قرآنی نظام اپنے لیے ماحول خود بناتا ہے

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی

الحمد للہ کہ پاکستان کی اسلامی مملکت قائم ہو چکی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کی مجلس دستور ساز میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ بھی منظور ہو چکی ہے کہ یہاں قرآن و سنت کے ماحول میں اسلامی نظامِ حیات جاری کیا جائے گا۔ پاکستان کے قیام کا حقیقی مقصد یہی تھا کہ ہمیں ایک ایسا خطۂ ارضی مل جائے جہاں مسلم قوم کو قدرت حاصل ہو کہ وہ تمام و کمال اسلامی آئین و قوانین جاری کرے اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہؑ کے دین کو غالب اور سربُلند کرے۔

بعض مغرب زدہ لوگ جو اپنی اسلامی بصیرت کھو چکے ہیں اور خفاش کی طرح ظلمت سے نکل کر روشنی میں آنے کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اوروں کا بھی راستہ روکنا چاہتے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ چودہ سو سال کا (معاذ اللہ) فرسودہ نظام اس نئی روشنی کی دنیا میں کہاں چل سکتا ہے؟ لیکن جونہی دنیا طرح طرح کی روشنیوں کے باوجود کروڑوں برس کے فرسودہ شمس و قمر سے ہنوز بے نیاز نہیں ہو سکی تو چودہ سو برس کے قرآنی نظام سے اس کا آنکھیں چرانا کہاں تک حق بجانب ہو سکتا ہے؟

قراردادِ مقاصد سے پہلے بعض لوگوں نے، جو مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرتے ہیں، یہ بھی کہا کہ قرآنی نظام چلانے کے لیے ابھی ماحول تیار نہیں، لیکن قرآن جس وقت دنیا میں آیا اگر ماحول کی تیاری اور فضا کی سازگاری کا انتظار کرتا تو شاید قیامت تک بھی یہ ختم نہ ہوتا۔ قرآن تو اپنے لیے ماحول خود بناتا ہے اور قرآنی نظام کے نافذ ہونے سے بڑی حد تک فضا بدلنے لگتی ہے۔ آپ سعودی عرب کی حکومت ہی کو دیکھ لیجیئے، صرف دو تین چوروں کا ہاتھ کٹنے سے حجاز جیسے ملک میں چوری کا بیج باقی نہ رہا۔ اور متنورین کو یہ سن کر تعجب ہو گا اور شاید افسوس بھی کہ حجاز میں ٹنڈوں اور لنجوں کا کوئی بڑا شہر تو کجا چھوٹا سا گاؤں بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ آسمانی قانون کے اجراء کی یہی برکت ہے کہ اس میں جرم کی سزا جرم کو روکتی ہے، مجرم کو جیل میں بھیج کر پکا اور ڈگری یافتہ مجرم نہیں بنایا جاتا۔

(خطباتِ عثمانی ص ۲۸۲)


قرآن / علوم قرآن

(دسمبر ۱۹۸۹ء)

دسمبر ۱۹۸۹ء

جلد ۱ ۔ شمارہ ۳

آہ! الشیخ عبد اللہ عزامؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت مولانا عزیر گلؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پیرِ طریقت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ
مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی

اسلام کا فطری نظام
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی تعلیم اور مدارس کی اہمیت
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

تلاوتِ قرآنِ مجید باعث خیر و برکت ہے
محمد اسلم رانا

کیا بائیبل میں تحریف پر قرآن کریم خاموش ہے؟
محمد عمار خان ناصر

علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داری
قاضی محمد اسرائیل

کیا واقعی سندھ کو نبی اکرمؐ کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے؟
غازی عزیر

موت کا منظر
حکیم سید محمود علی فتحپوری

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت
مولانا مفتی حبیب الرحمٰن خیرآبادی

توہینِ صحابہؓ کے مرتکب کو تین سال قید با مشقت کی سزا
ادارہ

منقبتِ صحابہؓ
سرور میواتی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

قرآنی نظام اپنے لیے ماحول خود بناتا ہے
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی

Flag Counter