قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۶)

محمد عمار خان ناصر

قرآن کی روشنی میں احادیث کی توجیہ وتعبیر

قرآن کے ساتھ احادیث کے تعلق کو متعین کرنے کا دوسرا طریقہ جو غامدی صاحب کے علمی منہج میں اختیار کیا گیا ہے، یہ ہے کہ روایات کو ان کے ظاہری مفہوم یا عموم پر محمول کرنے کے بجائے ان کی مراد ان تخصیصات کے ساتھ متعین کی جائے جو انھیں قرآن میں ان کی اصل کے ساتھ متعلق کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اس اصول کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں:

”دوسری چیز یہ ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے۔ دین میں قرآن کا جو مقام ہے، وہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیثیت نبوت ورسالت میں جو کچھ کیا، اس کی تاریخ کا حتمی اور قطعی ماخذ بھی قرآن ہی ہے۔ لہٰذا حدیث کے بیش تر مضامین کا تعلق اس سے وہی ہے جو کسی چیزکی فرع کا اس کی اصل سے اور شرح کا متن سے ہوتا ہے۔ اصل اور متن کو دیکھے بغیر اس کی شرح اور فرع کو سمجھنا، ظاہر ہے کہ کسی طرح ممکن نہیں ہوتا۔ حدیث کو سمجھنے میں جو غلطیاں اب تک ہوئی ہیں، ان کا اگر دقت نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے۔ عہد رسالت میں رجم کے واقعات، کعب بن اشرف کا قتل، عذاب قبر اور شفاعت کی روایتیں، ’امرت ان اقاتل الناس‘ اور ’من بدل دینہ فاقتلوہ‘ جیسے احکام اسی لیے الجھنوں کا باعث بن گئے کہ انھیں قرآن میں ان کی اصل سے متعلق کر کے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ حدیث کے فہم میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائے تو اس کی بیش تر الجھنیں بالکل صاف ہو جاتی ہیں۔“ (میزان، ص 64)

اس اصول کی روشنی میں غامدی صاحب نے بہت سی احادیث کی توجیہ وتعبیر مستقل بالذات احکام کے طور پر کرنے کے بجائے قرآن مجید کی روشنی میں کی ہے اور نتیجتاً انھیں ظاہری اطلاق اور عموم پر محمول کرنے کے بجائے ان کا ایک مخصوص اور محدود دائرہ اطلاق متعین کیا ہے جو قرآن میں ان کی اصل سے ہم آہنگ ہے۔ مذکورہ اقتباس میں انھوں نے اس کی چند مثالوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جبکہ بہت سی دوسری احادیث کی تعبیر بھی غامدی صاحب نے اسی اصول کے تحت کی ہے جن کا ایک مختصر جائزہ پیش کرنا ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کے لیے مناسب ہوگا۔

۱۔ احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، قیامت کے دن اپنے امتیوں کے حق میں شفاعت کرنے کا ذکر کثرت سے ہوا ہے۔ غامدی صاحب اس کو قرآن مجید کی متعدد آیا ت کی روشنی میں، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو، گناہ کے بعد توبہ کرنے والوں کے حق میں استغفار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے (النساء۶۴:۴، المنافقون ۵:۶۳) اس شرط کے ساتھ مشروط کرتے ہیں کہ ”بندے کی طرف سے توبہ واستغفار کے بغیر اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔“ (میزان، ص ۱۵٠) نیز یہ کہ سورة النساءکی آیت ۱۸-۱۷ کی رو سے اللہ تعالیٰ پر صرف انھی لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا حق قائم ہوتا ہے جو گناہ کے بعد فوراً نادم ہو کر توبہ کی طرف لپکتے ہیں، جبکہ جو لوگ زندگی بھر گناہوں میں ڈوبے رہتے ہیں اور صرف موت کے وقت انھیں توبہ یاد آتی ہے، ان کی توبہ کا اللہ کے نزدیک کوئی اعتبار نہیں۔ غامدی صاحب اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جو لوگ گناہ کے بعد فوراً توبہ تو نہیں کرتے، لیکن اتنی دیر بھی نہیں کرتے کہ موت کا وقت آپہنچے، ”یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں شفاعت کی توقع ہو سکتی ہے۔“ (میزان، ص ۱۵۱) غامدی صاحب کے نزدیک، قرآن مجید سے شفاعت کی تحدیدات اور شرائط واضح ہو جانے کے بعد ”اس سلسلہ کی روایتوں کو اسی روشنی میں دیکھنا چاہیے اور اس سے کوئی چیز متجاوز نظر آئے تو اسے راویوں کے تصرفات سمجھ کر نظرانداز کر دینا چاہیے۔“ (میزان، ص ۱۵۳)

۲۔ متعدد احادیث میں یہ بات نقل ہوئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ، صدقہ اور حج جیسے اعمال کے متعلق یہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنے والد یا والدہ کی معذوری کی حالت میں یا ان کی وفات کے بعد ان کی طرف سے انھیں ادا کرنا چاہے تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا متصور کیے جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب اثبات میں دیا اور فرمایا کہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی پر واجب الادا قرض اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔  فقہاء، بعض جزوی اختلافات کے ساتھ، ان روایات سے ایصال ثواب کا ایک عمومی حکم اخذ کرتے ہیں جس کی رو سے کوئی بھی آدمی اپنے نیک اعمال کا اجر کسی مرنے والے کو ہدیہ بھیج سکتا ہے۔

غامدی صاحب ان احادیث سے ایصال ثواب کا عمومی تصور مستنبط کرنے کو درست نہیں سمجھتے، بلکہ ان کی تعبیر قرآن مجید کے بیان کردہ اس اصولی ضابطے کی روشنی میں کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنے عمل کا خود ہی ذمہ دار ہے اور اسے اجر بھی اسی عمل کا مل سکتا ہے جس میں اس کی اپنی سعی شامل ہو۔ (النجم ۵۳: ۴۱-۳۸) مزید یہ کہ انسان کے عمل میں جو چیز اسے دراصل اجر کا مستحق بناتی ہے، وہ عمل کی ظاہری صورت نہیں، بلکہ دل کا تقویٰ ہے (الحج ۳۷:۲۲) جو قابل انتقال نہیں ہے۔ اس لیے ”دوسروں کی نیکی یا بدی سے آدمی کو خدا کے ہاں کسی فائدے یا نقصان کے پہنچنے کی ایک ہی شکل باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس کی نیت، ارادے، اور سعی وجہد کو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس نیکی یا بدی میں دخل ہو۔“ (مقامات، ص ۲۶۶) غامدی صاحب کے نقطہ نظر کے مطابق، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد کو اپنے والدین کی طرف سے حج کرنے یا روزہ رکھنے کی جو اجازت دی، وہ بھی اسی اصول پر تھی، کیونکہ اولاد درحقیقت والدین ہی کی سعی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کو اعمال خیر کی تعلیم دیتے ہیں، ”چنانچہ وہ اگر نیکی کے کسی کام سے معذور ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ان کے کسی ارادہ خیر کو اولاد پایہ تکمیل تک پہنچا دے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پہنچانا چاہیے، اس لیے کہ یہی سعادت مندی کا تقاضا ہے۔“ (ایضاً، ص ۲۶۷) اس خاص تناظر سے ہٹ کر، غامدی صاحب ایصال ثواب کے نام پر مروجہ تصورات کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ”اس طرح کی تقریبات یقینا بدعت ہیں۔ قرآن وحدیث میں ان کے لیے کوئی بنیاد تلاش نہیں کی جا سکتی۔“ (ایضا، ص ۲۶۸، ۲۶۹)

۳۔ مولانا حمید الدین فراہی کی تحقیق کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سورة القیامۃ کی آیات: اِنَّ عَلَینَا جَمعَہ وَقُراٰنَہ، فَاِذَا قَرَأنٰہُ فَا تَّبِع قُراٰنَہ (۷۶: ۱۷، ۱۸) اور سورة الاعلیٰ کی آیت :سَنُقرِئُکَ فَلاَ تَنسٰٓی (۸۷:۶) میں قرآن مجید کے نزول اور جمع وترتیب سے متعلق ایک پوری اسکیم واضح کی ہے جس میں قرآن کے متن کا نزول، ابتدائی قراءت کے بعد ایک دوسری قراءت اور اس کی روشنی میں متن کی جمع وترتیب نیز تفہیم وتبیین کے مختلف مراحل کا ذکر ہے۔ مستند روایات کے مطابق جبریل علیہ السلام ہر سال رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک نازل شدہ قرآن پڑھ کر سناتے تھے، جبکہ آخری سال انھوں نے دو مرتبہ قرآن پڑھ کر سنایا جسے ”عرضہ اخیرہ کی قراءت“ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد قرآن کی پہلی قراءت منسوخ قرار پائی اور اس دوسری قراءت ہی کو قرآن کے حتمی اور واجب الاتباع متن کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءصحابہ کے سپرد کر دیا۔ (میزان، ص ۲۸، ۳۱)

ان آیات کی روشنی میں غامدی صاحب قراءت کے اختلافات کے حوالے سے اپنا موقف متعین کرتے اور قرآن کے متن کو، ایک سے زیادہ طریقوں پر پڑھنے کا جواز بیان کرنے والی روایات کو قرآن مجید کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرآن مجید کی ایک ہی قراءت تواتر سے ثابت ہے جسے علمائے قراءت اپنی اصطلاح میں ”روایت حفص“ سے تعبیر کرتے ہیں، کیونکہ مغرب کے بعض علاقوں کو چھوڑ کر پوری دنیا میں امت کے سواد اعظم میں قرآن مجید تاریخی اعتبار سے اسی قراءت کے مطابق پڑھا جاتا رہا ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک عرضہ اخیرہ کے بعد ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کی قراءت یہی تھی۔ آپ کے بعد خلفائے راشدین اور تمام صحابہ مہاجرین وانصار اسی کے مطابق قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔“ (میزان، ص ۲۸) جہاں تک علم قراءات اور کتب تفسیر میں مذکورہ دیگر قراءتوں کا ذکر ہے تو غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ سورة القیامۃ میں اِنَّ عَلَینَا جَمعَہ وَقُراٰنَہ، فَاِذَا قَرَأنٰہُ فَا تَّبِع قُراٰنَہ کے تحت عرضہ اخیرہ کی قراءت کے بعد سابقہ تمام قراءات منسوخ کر دی گئی تھیں، لیکن اس نص کی طرف توجہ نہ ہو سکنے کے باعث دور اول میں اہل علم قابل اعتماد اخبار آحاد کے ذریعے سے نقل ہونے والی مختلف قراءتوں کو اہمیت دینے پر مجبور ہوئے جو درحقیقت عرضہ اخیرہ سے پہلے کی منسوخ قراءات تھیں۔ اسی سے رفتہ رفتہ قراءات کا ایک مستقل علم وجود میں آ گیا جس سے فقہاءومفسرین کو بھی اعتنا کرنا پڑا۔ غامدی صاحب کی رائے میں اگر یہ حضرات قرآن کی مذکورہ نص کی طرف متوجہ ہوتے تو بآسانی قراءت کے اختلافات کی درست نوعیت متعین کر سکتے تھے، لیکن ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ جس طرح انھوں نے باقی دینی وشرعی امور سے متعلق اخبار آحاد کو قبول کیا ہے، قراءت کے اختلافات بیان کرنے والی روایات کو بھی قبول کریں۔ (اشراق، جنوری ۲٠۱۵ء، ص ۳۱-۲۷)

غامدی صاحب اس بحث میں ضمنی طور پر قرآن مجید کے نظم سے بھی استدلا ل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ داخلی شواہد کے لحاظ سے بھی ”قرآن کا متن اس کے علاوہ کسی دوسری قراءت کو قبول ہی نہیں کرتا۔“ (میزان، ص ۲۹) چنانچہ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنا نتیجہ تحقیق ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ”معروف اور متواتر قراءت وہی ہے جس پر یہ مصحف ضبط ہوا ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ اس قراءت میں قرآن کی ہر آیت اور ہر لفظ کی تاویل لغت عرب، نظم کلام اور شواہد قرآن کی روشنی میں اس طرح ہو جاتی ہے کہ اس میں کسی شک کا احتمال باقی نہیں رہ جاتا۔“ (تدبر قرآن، ۸/۸) مولانا مزید فرماتے ہیں کہ ”میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اس کے سوا کسی دوسری قراءت پر قرآن کی تفسیر کرنا اس کی بلاغت، معنویت اور حکمت کو مجروح کیے بغیر ممکن نہیں۔“ (ایضا، ۸/۸)

۴۔ متعدد احادیث میں حکمرانی کے حق کو خاندان قریش کے ساتھ خاص قرار دیا گیا ہے۔ اس کی روشنی میں ایک طویل عرصے تک جمہور فقہاءکا موقف یہی رہا ہے کہ اسلام میں خلافت کا منصب قریش سے نسبی تعلق رکھنے والوں کے ساتھ خاص ہے۔ غامدی صاحب اس ہدایت کو قرآن مجید کے ایک عمومی اصول اَمرُھُم  شُورٰی بَینَھُم (الجاثیۃ  ۵۸ :۴۲)کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد جزیرہ عرب میں حق اقتدار سے متعلق قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں مسلمانوں کے نظم حکومت کی اساس ان کے باہمی مشورے کو قرار دیا ہے جس کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ریاست میں آپ کے بعد اقتدار کا حق اسی گروہ کو حاصل ہو سکتا تھا جسے اہل عرب کا عمومی اعتماد حاصل ہو۔ گویا یہ ایک خاص صورت حال میں قرآن کے بیان کردہ ایک اصول کا انطباق ہے، اس سے مقصود کسی طرح بھی خاندان قریش کے کسی نسبی تفوق یا نسلی ترجیح کا اثبات نہیں ہے۔ (میزان، ص ۴۹۷، ۴۹۸؛ ص ۶۶)

۵۔ بعض احادیث میں نقل کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے لیے ’ناقصات عقل ودین‘ کی تعبیر استعمال فرمائی۔ اس پر خواتین نے اس کی وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ تمھاری گواہی کا آدھا ہونا تمھاری عقل کا، جبکہ ماہواری کے ایام میں نماز نہ پڑھنے کی رخصت تمھارے دین کا نقصان ہے۔ فقہاءنے عموماً اس حدیث کی روشنی میں خواتین کی گواہی کو مردوں کے مقابلے میں ناقص قرار دیا اور بہت سے معاملات میں اسی بنیاد پر اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

غامدی صاحب اس حدیث کو سورہ بقرہ کی آیت ۲۸۲ کی روشنی میں دیکھتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے قرض کے معاملات میں گواہ مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ دو مردوں کا یا اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے۔ جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا، غامدی صاحب کے نزدیک اس ہدایت کا مخاطب عدالت نہیں ہے، اس لیے اسے شہادت سے متعلق کوئی قانونی ضابطہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک دو عورتوں کو گواہ مقرر کرنے کا تعلق ہے تو غامدی صاحب اس کی تفہیم معاشرتی وتمدنی حالات کی رعایت سے عورتوں پر مردوں کے مقابلے میں کم تر ذمہ داری عائد کرنے کے تناظر میں کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں ”ہدایت کی گئی ہے کہ یہ بھاری ذمہ داری اسی پر ڈالی جائے جو اس کا تحمل کر سکتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دو فریقوں میں سے ایک فریق کی ناراضی، بلکہ بعض اوقات دشمنی کا خطرہ مول لے کر وہ بات کہنی پڑتی ہے جو فی الواقع طے ہوئی تھی۔ یہ اس زمانے میں بھی اتنا آسان نہیں ہے، کجا یہ کہ قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں کوئی شخص اس کی ہمت کرے۔ قرآن نے اسی بنا پر فرمایا ہے کہ عورتوں کو گواہ بنانا پڑے تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ عورت اگر اس دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکے جو اس طرح کے موقعوں پر لازماً پڑتا ہے اور گواہی دیتے وقت گھبرا جائے تو دوسری عورت اس کا سہارا بن سکے۔“ (ماہنامہ اشراق، جولائی ۲٠۱۷ء، ص ۲۲) اس تفہیم کی روشنی میں غامدی صاحب کے نزدیک مذکورہ حدیث میں ’ناقصات عقل‘ کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کی خلقی کمزوری کے باعث دنیاوی معاملات میں ان پر کم ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور اسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھی گواہی سے تعبیر فرمایا ہے۔

۶۔ احادیث میں بنو ہاشم کے لیے زکوٰة لینے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ غامدی صاحب اس ممانعت کو قرآن مجید کے ایک حکم سے متعلق کرتے ہوئے اس کو ابدی شرعی حکم کے بجائے ایک وقتی نوعیت کی ہدایت قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں چونکہ بنوہاشم کے لیے بیت المال کے محاصل کا ایک متعین حصہ مخصوص کر دیا گیا تھا جس سے ان کی ضروریات پوری ہو جاتی تھیں، اس لیے اس مخصوص حصے کے علاوہ زکوٰة اور صدقات کو عمومی طور پر ان کے لیے ممنوع قرار دیا گیا۔ تاہم چونکہ بعد کے دور میں یہ اہتمام برقرار نہیں رہا، اس لیے عام فقرا اور مساکین کی طرح بنو ہاشم کے ضرورت مند افراد کی کفالت بھی زکوٰة وصدقات سے کی جا سکتی ہے۔ لکھتے ہیں:

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے اور اپنے خاندان کے لوگوں کے لیے زکوٰة کے مال میں سے کچھ لینے کی ممانعت فرمائی تو اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ تھی کہ اموال فے میں سے ایک حصہ آپ کی اور آپ کے اعزہ واقربا کی ضرورتوں کے لیے مقرر کر دیا گیا تھا۔ یہ حصہ بعد میں بھی ایک عرصے تک باقی رہا۔ لیکن اس طرح کا کوئی اہتمام، ظاہر ہے کہ ہمیشہ کے لیے نہ ہو سکتا ہے اور نہ اسے کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بنی ہاشم کے فقرا ومساکین کی ضرورتیں بھی زکوٰة کے اموال سے اب بغیر کسی تردد کے پوری کی جا سکتی ہیں۔“ (میزان ص ۳۵۴، ۳۵۵)

اس ممانعت کی یہی توجیہ فقہاءکی ایک جماعت سے بھی منقول ہے۔ (طحاوی، شرح معانی الآثار، ۲/۱۱؛ نووی، الجموع شرح المہذب، ۶/۲٠؛ ابن القیم، بدائع الفوائد، ص: ۱٠۶۴، ۱٠۶۵؛ المرداوی، الانصاف فی معرفۃ الخلاف، ۳/۵۴)

۷۔ غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ سورہ محمد کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ نے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے پر عائد کر دی ہے اور فَاِمَّا مَنًّا بَعدُ وَاِمَّا فِدَآءا کے الفاظ میں یہ حکم دیا ہے کہ ایسے قیدیوں کو فدیہ لے کریا بلا معاوضہ رہا کر دینے کے علاوہ اور کوئی صورت اختیار کرنا درست نہیں ہے۔ (میزان ص ۶٠۲)

تاہم حدیث وسیرت میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں جنگی قیدیوں کو رہا کرنے کے بجائے قتل کر دیا گیا یا انھیں غلام باندیاں بنا کر مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ غامدی صاحب ایسے تمام واقعات کی توجیہ قرآن مجید کے مذکورہ حکم کی روشنی میں اور، اپنے فہم کے مطابق، اس کی عائد کردہ پابندی کو برقرار کھتے ہوئے کرتے ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات تو ایسے ہیں جن میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کی حیثیت خصوصی اور استثنائی تھی اور ان پر عمومی حکم کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ مثلاً جنگ بدر اور احد میں جن قیدیوں کو قتل کیا گیا، وہ معاندین تھے اور اتمام حجت کے خصوصی قانون کے تحت ان کے متعلق اللہ کا فیصلہ یہی تھا کہ انھیں قتل کر دیا جائے۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جنھیں فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ اسی طرح بنو قریظہ کے لوگوں نے اپنے متعلق فیصلے کے لیے جس حکم کو خود مقرر کیا تھا، اسی کے فیصلے کے مطابق ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ بعض واقعات میں جن لونڈی غلاموں کو تقسیم کیا گیا، وہ اس جنگ کے نتیجے میں غلام نہیں بنائے گئے تھے، بلکہ پہلے سے لونڈی غلام تھے اور ان کی اسی سابقہ حیثیت کی بنا پر انھیں مال غنیمت کے طور پر تقسیم کیا گیا تھا۔ (میزان، ص ۶٠۲، ۶٠۳)

مذکورہ واقعات کے علاوہ بعض غزوات میں یقینا قیدیوں کو غلام لونڈی کے طور پر تقسیم کیا گیا، لیکن غامدی صاحب کی رائے میں اس تقسیم کی نوعیت انھیں مستقلاً ان کی ملکیت میں دے دینے کی نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ازخود ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے، قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق، ان سے معاوضہ لے کر یا بلا معاوضہ رہا کر دیں۔ چنانچہ غزوہ بنی المصطلق میں مسلمانوں نے ازخود جبکہ غزوئہ حنین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب اور معاوضے کے وعدے پر اپنے اپنے حصے کے قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ (میزان، ص ۴۰۶)

۸۔ سورة الاحزاب میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے تناظر میں قرآن مجید میں جو ہدایات دی گئی ہیں، مولانا اصلاحی نے ان کی تفسیر میں اس نکتے کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں تعدد ازواج کے باب میں چار بیویوں کی تحدید کے عام ضابطے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا، وہاں آپ کچھ ایسی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں جو عام امت پر لاگو نہیں ہوتیں۔ چنانچہ آپ کو پابند ٹھہرایا گیا کہ اگر آپ مزید نکاح کرنا چاہیں تو اس کی اباحت مطلق نہیں، بلکہ آپ تین میں سے کسی ایک مقصد کے تحت ہی نکاح کر سکتے ہیں: پہلا یہ کہ جنگی قیدی بن کر مسلمانوں کے قبضے میں آنے والی کسی خاتون کے خاندانی شرف ونسب کی بنیاد پر اس کی عزت افزائی مقصود ہو؛ دوسرا یہ کہ کوئی خاتون محض آپ کے ساتھ نسبت اور تعلق پیدا کرنے کے ایمانی جذبے کے تحت خود کو آپ کے نکاح کے لیے پیش کرے؛ اور تیسرا یہ کہ آپ کی چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد یا خالہ زاد بہنوں میں سے کوئی ہجرت کر کے آ گئی ہو اور آپ اس کی تالیف قلب کے لیے اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ ان خواتین کے علاوہ دوسری تمام عورتوں سے نکاح کو آپ کے لیے ممنوع قرار دیا گیا اور یہ پابندی بھی عائد کی گئی کہ ان میں سے کسی سے نکاح کے بعد آپ اسے الگ کر کے اس کی جگہ کوئی دوسری بیوی نہیں لا سکتے، چاہے وہ آپ کو کتنی ہی پسند ہو۔ (تدبر قرآن، ) غامدی صاحب نے بھی بعینہ اسی رائے کو اختیار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب کے بعد جن خواتین سے نکاح کیا، وہ انھی تحدیدات کے تحت تھا۔ چنانچہ سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ سے آپ نے پہلے مقصد کے تحت، سیدہ میمونہ سے دوسرے مقصد سے جبکہ سیدہ ام حبیبہ کے ساتھ تیسرے مقصد سے نکاح فرمایا تھا، جبکہ سیدہ ماریہ چونکہ ان میں سے کسی صنف کے تحت نہیں آتی تھیں، اس لیے ان سے نکاح نہیں کیا، بلکہ وہ ملک یمین کے طور پر ہی آپ کے پاس رہیں۔ (میزان، ص ۴۳۳، ۴۳۴)

۹۔ روایات سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کی مقدار سو اونٹ مقرر فرمائی۔ کلاسیکی فقہی موقف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر وتصویب کو شرعی حکم کی حیثیت دی گئی اور دیت کے باب میں سو اونٹوں ہی کو ایک ابدی معیار تسلیم کیا گیا ہے، تاہم غامد صاحب نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ قرآن مجید نے دیت کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں کی، بلکہ فَاتِّبَاع بِالمَعرُوفِ (البقرة ۱۷۸:۲) کے الفاظ سے اس معاملے کو ’معروف‘ پر مبنی قرار دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ہدایت کی پیروی میں اپنے دور میں دیت کی وہی مقدار یعنی سو اونٹ مقرر فرمائی جو اسلام سے پہلے اہل عرب میں رائج تھی۔ چونکہ معروف سے متعلق دیگر تمام معاملات میں یہ بالکل واضح ہے کہ ہر معاشرہ اپنے ہی معروف کی پیروی کرنے کا پابند ہے، اس لیے دیت کی مقدار کی تعیین کے ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی حیثیت بھی ابدی تشریع کی نہیں، بلکہ ایک اصولی شرعی حکم کے، وقتی اور زمان ومکان میں محدود اطلاق کی ہے۔ اس ضمن میں وہ فَاتِّبَاع بِالمَعرُوف کے علاوہ دوسرے مقام پر دِیَۃ  مُّسَلَّمَۃ میں اختیار کردہ اسلوب کو بھی اس کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

دِیَۃ مُّسَلَّمَۃ اِلٰٓی اَھلِہٓ کے الفاظ حکم کے جس منشا پر دلالت کرتے ہیں، وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ مخاطب کے عرف میں جس چیز کا نام دیت ہے، وہ مقتول کے ورثہ کے سپرد کر دی جائے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۸ میں قرآن مجید نے جہاں قتل عمد کی دیت کا حکم بیان کیا ہے، وہاں یہی بات لفظ ’معروف‘ کی صراحت کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔ .... نساءاور بقرہ کی ان آیات سے واضح ہے کہ قتل خطا اور قتل عمد، دونوں میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ دیت معاشرے کے دستور اور رواج کے مطابق ادا کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اسے ہی نافذ کیا۔ روایات میں اس کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ عرب کے دستور کی وضاحت ہے، اس میں کوئی چیز بھی خود پیغمبر کا فرمان واجب الاذعان نہیں ہے۔“ (برہان، ص ۱۱، فروری ۲٠٠۸ء)

مولانا امین احسن اصلاحی کا اصولی موقف بھی اس مسئلے میں یہی ہے ۔ (تدبر قرآن، ۲/۳۶۱)

۱٠۔ صلاة الخوف سے متعلق غامدی صاحب کی رائے یہ ہے کہ میدان جنگ میں نماز کی ادائیگی کا یہ طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کے ساتھ خاص تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے ہوتے ہوئے کوئی مسلمان آپ کے علاوہ کسی کی اقتدا میں نماز ادا کرنے پر راضی نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے جذبات کی رعایت سے عام معمول سے ہٹ کر ایک ایسے طریقہ اختیار کرنے کی رخصت دے دی جس میں دشمن سے غافل ہوئے بغیر مسلمان دو جماعتوں میں تقسیم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کر سکیں۔ یہ رائے سلف میں سے امام ابویوسف سے منقول ہے اور مولانا اصلاحی نے بھی قرآن مجید کے الفاظ وَاِذَا کُنتَ فِیھِم (النساء۱٠۲:۴) سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ (تدبر قرآن، ۲/۳۷۲) غامدی صاحب نے اس مسئلے میں اسی استدلال کی بنیاد پر اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔ (میزان، ص ۳۱۷)

۱۱۔ متعدد احادیث میں جاندار کی تصویر بنانے کی ممانعت اور اس پر وعید کا ذکر ہوا ہے اور بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسی تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو تصویریں بنائی ہیں، ان میں جان ڈال کر دکھاؤ۔ اسی طرح بہت سی احادیث میں غنا اور موسیقی کی حرمت اور ناپسندیدگی بھی بیان ہوئی ہے۔

غامدی صاحب ان احادیث سے جاندار کی تصویر اور موسیقی کی مطلق ممانعت اخذ کرنے کو درست نہیں سمجھتے، کیونکہ یہ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اس ضمن میں ان کا اصولی ماخذ سورة الاعراف کی آیت ۳۲ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر سخت الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے جو زینت کی چیزوں اور پاکیزہ رزق کو حرام قرار دیتے ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں۔ (قُل مَن حَرَّمَ زِینَۃ اللّٰہِ الَّتِی  اَخرَجَ لِعِبَادِہ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزقِ)۔ اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ پانچ بنیادیں بیان فرمائی ہیں جن کی وجہ سے شریعت میں کسی بھی چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے، یعنی فواحش، حق تلفی، ناحق زیادتی، شرک اور بدعت۔ اس آیت سے غامدی صاحب یہ اخذ کرتے ہیں کہ ’زینت‘ کی نوعیت کی ہر چیز مباح ہے، الا یہ کہ ان پانچ میں سے کسی ایک اصول کے تحت کسی چیز کو حرام قرار دیا جا سکے۔ چنانچہ ”لباس، زیورات وغیرہ بدن کی زینت ہیں؛ پردے، صوفے، قالین، غالیچے، تماثیل، تصویریں اور دوسرا فرنیچر گھروں کی زینت ہے؛ باغات، عمارتیں اور اس نوعیت کی دوسری چیزیں شہروں کی زینت ہیں؛ موسیقی آواز کی زینت ہے؛ شاعری کلام کی زینت ہے۔“ (مقامات، ص ۲٠۹) چنانچہ ”اب اگر کوئی چیز حرام ہوگی تو اسی وقت ہوگی جب ان میں سے کوئی چیز اس میں پائی جائے گی۔ روایتیں، آثار، حدیثیں اور پچھلے صحیفوں کے بیانات، سب قرآن کے اسی ارشاد کی روشنی میں سمجھے جائیں گے۔“

اپنے اس نقطہ نظر کے تحت غامدی صاحب ان احادیث کو جن میں تصویر بنانے کی ممانعت بیان ہوئی ہے، مشرکین سے متعلق قرار دیتے ہیں جو پوجا کی غرض سے تصویریں اور مجسمے بناتے تھے، چنانچہ انھی سے یہ تقاضا کیا جائے گا کہ ”اپنے زعم کے مطابق جن زندہ اور نافع وضار ہستیوں کی تصویریں تم بناتے رہے ہو، ان میں اب جان ڈال کر دکھاﺅ۔“ (میزان ،ص ۲۱۲؛ ص ۶۶) یہی معاملہ موسیقی سے متعلق روایات کا ہے اور انھیں موسیقی کی انھی صورتوں سے متعلق مانا جا سکتا ہے جن میں بے حیائی یا شرک وغیرہ کی آمیزش ہو۔ (میزان، ص ۲۳۱) اس سے ہٹ کر علی الاطلاق تصویر یا موسیقی کو حرام قرار دینا قرآن کے بیان کردہ مذکورہ صریح اصول کے منافی ہے۔

۱۲۔ اس ضمن کی ایک اور اہم مثال ربا الفضل کی حرمت بیان کرنے والی روایات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ خرید وفروخت کرتے ہوئے ہم جنس اشیاءکا باہمی مبادلہ کیا جائے تو اس میں ادھار بھی نہیں ہونا چاہیے اور مقدار میں بھی کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ غامدی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ قرآن مجید نے جس ’الربا‘ کو حرام کہا ہے، وہ صرف ادھار کے معاملات میں ہوتا ہے اور بعض احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سد ذریعہ کے طور پر (سود کے ساتھ گویا ظاہری مشابہت سے بچنے یا اس کے جواز کے ایک ممکنہ حیلے کو روکنے کے لیے) یہ ہدایت دی تھی کہ اگر مثلاً سونا یا چاندی کا ادھار تبادلہ کیا جائے تو ایسی صورت میں مقدار میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے، اور اگر مبادلہ مقدار کی کمی بیشی کے ساتھ کیا جا رہا ہو تو پھر اس میں ادھار نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، آپ کی مراد یہ تھی کہ ایک ہی معاملے میں کمی بیشی اور ادھار کو جمع نہ کیا جائے، بلکہ ادھار کی صورت ہو تو کمی بیشی سے گریز کیا جائے اور اگر کمی بیشی مقصود ہو تو ادھار کی صورت اختیار نہ کی جائے۔ تاہم راویوں نے ان دو الگ الگ باتوں کو خلط ملط کر کے حکم کو ایسی شکل دے دی جس کے لیے فقہاءکو ”ربا الفضل“ کے عنوان سے ایک مستقل اصطلاح وضع کرنی پڑی۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ”ہماری فقہ میں ربوٰا الفضل کا مسئلہ اسی غتربود کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، ورنہ حقیقت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد میں واضح کر دی ہے کہ ’انما الربا فی النسیئۃ‘۔“ (میزان، ص ۵٠۸، ۵٠۹)

۱۳۔ رجم کی روایات بھی اس ضمن کی اہم ترین مثالوں میں سے ہیں۔ جمہور اہل علم اس سزا کا ماخذ سنت کو قرار دیتے ہیں اور قرآن مجید کے ساتھ اس کا تعلق تبیین یا تخصیص اور نسخ کے اصول پر متعین کرتے ہیں۔ تاہم مولانا فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ احادیث میں جلا وطنی یا رجم کی سزا آیت محاربہ پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ’محاربہ‘ اور ’فساد فی الارض‘ کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی چڑھانے، ہاتھ  پاؤں  الٹے کاٹ دینے اور جلا وطن کر دینے کی سزائیں بیان کی ہیں۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا سو کوڑے ہی ہے، جبکہ جلاوطنی یا رجم دراصل اوباشی اور آوارہ منشی کی سزا ہے جو ’فساد فی الارض‘ کے تحت آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی نوعیت کے بعض مجرموں پر زنا کی سزا کے ساتھ ساتھ، سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کے تحت ’فساد فی الارض‘ کی پاداش میں جلا وطن کرنے یا سنگ سار کرنے کی سزا بھی نافذ کی تھی۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’الثیب بالثیب جلد مائۃ والرجم‘ کے بارے میں مولانا اصلاحی کی رائے یہ ہے کہ یہاں حرف ’و‘جمع کے لیے نہیں، بلکہ تقسیم کے مفہوم میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زانی کی اصل سزا تو تازیانہ ہی ہے، البتہ آیت محاربہ کے تحت مصلحت کے پہلو سے اسے جلاوطن یا سنگ سار بھی کیا جا سکتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح آیت مائدہ کے تحت ازروئے مصلحت بعض مجرموں کو جلاوطنی کی سزا دی، اسی طرح بعض سنگین نوعیت کے مجرموں کے شر وفساد سے بچنے کے لیے آیت مائدہ ہی کے تحت انھیں رجم کی سزا بھی دی۔ (تدبر قرآن، ۵/۳۶۷-۳۶۹)

اس توجیہ کے نتیجے میں مولانا کی رائے اس لحاظ سے جمہور سے مختلف ہو جاتی ہے کہ ان کے نزدیک سنگسار کرنے کی علت مجرم کا شادی شدہ ہونا نہیں، بلکہ اوباش، آوارہ منش اور عادی زانی ہونا قرار پاتا ہے، چنانچہ جیسے محض زانی کے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اسے رجم کرنا ضروری نہیں ٹھہرتا، اسی طرح کسی کنوارے زانی کو بھی اس کے جرم کی سنگینی کے پیش نظر رجم کیا جا سکتا ہے اور، مثال کے طور پر، ”مجرم اگر زنا بالجبر کا ارتکاب کرے یا بدکاری کو پیشہ بنا لے یا کھلم کھلا اوباشی پر اتر آئے یا اپنی آوارہ منشی،بد معاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت وناموس کے لیے خطرہ بن جائے یا مردہ عورتوں کی نعشیں قبروں سے نکال کر ان سے بدکاری کا مرتکب ہو یا اپنی دولت واقتدار کے نشے میں غربا کی بہو بیٹیوں کو سربازار برہنہ کرے یا کم سن بچیاں بھی اس کی درندگی سے محفوظ نہ رہیں تو مائدہ کی اس آیت محاربہ کی رو سے اسے رجم کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔“ (برہان، ص ۹۱؛ نیز میزان، ص ۴٠، ۴۱)

۱۴۔ تیسری طلاق کے بعد قرآن نے یہ پابندی عائد کی ہے کہ عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے (حَتّٰی تَنکِحَ زَوجًا غَیرَہ) اور اگر وہ بھی اسے طلاق دے دے تو پھر باہمی رضامندی سے وہ اور اس کا سابقہ شوہر دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ (البقرة ۲:۲۳٠) یہاں ”تنکح“ کا لفظ بظاہر عقد نکاح کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ دوسرے شوہر سے صرف عقد نکاح ہو جانا کافی ہے۔ اگر ایجاب وقبول کے بعد وہ عورت کو طلاق دے دے تو وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی۔ تاہم ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک دوسرا شوہر بیوی سے ہم بستری نہ کر لے، وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی۔

جمہور فقہاءنے اس شرط کو قبول کیا ہے، اگرچہ اصول فقہ کے لحاظ سے اس کی تکییف میں اختلاف ہے۔ بعض اہل اصول اسے قرآن پر زیادت کے طور پر قبول کرتے ہیں، جبکہ بعض نے قرآن کے لفظ ”تنکح“ کو ہی عقد کے بجائے ہم بستری کے معنی میں لیا ہے۔ غامدی صاحب کو اس موقف سے اتفاق نہیں ہے، کیونکہ ان کے اصول کے مطابق حدیث، قرآن کے حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتی، جبکہ ”تنکح“ کے لفظ کو ہم بستری پر محمول کرنا لفظ کے متبادر مفہوم کے بھی خلاف ہے اور اس کی نسبت عورت کی طرف کرنا بھی اس کو وطی کے معنی میں لینے سے مانع ہے۔ غامدی صاحب کے نزدیک زیر بحث حدیث کا مدعا دراصل ہم بستری کو ایک شرط کے طور پر بیان کرنا ہے ہی نہیں جیسا کہ فقہاءنے عموماً سمجھا ہے۔ غامدی صاحب اس واقعے سے متعلق مروی تفصیلات سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ ”عورت نے نکاح کیا ہی اس مقصد سے تھا کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے۔ چنانچہ طلاق لینے کے بعد اس نے جب غلط بیانی کر کے دوسرے شوہر کو زن وشو کا تعلق قائم کرنے سے قاصر قرار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سرزنش کے لیے اسے یہ کہہ کر پہلے شوہر کے پاس جانے سے روک دیا کہ اب تم اس دوسرے شوہر سے لذت اندوز ہونے کے بعد ہی اُس کے پاس جا سکتی ہو۔ یہ بیان شرط نہیں، بلکہ تعلیق بالمحال کا اسلوب ہے۔ لہٰذا یہ روایت اگر کسی چیز کا ثبوت ہے تو حلالہ کی ممانعت کا ثبوت ہے، اس میں فقہا کے موقف کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے۔“ (میزان، ص ۴۵۳)

(جاری)

قرآن / علوم قرآن