عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی

(دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ نے نومبر ۱۹۸۹ء کے شمارہ میں ’’عورت کی سربراہی اسلام کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے مفتیٔ دارالعلوم دیوبند کا یہ مقالہ شائع کیا ہے۔ مقالہ کی اہمیت کے پیشِ نظر ماہنامہ دارالعلوم کے شکریہ کے ساتھ اسے نقل کیا جا رہا ہے۔ اسی عنوان پر مدیر ’’الشریعہ‘‘ کا مقالہ آئندہ شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں — ادارہ)


عورت کی سربراہی کا مسئلہ پاکستان میں آج کل موضوع سخن بنا ہوا ہے۔ ہندوستان میں بھی کچھ لوگ دلچسپی لے رہے ہیں اور اس بارے میں اخبارات میں بعض مفصل تحریریں نظر سے گزریں۔ علاوہ ازیں ایک فتوٰی بھی دیکھنے میں آیا جس میں اسلامی مملکت کے اندر عورت کی سربراہی کو قرآن و حدیث سے اور فقہی روایات سے مطلقًا جائز قرار دیا گیا ہے اور اس فتوے کو دارالعلوم دیوبند کی طرف منسوب کر کے مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند کے نام سے شایع کیا گیا ہے حالانکہ دارالعلوم دیوبند سے جواز کا کوئی فتوٰی نہیں دیا گیا اور نہ اس فتوٰی نویس کا دارالعلوم سے کوئی تعلق ہے۔ اس فتوٰی اور اس کے غلط انتساب کی وجہ سے پاکستان میں خصوصًا اور ہندوستان میں عمومًا بڑا خلجان و اضطراب پایا جا رہا ہے اس لیے بعض بزرگوں کی درخواست پر اس کا تفصیلی جواب تحریر کیا جا رہا ہے۔ 

جنسی اعتبار سے عورت کی حیثیت

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ (احزاب)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

الرجال قوامون علی النسآء بما فضل اللہ بعضھم علیٰ بعض (نساء)

اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے اور بلاضرورتِ شرعی باہر نکلنے سے انہیں منع فرمایا ہے۔ انہیں باہر کی جدوجہد سے یکسو ہو کر اپنے گھروں کی اصلاح و تربیت کا فریضہ انجام دینا چاہیئے نیز بہت سے اسباب و وجوہ کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر حکمرانی اور بالادستی عطا فرمائی ہے۔ 

عورت ذات کو اللہ تعالیٰ نے ناقص العقل اور ناقص الدین بنایا، انہیں امامتِ صغرٰی، امامت کبرٰی، اذان، خطبہ، اقامتِ جمعہ، اقامتِ عیدین سے محروم رکھا، حدود و قصاص میں ان کی شہادت غیر معتبر قرار دی گئی، مردوں کے مقابلہ میں تنہا عورت کی گواہی آدھی قرار دی گئی، انہیں جنازہ میں جانے اور بغیر محرم کے سفر کرنے سے منع کیا گیا، جہاد جیسا اہم ترین رکن ان کے ذمہ واجب نہیں کیا گیا، وہ مردوں کی امامت نہیں کر سکتی ہیں۔ 

علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے عقل، علم، فہم، تدبر، حسن تدبیر ،قوت نظریہ، قوت عملیہ، قوت جسمانیہ، شجاعت، قوت، محنت، صبر و تحمل کے لحاظ سے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے، پھر مرد لوگ عورتوں پر بڑا مال خرچ کرے ہیں، ان کا مہر دیتے ہیں، انہیں رہنے کے لیے مکان، نان نفقہ دیتے ہیں، اس لحاظ سے وہ عورتوں کے محسن ہیں اور محسِن ہی کو اپنے محسَن پر حکمرانی کا حق ہوتا ہے، محسَن اپنے محسِن پر حکمرانی کا حق نہیں رکھتا ہے۔ 

عورت کی حکمرانی و سربراہی

ان ہی اسباب و وجوہ کی بنا پر کسی اسلامی مملکت میں عورت کی حکمرانی و سربراہی موجب عدم فلاح اور علماء، محدثین و فقہائے کرام کے نزدیک بالاتفاق ناجائز ہے۔ عورت کو حکمران بنانے والے سب ہی گنہگار ہوں گے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:

لن یفلح قوم ولو امرھم امرأۃ۔

بعض روایت میں یہ الفاظ ہیں:

لن یفلح قوم اسند وامرھم الی امرأۃ۔

اور بعض روایت میں ہے:

لن یفلح قوم تملکھم امرأۃ۔

اور ایک روایت میں ہے:

مخرج قوم الا یفلحون قائدھم امرأۃ فی الجنۃ۔ (اعلاء السنن ص ۳۱ ج ۵)

ان سب احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ عورت کو اپنا حکمران بنائیں گے اور اپنے ملک کی سربراہی کسی عورت ذات کے سپرد کر دیں گے وہ لوگ فلاح سے محروم رہیں گے۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں امتِ مسلمہ کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ حکومت کی سربراہی کسی عورت کو نہیں سونپی جا سکتی۔ اس کے لیے جہاں اور شرائط ذکر کیے گئے ہیں ان میں ایک مذکر ہونا بھی شرط قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قاضی ابوبکر ابن العربیؒ حدیث بخاری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وھذا نص فی ان الامراۃ لا تکون خلیفۃ ولا خلاف فیہ۔ (احکام القرآن ص ۱۴۴۵ ج ۳)
’’یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہو سکتی اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

ابن العربی کا یہ اقتباس علامہ قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں نقل فرمایا ہے اور اس کی تاکید فرمائی ہے، ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ علماء کے درمیان اس میں اختلاف نہیں ہے۔

قال القاضی ابوبکر بن العربی ھذا نص من ان المراۃ لا تکون خلیفۃ ولا خلاف فیہ۔ (تفسیر القرآن للقرطبی ص ۱۸۳ ج ۱۳)

علامہ بغویؒ جو مشہور مفسر و محدث گزرے ہیں وہ لکھتے ہیں:

اتفقوا علی ان المراۃ لا تصلح ان تکون امامًا لان الامام یحتاج الی الخروج لاقامۃ امر الجہاد والقیام بأمر المسلمین ۔۔۔ والمرأۃ عورۃ لا تصلح المبروز (شرح السنۃ للبغوی ص ۷۷ ج ۱۰ ۔ باب کراھیۃ تولیۃ النساء)
’’امت کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت حکومت کی سربراہ نہیں بن سکتی کیونکہ امام کو جہاد کے معاملات انجام دینے اور مسلمانوں کے معاملات نمٹانے کے لیے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے اور عورت پوشیدہ (پردہ میں) رہنی چاہیئے، مجمع عام میں اس کا جانا جائز نہیں۔‘‘

امام غزالیؒ فرماتے ہیں:

’’حکمرانی کی چوتھی شرط مذکر ہونا ہے لہٰذا کسی عورت کی امامت منعقد نہیں ہو گی اگرچہ وہ تمام اوصاف کمال سے متصف ہو اور اس میں استقلال کی صفات پائی جاتی ہوں۔‘‘

علامہ ماوردیؒ جو اسلامی سیاست کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کی مشہور کتاب ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ اسلامی سیاست کا اہم ترین ماخذ سمجھی جاتی ہے اس میں انہوں نے عورت کی سربراہی تو کجا عورت کو وزارت کی ذمہ داری سونپنا بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے وزارت تفویض اور وزارت تنفیذ ہر طرح کی ذمہ داری عورت پر ڈالنا ناجائز قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

فصل و اما وزارۃ التنفیذ فحکمھا اضعف و شروطھا اقل ۔۔ الخ۔ ولا یجوز ان تقوم بذلک امراۃ وان کان خبرھا مقبولا لما تضمنہ معنی الولایات المعروفۃ عن النساء لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’ما افلح قوم اسندوا امرھم الی امراۃ ‘‘ ولان فیھا من طلب الرأی و ثبات العزم ما تضعف عن النساء و من الظھور عن مباشرۃ الامورھا ھو علیھن محظور۔ (ص ۲۷ و ۲۸)
’’جہاں تک وزارتِ تنفیذ کا تعلق ہے وہ نسبتًا کمزور ہے اور اس کے شرائط بھی کم ہیں لیکن یہ جائز نہیں کہ کوئی عورت اس کی ذمہ دار بنے، اگرچہ عورت کی خبر مقبول ہے، کیونکہ یہ وزارت ایسی ولایتوں پر مشتمل ہے جن کو شریعت نے عورتوں سے الگ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ’’لن یفلح قوم ولو امرھم امرأۃ‘‘ یعنی جو قوم اپنے معاملات کسی عورت کے سپرد کرے وہ فلاح نہ پائے گی۔ علاوہ ازیں اس وزارت کے لیے جو اصابت اور اولوالعزمی درکار ہے وہ صنفِ نازک میں بہت ضعیف درجہ کی ہوتی ہے۔ نیز اس وزارت کے فرائض انجام دینے کے لیے ایسے انداز سے لوگوں کے سامنے ظاہر ہونا پڑتا ہے جو عورتوں کے لیے شرعًا ممنوع ہے۔‘‘

بہرحال عورت کے لیے کسی مملکت کی سربراہی کے عدم جواز کا مسئلہ متفق علیہ اور اجماعی مسئلہ ہے۔ علامہ ابن حزمؒ نے اجماعی مسائل پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں وہ تحریر فرماتے ہیں:

واتفقوا ان الامامۃ لا تجوز لامراۃ۔ (مراتب الاجماع لابن تیمیہ ص ۱۲۶)
’’تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ حکومت کی سربراہی کسی عورت کے لیے جائز نہیں۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے علامہ ابن حزمؒ کی مذکورہ کتاب پر تنقید لکھی ہے یعنی جن مسائل کو علامہ ابن حزمؒ نے اجماعی قرار دیا ہے ان میں سے بعض بعض مسائل پر ابن تیمیہؒ نے اختلاف کیا ہے لیکن عورت کی سربراہی کے مسئلہ میں انہوں نے علامہ ابن حزمؒ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے۔ (نقد مراتب الاجماع لابن تیمیہ ص ۱۲۶)

امام ابوحنیفہؒ و ابن جریر طبریؒ کا موقف

کتب احناف مثلاً درمختار، فتح القدیر وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک جن امور میں عورتوں کی شہادت جائز ہے ان امور میں عورت کو قاضی بنانا بھی جائز ہے کیونکہ عورت شہادت کی اہل ہے اور جب شہادت کی اہلیت رکھتی ہے تو اس کو قضا کا عہدہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ لوگوں نے عورت کو قاضی بنا دیا یا وہ خود اپنی طاقت کے زور سے قاضی بن بیٹھی اور کسی معاملہ میں حدود و شرح کی رعایت کرتے ہوئے فیصلہ کیا تو وہ فیصلہ قابلِ تسلیم ہو گا، البتہ اس کا فیصلہ حدود و قیاس میں معتبر نہ ہو گا۔ مگر اس کے بعد متصلًا یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ عورت کو قاضی بنانا مکروہ ہے یعنی یہ فعل بہرحال گناہ کا ہے۔ درمختار میں ہے:

والمرأۃ تقضی فی غیر حد و قود وان اثم المولی لھا لخبر البخاری لن یفلح قوم ۔۔۔ الخ۔
’’یعنی عورت کو قاضی بنانا فعل حرام کے قریب قریب ہے اور ممنوع ہے۔‘‘

اسی طرح مشہور مفسر حافظ ابن جریر طبری کی طرف یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ وہ عورت کے قاضی بنانے کے جواز کے قائل ہیں اور جب عورت کو قاضی بنایا جا سکتا ہے تو اسے کسی مملکت کی سربراہی بھی سونپی جا سکتی ہے۔ ان کی تصانیف میں تتبع و تلاش کے باوجود ہمیں ان کی یہ رائے نہیں مل سکی، جب تک ان کی کسی کتاب کا اقتباس ہمارے سامنے نہ ہو ان کے موقف کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ بالفرض ہم تسلیم بھی کر لیں کہ وہ امام ابوحنیفہؒ کی طرح عورت کو قاضی بنانے کے جواز کے قائل ہیں تو اس بات کو مطلقًا عورت کی سربراہی کے جواز کے عنوان سے نقل کرنا بھی درست نہ ہو گا۔ 

عورت کو قصاص، حدود، تعزیرات اور نکاح کے معاملات کے سوا دوسرے امور میں قاضی بنائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسئلہ میں اگر عورت کو ثالث بنایا جائے یا جزوی طور پر کوئی مقدمہ اس کے سپرد کیا جائے اور وہ شریعت کے اصول و ضابطے کے مطابق صحیح فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ صحیح اور معتبر ہو گا۔ چنانچہ ہمارے اس خیال کی تائید قاضی ابوبکر ابن العربیؒ کی تحریر سے ہوتی ہے، وہ بخاری شریف کی حدیث ’’لن یفلح قوم۔۔الخ‘‘ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہو سکتی اور اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ امام محمد بن جریر طبریؒ سے منقول ہے کہ ان کے نزدیک عورت کا قاضی ہونا جائز ہے لیکن ان کی طرف اس مسلک کی نسبت صحیح نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مذہب ایسا ہی ہو گا جیسا کہ امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ عورت ان معاملات میں فیصلہ کر سکتی ہے جس میں وہ شہادت دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورت علی الاطلاق قاضی بن جائے اور یہ کہا جائے کہ فلاں عورت کو قصاص اور نکاح کے معاملات کے علاوہ قاضی بنایا جا رہا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو کسی مسئلہ میں ثالث بنا لیا جائے یا کوئی ایک مقدمہ جزوی طور پر اس کے سپرد کر دیا جائے۔ وانما ذٰلک کسبیل التحکیم او الاستنابۃ فی القضیۃ الواحدہ۔‘‘ (احکام القرآن لابن العربی ص ۱۴۴۵ ج ۳)

بہرحال ان دونوں بزرگوں سے عورت کے لیے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا جو جواز منقول ہے وہ باقاعدہ قاضی بنانے سے متعلق نہیں بلکہ جزوی حیثیت سے ثالث کے طور پر کوئی انفرادی قضیہ نمٹانے سے متعلق ہے۔ پس فقہاء کا تھوڑا سا اختلاف عورت کے قاضی بننے نہ بننے کے بارے میں ضرور ہے لیکن حکومت کا سربراہ بننے کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ چنانچہ امام الحرمین علامہ جوینیؒ فرماتے ہیں:

’’سربراہی کے لیے مذکر ہونے کی شرط میں کوئی شک نہیں ہے، جن علماء نے ایسے امور میں عورت کے قاضی بننے کو جائز کہا ہے جن میں عورت گواہ بن سکتی ہے، وہ بھی سربراہی کے لیے عورت کی تقرری ناممکن قرار دیتے ہیں کیونکہ قضا کے بارے میں گو یہ ممکن ہے کہ اس کے حدود و اختیارات کو معاملات کے ساتھ خاص کر دیا جائے مگر حکومت کی سربراہی کو شریعت کے نظام کے مطابق کچھ محدود معاملات کے ساتھ خاص کرنا ممکن نہیں۔‘‘

حضرت تھانویؒ کے فتوٰی کی حیثیت

عورت کی سربراہی کے جواز میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا ایک فتوٰی پیش کیا جاتا ہے جو امداد الفتاوٰی میں مذکور ہے۔ حضرت نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جمہوری حکومت میں سربراہ ایک رکن مشورہ کی حیثیت رکھتا ہے، اسے اختیار کلّی سلطانِ وقت کی طرح نہیں ہوتا ہے۔ ہم ذیل میں بعینہٖ وہ فتوٰی بمعہ سوال کے درج کرتے ہیں:

’’سوال نمبر ۱۰۳: بخاری میں حدیث ہے ’’لن یفلح قوم ولو أمرھم امرأۃ‘‘۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا والی و حاکم ہونا موجبِ عدمِ فلاح ہے۔ تو کیا جن ریاستوں پر عورتیں حکمران ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں؟
الجواب: حکومت کی تین قسمیں ہیں۔ 
(۱) ایک قسم وہ جو تام بھی ہو عام بھی ہو۔ تام سے مراد یہ کہ حاکم بانفرادہ خودمختار ہو یعنی اس کی حکومت شخصی ہو اور اس کے حکم میں کسی حاکمِ اعلیٰ کی منظوری کی ضرورت نہ ہو، گو اس کا حاکم ہونا اس پر موقوف ہو۔ اور عام یہ کہ اس کی محکوم کوئی محدود و قلیل جماعت نہ ہو۔
(۲) دوسری قسم وہ جو تام تو ہو مگر عام نہ ہو۔
(۳) تیسری قسم وہ جو عام ہو مگر تام نہ ہو۔ 
مثال اول کی، کسی عورت کی سلطنت یا ریاست بطرز مذکور شخصی ہو۔ مثال ثانی کی، کوئی عورت کسی مختصر جماعت کی منتظم بلاشرکت ہو۔ مثال ثالث کی، کسی عورت کی سلطنت جمہوری ہو کہ اس میں والی صوری درحقیقت والی نہیں بلکہ ایک رکن مشورہ ہے اور والی حقیقی مجموعہ مشیروں کا ہے۔
حدیث کے الفاظ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد حدیث میں پہلی قسم ہے۔ چنانچہ سبب و رود اس حدیث کا کہ اہلِ فارس نے دخترِ کسرٰی کو بادشاہ بنایا تھا اور لفظ ’’ولّوا‘‘ میں تولیت کے اطلاق سے متبادر اس کا کمال مفہوم ہونا پھر اس کی اسناد قوم کی طرف ہونا، یہ سب اس کا قرینہ ہے کیونکہ یہ طریقہ تولیت کاملہ کا سلطان ہی بنانے کے ساتھ خاص ہے کہ قوم کے اہلِ حل و عقد باہم متفق ہو کر کسی کو سلطان بنا دیتے ہیں، اور سلطان کا کسی کو حکومت دینا یہ بھی بواسطۂ سلطان کے قوم ہی کی طرف مسند ہو گا۔ بخلاف قسمِ ثانی کے کہ وہاں گو تولیت کامل ہوتی ہے مگر وہ مستناد قوم سے حقیقتًا یا حکمًا نہیں ہوتی۔ اور بخلاف ثالث کے کہ وہاں گو اسناد اس کی قوم کی طرف صحیح ہے مگر تولیت کامل نہیں ہے بلکہ وہ مشورۂ محضہ ہے گو اس مشورہ کو دوسرے منفرد مشوروں پر ترجیح ہو لیکن اس میں ولایت کاملہ کی شان نہیں ہے اور نہ تمام ارکان کے مخالف ہونے کی صورت میں بھی اسی کو سب پر ترجیح ہوتی، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ قرینہ تو خود الفاظ حدیث سے ماخوذ ہے۔ 
اب دوسرے دلائلِ شرعیہ میں جو نظر کی جاتی ہے تو اس تفصیل کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت بلقیس کی سلطنت کا قصہ قرآن مجید میں مذکور ہے، اس میں آیت ہے ’’ما کنت قاطعۃ امرًا حتٰی تشھدون‘‘ جس میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلطنت کا طرزِ عمل، خواہ ضابطہ سے، خواہ بلقیس کی عادت مستمرہ سے، سلطنت جمہوری کا سا تھا، اور بعد ان کے ایمان لے آنے کے کسی دلیل سے ثابت نہیں کہ ان سے انتزاعِ سلطنت کیا گیا ہو۔ پس ظاہر حکایتِ سلطنت اور عدمِ حکامیتِ انتزاع سے اس سلطنت کا بحالہا باقی رہنا ہے اور تاریخ صراحۃً اس کی مؤید ہے۔ اور قاعدہ اصولیہ ہے کہ ’’اذا قض اللہ ورسولہ علینا امرًا من غیر نکیر علیہ فھو حجۃ لنا‘‘۔ پس قرآن سے ظاہرًا ثابت ہو گیا کہ سلطنتِ جمہوری عورت کی ہو سکتی ہے، جو قسم ثالث ہے حکومت کے اقسام ثلٰثہ مذکور میں سے۔ اور راز اس میں یہ ہے کہ حقیقت اس حکومت کی محض مشورہ ہے اور عورت اہل ہے مشورہ کی۔ 
چنانچہ واقعہ حدیبیہ میں خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہؓ کے مشورہ پر عمل فرمایا اور انجام اس کا محمود ہوا۔ اور اگر سلطنت شخصی بھی ہو مگر ملکہ التزامًا اپنی انفراد رائے سے کام نہ کرتی ہو وہ بھی اس حدیث میں داخل نہیں کیونکہ علّت عدمِ فلاح کی نقصانِ علم ہے، اور جب مشورہ رجال سے اس کا انجبار ہو گیا تو علّت مرتفع ہو گئی تو معلول یعنی عدمِ فلاح بھی منفی ہو گیا، جیسے نقصانِ شہادتِ نساء انظمامِ شہادتِ رجال سے منجبر ہو جاتا ہے۔ سلطنتِ بلقیس میں یہ شق بھی محتمل ہے جس کی طرف ادھر اس عبارت میں اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ خواہ بلقیس کی عادت مستمرہ ۔۔۔الخ۔ 
اور حدیث شیخین میں ہے ’’فالامام الذی علی الناس راعٍ الٰی قولہ علیہ السلام والمرأۃ راعیۃ علی بیت زوجھا و ولدہ وھی مسئولۃ عنھم‘‘ لفظ راعیۃ مثل لفظ راعٍ جو اس سے قبل ہے مستعمل ہے معنی حاکمہ میں، اس حدیث سے قسم ثانی کا عورت کے لیے مشروع ہونا ثابت ہوتا ہے۔ حضرات فقہاء نے امامتِ کبرٰی میں ذکورۃ کی شرط صحت اور قضا میں گو شرط صحت نہیں مگر شرط صون عن الاثم فرمایا ہے اور نظارت و وصیت و شہادت میں کسی درجہ میں اس کو شرط نہیں کہا۔ ہکذا فی الدر المختار باب الامامۃ و کتاب القاضی الی القاضی۔ قضاء کے اس حکم مذکور قسم اول و ثانی کے احکام کی تصریح ہے اور قسم ثالث مقیس ہے قسم ثانی پر ’’لاشتراکھما فی کونھما غیر جامعین لوصف التمام والعموم‘‘ جب دلائل بالا سے ثابت ہو گیا کہ حدیث میں مذکور قسم اول ہے تو معلوم ہو گیا کہ ایسی ریاستیں جو آج کل زیرفرمان عورتوں کے ہیں اس حدیث میں داخل نہیں اس لیے کہ اگر اس کے محکومین کو مختصر قرار دیا جائے تب وہ قسم ثانی ہے۔ اور اگر اس جماعت کو مختصر نہ قرار دیا جائے تب بھی وہ درحقیقت جمہوری ہیں، یا تو ظاہرًا بھی جہاں پارلیمنٹ کا وجود شاہد ہے اور یا صرف باطنًا جہاں پارلیمنٹ تو نہیں ہے لیکن اکثر احکام میں کسی حاکم بالا سے جو صاحبِ سلطنت یا نائب سلطنت سے منظوری لینا پڑتی ہے پس اس طور سے وہ قسم ثالث ہیں۔ اور اب یہ بھی شبہ نہ رہا کہ ظاہر یہ رئیسات مثل قاضی کے ہیں اور قاضی عورت کا حکم حدود و قصاص میں نافذ نہیں ہوتا۔ کما صرح بہ الفقہاء۔
تو ایسے احکام کے نفاذ کی ان ریاسات میں کوئی صورت صحت کی نہ ہو گی۔ وجہ رفع شبہ کی ظاہر ہے کہ وہ ریاست اولًا تو جمہوری ہے اور علی السبیل التنزل یوں کہا جائے گا کہ چونکہ قضاۃ تو ذکور ہیں اس لیے وہ احکام نافذ ہو جائیں گے، جیسا کہ فقہاء نے قضاۃ منصوبین من السلطان غیر المسلم کے جمیع احکام کو صحیح و نافذ فرمایا ہے، بالجملہ تحقیق مذکور ثابت ہو گیا  کہ یہ ریاستیں عدم فلاح کے حکم سے بری ہیں۔ واللہ اعلم۔‘‘

اس فتوے کا ماحصل یہ ہے کہ ایسی شخصی حکومت جس میں اقتدارِ اعلیٰ صرف امیر المسلمین یا بادشاہِ وقت کو ہوتا ہے اور اسے کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، ایسی حکومت کی سربراہ عورت کو بنانا عدمِ فلاح کا موجب ہے۔ اور جمہوری حکومت جس میں پارلیمنٹ کے مشوروں کے بعد احکام کا نفاذ ہوتا ہے، سربراہ کی حیثیت اس حکومت میں ایک رکن مشورہ کی ہوتی ہے اس لیے وہ والیٔ حقیقی نہیں ہوتا، والیٔ حقیقی تو پارلیمنٹ کے ممبروں کا مجموعہ ہوتا ہے اور رکن مشورہ بننا عورت کے لیے جائز ہے کیونکہ جمہوری حکومت کی حقیقت محض مشورہ ہے اور عورت مشورہ کی اہل ہے۔ البتہ امامتِ کبرٰی یعنی حکومت کی سربراہی میں مرد ہونا شرط ہے اور قاضی بنانے میں صون عن الاثم یعنی گناہ سے بچنا شرط ہے، مرد ہونا شرط نہیں ہے۔ 

کچھ لوگ حضرت تھانویؒ کے اس فتوٰی کو عورت کی سربراہی کے جواز میں پیش کرتے ہیں اور جمہوری حکومت کے سربراہ کو پارلیمانی مشیروں کا تابع سمجھتے ہیں حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ موجودہ جمہوری نظام حکومت کی سربراہی کو حضرت تھانویؒ کے مذکور فتوے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ حضرت تھانویؒ کا فتوٰی انگریزی دور میں لکھا گیا ہے اور انگریزی دور کی رئیسات کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ آج کی آزاد جمہوری حکومتوں کی صورتِ حال انگریزی دور سے بہت مختلف فیہ ہے۔ جمہوری نظامِ حکومت میں خواہ پارلیمنٹری نظام ہو یا صدارتی، طاقت کا مرکز وزیراعظم اور صدر مملکت دونوں ہی ہوتے ہیں۔ کہیں صدر کا پلہ بھاری ہوتا ہے اور کہیں وزیراعظم کا۔ اس لیے جمہوری حکومتوں کے یہ دونوں عہدے حضرت تھانویؒ کے فتوے کی رو سے قسم اول (یعنی حکومت تام بھی اور عام بھی) میں داخل ہیں۔ لہٰذا حضرت تھانویؒ کا فتوٰی مجوزین کے لیے مفید مقصد نہیں ہو سکتا۔ غرض تاریخِ اسلام میں کبھی کسی فقیہ یا عالم نے عورت کی حکمرانی کے جواز کا فتوٰی نہیں دیا ہے۔ 

عورت کی سربراہی پر استدلال بلقیس کے واقعہ سے

کچھ لوگ عورت کی سربراہی پر جواز کے لیے ملکۂ سبا یعنی بلقیس کی حکمرانی کا واقعہ پیش کرتے ہیں یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط لکھنے پر جب وہ مطیع اور فرمانبردار ہو کر آگئی اور اسلام قبول کر لیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی بادشاہت کو برقرار رکھا جیسا کہ بعض کتابوں میں اس کا ذکر ملتا ہے، حالانکہ قرآن پاک کے الفاظ پر نظر ڈالنے سے معاملہ برعکس معلوم ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کی حکومت تسلیم نہیں کی بلکہ اس کے نام جو خط لکھا اس کے الفاظ یہ ہیں:

انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ان لا تعلوا علیّ واتونی مسلمین۔ (نمل)
’’یعنی تم میرے مقابلہ میں سر نہ اٹھاؤ اور میرے پاس میری مطیع اور فرمانبردار بن کر آجاؤ۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی حکومت کو نہ صرف یہ کہ تسلیم نہیں فرمایا بلکہ اسے اپنا ماتحت بن کر آنے کا حکم دیا، نیز اس کا بھیجا ہوا تحفہ قبول نہیں فرمایا، اس کا تختہ بھی اٹھوا کر منگوا لیا، اس کی ہیئت بھی بدل ڈالی اور بلقیس جب حضرت سلیمانؑ کے محل میں آئی تو اس نے کہا:

’’پروردگار! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے آگے جھک گئی۔‘‘ (نمل ۴۴)

قرآن پاک کے بیان سے دور تک بھی بلقیس کی سربراہی اور اس کی حکومت برقرار رکھنے کا شائبہ تک نظر نہیں آتا، بلکہ قرآن کے پڑھنے سے یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے اسلام کے بعد اس کی حکومت کو جائز نہیں رکھا نہ اسے تسلیم فرمایا بلکہ اس کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ 

بعض اسرائیلی روایات میں منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس سے نکاح کر کے اسے یمن بھیج دیا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ نکاح کرنے کے بعد شام بھیج دیا تھا، بعض میں ہے کہ نکاح کے بعد بلقیس کو اپنے پاس رکھا، بعض میں ہے کہ بلقیس کا نکاح ہمدان کے بادشاہ سے کر دیا۔ غرض اس سلسلہ میں تاریخی روایات بہت متضاد ملتی ہیں۔ علامہ قرطبیؒ نے ان تمام اسرائیلی روایات کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے، نہ اس بارے میں کہ حضرت سلیمان نے بلقیس سے نکاح کیا، نہ اس بارے میں کہ کسی اور سے نکاح کرایا۔ (تفسیر قرطبی ج ۱۳ ص ۲۱۰ و ۲۰۱۱)

بہرحال بلقیس کی سربراہی اور حکومت کا پتہ جن روایات سے معلوم ہوتا ہے وہ تمام کی تمام غیر صحیح اور غیر مستند ہیں اور آپس میں متضاد ہیں۔ اس طرح کی روایات سے عورت کی سربراہی پر استدلال کسی طرح درست نہ ہو گا۔ حضرت تھانویؒ نے تفسیر بیان القرآن میں لکھا ہے:

’’ہماری شریعت میں عورت کو بادشاہ بنانے کی ممانعت ہے پس بلقیس کے قصہ سے کوئی شبہ نہ کرے۔ اول تو یہ فعل مشرکین کا تھا، دوسرے اگر شریعت سلمانیہ نے اس کی تقریر بھی کی ہو تو شرع محمدی میں اس کے خلاف ہوتے ہوئے وہ حجت نہیں۔‘‘ (بیان القرآن ج ۸ ص ۸۵ سورہ نمل)

جنگ جمل میں حضرت عائشہؓ کی شرکت سے استدلال

بعض حضرات نے عورت کی سربراہی پر جنگِ جمل کے واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس جنگ میں قیادت کی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ تو حضرت عائشہؓ نے کبھی قیادت کا دعوٰی کیا، نہ ان کے ساتھیوں نے آپ کو جنگ میں قائد و سربراہ بنایا، نہ ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت عائشہؓ کا مقصد نہ کوئی سیاست و حکومت تھی نہ ہی وہ جنگ کرنے کے ارادہ سے نکلی تھیں بلکہ روایات سے صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ وہ محض حضرت عثمانؓ کے قصاص کے جائز مطالبے کی تقویت اور اس سلسلہ میں مسلمانوں کے درمیان مصالحت کرانے کے مقصد سے گئی تھیں۔ چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

’’جب حضرت عائشہؓ بصرہ جا رہی تھیں تو راستہ میں ایک جگہ قیام کیا، رات میں وہاں کتے بھونکنے لگے۔ حضرت عائشہؓ نے لوگوں سے پوچھا یہ کون سا مقام ہے؟ لوگوں نے بتایا ’’حؤاب‘‘ نامی چشمہ ہے۔ حوأب کا نام سنتے ہی حضرت عائشہؓ چونک اٹھیں، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہم ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک کا اس وقت کیا حال ہو گا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے؟‘‘ (مسند احمد ص ۵۲ ج ۱)

حضرت عائشہؓ نے حوأب کا نام سن کر آگے جانے سے انکار کر دیا اور اپنے ساتھیوں سے اصرار کیا کہ مجھے مدینہ واپس لوٹا دو لیکن بعض حضرات نے آپ کو چلنے کے لیے اصرار کیا اور کہا کہ آپ کی وجہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح ہو جائے گی۔ بہرحال حضرت عائشہؓ نے دوبارہ سفر شروع کیا اور بصرہ پہنچیں اور جو مقدّر تھا وہ پیش آیا۔ (البدایہ والنہایہ ص ۱۳۱ ج ۷)

باوجودیکہ حضرت عائشہؓ کا سفر مسلمانوں کے درمیان مصالحت کے خالص دینی مقصد کے لیے تھا مگر صحابۂ کرام اور دوسری امہات المؤمنین کو حضرت عائشہؓ کا خواتین کے اسلامی دائرے سے نکلنا پسند نہ آیا۔ چنانچہ حضرت ام سلمہؓ نے جب حضرت عائشہؓ کو خط لکھا اور اس میں انہیں گھر سے نکلنے پر تنبیہ فرمائی اور گھر رہنے کی نصیحت فرمائی، اسی طرح کا نصیحت آمیز خط حضرت زید بن صوحانؓ نے بھی لکھا۔ چنانچہ اس سفر کرنے پر حضرت عائشہؓ کو بعد میں بڑی ندامت و شرمندگی رہی۔ 

حافظ ابن عبد البرؒ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ سے فرمایا آپ نے مجھے اس میں جانے سے کیوں نہیں روکا؟ اگر آپ مجھے روک دیتے تو میں گھر سے باہر نہیں نکلتی۔ بہرحال وہ نادم ہوئیں اور اپنے اس نکلنے پر توبہ بھی کی۔ بعد میں ان کا یہ حال ہو گیا تھا کہ قرآن پاک کی تلاوت کے وقت جب آیت ’’وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ‘‘ پر پہنچتیں تو اس قدر روتیں کہ ان کی اوڑھنی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔ ان حالات میں حضرت عائشہؓ کی سربراہی کے اوپر استدلال کرنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے، اس کا تو تصور بھی ان کے حاشیۂ خیال میں نہیں آیا تھا۔ 

بہرحال کسی اسلامی ملک کی سربراہی کے لیے عورت کا تقرر کرنا ہرگز جائز نہیں ہے، تمام ائمہ کا یہ متفقہ فیصلہ ہے اور یہ اجماعی مسئلہ بن چکا ہے۔ کامل العقل اور اہلیت تامہ رکھنے والے مرد کے موجود ہوتے ہوئے عورت کو ملک کی وزارت یا صدر کے لیے منتخب کرنا اسلام اور مسلمانوں کے لیے نہ صرف ننگ و عار کا باعث ہے بلکہ تاریخ اسلام میں ایک بدنما داغ ہے اور مملکت کے یقینی ناکام ہونے کی علامت ہے۔ حدیث شریف میں ہے ’’اخروھن من حیث اخرھن اللہ‘‘ یعنی عورتوں کو پیچھے کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رتبہ کو مردوں کے مقابلے میں (سلطنت ولایت وغیرہ میں) پیچھے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق کی اتباع کرنے کی توفیق بخشے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین۔ 

اسلام اور سیاست

(دسمبر ۱۹۸۹ء)

دسمبر ۱۹۸۹ء

جلد ۱ ۔ شمارہ ۳

آہ! الشیخ عبد اللہ عزامؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پیرِ طریقت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ
مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی

اسلام کا فطری نظام
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی تعلیم اور مدارس کی اہمیت
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

تلاوتِ قرآنِ مجید باعث خیر و برکت ہے
محمد اسلم رانا

کیا بائیبل میں تحریف پر قرآن کریم خاموش ہے؟
محمد عمار خان ناصر

علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داری
قاضی محمد اسرائیل

کیا واقعی سندھ کو نبی اکرمؐ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے؟
غازی عزیر

موت کا منظر
حکیم سید محمود علی فتحپوری

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت
مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی

توہینِ صحابہؓ کے مرتکب کو تین سال قید با مشقت کی سزا
ادارہ

منقبتِ صحابہؓ
سرور میواتی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

قرآنی نظام اپنے لیے ماحول خود بناتا ہے
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی

Flag Counter