مارچ ۲۰۱۵ء

عالم اسلام اور تکفیر و قتال کا فتنہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالم اسلام میں باہمی تکفیر اور اس کی بنیاد پر قتل و قتال کی روایت نئی نہیں ہے بلکہ شروع دور سے ہی چلی آرہی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف بغاوت کرنے والے خوارج نے تکفیر کو ہی اپنے امتیاز و تشخص کی علامت بنایا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف قتل و قتال کا بازار گرم کر دیا تھا۔ وہ نہ صرف حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان مصالحت کے لیے حکم اور ثالث کے تقرر کے فیصلے کو کفر قرار دیتے تھے بلکہ کبیرہ گناہ کے مرتکب عام مسلمانوں کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا استدلال بعض قرآنی آیات کے ظاہری بلکہ خود...

منافقین کے حوالے سے اسوۂ نبویؐ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنا مرکز بنایا تو یہود اور مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک ایسے طبقہ سے بھی واسطہ پڑا جو کلمہ پڑھ کر بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا تھا لیکن دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، اور دل سے اس کی تمام تر ہمدردیاں اور معاونتیں کفار کے ساتھ تھیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ غزوہ احد میں یہ لوگ تین سو کی تعداد میں عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے جس سے آبادی میں اس وقت ان کے تناسب کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر مختلف اوقات میں ان...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۴۶) حال کا ایک خاص استعمال۔ عربی زبان میں حال کا عام استعمال تو فعل کی انجام دہی کے وقت ذو الحال کی حالت بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے، جیسے جاء زید راکبا یعنی زید سوار ہوکر آیا۔ لیکن حال کا ایک استعمال اس وقت بھی ہوتا ہے جب ایک فعل کے فورا بعد دوسرا فعل شروع ہوتا ہے، ترجمہ میں اس کی رعایت سے ترجمہ کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ بعض مترجمین نے کچھ مقامات پر اس استعمال کے مطابق ترجمہ کیا ہے، جبکہ بعض دوسرے مقامات پر اس طرح ترجمہ نہیں کیا گیا، حالانکہ وہاں بھی اسی طریقہ پر ترجمہ کرنا زیادہ مناسب لگتا ہے، مثالیں حسب ذیل ہیں: (۱) فَکَیْْفَ إِذَا أَصَابَتْہُم...

ملت اسلامیہ کا بھولا ہوا ایک اہم فریضہ

― مولانا محمد عیسٰی منصوری

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اس کی رہنمائی کے لیے حضرات انبیاء کا سلسلہ شروع فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء دنیا میں تشریف لائے۔ ان سارے انبیاء کے بنیادی کام تین تھے۔ ۱۔ نبی انسانوں میں محنت وکوشش کر کے اللہ تعالیٰ کا تعارف وپہچان کرا کے ان کے دلوں میں اللہ کی عظمت ومحبت بٹھاتے، اللہ سے رشتہ جوڑ کر انھیں اللہ تعالیٰ کے لیے جینا ومرنا سکھا کر اس کو اللہ والا بنا دیتے۔ اس کے بعد انسان دنیا میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیتا تھا۔ ۲۔ حضرات انبیاء...

امام لیث بن سعدؒ ۔ حیات و خدمات (۱)

― محبوب عالم فاروقی

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حفاظت دین کے لیے ہر دور میں ایسے رجال پیدا کیے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں۔ اس چشمہ صافی کو گدلاکرنے کے لیے کتنے ہی طالع آزما میدان میں آئے اور فکر اسلامی کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہوئے، لیکن ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے رجال پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے ان فتنوں کا رَد کیااور شریعت اسلامیہ کے چشمہ صافی کو اسی طرح مصفی رکھا جس طرح کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت کو دے کر گئے تھے۔ امام اللیث بن سعد بھی امت کے ان عظیم علماء اور فقہاء کے طائفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ نام و نسب اور...

کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۲)

― مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

صحابہ کرام کا عمل اور رویہ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو نہ صرف یکساں واجب الاطاعت جانا بلکہ احادیث کو قرآن ہی کا حصہ گردانا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ مذکور ہے۔ انھوں نے ایک موقع پر فرمایا: لعن اللہ الواشمات والموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ۔ ’’اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت کرے کہ یہ اللہ کی پیدا...

خاطرات

― محمد عمار خان ناصر

آج کی گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ معاشرت یا ریاست کی سطح پر جو تبدیلی اس وقت اہل دین، اہل مذہب لانا چاہتے ہیں، اس کے لیے جو مختلف حکمت عملیاں اب تک اختیار کی گئی ہیں، ان کا ایک جائزہ لیا جائے۔ ان میں جو کچھ کمی کوتاہی، نقص یا نتائج کے لحاظ سے جو عدم تاثیر دکھائی دیتی ہے، اس کے اسباب پر غور کیا جائے۔ یہاں جو گفتگوئیں ہوئیں، خاص طورپر محترم اللہ داد نظامی صاحب نے جو کچھ کہا، تھوڑا تھوڑا ان کا حوالہ دے کر میں اپنی گفتگو کا ایک تناظر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر بہت ہی اختصار کے ساتھ جو ڈسکشن ہوئی، اس میں جو تھوڑا بہت میں اضافہ کر سکتا ہوں، وہ کرنے...

مولانا عبد المجید لدھیانویؒ اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا انتقال

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے اور انہیں اپنے استاذ محترم کے ساتھ اس مماثلت کا اعزاز بھی مل گیا ہے کہ علماء...

مکاتیب

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

الشریعہ، فروری ۲۰۱۵ء کے مکاتیب میری جنوری ۲۰۱۵ء کے الشریعہ میں شائع ہونے والی گزارشات پر احبابِ گرامی کے شکوے پر مشتمل ہیں۔ سو میرا حق یا فرض ہے کہ اس ضمن میں ضروری وضاحت کروں۔ سنبھلی صاحب نے جناب مولانا زاہدالراشدی سے دو وضاحتی جملے شائع نہ کرنے کا گلہ کیا ہے۔ ان کے خیال میں شاید انہی جملوں کا نہ ہونا میری تحریر کا محرک تھا، حالانکہ میں نے ان کے الفاظ، جو اپنے مفہوم میں بالکل واضح تھے، نقل کرکے اپنا موقف پیش کیا تھا۔ بہرحال ان کے انتہائی مختصر تازہ ارشادات پرمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ انہوں نے اپنے من جملہ اربابِ مدارس ہونے کو...