کیا غامدی فکر و منہج ائمہ سلف کے فکر و منہج کے مطابق ہے؟ غامدی صاحب کے دعوائے مطابقت کا جائزہ (۱)

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

ماہنامہ الشریعہ میں مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ کے کتابچے ’’غامدی صاحب کا تصور حدیث وسنت‘‘ کا اور ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت بنام ’’الشریعہ کا طرز فکر اور پالیسی: اعتراضات واشکالات کا جائزہ‘‘ کا اشتہار دیکھا تو راقم نے نہایت ذوق وشوق کے ساتھ بذریعہ وی پی دونوں چیزیں منگوائیں۔ اول الذکر کتابچے میں مولانا راشدی صاحب کے دو مضمون تھے جو پہلے ’’الشریعہ‘‘ میں شائع ہو چکے ہیں۔ موضوع چونکہ راقم کی دلچسپی کا تھا اور دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ فراہی گروہ عرصہ دراز سے قرآن کے نام پر گمراہی پھیلا رہا ہے جس میں سرفہرست مولانا امین احسن اصلاحی اور ان کے تلمیذ خاص جاوید احمد غامدی اور ان کے تلامذہ ومتاثرین ہیں اور انھی میں حلقہ دیوبند کے چشم وچراغ عمار خان ناصر مدیر ’’الشریعہ‘‘ بھی ہیں، بلکہ جس طرح مولانا فراہی واصلاحی کی فکری گمراہی کی سب سے بڑے پرچارک غامدی صاحب ہیں، اسی طرح عمار خان ناصر غامدی فکر کے سب سے بڑے علم بردار، اس کے مدافع اور اس کی نوک پلک بھی سنوارنے والے ہیں۔ سارا حلقہ دیوبند عمار خان ناصر کی اس کایا کلپ پر حیران ہے اور اس کی زبان پر یہ شعر ہے۔

غنی روز سیاہِ ماہِ کنعاں را تماشا کن
کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

بہرحال راقم عرض یہ کر رہا تھا کہ غامدی صاحب کے تصور حدیث وسنت پر مولانا راشدی کے نقد وتبصرہ کا اشتہار پڑھ کر خوشی ہوئی تھی کہ اس میں غامدی صاحب کے تصور حدیث وسنت کا مدلل طریقے سے رد کیا گیا ہوگا، لیکن پڑھ کر  ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا۔ مولانا زاہد الراشدی نے اس پر تنقید تو کی لیکن غامدی صاحب کی غیر معقول وضاحت پر جس طرح نقد وتبصرہ ہونا چاہیے تھا، اس میں خاصی تشنگی محسوس ہوئی۔ اسی طرح عمار خان ناصر نے بھی، جو غامدی فکر کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہیں، اپنے فکری انحراف کی جو توجیہات پیش کی ہیں، وہ یکسر غیر معقول ہیں۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم اپنی مختصر گزارشات پیش کریں، تمہید کے طور پر چند باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

دو تمہیدی باتیں

اول یہ کہ گمراہی کے علم بردار تاویل وتوجیہ کا فن خوب جانتے ہیں، بلکہ وہ اس میں مشاق ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ پندار علم کا شکار اور واضلہ اللہ علی علم کا مصداق ہوتے ہیں۔ بنا بریں وہ اپنی بے بنیاد باتوں کو بھی الفاظ کی مینا کاری، فن کارانہ چابک دستی اور عقل ومنطق کی شعبدہ بازی سے جھوٹ کو سچ، باطل کوحق اور خانہ ساز نظریات کو قرآن وحدیث کے گہرے مطالعے اور بحر علم کی غواصی کا نتیجہ باور کرانے میں کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن ظاہر بات ہے کہ کچھ خام فکر کے لوگ تو اس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ہو جاتے ہیں، لیکن جو راسخ العلم اور فکر صحیح کے حامل ہوتے ہیں، وہ ان کی فکری ترک تازیوں میں دجل وفریب کی کارستانیوں کو بھانپ لیتے اور فکر ونظر کی خامیوں کو جانچ لیتے ہیں، جیسا کہ ان شاء اللہ آپ ملاحظہ کریں گے۔

ثانیاً، جو شرعی اصطلاحیں ہیں، وہ آج کی بنی ہوئی نہیں ہیں، بلکہ وہ خود صاحب شریعت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان رسالت سے، جو وحی الٰہی کی مظہر ہے، نکلی ہوئی ہیں اور ان کا مفہوم ومطلب بھی عہد رسالت سے اب تک مسلم چلا آ رہا ہے، جیسے صلاۃ، زکا، اور ختم نبوت وغیرہ کا مفہوم ومطلب ہے۔ آج اگر کوئی شخص یہ کہتے کہ صلاۃ کا وہ مفہوم نہیں ہے جو آج تک مسلمان سمجھتے اور اس کے مطابق عمل کرتے آ رہے ہیں اور وہ غلط ہے، بلکہ صلاۃ کا مطلب پانچ وقت کی نمازیں نہیں ہے بلکہ یہ ہے۔ اسی طرح زکاۃ کا مطلب بھی یہ نہیں ہے جو چودہ سو سال سے مسلم چلا آ رہا ہے، بلکہ اس کا مطلب تو حکومت کا اپنی رعایا کی معاشی ضروریات کا پور اکرنا ہے ۔ یاد رہے یہ مفروضے نہیں، بلکہ غلام احمد پرویز اوران کی فکر کے وارث یہی کچھ کہتے ہیں جو عرض کیا گیا ہے۔ اسی طرح ختم نبوت کی اصطلاح ہے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کی مہر کے بغیر کوئی نبی نہیں آ سکتا اور مرزا صاحب پر آپ کی مہر لگی ہوئی ہے، اس لیے مرزائے قادیان بھی (نعوذ باللہ) سچا نبی ہے۔

ذرا سوچیے کہ ان مذکورہ شرعی اصطلاحات کی نئی تعبیر کرنے والے کیا صلاۃ، زکاۃ اور ختم نبوت کے ماننے والے کہلائیں گے یا ان کے منکر؟ ظاہر بات ہے کہ کوئی باشعور مسلمان ایسے لوگوں کو ان مسلمات اسلامیہ کا ماننے والا نہیں کہے گا، بلکہ یہی کہے گا کہ یہ نماز کے بھی منکر ہیں، زکاۃ کے بھی منکر ہیں اور ختم نبوت کے بھی منکر ہیں۔ وعلیٰ ہذا القیاس دوسرے گمراہ فرقوں کی اپنی وضع کردہ اصطلاحات ہیں، جیسے شیعوں کا عقیدۂ امامت ہے، صوفیوں کا عقیدۂ ولایت ہے (ان دونوں کے نزدیک امامت اور ولایت نبوت سے افضل ہے)، بریلویوں کا عقیدۂ محبت اولیاء ہے جس کے ڈانڈے شرک صریح سے ملتے ہیں۔ معتزلہ نے عدل وتوحید کا خود ساختہ مفہوم گھڑ کر اپنے کو اہل العدل والتوحید قرار دیا، وغیرہ وغیرہ۔ گمراہی کی یہ داستان بڑی دراز بھی ہے اور نہایت الم ناک بھی۔

اسی طرح سنت یا حدیث بھی شرعی اصطلاح ہے۔ علاوہ ازیں یہ صحابہ وتابعین (سلف) اور محدثین کے نزدیک ایک ہی چیز ہے۔ اس کا مفہوم اورمصداق بھی چودہ سو سال سے مسلم چلا آ رہا ہے۔ اس کو جو اس کے مسلمہ مفہوم ومصداق کے مطابق مانے گا، وہ اس کو ماننے والا تسلیم کیا جائے گا اور جو یہ کہے گا کہ میرے نزدیک سنت کا یہ مفہوم اور حدیث کا یہ مفہوم ہے اور وہ مفہوم اس کا خود ساختہ اور مسلمہ مفہوم کے یکسر خلاف ہے تو وہ حدیث وسنت کا ماننے والا نہیں کہلا سکتا، چاہے زبان سے وہ حدیث وسنت کو ماننے کا ہزار مرتبہ بھی دعویٰ کرے، جیسے مرزائی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے قائل ہیں، لیکن وہ منکر ہی کہلائیں گے کیونکہ ختم نبوت کا وہ مفہوم نہیں مانتے جو مسلمہ ہے بلکہ خود ساختہ مفہوم کی روشنی میں مانتے ہیں۔

حدیث وسنت کا مسلمہ اصطلاحی مفہوم

اس تمہید کی روشنی میں غامدی وعمار (صاحبین یا استاذ شاگرد) کے تصور حدیث وسنت پر بحث سے پہلے نہایت ضروری ہے کہ حدیث وسنت کے مسلمہ مفہوم ومصداق کو واضح کیا جائے کہ وہ کیا ہے؟ اس کے بغیر صاحبین کا فکری انحراف، جو دراصل فکر فراہی ہے، واضح نہیں ہوگا۔

ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول کا نمبر آتا ہے، یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔ حدیث کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔ تقریر سے مراد ایسے امور ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کیے گئے، لیکن آپ نے ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی بلکہ خاموش رہ کر اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرما دیا۔ ان تینوں قسم کے علوم نبوت کے لیے بالعموم چار الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ (۱) خبر (۲ ) اثر (۳) حدیث (۴) اور سنت۔ 

خبر ویسے تو ہر واقعے کی اطلاع اور حکایت کو کہا جاتا ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے لیے بھی ائمہ کرام اور محدثین عظام نے اس کا استعمال کیا ہے اور اس وقت یہ لفظ حدیث کے مترادف اور اخبار الرسول کے ہم معنی ہوگا۔

اثر کسی چیز کے بقیہ اور نشان کو کہتے ہیں او رنقل کو بھی اثر کہا جاتا ہے۔ اسی لیے صحابہ وتابعین سے منقول مسائل کو آثار کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آثار کا لفظ مطلقاً بولا جائے گا تو اس سے مراد آثار صحابہ ہی ہوں گے، لیکن جب اس کی اضافت الرسول کی طرف ہوگی یعنی ’’آثار الرسول‘‘ کہا جائے گا تو اخبار الرسول کی طرح آثار الرسول بھی احادیث الرسول ہی کے ہم معنی ہوگا۔

حدیث، ا س کے معنی گفتگو کے ہیں اور اس سے مراد وہ گفتگو اور ارشادات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے۔ 

سنت، عادت اور طریقے کو کہتے ہیں اور اس سے مراد عادات واطوار رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اسی لیے جب سنت نبوی یا سنت رسول کہیں گے تو اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات واطوار ہوں گے۔

اول الذکر دو لفظوں (خبر، اثر) کے مقابلے میں ثانی الذکر الفاظ (حدیث اور سنت) کا استعمال علوم نبوت کے لیے عام ہے اور اس میں اتنا خصوص پیدا ہو گیا ہے کہ جب بھی حدیث یا سنت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات ہی مراد ہوتے ہیں، اس مفہوم کے علاوہ کسی اور طرف ذہن منتقل ہی نہیں ہوتا۔

ائمہ سلف اور محدثین کرام رحمہم اللہ کے نزدیک بالاتفاق حدیث اور سنت مترادف الفاظ ہیں، ان کے درمیان کسی نے معنی اور منطوق کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کیا ہے۔

حدیث رسول سے انحراف کا آغاز

اس دور کے جن لوگوں نے حدیث رسول کی تشریعی حیثیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ اس کے ماخذ شریعت ہونے کو مشکوک ٹھہرانے کی مذموم سعی کر رہے ہیں، انھوں نے حدیث او رسنت کے مفہوم میں فرق کیا ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر ان کے لیے حدیث رسول سے واضح الفاظ میں انکار کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں یا اپنے زعم باطل میں مسلمان عوام کو اس مغالطے میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ منکر حدیث نہیں ہیں، دراں حالیکہ ان کی ساری کاوشوں کا محور ومرکز حدیث رسول اور اطاعت رسول کا انکار ہے۔ ان کے خیال میں سنت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال وعادات ہیں اور حدیث سے مراد اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور بعض لوگوں نے اس سے بھی تجاوز کر کے یہ کہا کہ آپ کے اعمال وعادات عرب کے ماحول کی پیداوار تھیں، اس لیے ان کا اتباع ضروری نہیں، صرف آپ کے اقوال قابل اتباع ہیں۔ ایک تیسرے گروہ نے اس کے برعکس یہ کہا کہ آپ کے اقوال پر عمل ضروری نہیں، جسے وہ حدیث سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم آپ کے اعمال مستمرہ (دائمی اعمال) قابل عمل ہیں، اسے وہ سنت کہتے ہیں۔ اور ایک چوتھا گروہ ہے، اس نے کہا: سنت دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ گویا سنت وحدیث ان مذہبی بہروپیوں کے نزدیک کوئی دینی اصطلاح نہیں ہے بلکہ ایک بازیچہ اطفال ہے یا موم کی ناک ہے جسے جس طرح چاہو، استعمال کر لو اور جس طرف چاہو، موڑ لو۔

لیکن یہ سب باتیں صحیح نہیں۔ یہ چاروں گروہ دراصل بہ لطائف الحیل احادیث سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ائمہ سلف اور محدثین نے سنت اور حدیث کے مفہوم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ وہ سنت اور حدیث، دونوں کو مترادف اور ہم معنی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح سنت سے صرف عادات واطوار مراد لے کر ان کی شرعی حجیت سے انکاربھی غلط ہے اور انکار حدیث کا ایک چور دروازہ۔ یا صرف اعمال مستمرہ کو قابل عمل کہنا یا دین کو صرف دین ابراہیمی کی موہومہ یا مزعومہ روایت تک محدود کر دینا، احادیث کے ایک بہت بڑے ذخیرے کا انکار ہے اور منکرین حدیث کی بہ انداز دگر ہم نوائی۔

امت مسلمہ میں حدیث کی تشریعی حیثیت مسلم ہے

بہرحال حدیث اور سنت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو کہا جاتا ہے اور یہ بھی قرآن کریم کی طرح دین کا ماخذ، شریعت کا مصدر اور مستقل بالذات قابل استناد ہے۔ چنانچہ امام شوکانی فرماتے ہیں:

اعلم انہ قد اتفق من یعتد بہ من اھل العلم علی ان السنۃ المطھرۃ مستقلۃ بتشریع الاحکام وانھا کالقرآن فی تحلیل الحلال وتحریم الحرام 
’’معلوم ہونا چاہیے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سنت مطہرہ تشریع احکام میں مستقل حیثیت کی حامل ہے اور کسی چیز کو حلال قرار دینے یا حرام کرنے میں اس کا درجہ قرآن کریم ہی کی طرح ہے۔‘‘ (ارشاد الفحول ص ۳۳)

پھر آگے چل کر لکھتے ہیں:

ان ثبوت حجیۃ السنۃ المطھرۃ واستقلالھا بتشریع الاحکام ضرورۃ دینیۃ ولا تخالف فی ذالک الا من لا حظ لہ فی دین الاسلام
’’سنت مطہرہ کی حجیت کا ثبوت اور تشریع احکام میں اس کی مستقل اہمیت ایک اہم دینی ضرورت ہے اور اس کا مخالف وہی شخص ہے جس کا دین اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘ (صفحہ مذکور)

سنت کا مستقل حجت شرعی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث سے جو حکم ثابت ہو، وہ مسلمان کے لیے قابل اطاعت ہے، چاہے اس کی صراحت قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ آپ کے صرف وہی فرمودات قابل اطاعت نہیں ہوں گے جن کی صراحت قرآن کریم میں آ گئی ہے جیسا کہ گمراہ فرقوں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی بہ بانگ دہل کہہ رہے ہیں۔ نام قرآن کی عظمت کا ہے، لیکن قرآن کے حکم: من یطع الرسول فقد اطاع اللہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا رویہ کلمۃ الحق ارید بھا الباطل  کا مصداق اور آئینہ دار ہے۔ ایسے لوگوں نے ایک حدیث بھی گھڑ رکھی ہے:

’’میری بات کو قرآن پر پیش کرو۔ جو اس کے موافق ہو، قبول کر لو اور جو اس کے مخالف ہو، اسے رد کر دو۔‘‘

امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’یحییٰ بن معین نے کہا ہے: انہ موضوع وضعتہ الزنادقۃ۔ یہ روایت موضوع ہے جسے زنادقہ نے گھڑا ہے۔‘‘ (ارشاد الفحول ص ۳۳)

فراہی یا غامدی گروہ کا ’’اسلام‘‘

اب اس گروہ نے اپنا چولا بدل لیا ہے۔ علم وفضل کا مدعی ہے، دینی ادارے کھول لیے ہیں، قرآن کے مفسر ہیں اور بزعم خویش دین اسلام کے سمجھنے کا ایسا ادعا ہے کہ چودہ سو سال تک کسی نے ایسا نہیں سمجھا جیسا انھوں نے قرآن کی روشنی میں سمجھا ہے۔ چنانچہ حدیث کو کنڈم کر کے یہ گروہ دین اسلام کا نیا ایڈیشن تیار کر رہا ہے جس میں تصویر سازی بھی جائز ہے، رقص وسرود بھی جائز ہے، مغنیات (گلوکاراؤں) کا وجود بھی ضروری ہے، عورت بھی مردوں کی امامت کرا سکتی ہے، مرد اور عورت ایک سال مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں، عورت کے لیے چہرے کی حد تک عریانی جائز ہے، زنا کی حد کے اثبات کے لیے چار عینی گواہ ضروری نہیں، قرائن سے بھی حد کا اثبات جائز ہے، عورت کی گواہی بھی مرد کی گواہی کے برابر ہے، مطلقہ ثلاثہ کا کسی بھی مرد سے صرف نکاح کر لینا اور اس سے ہم بستری کیے بغیر طلاق لے کر دوبارہ زوج اول سے نکاح کر لینا جائز ہے، ڈاڑھی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، اسلام میں سزائے رجم نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کے خلاف ہے، معراج ایک خواب ہے، نزول عیسیٰ کا عقیدہ غلط ہے، امام مہدی اور دجال کا خروج بے بنیاد ہے، حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ ایک غندہ اور اوباش تھے (نعوذ باللہ)، غامدیہ (صحابیہ) رضی اللہ عنہا پیشہ ور زانیہ تھی (نعوذ باللہ) وغیرھا من الخرافات والمخترعات۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت مستقل اور غیر مشروط ہے

بہرحال بات ہو رہی تھی کہ یہ گروہ نام قرآن کا لیتا ہے، لیکن عمل قرآن کے یکسر خلاف ہے۔ جس حدیث کو چاہتے ہیں یا وہ ان کے مزعومہ نظریات کے خلاف ہوتی ہے، اسے قرآن کے خلاف باور کرا کے اسے رد کر دیتے ہیں حالانکہ کسی بھی حدیث صحیح کو ظاہر قرآن کے خلاف باور کرا کے اسے رد کرنا اہل اسلام کا شیوہ نہ پہلے کبھی رہا ہے اور نہ الحمد للہ اب ہے۔ یہ طریقہ صرف اہل زیغ واہل اہواء کا ہے جنھوں نے موافقت قرآن کے خوش نما عنوان سے بے شمار احادیث رسول کو ٹھکرا دیا۔ چنانچہ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ (المتوفی ۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

وقد امر اللہ عزوجل بطاعتہ واتباعہ امرا مطلقا مجملا ولم یقید بشئ ولم یقل ما وافق کتاب اللہ کما قال بعض اھل الزیغ 
’’اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی اطاعت کا مطلقاً حکم دیا ہے اور اسے کسی چیز سے مقید (مشروط) نہیں کیا ہے اور اللہ نے یہ بھی نہیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات تم اس وقت ماننا جب وہ اللہ کی کتاب کے موافق ہو، جس طرح کہ بعض اہل زیغ کہتے ہیں۔‘‘ (جامع بیان العلم وفضلہ ۲؍۱۹۰)

اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ان قول من قال تعرض السنۃ علی القرآن فان وافقت ظاھرہ والا استعملنا ظاھر القرآن وترکنا الحدیث، جھل 
یعنی ’’قبولیت حدیث کو موافقت قرآن سے مشروط کرنا جہالت (قرآن وحدیث سے بے خبری) ہے۔‘‘

سنت رسول کی تین قسمیں اور تینوں ہی قابل اطاعت ہیں

اسی لیے امام ابن القیم قرآن اور حدیث کے باہمی تعلق کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:

والسنۃ مع القرآن علی ثلاثۃ اوجہ: احدھا ان تکون موافقۃ من کل وجہ فیکون توارد القرآن والسنۃ علی الحکم الواحد من باب توارد الادلۃ وتظافرھا۔ الثانی ان تکون بیانا لما ارید بالقرآن وتفسیرا لہ۔ الثالث ان تکون موجبۃ لحکم سکت القرآن عن ایجابہ او محرمۃ لما سکت عن تحریمہ، ولا تخرج عن ھذہ الاقسام، فلا تعارض القرآن بوجہ ما۔ فما کان منھا زائدا علی القرآن فھو تشریع مبتدا من النبی صلی اللہ علیہ وسلم تجب طاعتہ فیہ ولا تحل معصیتہ، ولیس ھذا تقدیما لھا علی کتاب اللہ بل امتثال لما امر اللہ بہ من طاعۃ رسولہ، ولو کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یطاع فی ھذا القسم لم یکن لطاعتہ معنی وسقطت طاعتہ المختصۃ بہ، وانہ اذا لم تجب طاعتہ الا فی ما وافق القرآن لا فی ما زاد علیہ لم یکن لہ طاعۃ خاصۃ تختص بہ، وقد قال تعالی: مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَا اَرْسَلْنَاکَ عَلَیْھِمْ حَفِیظًا۔‘‘
یعنی ’’حدیثی احکام کی تین صورتیں ہیں: ایک تو وہ جو من کل الوجوہ قرآن کے موافق ہے۔ دوسرے وہ جو قرآن کی تفسیر اور بیان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تیسرے وہ جن سے کسی چیز کا وجوب یا اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے، حالانکہ قرآن میں اس کے وجوب یا حرمت کی صراحت نہیں ہے۔ احادیث کی یہ تینوں قسمیں قرآن سے معارض نہیں ہیں۔ جو حدیثی احکام زائد علی القرآن ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو واضح کرتے ہیں، یعنی ان کی تشریع وتقنین (قانون سازی) آپ کی طرف سے ہوئی ہے جس میں آپ کی اطاعت واجب اور نافرمانی حرام ہے اور اسے تقدیم علی کتاب اللہ بھی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ اللہ کے اس حکم کی فرماں برداری ہے جس میں اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اگر اس (تیسری) قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی جائے اور یہ کہا جائے کہ آپ کی اطاعت صرف انھی باتوں میں کی جائے گی جو قرآن کے موافق ہوں گی تو آپ کی اطاعت کا حکم بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اور آپ کی وہ خاص اطاعت ہی ساقط ہو جاتی ہے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے: مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَا اَرْسَلْنَاکَ عَلَیْھِمْ حَفِیظًا۔‘‘ (اعلام الموقعین ج ۲ ص ۳۱۴ بہ تحقیق عبد الرحمن الوکیل)

حدیث کی اس تیسری قسم (زائد علی القرآن) ہی کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو تنبیہی انداز میں فرمایا تھا: 

الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معلہ
’’خبردار! یاد رکھنا، مجھے قرآن بھی عطا کیا گیا ہے اور اس کی مثل (سنت) بھی۔‘‘ (سنن ابی داود، باب لزم السنۃ، حدیث ۴۶۰۴)

اور آپ کا یہی وہ منصب ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے:

وَاَنْزَلْنَا اِلَیکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للِنَّاسِِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ 
’’اے پیغمبر! ہم نے آپ کی طرف قرآن اس لیے اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اس کی تشریح وتبیین کر کے بتلائیں۔‘‘ (النحل آیت ۴۴)

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس منصب کے مطابق توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی، جیسے نماز کی تعداد اور رکعات، اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیئت، زکاۃ کا نصاب، اس کی شرح، اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات۔ قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی یہ تفسیر وتوضیح نبوی امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ نماز اور زکاۃ کی یہ شکلیں اور تفصیلات عہد نبوی سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آ رہی ہیں، ان میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔

۲۔ قرآن کریم کے اجمال کی تفصیل وتفسیر جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب ہے، بالکل اسی طرح عمومات قرآنی کی تخصیص اور اطلاقات (مطلق) کی تقیید بھی تبیین قرآنی کا ایک حصہ ہے اور قرآن کے عموم واطلاق کی تخصیص وتقیید بھی آپ کا منصبی فریضہ ہے اور اس کے تحت آپ نے یہ کام بھی کیا ہے اور اسے بھی امت مسلمہ نے متفقہ طور پر قبول کی اہے۔ اسے زائد علی القرآن (قرآن میں اضافہ) یا تغیر وتبدل کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا، جیس اکہ آج کل فراہی گروہ سمیت بعض حضرات ان کو رد کرنے کی شوخ چشمانہ جسارت کر رہے ہیں۔

احکام قرآنی کے عموم کی تخصیص کی چند مثالیں

ہم تفصیل میں جائے بغیر چند مثالیں ایسے عموم قرآنی کی پیش کرتے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے تخصیص کی گئی ہے۔

(۱) وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوا اَیْدِیَھُمَا 
’’چور مرد ہو یا عورت، ان کے ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ (المائدہ، آیت ۳۸)

اس میں چور کا لفظ عام ہے۔ معمولی چیز چرانے والا چور ہو یا قیمتی چیز چرانے والا، لیکن اس عموم سے حدیث رسول نے اس چور کو خارج کر دیا جس نے ربع دینار (۴/۱) سے کم قیمت کی چوری کی ہو۔ (سنن نسائی، حدیث ۴۹۳۲) یعنی چور (السارق) کے عموم میں تخصیص کر دی کہ اس سے وہ خاص چور مراد ہے جس نے ایک خاص قدر وقیمت کی چیز چرائی ہو، نہ کہ ہر قسم کے چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں گے، جیسا کہ آیت کے عموم کا اقتضا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور تخصیصات بھی احادیث سے ثابت ہیں۔ نیز بعض فقہاء کی عائد کردہ شرائط سے بھی (جس کی تفصیل اہل علم جانتے ہیں۔ علاوہ ازیں ’’تدبر قرآن‘‘ میں بھی چھ سات شرطیں بیان کی گئی ہیں)۔

(۲) قرآن کریم میں ہے:

حُرِّمَتْ عَلَیکُمُ الْمَیتَۃُ وَالدَّمُ
’’مردار اور خون تمھارے لیے حرام ہیں۔‘‘ (المائدہ، آیت ۳)

لیکن اس عموم میں حدیث رسول نے تخصیص کی اور مچھلی اور ٹڈی (دو مردار) اور جگر اور تلی (دو خون) حلال قرار دیے۔

احلت لنا میتتان ودمان: الجراد والحوت والکبد والطحال 
(بلوغ المرام، الطہارۃ، حدیث ۱۱۔ اس حدیث کا سنداً موقوف ہونا صحیح ہے، لیکن حکماً مرفوع ہے کیونکہ صحابی کا کہنا ہے: احلت لنا، اور یہ امرنا اور نھینا کی طرح حکماً مرفوع ہے۔ شرح صفی الرحمن مبارک پوری)

حالانکہ عموم آیت کی رو سے یہ چیزیں حرام قرار پاتی ہیں۔

(۳) قُل لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّماً عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَن یَکُونَ مَیْْتَۃً أَوْ دَماً مَّسْفُوحاً أَوْ لَحْمَ خِنزِیْرٍ فَإِنَّہُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقاً أُھِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ

اس آیت میں کلمہ حصر کے ساتھ چار محرمات کی تفصیل ہے (مردار جانور، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) جس کا اقتضاء یہ ہے کہ ان چار محرمات کے علاوہ دیگر چیزیں حلال ہوں، لیکن اس عموم میں بھی حدیث رسول سے تخصیص کی گئی اور ہر ذی ناب (کچلی والا جانور) اور ذی مخلب (پنجے سے شکار کرنے والا پرندہ) بھی حرام کر دیا گیا۔ (صحیح مسلم ، ۱۹۳۴)

اسی طرح حدیث رسول سے محرمات میں پالتو گدھے کا اضافہ کیا گیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نہی (ممانعت) کو اللہ کا حکم قرار دیا۔ آپ نے فرمایا:

ان اللہ ورسولہ ینھیانکم عن لحوم الحمر الاھلیۃ 
’’اللہ اور اس کا رسول تمھیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری، المغازی، حدیث ۴۱۹۹)

(۴) اسی طرح قرآن صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کی حرمت بیان کرتا ہے۔ رضاعی بیٹی کی حرمت کا اضافہ حدیث رسول ہی سے کیا گیا ہے۔

(۵) قرآن صرف دو بہنوں کو جمع کرنے سے منع کرتا ہے۔ خالہ اور بھانجی، پھوپھی اور بھتیجی کے جمع کرنے کی ممانعت قرآن کریم میں نہیں ہے، بلکہ وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَاءَ ذَالِکُمْ  کے عموم سے ان کے جمع کرنے کی اباحت نکلتی ہے، لیکن حدیث رسول ہی نے اس عموم میں یہ تخصیص کی کہ وَرَاءَ ذَالِکُمْ کے حکم عموم میں خالہ بھانجی اور پھوپھی بھتیجی کو جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

(۶) بالکل اسی طرح سورۃ النور کی آیت ۲ کا معاملہ ہے:

اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِی فَاجْلِدُوا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِاءَۃَ جَلْدَۃٍ

اس میں زانی مرد اور زانی عورت کی جو سزا (سو کوڑے) بیان کی گئی ہے ،یہ عام ہے جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ زانی شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، ہر قسم کے زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا ہے، لیکن اس آیت کے عموم میں بھی حدیث رسول نے تخصیص کر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طرز عمل سے بھی اس کی وضاحت فرما دی کہ سورۃ النور میں جو زنا کی سزا بیان کی گئی ہے، وہ صرف غیر شادی شدہ زانیوں کی ہے۔ اگر زناکار مرد یا عورت شادی شدہ ہوں گے تو ان کی سزا سو کوڑے نہیں ہوگی، بلکہ رجم (سنگ ساری) ہے۔

اسی طرح اور متعدد مقامات ہیں جہاں قرآن کے عموم کو حدیث رسول سے خاص اور مقید کیا گیا ہے اور جس کو آج تک سب بالاتفاق مانتے آئے ہیں اور آج بھی مولانا اصلاحی وغامدی (اور ان سے متاثر چند افراد) کے سوا، اہل سنت کے تمام مکاتب فکر اس کو مانتے ہیں۔

بنا بریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جس طرح یہ منصب ہے کہ آپ قرآن کے مجمل احکام کی تفسیر اور تفصیل بیان فرمائیں (جیسا کہ فرمائی ہے) جیسے نمازوں کی تعداد، رکعتوں کی تعداد اور دیگر مسائل نماز، زکاۃ کا نصاب اور اس کی دیگر تفصیلات، حج وعمرہ اور قربانی کے مناسک ومسائل اور دیگر اس انداز کے احکام ہیں، اسی طرح آپ کو یہ تشریعی مقام بھی حاصل ہے کہ آپ ایسے احکام دیں جو قرآن میں منصوص نہ ہوں، جس طرح چند مثالیں ابھی بیان کی گئی ہیں۔ انھیں ظاہر قرآن کے خلاف یا زیادۃ علی القرآن یا نسخ قرآن یا تغیر وتبدل باور کرا کے رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسے احکام حدیثیہ کو ظاہر قرآن کے خلاف یا قرآن پر زیادتی یا قرآن کا نسخ یا تغیر وتبدل کہنا ہی غلط ہے۔ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ منصب ہے جس کو قرآن نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل حکم دے کر بیان فرمایا ہے۔ مثلاً:

یَا أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ، 
’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے اولو الامر کی۔‘‘ (النساء ۵۹)

اس آیت میں اللہ کی اطاعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولو الامر کی اطاعت کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے، لیکن اولو الامر کی اطاعت کے حکم کے لیے الگ ’’اطیعوا‘‘ کے الفاظ نہیں لائے گئے۔ البتہ أَطِیْعُوا اللّٰہَ  کے ساتھ أَطِیْعُوا الرَّسُولَ  ضرور کہا جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ جس طرح اللہ کی اطاعت مستقل ہے، بالکل اسی طرح اطاعت رسول بھی مستقلاً ضروری ہے۔ تاہم اولو الامر (فقہاء، علماء یا حاکمان وقت) کی اطاعت مشروط ہے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ۔ اگر اولو الامر اللہ کی اطاعت یا رسول کی اطاعت سے انحراف کریں تو لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق کے تحت ان کی اطاعت واجب نہیں رہے گی، بلکہ مخالفت ضروری ہوگی۔ اور آیت مذکور کے دوسرے حصے:

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُولِ
(اپنے آپس کے جھگڑے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو)

سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ اگر صرف کتاب الٰہی ہی کو ماننا کافی ہوتا تو تنازعات کی صورت میں صرف کتاب الٰہی کی طرف لوٹنے کا حکم دیا جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے کتاب الٰہی کے ساتھ رسول کی طرف لوٹنے کو بھی ضروری قرار دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل اطاعت کے وجوب کو ثابت کر رہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مستقل اطاعت کے حکم کو قرآن نے بڑا کھول کر بیان کیا ہے۔ أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُولَ  کو بہ تکرار متعدد جگہ ذکر فرمایا۔ مثلاً سورۂ نساء کے علاوہ سورۂ مائدہ: ۹۲، سورۂ نور: ۴۵، سورۂ محمد: ۳۳، سورۂ تغابن: ۱۲۔ نیز فرمایا:

وَمَا اَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ اِلاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْن اللّٰہِ 
’’ہم نے ہر رسول کو اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔‘‘ (النساء، ۶۴)
مَن یُّطِع الرَّسُولَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ
’’جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی، بلاشبہ اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ (النساء، ۸۰)
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُونِی
’’اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرا اتباع کرو۔‘‘ (آل عمران، ۳۱)

ان آیات سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ایک مطاع اور متبوع کی ہے جس کی اطاعت واتباع اہل ایمان کے لیے ضروری ہے۔ علاوہ ازیں آپ کو فصل خصومات اور رفع تنازعات کے لیے حاکم اور حکم بنایا گیا ہے جیسا کہ آیت مذکورہ (فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْءٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُول) کے علاوہ ذیل کی آیات سے بھی واضح ہے:

فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْْنَھُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوا فِیْ أَنفُسِھِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْْتَ وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیْماً
’’آپ کے رب کی قسم! لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک وہ (اے پیغمبر!) آپ کو اپنے جھگڑوں میں اپنا حکم (ثالث) نہیں مانیں گے، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور دل سے اس کو تسلیم کر لیں۔‘‘ (النساء، ۶۵)

نیز ارشاد الٰہی ہے:

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَمْراً أَن یَکُونَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِھِمْ، وَمَن یَعْصِ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُّبِیْناً
’’جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر کسی مومن مرد وعورت کو اپنے معاملے کا اختیار نہیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، یقیناًوہ ظاہری گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔‘‘ (الاحزاب، ۳۶)

ان آیات میں بیان کردہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حاکمانہ حیثیت بھی آپ کی مستقل اطاعت کو ضروری قرار دیتی ہے۔ نیز آیت احزاب میں اللہ تعالی ٰنے صرف اپنے ہی فیصلے کے ماننے کو مقتضائے ایمان قرار نہیں دیا، بلکہ اپنے فیصلے کے ساتھ رسول کے فیصلے کو بھی مقتضائے ایمان ٹھہرایا ہے۔ اسی طرح اور بھی متعدد مقامات پر اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے ساتھ رکھا ہے اور ان کی بھی وہی حیثیت رکھی ہے جو اللہ کی اپنی حیثیت ہے۔ جیسے سورۃ الحجرات کے آغاز میں فرمایا:

یَا أَیُّھا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَیْْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ

اسی طرح سورۂ احزاب کے آخر میں فرمایا:

وَمَن یُطِعْ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزاً عَظِیْماً

سورۂ آل عمران (آیت ۳۲) میں فرمایا:

قُلْ أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو اللہ تعالیٰ نے بطور آمر وناہی مطاع مطلق کی حیثیت سے بیان فرمایا:

مَا آتاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوا
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں جو دیں، وہ لے لو اور جس سے روک دیں، رک جاؤ۔‘‘ (الحشر، ۷)

سورۃ النور کے آخر میں فرمایا:

فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِہِ أَن تُصِیْبَھْمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ 
’جو لوگ اس (رسول) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اس بات سے شریں کہ ان پر کوئی آزمائش آ جائے یا ان کو کوئی دردناک عذاب آ پہنچے۔‘‘ (النور، ۶۳)

اسی طرح قران کریم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو فرائض منصبی بیان فرمائے ہیں، ان میں تلاوت آیات کے ساتھ ساتھ تعلیم کتاب وحکمت کا بھی ذکر ہے۔ (الجمعۃ۲۔ البقرۃ، ۱۵۱) ظاہر بات ہے کہ یہ تعلیم کتاب وحکمت، تلاوتِ آیات سے یکسر مختلف چیز ہے۔ اگر آپ کا مقصد بعثت تلاوت آیات ہی ہوتا، اس کی تعلیم وتشریح آپ کی ذمہ داری نہ ہوتی تو قرآن تعلیم کتاب وحکمت کے الگ عنوان سے اس کا ذکر کبھی نہ کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم کتاب وحکمت بھی آپ کا منصب ہے اور اس سے مراد آپ کی وہی تشریح وتبیین ہے جس کی وضاحت گزشتہ صفحات میں کی گئی ہے۔

بہرحال قرآن کریم کی بیان کردہ تفصیلات سے واضح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت نعوذ باللہ صرف ایک قاصد اور ’’چھٹی رساں‘‘ کی نہیں ہے، بلکہ آپ کی حیثیت ایک مطاع ومتبوع، قرآن کے معلم ومبین اور حاکم وحکم کی ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو فرامین صحیح سند سے ثابت ہیں، وہ دین میں حجت اور اسی طرح واجب الاطاعت ہیں جس طرح قرآنی احکام پر عمل کرنا اہل ایمان کے لیے ضروری اور فرض وواجب ہے۔ 

(جاری)

آراء و افکار