کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۳)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

حدیث و سنت کا مفہوم : اہل اسلام اور غامدی صاحب 

غامدی صاحب کے اندراس شوخ چشمانہ جسارت کاحوصلہ کیوں پیدا ہوا ؟ اس لیے کہ وہ آپ کے طریقے اور عمل کو ’سنت ‘ سمجھنے کے لیے تیار نہیں؛ چناں چہ ان کے ٹیپ کا بند ملا حظہ فرمائیں :

’’لہٰذا سنت صرف یہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت میں نماز پڑھنے والا دوزانو ہو کر قعدے کے لیے بیٹھے ؛ اس کے علاوہ کوئی چیز بھی اس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔‘‘

ہم نے الحمدللہ مکمل اقتباس دے کر اس کے مختلف ٹکڑوں کی وضاحت کی ہے؛ اس میں کمی بیشی نہیں کی ہے تا کہ ان کا حلقہ ارادت یاوہ خود یہ نہ کہہ سکیں کہ سیاق وسباق کو حذف کر کے ان کے مفہوم یا الفاظ کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ ہم نے ایسا کیا ہے ،نہ ہم ایسا کر نا جا ئز ہی سمجھتے ہیں؛ یہ علمی بد دیا نتی ہے جو اہل علم کے شایاں نہیں بلکہ ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ غامدی صاحب یا ان کے ’ استاذامام‘ کے ’ منصوص کلمات ‘ کی شرح و تو ضیح میں بھی کوئی تجاوز ایسا ہوا ہو کہ بات تو جیہ القول بمالا یر ضیٰ بہ القائل کے درجے تک پہنچ گئی ہو تو ہمیں ان شا ء اللہ اس پر بھی معذرت کر نے میں کوئی تامل نہیں ہو گا۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ استاذ اور شاگرد ان دونوں حضرات نے اپنی گم راہی کا اظہار اور سلف کی راہ ہدایت سے ہٹ کر زیغو ضلال کی راہ نوردی اتنے و اشگاف الفاظ میں اور اتنی بیباکی اور بلند آہنگی سے کی ہے کہ ان کی عبارتوں کو توڑمروڑ کر پیش کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے؛ وہ اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارا نظریہ حدیث و سنت وہ نہیں ہے جو چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مسلمہ چلا آرہا ہے بلکہ امت کے ائمہ سلف، علما و فقہا اور محدثین کو حدیث و سنت کا نہ مفہوم سمجھ میں آیا ہے اور نہ وہ ان کے مقام و مرتبہ کو پہچان سکے ہیں بلکہ چودہ سو سال کے بعد یہ’ سعادت ‘تو ’امام اول‘ فراہی صاحب، کو دوسرے نمبر پر’ امام ثانی‘ اصلاحی صاحب کو اور’ امام ثالث‘ غامدی صاحب اور ان کے ہم نواؤں کوحاصل ہو ئی ہے : ع یہ نصیب اللہ اکبر! لوٹنے کی جا ہے۔

اور حدیث کا وہ مقام جو ان کی سمجھ میں آیا ہے یہ ہے کہ یہ باسند سلسلہ روایات غیر معتبر اور ثانوی اہمیت کا حامل ہے اور قرآن فہمی میں بے سند شعراے عرب کا جا ہلی کلام یا پھر تحریف شدہ تورات و انجیل و غیرہ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اس طرفہ تماشے کے باوجود دعو یٰ یہ ہے کہ ہمارے اور ائمہ سلف کے درمیان سرسوفرق نہیں ہے ،صرف اصطلاحات کا فرق ہے ؛یہ گویا اپنے سوا سب کو بے وقوف سمجھنے والی بات ہے۔ 

محترم ! اصطلاحات کا فرق ہی تو اختلافات کی اصل بنیاد ہے ؛ جب ائمہ سلف کے نزدیک حدیث و سنت کا مفہوم کچھ اور ہے جس کی رو سے ایک تو حدیث و سنت ایک ہی چیز کا نام ہے ؛دوسرے ، سارے دین کی بنیاد حدیث ہے اور اس کے بغیر نہ قرآن کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ قرآن پر عمل ہی کیا جا سکتا ہے ،نیز تمام احادیث صحیحہ حجت شرعیہ اور ماخذشرعی ہیں۔ احادیث جس طرح قرآن کے اجمالات کی شرح و تو ضیح کر تی ہیں ، اسی طرح قرآن کے عمومات کی تخصیص بھی کرتی ہیں ؛ علاوہ ازیں لغت یا عرب شعرا کے کلام سے حسب ضرورت استفادہ و استشہاد تو کیا جا سکتا ہے لیکن اسے قرآن فہمی میں اصل اہمیت اور اصل بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ؛ اصل بنیاد تو صحیح احادیث، آثار صحابہ اور سلف کی تعبیر ہے۔جو تفسیر اس طریقہ ماثور سے ہٹ کر ہوگی، وہ قرآن کی تفسیر نہیں ، قرآن کے نام پر اسی طرح گم راہی ہے جیسے سر سید کی تفسیر یا پر ویز کی تفسیر گم راہیوں کا مجموعہ ہے اور ’تد بر قرآن ‘ بھی اسی سلسلۃ الضلال کی ایک کڑی ہے اور رجم کا بہ طور حد انکار ام الضلال ہے جس کا انکار ’تد بر قرآن‘ میں بڑے شد و مد سے کیا گیا ہے۔ 

جبکہ غامدی صا حب کی اصطلاح میں سنت و حدیث کا مفہوم مذکورہ مفہوم سے یک سر مختلف ہے ؛ ان کے نزدیک حدیث اول تو معتبر ذرائع سے ثابت نہیں ؛اگرکوئی ثابت ہو جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں؛ اس سے کو ئی عقیدہ وعمل ثابت نہیں ہو تا۔ اسی طرح سنت ہے ؛ اول تو وہ بھی تعداد میں چند ہی ہیں، اس لیے کہ سنت سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے جو سات، آٹھ ہزار کی تعداد میں صحیحین ( بخاری و مسلم ) میں ہیں اور ایک معقول تعداد سنن اربعہ اور دیگر بعض کتب حدیث میں ہے ؛ ائمہ سلف اور محدثین کے نزدیک ان میں موجود تمام صحیح احادیث دین ہیں اور ان سے ثابت شدہ احکام اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح قرآنی احکام ہیں؛ غامدی صاحب کے نزدیک سنت :

’’دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرما یا ہے۔‘‘ ( میزان ، ص14)

سنت کی یہ تعریف ، ائمہ سلف کی تعریف سے یک سر مختلف اور نہات مبہم ہے ؛اس تعریف کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صاحب شریعت پیغمبر تو نہیں رہتے ،صرف دین ابراہیمی کے مجد د اور مصلحقرار پاتے ہیں۔ 

ثانیاً، دین ابراہیمی کی روایات کیا ہیں؟ان کا ماخذ کیا ہے؟ ہماری احادیث یا سنتیں تو الحمد للہ مذکورہ چھ کتابوں اور کچھ ان کے علاوہ وہ بھی دیگر کتب حدیث میں مدون اور محفوظ ہیں، لیکن غامدی صاحب کی مفروضہ یا موہومہ سنتیں اگر دیکھنی ہوں تو وہ کو ن سی کتاب ہے جس میں ان کو ملاحظہ کیا جا سکے ؟ 

ان کی تعداد بھی ما شا ء اللہ انھوں نے متعین کی ہوئی ہے؛ وہ تقریباً 27ہیں۔ ان کے نام بھی انھوں نے ’ میزان ‘ میں لکھے ہیں یعنی ان کی مکمل فہرست درج کی ہے ؛ملاحظہ فرمائیں:

عبادات میں :نماز (2 ) زکات اور صدقہ فطر (3) روزہ و اعتکاف (4) حج و عمرہ (5) قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں۔ 

معاشرت میں :نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات (2)حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔

خو رونوش میں : سور ، خون ، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت (2) اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔

رسوم و آداب میں : (1) اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا (2) ملاقات کے موقع پر السلام علیکم اور اس کا جواب (3) چھینک آنے پر الحمدللہ ور اس کے جواب میں یرحمک اللہ (4) نومولود میں دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت (5) مونچھیں پست رکھنا (6) زیر ناف کے بال کا ٹنا (7) بغل کے بال صاف کر نا (8) بڑھے ہوئے ناخن کا ٹنا (9) لڑکوں کا ختنہ کرنا (10)ناک منہ اور دانتوں کی صفائی (11) استنجا (12) حیض و نفاس کے بعد غسل (13) غسل جنابت (14) میت کا غسل (15) تجہیز و تکفین (16) تدفین (17)عید الفطر (18)عید الاضحی۔

اس فہرست پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ سوائے ایک آیت قرآنی: حْرِّمَت عَلَیکمُ المیتَۃْ...الآیۃ  کے ترجمے کے سب وہ احکام ہیں جو احادیث کی کتابوں میں درج ہیں حالاں کہ یہ کتا بیں ان کے نزدیک غیر معتبر ہیں؛ علاوہ ازیں احادیث کی ان کتابوں میںیہ سارے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان فر مودہ ہیں ؛ ان میں سے کسی ایک حکم کی بابت بھی یہ وضاحت نہیں ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی وہ روایات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح و تجدید یا اضافہ کر کے دین کے طور پر جاری فرمائی ہیں؛ آخر اس دعوے کی دلیل سوایایک شخص کی ذہنی اپچ یا دماغی اختراع کے کیا ہے ؟

ان میں سے بیش تر احکام تو وہ ہیں جو ہر نبی کی شریعت میں رہے ہیں جس کی صراحت خود قرآن میں موجود ہے:

شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّینِ مَا وَصَّی بِہ نُوحًا وَالَّذِی اَوحَینَا اِلَیکَ وَمَا وَصَّینَا بِہ اِبرَاھیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی اَن اَقِیمُوا الدِّینَ
’’ تمھارے لیے وہی دین اللہ نے مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا اوروہ جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور وہ جس کا حکم ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا؛ یہ کہ تم دین کو قائم کرو۔‘‘ (الشوریٰ 42:13)

اس آیت سے واضح ہو اکہ چند جزوی مسائل کے علاوہ تمام انبیا کا دین ایک ہی رہا ہے اور وہ الاسلام ہی ہے ؛ تو کیا مذکورہ احکام دیگر انبیا کے دین میں نہیں رہے ہو ں گے؛ ان سنتوں کا آغاز تو پھر حضر ت نوح سے یا حضرت آدم سے کرنا چاہیے۔ قربانی اور تدفین و غیرہ کا ذکر تو حضرت آدم سے بھی ملتا ہے ؛ پھر ان احکام کو دین ابراہیمی کی روایات کیوں کر کہا جا سکتاہے؟

ان سب سوالات کا جواب غامدی صاحب کے ذمے ہے۔ 

غامدی صاحب کی مزید و ضاحت اور ہمارے مزید سوالات

مذکورہ فہرست سنن کے بعد غامدی صاحب فرماتے ہیں :

’’سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ با لکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ؛وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ، یہ اسی طرح ان کے اجما ع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرار پائی ہے لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے گنجایش نہیں ہے۔ دین لاریب، انھی دو صورتوں میں ہے ؛ ان کے علاوہ کو ئی چیز دین ہے ، نہ اسے دین قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ ( میزان ، ص14۔15)

غامدی صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ سنت کی یہ تعریف اور اس کی یہ تحدید ائمہ سلف میں سے کس نے کی ہے؟ کیوں کہ آپ کا د عو یٰ ہے کہ ائمہ سلف میں اور آپ کے درمیان با ل برابر بھی فرق نہیں ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ سنتیں قرآن کی طرح عملی تواتر سے ملی ہیں تو پھر ان میں با ہم اختلاف کیوں ہے ؟ صرف نماز کا اختلاف ہی دیکھ لیجیے! ہا تھ باندھنے کی صورت میں سینے پر باندھے جائیں یا ناف کے نیچے یا ہا تھ چھوڑ کر نماز پڑھی جا ئے ؟ رفع الیدین کیا جا ئییا نہ کیا جائے ؟ اعتدال ارکان ضروری ہے یا نہیں ؟ کسی کے نزدیک ضروری ہے کسی کے نزدیک نہیں ؛ خلف الامام سورہ فاتحہ پڑھنی ہے یا نہیں ؟ ایک کے نزدیک فرض ہے جب کہ دوسروں کے نزدیک غیر ضروری۔ اسی طرح مرد و عورت کی نماز کا مسئلہ ہے؛ ایک فریق ان کے طریقہ نماز میں فرق کا قائل ہے جب کہ دوسرا فریق سوائے دو تین باتوں کے ، ارکان نماز کی ادائیگی میں کسی فرق کا قائل نہیں۔

ان اختلافات کی ایک وجہ تو دلائل کی صحت و ضعف میں اختلاف ہے ؛ دوسری وجہ فہم و تعبیر کا اختلاف اور ایک وجہ فقہی و حزبی جمودیا قرآن کے الفاظ میں بَغیاً بَینَھُم بھی ہے۔ اگر نماز کا اثبات صرف عملی تواتر سے ہو تا تو طریقہ نماز میں یہ اختلاف قطعاً نہیں ہو تا ؛ فریقین دلائل کا انبار اور کتابوں کا ڈھیر جمع نہ کرتے ، پھر تو ان کی صرف ایک ہی دلیل ہوتی کہ نماز کا فلاں عمل یا فلا ں طریقہ نسل در نسل، جیلاً بعد جیلِِ اسی طرح تواتر سے نقل ہوتا آرہا ہے لیکن یہ دلیل آج تک کسی فریق نے پیش نہیں کی۔ سارا اختلاف ان دلائل کی بنیاد پر ہے جو کتابوں میں موجود ہیں ؛ ان دلائل کی صحت و ضعف پر بحثیں ہوتی ہیں ؛ان کے انطباق پر گفت گوہو تی ہے ؛وجوب و استحباب یا افضلیت و غیر افضلیت زیر بحث آتی ہیں لیکن کہیں بھی اور کسی کی بھی طرف سے عملی تواتر کا حوالہ سامنے نہیں آتا ؛ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ عملی تواتر کا وجود عنقا کی طرح ہے جس کا وجود ہی نا پید ہے ؛ اسی طرح عملی تواتر بھی نا پید ہے۔

اسی طرح غامدی صاحب کا اپنی مزعومہ ’سنتوں‘ کے بارے میں یہ کہنا کہ

’’ثبوت کے اعتبار سے ان میں اور قرآن میں کو ئی فرق نہیں ہے ؛ قرآن جس طرح صحابہ کے اجتماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ، یہ سنتیں اسی طرح ان کے اجتماع اور عملی تواتر سے ملی ہیں۔‘‘

اس میں و ضاحت طلب امر یہ ہے کہ قولی تواتر اور عملی تواتر میں کیا فرق ہے ؟اور ان دو اصطلاحوں سے ان کی مراد کیا ہے ؟ اگر قولی تواتر سے مراد تمام صحابہ کا تواتر سے یہ کہنا ہے کہ یہ قرآن وہی کتاب ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو ئی ہے تو قول کی صداقت کے پر کھنے کا طریقہ کیاہو گا ؟ محض دعویٰ کر دینے سے تو مد عا کا اثبات نہیں ہو جاتا بلکہ دعوے کے ثبوت کے لیے دلائل کا وجود ضروری ہے ؛ قولی تواتر کے یہ دلائل کہا ں ہیں ؟ اگر یہ گر وہ کہتا ہے کہ اس کے دلائل کتب حدیث میں ہیں تو کتب حدیث تو ان کے نزدیک غث وثمین کا مجموعہ ہیں،وہ تو معتبر ہی نہیں ہیں؛ کتب تواریخ تو اس سے بھی زیادہ غیر معتبر ہیں ؛ شعراے عرب کا جا ہلی کلا م ہے جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ معتبر ہے لیکن اس میں تواس امر کے دلائل ملنے سے رہے ؛ پھر اس قولی تواتر کا اثبات کس طرح ہو گا ؟ 

اسی طرح ’ مزعومہ سنتوں ‘ کا معاملہ ہے ؛ کہا جا رہا ہے وہ عملی تواتر سے ثابت ہیں لیکن یہاں بھی وہی سوال ہے کہ عملی تواتر کا اثبات کس طرح ہو گا ؟ اس دعوے کو کس بنیاد پرپرکھا جا ئے گا ؟ اس کے لیے کون سی کتاب یا مرجع و ما خذہے جس میں اس کے دلائل درج ہوں؟ ظاہر بات ہے کہ کتب حدیث کے علاوہ اس کا کوئی مرجع یا ماخذ نہیں ہے اور جب ایسا ہے تو دین صرف غامدی صاحب کی مزعومہ سنتیں نہیں ہیں بلکہ کتب حدیث میں درج تمام صحیح حدیثیں اور ان سے مستنبط احکام دین ہیں اور یہ تمام سنتیں اور حدیثیں الحمد للہ متواتر ہیں کیوں کہ یہ عہدبہ عہد ، نسل در نسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر با سند سلسلہ وار مد ونین کتب حدیث تک تواتر سے منتقل ہو تی آئی ہیں اور ان مدونین کتب سے لے کر آج تک کے علما کے پاس و ہ سلسلہ سند محفوظ ہے جس میں امام بخاری ، امام مسلم اور دیگر محدثین تک یہ سلسلہ پہنچتا ہے۔اس لیے ہمارا دین اسلام جو قرآن و حدیث پر مشتمل ہے ، مکمل محفوظ بھی ہے اور متواتر بھی جسے کتب حدیث میں دیکھا جا سکتا ہے جب کہ دین غامدی ، صرف غامدی صاحب کے ذہن میں ہے جس کا وہ کو ئی تحریری ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔ کتب حدیث کا حوالہ پیش کر نے کے وہ قطعاً مجاز نہیں ہیں ، اس لیے کہ وہ ہمارے دین کا ماخذ ہیں ؛ ہمارے پیغمبر کے اقوال، افعال اور تقریر ات کا وہ مجموعہ ہیں؛ ان میں درج تمام صحیح احادیث دین ہیں؛ اس لیے کہ وہ قرآن ہی کا بیان اور ان کی تشریح وتوضیح ہے۔ 

غامدی دین احادیث مصطفی نہیں ہے ؛ دین ابراہیمی کی روایات ہیں جن کاکوئی ماخذ و مصدر نہیں یا قرآن کی وہ من مانی تا ویل ہے جو سراسر تحریف معنوی پر مشتمل ہے۔ ان کا دین صحابہ کرام اور امت کا قرآن نہیں ہے ؛ یہ قرآن ہمارا ہے جس کے اجمالی کے تفصیل اور عموم کی تخصیص ہمارے پیغمبر نے کی ہے ؛ دین غامدی اس قرآن میں یہ حق پیغمبر اسلام کو نہیں دیتا ؛ اس لیے اس قرآن سے اور اس کے اس پیغمبر سے اس کا تعلق نہیں ہے ، گو وہ اس قرآن کو ماننے کا کتنی بھی بلند آہہنگی سے اقرار کر ے ؛ وہ اسی طرح مردودہے جیسے مرزائیوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ماننے کادعویٰ مردود ہے؛ اس مردو یت کی دلیل ان دونوں کا رویہ اور طرز عمل ہے ، نہ کہ ان کا دعویٰ کیوں کہ دعوے اور طرز عمل میں فرق ہے ؛ دونوں میں مطابقت اور موافقت نہیں، اس لیے فیصلہ طرز عمل اور رویے پر ہو گا نہ کہ صرف دعوے پر۔

جن لوگو ں میں منافقت ہو تی ہے یا جراَت کا فقد ان ہو تا ، وہ زبان سے جو کہتے ہیں وہ ان کے دل میں نہیں ہو تا اور جو دل میں ہو تا ہے ، اس کا اظہار وہ بہ و جو ہ زبان سے نہیں کر تے تا ہم ان کا رویہ ان کے دلوں کی کیفیت کی غمازی کرتاہے۔ یہ دعواے غیب دانی نہیں ہے ، نہ اس کے لیے علم نجوم میں کسی مہارت کی ضرورت ہے ؛ ایسے لوگوں کے رویوں سے ان کے نہاں خانہ دل کی کثا فتیں چھن چھن کر باہر آرہی ہو تی ہیں جو ان کے مخفی عزائم کو آشکار اور اہل دانش و بینش پر ان کی اصل حقیقت کو واضح کر دیتی ہیں : ع

بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش 
من اندازِ قدت را می شناسم 

حدیث کی حجیت کا واشگاف الفاظ میں انکار

اپنی مز عومہ سنتوں کے بیان کے بعد غامدی صاحب و اشگاف الفاظ میں لگی لپٹی رکھے بغیر فرماتے ہیں :

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنھیں با لعموم حدیث کہا جاتا ہے ، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظریہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے ، وہ کبھی درجہ یقین کو نہیں پہنچتا ؛اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا ؛ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں ، وہ درحقیقت قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اسی پر عمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کا بیان ہے۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے ؛ چناں چہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (میزان،ص15)

اس میں موصوف نے ایک تویہ کہا ہے کہ حدیث سے حاصل ہو نے والا علم کبھی درجہ یقین کو نہیں پہنچتا ؛ اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہو تا۔

اس رائے میں موصوف کو غالباًبعض فقہا کی اس رائے سے سہارا ملا ہے کہ حدیث سے ملنے والے علم سے علم ظنی حاصل ہو تا ہے لیکن ائمہ سلف اور محدثین نے جن کی بابت غامدی صاحب نے کہا ہے کہ میرا موقف بالکل وہی ہے جو ائمہ سلف کا ہے ، کبھی ایسا نہیں کہا اور بعض فقہا نے جو کہا ہے ، اس کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ حدیث موجب عمل نہیں ہے؛ علم ظنی کے باوجود حدیث ان کے نزدیک واجب العمل ہے۔(ملاحظہ ہو:اصول بزدوی 690۔91/2 )یہ آج تک کسی نے نہیں کہا کہ حدیث سے کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہو تا۔

دوسری بات موصوف نے یہ فرمائی ہے کہ دین سے متعلق جو چیز یں حدیثوں میں آتی ہیں ، وہ ’’قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اسی پر عمل کے لیے اسوہ حسنہ کا بیان ہے۔ ‘‘

اس میں ایک تو احادیث کی دو قسمیں بنا دی گئی ہیں : ایک وہ جو دین سے متعلق ہیں اور دوسری وہ جو دین سے متعلق نہیں ہیں ؛ اس دوسری قسم میں وہ داڑھی ، عورت کا ننگے سر نہ رہنا وغیرہ کو عرب معاشرے کا عرف وعادت قرار دے کر دین سے خارج قرار دیتے ہیں؛ یعنی غامدی گروپ کے نزدیک یہ چیزیں دین کا حصہ نہیں ہیں ، اس لیے ان پر عمل بھی ضروری نہیں ہے۔ رہیں دین سے متعلق حدیثیں تو دین ان کے نزدیک قرآن ہے ( وہ بھی ان کی سمجھ کے مطابق نہ کہ ائمہ سلف کے مفہوم کے مطابق ) اور دین ابراہیمی کی27 روایات سنت ہیں ؛ دین انھی میں محصور ہے ،ان کے علاوہ کوئی چیزدین نہیں ہے ؛ احادیث ’اسی دین ‘ کی تفہیم و تبیین یا اسوۂ حسنہ ہیں اور اس سے بھی ان کا مقصود یہ ہے کہ یہ تفہیم و تبیین اور اسوہ حسنہ ہمارے لیے قابل عمل چیز نہیں ہے؛ کوئی عمل کرے تو اچھا ہے ،ورنہ کوئی ضروری نہیں؛ وہ قرآن کا حدیث کی تفہیم و تبیین کو چھوڑ کر کوئی اور مفہوم بھی اخذ کر سکتا ہے۔ اسی طرح پیغمبر کے اسوۂ حسنہ سے مختلف دوسرا طریقہ بھی اپنا سکتا ہے جیسے انھوں نے نماز کے قعدے اور تشہد کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں صرف دوزانوہو کر بیٹھا ضروری ہے؛ درود اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہو ئی دعا ئیں ضروری نہیں؛ وہ ان کے بجائے جو چاہے پڑھ سکتا ہے۔ 

علاوہ ازیں ’دین ‘ سے مراد بھی قرآن و حدیث والا دین اسلام نہیں ہے جسے سارے مسلمان مانتے ہیں بلکہ دین غامدی ہے جو قرآن اور دین ابراہیمی کی ان27 مزعومہ سنتوں میں محصورہے جو غامدی صاحب کی نو دریافت ہیں جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دین اور حدیث کے بارے میں ائمہ سلف کا یہی عقیدہ و نظریہ ہے جس کا اظہار غامدی صاحب نے کیا ہے ؟

بہ ظاہر قرآن کی’ عظمت ‘ کا اظہار اور بہ با طن احادیث کا انکار 

ایک دوسرے مقام پر دیکھیے کہ غامدی صاحب نے کس زیر کی و فن کاری سے احادیث کوکنڈم کیا ہے کہ لوگ ان کی عظمت قرآن کے راگ میں کھو جا ئیں اور احادیث کو تبیین قرآنی سے خارج کرنے کی زہر نا کی کو سمجھ ہی نہ سکیں ؛ ملا حظہ ہو یہ سادگی و پر کاری !

’’قرآن سے باہر کو ئی وحیِ خفی یا جلی ، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہو ا ہے ، اس کے کسی حکم کی تحدید و تخصیص یا اس میں کوئی تر میم و تغیر نہیں کر سکتا ؛ دین میں ہر چیز کے ردّ و قبول کا فیصلہ اس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا ؛ ایمان و عقیدہ کی ہر بحث اس سے شروع ہو گی اور اسی پر ختم کردی جا ئے گی۔ ہروحی ، ہر الہام ، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اس کے تابع قرار دیا جا ئے گا اور اس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بو حنیفہ و شا فعی ، بخاری ومسلم ، اشعری و ما تر یدی اور جنید و شبلی ، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جاسکتی۔‘‘ (میزان، ص 25)

ملاحظہ فرمائیے !بہ ظاہر قرآن کی عظمت کا کیا و جد آفرین بیان ہے کہ پڑھ کر ایک مسلمان جھوم جھوم اٹھتا ہے لیکن اس قند میں چھپی سمّیت (زہر ناکی ) دیکھیے کہ اس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس منصب رسالت پر نقب زنی ہے جس کی رْو سیرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بہت سے عموم میں تخصیص کی ہے جس کی مثالیں ہم مضمون کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں اور جن کو تمام صحابہ وتابعین سمیت پوری امت کے ائمہ علام ، محدثین عظام اور فقہاء کرام نے تسلیم کیا ہے اور وہ تخصیصات چودہ سو سال سے مسلم چلی آرہی ہیں ؛ موصوف نے ان سب پر نفی کا تیشا چلا دیا ہے اور ان کو بہ یک بینی و دوگوش دین سے خارج کر دیا ہے۔ دوسرے ، ستم بالاے ستم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تبیین قرآنی کو ’ترمیم و تغیر ‘ قراردے رہے ہیں تاکہ یہ جر عہ تلخ ہرمسلمان گو ارا کر لے کہ ہا ں واقعی قرآن میں تر میم و تغیر کا حق تو کسی کو نہیں ہے۔ لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ پیغمبر کی یہ قرآنی تبیین کیا یہ قرآن میں تغیر و ترمیم ہے ؟ یہ مو صوف کی سرا سر تلبیس کاری و فن کاری ہے ؛ پیغمبر اسلام کی تبیین قرآنی یا بہ الفاظ دیگر قرآنی عموم کی تخصیص، قرآن میں تغیر و تبدل یا ترمیم و تنسیخ نہیں ہے بلکہ یہ آپ کا وہ منصب ہے جو اللہ نے آپ کو دیا اور آپ نے اس کے مطابق یہ تخصیصات کیں؛ ان کو قرآن میں ’ترمیم و تغیر‘ کہنا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا اور سراسر فریب ہے : ع دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ۔

علاوہ ازیں اس اقتباس میں و حیِ خفی کا بھی انکار ہے جس کی روشنی ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے اجمالات کی تفصیل اور عمو مات کی تخصیص کی ہے ؛ورنہ اس کے بغیر تو قرآن ایک چیستاں ، ناقابل عمل اور لا ینحل معما بنا رہتا۔ نماز ، زکا ت ، حج و عمرہ وغیرہ بیسیوں احکام ہیں جن کا حکم قرآن میں ہے ؛ ان کی جو تفصیل اور شکل و ہیئت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور جن پر چودہ سو سال سے امت عمل پیرا ہے ، اس کی بنیاد وحیِ جلی ( قرا?ن ) کے علاوہ اس وحیِ خفی ہی پر ہے ؛ اگر اس وحیِ خفی کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو آپ کی شرح و تفصیل کی بنیاد کیا ہے ؟ اور یہ شرح و تفصیل اگر نہ ہو تو قرآنی احکامات پر کس طرح عمل کیا جا ئے ؟

اگر کہا جا ئے کہ امت کا تو اتر عملی قرآن پر عمل کے لیے کا فی ہے ، پیغمبر کی شرح و تفصیل کی ضرورت نہیں تو اس سے زیادہ غیر معقول کو ئی بات نہیں؛ آخر تو اتر کی بنیاد کیا ہو گی ؟ اولین دور کے مسلمانوں کا عمل ہی بنیاد ہوگی اور اولین دور کے مسلمانوں نے کیا یہ اعمال خود قرآن سے سمجھ کر سر انجام دیے تھے یا کسی سمجھانے والے کے کہنے کے مطابق انجام دیے تھے ؟ یہ سمجھانے والا پیغمبر ہی تھا ؛ اس نے وحیِ خفی کی روشنی میں وحیِ جلی ( قرآن ) کی تفصیلات بیان کیں اور صدر اول کے مسلمانوں نے اس کے مطابق یہ کام کیے اور یوں نسلاً بعد نسلِِ یہ کام ہوتے چلے آرہے ہیں؛ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرامین کو جو قرآن کی تفصیلا ت پر مبنی تھے اور جن کو احادیث کہا جا تا ہے ، مد وّ ن کر کے محفوظ بھی کر لیا گیا تاکہ مرورِ ایام اور لیل و نہار کی گردشوں سے اصل ریکارڈ دیکھ کر مصلحین امت اصلاح کا کام کرتے رہیں ؛اسی کو ایک حدیث میں تجدید دین سے تعبیر کیا گیا ہے :

اِنَّ اللہَ یَبعَثُ لِھٰذِہِ الامۃ عَلیٰ رَاسِ کل مایۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا
’’ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے شروع میں اس امت کے لیے ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اس کے دین کی تجدید کریں گے۔‘‘ ( سنن ابو داود، رقم238؛ ا لصحیحہ للالبانی،رقم599)

یہ امت مسلمہ کا خاص شرف و امتیاز ہے کہ محد ثین کی بے مثال کاوشوں سے اس کا و ہ دین قیامت تک کے لیے محفوظ ہو گیا ہے جو احادیث کی شکل میں اور قرآن کی تشریح و توضیح پر مشتمل ہے،ورنہ پچھلے انبیا کی تعلیمات یا تو دست بردزمانہ کی نذر ہو گئیں یا پھر تحریف اور رد و بدل کا شکار؛ لیکن آخری پیغمبر کی تعلیمات بھی محفوظ ہیں اور اس پر نازل کردہ قرآن کریم بھی۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اس محفوظ ذخیرۂ حدیث کی بابت یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اول تو اس کی محفوظیت کا دعویٰ ہی مشکوک ہے اور اگر ان میں کچھ حصہ محفوظ بھی ہے تو وہ دفتر بے معنی ہے کیو ں کہ اس سے کسی عقیدہ یا ایمانیات و عمل کا اضافہ نہیں ہو تا :تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو۔ 

ایسے ہی ’مفکرین ‘کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا ہے: ع

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ 
ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے 

بہ لطائف الحیل حدیث کا انکار

اس سے اگلا پیرا ملاحظہ فرمائیں ؛ اس میں بھی بہ لطائف الحیل احادیث کا انکار ہے :

’’اس (قرآن ) کے الفاظ کی دلالت اس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے؛ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے ،پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے قاصر نہیں رہتا۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں ؛وہ نہ ان سے مختلف ہے ،نہ متباین ؛اس کے شہرستان معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اس کے الفاظ ہیں؛وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں؛اس میں کسی ریب و گمان کے لیے ہر گز کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔‘‘ (میزان، ص 25) 

اس ساری دراز نفسی اور الفاظ کی مینا کاری کا مقصدبھی حدیث رسول سے قرآن کے عموم کی تخصیص کا حق سلب کرنا ہے کیوں کہ اس گروہ کے نزدیک نبی کا حکم رجم کا حکم قرآن کے الفاظ سے مختلف ہے؛رجم کے مفہوم کو قرآن کے الفاظ قبول نہیں کرتے لہٰذا رجم کی سزا بہ طور حد قرآن کے خلاف ہے۔اگر موصوف یہ بات سیدھے سادے الفاظ میں کہتے تو اس کی پذیرائی نہ ہوتی ،اس لیے موصوف نے ایک ماہر فن کار کی طرح نہایت چابک دستی سے حد رجم کے انکار کے لیے الفاظ کے طوطا مینااس طرح اڑائے ہیں کہ ایک عام آدمی عبارت آرائی کے حسن اور الفاظ کی جادو گری سے مسحور ہو جائیاور اس کے پس پردہ شعبدہ بازی تک اس کی رسائی ہی نہ ہو سکے، لیکن تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔

الحمدللہ ہم نے اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے دونوں پیروں میں انکار حدیث کا جو جرثومہ چھپا ہواتھا،دریافت کرلیا۔ واقعہ یہ ہے کہ دونوں پیرے بہ ظاہر قرآن کی عظمت کے مظہر ہیں لیکن درحقیقت ان میں حامل قرآن کے اس منصب رسالت کاانکار ہے جو اللہ نے تبیین قرآنی کا آپ کو عطا فرمایا ہے جس کی رو سے قرآن میں بیان کردہ ۱۰۰ کوڑوں کی حد زنا کو آپ نے کنواروں کے لیے مخصوص کردیا اور شادی شدہ زانیوں کے لیے حد رجم کا حکماً بھی اثبات فرمایا اور عملاً اس کو نافذ بھی فرمایا۔اسی طرح دیگر کئی عمومات میں آپ نے تخصیص فرمائی اور پوری امت نے آپ کے اس منصب قرآنی کے تحت آپ کی تمام تخصیصات کو قبول کیا ؛انھیں نہ قرآن کے خلاف سمجھااور نہ قرآن سے تجاوز؛بھلا ایک پیغمبر کلام الٰہی میں اس طرح کا تصرف کس طرح کر سکتا ہے جو کلام الٰہی کے منشا کے خلاف یاالفاظ قرآنی کی دلالت کے منافی ہو؟

(جاری)

آراء و افکار

Flag Counter