مولانا عبد المجید لدھیانویؒ اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے اور انہیں اپنے استاذ محترم کے ساتھ اس مماثلت کا اعزاز بھی مل گیا ہے کہ علماء کرام کے اجتماع میں مدارس دینیہ کے تحفظ اور دینی اقدار کی سربلندی کی صدا لگاتے ہوئے ان کا انتقال ہوا۔ 

حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کا شمار ملک کے نامور اساتذہ میں ہوتا تھا اور وہ صرف استاذ نہیں بلکہ ’’استاذ گر‘‘ تھے کہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے والے سینکڑوں علماء کرام ملک کے طول و عرض میں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دینی علوم کی تدریس و ترویج اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جامعہ باب العلوم کہروڑپکا ان کا مستقل صدقہ جاریہ ہے اور وہ ایک شیخ کامل کے طور پر علماء کرام، طلبہ اور دیگر عقیدت مندوں کی روحانی تربیت میں بھی مصروف رہتے تھے۔ دینی تحریکات میں انہوں نے ہمیشہ سرپرست اور مربی کا کردار ادا کیا۔ تحریک ختم نبوت میں تو وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر کی حیثیت سے قائد کا درجہ رکھتے تھے، مگر تحفظ ناموس صحابہؓ اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کے کارکن بھی ان کی سرپرستی، دعاؤں اور راہ نمائی سے مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے وصال کے بعد تحریک ختم نبوت کی قیادت کے لیے ان کا چناؤ ملک بھر کے دینی حلقوں کے اعتماد کا آئینہ دار تھا۔ مسلکی طور پر متصلب دیوبندی تھے اور یہ کہا کرتے تھے کہ میں مسلکی معاملات میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ کو سند سمجھتا ہوں اور انہی کے موقف اور تعبیرات کو اختیار کرتا ہوں۔ 

حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کی وفات ملک بھر کے اہل دین کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے مگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے سربراہ اور امیر سے محروم ہوگئی ہے۔ پرانی وضع اور طرز کے علماء کرام جو اپنے مزاج اور انداز کار میں اپنے اکابر اسلاف کی یاد تازہ رکھے ہوئے تھے، اب کم ہوتے جا رہے ہیں اور ماضی قریب میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ کی وفات نے اس خلا بلکہ گھاؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ 

حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچی، حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، اور ان جیسے چند بزرگ باقی رہے گئے ہیں جن کا وجود غنیمت ہے اور جن کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ ملک و قوم کو تادیر اپنے فیوض سے مستفید کرتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔


گزشتہ ماہ کے دوران مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے اور یہ صدمہ علمی و تحقیقی دنیا میں روز بروز بڑھنے والے خلا کا احساس مزید اجاگر ہونے کا باعث ثابت ہوا۔ 

مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند ہفتے قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سے رد قادیانیت کا ذوق پایا تھا اور وہ حضرت چنیوٹیؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے۔ چنیوٹ میں علماء کرام کے لیے سالانہ تربیتی دورہ مولانا چنیوٹیؒ کا زندگی بھر کا معمول رہا ہے جس سے ہزاروں علماء اور طلبہ نے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مصروفیت اور علالت کے باعث زندگی میں ہی مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کو اس مسند پر بٹھا دیا تھا جبکہ ان کی وفات کے بعد سالانہ تربیتی کورس کے علاوہ تخصص کا ایک سالہ کورس بھی ان کے معمولات میں شامل ہوگیا تھا۔ عمر زیادہ نہیں تھی، غالباً چوالیس سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی ہے۔ علماء کرام اور طلبہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا ذوق بھی رکھتے تھے۔ وسیع المطالعہ اور فاضل و دانش مند عالم دین تھے۔ ان کی متعدد تصنیفات ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ مشاورت اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ مستقل طور پر رکھتے تھے اور اپنے مسودات مطالعہ اور نظر ثانی کے لیے بھجوانے کے علاوہ میرے بہت سے مضامین پر رائے دیتے تھے، تنقید کرتے تھے اور اصلاح بھی تجویز کرتے تھے۔ مجھے بھی ان کی بعض تحریرات سے اختلاف ہوتا تھا تو حسب عادت اس کا اظہار کر دیا کرتا تھا، اور وہ اس کو محسوس کرنے کی بجائے ہمیشہ مفاہمت و مکالمہ کو ترجیح دیتے تھے۔ 

انہوں نے تحریک ختم نبوت کی تاریخ مرتب کی ہے جو اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے بہت بڑا معلوماتی مواد اپنے اندر رکھتی ہے اور اپنے استاذ محترم حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی سوانح مرتب کرنے میں انہوں نے جس ذوق و محنت سے کام کیا ہے، میں اس کا عینی شاہد اور مداح ہوں۔ انہوں نے قادیانیت کے محاذ پر اپنے مطالعہ و تحقیق کو کسی خاص دائرہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس شعبہ میں علامہ اقبالؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ کے لٹریچر سے بھی استفادہ کیا ہے اور اس کا خلاصہ دو معلوماتی کتابچوں کی صورت میں پیش کیا ہے۔ 

مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ کی معرکۃ الآراء تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ کا اشاریہ انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے مرتب کیا جو کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے اور ان کے بہترین علمی و مطالعاتی ذوق کی غمازی کرتا ہے۔

قادیانیت کے بارے میں مطالعہ و تحقیق اور تجزیہ و استدلال میں وہ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے خاص ذوق کے نمائندہ تھے، مگر اپنی انفرادیت بھی رکھتے تھے اور تربیتی مواد میں اضافہ کرتے رہتے تھے۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی وفات کے بعد قادیانیت کے حوالہ سے کتابی دنیا میں اور لٹریچر کے حوالہ سے حضرت مولانا اللہ وسایا زید مجدہم کا وجود غنیمت ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تا دیر یہ خدمت سر انجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ ان کے ساتھ جن چند افراد کے وجود اور محنت سے اس بارے میں کچھ نہ کچھ سہارا ہوتا تھا ان میں مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا نام سرفہرست تھا، دل کو تسلی ہوتی تھی کہ یہ نوجوان اس خلاء کو پر کرنے میں مزید پیش رفت کرے گا، مگر ان کی اچانک وفات سے یہ سہارا ٹوٹ گیا ہے۔

مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی وفات کے موقع پر مولانا محمد الیاس چنیوٹی بھی مکہ مکرمہ میں موجود تھے اور تجہیز و تکفین کا انتظام انہی کی نگرانی میں ہوا۔ مکہ مکرمہ میں حالت احرام میں وفات، حرم شریف میں نماز جنازہ کی ادائیگی، اور جنت البقیع میں تدفین مولانا مرحوم کی خدمات کی قبولیت کی علامات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت الفردوس میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ 

اخبار و آثار