکہ اور نقشہ ذہنوں میں لا سکیں، جو قائد اعظم کا خواب تھا، جس کی تعبیر انہوں نے شروع کر دی، اور جس کے لیے انہوں نے ایک عظیم جدوجہد کی۔ اور بقول ایس ایم ظفر صاحب، جس کے لیے انہوں نے تاریخ تخلیق کی اور ایک ریاست ان کی جدوجہد سے معرضِ وجود میں آئی۔ 
  2. دوسرے حصے میں پھر آج کا پاکستان، اس کا جو نقشہ ہے، اُس کو بیان کروں گا، چند ایک پہلو تاکہ ایک تقابلی جائزہ ہو سکے۔ اور غالباً یہی مقصود ہے حقانی صاحب کا اور سوسائٹی کا کہ اس تقابل کا اور توازن کا جائزہ ہو۔

ہماری جو مستند دستاویز اس وقت قوم کے پاس ہے وہ پاکستان کا آئین ہے، ۱۹۷۳ء کا آئین۔ قائد اعظم کے افکار کو اگر اس میں تلاش کرنا ہو، تو اس آئین میں جو دستاویز ہے بنیادی، ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے، جو آئین کا حصہ ہے۔ یہ قائداعظم کے افکار کی ایک جامع جھلک ہے۔ اور ان کے تصور میں جو پاکستان کا نقشہ ہے، اس کے خدوخال ہیں جو اس قراردادِ مقاصد میں بیان کیے گئے ہیں۔ تو میں نے چونکہ ابھی تقابلی جائزہ نہیں لینا، پہلے حصے میں صرف اس نقشے کو ممکنہ حد تک بیان کرنا ہے جو ہمیں قائد اعظم کے افکار سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ نقشہ جب ایک مکمل کلُیت کے طور پر ہم سامنے رکھیں گے، تو پھر موجودہ جو پاکستان کا نقشہ ہے اس کو تقابلی جائزے میں سمجھنے کی آسانی ہو جائے گی۔

(1) سب سے پہلے جو اس قرارداد میں ہمیں بات ملتی ہے اور جس کا پرچار عمر بھر قائداعظم نے کیا، وہ ریاست کے بارے میں کہ:

Where in, the state shall exercise its powers and authority through the chosen representatives of the people.

یہاں وہ پارلیمنٹ کے کردار کی بات کرتے ہیں، کہ جس مملکتِ خداداد کو ہم معرضِ وجود میں لائے ہیں، اس کی پوری اختیاری قوت اور تمام تر صلاحیتیں منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی معرضِ وجود میں آئیں گی اور ان کے ذریعے ہی کام ہو گا۔ تو ان کی ایک فیصلہ کن حیثیت کو بیان کرتے ہیں۔ اس سے ریاست کا، ان کے ذہن میں، جمہوری جو تصور ہے، وہ اجاگر ہوتا ہے۔

(2) دوسری بات جو قائد اعظم کی تعلیمات کی صورت میں، ہمیں اس قرارداد میں جس کا عکس نظر آتا ہے، وہ ہمارا اسلامی نظامِ زندگی ہے، جس میں کہتے ہیں:

Where in, the Muslims shall be enabled to order their lives in the individual and collective spheres in accordance with the teachings and requirements of Islam as set out in the Holy Quran and Sunnah.

ہم نے پاکستان کو اس فکری، اعتقادی اور نظریاتی اساس پر قائم کیا ہے۔ اس میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی بتمام و کمال حفاظت ہے، آزادی ہے۔ اور تمام چیزیں جو دورِ جدید میں ہم، … اور انسانی زندگی کے جو ارتقائی حالات ہیں، اس میں پوری جدت کے ساتھ درکار ہے، اس کا جو بنیادی ایک خاکہ دیا گیا ہے، وہ وہ اصول ہیں جس کو قرآن اور سنت نے مقرر کیا ہے۔ 

(3) تیسری چیز جو قائد اعظم کے افکار کی ہمیں آئین میں نظر آتی ہے، وہ بنیادی حقوق کی ضمانت ہے:

Include equality of status, opportunity and before law, social, economic, and political justice …

سیاسی، سماجی اور معاشی عدل و انصاف، اور برابری اور مساوات۔ مواقع میں اور حیثیتوں میں۔ وہ ایک ایسا معاشرہ قائد اعظم تشکیل دینا چاہتے ہیں جو ان خوبصورت اصولوں کے ستونوں پر قائم ہو۔ جس میں امتیازات پر مبنی قوانین نہ ہوں۔

(4) اس کے بعد بڑی اہم بات جو ہے، وہ ہے:

The independence of the judiciary shall be fully secured.

وہ عدلیہ کو ہر قیمت پر آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم پارلیمنٹ کو تمام اختیارات اور قوت کا منبع بنا کر اعلیٰ ترین دیکھنا چاہتے تھے۔ اور عدلیہ کو تمام تر اثر و رسوخ اور دباؤ سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ ان کا تصور تھا۔ ایک ایسا ملک پاکستان جس میں پارلیمنٹ اعلیٰ ترین ادارہ ہو، حقیقی معنوں میں، اور جس میں عدلیہ مکمل طور پر ہر دباؤ سے آزاد ہو۔

(5) پانچویں چیز، جو بڑی بنیادی، علامہ اقبال (قائد اعظم) کے افکار کی، اس قرارداد میں ہمیں منعکس نظر آتی ہے، وہ:

[The integrity of the territories of the federation,] its independence, and all its rights, including its sovereign rights on land, sea, and air shall be safeguarded.

ہماری خودمختاری، بحیثیت قوم کے خودمختاری، آزادی، اقتدارِ اعلیٰ۔ خودمختاری، جس میں دنیا کی کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کی مداخلت کی گنجائش نہ ہو، اور اس کو مکمل طور پر محفوظ رکھا جائے۔ ہم اپنی آزادی، اپنی خودمختاری، اپنی ہوا، اپنی زمین، اور اپنے پانیوں کی مکمل حفاظت کریں، اور اس میں کوئی دخل اندازی کرنے کا مجاز نہ ہو۔ یہ تصور دیتے ہیں خودمختاری (Sovereignty) کا۔

(6) یہ وہ ڈکلیریشن ہے جو قائد اعظم کی تعلیمات پر قائم ہے، اس لیے اسی قرارداد میں آخر پر یہ حلف لیا جاتا ہے، جو ہمارے آئین کا حصہ ہے۔ یہ تمام چیزوں کو بیان کر کے آئین کے اندر یہ اعلان ہے:

Faithful to the declaration made by the Founder of Pakistan, Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah, that Pakistan would be a democratic State based on Islamic principles of social justice.

اس لیے میں نے عرض کیا کہ یہ جو ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے، یہ قائد اعظم کے افکار کی نہ صرف آئینہ دار ہے، بلکہ اس کی ایک عملی شکل ہے، جو آئین کے ہمارے رہنما اصولوں کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ یہ دستاویز ہمارے دستور میں ہے۔ اور قائد اعظم نے اپنی تعلیمات کے ذریعے اور ہمارے بزرگوں نے، جو گزر گئے، قائدین جو ان کے ساتھ اس جدوجہد میں شریک تھے، انہوں نے اس قرارداد کو ثبت کر کے اور پھر اسے آئین کا حصہ بنا کر قائد اعظم کے افکار کو پاکستان کے تصور کی شکل میں ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔

اب قائد اعظم کے افکار کا پاکستان کیا تھا؟ اس پر میں کچھ اقتباسات ان کی تقاریر کے، اہم مواقع پر جو ہیں، وہ دوں گا۔ 

(1) قائد اعظم ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے، اور انہوں نے زندگی اس کے لیے قربان کی تھی، اس میں انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے خطاب کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ہم مستقبل میں آپ سے اور اقوامِ عالم سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غلامانہ نہیں، دوستانہ رشتہ چاہتے ہیں۔ اور پھر اس وقت حکومتِ برطانیہ سے کہتے ہیں کہ اگر آپ پورے طور سے مطمئن کر کے مسلمانوں کو اپنا دوست بنا لیں تو تعلقات خوشگوار رہ سکتے ہیں۔

اور پھر مسلمانوں کو کہتے ہیں کہ آپ ان پر اعتماد نہیں کر سکتے، آپ کو ہر صورت اپنی ہی طاقت پر اعتماد کرنا ہو گا۔ یہ وہ رہنما اصول ہے کہ آپ کو اپنی طاقت پر اعتماد کرنا ہو گا۔

اور پھر انہیں خطاب کرتے ہیں، برطانوی حکومت کو، کہ میں اس پلیٹ فارم سے واضح کیے دیتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا سمجھوتہ ہماری یعنی مسلمانوں کی مرضی کے خلاف مسلمانانِ ہند پر نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، تو ہم پوری قوت سے مزاحمت کریں گے، اور برطانیہ سمیت کسی طاقت کو اس معاملے میں کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے۔ یہ قیادت تھی ان کی۔ 

(2) اس کے بعد وہ معرضِ وجود آنے والے پاکستان کا امتِ مسلمہ کے لیے ایک کردار دیکھتے ہیں۔ الگ تھلگ رہ کر جینے کا سبق نہیں دیتے ہیں، کہ اپنے معاملات کو نمٹاؤ۔ اس کو ایک عالمی کردار دیتے ہیں۔ اور اس عالمی کردار میں وہ برطانیہ پر فلسطینی مسلمانوں کے مطالبات کو قبول کرنے اور ان کے حقوق انہیں واپس دلانے پر زور دیتے ہیں۔ 

یہاں پر قائد اعظم نے 14 جولائی 1947ء میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے خدوخال دیے ہیں۔ اس میں سے چند متعلقہ باتیں، جو وہ بیان کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں، بڑی طاقتوں کے درمیان جو اپنے مفادات کے لیے باہمی کشمکش ہوتی ہے، ہمیں اس کا فریق اور اس کا شریک نہیں بننا چاہیے۔ 

بڑی طاقتیں، اور آج کی بڑی طاقت، ان کا قومی مفاد ہی ان کے لیے سب سے بڑا قانون ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی آئین اور کوئی قانون ان کے نزدیک تقدس نہیں رکھتا، جتنا تقدس ان کے قومی مفاد کو حاصل ہوتا ہے۔ باقی ہر چیز ثانوی ہے، دنیا میں جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں:

  •  وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا نعرہ لگائیں، 
  • وہ کسی آمرانہ حکومت سے قوم کو آزادی دلانے کا نعرہ لگائیں، 
  • وہ ایک معتدل انسانی معاشرے کے لیے ثقافت دینے کی بات کریں، 
  • انسانی حقوق کی بات کریں، 
  • وہ ثقافت کی آزادی کی بات کریں، 
  • آزاد خیالی کی بات کریں، 
  • وہ جمہوریت کی بات کریں، 

جو کچھ کہتے ہیں، اس کے پیش نظر ان کے صرف اپنے مفادات اور اغراض ہوتی ہیں۔ اور وہ اپنی اغراض اور مفادات کے لیے ہمیشہ ایک نیا فلسفہ وضع کر کے اقوامِ عالم کو اپنی جنگ میں ملوث کرتے ہیں۔ 

اگر انہیں یک قطبی نظام قائم کرنے کے لیے، پوری دنیا میں طاقت کا توازن اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے، اگر اشتراکی قوت کو ختم کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اس کو ’’جہاد‘‘ قرار دلواتے ہیں، اور امتِ مسلمہ کو اس جہاد میں پورا شریک کر کے جہاد کی مدد کرتے ہیں۔ 

جب وہ یک قطبی نظام قائم کر لیتے ہیں، اس کے بعد ان کو، پوری دنیا پر ایک دہشت کی فضا قائم کرنے کے لیے پھر ایک نئی جنگ کی ضرورت ہوتی ہے، ایک نیا عنوان درکار ہوتا ہے۔ وہ عنوان ایک جنگ ہے دہشت گردی کے خلاف۔ دہشت کے خلاف جنگ کے نام پر اب پوری دنیا کو اس میں ملوث کرتے ہیں۔ امتِ مسلمہ، پہلے بھی ایک جنگ میں طویل مدت شریک ہو کر اس نے دیکھا ہے، اور پاکستان نے بھی انجام دیکھا ہے۔ اب عالمی سطح پر دہشت کے خلاف ایک جنگ ہے، اور اس میں سب کو شریک کر کے؛

قائد اعظم اُس امر کی طرف درحقیقت اشارہ کر رہے ہیں کہ بڑی طاقتیں، ان کے اپنے اغراض ہیں، مفادات ہیں، اور ان کی کشمکش ہے اپنے مفادات کے لیے۔ وہ خارجہ پالیسی کا اصول دے رہے ہیں کہ ہم ان کی کشمکش میں کبھی فریق نہیں بنیں گے۔

(3) اور پھر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں جو محکوم قومیں ہیں، وہ جو اپنی جدوجہد کی جنگ لڑیں گی، اور محکوم قوموں کی،   کشمیر اور فلسطین کی طرح، ان کی جو جدوجہد اور جنگِ آزادی ہے، جسے پچھلی صدی تک آئین میں، جمہوریت میں، اقوام متحدہ کے چارٹر میں، ان کی اپنی آزادی کی جنگ کو War of Independence کے طور پر حق تسلیم کیا جاتا تھا، اور امریکہ خود بھی اسی جنگِ آزادی کے نتیجے میں آزاد ہوا تھا، آج اِس صدی میں فلسفہ تبدیل کرتے ہوئے، آج سراسر قوموں کی آزادی کی جنگ ہی ’’دہشت گردی‘‘ کے عنوان میں آ گئی ہے۔ 

لہٰذا انہوں نے کہا کہ محکوم قوموں کی جدوجہدِ آزادی میں ہماری خارجہ پالیسی یہ ہو گی کہ ہم ہر ممکن ان کی مدد کریں گے۔ یہ خارجہ پالیسی کے خدوخال دے رہے ہیں۔ 

(4) اور عالمی مسائل، ہم کسی کے اثر اور کسی کے دباؤ میں نہیں، بلکہ دیانت اور عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق طے کریں گے۔ اور خارجہ پالیسی کے تعین میں اپنے جغرافیائی اور سیاسی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات۔ غیر ملکی امور میں نہ مداخلت کریں گے، نہ مداخلت ہونے دیں گے اپنی (مملکت میں)۔ اور تیسری دنیا کے جو ممالک ہیں، جن کے خلاف، بڑی سامراجی اقوام جن کو ابھرنے سے ہمیشہ روکتی ہیں، ان کے مابین یکجہتی اور اتحاد کی جدوجہد میں مُمد ہوں گے۔

یہ قائد اعظم کے، پاکستان اور اس کے مستقبل کے لیے، خارجہ پالیسی کے وہ خدوخال تھے، وہ بنیادی اصول تھے، جن کو انہوں نے اس تقریر میں نمایاں کیا۔

اسلامی فکر کے علمبردار

(1) اس کے بعد ایک بڑا اہم پہلو ہے۔ جنہوں نے قائد اعظم کو پڑھا ہے، وہ واقف ہیں۔ اور بہت لوگ جو پڑھ نہیں سکے، شاید طویل وقت اور طرح طرح کے فلسفوں اور نظریات کی وجہ سے قائد اعظم کی شخصیت کا اور ان کے افکار کا یہ پہلو ہر ذہن پر اتنا نمایاں نہ رہا ہو۔ سوائے اہلِ علم و دانش کے، جو مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ اہم بات ہے۔ 

قائد اعظم واضح طور پر اسلامی فکر کے علمبردار تھے۔ اور انہوں نے اپنے عقیدۂ اسلامی پر کسی جگہ بھی کبھی معذرت خواہی کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ وہ کبھی معذرت خواہ نہیں تھے۔ وہ بہادر تھے، جرأت مند تھے، صاف ذہن کے مالک تھے، ان پر سب واضح تھا، ان کے اندر یقین تھا، عزم تھا، ہمت تھی، اور وہ جرأت کے ساتھ اپنے عقیدۂ اسلامی اور اس فکرِ اسلامی کے مطابق ہر موقع پر اپنی بات کرتے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ایک تقریر میں قائد اعظم کو اور امت، پاکستانی مسلمانوں کو، شہنشاہ اکبرِ اعظم کی مثال دے کر کہا کہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کے لیے آپ اکبرِ اعظم کے نمونے کی پیروی کریں، جس طرح انہوں نے آزادی اور رواداری کا نمونہ پیش کیا۔

اسی وقت جب قائد اعظم اس تقریر کے جواب میں اپنی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ تو قائد اعظم کبھی معذرت خواہ نہیں تھے۔ انہیں اپنے عقیدے کے، عقیدۂ اسلامی ہونے پر نہ کبھی شرم تھی، نہ کبھی کوئی افسوس تھا، نہ کسی قسم کا کوئی احساسِ کمتری تھا۔ کھڑے ہو کر انہوں نے جواب دیا لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو، کہ خیرسگالی اور رواداری، جس کا اظہار اکبرِ اعظم نے غیر مسلموں کے لیے کیا، وہ آج کی تاریخ نہیں ہے۔ قائد اعظم نے کہا، اس کی ابتدا پندرہ صدیاں قبل ہمارے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے عمل سے ہوئی تھی۔ انہوں نے یہودیوں اور مسیحیوں کو، فتح پانے کے باوجود ان سے حسنِ سلوک کیا تھا۔ اور آپؐ نے ان کے دین اور ان کے عقائد کے بارے میں انتہائی رواداری، لحاظ اور احترام کا اظہار کیا تھا۔ اور پھر قائد اعظم نے کہا کہ مسلمانوں کی پوری تاریخِ اسلام، جہاں بھی انہوں نے حکومت قائم کی، شرافت اور انسان دوستی کے انہی اصولوں سے بھری پڑی ہے، اور ہم اسلام کے انہی زریں اصولوں پر عمل پیرا ہوں گے۔

یہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی تقریر کا جواب دیا کہ ہمیں یہاں سے، اکبرِ اعظم سے کوئی نیا لائحہ عمل لینے کی اور نمونہ لینے کی ضرورت نہیں۔ وہیں انہوں نے تاجدارِ کائناتؐ کے اسوہ کو سامنے رکھا۔ اور میں نے عرض کیا کہ قائد اعظم کی فکر میں اپنے عقیدۂ اسلامی پر جو پختگی تھی اس میں کوئی معذرت خواہی نہیں تھی۔

(2) اس میں ایک بڑی اہم چیز جو میں یہاں نقل کروں، وہ یہ ہے کہ قائد اعظم نے تقریر کی 18 اگست 1947ء کو۔ اور اس کے بعد 24 اکتوبر 1947ء۔ 23 جنوری 1948ء۔ یہ تین چار مواقع پر تقریر کی۔ اس میں قائد اعظم نے ایک بات کہی ہے۔ 

اس آخری تقریر میں، بینکنگ کے افتتاح کا جو ہمارا مرحلہ تھا، سٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر تقریر کی اور قائد اعظم نے فرمایا: ’’لہٰذا ہمارے لیے عوام کو خوشحال اور فارغ البال بنانے کے لیے قطعاً مغرب کے اقتصادی نظام کے نظری اور عملی طریقے کی پیروی کرنا ہمارے لیے بے سود اور بے کار ہو گا۔‘‘ اور وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں چاہیے کہ ہم ایک نئی راہِ عمل اختیار کریں اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کریں جو انسانی اخوت اور سماجی انصاف کے صحیح اسلامی نظریات پر قائم ہے۔ اور اس طرح ہم اپنی وہ ذمہ داری ادا کر دیں جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہے۔ اور عالمِ اسلامی کو امن کا وہ تنہا پیغام، جو اسلام نے دیا ہے، وہ دیں اور یہ واضح کر دیں کہ انسانیت کو تباہی سے صرف اسلام کا پیغامِ امن بچا سکتا ہے‘‘۔ یہ عقیدۂ اسلام پر، کسی سمجھوتے کے بغیر، ان کا عزم اور ان کا یقین اور ان کا یہ تصور تھا۔

(3) اس کے بعد قائد اعظم میں ڈیموکریسی کتنی تھی، ان کی شخصیت میں جمہوریت کتنی تھی۔ اور وہ کس طرح کونسلوں میں، اپنی پارٹی میں، پارلیمنٹ میں، اور معاشرے میں جمہوریت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ قائد اعظم نے مسلم لیگ کونسل کا اجلاس، جو نئی دہلی میں 5 جون 1946ء میں منعقد ہوا، اس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے، اس سے رائے لینے سے قبل۔ کسی مسئلے پر برطانوی وزارتی کمیشن کی تجاویز پر ووٹ تھے، آرا لینی تھیں۔ قائد اعظم کا ایک جملہ بڑا تاریخی جملہ ہے، جمہوری فکر کے زاویے سے۔ قائد اعظم نے فرمایا، میں چاہتا ہوں۔ اور یہ بڑی اہم بات ہے، اسے ہمیں اپنی سیاسی پارٹیوں کو، پارلیمنٹ کو، اسمبلیوں کو، اور پورے سیاسی ماحول (ڈیموکریٹک کلچر) کو، قائد اعظم کے اس قول اور اس عمل کی روشنی میں پرکھنا ہو گا۔ قائد اعظم اپنے اراکینِ کونسل، ممبرز کو خطاب کرتے ہیں، فرماتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ ہر ممبر آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرے، اور اس سلسلہ میں خود کو کسی پابندی میں جکڑا ہوا نہ سمجھے۔

(4) پھر قائد اعظم اپنے تصور کے پاکستان کا عالمی کردار دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو کہتے ہیں، اور عربوں کو کہتے ہیں کہ، اینگلو امریکن کمیٹی، جس نے ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں داخلہ دینے کی اجازت اور سفارش کر دی ہے، انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ عربوں سے کہتے ہیں کہ اس بنیادی اصول کے خلاف اس کو عملدرآمد مت ہونے دیں، ایک یہودی کو بھی قدم نہ رکھنے دیں۔ اور کہتے ہیں، ہم ہندوستان کے مسلمان ہر ممکن آپ کی مدد کریں گے شانہ بشانہ ہو کر۔ 

اور پھر وہ کہتے ہیں، قائد اعظم، برطانیہ کو، کہ اگر آپ ہمیں اور اپنے آپ کو ایک دوست قوم کے رشتہ کے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں، تو پھر جو کچھ آپ فلسطین میں کر رہے ہیں — برطانیہ اس وقت کا امریکہ ہے — لیبیا میں کر رہے ہیں، شام میں کر رہے ہیں، انڈونیشیا میں کر رہے ہیں، آپ کو اپنا طرزِ عمل ختم کرنا ہو گا۔ اگر آپ یہ نہیں کریں گے تو آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں، اور یہ جذبات بڑھ رہے ہیں، اور بہت بڑے خطرناک مستقبل کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں۔ یہ ان کی جرأت تھی اور کلیریٹی تھی۔ 

(5) پھر قائد اعظم ایک پوری عالمی برادری میں، اقوامِ عالم کی سوسائٹی میں، مل جل کے، باعزت، برابری کے ساتھ، باعزت زندگی بسر کرنے اور باہمی تعلق کے اصول وضع کرنے کے لیے ایک بات کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: عالمی امن کے قیام میں — آج عالمی امن کے قیام کا مسئلہ درپیش ہے — ہم اس کے عالمی امن اور سلامتی کے قیام میں ہر ممکن مدد کریں گے، تعاون کریں گے۔ 

مگر قائد اعظم 17 اگست 1947ء کی تقریر میں، جو جمعۃ الوداع کو نشر کی گئی، اس میں فرماتے ہیں: ہم عالمی امن کے قیام میں دوستانہ حیثیت سے مکمل تعاون کریں گے، مگر ہماری صرف ایک شرط ہے، اور ایک ہی خواہش ہے، وہ یہ ہے کہ ہم عزت سے جینا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی عزت کے ساتھ جینے کا حق دینا چاہتے ہیں۔ 

ہم اپنی قومی عزت پر، قومی خودمختاری پر، قومی سالمیت پر، قومی آزادی پر، اپنے قومی اور ملی فیصلہ کرنے کے آزاد اختیار پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ اور برطانیہ سمیت کسی بڑی سے بڑی طاقت کو، عالمی امن کے قیام کے تصور کے تحت بھی، ہم اپنی آزادی اور خودمختاری میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ عزت سے جیو اور عزت سے جینے دو۔ یہ قائد اعظم کا فرمان ہے۔

(6) اور پھر قائد اعظم نے ایک بڑی اہم بات، 14 اگست 1947ء میں، اپنے دستور ساز اسمبلی کے اندر خطبۂ صدارت دیتے ہوئے کہی۔ اور فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی خرابیاں جو پاکستان کو تباہ کر رہی ہیں وہ تین ہیں: (1) ایک، امن و امان کا مسئلہ (2) ایک، بدعنوانی کا خاتمہ (3) اور ایک، امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خیانتِ منصبی، جو لوگ منصب پر فائز ہوتے ہیں، وہ اپنی منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں جب خیانت کرتے ہیں، اور بالواسطہ یا بلاواسطہ اقربا پروری کرتے ہیں، اقربا نوازی کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں ہرگز اس چیز کو برداشت نہیں کروں گا۔

اور کرپشن کے لیے قائد اعظم فرماتے ہیں کہ یہ بدعنوانی اور بددیانتی، یہ چھوٹی موٹی سزاؤں سے اس کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ قائد اعظم کہتے ہیں، 11 اگست 1947ء کی تقریر میں، کہتے ہیں کہ انتہائی سخت سزاؤں کے ذریعے اس لعنت کا، کرپشن کی لعنت کا، کُلی خاتمہ کرنا ہو گا۔ اور فرماتے ہیں کہ یہ جو وسیع پیمانے پر فاقہ کشی، لوگوں کی ہلاکت، غربت، روزگار سے محرومی، اور جتنی تباہی معاشرے میں، سماجی و معاشی شعبے میں نظر آتی ہے، اس کا ایک بہت بڑا بنیادی سبب، اہلِ اقتدار کا، ذمہ دار لوگوں کی کرپشن ہے۔ چونکہ وہ پورے نظام کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنے ہاتھ میں اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور جو کہتے ہیں وہ ان کا قانون ہوتا ہے۔ (قائد اعظم) کہتے ہیں کہ پوری قوت کے ساتھ اس کرپشن کو ختم کرنا ہو گا۔ اگر ہم پاکستان کو وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جو قائد اعظم کی تعبیر کا پاکستان تھا۔ 

آج کا پاکستان

قائد اعظم کا نقشۂ خیال، ان کا تصور، ان کے افکار کا پاکستان، اس کے بنیادی خدوخال ہم سن چکے، ہم پڑھ چکے، دیکھ چکے۔ آج کے پاکستان کو جب دیکھتے ہیں، تو میں ایک شعر کے ذریعے یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے اندر آج جو کچھ ہو رہا ہے اور جو نقشہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، پاکستان کی روح یقیناً دیکھ رہی ہے، اور شاید وہ تڑپ کر زبانِ حال سے یہ کہتی ہو گی کہ؎

کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

اس طویل عرصے میں، ہم نے پاکستان کو قائد اعظم کے افکار کے بالکل متضاد سمت گامزن کیا ہے۔ ہم نے قائد اعظم کے افکار کو صرف اپنی تقریروں کی زینت بنایا ہے، اپنے مضامین کی زینت بنایا ہے۔ اس سے آگے آج کے پاکستان میں عملاً قائد اعظم کے افکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ 

(1) قائد اعظم اس ملک میں جس عدلیہ کی آزادی کو ہر صورت محفوظ کرنا چاہتے تھے، آج اس عدلیہ کی شہ رگ پر بڑے بڑے مضبوط طاقتور پنجے ہیں۔ اور وہ طاقتور پنجوں کی منشا کے خلاف ایک فیصلہ کرنے کی، عدلیہ پاکستان کی، جرأت نہیں رکھتی۔ عدلیہ کے جج، ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک، کثیر تعداد میں ایڈہاک رکھے جاتے ہیں، سالہا سال، تاکہ کسی مقدمے میں، جب ایک فریق حکومت ہو، تو اس کے بعد وہ مقدمہ ایڈہاک ججوں کے پاس جاتا ہے۔ اور ایڈہاک ججز، جس ملک میں جج اپنی نوکری کو پختہ کرنے کا خیال ذہن میں رکھے، برطرف کیے جانے کا اختیار سیاسی لیڈروں کے ہاتھ میں ہو، اس ملک میں انصاف اور عدلیہ سے عدالت کی توقع کرنا بالکل عبث ہے۔ یہ عدلیہ پاکستان (قائد اعظم) کے افکار کی عدلیہ نہیں ہے۔ اس میں آزادی تو کیا، میں سمجھتا ہوں کہ عدل کے بنیادی اصول تک کلیۃً ختم ہو گئے ہیں۔

(2) قائد اعظم آزادی کے ساتھ پھر پارلیمنٹ کو، ارکانِ اسمبلی کو جو طاقت، جو اختیار دینا چاہتے تھے، آج وہ پارلیمنٹ پاکستان کا ایک مفلوج ادارہ ہے۔ نہ وہ وجود میں آزادی کے ساتھ آئی ہے، نہ آ سکتی ہے۔ نہ اس کی بقا میں کوئی آزادی ہے، نہ اس کے کام میں آزادی ہے۔ نہ اس کے پاس کوئی ایجنڈا ہے، نہ ایجنڈے پر بات کرنے کی جرأت ہے۔ نہ فیصلہ کرنے کی طاقت ہے، نہ اپنی تقدیر پر گفتگو کرنے کی طاقت ہے۔ نہ تو پارلیمنٹ کے فلور پر پارلیمنٹ کے ممبران اِس ملک کی دہشت گردی کے مسئلے پر گفتگو کر سکتے ہیں کہ دہشت گردی کیا ہے، دہشت گردی کیوں ہے۔ یہ پانچ سال سے جس ملک میں تمام تر اختیارات افواجِ پاکستان کے ہاتھ میں ہوں، اور بلا روک ٹوک پوری طاقت کے ساتھ اختیارات بروئے کار لانے کی ان کو اجازت ہو، تو پانچ سال گزر جانے کے باوجود وہ فرقہ واریت ختم نہ کر سکیں، وہ دہشت گردی ختم نہ کر سکیں، وہ انتہاپسندی ختم نہ کر سکیں، قتل و غارت گری ختم نہ کر سکیں، تو پھر سوچ ابھرتی ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟کیا ہم اور ہمارے طاقتور ادارے اتنے کمزور ہو گئے ہیں؟ یا ہم دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں قوم کے ساتھ؟ ہاتھی کے دانت ہیں، کھانے کے اور ہیں، دکھانے کے اور ہیں۔

(3) میں دیکھتا ہوں، ہمارے گورنر پنجاب جتنی محنت اس عمر میں کرتے ہیں بیس گھنٹے، شاید کوئی سیاسی لیڈر جوانی میں نہ کر سکے۔ اتنے جواں ہمت جنرل، ان کی دیانت کے، ان کے دیانتدار ہونے کے تذکرے۔ اتنی اس عمر میں محنت کرنے والے جرنیل اور ایسی افواجِ پاکستان، پانچ سال سے بلا شرکتِ غیرے ان کے پاس اقتدار ہو، اور ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہو سکے! یہ بات کم سے کم میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ میری دانست میں یہ سوال ابھرتا ہے جس کا جواب مجھے نہیں ملتا، کہ یہ دہشت گردی پیدا کیوں ہوئی، برقرار کیوں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ خود بخود ایک سرپرستی شدہ عمل ہو؟ یہ خود سرپرستی شدہ عمل ہو۔ اور میں کبھی سوچتا ہوں، انتہاپسندی کی بات کرنے والے، اسلام آباد میں جلوس نکلتے ہیں، ہر جمعہ کو اسلام آباد کی مسجدوں سے جلوس نکلتے ہیں، مسجد کا امام اور خطیب اس کی قیادت کرتا ہے، اسلام آباد کے چوکوں پر اجتماع ہوتا ہے، گاڑی پر جاتے ہیں اور آتے ہیں، اور ایک مسجد بھی اسلام آباد کا خطیب اوقاف کے ملازم کے بغیر نہیں ہے، ہر خطیب اور ہر امام سرکاری محکمہ اوقاف کا ملازم ہے۔ اوقاف کا ملازم، ایک خطیب اور امام، ہر مسجد سے جلوس نکالے، اور وہ گالی دے، اور نہ کوئی اس میں گرفتار ہو اور نہ کسی پر مقدمہ بنے اور آج تک جوں کے توں قائم رہیں، تو سوچ آتی ہے کہ دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہو رہی ہے…

ہمیں اپنی پالیسیوں کی طرف نظر کرنی ہو گی۔ ان کو خرچے کہاں سے آتے ہیں دہشت گردوں کو؟ ان کو وسائل کہاں سے میسر ہوتے ہیں؟ اس ملک میں، میری دانست میں، دہشت گردی ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دہشت گردوں کا صرف نام بدلا گیا، کام وہی رہا۔ پانچ جماعتیں دہشت گرد قرار دی گئیں، وہ ساری کی ساری آج موجود ہیں، صرف انہوں نے اپنے نام بدل لیے ہیں، نام بدلنے سے مقصد پورا ہو گیا۔ وہ دہشت گرد، جنہیں دہشت گرد، دین کا دشمن، امن و سلامتی کا دشمن، انسانیت کا دشمن، پاکستان کی معتدل پہچان کا دشمن، اسلام کے لیے بدنما داغ، ہم بہت کچھ کہتے ہیں، مگر وہی لوگ جیتتے ہیں، وہ اسمبلیوں میں بھی آتے ہیں، اور آج بھی کام کر رہے ہیں، ایک دہشت گرد تنظیم کی اپنی سرگرمیوں کا خاتمہ نہیں، ان کے تربیت کے مراکز بھی قائم ہیں، سب کچھ قائم ہے۔ مگر دہشت گردی کا خاتمہ کس طرح ہو؟ یہ تو ہمارا اندر کا زاویہ ہے۔

اور پھر دوسری طرف ہمیں اپنے اندر یہ جرأت پیدا کرنی چاہیے کہ ہم امریکہ سے بھی پوچھیں کہ اصل دہشت گرد ہے کون اس دنیا میں؟ دنیا میں پچھتر ممالک ایسے ہیں اس وقت، 1950ء سے لے کر آج 2004ء تک، پچھتر ممالک میں تنہا امریکہ نے سیاسی مداخلت اور فوجی مداخلت کر کے پچھتر ممالک کی سالمیت، اقتدارِ اعلیٰ اور ان کی خودمختاری کو اپنے ہاتھ میں کر رکھا ہے، مداخلت ہے۔ میں نے اپنا پارلیمنٹ سے جو استعفیٰ دیا اس کے اندر میں نے تمام ممالک کی تفصیل مختصراً بیان کر کے آخر میں ضمیمے میں لگائی ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ پچھتر ممالک کی جمہوریت اگر ایک ملک درہم برہم کر رہا ہو، اور براہ راست مداخلت کر رہا ہو۔ اور 1978ء سے لے کر 2004ء تک 180 سلامتی کونسل کے قراردادیں ایسے ہیں، ایک سو اسی، جس میں پوری دنیا کی اقوام ایک طرف تھیں، اور امریکہ نے تنہا ویٹو کر کے پوری کی پوری دنیا کے ضمیر کے منہ پر طمانچہ مارا۔ صرف کبھی ساتھ اسرائیل نے دیا، کبھی برطانیہ نے دیا۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں اس چیز پر اس سے سوال کرنا چاہیے، جو ہمیں کہتا ہے کہ اپنے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرو، اور ہمارے نام نہاد دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ہماری زمین پر داخل ہو کر، ایجنسیوں کو، اپنی قوت بھیج کر ہمارے اندر مداخلت کرتا ہے، کاش ہمیں یہ جرأت ہوتی، ہماری اسمبلیوں میں، ہماری قیادت میں، حکمرانوں میں، نمائندوں میں، کہ ہم بھی امریکہ سے پوچھ سکتے کہ یہ جب آپ پچھتر ممالک کی سالمیت اور خودمختاری میں مداخلت کریں گے، جب آپ اقوامِ عالم کے اجتماعی فیصلے کو مسترد کر کے ایک سو اسی قراردادیں تنہا ایک ووٹ یا دو ووٹوں کے ساتھ ویٹو کریں گے تو ردِ عمل نہیں پیدا ہو گا تو کیا ہو گا؟ غصہ ہو گا، غصہ انتہاپسندی کو جنم دے گا، انتہاپسندی اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے بندوق اٹھائے گی۔ جب مجبور، محروم اپنے حقوق کے لیے بندوق اٹھائے گا، آپ اسے دہشت گرد کہیں گے۔ فیصلہ ہونا چاہیے کہ اصل دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے؟

(4) اور قائد اعظم نے جس جمہوریت کی بات کی، افسوس آج پاکستان ’’غیر جمہوری‘‘ جمہوریت کا شکار ہے۔ ہماری جمہوریت ’’غیر جمہوری‘‘ ہے۔ پارلیمنٹ میں جو ممبران آج بیٹھے ہیں، زبان سے تائید بھی ہو جائے گی، تردید بھی ہو جائے گی، مگر آنکھوں دیکھی حقیقت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ آج جب صورتحال جمہوریت کی یہ ہو جائے کہ، بیٹھ کر افراد ان کی سیٹیں مقرر کرنے والے ہوں، جیتنے ہارنے کے فیصلے الیکشن سے پہلے ہو رہے ہوں، ٹیبل چارٹ پر پوری اسمبلی کا نقشہ بنایا جا رہا ہو، اور اسمبلی کو ایک پلان کے تحت ٹکڑوں میں تقسیم کر کے چلایا جا رہا ہو، اسمبلی کے پاس اپنا کوئی ایجنڈا نہ ہو، ایک دیے ہوئے ایجنڈے پر وہ بحث کریں، اور ایک اصطبل کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہو، اور وہ اسمبلی نہ پاک انڈیا تعلقات پر بحث کرنے کی مجاز ہو، نہ پاک افغان تعلقات پر بحث کرنے کی مجاز ہو، نہ وہ کشمیر تنازع پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہو، نہ امریکہ پاکستان تعلقات پر بات کرنے کی مجاز ہو، نہ جوہری پالیسی پر بات کرنے کی مجاز ہو، اور اگر اس کا خالق عبد القدیر کسی قید خانے میں ہے تو نہ اس کے بارے میں پوچھنے کی جرأت ہو۔ اسے پہلے خراب کر دیا جائے اور یہ پوچھنے کی جرأت تک نہ ہو کہ ہمارا ایٹم بم ہے کہاں؟ ایٹم بم اور ہماری جوہری صلاحیت میں کچھ بچ بھی گیا ہے یا نہیں؟ ہم یہ پوچھ بھی نہ سکیں۔ جو اسمبلی اتنی گونگی، اتنی بہری، اور اتنی اپاہج ہو گئی ہو، اس اسمبلی سے کس قسم کی جمہوریت کو آگے چلانے کا خیال رکھتے ہیں؟ آج ہم نے صرف یہ اسمبلی، یہ انتخابات، یہ جمہوری ادارے، دنیا کو ایک دھوکہ دینے کے لیے بنا رکھے ہیں کہ:

Democracy is going on, and everything is very nice, every thing is ok, here is democracy, here are the elections going on, and the elected people are here to take the decisions, and they are here to decide the fate of their nation.

اپنی قوم سے بھی دھوکہ ہے، اقوامِ عالم سے بھی دھوکہ ہے۔ جب تک فوج اپنے اصل کردار کی طرف واپس نہیں جاتی، اسمبلی، پارلیمنٹ آزاد نہیں ہوتی، عدلیہ آزاد نہیں ہوتی، اور قائد اعظم کے دیے ہوئے کردار کو اس قوم میں بحال نہیں کیا جاتا، اس وقت تک میں سمجھتا ہوں یہ پاکستان، قائد اعظم کے افکار کا پاکستان نہیں ہے، معلوم نہیں کس کے افکار کا پاکستان ہے۔

آخری بات، ختم کرنے کے لیے کہنا چاہتا ہوں، وہ ایک ذاتی واقعہ بیان کرتا ہوں۔ کرپشن کے خاتمے کا ہم نے بڑا ڈھنڈورا پیٹا۔ قائد اعظم نے کہا کہ سب سے بڑی جڑ خرابی کی، ہر بدی اور ہر تباہی کی، بدعنوانی ہے۔ اگر ہم ایک اچھا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں، ہمیں کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ تو کرپشن کے خاتمے کی باتیں ہوئیں، الیکشن سے پہلے، میں نام نہیں لوں گا، ایک محترم لیڈر جو اس وقت سینیٹر ہیں، اور وہ کسی زمانے کسی ایک صوبے کے وزیر بھی رہے دو بار پہلے، اور سپیکر بھی رہے، وہ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے کہا: قادری صاحب! میں آپ کی جماعت ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ جوائن کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سنی سنائی بات نہیں کی، ذاتی واقعہ سناتا ہوں۔ میں نے کہا، خوش آمدید۔ اس کے بعد وہ پاکستان کو گالیاں دینے لگ گئے اور افواجِ پاکستان کو گالیاں دینے لگ گئے۔ میں نے کہا، آپ نے بات کچھ اور کی، اور پاکستان کو گالیاں، افواجِ پاکستان کی گالیاں، یہ کیا ایجنڈا ہے آپ کا؟ آپ اصل بات کریں، اس موضوع کو چھوڑیں۔ انہوں نے کہا، بات یہ ہے کہ مجھے نااہل قرار دے دیا گیا ہے، میرے اوپر اتنے کروڑ روپے لگا دیے گئے ہیں اور میں جیل سے آیا ہوں، ضمانت پر ہوں۔ تو میں نے کہا، آپ سپریم کورٹ کیوں نہیں جاتے؟ کہتے ہیں، سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ میرے خلاف دے دیا ہے۔ یعنی آخری عدالتِ عظمیٰ تک ان کے خلاف فیصلہ ہو گیا ہے۔ (کہنے لگے) میں دو کروڑ روپے تک تو دینے کو بھی تیار ہوں، مگر مانگتے زیادہ ہیں۔ نام نہیں لیا کسی کا۔ تو میں نے کہا، میرے لیے کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا، آپ کی جماعت میں شامل ہوتا ہوں، جنرل پرویز مشرف صاحب آپ کی عزت کرتے ہیں — الیکشن سے بہت پہلے کی بات ہے — آپ انہیں سفارش کر کے میری ساری سزا، نااہلیت کی سزا معاف کروا دیں، تاکہ آنے والے الیکشن میں حصہ لے سکوں۔ میں نے کہا بھئی میری اتنی طاقت نہیں ہے، اتنا رسوخ نہیں جو آپ نے سمجھا، اور میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ آپ جا کر کسی اور جماعت میں شمولیت کر لیں، میں معذرت خواہ ہوں، میں اتنا طاقت والا آدمی نہیں ہوں۔ وہ چلے گئے۔

چونکہ ساری صورتحال مجھے خود بتا گئے تھے۔ الیکشن ہو گئے۔ الیکشن کے بعد جمالی صاحب نے ایک عشائیہ دیا۔ اس ڈنر میں ہم بیٹھے تھے، وہ صاحب اندر تشریف لے آئے، میرے پاس آئے، میں نے سلام کیا، میں نے سمجھا کہ شاید جمالی صاحب سے کوئی کام ہے تو ملنے کے لیے آئے ہیں۔ تو میں نے پوچھا کہ بائی دا وے آپ کیسے تشریف لائے؟ انہوں نے کہا جی میں سینیٹر منتخب ہوا ہوں، ممبر ہوں سینٹ کا۔ 

السلام علیکم!

https://youtu.be/iUL51uDb0c8


()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter