کیا واقعی سندھ کو نبی اکرمؐ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے؟

غازی عزیر

ماہنامہ ’’میثاق‘‘ لاہور شمارہ ماہ ستمبر ۱۹۸۹ء بمطابق صفر المظفر ۱۴۱۰ھ پیشِ نظر ہے (۱)۔ اس شمارہ میں ’’کیا سندھ کو نبی اکرمؐ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے؟‘‘ کے زیر عنوان محترم ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب (ساکن پیرس) کی سیرت النبیؐ کے موضوع پر انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی، سندھ یونیورسٹی جام شورو (پاکستان) میں کی گئی چند سال پرانی ایک تقریر کے ابتدائی حصہ کو جو اس عنوان سے متعلق تھا ٹیپ کی ریل سے صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنی تقریر کی ابتداء میں سندھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اور اہلِ سندھ سے آپؐ کی ملاقات کے امکان پر گفتگو فرمائی تھی۔ بلکہ ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کے ادارتی نوٹ کے مطابق ’’اس ضمن میں اپنی تحقیق کا حاصل سامعین کے سامنے رکھا تھا‘‘۔ محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی تحقیق کے اس حاصل کے پیشِ نظر اور ان کے ہی حوالہ سے محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحب (مؤسس و امیر تنظیم اسلامی لاہور) نے اپنی کتاب ’’استحکامِ پاکستان اور مسئلہ سندھ‘‘ (۲) میں برصغیر میں اسلام کی آمد اور اشاعت کے ضمن میں سرزمینِ سندھ کی خصوصی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ ’’سرزمینِ سندھ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے‘‘۔ اس ضمن میں راقم نے محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کے پیش کردہ تمام دلائل کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ اس کی حیثیت محض ظن و مفروضہ سے زیادہ کچھ نہیں، لہٰذا ضروری محسوس ہوا کہ اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اس بات کی حقیقت سے باخبر کروں۔ واللہ المستعان۔

ذیل میں تمام تمہیدی گفتگو پر کلام کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اصل موضوع اور ان شواہد پر بحث پیش کی جاتی ہے جنہیں فاضل ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقریر میں پیش کیا تھا، چنانچہ فرماتے ہیں:

’’حضورؐ کی ملاقات سندھیوں سے کب اور کیسے ہوئی؟ اولًا میں مشرقی عرب میں جانے کی بات کرتا ہوں، اس لیے کہ وہیں سے آپؐ سندھیوں سے ملاقات کر سکتے ہیں یا سندھ جا سکتے ہیں۔ مسند احمدؒ بن حنبل حدیث کی مشہور کتاب ہے اور ابن حنبلؒ وہ شخص ہیں جو امام بخاریؒ کے استاد ہیں، انہوں نے اپنی مسند میں دو صفحات کی ایک طویل حدیث میں بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ عبد القیس کے لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے مدینہ آئے، رسول اللہؐ نے ان سے چیزیں دریافت کیں، فلاں شہر کیا ابھی موجود ہے؟، فلاں سردار یا فلاں شخص کیا ابھی زندہ ہے؟ ان سوالات پر وہ لوگ حیرت زدہ ہو گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہؐ آپ ہمارے ملک اور ہمارے آدمیوں سے ہم سے بھی زیادہ واقف معلوم ہوتے ہیں۔ اس پر مسند احمد بن حنبل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو جواب نقل ہوا ہے وہ یہ ہے۔ میں وہاں گیا ہوں، بہت دن تک اس سرزمین کو میرے پاؤں روندتے رہے ہیں، قلعہ مشغل کی چابیاں میں نے حاصل کیں اور چشمہ زہرا پر بھی کھڑا ہوا۔‘‘ (۳)

ان سطور کے متعلق پہلی بات تو یہ عرض کرنی ہے کہ مسند احمدؒ میں دو صفحات کی ایسی کوئی طویل حدیث موجود نہیں ہے جس میں قبیلہ عبد القیس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ہونے والے سوالات و جوابات کا محولہ مکمل متن مذکور ہو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محترم ڈاکٹر صاحب نے دو مختلف حدیثوں کے متن کو یکجا خلط ملط کر کے پیش کیا ہے۔ پہلی حدیث بطریق 

عبد اللہ حدثنی ابی ثنا اسماعیل بن ابراہیم قال ثنا عوف حدثنی ابوالقموص زید بن عدی قال حدثنی احد الوفد الذین وفدوا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عبد القیس قال فذکرہ (۵) 

مروی ہے مگر مسند احمد کی اس حدیث میں محترم ڈاکٹر صاحب کے بیان کردہ یہ الفاظ قطعًا موجود نہیں ہیں: ’’میں وہاں گیا ہوں، بہت دن تک اس سرزمین کو میرے پاؤں روندتے رہے ہیں‘‘۔ البتہ مسند احمد کی ایک دوسری حدیث جو بطریق

عبد اللہ حدثنی ابی ثنا یونس بن محمد ثنا یحیٰی بن عبد الرحمٰن العصری قال ثنا شہاب بن عباد انہ سمع بعض وفد عبد القیس وھو یقول فاذکرہ (۶)

مروی ہے، میں بنو عبد القیس کے اس حیرت زدہ قول 

بابی و امی یا رسول اللہ لانت اعلم باسماء قرانا منا (۷) 

کے جواب میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول مذکور ہے:

انی قد وطئت بلادکم وفسح لی فیھا (۸)

مگر افسوس کہ اس دوسری حدیث میں ڈاکٹر صاحب موصوف کا بیان کردہ اگلا جملہ (یعنی: قلعہ مشغل کی چابیاں میں نے حاصل کیں اور چشمۂ زہراء پر بھی کھڑا ہوا ہوں) موجود نہیں ہے۔ یہ جملہ اوپر بیان کی گئی پہلی حدیث میں اس طرح مذکور ہے:

’’فو اللہ لقد دخلتھا واخذت اقلیدھا ۔۔۔۔ وقفت علی عین الزارۃ (۹)

واضح رہے کہ جس قلعہ مشغل اور چشمۂ زہراء کا تذکرہ فاضل ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقریر میں کیا ہے وہ ہر دو حدیثوں میں سرے سے مذکور نہیں ہے البتہ اصل حدیث میں ’’المشقر‘‘ اور ’’عین الزارۃ‘‘ کے نام ضرور ملتے ہیں۔

اب مسند احمد کی ان دو حدیثوں کا مرتبہ و مقام بھی ملاحظہ فرما لیں۔ اول الذکر حدیث کے طریق میں ایک راوی ’’عوف بن ابی جمیلہ ابو سہل الاعرابی العبدی البصری‘‘ ہے جس کو بعض محدثین نے ’’ثقہ‘‘ ضرور بتایا ہے لیکن ائمہ جرح و تعدیل کا ساتھ ہی یہ قول بھی ہے کہ:

’’وہ قدری اور تشیع کرنے والا تھا۔‘‘

بندارؒ نے اس راوی کے متعلق تو یہاں تک فرمایا ہے:

’’واللہ لقد کان عوف قدریًا رافضیًا شیطانا‘‘

تفصیلی ترجمہ کے ساتھ تقریب التہذیب لابن حجر عسقلانیؒ، سوالات محمد بن عثمانؒ، تاریخ یحیٰی بن معینؒ، علل لابن حنبلؒ، تاریخ الکبیر للبخاریؒ، تاریخ الصغیر للبخاریؒ، سوالات حاکمؒ، جرح و والتعدیل لابن ابی حاتمؒ، میزان الاعتدال فی نقد الرجال للذہبیؒ، ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ، مقدمہ صحیح مسلمؒ اور مشاہیر علماء المصار (۱۰) وغیرہ کی طرف مراجعت مفید ہو گی۔

زیر مطالعہ سند میں ضعف کی ایک دوسری علت ’’مجہول‘‘ راوی کی موجودگی ہے جس کی طرف ان الفاظ میں اشارہ ملتا ہے:

حدثنی احد الوفد الذین وفدوا علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عبد القیس۔

’’مجروح‘‘ اور ’’مجہول‘‘ رواۃ کی موجودگی کے باوجود اگر کوئی شخص اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ نہ کہہ کر ’’صحیح یا ثابت‘‘ اور ’’یقنی اور حتمی‘‘ سمجھتا ہو اسے ہم اس شخص کی کم عقلی یا حدیث شناسی کے مزاج سے نا آشنا ہی کہیں گے۔ 

مسند احمد کی اول الذکر روایت کی طرح اس کی آخر الذکر حدیث بھی محل نظر ہے۔ اس طریق کے ایک راوی ’’یحیٰی بن عبد الرحمٰن العصری البصری‘‘ کے متعلق امام ذہبی فرماتے ہیں:

لا یعرف لہ عن شہاب بن عباد (۱۱)

اور علامہ ہیثمیؒ فرماتے ہیں:

’’لم اعرفہ‘‘ (۱۲)

محدث عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظ اللہ اس راوی کے متعلق ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:

’’عصری کے علاوہ اس طریق کے باقی رجال ثقات ہیں۔‘‘ (۱۳)

پھر اس طریق میں بھی ’’جہالت‘‘ موجود ہے جو ان الفاظ میں مذکور ہے:

انہ سمع بعض وفد عبد القیس وھو یقول ۔۔۔

پس ثابت ہوا کہ محترم ڈاکٹر صاحب نے مسند احمد کی جن روایات کو دلیل بلکہ ان کے اپنے الفاظ میں ’’قطعی ثبوت‘‘ (۱۴) کے طور پر پیش کیا تھا وہ پایۂ اعتبار سے ساقط ہیں۔

اب محترم ڈاکٹر صاحب کی تقریر کا اگلا اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ فرماتے ہیں:

’’مشرقی عرب میں آپ کیوں گئے تھے، اس کا ایک دوسری روایت سے ہمیں پتہ چلے گا جو حدیث کی کتابوں میں نہیں بلکہ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ ابن حبیب ایک بڑا مشہور مؤرخ گزرا ہے جس کی وفات ۲۴۵ ہجری میں ہوئی۔ اس کی کتاب ’’المحبر‘‘ میں ’’عرب کے میلے‘‘ کے نام کا ایک باب موجود ہے۔ ان میلوں کے سلسلے میں جو ہر سال لگا کرتے تھے وہ بیان کرتا ہے کہ عرب کے مشرق میں ’’دباء‘‘ نامی ایک مقام ہے (جو متحدہ عرب امارات میں حدیرہ نامی بندرگاہ کے شمال میں اب بھی موجود ہے) ۔۔۔ دباء میں سالانہ میلہ فلاں تاریخ کو ہوتا تھا۔ اس میں فلاں فلاں قسم کا سامان فروخت کے لیے آتا تھا۔ اس میں شرکت کرنے والے لوگ ہندی، سندھی، چینی، رومی، ایرانی، مشرق والے اور مغرب والے ہوتے تھے۔ یہ الفاظ ہیں جو ترجمہ کر کے میں نے آپ کو سنائے ہیں اور اس میں سندھ کا ذکر صراحت کے ساتھ آتا ہے ۔۔۔۔ اس واسطے سے گمان کیا جا سکتا ہے کہ غالبًا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی حضرت خدیجہؓ کا مال تجارت لے کر اس بڑے میلے میں شرکت کے لیے تشریف لائے ہوں گے اور وہاں چینیوں سے اور دیگر لوگوں سے بھی ملے ہوں گے۔ وہ مشہور حدیث کہ ’’علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے چاہے چین ہی جانا پڑے‘‘ ۔۔۔۔ غالبًا اس کی وجہ یہی ہو گی کہ رسولؐ اللہ نے دباء کے بازار میں چینی تاجروں کے پاس ان کا پیش کردہ سامان دیکھا ہو گا جن میں چینی ریشم اور دیگر سامان جو وہ لائے تھے آپؐ نے دیکھا ہو گا اور آپؐ متاثر ہوئے ہوں گے کہ اتنی اچھی صنعت ان کے ملک میں ہوتی ہے۔ چنانچہ آپؐ نے فرمایا ہو گا کہ ’’علم سیکھو چاہے چین جیسے دور دراز کے ملک ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔ غالبًا حضورؐ نے ان سے پوچھا ہو گا کہ تم کتنی دور سے آئے ہو؟ چینیوں نے کہا ہو گا کہ ہم دو ماہ کی مسافت سے چل کر آئے ہیں ۔۔۔‘‘۔ اس واقعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع ملا تھا کہ سندھیوں کو دیکھیں۔ ممکن ہے کہ اور آگے جا کر سندھ میں تجارت کے لیے تشریف لے گئے ہوں۔‘‘ (۱۵)

پہلے ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ بالا تاریخی شہادت کا جائزہ پیش خدمت ہے۔ محمد بن حبیب جو امام ابن قتیبہ الدینوریؒ کے شیوخ میں سے گزرے ہیں، اسواق العرب قبل از اسلام کی بابت اپنی کتاب ’’المحبر‘‘ میں بیان کرتے ہیں:

ثم سوق دباء وھی احدی فرضتی العرب بایھا تجار السند والہند والصین واھل المشرق والمغرب فیقوم سوقھا اٰخر یوم من رجب۔ (۱۶)

’’دباء کے اسی میلہ کا ذکر محترم ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب Introduction to Islam میں ابن الکلبی کے حوالہ سے نقل کیا ہے (۱۷)۔ عین ممکن ہے کہ محمد بن حبیب نے کتاب المحبر میں دباء کے جس بازار کا تذکرہ کیا ہے وہ ابن الکلبی کی تحقیق سے ہی ماخوذ ہو۔ یہ ابن الکلبی کون ہے، یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔ اگر ابن الکلبی سے محترم ڈاکٹر صاحب کی مراد ’’محمد بن سائب بن بشر ابوالنفر الکلبی الکوفی‘‘ ہے تو وہ عند المحدثین ’’کذاب، ساقط، لعین، لشئ، متروک الحدیث، ضعیف، کٹر رافضی اور ناقابل اعتبار‘‘ ہے۔ (تفصیلی ترجمہ کے لیے حاشیہ ۱۸)۔ 

مگر قرائن بتاتے ہیں کہ یہ ’’ابن الکلبی‘‘ محمد بن سائب نہیں بلکہ کوئی دوسرا شخص ہے کیونکہ محترم ڈاکٹر صاحب کی تصریح کے مطابق اس ابن الکلبی کا سنہ وفات ۸۱۹ء ہے اور یہ ایک مؤرخ اور قبل از اسلام عرب کی نوادرات کا ماہر ہے۔

مگر اس تاریخی شہادت سے زیادہ سے زیادہ جو بات پتہ چلتی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستان اور سندھ سے تجار بھی اور دوسرے ممالک کے تجار کی طرح دباء کے سالانہ بازار میں اپنا اسبابِ تجارت لے کر آتے تھے۔ اس تاریخی شہادت سے یہ نتیجہ ہرگز اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعتًا دباء نامی مقام تک تشریف لے گئے تھے، یا آپؐ نے دباء کے میلہ میں جو سال میں صرف ایک مرتبہ یعنی ماہ رجب کے آخری دن لگتا تھا ضرور شرکت فرمائی تھی۔ تمام مستند تاریخی کتب صرف اس حد تک بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سالہ عمر میں نبوت سے قبل حضرت خدیجہؓ کا مالِ تجارت لے کر دوسری بار شام کے سفر پر تشریف لے گئے تو آپؐ کا قافلہ وادی الظہران، وادی القرٰی، مدائن اور ارض ثمود وغیرہ سے گزرتا ہوا بصرہ پہنچا جہاں آپؐ نے شام کے عیسائی پادریوں اور راہبوں کو دیکھا اور ان سے گفتگو فرمائی تھی۔

پس معلوم ہوا کہ فاضل ڈاکٹر صاحب نے اپنے دعوٰی کی تائید میں کوئی ٹھوس اور قابلِ شہادت پیش نہیں کی ہے بلکہ چند مفروضوں، گمان اور قیاس محض پر پوری تقریر کی عمارت کھڑی کی ہے کہ ایسا اور ویسا ہوا ہو گا حالانکہ فی الواقع ایسا اور ویسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ قارئینِ کرام! ڈاکٹر صاحب کی تقریر کے خط کشیدہ جملوں کو دہرائیں۔ یہ جملے خود آپ کو ہمارے دعوٰی کی تائید کرتے نظر آئیں گے۔ یقینًا ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس اپنے دعوٰی کی تائید میں کوئی ٹھوس تاریخی دلیل موجود ہوتی تو اس طرح قیاس آرائی اور جدل کی راہ اختیار نہ فرماتے۔ 

جہاں تک مشہور حدیث ’’اطلبوا العلم ولو بالصین فان طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم‘‘ کا تعلق ہے تو واضح رہے کہ یہ روایت بھی صحیح و سقیم احادیث پرکھنے کی کسوٹی پر کھری ثابت نہیں ہوتی بلکہ محدثین عظام میں سے امام بیہقیؒ کے نزدیک مشہور لیکن ضعیف الاسناد، حافظ ابن الصلاحؒ اور امام حاکمؒ کے نزدیک مشہور لیکن غیر صحیح، ابو علی نیشا پوریؒ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت نہیں، امام احمد بن حنبلؒ اور ابن راہویہؒ کے نزدیک اس باب کی ہر روایت غیر ثابت ہے، امام ابن الجوزیؒ کے نزدیک یہ سب روایات غیر ثابت، واہیات بلکہ کچھ تو موضوع بھی ہیں۔ محدث عصر علامہ شیخ محمد ناصر الدین الالبانی حفظہ اللہ نے اس کو ’’باطل‘‘ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے راقم کا تحقیقی مقالہ طبع در ماہنامہ ’’محدث‘‘ لاہور ملاحظہ فرمائیں (۱۹)۔

اب ڈاکٹر صاحب کو اختیار ہے کہ محض اپنے ذہن کی پیداوار اور گمان کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دباء کے میلے میں شریک کروائیں، وہاں چینیوں اور سندھیوں وغیرہ سے آپؐ کی ملاقات کروائیں، پھر اس بازار میں چینی تاجروں کے پاس ان کا سامان بالخصوص چینی ریشم وغیرہ آپؐ کو دکھائیں اور ان اسبابِ تجارت سے آپؐ کو متاثر بتاتے ہوئے یہ سوال کروائیں کہ تم کتنی دور سے آئے ہو؟ پھر خود ہی ان چینیوں کی طرف سے اس استفسار کا جواب بھی دلوائیں کہ دو ماہ کی مسافت سے چل کر آئے ہیں، پھر ان چینیوں کی صنعت یا ان کے وطن کی مسافت سے آپؐ کے متاثر ہونے کو اس مشہور حدیث کا سبب بیان کریں اور پھر بلادلیل ازخود الفاظ کے اس تانے بانے سے اس بات کا امکان بھی پیدا کر لیں کہ ’’آگے جا کر سندھ میں تجارت کے لیے تشریف لے گئے ہوں‘‘۔ اللہ تعالیٰ کا صد ہزار شکر ہے کہ محترم ڈاکٹر صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف سندھ تک ہی پہنچانے کے امکان پر اکتفا کر لیا ورنہ اگر وہ مذکورہ بالا مشہور حدیث کے پیشِ نظر یہ گمان کر لیتے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم چینیوں کے اسبابِ تجارت سے متاثر ہو کر ان کے ساتھ ان کے وطن تک تشریف لے گئے ہوں گے اور پھر اسی مسافت کی طوالت کو مدّنظر رکھتے ہوئے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہو گی، تو کیا ہم ان کا قلم تھام لیتے یا زبان پکڑ لیتے؟

اب ڈاکٹر صاحب کی تقریر کا اگلا اقتباس ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:

’’اسی تذکرہ میں ابھی آپؐ نے سنا کہ ہند کا بھی ذکر ہے یعنی ہندوستان کا بھی جس کا بعد میں ایک اور حدیث میں ہمیں ثبوت ملتا ہے۔ ایک دن بعض لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے دور سے مدینہ آئے۔ سیدناؐ نے پوچھا ۔۔۔۔ ’’یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانیوں کے سے نظر آتے ہیں ۔۔۔‘‘ بعینہٖ یہی الفاظ ہیں جو حدیث میں موجود ہیں اور یہ وہی شخص کہہ سکتا ہے جس نے ہندوستانیوں کو اور ہندوستانیوں کے لباس کو دیکھا ہو۔ یہ لوگ یمن کے ایک قبیلہ کے لوگ تھے جو مسلمان ہونے کے لیے آئے تھے۔‘‘ (۲۰)

ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقریر کے اس حصہ میں جس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے اسے مشہور مؤرخین میں سے ابن ہشام، طبری، ابن سعد، ابن اثیر، اور ابن کثیر رحمہم اللہ نے اپنی ۔۔۔۔ میں بیان کیا ہے۔ واقعہ اس طرح ہے کہ ۱۰ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولیدؓ کو یمن بھیجا، انہوں نے اطلاع بھیجی کہ قبیلہ بنو حارث بن کعب مسلمان ہو گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالدؓ بن ولید کو خط لکھا کہ اب مدینہ واپس آجاؤ اور نومسلم قبیلے کے چند لوگوں کو بھی ساتھ لے آؤ۔ جب وہ آئے تو ان کے ساتھ قبیلہ بنی حارث بن کعب کے نو مسلموں میں قیس بن الحصین ذوالعضہ ؓ، یزید بن عبد المدانؓ، یزید بن المحجلؓ، عبد اللہ بن قراد الزیادیؓ، شداد بن عبید اللہ القضانیؒ اور عمرو بن عبد اللہ النصیابیٌ وغیرہ شامل تھے۔ انہیں دور سے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

من ھٰؤلآء الذین کانھم رجال الھند؟
’’یہ کون لوگ ہیں جو اہلِ ہند کے سے معلوم ہوتے ہیں؟‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ مبارک کو علی تقدیر صحت’’دباء‘‘ کے میلہ یا سندھ یا ہندوستان تک آپؐ کی تشریف آوری کے زیر اثر کہنے کی بجائے ارضِ شام کے ہر دو تجارتی سفروں کے تجربات و مشاہدات کے زیرِ اثر کہنا زیادہ محتاط اور معقول بات ہے کیونکہ ان مقامات تک آپؐ کا سفر موقوف نہیں ہے، البتہ سراندیپ (سری لنکا)، سندھ، ہندوستان، ایران، روم، برِاعظم افریقہ کے جنوب مشرقی سواحل، یمن، بحر عرب اور خلیج فارس کے مختلف جزائر کے باشندوں کی بصری یا دوسری نواحی تجارتی منڈیوں میں آمد و رفت کتبِ تاریخ میں بکثرت مذکور و ثابت ہے۔

پھر اس وفد کے لوگوں کو دیکھ کر ہندوستانی باشندوں کے مشابہ بیان کرنا بھی قطعی طور پر معلوم اور ثابت نہیں ہے۔ وفد بنی الحارث کے اس واقعہ کو ابن ہشامؒ نے ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ (۲۱) میں اور ابن کثیرؒ نے ’’بدایۃ والنہایۃ‘‘ (۲۲) میں ابن اسحاقؒ سے بلاسند نقل کیا ہے۔ طبریؒ نے بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اپنی ’’تاریخ‘‘ میں نقل کیا ہے، مگر ابن اثیرؒ کی ’’کامل فی التاریخ‘‘ (۲۳) میں اس قول کا سرے سے کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ جہاں تک ’’طبقات الکبرٰی‘‘ میں اس جملہ کے مذکور ہونے کا تعلق ہے تو مؤلف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کرتے وقت سندِ روایت کا التزام کیا ہے جو اس طرح ہے:

قال اخبرنا محمد بن عمر قال حدثنی ابراھیم بن موسٰی المخزومی عن عبد اللہ بن عکرمۃ بن عبد الرحمٰن بن الحارث عن ابیہ قال فذکرہ۔ (۲۴)

مگر اسے بھی محض اتفاق ہی کہیئے کہ ابن سعدؒ کا مذکورہ طریق بھی ہالک ہے اس میں ’’محمد بن عمر‘‘ دراصل مشہور مؤرخ ’’محمد بن عمر بن واقد الاسلمی الواقدی المدنی القاضی نزیل بغداد‘‘ ہے جس کے کذاب، متروک، غیر ثقہ اور وضّاع وغیرہ ہونے پر علمائے جرح والتعدیل کا اتفاق ہے۔ واقدی کے تفصیلی ترجمہ کے لیے ملاحظہ فرمائیں (۲۵)۔

پس واقدی کی اس روایت کے ساتھ محترم ڈاکٹر صاحب کی آخری دلیل کا سہارا بی باطل اور ناقابلِ اعتبار ثابت ہوا۔ اب معزز قارئین کو اختیار ہے کہ محترم ڈاکٹر صاحب کے محض ظن و تخمین، ذاتی قیاس آرائی، بے بنیاد مفروضوں، مشکوک اور مشتبہ شواہد کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سندھ و ہندوستان تک تشریف آوری کو حکم صحت صادر فرماتے ہوئے ایک روشن حقیقت تسلیم کر لیں یا پھر تاوقتیکہ اس کا کوئی ٹھوس، صحیح اور قابلِ اعتبار ثبوت سامنے نہ آئے، ہماری اس تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے ان سب امکانات کو قطعًا باطل اور حقیقت سے بعید ہی تصور فرمائیں۔ وما علینا الا البلاغ۔

حواشی

  1. ماہنامہ میثاق لاہور ج ۳۸ عدد شمارہ ۹ ص ۴۵۔۴۸
  2. استحکامِ پاکستان اور مسئلہ سندھ مصنفہ ڈاکٹر اصرار احمد ص ۳۳
  3. ماہنامہ میثاق ج ۳۸ عدد ۹ ص ۴۷
  4. مسند احمدؒ ج ۴ ص ۲۰۶ طبع المکتب الاسلامی بیروت
  5. مسند احمد ج ۴ ص ۲۰۶ طبع المکتب الاسلامی بیروت
  6. مسند احمد ج ۴ ص ۲۰۶ طبع المکتب الاسلامی بیروت
  7. ایضًا
  8. ایضًا
  9. ایضًا
  10. تقریب التہذیب لابن حجرؒ ج ۲ ص ۸۹۔ سوالات محمد بن عثمانؒ ص ۶۹۔ تاریخ یحیٰی بن معینؒ ج ۴ ص ۱۴۰۔ علل لابن حنبلؒ ج ۱ ص ۱۳۴۔ تاریخ الکبیر للبخاریؒ ج ۴ /۱ ص ۵۸۔ تاریخ الصغیر للبخاری ج ۲ ص ۸۵۔ سوالات حاکمؒ ترجمہ ۴۴۴۔ جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ ج ۳ /۲ ص ۱۵۔ میزان الاعتدال للذہبیؒ ج ۳ ص ۳۰۵۔ ضعفاء الکبیر العقیلیؒ ج ۳ ص ۴۲۹۔ مقدمہ صحیح مسلمؒ ص ۶۔ مشاہیر علماء المصار ترجمہ ۱۵۱۔
  11. میزان الاعتدال للذہبیؒ ج ۴ ص ۳۹۳
  12. مجمع الزوائد و منبع الفوائد للہیثمیؒ ج ۹ ص ۲۶۸
  13. سلسلۃ الاحدیث الصحیح للالبانی ج ۴ ص ۴۶۱
  14. ماہنامہ میثاق ج ۳۸ عدد ۹ ص ۴۶ سطر ۱۷
  15. ماہنامہ میثاق ج ۳۸ عدد ۹ ص ۴۶
  16. المحبر لابن حبیب ص ۲۶۵ و ۲۶۶ طبع حیدر آباد
  17. ضعفاء والمتروکین لابن الجوزیؒ ج ۳ ص ۶۲۔ تحقیق الغایہ للزاہدی ص ۳۳۲۔ نصب الرایہ للزیلعیؒ ج ۳ ص ۲۸۰، ۴۳۰، ۳۰۸، ۳۹۴، ۴۱۷۔ سنن الکبرٰی للبیہقیؒ ج ۶ ص ۲۶۱، ج ۱۰ ص ۲۹۰۔ سنن للدارقطنیؒ ج ۳ ص ۱۳۰، ۲۳۰، ۲۶۲۔ موضوعات لابن الجوزیؒ ج ۱ ص ۴۷، ۳۷۳، ج ۳ ص ۲۳۰۔ تاریخ یحیٰی بن معینؒ ج ۳ ص ۲۸۰، ۴۰۹، ۵۴۳۔ علل لابن حنبلؒ ج ۱ ص ۱۹۸۔ تاریخ الکبیر للبخاریؒ ج ۱ ص ۷۶۔ جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ ج ۳ ص ۲۷۰۔ مجروحین لابن حبانؒ ج ۲ ص ۲۵۳۔ کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ ج ۶ ترجمہ ۲۱۲۷۔ ضعفاء والمتروکین للدارقطنیؒ ترجمہ ۴۶۷۔ ضعفاء والمتروکین للنسائیؒ ترجمہ ۵۱۴۔ میزان الاعتدال للذہبیؒ ج ۳ ص ۵۵۹۔ تہذیب التہذیب لابن حجرؒ ج ۹ ص ۱۸۰۔ تقریب التہذیب لابن حجرؒ ج ۲ ص ۱۶۳
  18. Introduction to Islam  (p 256)      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  19. ماہنامہ محدث لاہور ج ۱۸ عدد شمارہ ۔۔۔ بمطابق شوال تا ذوالحجہ ۱۴۰۸ھ
  20. ماہنامہ میثاق لاہور ج ۳۸ عدد ۹ ص ۴۸
  21. سیرۃ الرسول لابن ہشامؒ ج ۴ ص ۵۹۴ طبع دارالکتب العلمیہ بیروت
  22. بدایۃ والنہایۃ لابن کثیرؒ ج ۵ ص ۹۸ طبع دارالکفر بیروت
  23. کامل فی التاریخ لابن اثیرؒ ج ۲ ص ۱۹۹ و ۲۰۰ طبع دار الکتاب العربی بیروت ۱۹۸۳ء
  24. طبقات الکبرٰی لابن سعدؒ ج ۱ ص ۳۴۰ و ۳۴۱ طبع دار صادر بیروت
  25. تاریخ یحیٰی بن معینؒ ج ۳ ص ۱۶۰۔ ضعفاء الکبیر للعقیلیؒ ج ۴ ص ۱۰۷۔ جرح والتعدیل لابن ابی حاتمؒ ج ۴ ص ۲۰۔ مجروحین لابن حبانؒ ج ۲۹۰۔ کامل فی الضعفاء لابن عدیؒ ج ۶ ترجمہ ۲۲۴۵۔ ضعفاء والمتروکون للنسائیؒ ترجمہ ۵۳۱۔ ضعفاء والمتروکون للدارقطنیؒ ترجمہ ۴۷۷۔ ضعفاء الصغیر للبخاریؒ ترجمہ ۳۳۴۔ میزان الاعتدال للذہبیؒ ج ۳ ص ۶۶۲۔ تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانیؒ ج ۹ ص ۳۶۸۔ 


سیرت و تاریخ

(دسمبر ۱۹۸۹ء)

دسمبر ۱۹۸۹ء

جلد ۱ ۔ شمارہ ۳

آہ! الشیخ عبد اللہ عزامؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پیرِ طریقت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ
مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی

اسلام کا فطری نظام
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی تعلیم اور مدارس کی اہمیت
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

تلاوتِ قرآنِ مجید باعث خیر و برکت ہے
محمد اسلم رانا

کیا بائیبل میں تحریف پر قرآن کریم خاموش ہے؟
محمد عمار خان ناصر

علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داری
قاضی محمد اسرائیل

کیا واقعی سندھ کو نبی اکرمؐ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے؟
غازی عزیر

موت کا منظر
حکیم سید محمود علی فتحپوری

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت
مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی

توہینِ صحابہؓ کے مرتکب کو تین سال قید با مشقت کی سزا
ادارہ

منقبتِ صحابہؓ
سرور میواتی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

قرآنی نظام اپنے لیے ماحول خود بناتا ہے
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی

Flag Counter