کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۵)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

اہل اسلام کہتے ہیں کہ قرآن میں زانی اور زانیہ کی جو سزا(سو کوڑے ) بیان ہوئی ہے، حدیث رسول کی رْو سے وہ کنواروں کی سزا ہے اورشادہ شدہ زانیوں کی سزا رجم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے اور اس کے مطابق آپ نے رجم کی سزا دی بھی ہے؛ آپ کے بعد خلفاے راشدین نے بھی یہی سزا دی اور اس کے حد شرعی ہونے پر پوری امت کا اجماع ہے۔ 

فراہی گروہ، مولانا حمید الدین فراہی سے لے کر مولانا اصلاحی ، غامدی و عمار ناصر تک ، سب رجم کی صحیح متواتر اور متفق علیہ روایات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ ان احادیث سے حد رجم کا اثبات قرآن کے خلاف اور قرآن میں رد و بدل ہے اور یہ حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حاصل نہیں ہے۔ امت مسلمہ کے اجماع کے برعکس فراہی گروہ کہتاہے کہ رجم ایک تعزیری سزا ہے، نہ کہ حد شرعی اور یہ شادی شدہ زانیوں کو نہیں بلکہ اوباش قسم کے زانیوں کے لیے ہے اور وہ بھی وقت کے حکمران کی صواب دید پر منحصر ہے۔ اس کی دلیل کوئی حدیث نہیں، کیوں کہ وہ تو ویسے ہی ان کے نز دیک غیر معتبر ہے؛ صرف ان کے امام اول کا قرآن کے لفظ ’تقتیل‘سے استنباط ہے جس استنباط کی کوئی تائید کسی مفسر، محدث، فقیہ ، امام نے نہیں کی اور عربی لغت اورعرب کے دیوان جاہلیت سے بھی اس معنی کی تائید نہیں ہوتی ؛ اس کی تائید صرف ان کے تلامذہ ، پھر تلامذہ کے تلامذہ اور تلامذہ کے تلامذہ کر رہے ہیں۔

امت مسلمہ کا نظریہ رجم قرآن و حدیث کے ٹھوس دلائل پر مبنی ہے؛ اس لیے وہ عہد رسالت سے آج تک مسلم چلا آرہا ہے؛گویا اس کی عمر چودہ سو سال اور ایک ربع صدی ہے۔ فراہی نظریہ رجم یک سر بے دلیل بلکہ قرآن کی معنوی تحریف اور شریعت سازی پر مبنی ہے اور اس کی عمر ایک صدی سے بھی کم ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک صدی سمجھی جاسکتی ہے؛ یہ خود ساختہ نظریہ کسی دلیل پر قائم نہیں ہے بلکہ اس کی ساری بنیاد ایک استاد کے سلسلہ تلمذ، اس کے خوان علم کی ریزہ چینی اور اس کی اندھی تقلید پر قائم ہے؛ اعاذنا اللہ منہا۔

لو! آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

ہاں، یاد آیا کہ ہم نے غامدی صاحب کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی خفی کے ذریعے سے اوباشی کی سزا ، رجم مقرر کی ہے اور اس پر ہم نے ان سے سوال بھی کیا ہے کہ آپ تو وحی خفی کے ذریعے سے قرآن میں ’اضافے‘ یا’ تبدل وتغیر‘ کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر آپ کی خانہ ساز سزاے رجم وحی خفی سے کس طرح ثابت ہوسکتی ہے؟یہ ہمارا سوال قائم ہے؛اب اس کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں! جناب غامدی صاحب سورہ نساء کی آیت میں بیان کردہ عبوری160سزاے زنا اور پھر حدیث: خذوا عنی  میں بیان کردہ مستقل سزا کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’ان ہدایات سے واضح ہے کہ ان کا تعلق عبوری دور سے تھا؛ چناں چہ عبادہ بن صامت کی زیر بحث روایت (خذوا عنی۔۔۔) کا مدعا درحقیقت یہی ہے کہ آپ کو وحیِ خفی کے ذریعے سے ہدایت دی گئی کہ یہ چوں کہ زنا ہی کے مجرم نہیں بلکہ اس کے ساتھ اپنی آوارہ منشی اور جنسی بے راہ روی کی وجہ سے فساد فی الارض کے مجرم بھی ہیں، اس لیے ان میں سے ایسے مجرموں کو جو اپنے حالات کی نوعیت کے لحاظ سے رعایت کے مستحق ہیں، زنا کے جرم میں نور کی آیت ۲ کے تحت نفی یعنی جلا وطنی کی سزا دی جائے اور ان میں وہ مجرم جنھیں کوئی رعایت دینا ممکن نہیں ہے، مائدہ کی اسی آیت کے تحت رجم کردے جائیں۔ ‘‘ (برہان ، ص126)

غامدی صاحب کی یہ سخن سازی ہم پہلے بھی ان کی کتاب’میزان‘ کے حوالے سے نقل کر آئے ہیں جس کا حوالہ وہ ہر اہم مبحث میں دیتے ہیں۔ یہاں ان کا یہ موقف ان کی دوسری کتاب’برہا ن‘ سے نقل کیا گیا ہے جو بعینہ وہی ہے جو پہلے بیان ہوا لیکن اسے دوبارہ نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہر موقع پر بہ تکرار وبہ اصرار یہ کہتے ہیں اور مسلسل کہہ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ و حیِ خفی کے ذریعے سے بھی کوئی ایسا حکم دے سکتے ہیں جو قرآن میں نہیں ہے؛ وہ اسے قرآن میں تغیرو تبدل قرادیتے ہیں لیکن یہاں بالآخر یہ کہنے اور اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ رجم کا فراہی گروہ کا ساختہ پرداختہ نظریہ و حیِ خفی کے ذریعے سے آپ نے بیان فرمایا ہے ؛ پہلے و حیِ خفی کا انکار تھا، اب اپنی بات منوانے کے لیے اسی کا سہارا لے رہے ہیں ؛چہ خوب!

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں 
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا 

گویا امت مسلمہ اگر یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ خفی کے ذریعے سے قرآن میں بیان کردہ سزا کو کنواروں کے ساتھ خاص کردیا ہے اور شادی شدہ زانیوں کے لیے رجم کی سزا مقر ر فرمائی ہے تو یہ قرآن میں تغیرو تبدل ہے جس کا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں ہے حالاں کہ وحیِ خفی کی یہ روایات رجم تقریباً تین درجن صحابہ سے مروی ہیں۔ لیکن غامدی صاحب پہلے تو مانتے ہی نہیں تھے کہ وحیِ خفی سے بھی آپ کوئی حکم دے سکتے ہیں لیکن جب اس بات کو مانا تو وحی خفی کس کو قراردیا؟ اپنے خود ساختہ امام کے خود ساختہ مفہوم پر خود ساختہ نظریہ رجم کو! اناللہ وانا الیہ راجعون۔ کتنا بڑا اتہام ہے جو اس ظالم شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر باندھا ہے؛ سبحانک ھذا بھتان عظیم۔ 

تغافل سے جو باز آیا جفا کی
تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی 

غامدی صاحب اہل اسلام کی نظریہ رجم کی درجنوں روایات کو تسلیم نہیں کرتے ؛ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فراہی نظریہ رجم کی ایک حدیث پیش کردیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ جو آوارہ منش اور اوباش قسم کا زانی ہوگا ، اس کو زناکی نہیں بلکہ اوباشی کی پاداش میں سزاے رجم حد کے طور پر نہیں بلکہ تعزیر کے طور پردی جائے گی۔

محترم ! یہ فراہی نظریہ رجم آپ کی یا آپ کے استاذ امام کی سخن سازیوں ، لن ترانیوں اور لاف گزاف باتوں سے ثابت نہیں ہو گا بلکہ ٹھوس دلیل سے ثابت ہو گا اور نہ رجم کی متواتر روایات کو خبر آحاد کہہ دینے سے یا ان کی الٹی سیدھی باطل تا ویلات کے ذریعے سے ان کو کنڈم کرنے کی مذسوم اور نا پاک سعی سے اس بے بنیاد نظریے کو کوئی تقویت ہی مل سکتی ہے؛اس لیے کہ اہل اسلام کا نظریہ رجم شجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء  کی مثل ہے اور فراہی نظریہ رجم شجرۃ خبیثۃ اجتثت من فوق الارض ما لھا من قرار ( ابرہیم 14 :26 ) کا مصداق ہے ؛ان شاء اللہ العزیز۔

ایک یک سربے بنیاد دعویٰ اور ہمارا سوال 

لیکن بایں ہمہ غامدی صاحب کی جراَت بھی دیکھیے اور خوش فہمی بھی ! فرماتے ہیں :

’’امام فراہی کی یہ تحقیق قرآن مجید کے نصوص پر مبنی ہے اور روایات میں بھی ، جیسا کہ ہمارے تبصرے سے واضح ہے، اس کے شواہد مو جود ہیں۔‘‘ ( برہان ، ص92۔91)

اس میں غامدی صاحب نے نہایت بے باکی سے یہ نعرۂ مستانہ لگایا ہے کہ’ امام‘ فراہی کی یہ ’تحقیق‘قرآن مجید کے نصوص پر مبنی ہے۔ 

اس دعوے میں اولاً قابل غور بات یہ ہے کہ جو بات نصوص قرآن پر مبنی ہو ، اسے کسی شخص کی ’تحقیق ‘ قرا دیا جا سکتا ہے؟ نص صریح سے ثابت شدہ مسئلہ تو حکم قرانی ہے نہ کہ کسی ’امام ‘ کی تحقیق۔ اللہ تعالیٰ نے وراثت کا ایک اصول یہ بیان فرمایا ہے: للذکر مثل حظ الانثیین ( النساء 4 :11) اس کا مفہوم و مطلب کوئی شخص اردو میں بیان کر کے یہ کہے کہ یہ میری ’تحقیق ‘ ہے یا میرے ’ استاذ امام ‘ کی تحقیق ہے؛ جس کے پاس عقل و دانش کا کچھ بھی حصہ ہے ،وہ بہ قا ئمی ہوش و حواس ایسی بات کہہ سکتا ہے ؟

اگر رجم کی مزعومہ ’ تعزیر ی سزا ‘ آیت قرآنی کی نص اور سور ہ نور کی آیت۲ سے ثابت ہے (کیوں کہ آیت نور کو ملائے بغیر تو ’ نصوص‘ ( بہ صیغہ جمع) نہیں کیا جا سکتا ) تو اولاً اس کو تعزیری سزا کیو ں کر قرار دیا جا سکتا ہے ؟ پھر تو یہ حد شرعی ہوئی نہ کہ تعزیری سزا، جب کہ فراہی گروہ اس کو تعزیری سزا قراردیتا ہے ؛ غامدی صاحب نے بھی بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ :

’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی وساطت سے جو شریعت عطا فرمائی ہے اس میں زندگی کے دوسرے معاملات کے ساتھ جان ، مال، آبرو اور نظم اجتماعی سے متعلق تمام بڑے جرائم کی سزا ئیں خود مقرر فرمادی ہیں ؛ یہ جرائم درج ذیل ہیں:
۱۔ محاربہ اور فساد فی الارض، ۲۔قتل و جراحت ، ۳۔ زنا، ۴۔ قذف ، ۵۔ چوری۔ (میزان ،ص61)

پہلی سزا محاربہ اور فساد فی الارض یہ ایک ہی چیز ہے؛ اسی لیے اپنی دوسری کتاب’ برہان‘ میں صرف ’محاربہ ‘ ہی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ( ص137)

اس اقتباس میں’نبی ‘ کے بجاے ’ نبیوں ‘ کا لفظ بھی قابل غور ہے جسے ہم فی الحال نظر انداز کرتے ہیں، تا ہم اتنا ضرور عرض کریں گے کہ ہماری شریعت تو شریعت محمدیہ ہے نہ کہ شر یعت انبیا؛ یہاں نبی کے بجاے ’ نبیوں ‘ کہنا ان کے گم راہ ذہن کا غماز اور عکا س ہے۔ 

بہ ہر حال اس اقتباس میں آپ دیکھ لیں؛ شرعی سزائیں جن کو حد کہا جاتا ہے، وہ ان کے نزدیک صرف پانچ ہیں؛ اب ان کا یہ دعویٰ کہ آوار ہ منشی اور اوباشی کی سزا اللہ کے رسول نے وحیِ خفی کے ذریعے سے رجم مقرر فرمائی ہے؛ نیز یہاں دعویٰ کیا کہ یہ’ نصوص قرآنی ‘ پر مبنی ہے تو اللہ رسول کی مقر ر کردہ یہ چھٹی سزا، شرعی سزاؤں میں اس کا ذکر غامدی صاحب نے کیوں نہیں کیا ہے ؟ اگر اوباشی کی یہ سزا ۔ سزاے رجم ۔ وحیِ خفی پر اور ’نصوص قرآنی ‘ پر مبنی ہے تو اسے حدود شرعیہ میں شمار کیوں نہیں کیا گیا ؟ اسے تعزیری سزا کیوں کر کہا جا سکتا ہے ؟

علاوہ ازیں اگر یہ فروہی گر وہ کی مزعومہ’ اوباشی‘ کی مزعومہ تعزیری سزا قرآنی نصوص سے ثابت ہے تو پھر اس کے لیے ’ وحیِ خفی ‘ کی ضرورت کیا تھی ؟ قرآن کریم کی نصوص سے جو احکام ثابت ہیں جن میں تبیینِ رسول کی ضرورت نہیں ہے؛ کیا ان کی بابت کہا جا سکتا ہے کہ ان کا مبنیٰ وحیِ خفی ہے ؟ جیسے ہم نے پہلے مثال دی ہے کہ نص قرآنی ہے کہ وراثت میں لڑکے کا حصہ لڑکی سے دوگنا ہے ؛ کیا اس کی بابت یہ کہنا صحیح ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وراثت میں لڑکے اور لڑکی کے حصے میں یہ فرق وحیِ خفی کے ذریعے سے کیا ہے ؟

ظاہر بات ہے ایسا کہنا سراسر غلط ہو گا ؛ اس فرق کو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے وحیِ خفی سے ثابت ہونے والا حکم ہی قرا ر دیا جا سکتا ہے کیوں کہ حکم تو قرآن مجید میں موجود ہے جو و حی جلی ہے اور بالکل واضح ہے؛ اس میں تبیینِ رسول کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

نبی کی طرف تو وہ خفی احکام منسوب ہو ں گے جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیِ خفی کے ذریعے سے بیان فرمائے ہیں یا قرآن میں مجمل طور پر ہیں، وحیِ خفی کے ذریعے سے آپ نے ان کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ اہل اسلام وحیِ خفی پر مبنی قرآن کریم کی شرح و تفصیل کو بھی مانتے ہیں اور ان احکام کو بھی مانتے ہیں جن کا کوئی ذکر قرآن میں نہیں ہے لیکن وہ صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن میں شادی شدہ زانی کی سزا۔ رجم ۔ بھی ہے ؛ اہل اسلام کے نزدیک یہ رجم بھی حدّ شرعی ہے کیو ں کہ احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔

فراہی نظریہ اگر’ نصوص قرآنی ‘ پر مبنی ہے تو پھر یہ ’ تعزیر ‘ کیو ں ؟

فراہی گروہ احادیث سے ثابت ہونے والے احکام کو نہیں مانتا بلکہ ان کو قرآن کے خلاف اور قرآن میں رد و بدل قرادیتا ہے ؛ گویا وہ وحیِ خفی کا منکر ہے اور ان تمام احکام کا منکر ہے جو وحیِ خفی یعنی احادیث پر مبنی ہیں ؛ اسی لیے وہ حدرجم کی شرعی حیثیت کا بھی منکر ہے اور ان تما م متواتراحادیث صحیحہ کا بھی منکر ہے جن سے واضح طور پر اس حدرجم کا اثبات ہوتا ہے۔ لیکن اب ان کا خود ساختہ نظریہ رجم کہ یہ اوباشی کی تعزیری سزا ہے ، چھچھو ندر کی طرح گلے کی پھا نس بن گیا ہے جو نہ نگلا جا رہا ہے اور نہ اْگلا جا رہا ہے کیوں کہ اس کو وہ قیامت تک ثابت نہیں کرسکتے: ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً۔ 

جب ہر طرف ہاتھ پیر مار کر دیکھ لیا کہ کوئی بات نہیں بن رہی ہے؛ بھلا ہوا میں کون گرہ لگا سکتا یا کون آسمان پر تھگلی لگا سکتا ہے ؟ تو تما م ٹا مک ٹوئیاں مارنے کے بعد اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے کہ ہمارا یہ نظریہ رجم وحیِ خفی پر مبنی ہے۔ اس پر اعتراض ہوا کہ وحیِ خفی کو تو آپ مانتے ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے اللہ کے رسول ایسا کوئی حکم دے سکتے ہیں جو قرآن میں نہیں ہے ؛ جب قرآن میں اوباشی کی سزا کا ذکر ہی نہیں ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحیِ خفی کے ذریعے سے کس طرح یہ سزا دے سکتے تھے ؟ یہ تو آپ کے بہ قول قرآن میں تغیرو تبدل ہے۔ اگر رجم کا بہ طور حد شرعی وحیِ خفی کے ذریعے سے اثبات ، قرآن میں تغیر وتبدل ہے تو پھر اوباشی کی من گھڑت سزا کی بابت یہ دعویٰ کہ یہ وحیِ خفی سے ثابت ہے؛ کیا یہ قرآن میں تغیر و تبدل نہیں ہے ؟ 

اسی طرح اس من گھڑت سزا کو ’ نصوص قرآنی پر مبنی ‘ قراردینااگرصحیح ہے تو پھر اسے حدِ شرعی میں شمار کیوں نہیں کیا ؟ قرآنی نصوص پر مبنی سزا تو تعزیری سزا نہیں ہو سکتی ؛وہ تو حد شرعی ہے۔ اسی طرح غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ’’روایات میں بھی جیسا کہ ہمارے تبصرے سے واضح ہے ، اس کے شواہد موجود ہیں۔‘‘ روایات کو تو آپ مانتے ہی نہیں؛ علاوہ ازیں اس میں بھی آپ کی روایتی ہوشیاری صاف جھلک رہی ہے کہ روایات پر آپ نے جو غلط تبصرہ کیاہے،اس تبصرے کو آپ ’شواہد ‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگر روایاتِ حدیث ’ شواہد ‘ ہیں تو صرف خالی روایات کا حوالہ دیں اور اپنے باطل تبصرے کے بغیر روایات نہیں بلکہ صرف ایک ہی روایت پیش کر دیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوباشی کی سزا میں فلاں عورت یا فلاں مرد کو رجم کی سزا دی تھی؟ 

کیا قرآن کی معنوی تحریف کو ’ نصوص قرآنی ‘ کہا جا سکتا ہے؟ 

ہماری اس تفصیل سے واضح ہے کہ مزعومہ سزاے رجم کو قرآنی نصوص پر مبنی قراردینا بھی اسی طرح بد ترین جھوٹ ہے جیسے ان کا یہ دعویٰ کہ میرے موقف اور ائمہ سلف کے موقف میں بال برابر بھی فرق نہیں ہے؛اس تفصیل سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ خود ساختہ نظریہ رجم قرآنی نصوص پر ہر گز مبنی نہیں ہے بلکہ آیت محاربہ کی معنوی تحریف پر مبنی ہے جس کی ہم پہلے وضاحت کر آئے ہیں۔ 

اب ہمیں اس نئی ’ دلیل ‘ پر غور کرنا ہے کہ قرآن کریم کے کسی لفظ کی ایسی تشریح جو آج تک کسی صحابی، تابعی، مفسر، محدث، امام و فقیہ نے نہیں کی بلکہ وہ قرآن کی تحر یف معنوی ہو ، کیا ایسی تشریح یا ایسی تحریف معنوی کی بنیاد پر کسی خود ساختہ نظریے کو ’ نصوص قرآنی ‘ پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ظاہر بات ہے اس کا جواب نفی میں ہی ہو گا۔

جیسے ’ختم نبوت ‘ کا مسئلہ ہے جو قرآن کے لفظ ’خاتم النّبیین‘ کا صیح مفہوم پر مبنی ہے لیکن مرزائی ’خاتم النّبیین‘ کی غلط تشریح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی مہر سے نبی بن کر آیا کریں گے ؛ اس طرح قرآن کے اس لفظ سے جو ختم نبوت پر نصِ صریح ہے ، مرزائی اس کے بر عکس اس کی غلط تشریح اور اس میں معنوی تحریف کر کے اجراے نبوت کے خود ساختہ نظریے کا اثبات کرتے ہیں ؛ اگر کوئی مرزائی کہے کہ ہمارا اجراے نبوت کا عقیدہ ’نصوص قرآنی‘ پر مبنی ہے؛ کیا یہ دعویٰ یا عقیدہ صحیح ہوگا؟

پرویزی کہتے ہیں : زکات کے معنی نشونما کے ہیں لہٰذا ’ایتاے زکات‘ کے معنی ہوں گے سامان نشو و نما مہیا کرنا اور یہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ افراد معاشرہ کی نشوونما کا سامان فراہم کرے۔ (ماہ نامہ طلوع اسلام ،مئی 1989 ء)

لیجیے ! اس ’قرآنی ‘ مفہوم یا ’نصوص قرا?ن‘سے تمام مسلمان زکات کی ادائیگی سے فارغ ہو گئے؛ رجم کی’فراہی تحقیق‘ کی طرح زکات کی کیا خوب ’تحقیق‘ ہے ! اگر پرویزی بھی غامدی صاحب والی ’قرآنی نصوص‘ پر مبنی رجم کی بحث پڑھ لیں اور وہ دعویٰ کردیں کہ ہماری زکات والی تحقیق ’نصوص قرآنی: اٰتْوا الزَّکَاۃ  پر مبنی ہے تو کیا وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہوں گے؟اور علم و تحقیق کی دنیا میں اس دعوے کی پرکاہ کے برابر بھی حیثیت ہوگی ؟ غامدی گروہ جواب دے !

اسی طرح اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں؛ سارے باطل فرقوں کی بنیاد قرآن کی غلط تشریحات اور اس میں معنوی تحریفات ہی پر قائم ہے اور اس کی ہم الحمدللہ دسیوں، بیسیوں مثالیں پیش کر سکتے ہیں؛اگر ان باطل فرقوں کی غلط تشریحات اور معنوی تحریفا ت سے ان کے غلط عقائد و نظریات کا اثبات نہیں ہوسکتا تو غامدی و اصلاحی و فراہی کا خود ساختہ نظریہ رجم قرآن کے لفظ یحاربون  (محاربہ) کی یا لفظ’تقتیل ‘کی معنوی تحریف اور باطل تشریح سے کس طرح ثابت ہوجائے گا اور ’نصوص قرآن ‘ پر مبنی کے لیے تسلیم کر لیا جائے گا؟

کچھ غامدی صاحب کی ’ خوش فہمی‘ پر تبصرہ

غامدی صاحب نے فرمایا ہے بلکہ ڈینگ ماری ہے کہ :

’’اس سے اگر کسی کو اختلاف ہے اس دلائل کے ساتھ اس کا محاکمہ کرنا چاہیے ؛ یہ وہ چیز نہیں ہے جسے جذبانی تحریروں اور بے معنی فتووں کے ذریعے سے رد کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت لوگ جو جی چاہیں کہیں لیکن وہ وقت اب غالباً بہت زیادہ دور نہیں ہے جب علم و دانش کی مجالس میں اس تحقیق کے لیے دادو تحسین کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے گا؛ ان شاء اللہ العزیز۔‘‘ (برہان، ص 91۔92)

الحمد للہ ، اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے ہم نے غامدی صاحب کے بے بنیاد ’دلائل ‘ کا جو پوسٹ مارٹم اور اس کا محاکمہ کیا ہے، اس کو کوئی جذباتی تحریر یا بے معنی فتویٰ قرار دے دے تو یہ اس کا بے جا تعصب اور اپنے ’ائمہ مضلین‘ سے اندھی عقیدت ہے؛ ورنہ ہمارا اندازہ ہے کہ ہمارے محاکمے کا جو ابھی جاری ہے، مزید دلائل پر گفت گو آرہی ہے، فراہی گروہ قیامت تک ان شاء اللہ جواب نہیں دے سکے گا: وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین (البقرہ)

اپنی عقل و دانش پر اس طرح کا ناز اور اپنے گم راہانہ افکار پر اس طرح کا ادّعا، اس سے پہلے بھی بہت سے گم راہ فرقوں اور ان کے سرغنوں نے کیا ہے لیکن آج ان کی شخصیتیں بھی تاریخ کے کوڑے دانوں میں تعفن زدہ پڑی ہیں جن کے پاس سے گزرنا بھی کسی صحیح الفکر اور صحیح الدماغ شخص کے لیے ناممکن ہے اور ان کے افکار فاسدہ بھی عجائبات کے میوزموں میں افسا نہ ہائے پارینہ کے طور پر یا نشان عبرت کے لیے محفوظ ہیں ؛ فراہی گروہ کے یہ افکار مضلہ بھی ان شاء اللہ اس عبرت انگیز حشر سے دو چار ہوں گے۔

فراہی افکار کی بنیاد ود چیزوں پر ہے : انکار حدیث اور قرآن کریم کی معنوی تحریف؛امت مسلمہ جب تک اپنے پیغمبر کو ۔ان کے نزدیک جو حامل قرآن، مفسر قرآن اور مبین قرآن ہے ۔ مانتی رہے گی اور اس کو ماننے کا مطلب ، اس کی تفسیر و تشریح اور تبیین قرآنی کو جس کو حدیث کہا جاتا ہے، ماخذ شریعت تسلیم کرنا ہے؛ اس وقت تک مسلمہ کا اجتماعی ضمیر فکر فراہی کو کبھی ہضم نہیں کرسکے گا۔ غامدی صاحب علم و دانش کی کن مجالس کا حوالہ دے رہے ہیں جہاں اس تحقیق کے لیے دادو تحسین کے سوا کچھ نہیں ہوگا؟ یہ مجالس مسلمان اہل علم و دانش کی تو ہر گز نہیں ہوسکتیں؛اس لیے کہ کسی بھی مسلمان کا علم اور اس کی دانش، نہ انکار حدیث کے جرثومے کو پال سکتی ہے اورنہ قرآن کی تحریف معنوی کے زہرہلاہل کو نوش جان کرسکتی ہے۔

دنیا میں ہر چیز کے گاہک اور ہر گم راہی کے خریدار موجود ہیں ؛ الطاف حسین اور طاہر القادری اور ان سے پہلے غلام احمد قادیانی جیسے مریض ذہن کے لوگوں کے بھی بے شمار پرستار ہیں ؛ ان کے افکار باطلہ کے لیے بھی ایسی مجالس موجود ہیں جہاں ان کے اوہام باطلہ اور خیالات فاسدہ کو انبیاے معصومین کی طرح مانا جاتا اوران پر داد وتحسین کے ڈونگر ے برسائے جاتے ہیں ؛ ’طلوع اسلام ‘کے نام پر غروب اسلام کی مجلسیں آج بھی ۔پرویز کے پیوند خاک ہونے کے باوجود ۔ جاری و ساری ہیں ۔ اگر فکر فراہی کی گم راہیوں پر بھی کچھ عفونت زدہ لوگوں کی مجلسیں برپا ہوتی رہیں گی اور اہل مجلس اس ’تحقیق ‘ پر وجد میں آ کر جھومتے اور واہ واہ کرتے رہیں گے تو ایسا ممکن ہے۔ لیکن اس پر فخر کرنے والی کون سی بات ہے؟ اور اس کیااس ’تحقیق‘ کی حقانیت و صداقت ثابت ہو جائے گی؟ گم راہی تو گم راہی ہی رہے گی، چاہے ساری دنیا اس پر مجتمع ہو جائے لیکن امت مسلمہ کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے :

لن تجتمع امتی علی الضلالۃ۔ (میری (ساری) امت ہرگز گم راہی پر مجتمع نہیں ہو گی۔)

یعنی پوری کی پوری امت کسی گم راہی کو اپنالے ، ایسا نہیں ہوگا ؛ اس کا مطلب ہے گم راہ ٹولے نکلتے رہیں گے اور اپنی بازی گری کے کرتب دکھاتے رہیں گے لیکن آفتاب حق کے سامنے جلوۂ آخر شب کی طرح معدوم ہوتے رہیں گے۔ شہر ستانی کی ’الملل والنحل ‘ دیکھ لیجیے؛ ابن حزم کی ’الفصل فی الملل ‘ دیکھ لیجیے ! ایسے بیسیوں فرقے آپ کے مطالعے میں آئیں گے کہ آج ان کا نام بھی ان کتابوں کے علاوہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔ فراہی گروہ بھی اسی طرح تاریخ کی گزرگاہوں میں نشان عبرت کے طور پر نظر آئے گا یا بادیہ ضلالت کے راہ نورد ’المورد ‘ اور ’دانش سرا‘ جیسے ڈیروں میں اپنی خوے ضلالت کی تسکین کا سامان پائیں گے، لیکن اہل اسلام ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے اور حق و صداقت کی بار گاہوں میں ان کا مقام وہی ہوگا جو معتزلہ، قدریہ جہمیہ وغیرہ فرقوں کے بانیوں اور ان کے قدیم و جدید پیروکاروں کا ہے۔

سینہ زوری کی انتہا

غامدی صاحب لکھتے ہیں :

’’رجم کی سزا کے بارے میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، اسے پڑھنے کے بعد یہ سوال ہر طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں فقہا کی راے اگر قرآن کے خلاف ہے تو پھر رجم کی اس سزا کے بارے میں کیا کہا جائے گاجس کے متعلق معلوم ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مجرموں کو دی اور خلفاے راشدین نے بھی دی؟ یہی سوال ہے جس کے جواب میں دور حاضر کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق امام حمیدالدین فراہی نے اپنا وہ نقطہ نظر پیش کیا ہے جس سے صدیوں کا یہ عقدہ نہ صرف یہ کہ حل ہو جاتا بلکہ یہ بات بھی بالکل نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ پیغمبر کا کوئی حکم بھی قرآن کے خلاف نہیں ہوتا۔‘‘ (برہان، ص 57)

ملاحظہ فر ما یئے ! سینہ زوری اور فریب کاری کی تکنیک؟ کہ رجم کی حدّ شرعی کی بابت امت مسلمہ کا جو اجماع ہے جس میں خلفاے راشدین و صحابہ سمیت ، تمام ا ئمہ سلف ، محدثین،مفسرین اور فقہا شامل ہیں کیوں کہ اس اجماع کی پشت پر احادیث صحیحہ و متواتر ہ ہیں ؛ اس کو صرف فقہا کی را ے قرار دیا تا کہ ان کا حلقہ ارادت آسانی اس با ت کو قبو ل کر لے جو انھوں نے اگلے جملے میں اسے قرآن کے خلاف کہا ہے کیو ں کہ اگر وہ یہ کہتے کہ یہ رائے جو قرآن کے خلاف ہے، پوری امت مسلمہ کی متفقہ راے ہے اور اہل ا سلام کا اس پر اجماع ہے تو پھرلوگوں کو مغالطہ دینا اور فریب میں مبتلا رکھنا نہایت مشکل ہوتا،اس لیے اسے صرف فقہا کی راے کہا تا کہ لوگ کہی ہو سکتاہے کہ فقہا سے یہ اجتہادی غلطی ہو گئی ہو حالاں کہ بات اس طرح نہیں ہے؛یہ صرف فقہاکی بات یاراے نہیں،ایک اجماعی اور مسلمہ اسلامی عقیدہ ہے اور فقہاکے اجتہاد پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن و حدیث کے محکم اور نہایت وا ضح دلائل پر مبنی ہے۔

دوسری بات موصوف کے اقتباس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ چودہ صدیا ں گزر جانے کے بعد اس سزا کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس عقدے کو امام فراہی نے حل کیا ہے؛اس نکتے پر بحث سے پہلے غامدی صاحب کا ایک اور اقتباس ملاحظہ فرما لیجیے جس میں انھوں نے یہی بات زیادہ کھل کر کہی ہے ؛ موصوف روایات رجم کی الٹی سیدھی تا ویلات، غلط سلط وضاحت، آج کل کی اصطلاح میں ان کا ’ پوسٹ مارٹم ‘ کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’یہ ہیں وہ روایتیں اور مقدمات جن کی بنیاد پر ہمارے فقہا قرآن مجید کے حکم میں تغیر کرتے اور زنا کے مجرموں کے لیے ان کے محض شادی شدہ ہونے کی بنا پر رجم کی سزا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛اس سارے موادپر جو تبصرہ ہم نے کیا ہے،اس کی روشنی میں پوری دیانت داری کے ساتھ اس کا جا ئزہ لیجیے؛ اس سے زیادہ سے زیادہ کوئی بات اگر معلوم ہوتی ہے تو بس یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین نے زنا کے بعض مجرموں کو رجم اور جلا وطنی کی سزا بھی دی ہے، لیکن کس قسم کے مجرموں کے لیے یہ سزا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفا نے کس طرح کے زانیوں کو یہ سزا دی؟اس سوال کے جواب میں کوئی حتمی بات ان مقدمات کی رودادوں اور ان روایات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔اس سزا کا ما خذ در حقیقت کیا ہے؟ یہی وہ عقدہ ہے جسے امام حمیدالدین فراہی نے اپنے یرسالہ ’احکام الاصول باحکام الرسول‘ میں حل کیا ہے۔‘‘ ((برہان ، ص 88۔89)

اس میں موصوف کی’ زیرکیاں‘ قابل داد ہیں ؛مثلاً :

اس اقتباس میں بھی حد رجم کی شرعی حیثیت کے اثبات کو صرف فقہاکی طرف منسوب کیا ہے؛دوسرے، اسے قرآن مجید کے حکم میں تغیر قرار دیا ہے؛تیسرے ،فقہا نے ان روایات کی بنیاد پر رجم کی سزا ثابت کرنے کی ’کوشش ‘کی ہے یعنی ان روایات سے رجم کی سزا ثابت نہیں ہوتی حالاں کہ وہ اس مفہوم میں نہایت واضح ہیں لیکن ’دیدۂ کو رکوکیا نظر آئے کیا دیکھے‘ کے مصداق فرماتے ہیں :’’کوشش کرتے ہیں‘‘؛ چوتھے،سب سے بڑی کور باطنی یا جسارت کہ ان روایات سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور خلفاے راشدین نے جن زانیوں کو سزاے رجم دی ، ان کا جرم کیا تھا؟ نعوذ با للہ من ذلک الھفوات والھذیانات۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا تو دی لیکن جرم کی نوعیت کو سمجھے بغیر دی ؛ کیا پیغمبر کے بارے میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے جو بہ راہ راست اللہ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور اس کا کوئی اقدام راہ راست سے ذرا بھی اِدھراْد ھرہوتا ہے تو وحی کے ذریعے سے اس کو متنبہ کر دیا جاتا ہے؛ اس پیغمبرنے اپنی زندگی میں کم از کم چار کیسوں میں حدّرجم نافذفرمائی اور چاروں واقعات کی روایات میں اس امر کی صراحت موجود ہے کہ ان کو رجم کی یہ سزااس جرم میں دی گئی کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود انھوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا لیکن موصوف فرما رہے ہیں کہ اللہ کے پیغمبر نے الل ٹپ اور محض رجم کا شوق پورا کرنے کے لیے یہ سزا دی ؛ یہ سمجھے بغیر کہ ان کا ا صل جرم کیا تھا؟ اسی طرح خلفاے راشدین نے بھی یہ سزایوں ہی دے دی اور وہ یہ سمجھنے سے ہی قاصر رہے کہ یہ سزا ہم کس بنیاد پر دے رہے ہیں؟ اسی طرح چودہ سو سال کے عرصے میں ہزاروں ائمہ ، مفسرین، محد ثین اور فقہا ہوئے اور آج بھی الحمدللہ ہزاروں کی تعداد میں قرآن و حدیث پر گہری نظر رکھنے والے موجود ہیں لیکن کسی پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوئی اور نہ اب ہو رہی ہے کہ رجم کی سزا در حقیقت کس جرم کی سزا ہے ؟

اس عقدے کو چودہ سو سال بعد’امام فراہی‘نے حل کیا کہ رجم کی یہ سزا در اصل آوارہ منشی، او باشی اور غنڈہ گردی کی سزا ہے،قطع نظر اس کے زانی کنوارا ہے یاشادی شدہ اور اس کا ماخذ آیت محاربہ کا لفظ ’ان یقتلوا‘ ہے۔

کیا کوئی جاہل سے جاہل مسلمان بھی ۔بہ شرطے کہ فراہی گروہ کی مذکورہ ہفوات نے اس عقل کہ ماؤف نہ کر دیا ہو ۔ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خلفاے راشدین اور دیگر صحابہ سمیت پوری امت کے علما و فقہا اس آیت محاربہ کے مفہوم سے بھی نا آشنار ہے اور رجم کی سزا کا مستحق کس قسم کا شخص ہو گا؟ یہ بھی کسی پر واضح نہ ہو سکا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مجرموں کو بغیر استحقاق کے یہ سزا شادی شدہ زانیوں کو دے دی جب کہ یہ سزا تو اوباشی کی تھی نہ کہ زانیِ محصن کی اور ساری امت کے علماو فقہا اور محدثین بھی اس ’سرمکنون‘ سے نا آشنا ہی رہے !! 

(جاری)

آراء و افکار