امام لیث بن سعدؒ ۔ حیات و خدمات (۱)

محبوب عالم فاروقی

[اس تحریر میں بنیادی طور پر حافظ ابن حجرؒ کے رسالہ ’’الرحمۃ الغیثیۃ فی الترجمۃ اللثیۃ‘‘ سے استفادہ کیا گیا ہے۔]


اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حفاظت دین کے لیے ہر دور میں ایسے رجال پیدا کیے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی زندگیاں کھپا دیں۔ اس چشمہ صافی کو گدلاکرنے کے لیے کتنے ہی طالع آزما میدان میں آئے اور فکر اسلامی کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہوئے، لیکن ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے رجال پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے ان فتنوں کا رَد کیااور شریعت اسلامیہ کے چشمہ صافی کو اسی طرح مصفی رکھا جس طرح کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم امت کو دے کر گئے تھے۔ 

امام اللیث بن سعد بھی امت کے ان عظیم علماء اور فقہاء کے طائفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

نام و نسب اور خاندانی پس منظر 

آپ کا نام لیث اور کنیت ابو الحرث ہے۔ آپ کے والد کا نام سعد اور دادا کا نام عبدالرحمان ہے۔ آپ کا تعلق ایک غلام خاندان سے تھا جو کسی معرکہ میں قبیلہ قیس کی شاخ ’ فہم ‘کا غلام بن گیا تھا ۔ آپ کا آبائی وطن اصفہان ہے۔ اسی غلامی کی وجہ سے آپ کے آباؤاجداد مصر میں آباد ہو گئے تھے اور امام لیث کی پیدائش مصر کے ایک گاؤں ’’ قرقشندہ‘‘ میں ہوئی۔ یہ علاقہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے نواح میں واقع ہے۔ امام لیث 94ھ میں تولد ہوئے۔ اسی وجہ سے آپ کے دادا کا ذکر مولیٰ بنی فہم کے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ امام صاحب کو اصفہان سے زندگی بھر خاص لگاؤ رہا۔ فرمایا کرتے تھے کہ اہل اصفہان سے نیک برتاؤ کیا کرو۔ (ابن حجر العسقلانی، الرحمۃ الغیثیۃ بالترجمۃ اللثیۃ، ص ۳)

اسی قرقشندہ بستی میں ان کی زرعی زمینیں تھیں جن سے ان کو سالانہ چالیس سے پچاس ہزار درہم آمدن ہوتی تھی۔ یہ بات ان کے چچا ابن رفاعہ کے لیے قابل برداشت نہیں تھی اور وہ ان کی مخالفت میں لگے رہتے تھے اور آخر کا ان کا گھر بھی تباہ کردیا تھا۔ امام صاحب کے نام سے مصر میں ایک محلہ زقاق لیث بن سعد کے نام سے ہے جہاں ان کا اپنا گھر اور ایک بہت بڑی مسجد بھی ہے جو امام لیث نے خود تعمیر کروائی تھی۔ (ابو الفرج ابن الجوزی، صفۃ الصفوۃ، ج ۴، ص ۳۰۹ و ۳۱۰)

اساتذہ وشیوخ

ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں تفصیل نہیں ملتی، مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کی مروجہ تعلیم انہوں نے حاصل کی جس میں عربی زبان واد ب، صرف ونحو اور عربی میں شعر وسخن شامل ہے۔ بعد میں انہوں نے علم حدیث اور فقہ پر دسترس حاصل کی اور ان کی وجہ شہرت یہی علوم بنے۔ سن شعور کوپہنچتے ہی انہوں نے حدیث وفقہ کی طرف توجہ کی۔ سب سے پہلے اپنے وطن مصر کے مشائخ فقہ وحدیث سے استفادہ کیا، پھراسلامی ممالک کے دوسرے مقامات کا سفر کرکے تمام معروف ومشہور اساتذہ سے مستفیض ہوئے۔ 

امام لیث بن سعد نے کثیر اساتذہ سے اکتساب فیض فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ملاقات پچاس سے زائد تابعین سے ہوئی۔ ان کے بعض شیوخ کے نام درج ذیل ہیں: 

عطاء، نافع، ابو الزبیر، زہری، ابن ابی ملیکہ، سعید بن ابی سعید المقبری، مشرح ابن ہاعان، ابو قبیل المعافری، یزید بن ابی حبیب، جعفر بن ربیعہ، عبید اللہ بن ابی جعفر، بکیر بن عبد اللہ بن الاشج، عبد الرحمن بن القاسم، حارث بن یعقوب، عقیل بن خالد، یونس بن یزید، حکیم بن عبد اللہ بن قیس، عامر بن یحییٰ المعافری، عمر مولیٰ غفرۃ، عمران بن ابی انس، عیاش بن عباس، کثیر بن فرقد، ہشام بن عروۃ، عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی حسین، ایوب بن موسیٰ، بکر بن سوادۃ، ابو کثیر الجلاح، حارث بن یزید الحضرمی، خالد بن یزید، صفوان بن سلیم، خیر بن نعیم، ابو الزناد، قتادہ، محمد بن یحییٰ بن حبان، یزید بن عبد اللہ بن الہاد، یحییٰ بن سعید انصاری۔

مشہور تابعی نافع جوحضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے خاص تربیت یافتہ تھے، لیث بن سعد کے زمانہ میں مرجع خلائق تھے۔یہ ان کی خدمت میں بھی پہنچے۔ حضرت نافع نے ان کا نام ونسب اور وطن پوچھا۔ جب یہ بتاچکے توعمردریافت کی۔ لیث نے کہا:بیس برس۔ فرمایا مگرداڑھی سے تومعلوم ہوتا ہے کہ تمہاری عمر چالیس سال سے کم نہ ہوگی۔ (الرحمۃ الغیثیۃ، باب دوم، ص ۳) 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ میں نے لیث بن سعد کا ایک مرتب کردہ حدیث کا ایک مجموعہ دیکھا تھا جس میں انہوں نے سو (۱۰۰) کے قریب حدیثیں صرف نافع کی روایت سے جمع کی تھیں۔

نافع مولیٰ ابن عمر کے علاوہ ان کے چند تابعی شیوخ کے نام یہ ہیں:امام زہری، سعید المقبری، عبداللہ بن ابی ملیکہ، یحییٰ الانصاری رحمہم اللہ وغیرہ۔ ان کے علاوہ بے شمار اتباع تابعین سے بھی انہوں نے فیض حاصل کیا، امام نووی رحمہ اللہ ان کے چند ممتاز شیوخ کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: وخلائق لا یحصون من الائمۃ۔ (ان کے علاوہ اتنے ائمہ سے انہوں نے استفادہ کیا ہے کہ ان کا شمار مشکل ہے۔) (تہذیب الاسماء)

امام لیث بن سعد کو کوامام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے بھی سماع حدیث حاصل ہے یا نہیں، اس کے متعلق تاریخی روایات مختلف ہیں۔ بغدادی نے لکھا ہے کہ یہ سنہ۳۱۱ھ میں حج کے لیے گئے تھے اور اسی سال مکہ میں امام زہری رحمہ اللہ سے سماع کیا تھا۔ حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ نے بھی تہذیب میں یہی لکھا ہے، مگرالرحمۃ الغیثیۃ میں اس کے خلاف کوئی ایک روایت نقل کی ہے۔ ابن خلکان نے ان سے استفادہ کا توذکر کیا ہے، مگرسماع کا نہیں کیا۔ 

صحیح بات یہ ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ کے علم وفضل سے انہوں نے فائدہ ضرور حاصل کیا تھا، لیکن یہ استفادہ بالواسطہ تھا، بالمشافہہ نہیں تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ لیث، امام زہری کی روایتیں کبھی ایک، کبھی دواور تین اور اس سے زائد واسطوں سے روایت کرتے ہیں۔ خود لیث کا یہ قول متعدد تذکروں میں منقول ہے:

کتبت من علم الزھری کثیراً (یعنی عن غیرہ) فاردت ان ارکب البرید الیہ الی الرصافۃ فخفت ان لایکون ذالک للہ فترکت ذالک (یعنی فصار یروی عنہ بالواسطۃ)۔ (الرحمۃ الغیثیۃ، ص ۴)
ترجمہ: ’’میں نے زہری کی روایتوں کی ایک کثیر مقدار لکھ لی تھی، یعنی دوسروں کے واسطے سے۔ پھرمیں نے ارادہ کیا کہ رصافہ جاکر ان سے بالمشافہہ روایت کروں مگراس خوف سے باز آ گیا کہ ممکن ہے کہ میرا یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ پھروہ بالواسطہ ہی روایت کرتے رہے ۔‘‘

تلامذہ اور شاگرد

امام لیث بن سعد کے سامنے بڑے بڑے ائمہ کرام کو زانوے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس زمانے میں تھے، لیکن وہ فیض حاصل نہ کرسکے اور ساری زندگی اس پر افسردہ رہے۔ 

اوپرذکرآچکا ہے کہ امام عنفوانِ شباب ہی میں اہلِ علم کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ اس وقت سے لے کر وفات تک وہ مصر ہی میں رہے۔ پوری عمر میں بمشکل دو یا تین بار وہ مصر سے باہر گئے۔ اس پوری مدت میں وہ اپنے اوقات کا نصف حصہ تعلیم وافادہ، تحدیث روایت اور تفریع مسائل میں صرف کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اتنی لمبی مدت میں ان سے ہزاروں آدمیوں نے اکتساب فیض کیا ہوگا۔ ان تمام مستفیدین اور تلامذہ کا استقصا توناممکن ہے، چند ممتاز فیض یافتگانِ درس کے نام یہاں درج کیے جاتے ہیں:

شعیب، محمد بن عجلان، ہشام بن سعد، (یہ دونوں بزرگ ان کے شیوخ میں تھے)، ابن لہیعہ، ہشیم بن بشیر، قیس بن الربیع، عبداللہ بن مبارک، عبداللہ بن وہب، ابوالولید بن مسلم، ابوسلمہ الخزاعی، عبداللہ ابن الحکم، سعید بن سلیمان، آدم بن ایاس، عبداللہ بن یزید المقری، عمروبن خالد، عیسیٰ بن حماد رحمہم اللہ وغیرہ۔

حافظ ابن حجر نے تقریباً ۵۰ ثقہ تلامذہ کا تذکرہ کیا ہے۔ 

سخاوت، فیاضی اور مہمان نوازی

ان کے صحیفہ زندگی کا یہ باب نہایت ہی روشن ہے۔ وہ اپنے اخلاق واوصاف اور سیرت وکردار میں اسلامی زندگی کا نمونہ تھے۔ ابن مریم فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ جامع اوصاف آدمی نہیں دیکھا۔ ہروہ عادت وخوبی جس سے خدا کا قرب حاصل ہوسکتا ہو، وہ ان میں موجود تھی۔ (الرحمۃ الغیثیۃ ص ۹)

ایک بار مصر کا ایک قافلہ امام مالک کی خدمت میں گیا۔ انہوں نے ملنے میں کچھ تاخیر کی۔ یہ لوگ آپس میں چہ مے گوئیاں کرنے لگے۔ کسی نے کہا کہ یہ اخلاق میں ہمارے امام کی طرح نہیں ہیں۔ امام مالک نے یہ بات سنی توان کوفوراً اندر بلالیا اور پوچھا، تمہارے امام کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ لیث بن سعد۔ فرمایا، مجھے ان کے ساتھ تشبیہ نہ دو۔ پھران کے کچھ اخلاقی اوصاف بیان کیے۔ (صفۃ الصفوۃ، ج ۴ ص ۳۱۱)

ایک بار بعض تاجروں نے ان سے کچھ پھل خریدے۔ خریداری کے بعد ان کوپھل گراں محسوس ہوئے، اس لیے آپ سے پھل واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے پھل واپس لے لیے۔ جب معاملہ ختم ہوگیا توروپیے کی تھیلی مانگی اور اس میں سے پچاس دینار نکال کرتاجروں کوہدیتاً دے دیے۔ ان کے صاحبزادے بھی موجود تھے۔ ان کویہ برامعلوم ہوا اور انہوں نے حضرت لیث سے اس کا ظہار بھی کیا، مگرآپ نے فرمایا کہ خدا تمھیں معاف کرے، یہ پھل انہوں نے فائدے ہی کی اْمید سے توخریدا تھا، مگرجب ان کوفائدہ محسوس نہیں ہوا توانہوں نے واپس کردیا اور واپس کرنے کے بعد ان کے فائدے کی اْمید بھی ختم ہوگئی تومیں نے یہ مناسب سمجھا کہ ان کی اس اْمید وتوقع کا کچھ توبدلہ دے دوں۔ (صفۃ الصفوۃ، ج ۴ ص ۳۱۱)

سخاوت وفیاضی گویا ان کی طبیعت ثانیہ بن گئی تھی۔ وہ اپنی دولت مستحقین پربے دریغ صرف کرتے تھے۔ ان کے سوانح نگار لکھتے ہیں کہ ان کی سالانہ آمدنی ۷۰، ۸۰ ہزار دینار تھی، مگراس پوری آمدنی پرکبھی زکوٰۃ دینے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ یہ پوری آمدنی فقراء ومساکین اور مستحق اہل علم پرخرچ ہوجاتی تھی۔ خود فرماتے تھے کہ میں جب سے بالغ ہوا ہوں، مجھ پرایک درہم بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوئی۔

کسی سال آمدنی کم ہوتی تھی توقرض کی نوبت آجاتی تھی۔ جب تک زندہ رہے، سودینار سالانہ تسلسل سے امام مالک رحمہ اللہ کے پاس بھیجتے رہے۔ ایک بار امام مالک نے انہیں لکھا کہ مجھ پرکچھ قرض ہوگیا ہے تو فوراً پانچ سودینار ان کے یہاں بھجوادیے۔ ایک بار امام مالک نے ان سے تھوڑی سی عصفر (پیلے رنگ کی گھاس) لڑکوں کے کپڑے رنگنے کے لیے مانگی (غالباً یہ مصر کی خاص پیداوار تھی)۔ انہوں نے اتنی مقدار میں بھیجی کہ امام مالک رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ہم نے اپنے گھرکے بچوں کے کپڑے رنگے، پڑوسیوں نے استعمال کیا۔ پھربھی اتنی بچ گئی کہ ایک ہزار دینار میں اْسے فروخت کیا گیا۔ (خطیب نے اس واقعہ کے بیان میں بہت زیادہ مبالغہ سے کام لیا ہے۔)

امام لیث بن سعد ۱۱۳ھ میں حج کوگئے تھے۔ حج سے فارغ ہوکر زیارتِ نبوی کی غرض سے مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچے توامام مالک نے عمدہ کھجوروں کا ایک طشت ان کے پاس ہدیہ بھیجا۔ انہوں نے اس طشت میں ایک ہزار دینار رکھ کرواپس کیا۔

ابن لہیعہ مشہور محدث تھے۔ اتفاقاً ان کے گھر میں آگ لگ گئی اور سارا اثاثہ جل گیا۔ حضرت لیث بن سعد کواطلاع ہوئی توایک ہزار دینار بطورِ اعانت ان کے پاس بھیج دیے۔ بسااوقات وہ اپنی اس دادودہش کواپنے لڑکوں سے بھی پوشیدہ رکھتے تھے تاکہ پانے والے کویہ ذلیل نہ سمجھیں۔ ایک بار منصور بن عمار کوانہوں نے ایک رقم دی اور کہا کہ دیکھو میرے لڑکے کونہ معلوم ہو، ورنہ تم اس کی نگاہ میں حقیر ہوجاؤ گے۔ جب ان کے صاحبزادے شعیب کومعلوم ہوتا تواس کی تلافی میں انہوں نے بھی اپنے والد کی رقم سے ایک دینار کم رقم منصور کودی اور کہا کہ میں نے ایک دینار کم اس لیے کردیا ہے کہ عطیہ میں والد کے برابر نہ ہوسکوں۔

اسدبن موسیٰ کا بیان ہے کہ جب عراق میں عباسیوں نے بنوامیہ کوقتل کرنا شروع کیا تومیں بھاگ کرمصر چلا گیا۔ مصر میں بڑی بے سروسامانی اور پریشانی کی حالت میں پہنچا تھا۔ اتفاق سے اسی حالت میں لیث بن سعد کی مجلس درس میں گیا۔ جب مجلس برخاست ہوگئی توان کا خادم میرے پاس آیا اور کہا کہ میں جب تک واپس نہ آجاؤں، تم یہیں ٹھہرو۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور اس نے مجھے سودینار کی ایک تھیلی دی اور کہا کہ امام نے فرمایا کہ اس سے اپنا سامان درست کرلیجیے۔ اسد کا بیان ہے کہ اس وقت میری کمر میں ایک ہزار دینار بندھے ہوئے تھے۔ میں نے اس کونکالا اور خادم سے کہا کہ میں شیخ سے ملنا چاہتا ہوں، تم جاکر اجازت لے آؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس گیا، اپنا نام ونسب بتایا اور پھراس رقم کوواپس کرنا چاہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدیہ ہے، صدقہ نہیں ہے، اس لیے قبول کرنے میں تامل نہ ہونا چاہیے۔ میں نے معذرت کی اور کہا کہ جس چیز سے میں مستغنی ہوں، نفس کواس کا عادی بنانا نہیں چاہتا۔ شیخ نے فرمایا کہ اچھا اگرتم لینا پسند نہیں کرتے تومستحق اصحاب حدیث میں یہ رقم تقسیم کردینا۔ اسد کہتے ہیں کہ میں نے مجبور ہوکر یہی کیا۔

ایک عورت ایک پیالہ لے کرآئی اور اس نے کہا کہ میرا شوہر بیمار ہے۔ (بعض تذکروں میں لڑکے کا ذکر ہے اور بعض تذکروں میں مطلقاً یہ واقعہ مذکور ہے)۔ معلوم ہوا ہے کہ آپ کے یہاں شہد ہے، اس کے لیے پیالہ بھر شہد دے دیجیے۔ فرمایا، وکیل (ناظم اْمورِ خانہ داری یاپرائیوٹ سکریٹری کووکیل کہتے تھے) کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمھیں ایک مطر شہد دے دے۔ عورت جب وکیل کے پاس پہنچی تووکیل امام کے پاس آیا اور غالباً شہد کی اتنی بڑی مقدار دینے پرکچھ کہا۔ مگرآپ نے فرمایا کہ جاؤ، اس کودے دو۔ اس نے اپنے ظرف کے بقدر مانگا تھا، ہم اس کواپنے ظرف کے بقدر دیتے ہیں۔ (ایک مطر کا ایک سوبیس رطل ہوتا ہے۔ ) (الرحمۃ الغیثیۃ وصفۃ الصفوۃ)

سخاوت وفیاضی کا ایک مظہر مہمان نوازی بھی ہے۔ بخل کے ساتھ یہ صفت شاذ ونادر ہی جمع ہوتی ہے۔ لیث بن سعد جس درجہ کے فیاض تھے، اسی درجہ کے مہمان نواز بھی تھے۔ عبداللہ ابن صالح ان کے خاص شاگرد اور کاتب تھے۔ ان کا بیان ہے کہ میں تقریباً بیس برس ان کی خدمت میں رہا، مگرکبھی ان کوتنہا کھانا کھاتے نہیں دیکھا۔ ابوحاتم کا بیان ہے کہ لیث کے پاس جب کوئی مہمان باہر سے آجاتا تھا تووہ جب تک رہتا تھا، اس کووہ اپنے اہل وعیال کی طرح اپنی کفالت میں لے لیتے تھے۔ جب وہ جانا چاہتا تھا پورازادِ سفر دے کرواپس کرتے تھے۔

یہ مہمان نوازی صرف حضر ہی تک محدود نہیں تھی، بلکہ سفر میں بھی مہمانوں کا ہجوم ان کے یہ ساتھ ہوتا تھا۔ ان کے شاگرد قتیبہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ ایک بار امام لیث بن سعد کے ساتھ اسکندریہ سے سفر کرنے کا اتفاق ہوا تواس سفر میں تین کشتیاں تھیںؒ ایک کشتی میں کھانے کا سامان تھا، دوسری میں اہل وعیال اور تیسری کشتی مہمانوں کے لیے مخصوص تھی۔

اشہب کا بیان ہے کہ لیث بن سعد کبھی کسی سائل کوواپس نہیں کرتے تھے اور ان کے یہاں ایک لنگر خانہ جاری رہتا تھا۔ عموماً جاڑوں میں ان کے یہاں ہریسہ (یہ گیہوں کوکوٹ کراس میں گوشت کی آمیزش کرکے بناتے تھے) شہد اور گائے کے گوشت کے ساتھ مہمانوں کوملتا تھا اور گرمی میں اخروٹ کا ستوشکر کے ساتھ۔ ان کا معمول تھا کہ ہرنماز کے بعد مساکین پرکچھ رقم صدقہ ضرور کرتے تھے۔ 

ان کی زندگی کی جامعیت کی وجہ سے ہرطبقہ اور ہرزمرہ کے لوگ ان کی خدمت میں آتے اور اپنی ضرورت پوری کرتے تھے۔ حکومت کے ذمہ دار اور اہلِ علم سے لے کرعوام تک اس میں شامل تھے۔ روزانہ ان کی چارمجلسیں ہوتی تھیں۔ ایک مجلس حکومت وارکانِ حکومت کی ضروریات کے لیے مخصوص ہوتی تھی، دوسری مجلس میں وہ تشنگانِ حدیث نبوی کی پیاس بجھاتے تھے اور تیسری مجلس ان لوگوں کے لیے ہوتی تھی جوفقہ ومسائلِ فقہ دریافت کرنے آتے تھے اور چوتھی مجلس عام لوگوں کے لیے مخصوص ہوتی تھی۔ ان مجلسوں میں ان کا سلوک نہایت ہی فیاضانہ ہوتا تھا، نہ توافادہ وتعلیم میں کسی کی دل شکنی کرتے تھے اور نہ اہل حاجت روائی میں دلگیر ہوتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ :

لا یسئلہ احد فیردہ صغرت حاجۃ اوکبرت۔ (الرحمۃ الغیثیۃ ص ۹)

ترجمہ:یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی شخص سوال کرے اور وہ اسے ردکردیں؛ خواہ اس کی وہ ضرورت چھوٹی ہویابڑی ہو۔ 

لیکن یہ ساری فیاضی اور سیرچشمی دوسروں کے لیے تھی، ان کی ذاتی زندگی نہایت سادہ تھی۔ محمد بن معاویہ کا بیان ہے کہ ایک بار اپنے گدھے پرسوار ہوکر جارہے تھے تومیں نے ان کی سواری اور سامان وغیرہ کا اندازہ کیا توسب کی قیمت ۱۸، ۲۰ درہم سے زیادہ نہ تھی۔

دنیاوی عہدوں سے بیزاری

خلافت راشدہ کے بعد اموی حکومت جب ملوکیت کا شکار ہوئی اور حق وناحق کا فیصلہ ایک شخص کی رائے کے تحت ہونے لگا، اس وقت سے ممتاز صحابہ رضی اللہ عنہم اور محتاط تابعین نے حکومت سے تعلق رکھنا پسند نہیں کیا۔ تبع تابعین کے زمانہ میں گویہ احتیاط کم ہوگئی تھی مگرپھربھی ممتاز اور خداترس تبع تابعین کی اکثریت نے حکومت کے ساتھ تعاون وتعلق میں صحابہ وتابعین ہی کی روش اختیار کی۔ لیث بن سعد کا رویہ اس بارے میں ذرامعتدل تھا۔ انہوں نے نہ تواتنا تعلق پیدا کیا کہ وہ درباری عالم ہوکر رہ گئے اور نہ اتنے بے تعلق رہے کہ اس شجرممنوعہ کے قریب جانا بھی پسند نہ کرتے۔ انہوں نے نہ توحکومت کی کوئی ذمہ داری قبول کی اور نہ اس کے سامنے اپنی کوئی غرض لے گئے کہ اظہارِ حق میں یہ مانع ہو، مگراسی کے ساتھ وہ خلفاوامراء سے ملتے اور ان کی بہت سی ملکی وانتظامی مشکلات میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتے رہے۔ اوپرذکر آچکا ہے کہ ان کی ایک مجلس خاص طور سے ارکانِ حکومت کی حاجت روائی کے لیے ہوتی تھی۔

ان کی اسی اعتدال پسندی کی وجہ سے عوام اور حکومت دونوں پران کا اثر تھا۔ ان کے مشورے پرمصر کے امراء وقضاۃ کا عزل ونصب ہوتا تھا۔ ایک بار قاضی اسماعیل بن الیسع نے ایک مسئلہ میں ایسا فتویٰ دے دیا جسے اہل مصر پسند نہیں کرتے تھے۔ اس پر ان کے خلاف ایک ہنگامہ ہوگیا۔ جب امام لیث کواطلاع ہوئی تووہ ان کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے یہ فتویٰ کیسے دے دیا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا عمل اس کے خلاف موجود ہے؟ غالباً قاضی صاحب نے رْجوع نہیں کیا، اس لیے لیث بن سعد نے ان کو معزول کرنے کی سفارش کر دی۔

یہ بات بھی یہاں قابل ذکر ہے کہ پہلے مصر میں قضاۃ کا تقرر مصر کے اْمراء کے ہاتھ میں تھا، مگربعد میں یعنی سنہ ۱۵۵ھ سے براہِ راست خلفاء ان کا تقرر کرتے تھے۔ اسماعیل دوسرے قاضی تھے جن کومہدی نے خود مقرر کیا تھا۔ کندی نے کتاب القضاۃ میں اس کی تفصیل دی ہے چنانچہ ان کے معزول کیے جانے کا شاہی فرمان آگیا۔ چونکہ اس معزولی میں قاضی اسماعیل کی ہرطرح کی بدنامی تھی، اس لیے خط میں خاص طور سے یہ بات امام نے لکھ دی تھی کہ ہم کونہ توان کی دیانت داری میں کوئی شبہ ہے اور نہ انہوں نے درہم ودینار میں کوئی خیانت کی ہے، مگران سے شکایت یہ ہے کہ انہوں نے ایک سنت جاریہ کے خلاف فتویٰ دیا اور فیصلہ کیا ہے۔ (کندی نے کتاب القضاۃ میں ان کے معزول کیے جانے کی ایک وجہ اور بھی لکھی ہے۔ ممکن ہے کہ دونوں وجہیں جمع ہوگئی ہوں۔ )

خلیفہ منصور نے ان سے خواہش کی تھی کہ وہ پورے ملک میں اس کی نیابت قبول کرلیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ پورے ملک کی نیابت نہیں بلکہ مصر کی امارت پیش کی تھی، مگرانہوں نے انکار کیا۔ اس نے پھراصرار کیا تواپنی کمزوری کا اظہار کیا۔ اس پرمنصور نے بڑے زور دار الفاظ بلکہ شاہانہ انداز میں کہا کہ میری موجودگی میں آپ کوکسی کمزوری کا احساس نہ کرنا چاہیے، مگراس شدید اصرار کے باوجود وہ اپنے فیصلہ پرجمے رہے اوور یہ ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔

اگرپہلا بیان صحیح ہے (جو حافظ ابن حجر اور امام ذہبی کا ہے) تومنصور ان کے سامنے پوری مملکت اسلام کی وزارت عظمیٰ پیش کررہا تھا اور اگردوسرا بیان صحیح ہے تواسلامی سلطنت کے سب سے بڑے اور مالدار صوبہ کی گورنری انھیں پیش کی جارہی تھی، مگرانہوں نے اس سے گریز کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گواس وقت نظام حکومت اسلامی ہی تھا، مگراقتدار جمہوری نہیں، شخصی تھا، اس لیے حکومت سے منسلک ہونے کے بعد اظہارِ حق کی پوری آزادی نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ محتاط بزرگوں نے دربار سے بالکل بے تعلقی رکھی یاکم ازکم اس کی کسی ذمہ داری کے قبول کرنے سے گریز کیا اور جن بزرگوں نے قبول کیا، وہ بڑی آزمائش میں رہے۔ اس آزمائش میں پڑنے کے بعد چند ہی بزرگ ایسے تھے جواپنی حق گوئی اور جرات سے سلامت بچ گئے؛ ورنہ زیادہ ترلوگوں کا دامن اس آزمائش میں داغدار ہوکر رہا۔ (الرحمۃ الغیثیۃ ص ۸)

کیا عہدۂ قضا قبول کرلیا تھا؟

ابن خلکان اور صاحب شذرات الذہب نے لکھا ہے کہ امام لیث بن سعد نے عہدۂ قضا قبول کرلیا تھا، مگریہ صحیح نہیں ہے۔ اس کی متعدد وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ اوپرذکر آچکا ہے کہ انہوں نے امارت کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ ظاہر ہے کہ جب انہوں نے امارت کی ذمہ داری قبول نہیں کی توپھر اس سے کم درجہ کا عہدہ یعنی عہدہ قضا قبول کرنے کے کیا معنی؟ دوسرے یہ کہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے کہ جب ان کے حکم سے مصر کے امرا ء اورقضاۃ کا عزل ونصب تک ہوتا تھا توپھران کواس عہدہ کے قبول کرنے کے کی کیا ضرورت تھی جوخود ان کے اثر واختیار کے تحت ہو؟ تیسری وجہ یہ ہے کہ کندی نے مصر کے قضاۃ کی مکمل تاریخ لکھ دی ہے۔ اس میں ولاۃ یاقضاۃ کی جوفہرست دی ہے، اس میں کہیں لیث بن سعد کا نام نہیں ملتا۔ بخلاف اس کے کتاب میں ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے ان کی تردید ہوتی ہے۔

بہرحال عہدۂ قضاء قبول نہ کرنے کے باوجود امام لیث بن سعد دربار میں جاتے اور حسب موقع خلفاء کو نصیحت وموعظت بھی کرتے تھے۔ ایک بار ہارون الرشید سے ملنے گئے۔ اس نے ان سے پوچھا کہ مصر کی خوش حالی اور فارغ البالی کا دارومدار کس چیز پر ہے؟ نہایت صفائی سے فرمایا کہ: ’’نیل کے جاری رہنے اور مصر کے امیر کے صلاح وتقویٰ پر۔‘‘ پھرفرمایا کہ نیل کے منبع کی طرف سے گندگی آتی ہے جس کی وجہ سے پوری نہر پٹ جاتی ہے۔ اس کی صفائی کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں سننے کے بعد ہارون نے کہا کہ آپ نے بہت صحیح فرمایا۔

اس زمانہ میں خلفاء وامراء کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کا عام رواج تھا۔ بسااوقات یہ بدعت مسجدوں تک میں کی جاتی تھی۔ ایک بار معروف شاعر عمار بن منصور مصرآیا اور اس نے مسجد میں خلیفہ وقت کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا۔ ابھی اس نے اپنا قصیدہ ختم ہی کیا تھا کہ دوآدمی اس کے پاس آئے اور کہا کہ تم کوامام لیث ابن سعد بلارہے ہیں۔ جب یہ ان کے پاس آیا توآپ نے اس سے کہا کہ تم مسجد میں کیا پڑھ رہے تھے؟ اس نے قصیدہ دہرایا۔ سننے کے بعد ان پرافسوس اور رقت کی کیفیت طاری ہوئی۔ کچھ دیر کے بعد جب یہ کیفیت دور ہوئی تونام پوچھا۔ پھراس کوروپیے کی ایک تھیلی دی اور اس سے کہا کہ اپنے کلام کوسلاطین کے دربار سے بچائے رکھو اور کسی مخلوق کی مدح نہ کرو، بس خدا کی حمدوثنا تمہارے لیے کافی ہے۔ ان شاء اللہ میں ہرسال تم کواتنی ہی رقم بھیجتا رہوں گا۔غالباً اس کے بعد سے اس نے کسی کی مدح نہیں کی اور امام کے حلقہ تلامذہ میں داخل ہوگیا۔

امام لیث بن سعد نے اہل مصر کوحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تنقیص سے روکا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جہاں اور بہت سے فتنے پیدا ہوئے، وہاں ایک فتنہ بزرگوں پرطعن وتشنیع اور سب وشتم کا بھی تھا۔ جولوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حامی تھے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرنا ضروری سمجھتے تھے اور جولوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مددگار تھے، وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پرچھینٹے اڑانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ مصر کے باشندے عام طور پرحضرت علی رضی اللہ عنہ کے حمایتی تھے، اس لیے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مذمت وتنقیص کیا کرتے تھے۔ مصر میں جب امام لیث بن سعد کا اثرورسوخ بڑھا توانہوں نے اس کے خلاف آواز اْٹھائی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل عام طور پربیان کرنے شروع کردیے، یہاں تک کہ تنقیص عثمان رضی اللہ عنہ کی بدعت سیۂ مصر سے ختم ہوگئی۔ (الرحمۃ الغیثیۃ وتاریخ بغداد)

(جاری)

شخصیات

(مارچ ۲۰۱۵ء)

Flag Counter