معاصر تناظر میں غلبہ دین کے لیے عسکری جدوجہد / معاصر جہاد ۔ چند استفسارات

محمد عمار خان ناصر

معاصر تناظر میں غلبہ دین کے لیے عسکری جدوجہد 

(بلال اسلامک سنٹر، جھوک نواز (ضلع وہاڑی) میں ایک فکری نشست میں کی جانے والی گفتگو، مناسب ترمیم و اضافہ کے ساتھ۔)

آج کی گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ معاشرت یا ریاست کی سطح پر جو تبدیلی اس وقت اہل دین، اہل مذہب لانا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں اب تک اختیار کی گئی ہیں، ان کا ایک جائزہ لیا جائے۔ ان میں جو کچھ کمی کوتاہی، نقص یا نتائج کے لحاظ سے جو عدم تاثیر دکھائی دیتی ہے، اس کے اسباب پر غور کیا جائے۔ یہاں جو گفتگوئیں ہوئیں، خاص طورپر محترم اللہ داد نظامی صاحب نے جو کچھ کہا، تھوڑا تھوڑا ان کا حوالہ دے کر میں اپنی گفتگو کا ایک تناظر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر بہت ہی اختصار کے ساتھ جو ڈسکشن ہوئی، اس میں جو تھوڑا بہت میں اضافہ کر سکتا ہوں، وہ کرنے کی کوشش کروں گا۔

ایک بات جس کی طرف توجہ دلانا مناسب معلوم ہوتا ہے، یہ ہے کہ جن حالات کا ہمیں سامنا ہے اور اس میں جو تبدیلیاں ہم لانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو یہ جو بہت جزوی نوعیت کے یا وقتی نوعیت کے بعض واقعات ہیں، ان کے ساتھ مربوط کر کے اور ان کے تناظر میں دیکھنے کی شاید اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی کہ ایک بڑی سطح پر بڑی تصویر بنا کر اور اس میں اپنی صورت حال کو ایک جگہ پر رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ غور وفکر کو مہمیز کرنے کے لیے تو وقتی حالات میں سے کوئی بھی چیز داعیہ پیدا کر سکتی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اگر آپ بڑی تصویر سامنے رکھیں جس سے امت کو بحیثیت امت اس وقت سابقہ ہے، جس صورت حال کا سامنا ہے تو اس میں اس طرح کے واقعات بہت چھوٹے چھوٹے ا ور جزوی لگتے ہیں۔ اس بڑے منظر کو اور اس بڑے تناظر کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے اور اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بھائی زاہد صدیق مغل صاحب نے اپنی گفتگو میں درست رخ پر بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔

گفتگو کے جو مختلف dimensions ہیں، ان کو مکمل کرنے کے لیے یہ بات شامل کر دوں کہ تبدیلی کی جدوجہد کے دو تین مختلف ماڈلز ہیں جن کا مغل صاحب نے ذکر کیا۔ جمہوریت کے ذریعے سے جدوجہد کا تصور ہے، احتجاجی اور مظاہراتی طریقہ ہے اور عسکری جدوجہد کا طریقہ ہے۔ یہ تین تو وہ ہیں جو اس وقت پبلک ڈسکورس میں کافی آ چکے ہیں۔ اس سے ملتا جلتا ایک تصور اور بھی ہے جو ابھی اس طرح سے شاید عمومی بحث ومباحثہ کا موضوع نہیں بنا، لیکن وہ بھی ایک تصور ہے اور اگر ہم غور کر رہے ہیں ان مختلف طریقوں پر تو اس پر بھی غور ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں حزب التحریر اس تصور کو پیش کرتی ہے اور وہ تصور یہ ہے کہ بہرحال تبدیلی کے لیے آپ کے پاس طاقت ہونی چاہیے۔ طاقت کے بغیر آپ کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور چونکہ ہمارے نظام میں، پاکستان کے تناظر میں عملی طاقت اور اصل طاقت فوج ہے تو فوج کو ہم اپنی نظریاتی تعلیم وتبلیغ کا موضوع بنائیں، فوج کی قیادت میں نظری تبدیلی پیدا کریں اور فوج کو اس پر آمادہ کریں کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کرے اور پھر نظام کو، ریاست کو ، معاشرت کو ہماری دی ہوئی راہ نمائی کے مطابق استوار کر دے۔

برادرم زاہد صدیق صاحب نے جو دو تین باتیں کہیں، اس کے لیے میں ان کا شکر گذار ہوں کہ جو باتیں میں عرض کرنا چاہ رہا تھا، وہ انھوں نے بڑی تفصیل سے او ربڑ ے منقح طریقے سے بیان کر دیں۔ یہ بات بھی انھوں نے درست فرمائی ، اس سے مجھے کامل اتفاق ہے کہ جو اس وقت ہم جدوجہد کر رہے ہیں، جتنے بھی مختلف طریقے ہیں، جن میں یہ آخری بھی شامل ہے، ان میں ایک خلا پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ بنیادی طور پر اس وقت دنیا میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ ایک نئی عالمی تہذیب کا ظہور ہے جس نے اپنی لپیٹ میں ہر چیز کو لے لیا ہے۔ یہ مختلف نظام تو سارے اصل میں اس کی manifestations ہیں۔ دنیا میں ایک بڑی تبدیلی جو آئی ہے تہذیب کی سطح پر، اصل میں اس کی ماہیت اور اس کی نوعیت کو اور جس سطح پر اس نے چیلنج کھڑا کیا ہے، اس کا ادراک کرنے میں اب تک ہم نے کافی سادگی سے کام لیا ہے۔ خلوص کے باوجود، دیانت کے باوجود شاید پوری طرح اس کو اپنی گرفت میں نہیں لا پا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم غور کر رہے ہیں، سارے معاملے کو rethink کر رہے ہیں اور نئی حکمت عملی کے لیے بات کر رہے ہیں تو اس پہلو کو ہمیں ملحو ظ رکھنا ہے کہ پہلے ہمیں اس تہذیب کو اور اس کے بنائے ہوئے نظاموں کو، اس کی دی ہوئی قدروں کو اور وہ فکر کے، معاشرت کے، اخلاقیات کے جو بھی سانچے دیتا ہے، ان کی صحیح ماہیت کو اور ان کے اندر جو تاثیر کی قوت ہے، اس کے منبع وماخذ کو صحیح طریقے سے دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دوسری بات انھوں نے یہ کہی اور وہ بھی میرے نقطہ نظر سے بالکل درست ہے اور صحیح ہے کہ طریقہ جدوجہد کوئی منصوص چیز نہیں ہے او رمتعین نہیں ہے۔ طریقہ جدوجہد کا تعلق انسان کو درپیش حالات سے اور اس کے ارد گرد جو مواقع میسر ہیں، ان سے اور آپ کے پاس جو صلاحیت اور استعداد کار ہے، ان دونوں تینوں چیزوں سے ہے۔ اس لیے تاریخ میں یا سیرت میں جو ہمیں ایک خاص نقشہ ملتا ہے، اس سے اخذ کر کے کسی ایک طریقے کو مطلوب یا منصوص یا متعین یا مسنون قرار دینا اور یہ کہنا کہ اسی کو اختیار کرنا ہمارے لیے شرعاً مطلوب ہے یا کسی نتیجے کے لحاظ سے وہ زیادہ موثر ہے تو اس پر بھی دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے میں یہ نکتہ یہاں سامنے لانا چاہوں گا کہ حکمت عملی سے بھی بڑھ کر یہ سوال کہ کسی مخصوص صورت حال میں اہل ایمان کی ذمہ داری کیا ہے اور انھوں نے اپنی جدوجہد کا ہدف کیا طے کرنا ہے؟ یہ بھی متعین او رمنصوص نہیں ہے۔ ہدف کیا ہے، ذمہ داری کیا ہے اور اس کے لیے حکمت عملی ہمیں کیا وضع کرنی ہے، اس کے لیے ہمیں اپنے راہ نمائی کے جو مآخذ ہیں، ان کے دائرے کو وسیع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ انبیاء کی جو پوری تاریخ ہے، اس کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ یہ شریعت کا مسئلہ نہیں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ناسخ قرار دے کر باقی تمام جو ماڈل ہیں، ان کی نفی کر دیں۔ یہ حکمت عملی کا مسئلہ ہے۔ شریعت مکمل ہے، شریعت مکمل کر دی گئی ہے، لیکن کسی خاص ماحول میں دین آپ پر دین کی جدوجہد کے حوالے سے ذمہ داری کیا عائد کرتا ہے، آپ مکلف کس بات کے ہیں، آپ نے اپنے لیے ہدف کیا متعین کرنا ہے اور اس کے لیے حکمت عملی کیا اختیار کرنی ہے، اس کے لیے انبیاء کی پوری تاریخی روایت کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا پڑے گا اور اس سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے یا آپ کے اختیار کردہ طریق جدوجہد سے کوئی متعین نمونہ اخذ کرنے میں کچھ تو وہ مسائل ہیں جن کا مغل صاحب نے ذکر کیا۔ وہ بالکل اپنی جگہ درست ہیں، خاص طو رپر یہ جو تصور ہے کہ اس خاص طریقے کو اختیار کرنے پر لازماً کامیابی مل جائے گی، میرے خیال میں اس پہلو سے بطور خاص غور کرنے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کامیابی ملی، نصرت ملی اور جو ایک ذمہ داری آپ کو سونپی گئی تھی، وہ عملاً پایہ تکمیل کو آپ نے پہنچا دی، اس سے اپنے لیے کچھ چیزیں اخذ کرنے کا رجحان بالکل نیا ہے۔ سلف اس معاملے کو اور خاص طو رپر وعدہ نصرت کو اور اس کی تکمیل کو اس طرح سے نہیں دیکھتے۔ سلف اس میں ایک بہت بڑا element تکوینیات کا بھی داخل کرتے ہیں۔ میں نے اس کے کافی شواہد اپنی کتاب میں جمع کر دیے ہیں۔ مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں جس مقام پر یہ بحث اٹھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف اوقات میں نبی کیوں بھیجتے ہیں، رسول کیوں بھیجتے ہی اور اس کے پیچھے جو تکوینی مصالح ہوتے ہیں، وہ کیا ہوتے ہیں؟ وہاں پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ انبیاء دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ان کی دو تین اقسام ہیں اور کسی نبی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نظام عالم میں کیا تبدیلی برپا کرنا چاہتے ہیں، ا س کا تعین تکوینی مصالح اور اسباب کے تحت کیا جاتا ہے اور پھر اس کے لیے نبی کی بعثت کا وقت بھی وہی منتخب کیا جاتا ہے جب اس تبدیلی کے لیے دیگر اسباب وعوامل جمع ہو چکے ہوں اور اس میں آ کر ایک فائنل اور حتمی کردار وہ نبی ادا کرتا ہے۔ اس میں انھوں نے حضرت موسیٰ کی مثال دی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مثال دی ہے۔ یہ دو بڑے پیغمبر، ان کی بعثت کا وہ وقت اللہ نے منتخب کیا جب وہ اپنی تکوینی حکمتوں اور مصالح کے تحت دنیا کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی لانا چاہتا تھا اور اس کے لیے وہ باقی عوامل اور اسباب تاریخ کے عمل میں ا س جگہ پہنچ چکے تھے جب اس تبدیلی کو برپا کرنا اور اس کے لیے خدا کے فیصلے کو تاریخ کے عمل میں موثر کرنے کا وقت آ چکا تھا۔ اس موقع پر سیدنا موسیٰ کی بعثت ہوئی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب بعثت ہوئی تو اس وقت بھی نظام عالم میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے جو انبیاء مبعوث ہوتے ہیں، ان کے ساتھ خدا کا وعدہ ہوتا ہے نصرت کا اور غلبہ کا۔ ان کے علاوہ باقی انبیاء کے لیے بھی یہ وعدہ نہیں ہوتا۔ 

مثلاً آپ دیکھیں، بہت سے انبیاء ہیں جو آئے اور دعوت دے کر چلے گئے۔ کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوا۔ بہت سے ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنی جانیں گنوا دیں اور کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوا۔ قیامت کے دن بہت سے انبیاء اپنے پیروکاروں کی بڑی بڑی صفیں لے کر آئیں گے۔ کچھ ایک دو افراد لے کر آئیں گے اور کچھ اکیلے بھی آئیں گے۔ اس لیے شریعت کے دائرے میں یقیناًآخری ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت ہے، لیکن کسی خاص صورت حال میں دین کی جدوجہد کے ضمن میں آپ پر ذمہ دار ی کیا عائد ہوتی ہے اور اس کے لیے آپ نے حکمت عملی کیا وضع کرنی ہے تو یہ میرے خیال میں شریعت کی بحث نہیں ہے۔ اس میں اگر ہم راہ نمائی لینا چاہتے ہیں تو انبیاء کے پورے اسوے کو دیکھنا چاہیے۔ اس میں ہمیں کہیں حضرت یوسف علیہ السلام کا اسوہ دیکھنا پڑے گا، کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دیکھنا پڑے گا، کہیں حضرت مسیح علیہ السلام کے اسوے سے فائدہ اٹھانا پڑے گا اور کہیں حالات اگر اس طر ح کے ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے سے بھی فائدہ اٹھانا پڑے گا۔

یہ تو ایک اصولی بات تھی جدوجہد کے ان پیراڈائمز کے حوالے سے سے جو عموماً ہمارے موجود ہیں۔ میری گفتگو کا جو خاص ارتکاز ہے، وہ عسکری جدوجہد کے طریقے پر ہے، یعنی یہ کہ اس وقت موجودہ صورت حال میں امت مسلمہ کے اندر اس نظام کی بحالی کے لیے یا عالمی سطح پر اس کے اس کردار کو زندہ کرنے کے لیے جہاد کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور یہ زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ اس تصور کے ساتھ بھی کچھ اس طرح کی oversimplifications وابستہ ہیں جس طرح کہ باقی دوسری کوششوں کے ساتھ ہیں۔ اس مفروضے میں یا اس نقطہ نظر میں ایک بات عام طور پر کہہ دی جاتی ہے اور بڑی سادگی سے کہہ دی جاتی ہے کہ امت کا زوال اصل میں اس لیے ہوا ہے کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے امت کے اس وقار اور عروج کو بحال کرنے کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ ہم دوبارہ جہاد شروع کر دیں۔ جہاد شروع کرنا ہی اصل میں اس نتیجے تک لے جائے گا اور اس منزل سے ہم کنار کر دے گا جو کہ جہاد ترک کرنے کی وجہ سے کھوٹی ہو گئی ہے۔ یہ بیان بھی اسی طرح سے بہت زیادہ چیزوں کو اوور سمپلی فائی کرنے کا نتیجہ ہے اور اس میں خاص طو رپر یہ پہلو جس کا ابھی میں نے ذکر کیا، نظر انداز کیا گیا ہے کہ دنیا میں قوموں کو یا امتوں کو جب غلبہ ملتا ہے یا ان کو عروج دیا جاتا ہے یا اس کے برعکس زوال کو ان کا مقدر بنایا جاتا ہے تو یہ محض انسانی تدبیر کے اور انسانی منصوبہ بندی کے معاملات نہیں ہوتے۔ بنیادی طو رپر یہ تکوینی سطح پر کچھ فیصلے ہوتے ہیں اور تکوینی پیراڈائم کے اندر انسانی جدوجہد اور انسانی کوششوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ 

چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنے اصولوں کے تحت دنیا میں عروج بخشنا چاہتا ہے اور اس وقت وہ ان پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ تمھیں اس مقصد کے لیے قوت وطاقت کو استعمال کرنا ہے اور جان ومال کی قربانی پیش کرنی ہے اور اس پر میری طرف سے نصرت کا وعدہ ہے جو تمھیں ملے گی تو یہ وعدہ اصلاً اس صورت حال کے تناظر میں ہے جب کسی قوم پر مجموعی حیثیت میں ایک ذمہ داری عائد کی گئی اور یہ کہا گیا کہ آپ کی قومی تقدیر جہاد کے اس راستے سے وابستہ اور اس کے ساتھ مشروط ہے جو آپ کو غلبے کے لیے اور جدوجہد کے لیے اور کامیابی کے لیے بتایا گیا ہے۔ اس چیز کو آپ اس پورے تناظر سے الگ کر کے اس صورت حال میں سادگی کے ساتھ منطبق نہیں کر سکتے جب وقت گزرنے کے ساتھ اور حالات کے بدلنے کے ساتھ تکوینی سطح پر کچھ اور فیصلے ہو چکے ہیں اور اس امت کے بارے میں تکوینی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے اپنے اجتماعی کردار کی پاداش میں، اپنی بد اعمالیوں کے نتیجے میں اور اس میثاق اور اس وعدے سے انحراف کے نتیجے میں جس کے ساتھ اس کا غلبہ مشروط تھا، اب اس کو روبہ زوال کرنا ہے اور اس کو اس کے اعمال کی سزدینی ہے۔ اب یہ بات بہت سادہ ہوگی کہ جو باقی تمام چیزیں ہیں، زوال کے جتنے باقی اسباب ہیں، ہماری اخلاقی صورت حال ہے، ہمارے اندر جس طرح کا انتشار کا معاملہ ہے، ہمارے اندر دین کے حوالے سے اللہ کو جو ایک بنیادی مطلوب ہے، اس کا فقدان ہے، یہ سارے کے سارے اسباب اپنی جگہ ہوں او رہم ایک سادہ سا حل یہ سوچیں کہ ہم بس جہاد شروع کر دیں اور اس پر وہی نتیجہ مرتب ہو جائے گا جو چودہ سو سال پہلے صحابہ کرام کی جدوجہد پر مرتب ہوا تھا۔تو اس نقطہ نظر پر میری ایک طالب علمانہ تنقید یہ ہے۔

اگر ہم غور کریں تو قرآن مجید اس حوالے سے بھی ہماری راہ نمائی دیتا ہے۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے یہ ہدایت دی کہ فلسطین کی سرزمین اللہ نے تمھارے لیے مقدر کر دی ہے، تمھارے حصے میں لکھ دی ہے۔ تم آگے بڑھو اور قبضہ کرو۔ ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم۔ اللہ نے تمھارے حق میں لکھ دی ہے اور فرض کر دیا ہے کہ اس پر حملہ کر کے اس کو اپنے تصرف میں لے آؤ۔ قوم اس وقت تھوڑی بزدلی دکھاتی ہے۔ ان میں سے صرف دو افراد ایسے نکلتے ہیں جو دشمن سے مرعوب نہیں ہوتے۔ باقی قوم پیغمبر سے کہتی ہے کہ ہم نہیں جا سکتے۔ آپ اپنے خدا کے ساتھ جائیں اور لڑیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتے ہیں اور ناراض ہونے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب یہ غلبہ یا یہ فتح چالیس سال تک کے لیے موخر کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد تورات میں اس کی تفصیل ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ اب چالیس سال سے پہلے یہ حملے کی حماقت نہ کریں۔ کرنے کی کوشش کریں گے تو میری طرف سے نہ صرف یہ کہ مدد کا کوئی وعدہ نہیں ہے، بلکہ الٹا مار پڑے گی اور اس کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے۔ اس کے باوجود بنی اسرائیل جوش میں آ کر فلسطین کو فتح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔

اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے نصرت وفتح کے وعدوں کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے تکوینیات کا اور کسی گروہ کی اخلاقی اور روحانی اور ایمانی صورت حال کا۔ اب دیکھیں، جہاد فرض ہے، حکم مل چکا ہے، لیکن خدا کہہ رہا ہے کہ اب چالیس سال تک میں نصرت نہیں کروں گا اور اگر اس سے پہلے فتح حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو اپنا نقصان کرو گے۔ تو یہ بات بڑی اہم ہے جو اس حوالے سے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دو تین چیزیں اس ضمن میں اور بھی ہیں۔ جب ہم احیائے اسلام کی اور احیائے امت کی بات کرتے ہیں تو تاریخ میں ہمیں بڑے اسباق ملتے ہیں۔ اسلام کا غلبہ دنیا میں دوبارہ ہونا چاہیے اور ہوگا۔ لیکن کیا اس کی صورت بس یہی ہے کہ جو امت پہلے اس دین کی اور اس مذہب کی حامل تھی اور جو اپنے کردار کی وجہ سے زوال اور پستی کی مستحق ہو گئی ہے، کیا غلبے کی ایک ہی شکل ہے کہ یہی قوم دوبارہ اٹھے اور اس کو اقتدار اور قوت ملے اور یہ دنیا کی باقی قوموں پر دوبارہ غالب آ جائے؟ تاریخ کے مطالعہ سے عام طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ جب ایک قوم اپنا منصب چھوڑتی ہے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوسری قوموں کو اٹھاتا ہے اور ان کے ذریعے سے اپنا مقصد پورا کراتا ہے۔ یستبدل قوما غیرکم۔

تاریخ میں ہمیں اس کی بڑی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ پچھلے مذاہب کی تاریخ میں بھی ملتی ہیں اور اسلام کی تاریخ میں بھی ملتی ہیں۔ آپ دیکھیے، بنی اسرائیل کا جب خاتمہ ہوا ہے او رمسیحی مذہب ان کی جگہ پر آیا اور دنیا میں پھیلا ہے تو رومی سلطنت میں ابتدائی تین صدیوں تک ان پر ظلم وجبر اور تشدد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد کہیں جا کر مسیحیت کو طاقت اور اقتدار نصیب ہوتے ہیں، لیکن اس کی صورت یہ نہیں تھی کہ مسیحی بطور ایک سیاسی گروہ کے اپنے دشمنوں یعنی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس کے بجائے ہوتا یہ ہے کہ ان کا مذہب، ان کی تعلیم اس غالب طاقت کومسخر کر لیتی ہے اور رومی سلطنت مسیحی مذہب اختیار کر لیتی ہے۔ یعنی مسیحیوں کو غلبہ نہیں ملتا، بلکہ جو غالب تھے، ان کو مسیحیت کا مذہب قبول کرنے کی توفیق مل جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا میں مسیحیت ایک غالب مذہب اور ایک سیاسی قوت کے طو رپر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ 

یہی حال یورپ کی تاریخ میں ہے۔ جب مغربی رومی سلطنت کا زوال ہوا اور مختلف وحشی قومیں مثلاً ہن وغیرہ یورپ پر حملہ آور ہوئیں تو انھوں نے آ کر رومی سلطنت کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ ان قوموں کا مسیحیت سے کوئی واسطہ نہیں تھا، کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہاں بھی مسیحی بطور گروہ کے تو مغلوب ہو گئے اور ان کی سلطنت بکھر گئی، لیکن مسیحیت نے انھی قوموں کو جو وحشی اور اجڈ قومیں تھیں اور بت پرست او رمشرک قومیں تھیں، ان کو اپنے رنگ میں رنگا ہے اور پھر مسیحیت کو دوبارہ اقتدار مل گیا، لیکن اس صورت میں نہیں کہ وہ ان حملہ آور قوموں پر طاقت کے میدان میں غالب آ جائیں، بلکہ اس شکل میں کہ ایک نیا گروہ جو طاقت کے زور پر غالب آیا تھا، اس نے مسیحیت کو اختیار کر لیا۔

ہماری اسلامی تاریخ کا ایک بہت بڑا انقلاب بھی اسی تاریخی اصول کا مظہر ہے جس کے متعلق اقبال نے اپنا مشہور شعر کہا ہے:

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

تاتاری نسل جو کہ بعد میں ترکی سلطنت کی شکل میں پانچ سو سال تک مسلمانوں کی قیادت اور اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی رہی، اصل میں تو وہ مسلمان نہیں تھے۔ انھوں نے پہلے تو آکر مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، لیکن پھر خدانے انھی سے کام لے لیا اور وہ عالم اسلام کا بازوئے شمشیر زن بن گئے۔

تو یہ جب ہم حکمت عملی کی بات کریں اور ماڈل بنائیں تو تاریخ میں ہمیں جو نمونے ملتے ہیں، ان کو بھی ذرا وسعت سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ غلبہ اسلام اور احیائے اسلام دوبارہ ہوگا اور ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہم دوبارہ یہ امیدیں وابستہ کریں کہ وہ غالب گروہ دوبارہ ہم ہی ہوں گے جو ہر لحاظ سے زوال کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے، اس کے لیے اللہ ان قوموں کو ہدایت دے دے، ان کو توفیق دے دے جن کو تکوینی سطح پر اس دنیا کی قیادت سونپی گئی ہے اور بائبل کی تعبیر کے مطابق اس وقت ’’دنیا کے پھاٹکوں کے مالک‘‘ ہیں۔ 

اس طرز جدوجہد پر دو اور سوال بھی بڑے اہم پیدا ہوتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر ہم اس وقت لڑ بھڑ کر مغرب سے فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو زیر کرنا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ شریعت اور قانون کی رو سے تو جہاد منسوخ نہیں ہوا، نہ قتال ممنوع ہوا ہے۔ بعض مفکرین یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ اب دنیا میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ شاید قتال کی ضرورت یا اس کی اہمیت یا افادیت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس سے بالکل اتفاق نہیں ہے۔ یہ دنیا فساد کے لیے بنی ہے اور اس میں قتال کی ضرورت رہے گی، لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ نے قتال کے لیے وقت کون سا منتخب کرنا ہے؟ اس میں بڑی اہم بات یہ ہے جو ہمیں تہذیبوں کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی تہذیب یا کوئی طاقت دنیا میں اپنے دور عروج میں ہوتی ہے تو عام طور پر اس حالت میں اس سے لڑ کر اور اس سے ٹکرا کر اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ مسلمانوں کو بھی چیلنجز، مقابلے، لڑائیاں پہلے دن سے درپیش رہیں، لیکن اپنی تہذیب کے دور عروج میں مسلمانوں کو بطور ایک سیاسی طاقت کے دنیا سے ختم نہیں کیا جا سکا۔ مسلمان مغلوب اس وقت ہوئے ہیں جب ان کے اندر جو داخلی توانائی تھی، قوت تھی اور ان کی تہذیب کو اپنے داخل میں قائم رکھنے والی جو فورس تھی، وہ ختم ہوئی ہے۔ یہی معاملہ ہے اس سے قبل روم اور فارس کی سلطنتوں کا۔ یہ اپنی تاریخ کے اس مرحلے پر تھیں کہ اپنے اخلاقی زوال کی انتہا کو پہنچ چکی تھیں اور ان کے اندر داخلی طور پر جو ظلم وجبر اور استبداد کی صورت حال تھی، اس نے انھیں خدا کی نظر میں مبغوض اور پستی وزوال کی مستحق قومیں بنا دیا تھا۔ اسی کو شاہ ولی اللہ یوں بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو منتخب کرتے ہیں تو اس کے لیے یہ دیکھتے ہیں ہے کہ وہ باقی اسباب بھی مہیا ہو چکے ہوں، وہ صورت حال پیدا ہو چکی ہو جس میں آ کر پیغمبر کردار ادا کرے اور پہلے سے موجود طاقتوں کو دنیا سے ختم کر کے ایک نئی طاقت کو اٹھایا جائے۔ تو یہ بھی ایک دیکھنے کی چیز ہے کہ اس وقت ہم جس طاقت سے ٹکرا کر اس کو دنیا سے ختم کرنا چاہتے ہیں یا اس کی جگہ لینا چاہتے ہیں، وہ اپنی تاریخ کے کس دور میں ہے؟ اس کی تہذیبی وسیاسی اور اقتصادی طاقت کی صورت حال کیا ہے؟ اور طاقت کا توازن کتنا ہے جو بہرحال فتح وشکست کے مادی عوامل میں ایک اہم عامل ہے؟

پھر ایک بڑی اہم بات اس حوالے سے اور بھی ہے جو فتح ونصرت کے وعدے کے اخلاقی شرائط میں سے ایک ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی۔ دنیا میں غلبہ اور نصرت یہ اگر ایک پوری امت کا اور پوری قوم کا مسئلہ ہے تو فتح تبھی ملے گی، اللہ کی طرف سے نصرت تبھی ملے گی جب قوم بحیثیت مجموعی مطلوبہ کردار کی ادائیگی کے لیے تیار اور آمادہ ہو۔ بحیثیت مجموعی سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ اس کا ایک ایک فرد ان اوصاف کا حامل ہو۔ مراد یہ ہوتا ہے کہ اس میں جو کارفرما عناصر ہیں، اس کے سوچنے سمجھنے والے اور فیصلے کی صلاحیت رکھنے والے طبقات ہیں، وہ اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ قوم پر تو وہ کیفیت چھائی ہوئی ہو جو وہن کی اور حب دنیا کی کیفیت ہے اور کوئی ایک چھوٹا سا گروہ اٹھے اور وہ یہ توقع کرے کہ میرے اٹھ کھڑے ہونے سے وہ صورت حال برپا ہو جائے گی۔ بنی اسرائیل کا واقعہ اس طرف ہماری راہ نمائی کرتا ہے۔ پوری قوم میں سے اگر دو آدمی اٹھ کر ہمت کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہمت پر پوری قوم کو غلبے کا صلہ نہیں دیتا۔ اللہ کے جو تکوینی قوانین ہیں، ان کو بہت غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

میں شروع میں یہ بات واضح کرنا بھول گیا کہ اس وقت جو ہم عسکری جدوجہد کی بات کرتے ہیں تو اس کی دو سطحیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ کیا ہم دنیا میں اسلام کا غلبہ اور اسلام کا عالمی کردار بحال کرنے کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ اور ایک ذرا محدود پیمانے پر ہوتی ہے کہ کسی خاص خطے یا ملک میں ہم شریعت کا نظام نافذ کرنے کے لیے عسکریت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ دو الگ الگ سطحوں کی بحثیں ہیں، لیکن حقیقت میں دونوں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ آپ اگر جائزہ لیں تو اس وقت جہاں بھی مختلف تحریکیں کسی خطے میں شریعت کے نفاذ کے لیے یا اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، ان کی آئیڈیالوجی اور ان کے فکری محرکات پر آپ غور کریں گے تو اصل میں اس وقت عالمی سطح پر اسلام کے احیاء کا ایک جذبہ نظر آئے گا۔ گویا سطحیں بظاہر الگ الگ ہیں، لیکن پیچھے تصورات، محرکات مشترک ہیں۔ میں نے اب تک جو گفتگو کی، وہ عالمی سطح پر غلبہ اسلام کی بحالی سے متعلق تھی۔ اب میں کچھ اشارات اس دوسری سطح سے متعلق کرنا چاہوں گا۔

کسی ایک خطے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دین کے نفاذ یا غلبہ شریعت کے لیے فلاں اور فلاں طرز جدوجہد کامیاب نہیں ہوئی اور اس طرز جدوجہد سے بظاہر کامیابی کی توقع بھی نہیں ہے تو اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم عسکری جدوجہد کے طریقے کو استعمال کریں اور جب یہ کریں گے تو اس کے نتیجے میں ہمیں کامیابی مل جائے گی۔ اس سوچ میں بھی اسی طرح سے کچھ اہم پہلووں سے صرف نظر کیا گیا ہے جیسے اس سے پہلے تصور میں کیا گیا ہے۔ 

مثلاً پہلی چیز یہ ہے کہ اس طرح کی کسی بھی جدوجہد کی کام یابی کے راستے میں ہمیشہ کچھ رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ کچھ فکری اور نظری ہوتی ہیں اور کچھ عملی ہوتی ہیں۔ رکاوٹوں کو موضوع بنائے بغیر اور ہٹائے بغیر آپ محض ٹکرا کر راستے میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس وقت امت مسلمہ کو فکری سطح پر سب سے بڑی رکاوٹ جو درپیش ہے، جو نہ صرف ہمارے بارسوخ طبقات کو بلکہ عوام تک کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، وہ ہے مغربی فکر اور مغربی تہذیب کا دیا ہوا ایک فکری وتمدنی سانچہ جس نے اس طرح سے گرفت میں لیا ہوا ہے کہ آپ کا معاشرہ اور خاص طور پر وہ طبقات جن کے لیے اس میں privileges وابستہ ہیں، وہ اس سے مختلف کوئی سانچہ قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ علم، اخلاق اور فکر کی سطح پر وہ اتمام حجت نہیں ہوا کہ آپ طاقت کے زور پر آئیں، قبضہ کریں اور اس کے بعد زمین آپ کے لیے تیار ہو۔ یہ فکری اتمام حجت، فکر کی سطح پر جس سے آپ کا مقابلہ ہے، اس کو شکست دیے بغیر، اس کی ذہنی مرعوبیت سے لوگوں کو نکالے بغیر آپ محض طاقت کے زور پر ان پر حکومت نہیں کر سکتے۔ 

آپ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیئس سال کا عرصہ دیا گیا اور آخر میں جا کر فتح مکہ کی صورت میں عرب کی سطح پر غلبہ اسلام کی راہ ہموار ہوئی تو آپ دیکھیں، فتح مکہ سے پہلے ایمان کی سطح پر، فکر واعتقاد کی سطح پر اسلام کی حقانیت علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کی جا چکی تھی اور اتمام حجت ہو چکا تھا۔ اب لوگوں کو ایک عقیدے کی سطح پر اس سوال کا سامنا نہیں تھا کہ اسلام جو دعوت پیش کر رہا ہے، جو عقائد بیان کر رہا ہے، اس کی حقانیت میں ان کو کوئی تردد ہو۔ اگر یہ معاملہ ہو چکا ہے، آپ فکر، نظریے اور عقیدے کی سطح پر اپنی جنگ جیت چکے ہیں تو پھر طاقت کا استعمال فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ آتے ہیں اور جو لوگ ایک چلے آنے والے نظام میں اقتدار کی مسندوں پر براجمان ہیں، آپ ان کو طاقت سے ہٹا دیتے ہیں اور معاشرہ اس تبدیلی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا تو یہ کوئی دیرپا کامیابی نہیں ہوگی۔ جلد اس کو ریورس گیئر لگ جائے گا۔ ماضی قریب میں ہم سید احمد شہیدؒ کی تحریک کی صورت میں اس کی ایک مثال دیکھ سکتے ہیں۔ 

اب یہ جو مغربی فکر کے دیے ہوئے سانچوں کو توڑنے اور لوگوں کو ذہنی مرعوبیت سے نکالنے کا کام ہے، ہمارے ہاں یہ کام ابھی تک شاید فرض کفایہ کی حد تک ہی ہے۔ معاشرے پر اور خاص طور پر بااثر طبقات پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس میدان میں پیش رفت کی ضرورت کا بھی کوئی خاص احساس موجود نہیں ہے۔ 

دوسری چیز یہ ہے کہ فرض کریں، آپ کو اس وقت اقتدار مل جائے، آپ غلبہ حاصل کر لیں اور آپ یہ چاہیں کہ ہم ایک ہی دن میں جو پورا نظام ہے جو ہم اپنی فقہی کتابوں میں پڑھتے ہیں، وہ ہم نافذ کر دیں تو یہ بھی دین کی حکمت کے خلاف ہے۔ معاشرے میں تبدیلی تدریجاً لائی جاتی ہے اور جو پابندیاں آپ لوگوں پر لگانا چاہتے ہیں، ان کے لیے انھیں رفتہ رفتہ ہی آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی بات فرمائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر پہلے دن لوگوں سے کہتے کہ بدکاری چھوڑ دو، شراب چھوڑ دو تو کوئی بھی نہ چھوڑتا۔ آپ نے پہلے ان کو ایمان کی دعوت دی، ان کے دل کی زمین ہموار کی کہ وہ اللہ کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول کر سکیں۔ پھر بعد میں جا کر ان سے کہا کہ یہ کام بھی چھوڑ دو، یہ بھی چھوڑ دو۔ یہ کام کیے بغیر آپ محض طاقت کے زور پر سب کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں کے اسلامی مفکرین یہ کرتے ہیں کہ اسلامی نظام کے ساتھ وابستہ جو benefits ہیں، وہ تو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، لیکن اسلام آ کر جو قدغنیں لگاتا ہے، جو پابندیاں لگاتا ہے اور آپ کی جن خواہشات کو روکتا ہے، انھیں اس طرح نمایاں نہیں کرتے۔ پہلے لوگوں کو اس کے لیے تیار کرنا ہوگا کہ وہ اسلامی نظام کے ساتھ وابستہ منافع بھی حاصل کریں، لیکن اس کی پابندیوں کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ 

تیسری چیز بڑی اہم ہے جس کا ذکر مغل صاحب نے بھی کیا کہ کسی بھی معاشرے میں سیاسی عصبیت کے بغیر آپ اپنا اقتدار قائم نہیں کر سکتے اور اگر کہیں قائم کر لیں تو اسے قائم رکھ نہیں سکتے۔ اس اصول کا لحاظ پیغمبر کو بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ میرے بعد قریش ائمہ ہوں گے، قریش کے پاس اقتدار ہوگا تو اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ عرب کے لوگ قریش کے علاوہ کسی کو لیڈر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اب دور قدیم میں سیاسی عصبیت کے تصور میں اور دور جدید کے تصور میں بہت فرق ہے۔ ہمارے فقہا نے یقیناًاپنے دور کے حالات کے تناظر میں قیام حکومت کا ایک طریقہ یہ قرار دیا ہے کہ کوئی گروہ تغلباً اقتدار حاصل کر لے۔ یعنی طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کر لیں اور اگر وہ چل گیا تو ٹھیک ہے، وہ جائز اقتدار ہے۔ دور جدید میں ، یہ صحیح ہوا یا غلط ہوا، مغرب نے کیا یا کس نے کیا، اس سے قطع نظر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج اس سیاسی اصول کو دنیا میں ایک قبول عام حاصل ہو چکا ہے کہ اقتدار ان کو ملے جنھیں عوام کی تائید حاصل ہو، وہ عوام کے نمائندہ لوگ ہوں، ان کو معاشرے میں سیاسی عصبیت حاصل ہو۔ 

یہ جو شریعت کے، اخلاق کے، حکمت عملی کے جو اصول ہیں، ان کو نظر انداز کر کے محض طاقت کے زور پر آپ کوئی خاص یا دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

اس معاملے میں آخری بات میں ان حضرات سے جو عسکری جدوجہد کے راستے سے ملکی نظام کی تبدیلی کے طریقے پر یقین رکھتے ہیں، یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک تو آپ معاشرے کی معروضی صورت حال سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ جو کامیابی کے عملی امکانات ہیں، ان پر بھی یا تو توجہ نہیں دے رہے یا کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ یہاں فوج کی طاقت کا ذکر ہوا، وہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آپ اس کو کیسے حل کریں گے؟ اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ دیکھیں،۱س ملک میں اسلام کے نام لیوا، اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والے کوئی ایک طبقہ نہیں ہے۔ صرف جماعت اسلامی یا تنظیم اسلامی نہیں ہے یا جو گروہ عسکری جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، وہی نہیں ہیں۔ یہ سب اسلام کے نام لیوا ہیں۔ آپ یہ کیسے کر سکتے ہیں کہ سب اسلام کے لیے کوشش کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک گروہ اٹھ کر اپنی حکمت عملی باقی سب پر ٹھونسے؟ حکمت عملی تو اجتہادی معاملہ ہے۔ آپ نے یہاں آگے بڑھنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرنا ہے؟ یہاں کی جو مذہبی قوتیں ہیں، اہل علم ہیں، یہاں کی جو مذہبی قیادت ہے، اس وقت تک کی صورت حال تو یہی ہے کہ وہ اس طریقے سے اتفاق نہیں کرتی، اس کو غلط سمجھتی ہے، اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سو اگر کوئی گروہ اٹھ کر یہ کہتا ہے کہ میری نظر میں چونکہ یہی طریقہ صحیح ہے، اور باقی سب کی رائے یا ان کا اجتہاد چونکہ ہماری نظر میں غلط ہے تو ہم اس کی کوئی پروا نہیں کرتے، ہم اپنی حکمت عملی ٹھونسیں گے تو یہ طرز فکر ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ اجتہادی معاملات میں آپ اپنی رائے دوسروں پر نہیں ٹھونس سکتے۔ اجتہادی معاملات میں آپ کو اجتماعیت سے کام لینا ہوتا ہے۔ جس رائے پر متعلقہ لوگوں کا عمومی اتفاق ہو، اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

اور آخری بات میں یہ کرنا چاہوں گا کہ جب ہم تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو عام طو رپر فوراً توجہ ریاست اور نظام کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس سے نیچے بھی اصلاح کے اور تبدیلی کے بڑے دائرے ہیں اور وہ بنیادی ہیں۔ ہم فرد کو بالکل بھول جاتے ہیں کہ فرد بھی کوئی بدلنے کی چیز ہے۔ معاشرت میں معاشرتی رویے، اخلاق، کردار، ان کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی قدریں لانے کی ضرورت ہے اور وہاں پر بڑی گنجائش اور بڑا موقع بھی ہے۔ اس کو ہم بالکل بھول جاتے ہیں۔ تو یہ اس پورے ڈسکورس کا ایک مستقل مسئلہ ہے کہ تبدیلی کی بات ہوتے ہی فوراً ہمارا ذہن نظام اور ریاست کی طرف چلا جاتا ہے اور اس کے لیے نیچے جو بنیاد چاہیے، فرد سے شروع ہو کر معاشرت کے جو مختلف دائرے ہیں، ان سے ہماری توجہ بالکل ہٹ جاتی ہے اور اس طرز فکر کو جواز فراہم کرنے کے لیے پھر ہم یہ تصور بھی کر لیتے ہیں کہ اصل میں ان سطحوں پر جدوجہد موثر ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہم پہلے اوپر سے ایک بڑی تبدیلی نہیں لے کر آئیں گے۔

مجھے اس وقت یہی چند گزارشات پیش کرنا تھیں۔ اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین۔

معاصر جہاد ۔ چند استفسارات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست پاکستان کی شرکت کے حوالے سے ہمارے علماء اور مذہبی قائدین کی طرف سے جو بیانات اور فتاویٰ سامنے آتے ہیں، وہ بالعموم صرف ایک فریق یعنی ریاست کے کردار کو موضوع بناتے ہیں اور ان سے صورت حال کا ایک یک رخا منظر ہی سامنے آتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کے دوسرے فریق یعنی جہادی قائدین اور تنظیموں کے کردار کے حوالے سے بھی نہایت اہم سوالات کی ایک پوری قطار ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے واضح جوابات کی منتظرہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہمارے جید مفتیان کرام ان سوالات کے جوابات بھی پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیں تاکہ قوم کے فہیم عناصر کو شرعی زاویے سے پوری صورت حال کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔ یہاں ہم اپنے طالب علمانہ فہم کے مطابق جواب طلب سوالات کی ایک فہرست اہل علم کے سامنے پیش کرنا چاہیں گے:

۱۔ ایک اسلامی ملک میں کسی غیر مسلم طاقت کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرنے کا اختیار کس کو ہے؟ آیا سربراہ حکومت کو یا وہاں مقیم کسی بھی جماعت یا گروہ کے افراد کو؟

۲۔ اگر امیر المومنین کسی اقدام کی اجازت نہ دیں اور پھر بھی کوئی گروہ اپنے تئیں اقدام کر ڈالے جس کے نتائج پورے ملک اور پوری قوم کو بھگتنا پڑیں تو ایسے اقدام کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

۳۔ کیا دشمن کی عسکری طاقت کو ہدف بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہونے کی صورت میں اس کے عام شہریوں اور تجارتی مراکز وغیرہ کو حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟

۴۔ کیا کسی ملک کے شہریوں کو اس استدلال کی بنیاد پر مقاتلین قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں؟

۵۔ اگر کسی غیر مسلم ملک کی طرف سے ایک اسلامی ملک میں مقیم چند افراد کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ (ان کے کسی کردہ یا ناکردہ گناہ پر) کیا جائے اور ایسا نہ کرنے پر پوری قوم پر تباہی مسلط ہونے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں خود ان مطلوبہ افراد سے شریعت کا تقاضا کیا ہوگا؟ آیا انھیں اپنی ذات کی قربانی دے دینی چاہیے یا پناہ فراہم کرنے والی قوم کے ایمان وحوصلہ اور وفاداری کا امتحان لینا چاہیے؟

۶۔ اگر کچھ افراد کی شخصی قربانی کی وجہ سے کسی اسلامی ملک کو جنگ سے بچایا جا سکتا ہو، لیکن وہ ایسا نہ کریں۔ البتہ جیسے ہی جنگ مسلط ہو، وہ میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جا پناہ لیں جس سے جنگ کا دائرہ اس ملک تک وسیع ہو جائے تو اس عمل کی شریعت کی نظر میں کیا حیثیت ہے؟

۷۔ ایک مسلمان ملک پر غیر مسلم طاقت کی طرف سے حملہ ہو تو کیا پڑوسی مسلمان ملک پر ہر حال میں مسلمان ملک کا ساتھ دینا شرعاً لازم ہے، چاہے حملے کی وجہ کچھ بھی ہو؟

۸۔ کیا شریعت ایسی صورت حال میں، ہرقیمت پر حملے کا شکار ہونے والے مسلمان ملک کا ساتھ دینے کا حکم دیتی ہے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں اور چاہے اس کا نتیجہ مسلمانوں کے جان ومال اور طاقت میں مزید تباہی کی صورت میں نکلتا ہو؟

۹۔ ایک مسلمان ملک کی طرف سے جنگ کی حالت میں دوسرے مسلمان ملک کی مدد کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ آیا حکومت کے پاس، علماء اور اہل فتویٰ کے پاس یا کسی بھی جماعت یا گروہ کے پاس؟

۱۰۔ کیا مسلمان ملک پر حملہ کرنے والی غیر مسلم طاقت کا عملاً ساتھ دینا اور حملے کا نشانہ بننے والے ملک کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کرنا، یہ دونوں ایک ہی حکم رکھتے ہیں؟ یعنی جس طرح غیر مسلم طاقت کا ساتھ دینا ناجائز ہے، کیا اسی طرح مسلمان ملک کا ساتھ دینا بھی لازم ہے یا کوئی مسلمان ملک ان میں سے کوئی بھی فیصلہ کیے بغیر، جنگ سے بالکل الگ تھلگ بھی رہ سکتا ہے؟

۱۱۔ اگر مسلمان ارباب اقتدار دوسرے مسلمان ملک کے خلاف غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کریں تو اس کی اطاعت کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ آیا اس حکومت کے محض اس مخصوص فیصلے کی اطاعت نہیں کی جائے گی یا وہ حق اطاعت سے کلیتاً محروم سمجھی جائے گی؟

۱۲۔ مسلمان حکومت کسی معاملے سے متعلق دو سیاسی فیصلے کر لے جن میں سے ایک ناجائز ہو، جبکہ دوسرے کی شرعاً گنجائش ہو تو کیا ناجائز فیصلے کی بنیاد پر اس کے اس فیصلے کی بھی پابندی نہیں کی جائے گی جس کی شرعاً گنجائش ہے؟ مثلاً ایک مسلمان حکومت دوسرے مسلمان ملک کے خلاف کسی غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرے جو ناجائز ہے تو کیا اس بنیاد پر اس حکومت کا یہ فیصلہ بھی شرعاً بے وقعت ہو جائے گا کہ وہ اپنی سرزمین اور وسائل کو مسلمان ملک کی مدد کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی؟ (کیا اس ضمن میں اہل مکہ کے ظلم وستم کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے ساتھ معاہدہ کرنا اور اسی معاہدے کے تحت ابو بصیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ میں پناہ نہ دینے کا واقعہ کسی شرعی راہ نمائی کا ماخذ بن سکتا ہے؟)

۱۳۔ اگر ارباب اقتدار یہ فیصلہ کر کے کہ وہ جنگ میں دوسرے مسلمان ملک کی مدد نہیں کر سکتے، غیر مسلم طاقت کے ساتھ یہ معاہدہ کر لیں کہ وہ اپنی سرزمین اور باشندوں کو اس کے خلاف جنگ میں استعمال نہیں ہونے دیں گے، جبکہ علماء اور مفتیان فتویٰ دیں کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا ہمارے لیے لازم ہے تو باشندگان ملک کے لیے ان میں سے کس کے فیصلے کی پابندی ضروری ہوگی؟

۱۴۔ اگر فیصلے کا اختیار حکومت کے پاس ہے تو علماء اور مفتیان کی ذمہ داری کیا ہے؟ کیا یہ کہ وہ خود کو ارباب حکومت کی شرعی راہ نمائی تک محدود رکھیں یا یہ کہ حکومتی فیصلے کے مقابلے میں مختلف فتویٰ جاری کر کے عوام کو حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی پر آمادہ کریں؟

۱۵۔ اگر اس ضمن میں فیصلہ کن اتھارٹی علماء اورمفتیان کو حاصل ہے تو مسلم ریاست کے نظم اجتماعی میں ان کے اختیار اور ارباب حل وعقد کے اختیار میں کیا فرق ہوگا؟ نیز اگر اس صورت میں خود علماء اور مفتیان کا ایک گروہ مدد کرنے کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف فتویٰ دے تو پھر معاملے کی نوعیت کیا ہوگی؟

۱۶۔ اگر فیصلے کا اختیار مسلمان ملک کے ارباب اقتدار کو ہے، لیکن مسلمان ملک کا کوئی گروہ اس کے بجائے علماء اور ارباب فتویٰ کے فتوے پرعمل کرتے ہوئے پڑوسی ملک میں جاری جنگ میں شریک ہونا چاہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ 

۱۷۔ اگر اس گروہ کا یہ فیصلہ شرعاً درست نہیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ خود اس گروہ پر یا فتویٰ دینے والے علماء اور مفتیان پر؟

۱۸۔ اگر اس گروہ کا یہ فیصلہ درست ہے تو کیا جنگ میں شریک ہونے کا دائرہ صرف حملہ آور غیر مسلم طاقت تک محدود رہے گا یا اس کا ساتھ دینے والے مسلمانوں کے خلاف بھی جنگ درست ہوگی؟ اگر غیر مسلم فوجیوں تک محدود ہوگا تو کس اصول پر؟

۱۹۔ اگر اس کے دائرے میں غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنے والے مسلمان بھی آ سکتے ہیں تو کیا یہ گروہ جو غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنے والی اپنی حکومت کے فیصلے کے برعکس، حملہ آور غیر مسلم طاقت کے خلاف لڑ رہا ہے، اسی بنیاد پر خود اپنی حکومت اور فوج کے خلاف بھی لڑ سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟

۲۰۔ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کسی غیر مسلم طاقت کو مدد فراہم کرنا آیا کفر وارتداد کا درجہ رکھتا ہے یا گناہ کبیرہ کا؟ قرآن مجید یا احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کا ساتھ دینے پر جو وعیدیں آئی ہیں، کیا ان کا انطباق ہر ایسی جنگ پر کیا جائے گا جس میں کچھ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے خلاف کسی کافر طاقت کی مدد کر رہے ہوں،چاہے جنگ مذہب وعقیدہ کے تناظر میں لڑی جا رہی ہو یا عام دنیاوی اسباب واغراض کے تحت؟

۲۱۔ اسلامی تاریخ میں اندلس اور ہندوستان میں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں میں ایک فریق نے کسی غیر مسلم گروہ کی مدد حاصل کی اور ان کی مدد سے مسلمانوں کا خون بہایا۔ کیا اس دور کے ذمہ دار علماء وفقہاء نے محض اس بنیاد پر کہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں کفار کو ساتھ ملایا گیا ہے، اس گروہ پر کفر وارتداد کا فتویٰ لگایا؟ 

۲۲۔ اگر ایک مسلمان گروہ دوسرے مسلمان گروہ پر حملہ کرے یا دباؤ کے تحت کسی غیر مسلم حملہ آور کو ان کے خلاف مدد فراہم کرے تو اپنے دفاع میں اس کے خلاف لڑنا، آیا اس گروہ کا مخصوص حق ہے جو حملے کا نشانہ بنا ہو یا مسلمانوں کا کوئی تیسرا گروہ بھی جس پر پہلے گروہ کی طرف سے حملہ نہیں کیا گیا، ازخود فریق بن کر دوسرے گروہ کی حمایت میں پہلے گروہ کے خلاف جنگ کر سکتا ہے؟ 

۲۳۔ خاص طور پر اگر دوسرا گروہ، جو حملے کی زد میں ہے، صبر اور حکمت سے کام لیتے ہوئے اور پہلے گروہ کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف اپنا یہ حق استعمال نہ کرنا چاہے، بلکہ دوسروں کو بھی اس سے گریز کی تلقین کرے تو ایسی صورت میں تیسرے گروہ کے اس موقف اور استدلال کی شرعی حیثیت کیا ہوگی کہ چونکہ پہلا گروہ دوسرے گروہ کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کر رہا ہے، اس لیے اس کے خلاف لڑنا شرعاً فرض یا جائز ہے؟

بینوا توجروا۔

آراء و افکار

(مارچ ۲۰۱۵ء)

Flag Counter