تلاوتِ قرآنِ مجید باعث خیر و برکت ہے
دشمنانِ اسلام کی غلط فہمی کا ازالہ

محمد اسلم رانا

مسلمانوں کے ہاں تلاوتِ کلام پاک روح افزاء ہے، ایمان افروز ہے، موجبِ اجر و ثواب ہے۔ صبح سویرے تلاوت اور بچوں کے قرآن پڑھنے کی آوازوں کا بلند ہونا مسلمان گھروں کی نشانی ہے۔ لفظ قرآن (سورہ زمر آیت ۲۸) قرأ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں پڑھنا۔ کلامِ پاک کو قرآن یعنی ’’پڑھی ہوئی کتاب‘‘ اسی معنی میں کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ کتاب بکثرت اور بالخصوص پڑھی جانی تھی، کثرتِ تلاوت اس کا طرۂ امتیاز بننا تھا، اس لیے اللہ کریم نے اس کا نام ہی قرآن رکھا۔ تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں، خود قرآنِ حکیم میں ہی اس مقدس کتاب کی تلاوت کے احکام، آداب اور اجر و ثواب کا تفصیل سے مذکور ہے۔ 

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوتِ قرآنِ مجید کا حکم ہوتا ہے (سورہ کہف آیت ۲۷) چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں تلاوتِ قرآن بھی کی جاتی تھی (احزاب ۳۴)۔ قرآن مجید خوب صاف صاف، خوش خوانی سے (مزمل ۴) اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جانا چاہیے (بنی اسرائیل ۱۰۶) تاکہ سامعین کو ایک ایک لفظ خوب سنائی دے، ان کی سمجھ میں آئے اور وہ بھی لطف اٹھا سکیں۔ قرآن کفار کو بھی پڑھ کر سنایا جاتا تھا (عنکبوت ۵۱) مذکور ہے کہ قرآن شریف سن کر جنوں کو ایمان نصیب ہوا (احقاف ۲۹) قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لینی چاہیئے (نحل ۹۸) 

تلاوتِ کلام پاک موجبِ اجر و ثواب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’بے شک جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے پوشیدہ و علانیہ خرچ کرتے رہتے ہیں وہ ایسی تجارت کی آس لگائے ہوئے ہیں جو کبھی ماند نہ پڑے گی تاکہ ان کو ان کے (اعمال کے) صلے (اللہ تعالیٰ) پورے دے اور اپنے فضل سے ان میں (کچھ) بڑھا بھی دے بے شک وہ بڑا مغفرت کرنے والا ہے بڑا قدر دان ہے۔‘‘ (فاطر ۲۹ و ۳۰ ۔ تفسیر ماجدی)

مزید وارد ہے کہ:

’’جب قرآن کریم پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر اور خاموشی سے سننے سے رحمتِ خداوندی حاصل ہو گی۔‘‘ (اعراف ۲۰۴)

اللہ اللہ تلاوتِ قرآنِ کریم کس قدر بلند و بالا، شان والا اور عالی مرتبت عمل ہے کہ اس سے مسلمانوں کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے (انفال ۲)۔ تلاوت کی یہی ایک برکت کافی و وافی ہے، تلاوت کے استحسان کا اس سے بڑا ثبوت ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی ہے کہ

’’ہم نے قرآن نازل کیا ہے اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔‘‘ (حجر ۹)

باری تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا معروف انتظام اس طرح فرمایا ہے کہ قرآنِ کریم بآسانی زبانی یاد (حفظ) ہو جاتا ہے۔ ہر ملک، قوم، نسل اور دور کے لوگ اس پاک کتاب کو برضاء و رغبت حفظ کر لیتے ہیں۔ کس قدر لطف کی بات ہے کہ قرآن حفظ کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد نابینا حضرات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ امر انسانی محنت یا ذہانت پر منحصر نہیں ہے۔ تاریخِ عالم میں یہ شرف کسی بھی کتاب کے حصے میں نہیں آیا۔ ایک چھ سالہ بچہ کا غیر زبان عربی کی اس ضخیم کتاب کو حفظ کر لینا کرامت سے کم نہیں۔ قرآن نورِ الٰہی ہے جو سینوں میں اتر جاتا ہے۔ فرمان ربانی ہے:

’’بلکہ یہ قرآن تو آیتیں ہیں صاف ان لوگوں کے سینوں میں جن کو ملی ہے سمجھ۔‘‘ (عنکبوت ۴۹ ۔ مولانا محمود حسنؒ۔)

اور یہ سب برکت ہے تلاوت کی، عربی قرآن کو محض بغیر سوچے سمجھے پڑھنے کی۔ قرآن خوانی سے پڑھنے اور سننے والوں پر سرور و نشاط اور کیف و مستی کا ایک عجیب سماں طاری ہوتا ہے۔ مشہور امریکی مستشرق پروفیسر ہٹی لکھتے ہیں:

’’قرآن کے لفظی معنی ہیں تلاوت، تقریر، خطبہ۔ یہ کتاب ایک طاقت ور زندہ آواز ہے۔ زبانی تلاوت کے لیے مخصوص ہے۔ حظ اٹھانے کے لیے اسے اصل زبان میں ہی سننا چاہیئے۔ ترجمہ میں اس کا قافیہ پن، خوش بیانی، آواز کا زیروبم اور بہاؤ کھو جاتا ہے۔‘‘ (ہسٹری آف دی عربز ۔ ص ۱۲۷ ۔ پروفیسر فلپ کے ہٹی ۔ ۱۹۵۸ء)

ہر مسلمان کو تھوڑا بہت قرآن پاک زبانی یاد ہوتا ہے۔ قرآن حفظ ہونے کی بدولت گھروں، مدرسوں اور مسجدوں کے علاوہ سڑکوں، کھیتوں، جنگلوں، کارخانوں، فیکٹریوں، بازاروں، دکانوں، دفتروں، بسوں، ریلوں، فضاؤں، دریاؤں اور سمندروں میں زبانی پڑھا جاتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینکا رقم طراز ہے:

’’عام عبادت، درسگاہوں اور دیگر مواقع پر قرآن کا استعمال مثلاً اکثر عیسائی ملکوں میں بائیبل کے مطالعہ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اسے بجا طور پر دنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب کہا گیا ہے۔‘‘ (انسائیکلو پیڈیا برٹینکا مطبوعہ ۱۹۱۱۔۱۹۱۰ جلد ۱۵ صفحہ ۸۹۸ کالم اول)

پروفیسر ہٹی لکھتے ہیں:

’’عہد ساز کتابوں میں سب سے کم عمر ہونے کے باوجود قرآن دنیا بھر میں لکھی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے کیونکہ عبادت میں استعمال کے علاوہ یہ وہ مقرر درسی کتاب ہے جس سے ہر مسلمان عملی طور پر عربی پڑھنا سیکھتا ہے۔‘‘ (ایضًا ص ۱۲۶)

جنوبی افریقہ کے ایک مسیحی مشنری گرہارڈ نملز نے بائیبل اور قرآن کی زبانوں کے ضمن میں لکھا:

’’بخلاف عبرانی، آرامی اور یونانی، عربی کے زمانۂ حال تک بولے جانے میں قرآن کا بڑا ہاتھ ہے۔ ۱۵۰۰ برس پیشتر قوم یہود کے منتشر ہوجانے پر عبرانی زندہ زبان ہونے کی حیثیت سے ختم ہو کے رہ گئی۔ ان دنوں آرامی کہیں بھی نہیں بولی جاتی ہے۔‘‘ (کرسچیئنز آنسر مسلمز ۔ ص ۱۶ ۔ گرہارڈ نملز ۔ ۱۹۸۰ء)

(۲) قرآن مجید کی یہ عظمت اور لاثانی مرتبہ دشمنانِ اسلام کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ وہ ہمیشہ تلاوتِ کلام کے خلاف زہر اگلتے اور مسلمانوں کو اسے پڑھنے اور حفظ کرنے سے روکنے کی نامسعود مساعی میں مصروف رہتے ہیں۔ اس ضمن میں عالمِ عیسائیت کا مشہور ترین مناظر پادری فانڈر رقم طراز ہے:

’’محض یہی کافی نہیں کہ ہم اس کی طول طویل عبارات کو حفظ کر لیں اور ان کا مطلب بالکل نہ سمجھیں۔ ایسا کرنا طوطوں کا کام ہے انسان کی شان کے شایان نہیں ۔۔۔ بہت سے مسلمان قرآن کو بلند آواز سے پڑھنے پر قانع ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے اور ان کے مردوں کے لیے بہت سا ثواب جمع ہو سکتا ہے۔ وہ قرآن کو عربی زبان میں پڑھتے ہیں اگرچہ ان میں کثیر التعداد لوگ ایسے بھی ہیں جو اس قریشی بولی کو بالکل نہیں سمجھتے۔ جو کتاب خدا کی طرف سے آنے کا دعوٰی کرے اس کو اس طرح سے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ ایسا کرنا ویسا ہی نامناسب ہے جیسے کسی کافر کا اپنی مشعل کو کسی غار میں چھپا دینا اور راہ دیکھنے میں اس سے مدد نہ لینا۔‘‘ (میزان الحق مصنفہ پادری سی جی فانڈر ڈی ڈی ۔ ص ۳۵۰ و ۳۵۱)

ہم عرض کریں گے کہ اگر طوطا بننا ممکن ہوتا تو پادری صاحب اور ان کے ہمنوا ضرور ٹیں ٹیں کرتے پھرتے اور بائبل کی طول طویل عبارات کو حفظ کرنے میں مسلمانوں سے ہرگز ہرگز پیچھے نہ رہتے۔ دراصل ’’ہاتھ نہ پہنچے تھو کوڑی‘‘ والا معاملہ ہے۔ 

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

اگر مسلمان قرآن کو عربی زبان میں پڑھتے ہیں اور اس قریشی بولی کو بالکل نہیں سمجھتے تو بھی اس سے ان کی عاقبت سنورتی ہے، عبادات ہو جاتی ہیں۔ مسیح میں خراٹے بھرنے والے پادری صاحب کیا جانیں کہ قرآن کی قریشی بولی بیس کروڑ عربوں کی مادری زبان ہے، عرب دنیا میں ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے، چودہ سو برس بعد بھی برابر زندہ و پائندہ ہے۔ کثیر التعداد مسلمانوں کو قریشی بولی نہ سمجھنے کا طعنہ دینے والے پادری صاحب کیا یہ بتا سکیں گے کہ (عوام کا تو ذکر ہی کیا) عیسائی علماء بائبل کو اس کی اصل زبانوں میں ہی پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں؟ جواب یقیناً نفی میں ہے بلکہ میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ کوئی بڑے سے بڑا محقق بھی ان مردہ زبانوں کو صحییح طور پر سمجھنے کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔ ہر بائیبل کے مترجمین اپنی اپنی ڈفلی پر اپنا اپنا راگ الاپتے ہیں۔ مسلمانوں کی ’’مشعل‘‘ گھر گھر میں پڑی ہے جبکہ یار لوگوں کی ’’مشعل‘‘ غاروں کے اندر مرتبانوں میں محفوظ ہے یا قبرستانوں میں مردوں کے ساتھ مدفون ہے یا یونیورسٹیوں اور عجائب گھروں کی زینت ہے۔ 

(۳) اغیار تو اغیار سہی ’’اہل الذکر والقرآن‘‘ ہونے کے دعویدار بھی دشمنانِ اسلام کے پہلو بہ پہلو کھڑے نظر آتے ہیں۔ ماہنامہ ’’بلاغ القرآن‘‘ لاہور بابت اکتوبر ۱۹۸۹ء تلاوتِ کلام پاک کی مخالفت میں رقم طراز ہے:

’’قرآن مجید میں اشارہ تک نہیں ملتا کہ قرآن مجید کو محض پڑھ لینے سے ثواب ملتا ہے ۔۔۔۔ یاد رکھیے کہ قرآن مجید کے محض پڑھ لینے سے کوئی ثواب نہیں ملتا۔‘‘ (ص ۷) 

تشابھت قلوبھم (بقرہ ۱۱۸) کے مصداق ان کے دل بے بصیرتی اور ناحق شناسی میں کافروں سے ملتے ہیں اور ان کے نظریات بھی دشمنوں والے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے کٹر مخالفین کی تقلید میں تلاوتِ کلام پاک کی مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ محض پڑھنے کے حق میں انہیں قرآن میں اشارہ تک بھی نہیں ملتا ہے، قرآن سمجھنا تو بڑی بات ٹھہری۔ ہماری وضاحت کی روشنی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو یہ پاک کتاب کبھی کھول کر دیکھنی بھی نصیب نہیں ہوئی، اسے سمجھنا ایسوں کا نصیب کہاں؟ اگر ’’اہل الذکر والقرآن‘‘ یہ ہیں تو اہلِ کفر و الحاد کون ہوتے ہیں؟ خدا معلوم یہ لوگ کدھر کے ’’اہل الذکر والقرآن‘‘ ہیں؟ اور ان کے اور غیر مسلموں کے درمیان فرق اور فاصلہ کیا ہے؟ کیا صرف ’’اہل الذکر والقرآن‘‘ کے لیبل کا؟ العیاذ باللہ۔ 

مذکورہ گذارشات کا مطلب تلاوتِ کلام پاک کی اہمیت و ثواب جتانا ہے۔ ہم یہ بالکل نہیں کہہ رہے کہ قرآن سمجھا نہ جائے یا اس پر عمل نہ کیا جائے۔ اگر دنیاوی علوم و فنون سیکھنے کے لیے بھاری رقوم خرچ کر کے دس دس بیس بیس برس تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے، گھر بار سے ہزاروں میل دور درسگاہوں میں مغز کھپائی کر سکتے ہیں، فیکٹریوں میں دھکے کھا سکتے ہیں تو قرآن مجید کا ترجمہ اور معانی سمجھنے کے لیے بھی مطلوبہ وقت ضرور نکالا جا سکتا ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔

قرآن / علوم قرآن

(دسمبر ۱۹۸۹ء)

دسمبر ۱۹۸۹ء

جلد ۱ ۔ شمارہ ۳

آہ! الشیخ عبد اللہ عزامؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پیرِ طریقت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ
مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی

اسلام کا فطری نظام
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی تعلیم اور مدارس کی اہمیت
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

تلاوتِ قرآنِ مجید باعث خیر و برکت ہے
محمد اسلم رانا

کیا بائیبل میں تحریف پر قرآن کریم خاموش ہے؟
محمد عمار خان ناصر

علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داری
قاضی محمد اسرائیل

کیا واقعی سندھ کو نبی اکرمؐ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے؟
غازی عزیر

موت کا منظر
حکیم سید محمود علی فتحپوری

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت
مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی

توہینِ صحابہؓ کے مرتکب کو تین سال قید با مشقت کی سزا
ادارہ

منقبتِ صحابہؓ
سرور میواتی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

قرآنی نظام اپنے لیے ماحول خود بناتا ہے
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی

Flag Counter