کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۲)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

صحابہ کرام کا عمل اور رویہ

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ گردانا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے۔ انھوں نے ایک موقع پر فرمایا:

لعن اللہ الواشمات والموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ 
’’اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت کرے کہ یہ اللہ کی پیدا کی کوئی صورت میں تبدیلی کرنے والی ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری، التفسیر، حدیث ۴۸۸۶)

حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اس بات کا علم قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت (ام یعقوب) کو ہوا تو وہ حضرت ابن مسعود کے پاس آئی او رآ کر کہا:مجھے معلوم ہوا کہ آپ نے اس اس قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا:

ما لی لا العن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومن ھو فی کتاب اللہ 
’’آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق بھی ملعون ہیں؟‘‘

اس عورت نے کہا: میں نے تو سارا قرآن پڑھا ہے۔ اس میں تو کہیں بھی (مذکورہ) عورتوں پر لعنت نہیں ہے جس طرح کہ آپ کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:

لئن کنت قراتیہ لقد وجدتیہ، اما قرات ’’ما آتاکم الرسول‘‘ الآیۃ
’’اگر تو نے قرآن کو پڑھا ہوتا تو یقیناًتو وہ بات اس میں پالیتی۔ کیا تو نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی؟ ’’رسول تمھیں جو دے، اسے لے لو اور جس سے تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘

عورت نے کہا، کیوں نہیں۔ یہ آیت تو پڑھی ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا: تو یقیناًاللہ کے رسول نے ان سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، حوالہ مذکور)

اس حدیث میں دیکھ لیجیے، حضرت ابن مسعود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اللہ کا فرمان اور کتاب اللہ کا حکم قرار دیا اور جب اس دور کی پڑھی لکھی خاتون کو بھی یہ نکتہ سمجھایا گیا تو اس نے بھی اسے بلاتامل تسلیم کر لیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ قرآن ہی کی طرح وحی الٰہی کا درجہ رکھتے تھے۔ 

گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود

قرآن کے الفاظ میں: وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْھَوَی، إِنْ ھُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی (النجم ۳، ۴)

قرآن کریم سے ایک مثال

قرآن کریم سے بھی اس امر کی مثالیں ملتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی خفی کا نزول ہوتا تھا جس کے مطابق بھی آپ عمل کرتے تھے۔ یہاں ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں۔

یہودیوں کا قبیلہ بنو نضیر، جس سے یہودیوں کے دوسرے دو قبیلوں کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں کا ایک دوسرے ک مدد کرنے کا معاہدہ تھا۔ لیکن اس قبیلے نے منافقین اور مشرکین مکہ سے مل کے عہد شکنی کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلاک کرنے کی سازش کی جس سے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو مطلع فرما دیا اور آپ نے اپنا بچاؤ کر لیا، لیکن ان کے اس غدر کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگ کرنے کی تیاری کا حکم دے دیا اور آپ مسلمان مجاہدین کا لشکر لے کر ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہودی مسلمان لشکر دیکھ کر اپنے قلعوں میں بند ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کر لیا اور ان پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان کے باغ میں لگے کھجوروں کے درخت کاٹ دیے جائیں۔ یہ دیکھ کر انھوں نے واویلا مچایا کہ آپ تو اصلاح کے علم بردار ہیں، لیکن یہ فساد والا کام کر رہے ہیں۔ عام حالات میں اگرچہ اس قسم کے کاموں کی ممانعت ہے، لیکن یہ چونکہ جنگ کا موقع تھا اور دشمن کو جلد از جلد زیر کرنا تھا، کیونکہ تاخیر میں مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے کچھ درختوں کو جلا یا کاٹ دیا جائے۔ آپ نے اس حکم الٰہی کے مطابق صحابہ کو یہ حکم دیا۔ بالآخر یہودی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلے کو یہاں سے نکال دیا۔ 

اس کی بابت اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا:

مَا قَطَعْتُم مِّن لِّیْنَۃٍ أَوْ تَرَکْتُمُوھَا قَاءِمَۃً عَلَی أُصُولِھَا فَبِإِذْنِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفَاسِقِیْنَ

’’تم نے جو کھجور کے کچھ درخت کاٹے یا (کچھ کو) ان کی جڑوں پر ہی قائم رہنے دیا، یہ اللہ کے اذن (حکم) سے ہوا اور تاکہ اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل ورسوا کرے۔‘‘ (الحشر ۵)

لیکن یہ حکم (اذن) قرآن میں کہا ں ہے؟ کہیں نہیں ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کے علاوہ بھی وحی آتی رہی ہے اور اس وحی خفی کے مطابق بھی آپ نے احکام صادر فرمائے ہیں جو یقیناًقرآن کے علاوہ ہیں۔ قرآن میں ان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ ایسے احکام کو زائد علی القرآن کہہ کر یا قرآن کے خلاف باور کرا کے کیوں کر رد کیا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایسے فیصلوں اور حکموں کو جو قرآن میں منصوص نہیں ہیں، کتاب الٰہی کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ جس طرح شادی شدہ زانی کی سزا حد رجم ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے عموم میں تخصیص کر کے مقرر فرمائی اور اس کو عملی طور پر نافذ بھی فرمایا۔ آپ نے اس حد رجم کو ’’کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ‘‘ قرار دیا:

لاقضین بینکما بکتاب اللہ (صحیح البخاری، الحدود، حدیث ۶۸۲۸)

صحابہ نے اپنے اختلافات میں حدیث کو حکم قرار دیا

صحابہ کرام کے بابرکت د ور کو دیکھ لیجیے۔ آپ کو نمایاں طور پر یہ چیز ملے گی کہ ان کے مابین مسائل میں اختلاف ہوتا تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معلوم ہوتے ہی وہ اختلاف ختم ہو جاتا اور حدیث کے آگے سب سر تسلیم خم کر لیتے۔ 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی تدفین اور آپ کی جانشینی کے مسئلے میں اختلاف ہوا۔ جب تک ان کی بابت حدیث کا علم نہ ہوا، اس پر گفتگو ہوتی رہی، لیکن جوں ہی حدیث پیش کی گئی، مسئلے حل ہو گئے۔ تدفین کے مسئلے میں بھی اختلاف ختم ہو گیا اور جانشینی جیسا معرکہ آرا مسئلہ بھی پلک جھپکتے میں حل ہو گیا۔

اس طرح متعدد قضایا اور واقعات ہیں جن میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ حدیث رسول کو بلاتامل حجت شرعیہ سمجھا گیا اور اس کا علم ہوتے ہی بحث وتکرار کی بساط لپیٹ دی گئی۔ عہد صحابہ کے بعد تابعین وتبع تابعین اور ائمہ محدثین کے ادوار میں بھی حدیث رسول کی یہ تشریعی حیثیت قابل تسلیم رہی، بلکہ کسی دور میں بھی اہل سنت والجماعت کے اندر اس مسئلے میں اختلاف ہی نہیں رہا۔ حدیث رسول کی یہی وہ تشریعی اہمیت تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر محدثین کا ایسا بے مثال گروہ پیدا فرمایا جس نے حدیث رسول کی حفاظت کا ایسا سروسامان کیا کہ انسانی عقلیں ان کاوشوں کو دیکھ کر دنگ رہ گئیں اور محدثین نے حدیث کی تہذیب وتنقیح کے لیے ایسے علوم ایجاد کیے جو مسلمانوں کے لیے سرمایہ صد افتخار ہیں۔ اگر حدیث رسول کی یہی تشریعی اہمیت نہ ہوتی جس طرح کہ آج کل باور کرایا جا رہا ہے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ محدثین رحمہم اللہ کو حفاظت حدیث کے لیے اتنی عرق ریزی اور جگر کاوی کی پھر ضرورت کیا تھی؟

احادیث کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم جس قسم کا انسانی معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جو تہذیب وتمدن انسانوں کے لیے پسند فرماتا ہے اور جن اقدار وروایات کو فروغ دینا چاہتا ہے، اس کے بنیادی اصول اگرچہ قرآن کریم میں بیان کر دیے گئے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کی عملی تفصیلات وجزئیات سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے مہیا کی ہیں۔ اس لیے یہ اسوۂ رسول ، اسوۂ حسنہ جو احادیث کی شکل میں محفوظ ومدون ہے، ہر دور کے مسلمانوں کے لیے بیش قیمت سرمایہ رہا ہے۔ اسی اتباع سنت اور پیروئ رسول کے جذبے نے مسلمانوں کو ہمیشہ الحاد وزندقہ (بے دینی) سے بچایا ہے، شرک وبدعت کی گرم بازاری کے باوجود توحید وسنت کی مشعلوں کو فروزاں رکھا ہے، مادیت کے جھگڑوں میں روحانیت کے دیے جلائے رکھے ہیں اور یوں شرار بو لہبی پر چراغ مصطفوی غالب رہا ہے۔

آج جو لوگ سنت رسول کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں، وہ دراصل اسی اتباع سنت کے جذبے کو نیست ونابود کرنا چاہتے ہیں جو قرآن کریم کے بپا کردہ اسلامی معاشرے کی روح اور بنیاد ہے اور جس کے بعد انسانوں کے اس معاشرے کو، جس میں مسلمان بستے ہیں، مغربی تہذیب وتمدن میں ڈھالنا مشکل نہیں ہوگا۔ چنانچہ ہمارے معاشرے کا یہی وہ طبقہ ہے جو اپنے لبرل نظریات اور اباحیت پسندانہ رویے کی وجہ سے حدیث رسول کی حجیت کا مخالف ہے اور صرف قرآن کریم کی پیروی کے نام پر مغربی افکار وتہذیب کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ پچھلے مختلف ادوار میں بھی اگرچہ انکار حدیث کا یہ فتنہ کسی نہ کسی انداز سے رہا ہے، لیکن جو عروج اسے اس زمانے میں حاصل ہوا ہے، اس سے پیشر کبھی نہ ہوا اور جو منظم سازش اس وقت اس کے پیچھے کارفرما ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔

اسلام کی ابتدائی دو صدیوں کے بعد معتزلہ نے بعض احادیث کا انکار کیا لیکن اس سے ان کا مقصود اپنے گمراہ کن عقائد ونظریات کا اثبات تھا۔ اسی طرح گزشتہ ایک ڈیڑھ صدی پہلے نیچر پرستوں نے احادیث کی حجیت میں مین میکھ نکالی۔ اس سے بھی ان کا مقصود اپنی نیچر پرستی کا اثبات اور معجزات قرآن کی من مانی تاویلات تھا۔ نیچر پرستوں کا یہی گروہ اب ’’مستشرقین‘‘ اور ’’مستغربین‘‘ کی ’’تحقیقات نادرہ‘‘ سے متاثر، ساحران مغرب کے افسوں سے مسحور اور شاہد مغرب کی عشوہ طرازیوں سے مرعوب یا اس کے غمزہ وادا کے قتیل ہو کر ایک منظم طریقے سے قوم رسول ہاشمی کو ان کی تہذیب ومعاشرت سے محروم کرنا اور اسلامی اقدار وروایات سے بے گانہ کر کے تہذیب جدید کے سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ لا قدرہ اللہ ثم لا قدرہ اللہ۔

فراہی، اصلاحی، غامدی گروہ کے گمراہ کن نظریات

احادیث کی حجیت اور تشریعی اہمیت پر ہم نے قدرے تفصیل سے اس لیے روشنی ڈالی ہے کہ اس کے بغیر غامدی یا اصلاحی یا فراہی گروہ کے گمراہ کن نظریات کی وضاحت ممکن نہیں تھی۔ خیال رہے کہ اس گروہ کے لیے یہ تینوں لفظ اہل علم میں متداول ہیں اور شاید مستقبل قریب یا بعید میں یہی گروہ عمار گروہ کے نام سے بھی معنون ہو جائے۔

فراہی کی طرف نسبت، مولانا حمید الدین فراہی کی وجہ سے ہے جنھوں نے سب سے پہلے قرآن کی شرح وتفسیر میں عرب شعراء کے جاہلی کلام کو سب سے زیادہ اہمیت دی بلکہ احادیث کے مقابلے میں اسی کو بنیاد قرار دیا۔ اسی طرح نظم قرآن پر بھی بہت زیادہ زور دیا۔ علاوہ ازیں احادیث کو مشکوک ٹھہرایا اور ان کی تشریعی حیثیت سے انکار کیا، اسی بنیاد پر دیگر احادیث کے ساتھ حد رجم کا نکار کیا۔ اصلاحی کی نسبت کی وجہ مولانا امین احسن اصلاحی کے افکار وتفردات ہیں جن کو اس گروہ نے ایمانیات کی حد تک حرز جان بنایا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ان کو حمید الدین فراہمی کا سب سے زیادہ ہونہار شاگرد اور ان کے افکار کا سب سے بڑا شارح سمجھا جاتا ہے۔ غامدی گروہ کہلانے کی وجہ غامدی صاحب کا مولانا اصلاحی سے شر ف تلمذ اور ان کے گمراہ کن نظریات کی اندھی تقلید بلکہ ان کے ردے پر مزید ردے چڑھا کر ان کی کجی اور گمراہی کو فلک چہارم تک پہنچانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دینا ہے۔ ع ایں کار از تو آید ومرداں چنیں کنند۔

اور عمار گروہ کہلانے کی بھی یہی بنے گی کہ ایک تو وہ بھی ان کی شاگردی کے سلسلۃ الضلال سے نہ صرف منسلک ہیں بلکہ اس پر ان کو فخر بھی ہے۔ دوسرے، وہ بھی اسی راہ کے راہ رَو ہیں جو غامدی صاحب نے اپنائی ہوئی ہے اور یہ وہ راہ ہے جس کے بارے میں ہم پورے یقین واذعان سے کہتے ہیں:

ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی
ایں راہ کہ تو می روی بہ ترکستان است

حاملین فکر فراہی اور غامدی سے پانچ سوال

بہرحال اب ہم اصل موضوع، غامدی صاحب کے تصور حدیث وسنت پر گفتگو کرتے ہیں۔

ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں کہ اصطلاحات ہر شخص کی اپنی اپنی نہیں ہوتی، بلکہ ایک خاص عقیدہ وایمان رکھنے والے گروہ کی ہوتی ہیں۔ اہل رفض وتشیع کی ایک اصطلاح ’’امامت‘‘ ہے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میرے نزدیک اس کا مطلب دو رکعت نماز کی امامت ہے، کوئی شیعہ اس شخص کی اس رائے کو تسلیم نہیں کرے گا، حالانکہ یہ لفظ ہمارے ہاں اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن اس کا عقیدۂ امامت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ ایک گروہ کی خاص اصطلاح ہے۔

ختم نبوت، اہل سنت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم واضح ہے لیکن ایک گروہ دعویٰ کرتا ہے کہ ہم بھی ختم نبوت کے قائل ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اجرائے نبوت کے بھی قائل ہیں۔ کون مسلمان ہے جو یہ تسلیم کرے گا کہ مرزائی واقعی ختم نبوت کے قائل ہیں؟

اسی طرح غامدی صاحب کا حدیث وسنت کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ان کو مانتے یں، لیکن ان کے ان اصطلاحی مفہوم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو چودہ سو سال سے حدیث وسنت کی اصطلاح کا مفہوم مسلم چلا آ رہا ہے۔ چودہ سو سالہ مسلمہ اصطلاحات کا ایک نیا مفہوم گھڑ کر کہتے ہیں کہ میں ’’حدیث وسنت‘‘ کو مانتا ہوں، یہ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اور کس طرح یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی حدیث وسنت کو ماننے والے ہیں؟ اس لیے سب سے پہلے یہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ حدیث وسنت کے منکر ہیں اور ان کا یہ دعویٰ کہ میرے اور علماء کے درمیان

’’محض اصطلاحات کا اختلاف ہے، ورنہ حقیقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو میرے اور ائمہ سلف کے موقف میں سرمو فرق نہیں ہے۔‘‘ (الشریعہ، اپریل ۲۰۰۹ء)

سراسر جھوٹ ہے، بلکہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ اور فراڈ ہے۔ اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو وہ بتلائیں کہ ’’سنت‘‘ کی یہ تعریف جو انھوں نے کی ہے:

’’سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔‘‘ (میزان، ص ۱۴، طبع سوم، ۲۰۰۸)

اس میں پہلا سوال تو یہ ہے کہ ’’سنت‘‘ کا یہ مفہوم غامدی صاحب سے پہلے کس نے بیان کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو ثابت کریں۔ اور اگر نہیں کیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ سنت کے منکر ہیں۔ جب تک وہ سنت کے چودہ سو سالہ مسلمہ مفہوم کے مطابق سنت کو تسلیم نہیں کریں گے، وہ سنت کو ماننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اگر کرتے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ جھوٹ ہی نہیں ہے، بلکہ سراسر دجل وفریب کا مظاہرہ ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ دین ابراہیمی کی وہ اصل روایت کیا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید واصلاح کی اور اس میں ’’بعض اضافے‘‘ بھی فرمائے؟ پہلے دین ابراہیمی کی وہ اصل روایت سامنے آنی چاہیے کہ وہ کیا تھی؟ اور پھر بتلایا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ ’’تجدید واصلاح‘‘ یا اضافہ فرمایا۔ جب تک ان دو چیزوں کی وضاحت نہیں ہوگی، اسے ’’دین کی حیثیت‘‘ کس طرح دی جا سکتی ہے؟ دین تو وہ ہے جس کے دلائل کا تحریری ثبوت ہو۔ وہ تو دین نہیں ہو سکتا جو صرف کسی ایک شخص کے ذہن میں ہو یا وہ اپنی ذہنی اختراع کسی کاغذ پر لکھ دے۔ دین اسلام کا تحریری ثبوت قرآن اور احادیث میں موجود ہے۔ احادیث تو غامدی صاحب کے نزدیک غیر معتبر اور دفتر بے معنی ہے۔ ہاں، عرب کا بے سند جاہلی کلام ان کے نزدیک نہایت معتبر ہے۔ قرآن کے ماننے کے بھی وہ دعوے دار ہیں۔ ہمارے سوال کا جواب وہ قرآن کریم یا شعرائے عرب کے جاہلی کلام سے، یا چلو تاریخ کی کسی کتاب ہی سے دے دیں۔

۳۔ اگر ان کے اور ائمہ سلف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے تو وہ واضح کریں کہ انھوں نے بھی حدیث اور سنت کے درمیان فرق کیا ہے۔ یہ فرق سلف نے کہاں بیان کیا ہے؟ ائمہ سلف میں کس نے کہا ہے کہ ’’حدیث سے عقیدہ وعمل کا اثبات نہیں ہوتا؟‘‘ ان کے الفاظ میں:

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنھیں اصطلاح میں حدیث کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے۔‘‘ (میزان، ص ۶۱)

غامدی صاحب یا ان کے حواری بتلائیں کہ حدیث کے بارے میں یہ موقف ائمہ سلف میں سے کس کا یا کس کس کا ہے؟ خیال رہے کہ خبر آحاد کے بارے میں تو بعض فقہاء نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے، لیکن اس وقت یہاں اس بحث کی گنجائش نہیں۔ غامدی صاحب نے تو یہاں اس اصطلاح کا استعمال غالباً اسی ذہنی تحفظ کے تحت کیا ہے کہ اس کی آڑ میں شاید کچھ فقہاء کے حوالے پیش کیے جا سکتے ہیں، لیکن مسئلہ تو ائمہ سلف کا ہے جو لفظ غامدی صاحب نے استعمال کیا ہے۔ ائمہ سلف میں کس نے حدیث کی بابت یہ خامہ فرسائی کی ہے کہ جس سے دین میں حدیث کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی؟ ظاہر بات ہے جب حدیث سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ نہیں ہوتا اور وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ نہیں بن سکتی تو حدیث رسول کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟

۴۔ علاوہ ازیں ’’نئے حکم‘‘ کا کیا مطلب؟ یہ ان کے اسی گمراہ کن نظریے کا غماز ہے کہ حدیث رسول سے قرآن کے عموم کی تخصیص نہیں ہو سکتی، جبکہ ائمہ سلف، محدثین، فقہائے امت سب حدیث رسول کو قرآن کا مخصص یعنی دینی حکم تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ صاحب اس تخصیص کو قرآن میں تغیر وتبدل سے تعبیر کر کے بظاہر قرآن کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن درحقیقت قرآن کے بیان کردہ منصب رسالت، مبین، کا انکار کر کے قرآن کا انکار کرتے ہیں۔

ہمارا اس گروہ سے سوال ہے کہ ائمہ سلف نے قرآن کے عموم میں تخصیص کو تخصیص ہی کہا ہے یا بعض نے اس کے لیے نسخ کا لفظ استعمال کیا ہے، لیکن مراد ان کی بھی اس لفظ سے اصطلاحی نسخ نہیں، بلکہ تخصیص ہی ہے۔ لیکن کیا ائمہ سلف میں سے کسی امام، محدث اور فقیہ نے یہ کہا ہے کہ یہ نیا حکم ہے جو قرآن سے الگ یا زائد علی القرآن یا قرآن میں تغیر وتبدل ہے، لیکن غامدی صاحب کے نزدیک یہ تخصیص، قرآن میں تغیر وتبدل ہے جس کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے۔ (برہان، ص ۵۶، طبع پنجم، فروری ۲۰۰۸ء)

۵۔ علاوہ ازیں یہ گروہ ’’سنت، سنت‘‘ کی بڑی رٹ لگاتا ہے جس سے اس کا مقصود یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ حدیث گو ان کے نزدیک غیر معتبر ہے، لیکن سنت کی ان کے ہاں بڑی اہمیت ہے۔ لیکن اول تو حدیث وسنت میں یہ فرق ہی خانہ ساز ہے۔ کسی امام، محدث یا فقیہ نے ایسا نہیں کہا ہے۔ ان کے نزدیک حدیث اور سنت مترادف اور ہم معنی ہے۔ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، عمل اور تقریر سے ثابت ہے، وہ دین میں حجت ہے۔ اسے حدیث کہہ لیں یا سنت، ایک ہی بات ہے۔

پیغمبر کی رہنمائی اور عمل، نہ سنت ہے اور نہ قابل عمل چیز۔ غامدی فلسفہ

لیکن یہ گروہ بظاہر ’’سنت‘‘ کی اہمیت کا قائل ہے، لیکن سنت کے بارے میں بھی ان کا موقف ملاحظہ ہو:

’’دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے، یعنی وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں۔ علم وعقیدہ، تاریخ، شان نزول اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کسی چیز پر اس کا اطلاق کیا جائے۔ لہٰذا علمی نوعیت کی کوئی چیز بھی سنت نہیں ہے۔ اس کا دائرہ کرنے کے کام ہیں۔ اس دائرے سے باہر کی چیزیں اس میں کسی طرح شامل نہیں کی جا سکتیں۔‘‘ (میزان، ص ۵۸)

آگے سنیے۔ آگے چل کر سنت کا تعلق عملی زندگی سے بھی ختم۔ پہلے اس کا دائرہ کرنے کے کام تک محدود بتلایا، اب اس کا بھی انکار۔ ملاحظہ فرمائیے: 

’’وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہو سکتیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے انھیں بتائی تو ہیں، لیکن اس رہنمائی کی نوعیت ہی پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتی ہے کہ انھیں سنت کے طور پر جاری کرنا آپ کے پیش نظر ہی نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال نماز میں قعدے کے اذکار ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے لوگوں کو تشہد اور درود بھی سکھایا ہے اور اس موقع پر کرنے کے لیے دعاؤں کی تعلیم بھی دی ہے۔ لیکن یہی روایتیں واضح کر دیتی ہیں کہ ان میں سے کئی چیز بھی نہ آپ نے بطور خود اس موقع کے لیے مقررکی ہے اور نہ سکھانے کے بعد لوگوں کے لیے اسے پڑھنا لازم قرار دیا ہے۔ یہ آپ کے پسندیدہ اذکار ہیں اور ان سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی، لیکن اس معاملے میں آپ کا طرز عمل صاف بتاتا ہے کہ آپ لوگوں کو کسی بات کا پابند نہیں کرنا چاہتے، بلکہ انھیں یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی سکھائی ہوئی یہ دعائیں بھی کر سکتے ہیں اور ان کی جگہ دعا ومناجات کے لیے کوئی اور طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں۔ لہٰذا سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دو زانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے۔ اس کے علاوہ کوئی چیز بھی اس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔‘‘ (میزان ص ۶۰)

دیکھا آپ نے، اس اقتباس میں غامدی صاحب اصل شارع کے روپ میں فیصلہ فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قعدۂ نماز میں فلاں چیز ضروری اور فلاں چیز غیر ضروری ہے۔ دلیل کیا ہے؟ صرف غامدی صاحب کے ذہنی تحفظات یا ذہنی اپج یا اختراعات۔ ورنہ حدیث میں تو کوئی اشارات ایسے نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ ان کی حیثیت صرف رہنمائی کی ہے، یہ سنت نہیں ہے۔ یعنی رہنمائی سنت سے الگ چیز ہے۔ پھر اگر پیغمبر کی رہنمائی سنت نہیں تو سنت کیا ہے؟ اور وہ پیغمبر ہی کیا ہے جس کی رہنمائی (سنت) کوئی قابل عمل چیز ہی نہیں ہے۔

یہ فلسفہ بھی خوب ہے ’’آپ نے تشہد اور درود سکھایا ہے، اس موقع کے لیے دعائیں بھی بتلائی ہیں لیکن آپ نے ان کا پڑھنا لازم نہیں کیا ہے‘‘۔ سبحان اللہ، کیا آپ کا نماز میں ان کا پڑھنا اور صحابہ کو پڑھنے کا حکم دینا، امت کے لیے ان پر عمل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟

مزید ستم ظریفی: ’’یہ آپ کے پسندیدہ اذکار ہیں اور ان سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی‘‘، لیکن آپ کسی بات کا پابند نہیں کرنا چاہتے بلکہ یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کی سکھائی ہوئی دعائیں بھی کر سکتے ہیں اور ان کی جگہ دعا ومناجات کے لیے کوئی اور طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں۔‘‘ لیکن یہ اختیار والی بات آپ کے کس طرز عمل سے جناب غامدی صاحب کو معلوم ہوئی ہے؟ اس کی دلیل کیا ہے؟ ورنہ اس اعتراف کے باوجود کہ ’’یہ اذکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ ہیں۔ نیز ان سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جا سکتی‘‘، کون بدبخت مسلمان ایسا ہوگا کہ وہ ان کو چھوڑ کر دعا ومناجات کا اپنا طریقہ اختیار کرے گا؟ اور زبان رسالت سے نکلے ہوئے مبارک الفاظ کی جگہ اپنے الفاظ میں دعا کرنا پسند کرے گا؟ یہ تو غامدی صاحب ہی کا حوصلہ یا ان کی جسارت بے جا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور دعائیہ کلمات کے مقابلے میں ہر کہ ومہ کو اپنا طریقہ اور خود ساختہ دعائیہ کلمات اپنانے کی اجازت اور ترغیب دے رہے ہیں۔ کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الا کذبا۔

(جاری)

آراء و افکار