قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۲)

محمد عمار خان ناصر

مصالح شرعیہ کی روشنی میں تشریع کی تکمیل

شاطبی کہتے ہیں کہ تشریع میں مصالح شرعیہ کے جو تین مراتب، یعنی ضروریات، حاجیات اور تحسینیات ملحوظ ہوتے ہیں، ان تینوں کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے اور سنت میں کوئی حکم اس دائرے سے باہر وارد نہیں ہوا۔ اس لحاظ سے کتاب اللہ کی حیثیت تشریع میں اصل کی ہے اور سنت اپنی تمام تر تفصیلات میں کتاب اللہ کی طرف راجع ہے۔

مثال کے طور پر ضروریات خمسہ میں سے دین کی حفاظت شریعت کا سب سے پہلا مقصد ہے۔ اس ضمن میں اسلام، ایمان اور احسان کے اصول کتاب اللہ میں اور ان کی تفصیل وتوضیح سنت میں وارد ہوئی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل دین کی طرف دعوت دینے، معاندین سے جہاد کرنے اور دین میں واقع ہونے والے خلل کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ ان تینوں مکملات کی اصل بھی قرآن میں موجود ہے، جب کہ کامل توضیح وتفصیل سنت میں ملتی ہے۔ جان کی حفاظت دوسرا مقصد ہے۔ اس کے لیے تناسل اور نکاح کی مشروعیت، انسانی زندگی کی بقا کے لیے خور ونوش اور دیگر تمدنی ضروریات کا اصولی ذکر قرآن میں اور تفصیلات کی وضاحت سنت میں کی گئی ہے۔ اس ضمن میں تکمیلی احکام کے طور پر زنا کی حرمت، نکاح اورطلاق کے اصول وضوابط، خور ونوش میں ذبیحہ اور شکار کے احکام اور حدود اور قصاص کی مشروعیت جیسے اصولی احکام قرآن مجید نے بیان کیے ہیں اور سنت نے ان کی تفصیلات واضح کی ہیں۔ یہی کیفیت مال، عقل، نسل ونسب اور آبرو وغیرہ کی حفاظت سے متعلق شرعی احکام میں بھی پائی جاتی ہے۔

ضروریات کے بعد حاجیات کا درجہ آتا ہے جس میں مقصود احکام شرعیہ کی پابندی میں توسع اور آسانی پیدا کرنا اور مشقت اور حرج کو رفع کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ حفظ دین کے باب میں حصول طہارت میں رخصتوں کا بیان، تیمم اور نماز قصر کرنے کی مشروعیت، دو نمازوں کو جمع کرنے اور سفر اور بیماری کی حالت میں روزہ چھوڑ دینے کی اجازت اور اسی طرح دیگر تمام عبادات کے حوالے سے بیان کی جانے والی رخصتیں اسی اصول کی مثالیں ہیں ۔ یہی نوعیت حفظ نفس کے دائرے میں اضطرار کی کیفیت میں مردار کا گوشت کھانے کی اجازت اور سدھائے ہوئے جانور کے ذریعے سے کیے جانے والے شکار کو حلال قرار دینے کی ہے۔ حفظ مال کے ضمن میں لین دین میں غرر یسیر کو جائز قرار دینا اور بیع سلم، قرض، شفعہ، مضاربت اور مساقاۃ جیسے معاملات کو روا قرار دینا بھی اسی اصول تیسیر پر مبنی ہے۔ ضروریات کی طرح حاجیات کے باب میں بھی قرآن کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور قرآن نے تیسیر اور رفع حرج کو شریعت کے بنیادی اصول قرار دینے کے علاوہ بہت سے معاملات میں اطلاقی سطح پر بھی رخصت اور تیسیر کے احکام بیان کیے ہیں، جب کہ سنت میں اس اصول کو تمام احکام شرعیہ کے دائرے میں اطلاق وانطباق کی سطح پر واضح کیا گیا ہے۔

شرعی مصالح کی رعایت کا تیسرا اور سب سے اعلیٰ درجہ تحسینیات کا ہے جس میں کسی بھی کام کو بہترین اور اعلیٰ ترین طریقے پر انجام دینا مقصود ہوتا ہے۔ چنانچہ لباس میں زینت اختیار کرنا، انفاق کے لیے پاکیزہ ترین مال کو منتخب کرنا، روزے کی حالت میں بے جا مشقت اختیار کرنے سے بچنا، بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرنا، مال کو کمانے اور خرچ کرنے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا اور شراب وغیرہ کا استعمال مقصود نہ ہو تو بھی اس سے دور رہنا، یہ تمام تحسینیات کی مثالیں ہیں۔ اس درجے کی اصل بھی کتاب اللہ میں پائی جاتی ہے اور سنت نے اس کی تفصیلات کو شرح وبسط کے ساتھ واضح کیا ہے (الموافقات ۴/ ۲۳- ۲۷)۔

شاطبی کے الفاظ میں اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

أن القرآن الکریم أتی بالتعریف بمصالح الدارین جلبًا لھا والتعریف بمفاسدھما دفعًا لھا، وقد مر أن المصالح لا تعدو الثلاثۃ الأقسام، وھي الضروریات ویلحق بھا مکملاتھا، والحاجیات ویضاف إلیھا مکملاتھا، والتحسینیات ویلیھا مکملاتھا، ولا زائد علی ھذہ الثلاثۃ المقررۃ في کتاب المقاصد، وإذا نظرنا إلی السنۃ وجدناھا لا تزید علی تقریر ھذہ الأمور فالکتاب أتی بھا أصولًا یرجع إلیھا، والسنۃ أتت بھا تفریعًا علی الکتاب وبیانًا لما فیہ منھا، فلا تجد في السنۃ إلا ما ھو راجع إلی تلک الأقسام. (الموافقات ۴/ ۲۳)

’’قرآن مجید نے دنیا وآخرت کے ان مصالح کو بھی واضح کیا ہے جن کو حاصل کرنا مطلوب ہے اور ان مفاسد کو بھی جن کو دور کرنا مقصود ہے۔ یہ بات گزر چکی ہے کہ مصالح تین اقسام سے خارج نہیں ہیں۔ ایک قسم ضروریات اور ان کی تکمیل کرنے والے امور کی، دوسری قسم حاجیات اور ان کی تکمیل کرنے والے امور کی اور تیسری قسم تحسینیات اور ان کی تکمیل کرنے والے امور کی ہے۔ ’’کتاب المقاصد‘‘ میں واضح کی گئی ان تین اقسام کے علاوہ کوئی اور قسم نہیں پائی جاتی۔ اب جب ہم سنت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان امور کی تاکید وتوثیق کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ چنانچہ کتاب اللہ نے ان اقسام سے متعلق اصولی احکام وضع کیے ہیں جن کی حیثیت مرجع کی ہے اور سنت کتاب اللہ کے احکام پر تفریع کرتی اور ان کی شرح ووضاحت کرتی ہے۔ چنانچہ سنت میں تمھیں کوئی حکم ایسا نہیں ملے گا جو ان اقسام کی طرف راجع نہ ہو۔‘‘

قرآن کے جزوی احکام کی تفصیل وتوضیح

قرآن کے ساتھ سنت کے تعلق کا دوسرا نمایاں پہلو قرآن کے مجمل اور قابل تفسیر احکام کی تبیین ہے۔ شاطبی کے ہاں ’بیان مجمل‘ کی اصطلاح عام اصولیین کے مقابلے میں زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ جمہور اصولیین ’مجمل‘ کی تعبیر قرآن کے ایسے الفاظ یا تعبیرات کے لیے استعمال کرتے ہیں جن سے متکلم کی مراد فی نفسہٖ واضح نہ ہو اور وہ خود متکلم کی طرف سے تشریح وتوضیح کا تقاضا کرتی ہوں۔ شاطبی کے ہاں بھی اس نوع کے لیے ’مجمل‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے (الموافقات ۳/ ۶۸)۔ اس کے علاوہ شاطبی ان تمام احکام کے لیے بھی ’مجمل‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جن کا بنیادی اور اصولی پہلو تو قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن اس سے متعلق ضروری تفصیلات، مثلاً عمل کی کیفیات، اسباب، شروط، موانع اور لواحق وغیرہ سے تعرض نہیں کیا گیا اور ان کی وضاحت کو سنت کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

شاطبی واضح کرتے ہیں کہ احکام شرعیہ کے بیان میں قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ وہ حکم کے بنیادی اور اصولی پہلو ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہے اور اس کی تفصیلات وجزئیات سے عموماً تعرض نہیں کرتا۔ اس خاص اسلوب کی وجہ سے قرآن مجید کی مراد کو سمجھنا بہت سی توضیح وتفصیل پر منحصر ہوتا ہے جو ہمیں سنت سے ملتی ہے۔ شاطبی اس ضمن میں ان تمام احکام کو شمار کرتے ہیں جن کا اصولی حکم تو قرآن میں وارد ہوا ہے، لیکن جزوی تفصیلات کی وضاحت سنت میں کی گئی ہے،مثلاً نمازوں کے اوقات اور ادائیگی کی کیفیات سے متعلق تفصیلات، زکوٰۃ کی مقادیر اور اوقات اور نصابات کی تعیین، روزے کے تفصیلی احکام، طہارت صغریٰ وکبریٰ کی مختلف تفصیلات، حج کا تفصیلی طریقہ، ذبائح، شکار اور حلال وحرام جانوروں کے احکام کی وضاحت، نکاح وطلاق، رجوع، ظہار اور لعان سے متعلق تفصیلات، خرید وفروخت کے احکام اور جنایات میں قصاص وغیرہ کے مسائل۔ شاطبی اس سے یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ سنت میں وارد توضیح وتبیین کو نظر انداز کر کے صرف قرآن سے احکام کا استنباط درست طریقہ نہیں، اس لیے کہ قرآن میں احکام کے صرف اصولی اور بنیادی پہلوؤں کے ذکر کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو تفصیل وتبیین کا تقاضا کرتا ہے (الموافقات ۳/ ۲۹۳- ۲۹۵۔ ۴/ ۲۲)۔

شاطبی مزید کہتے ہیں کہ سنت میں وارد یہ توضیحات وتفصیلات چونکہ کتاب اللہ ہی کی مراد کو واضح کرتی ہیں، اس لیے ان کی نسبت قرآن کے بجاے سنت کی طرف کرنا بھی اصولاً درست نہیں۔ لکھتے ہیں:

أن السنۃ بمنزلۃ التفسیر والشرح لمعاني أحکام الکتاب ودل علی ذلک قولہ  ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘، فإذا حصل بیان قولہ تعالیٰ ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘ بأن القطع من الکوع وأن المسروق نصاب فأکثر من حرز مثلہ فذلک ھو المعنی المراد من الآیۃ، لا أن نقول إن السنۃ اثبتت ھذہ الأحکام  دون الکتاب … فمعنی کون السنۃ قاضیۃ علی الکتاب أنھا مبینۃ لہ فلا یوقف مع إجمالہ واحتمالہ وقد بینت المقصود منہ. (الموافقات ۴/ ۱۰)

’’سنت کی حیثیت کتاب اللہ کے احکام کی تفسیر اور تشریح کی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:   ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘۔  چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘  کی یہ وضاحت کر دی گئی کہ ہاتھ کو گٹے سے کاٹا جائے گا اور مسروقہ مال کو نصاب کے مساوی یا اس سے زیادہ ہونا چاہیے جسے کسی محفوظ جگہ سے چرایا گیا ہو تو دراصل یہی آیت کی مراد ہے، اور اس کے متعلق یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ احکام کتاب اللہ نے نہیں، بلکہ سنت نے ثابت کیے ہیں۔ پس سنت کے، کتاب اللہ پر حاکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرتی ہے، اس لیے جب سنت قرآن کی مراد کو واضح کردے تو (اسے نظر انداز کر کے) کتاب اللہ کے مجمل اور محتمل بیان پر مدار نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘

مشتبہ فروع کا اصل کے ساتھ الحاق

سنت کے قرآن کے ساتھ تعلق کی ایک اور جہت کو واضح کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں کہ بعض صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ قرآن مجید کسی معاملے میں حلت اور حرمت کے دائرے میں آنے والی بالکل واضح صورتوں کا ذکر تو کر دیتا ہے، لیکن دونوں دائروں کے درمیان ایسی مشتبہ صورتوں کا حکم واضح نہیں کرتا جنھیں قیاساً حلت کے دائرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے اور حرمت کے دائرے میں بھی۔ چنانچہ سنت اس نوعیت کے بہت سے مسائل میں یہ واضح کر دیتی ہے کہ مشتبہ فروع کا الحاق کس جانب ہونا چاہیے۔ شاطبی نے اس نکتے کو بہت سی مثالوں سے واضح کیا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

۱۔ قرآن مجید نے خور ونوش کے باب میں طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام قرار دیا ہے۔ ان دونوں دائروں سے تعلق رکھنے والی بہت سی چیزوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے، تاہم ان کے علاوہ بہت سی چیزوں کو طیبات یا خبائث کے ساتھ ملحق کرنا اشتباہ کا موجب ہو سکتا تھا، چنانچہ سنت میں ان مشتبہات میں سے بعض کا حکم واضح کرتے ہوئے انھیں خبائث کے زمرے میں شمار کیا گیا، جب کہ بعض دوسری چیزوں کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا شمار طیبات میں ہوتا ہے۔ پہلی صورت کی مثال درندوں، شکاری پرندوں، گدھے اور سیہی کی حرمت بیان کرنے والی، جب کہ دوسری صورت کی مثال گوہ، سرخاب اور خرگوش وغیرہ کی حلت کو بیان کرنے والی احادیث ہیں۔

۲۔ قرآن مجید نے جانور کے ذریعے سے شکار کرنے کے متعلق فرمایا ہے کہ اگر شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے شکار کو اپنے مالک کے لیے پکڑا ہو، یعنی اس میں سے خود کچھ نہ کھایا ہو تو وہ حلال ہے۔ اب اگر جانور سدھایا ہوا تو ہو، لیکن وہ شکار کا گوشت کھالے تو دو اصولوں میں تعارض کی وجہ سے اس کی حلت یا حرمت میں اشتباہ پیدا ہو جاتا ہے۔ سدھایا ہوا ہونے کا مقتضی یہ بنتا ہے کہ ایسا شکار حلال سمجھا جائے، لیکن اس کے، شکار کا گوشت کھا لینے کو ملحوظ رکھا جائے تو جانور کو حرام ہونا چاہیے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اشتباہ کو دور کرتے ہوئے واضح فرما دیا کہ ایسے جانور کا گوشت نہیں کھایا جائے گا۔

۳۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کو حرام اور نکاح اور ملک یمین کے ذریعے سے عورت سے استمتاع کو حلال قرار دیا ہے، تاہم ایسے نکاح کا حکم بیان نہیں کیا جسے غیر مشروع طریقے سے روبہ عمل کیا گیا ہو۔ سنت میں ان میں سے بعض صورتوں کا حکم واضح کیا گیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، مثال کے طور پر، سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کر لینے والی عورت کے متعلق فرمایا کہ اس کے نکاح کا کوئی اعتبار نہیں۔

۴۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کے شکار کو حلال قرار دیا اور خشکی کے جانوروں میں سے مردار کو حرام قرار دیا ہے۔ پہلے حکم کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ سمندر کا مردار بھی حلال ہو، جب کہ دوسرے حکم پر قیاس کا مقتضی یہ ہے کہ اسے حرام سمجھا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے مردار کا الحاق طیبات کے ساتھ کرتے ہوئے اسے حلال قرار دیا۔

۵۔ قرآن مجید میں مردار کو حرام اور ذبح کیے ہوئے جانور کو حلال قرار دیا ہے۔ اب اگر مادہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے بچہ نکل آئے تو اس کے متعلق قطعیت سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اسے مردار شمار کیا جائے یا مذبوح، چنانچہ سنت میں اس کا حکم واضح کرتے ہوئے یہ قرار دیا گیا کہ اس کی ماں کا ذبح کیا جانا ہی اس کی حلت کے لیے کافی ہے اور اس کا گوشت کھایا جا سکتا ہے (الموافقات ۴/ ۲۸- ۳۲)۔

علت کی بنیاد پر قرآن کے حکم کی توسیع

سنت میں قرآن کی تبیین وتفصیل کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ قرآن نے جو حکم بیان کیا ہے، اس کی علت اور مناط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی توسیع کر دی جائے اور وہی حکم ایسی صورتوں کے لیے بھی ثابت کیا جائے جن کا قرآن نے ذکر نہیں کیا۔ شاطبی نے اس نوعیت کی کئی مثالیں ذکر کی ہیں جن میں سے درج ذیل بطورخاص قابل توجہ ہیں:

۱۔ قرآن مجید میں ربا کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اس سے مراد عہد جاہلیت میں رائج ربا ہے جس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ قرض لینے والا اگر مقررہ مدت میں قرض واپس نہ کر سکتا تو اسے مزید مہلت دے دی جاتی تھی اور اس مہلت کے عوض میں قرض کی رقم میں اضافہ کر دیا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ’وربا الجاھلیۃ موضوع‘  (جاہلیت کے سود کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے) فرما کر قرآن کے حکم کے مطابق سود کی اس صورت کو ممنوع قرار دیا۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض کے علاوہ سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور نمک کے باہمی تبادلہ میں بھی کمی بیشی اور ادھار کو ممنوع قرار دیا اور فرمایا کہ جو شخص زیادہ مقدار دے گا یا مانگے گا، وہ ربا لینے یا دینے کا مرتکب ہوگا، البتہ اگر اصناف باہم مختلف ہوں تو ان کے تبادلے میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے بشرطیکہ سودا نقد ہو۔ فقہی اصطلاح میں اس کو ’ربا الفضل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

امام شافعی اس حکم کا قرآن مجید میں ربا کے حکم سے کوئی تعلق متعین نہیں کرتے اور اسے خرید وفروخت اور تجارت سے متعلق دیگر بہت سے احکام کی طرح ایک مستقل حکم شمار کرتے ہیں جو احادیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ فقہاے احناف کے نقطۂ نظر سے ربا الفضل قرآن مجید میں حرام قرار دیے جانے والے ’الربا‘ کے مفہوم میں اس طرح شامل ہے کہ شارع نے اس کو ’الصلاۃ‘ اور ’الزکاۃ‘ کی طرح معروف مفہوم سے نکال کر ایک نئے مفہوم میں بطور شرعی اصطلاح کے استعمال کیا ہے۔ یعنی قرآن مجید میں یہ اصطلاحات ’مجمل‘ کے طور پر وارد ہوئی ہیں جن کی تبیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔

شاطبی ربا الفضل کی ممانعت کو نہ تو قرآن کے ’الربا‘ میں شامل سمجھتے ہیں اور نہ اس سے بالکل الگ ایک مستقل حکم تصور کرتے ہیں۔ ان کی راے میں حکم میں یہ توسیع قیاس کے اصول پر کی گئی ہے۔ چونکہ جاہلیت کے معروف ربا میں کسی عوض کے بغیر قرض کی اصل رقم میں اضافہ کیا جاتا تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قیاس کرتے ہوئے ربا الفضل کو بھی ممنوع قرار دیا (الموافقات ۴/ ۳۳- ۳۴)۔

۲۔ قرآن میں ایک ہی آدمی کے کسی عورت اور اس کی بیٹی سے نکاح کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دو بہنوں کو بہ یک وقت ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ احادیث میں دو بہنوں کے علاوہ پھوپھی اور بھتیجی، نیز خالہ اور بھانجی کے ساتھ بہ یک وقت نکاح کو بھی اسی دائرے میں شمار کیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک یہ زائد ممانعت، زمانی لحاظ سے مقرون ہونے کی صورت میں تخصیص کی، جب کہ مفصول ہونے کی صورت میں نسخ کی مثال ہے، جب کہ امام شافعی زمانی اتصال یا انفصال سے قطع نظر کرتے ہوئے، حدیث کی بیان کردہ حرمت کو قرآن کی بیان کردہ فہرست کا حصہ شمار کرتے ہیں۔

شاطبی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قیاس کے اصول پر قرآن کے حکم میں توسیع کی ہے، یعنی جو اخلاقی خرابی ماں اور بہن کو اور اسی طرح دو بہنوں کو ایک آدمی کے نکاح میں جمع کرنے میں پائی جاتی ہے، وہی خالہ اور بھانجی اور پھوپھی اور بھتیجی سے بہ یک وقت نکاح کرنے میں بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علت کی بنیاد پر حکم کو توسیع دیتے ہوئے اس صورت سے بھی منع فرمایا ہے اور اس کی علت بھی یہ کہہ کر واضح فرمائی ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو قطع رحمی کے موجب بنو گے (الموافقات ۲/ ۲۹۳، ۳۱۰۔  ۳/ ۹۳- ۹۴۔  ۴/ ۳۵)۔

۳۔ قرآن مجید میں محرمات کے بیان میں صرف رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ احادیث میں دیگر رضاعی رشتوں کو بھی اسی زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔ احناف کے نزدیک یہ بھی نسخ کی مثال ہے، جب کہ امام شافعی اسے قرآن کے ایک محتمل حکم کی تبیین قرار دیتے ہیں۔

شاطبی کا نقطۂ نظر یہاں امام شافعی سے ہم آہنگ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قیاس کی رو سے یہ رشتہ رضاعی ماں کے باقی متعلقین سے بھی قائم ہو سکتا ہے، تاہم عام مجتہدین اس کو توسیع دینے میں اس پہلو سے تردد محسوس کر سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے، یہ ایک تعبدی حکم ہو اور اسے صرف ماں اور بہن تک محدود رکھنا شارع کی منشا ہو۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ رضاعت کے رشتے سے نکاح کی حرمت نہ صرف رضاعی والدہ کے دیگر متعلقین تک متعدی ہوگی، بلکہ رضاعی والدہ کا شوہر بھی اس تعلق سے باپ کا درجہ حاصل کر لے گا (الموافقات ۴/ ۳۶)۔

۴۔ اللہ تعالیٰ نے مالی لین دین کے معاملات میں گواہ مقرر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ دو مردوں کو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ مقرر کرنا چاہیے تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مقدمات میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ شوافع کے نزدیک یہ قرآن پر زیادت  کی مثال ہے، جب کہ احناف اسے ظاہر قرآن کے معارض ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کرتے۔

شاطبی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ قرآن کے معارض نہیں، بلکہ قرآن کے حکم پر قیاس کا نتیجہ ہے۔ قرآن کی ہدایت سے واضح ہوتا ہے کہ عورتوں کی گواہی مردوں کی بہ نسبت کم زور گواہی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو ’ناقصات عقل‘ کہہ کر اس کم زوری کو واضح فرمایا ہے۔ اس ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی معاملات میں حسب ضرورت کم زور گواہی بھی قابل قبول ہے اور اس پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر قیاس کرتے ہوئے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کو بنیاد بناتے ہوئے فیصلہ فرما دیا۔ اگرچہ مدعی کی قسم اثبات دعویٰ کا ایک کم زور ذریعہ ہے، لیکن چونکہ قرآن نے ایک دوسرے کم زور ذریعے سے، یعنی عورتوں کی گواہی کو قابل قبول قرار دیا ہے، اس لیے مدعی کی قسم کو بھی اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ قیاس کی ایک بہت لطیف اور مخفی صورت ہے (الموافقات ۴/ ۳۸)۔

قرآن کے اشارات سے استنباط

امام شافعی نے بہت سی مثالوں میں یہ واضح کیا ہے کہ سنت میں قرآن سے زائد جو حکم بیان کیا گیا ہے، اس کا ماخذ قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن کے اشارات سے وہ حکم مستنبط کیا جا سکتا ہے۔ شاطبی نے بھی قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے اس پہلو کو  متعدد مثالوں سے واضح کیا ہے۔

شاطبی ذکر کرتے ہیں کہ بعض مثالوں میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن میں اپنے استنباط کا ماخذ واضح فرمایا ہے۔ مثلاً  آپ نے عبد اللہ بن عمر کو، جنھوں نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، ہدایت فرمائی کہ وہ رجوع کر لیں اور پھر بیوی کے پاک ہونے کے بعد حالت طہر میں اسے طلاق دیں۔ یہ ہدایت دیتے ہوئے آپ نے قرآن مجید کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ یہ طلاق کا وہ طریقہ ہے جو اللہ نے تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا ومروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کی اور قرآن مجید کی آیت ’اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ‘ پڑھ کر فرمایا کہ ہم وہاں سے شروع کرتے ہیں جس کا ذکر اللہ نے پہلے کیا ہے (الموافقات ۴/ ۴۰- ۴۱)۔ اسی کی ایک مثال کے طو رپر شاطبی مدینہ کو حرم قرار دینے کے حکم کا ذکر کرتے ہیں۔ احادیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، میں اسی طرح مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں اور اس کے حدود میں جھاڑیوں کو کاٹنے اور جانور کے شکار کو ممنوع ٹھیراتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اس حکم کی توثیق فرما دی (الموافقات ۴/ ۳۷)۔

اس کے علاوہ شاطبی نے متعدد ایسی مثالیں بھی ذکر کی ہیں جن میں سنت میں وارد احکام قرآن کے اشارات سے یا قرآن کے حکم پر قیاس کر کے اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ چند مثالیں یہ ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس کو ،جنھیں تین طلاقیں دے دی گئی تھیں، عدت میں اپنے شوہر کے گھر میں رہنے کا حق نہیں دیا، حالاں کہ ایسی عورت قرآن کی رو سے رہایش کی حق دار ہوتی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ روایت میں یہ بیان ہوئی ہے کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور اپنے سسرال والوں کے ساتھ زبان درازی کیا کرتی تھیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’اِلَّا٘ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ‘ کے تحت (یا اس پر قیاس کرتے ہوئے) فاطمہ کو کسی دوسری جگہ عدت گزارنے کے لیے کہا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ اسلمیہ کو، جو حاملہ ہونے کی حالت میں بیوہ ہو گئی تھیں اور شوہر کی وفات کے کچھ دن کے بعد ولادت سے فارغ ہو گئیں، اجازت دے دی کہ وہ نکاح کر سکتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ قرآن میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم غیر حاملہ کے لیے ہے، جب کہ وضع حمل کے بعد عدت کے ختم ہو جانے کی ہدایت مطلقہ اور بیوہ، دونوں طرح کی خواتین کے لیے ہے (الموافقات ۴/ ۴۰- ۴۱)۔

حدیث میں قیدیوں کو چھڑانے کی ترغیب وتاکید بیان ہوئی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ یہ قرآن کی اس ہدایت سے مستنبط ہے کہ ’وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ ‘ (اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد طلب کریں تو ان کی مدد کرنا تم پر لازم ہے)۔ گویا جب ہجرت نہ کرنے والے مسلمانوں کے، نصرت طلب کرنے پر ان کی مدد واجب ہے تو جو مسلمان کفار کے قیدی ہوں، ان کی نصرت بدرجہ اولیٰ واجب ہونی چاہیے۔

حدیث میں مسلمان کو کافر کے قصاص میں قتل نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ بعض علما نے اس کا ماخذ قرآن مجید کی مختلف آیات کو قرار دیا ہے، مثلاً: ’وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا‘ (اللہ تعالیٰ ہرگز کافروں کے لیے مسلمانوں کے خلاف کوئی راہ پیدا نہیں کرے گا) اور ’لَا يَسْتَوِيْ٘ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ‘ (جہنم میں جانے والے اور جنت میں جانے والے برابر نہیں ہو سکتے)۔ شاطبی کہتے ہیں کہ مذکورہ نصوص کی براہ راست دلالت تو اس مسئلے پر واضح نہیں، البتہ قیاس کے طریقے پر یہ حکم قرآن سے اس طرح اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آزاد سے آزاد کا اور غلام سے غلام کا قصاص لینے کی بات فرمائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کو غلام کے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ غلامی کفر کے آثار میں سے ہے، اس لیے اس سے یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان سے کافر کا قصاص نہیں لیا جائے گا (الموافقات ۴/ ۴۳- ۴۴)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ یک وقت چار سے زائد عورتیں نکاح میں رکھنے کو ممنوع قرار دیا۔ شاطبی اس ممانعت کو قرآن مجید کے ارشاد ’ذٰلِكَ اَدْنٰ٘ي اَلَّا تَعُوْلُوْا ‘ (یہ اس کے زیادہ قرین ہے کہ تم نا انصافی کے مرتکب نہ ہو) سے مستنبط قرار دیتے اور سد ذریعہ کے اصول پر مبنی تصور کرتے ہیں (الموافقات ۲/ ۲۹۳، ۳۱۰)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شافعی کی طرح، شاطبی بھی قرآن مجید میں ’مَثْنٰي وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ‘ کے اسلوب کی دلالت کو قطعی نہیں سمجھتے اور چار سے زائد بیویوں کی ممانعت کا اصل ماخذ حدیث کو تصور کرتے ہیں۔ البتہ بعض حضرات نے ’مَثْنٰي وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ‘ کے مجموعے سے نو خواتین سے نکاح کا جواز قرآن کی نص سے ثابت کرنے کی جو کوشش کی ہے، شاطبی اسے کلام عرب کے اسالیب سے ناواقفیت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں (الموافقات ۳/ ۳۱۴)۔

یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ احادیث کو قرآن سے مستنبط کرنے کے طریقے کو اصولاً درست سمجھتے ہوئے شاطبی کا موقف یہ ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے ہر ہر حکم کا ماخذ لفظی قرائن یا اشارات کی مدد سے قرآن میں متعین کرنے کا رجحان درست نہیں۔ شاطبی کے نزدیک یہ ایک غیر ضروری کام ہے اور ہر ہر حکم کے بارے میں یہ دعویٰ کر کے اس کو قرآن سے ثابت کرنا ناممکن ہے۔ لکھتے ہیں:

ولکن صاحب ھذا المأخذ یتطلب أن یجد کل معنی في السنۃ مشارًا إلیہ من حیث وضع اللغۃ لا من جھۃ أخری أو منصوصًا علیہ في القرآن … ولکن القرآن لا یفي بھذا المقصود علی النص والإشارۃ العربیۃ التي تستعملھا العرب أو نحوھا وأول شاھد في ھذا الصلاۃ والحج والزکاۃ والحیض والنفاس واللقطۃ والقراض والمساقاۃ والدیات والقسامات وأشباہ ذلک من أمور لا تحصی، فالملتزم لھذا لا یفي بما ادعاہ، إلا أن یتکلف في ذلک مآخذ لا یقبلھا کلام العرب ولا یوافق علی مثلھا السلف الصالح ولا العلماء الراسخون في العلم. (الموافقات ۴/ ۴۲)

’’اس طریقے کو اختیار کرنے والا چاہتا ہے کہ سنت میں مذکور ہر حکم کا اشارہ لغوی دلالت کے لحاظ سے، نہ کہ کسی دوسری جہت سے، قرآن میں تلاش کرے یا وہ اسے قرآن میں منصوص نظر آجائے۔ لیکن قرآن نصاً یا اہل عرب کے استعمالات کے لحاظ سے اشارتاً یا اس طرح کے کسی دوسرے طریقے سے (سنت کے ہر حکم پر دلالت کی) غرض کو پورا نہیں کرتا۔ اس کی بالکل سامنے کی مثال نماز، حج، زکوٰۃ، حیض ونفاس، لقطہ، مضاربت، مساقاۃ،  دیت اور قسامت اور اس طرح کے دیگر بے شمار احکام ہیں۔ چنانچہ اس کا دعویٰ کرنے والا اپنے دعوے کو پورا نہیں کر سکتا، الّا یہ کہ استدلال کے ایسے پرتکلف طریقے اختیار کرے جن کو نہ تو کلام عرب قبول کرتا ہے اور نہ اس سے سلف صالحین اور علم میں رسوخ رکھنے والے علما اتفاق کرتے ہیں۔‘‘

مذکورہ عبارت میں ’من حیث وضع اللغۃ لا من جھۃ أخری‘ کی قید سے شاطبی نے یہ واضح کیا ہے کہ سنت کے احکام کو لفظی قرائن واشارات کی بنیاد پر قرآن سے اخذ کرنے کا طریقہ ہر مثال میں اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ گویا شاطبی قرآن کے حکم کو اس معنی میں  سنت میں وارد تفصیلات کو متضمن نہیں سمجھتے کہ زائد تفصیلات کے اشارات لفظی قرائن کی صورت میں قرآن میں موجود ہوں۔ ان کے نزدیک متضمن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تفصیلات بھی شارع کی مراد کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن وہ انھیں تصریحاً اصل حکم کے ساتھ بیان نہیں کرتا، بلکہ حکم کا بنیادی حصہ بیان کر کے تفصیلات کی وضاحت کو سنت کے سپرد کر دیتا ہے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی رہنمائی میں یا اپنے اجتہاد سے ان تفصیلات کی وضاحت فرما دیتے ہیں ۔

عمومات کی تخصیص کی بحث

سابقہ سطور میں نصوص کی دلالت کے قطعی یا ظنی ہونے کے حوالے سے شاطبی کا یہ نقطۂ نظر واضح کیا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک انفرادی نصوص کی دلالت قطعی نہیں ہو سکتی، کیونکہ نص کی قطعی مراد طے کرنے کے لیے متعدد اور متنوع احتمالات کی نفی کرنی پڑتی ہے اور یہ سارا عمل ظن پر مبنی ہوتا ہے۔ مذکورہ احتمالات کے ضمن میں شاطبی نے دلالت عموم کا بھی ذکر کیا ہے جس سے واضح ہے کہ وہ کسی نص میں عموم کے اسلوب کو اس بات کی یقینی دلیل نہیں سمجھتے کہ متکلم کی مراد حقیقتاً بھی عموم ہی ہے۔ یوں اسلوب عموم کی دلالت کے حوالے سے شاطبی کا موقف کلیتاً امام شافعی کے نقطۂ نظر سے ہم آہنگ ہے اور وہ باقاعدہ ان کا حوالہ دے کر اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔

شاطبی کہتے ہیں کہ قرآن مجید عربی زبان میں اور اہل عرب کے مخصوص اسالیب کلام میں نازل ہوا ہے اور ان میں سے ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ اہل عرب اسلوب عموم صرف ایک ہی محل میں نہیں، بلکہ مختلف مواقع میں استعمال کرتے ہیں۔ بعض مواقع میں عام کی ظاہری دلالت واقعتاً مراد ہوتی ہے، بعض مواقع پر من وجہ عموم اور من وجہ خصوص مراد ہوتا ہے اور بعض مقامات پر عام سے صرف خاص مراد ہوتا ہے۔ شاطبی ، امام شافعی کی عبارت کا تقریباً اعادہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وکل ذلک یعرف من أول الکلام أو وسطہ أو آخرہ وتتکلم بالکلام ینبئ أولہ عن آخرہ أو آخرہ عن أولہ، وتتکلم بالشيء یعرف بالمعنی کما یعرف بالإشارۃ، وتسمی الشيء الواحد بأسماء کثیرۃ والأشیاء الکثیرۃ باسم واحد، وکل ھذا معروف عندھا لا ترتاب في شيء منہ ھي ولا من تعلق بعلم کلامھا … والذي نبہ علی ھذا المأخذ في المسألۃ ھو الشافعي الامام في رسالتہ الموضوعۃ في أصول الفقہ، وکثیر ممن أتی بعدہ لم  یأخذھا ھذا المأخذ فیجب التنبہ لذلک. (الموافقات ۲/ ۵۵- ۵۶۔ ۴/ ۹۴)

’’یہ سب باتیں کلام کی ابتدا سے یا درمیان سے یا آخر سے معلوم ہو جاتی ہیں۔ اہل عرب بعض دفعہ کلام کرتے ہیں تو اس کا ابتدائی حصہ آخری حصے کی یا آخری حصہ ابتدائی حصے کی وضاحت کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کے کلام میں بات کی وضاحت کبھی معنی سے ہوتی ہے اور کبھی اشارے سے۔ وہ ایک چیز کے کئی نام رکھ دیتے ہیں اور بہت سی چیزوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں ان کے ہاں معروف ہیں اور اس میں نہ ان کو اور نہ ان کے کلام سے واقفیت رکھنے والے کسی شخص کو کوئی تردد لاحق ہوتا ہے۔ اس مسئلے میں اس نکتے کی طرف امام شافعی نے اصول فقہ پر اپنے رسالے میں متوجہ کیا ہے اور ان کے بعد آنے والے بہت سے اہل علم نے اس نکتے کو اس طرح بیان نہیں کیا۔ پس اس پر دھیان رکھنا لازم ہے۔‘‘

اس کی توضیح کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں کہ الفاظ عموم کی ایک وضع لغوی ہوتی ہے اور ایک وضع استعمالی، اور ان دونوں کی دلالت میں فرق ہوتا ہے۔ وضع لغوی کے لحاظ سے الفاظ عموم کی ممکنہ دلالت ان تمام افراد کو محیط ہوتی ہے جن کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا ہے، لیکن اس لفظ کو جب کوئی متکلم اپنے کلام میں استعمال کرتا ہے تو موقع کلام کے لحاظ سے اس کی ایک نئی دلالت پیدا ہوتی ہے۔ اس نئی دلالت میں متکلم کی مراد بعض دفعہ وضع لغوی میں پائے جانے والے عموم کو برقرار رکھنا ہوتا ہے اور بعض دفعہ وہ عموم کے دائرے کو اپنے پیش نظر مقصد کے لحاظ سے کچھ مصداقات تک محدود کر دیتا ہے اور عموم سے اس کی مراد وہی خاص مصداقات ہوتے ہیں۔ یوں لفظ کی وضع لغوی سے مفہوم ہونے والے عموم کی جگہ ایک نیا اور محدود عموم لے لیتا ہے جو وضع استعمالی سے پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’جو شخص میرے گھر میں داخل ہو، میں اس کا اکرام کروں گا‘‘، اس جملے میں وضع لغوی کے لحاظ سے ہر داخل ہونے والا شخص مراد ہے، لیکن موقع کلام سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ متکلم خود اپنے آپ کو اس عموم میں داخل نہیں سمجھتا۔ اسی اسلوب کی روشنی میں قرآن مجید کی آیات ’اَللّٰہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ‘ اور ’وَاللّٰہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ‘ میں کسی تردد کے بغیر واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کو مراد نہیں لے رہے، بلکہ مخلوقات کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ اسی طرح قوم عاد پر بھیجی جانے والی آندھی کے متعلق ’تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۣ بِاَمْرِ رَبِّہَا‘ سے مراد لفظی طور پر ہر ہر چیز نہیں، بلکہ وہ چیزیں مراد ہیں جن کو تیز ہوا  توڑ پھوڑ سکتی ہے، چنانچہ کوئی بھی شخص اس کا مطلب یہ نہیں سمجھتا کہ آندھی نے زمین وآسمان اور پہاڑوں اور  دریاؤں کو بھی تباہ وبرباد کر دیا (الموافقات ۳/ ۲۱۴- ۲۱۶)۔

اس استدلال کی روشنی میں شاطبی کا موقف یہ ہے کہ عام اپنی دلالت میں محتمل ہوتا ہے، اس لیے جیسے سنت میں قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل قرآن کا بیان ہوتی ہے، اسی طرح مطلق کی تقیید اور عام کی تخصیص کی نوعیت بھی بیان مراد ہی کی ہوتی ہے اور قرآن کی مراد ان توضیحات کو نظر انداز کر کے متعین نہیں کی جا سکتی۔ لکھتے ہیں:

أن السنۃ کما تبین توضح المجمل وتقید المطلق وتخصص العموم فتخرج کثیرًا من الصیغ القرآنیۃ عن ظاھر مفھومھا في أصل اللغۃ وتعلم بذالک أن بیان السنۃ ھو مراد اللہ تعالیٰ من تلک الصیغ. (الموافقات ۴/ ۱۸)

’’سنت، جیسا کہ واضح ہو چکا ہے، مجمل کی توضیح، مطلق کی تقیید اور عموم کی تخصیص کرتی ہے اور بہت سے قرآنی الفاظ کو لغت سے سمجھ میں آنے والے ان کے ظاہری مفہوم سے نکال دیتی ہے اور اس سے تمھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ سنت نے جو بات واضح کی ہے، قرآن کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی مراد وہی ہے۔‘‘

شاطبی مزید واضح کرتے ہیں کہ عام اور اس کی تخصیص کرنے والی نص اور مطلق اور اس کی تقیید کرنے والی نص کو الگ الگ شمار کرنا درست نہیں اور مجتہد کے لیے لازم ہے کہ عام اور مطلق کی دلالت صرف ایک نص سے متعین کرنے کے بجاے نصوص میں ان کی تخصیص وتقیید کے دلائل بھی تلاش کرے۔ شاطبی لکھتے ہیں:

ولذلک لا یقتصر ذو الاجتھاد علی التمسک بالعام مثلاً حتی یبحث عن مخصصہ وعلی المطلق حتی ینظر ھل لہ مقید أم لا، إذ کان حقیقۃ البیان مع الجمع بینھما فالعام مع خاصہ ھو الدلیل. (الموافقات ۳/ ۷۴)

’’اسی لیے مجتہد صرف عام نص کو لے لینے پر اقتصار نہیں کر سکتا، اسے عام کے مخصص کی اور مطلق نص کی تقیید کرنے والے نصوص کی تحقیق کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اصل مراد دونوں کو جمع کرنے سے ہی واضح ہوتی ہے، یعنی عام (تنہا نہیں، بلکہ) اپنے خاص کے ساتھ مل کر دلیل بنتا ہے۔‘‘

البتہ شاطبی دلالت عموم کے قطعی ہونے کی ایک صورت کو ممکن مانتے ہیں جو دلائل شرعیہ کے استقرا سے پیدا ہوتی ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ کسی ایک نص میں صیغۂ عموم اختیار کیا گیا ہو تو اس کی دلالت قطعی نہیں ہوتی اور اس کے مخصصات کو تلاش کرنا مجتہد پر لازم ہے، لیکن اگر کوئی عمومی اصول شریعت کے مختلف نصوص میں بار بار اور تکرار کے ساتھ بیان ہوا ہو اور استقرا سے یہ واضح ہو رہا ہو کہ شریعت میں اسے ایک عام اور کلی قاعدے کے طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے تو ایسی صورت میں اس کو ظاہری عموم پر ہی محمول کیا جائے گا اور اس کے مخصصات تلاش کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ شاطبی نے اس کی مثال کے طور پر ’لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰي‘، ’لا ضرر ولا ضرار‘، ’من سن سنۃ حسنۃ‘ اور ’من مات مسلمًا دخل الجنۃ‘ جیسے عمومات کو پیش کیا ہے۔ شاطبی کے الفاظ یہ ہیں:

فکل أصل تکرر تقریرہ وتأکد أمرہ وفھم ذلک من مجاري الکلام فھو مأخوذ علی حسب عمومہ … فأما إن لم یکن العموم متکررًا ولا مؤکدًا ولا منتشرًا في أبواب الفقہ فالتمسک بمجردہ فیہ نظر فلا بد من البحث عما یعارضہ أو یخصصہ، وإنما حصلت التفرقۃ بین الصنفین لأن ما حصل فیہ التکرار والتأکید والانتشار صار ظاھرہ باحتفاف القرائن بہ إلی منزلۃ النص القاطع الذی لا احتمال فیہ، بخلاف ما لم یکن کذلک فإنہ معرض لاحتمالات، فیجب التوقف في القطع بمقتضاہ حتی یعرض علی غیرہ ویبحث عن وجود معارض فیہ. (الموافقات ۳/ ۲۴۴)

’’ہر وہ اصل جس کی تاکید بار بار وارد ہوئی ہو اور (مختلف پہلوؤں سے) اسے موکد کیا گیا ہو اور کلام کے اسالیب سے اس کی تاکید واضح ہو رہی ہو تو اسے اس کے عموم پر ہی محمول کیا جائے گا۔ لیکن اگر عموم تکرار سے وارد نہ ہو اور نہ اسے بار بار موکد کیا گیا ہو اور نہ وہ بہت سے فقہی احکام میں پھیلا ہوا ہو تو محض صیغہ عموم سے استدلال محل نظر ہوگا اور اس (کو عموم پر محمول کرنے سے پہلے) اس کے معارض یا مخصص کی تحقیق ضروری ہوگی۔ ان دونوں قسموں میں فرق اس وجہ سے ہے کہ جس عموم میں تکرار اور تاکید پائی جائے اور وہ مختلف احکام میں پھیلا ہوا ہو تو اس کا ظاہر ان تمام قرائن کے شامل ہونے کی وجہ سے ایک قاطع نص بن جاتا ہے جس میں دوسرا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اس کے برخلاف دوسری صورت میں احتمالات موجود رہتے ہیں، اس لیے اس کی قطعی مراد طے کرنے میں توقف ضروری ہے تاآنکہ اسے دیگر نصوص پر پیش کیا جائے اور اس کے معارض دلائل کی تحقیق کر لی جائے۔‘‘

شاطبی نے عمومات میں تخصیص کی ایک دوسری صورت پر بھی کلام کیا ہے جو اپنی نوعیت میں تبیین مراد کی مذکورہ صورت سے مختلف ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ شریعت میں جو احکام کلیہ بیان کیے گئے ہیں، بعض دفعہ کسی دوسرے کلی شرعی اصول کی رعایت سے ان میں تخصیص اور استثنا قائم کرنا پڑتا ہے اور یہ اصل حکم کے عموم اورکلیت کے منافی نہیں ہوتا۔ گویا خاص صورتوں کو مخصوص اسباب کے تحت حکم کلی سے مستثنیٰ یا مخصوص قرار دینا بذات خود ایک تشریعی اصول ہے اور اس کے تحت مختلف شرعی احکام میں تخصیص اور استثنا کی مثالیں نصوص میں موجود ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شوہروں کے لیے بیویوں کو دیا گیا مال واپس لینے کو ممنوع قرار دیا ہے، لیکن ایک خاص صورت میں اس کی اجازت دی ہے جسے فقہی اصطلاح میں ’خلع‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر بیوی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہو تو اس صورت میں بھی اس کو دیا گیا مال واپس لینے کی گنجایش دی گئی ہے (الموافقات ۱/ ۲۴۱) ۔

شاطبی سنت میں وارد بعض تخصیصات کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بصیغۂ عموم مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔  یہ تخصیص ایک دوسرے شرعی اصول پر مبنی ہے (الموافقات ۱/ ۲۴۱)۔ اسی طرح قرآن مجید میں اولاد کو ماں باپ کے ترکے میں حصہ دار قرار دیا ہے۔ یہ ایک عام اور کلی شرعی حکم ہے، لیکن حدیث میں مسلمان کے کافر کا وارث بننے کی ممانعت آئی ہے جس کی بنیاد ایک دوسرے شرعی اصول پر یا ایک خاص مانع کی رعایت پر ہے۔ شاطبی کہتے ہیں کہ شریعت کے ایک کلی حکم میں کسی دوسری اصل شرعی یا کسی مانع کی وجہ سے تخصیص کی جائے تو اسے ’تعارض‘ سے تعبیر کرنا درست نہیں، کیونکہ ایسی تخصیصات خود کسی دوسرے شرعی اصول کی رعایت پر مبنی ہوتی ہیں (الموافقات ۱/ ۱۴۷)۔

قرآن کے ظاہری عموم میں تخصیص کرنے والی بعض احادیث کی توجیہ شاطبی نے سد ذریعہ کے اصول پر کی ہے جو شریعت کا ایک مستقل کلی اصول ہے اور اس لحاظ سے ان کا ذکر بھی یہاں مناسب ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے بارے میں فرمایا کہ اسے وراثت میں حصہ نہیں ملے گا اور اس کی حکمت یہ ہے کہ وراثت میں جلد حصہ پانے کے لیے مورث کو قتل کرنے کا داعیہ ختم کر دیا جائے (الموافقات ۲/ ۲۹۳، ۳۱۰)۔ شاطبی کے نقطۂ نظر سے یہ ممانعت شریعت کے ایک مستقل اور کلی اصول، یعنی سد ذریعہ کی فرع ہے اور دو جزوی نصوص کے باہمی تعلق کی نہیں، بلکہ شریعت کے ایک کلی اصول کی روشنی میں دوسرے کلی حکم کی تحدید کی مثال ہے۔

شاطبی کے نزدیک نصوص میں اس طرح کی تقییدات اور تخصیصات اگرچہ ظاہری لحاظ سے دوسرے نصوص کے حکم کو تبدیل کر رہی ہوتی ہیں اور اس پہلو سے تخصیص وتقیید اور نسخ کے مابین ایک ظاہری مشابہت پائی جاتی ہے جس کی رعایت سے صحابہ وتابعین کے کلام میں ایسی صورتوں کے لیے ’نسخ‘ کی تعبیر بکثرت استعمال کی جاتی ہے، تاہم حقیقت کے اعتبار سے تخصیص وتقیید اور نسخ دو مختلف چیزیں ہیں۔ نسخ میں کسی حکم کی حقیقی مراد میں ترمیم یا تغییر کی جاتی ہے اور ناسخ ایک نیا اور مستقل حکم ہوتا ہے، جب کہ تخصیص وتقیید میں حکم کی حقیقی مراد کو واضح کیا جاتا ہے اور تخصیص یا تقیید کوئی نیا حکم بیان نہیں کرتی، بلکہ سابقہ حکم ہی کی مراد کو واضح کرتی ہے (الموافقات ۳/ ۸۹- ۹۶)۔

اصولیین کے ایک گروہ کے نزدیک نصوص میں عموم کے اسلوب سے صرف احتمالاً نہیں، بلکہ حقیقتاً عموم مراد ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ان کی طرف سے ایک دلیل یہ بھی پیش کی گئی ہے کہ بعض روایات سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ نے بعض آیات کو ظاہری عموم پر محمول کرتے ہوئے ان کا مفہوم متعین کیا، حالاں کہ آیات کے سیاق وسباق میں اس عموم کی تخصیص کے دلائل موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ظاہری عموم کو حقیقتاً شارع کی مراد سمجھتے تھے۔ مثلاً بعض صحابہ نے ’اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ٘ا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ‘ (وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں کی) کا مطلب یہ سمجھا کہ نجات کے لیے یہ شرط ہے کہ ایمان لانے کے بعد آدمی نے کسی قسم کا کوئی گناہ نہ کیا ہو، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر واضح کیا کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ اسی طرح قرآن میں ’اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ‘ (بے شک، تم اور جن کی تم پوجا کرتے ہو، جہنم کا ایندھن بننے والے ہو) کی آیت نازل ہوئی تو بعض کفار نے اعتراض کیا کہ اس کی رو سے تو فرشتے اور مسیح علیہ السلام بھی (نعوذ باللہ) جہنم میں جائیں گے، کیونکہ ان کی بھی عبادت کی جاتی ہے۔ اس پر قرآن مجید میں یہ وضاحت نازل کی گئی کہ اللہ کے نیک بندوں کو جہنم سے دور رکھا جائے گا۔

شاطبی اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ ان مثالوں میں آیات کے سیاق وسباق میں تخصیص کے واضح دلائل موجود ہیں۔ مثلاً ’اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ٘ا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ‘ کی آیت سورۂ انعام میں آئی ہے جس کا مرکزی مضمون ہی شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ہے، اس لیے پوری سورہ کے نظم، نیز مذکورہ آیت کے بالکل قریبی سیاق وسباق، دونوں کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ تاہم بعض صحابہ جو حدیث الاسلام تھے اور دین وشریعت کے فہم میں ان کی حیثیت مبتدی کی تھی، وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے اور ان کے اشکال پیش کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کا اصل مفہوم ان پر واضح فرما دیا۔ اسی طرح ’اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ‘ میں روے سخن قریش کی طرف ہے جو فرشتوں یا مسیح علیہ السلام کی نہیں، بلکہ بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے، اس لیے خطاب کے رخ سے ہی واضح ہے کہ آیت میں ان کے بتوں کا جہنم رسید کیا جانا مراد ہے۔ گویا یہاں معترضین کا اعتراض کلام کے صحیح فہم پر نہیں، بلکہ کٹ حجتی پر مبنی تھا۔ اسی نوعیت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ مروان بن الحکم کو قرآن مجید کی آیت ’يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ‘ (وہ اس کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریف کی جائے، پس تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ ایسے لوگ عذاب سے بچ جائیں گے) پر یہ اشکال ہوا کہ یہ کم زوری تو ہر انسان میں پائی جاتی ہے، اس لیے کسی کے لیے عذاب سے بچنے کا امکان نہیں۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے واضح کیا کہ یہ آیت یہود کے ایک گروہ سے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوالات کے جواب میں کتمان کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے غلط معلومات بیان کیں، لیکن ان کی خواہش یہ تھی کہ سوالات کا جواب دینے پر ان کی تعریف کی جائے۔ گویا اس بات کا ایک خاص سیاق ہے اور اس میں ایک عام انسانی کم زوری کا حکم بیان نہیں کیا گیا۔

شاطبی کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ کم فہمی یا عناد کی وجہ سے اگر بعض لوگوں نے بعض آیات کے سیاق و سباق کو نظر انداز کر کے الفاظ کے ظاہری عموم کو حقیقی مراد پر محمول کیا تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عربی زبان یا قرآن مجید کے اسلوب میں بھی الفاظ کا ظاہری عموم حقیقتاً مراد ہوتا ہے (الموافقات ۳/ ۲۱۷- ۲۲۳)۔

بحث کی توضیح مزید کے لیے شاطبی نے یہاں فقہاے صحابہ کے استنباطات سے ذرا مختلف نوعیت کی چند مثالیں بھی پیش کیں اور ان کی وضاحت کی ہے۔ مثال کے طور پر سیدنا عمر اپنے لباس اور کھانے پینے میں بہت تقشف سے کام لیتے تھے اور اس کے لیے قرآن کی آیت ’اَذْھَبْتُمْ طَيِّبٰتِكُمْ فِيْ حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا‘ (تم نے اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ہی ختم کر دیں) کا حوالہ دیتے تھے، حالاں کہ سیاق کے لحاظ سے اس آیت میں اہل ایمان کے بجاے کفار کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیدنا معاویہ نے ایک حدیث سنی جس میں قیامت کے دن ریاکاری کی نیت سے شہید ہونے، تعلیم وتعلم کرنے والے اور اعمال خیر میں انفاق کرنے والے افراد کو جہنم میں ڈالے جانے کا ذکر ہے تو اس پر قرآن کی آیت پڑھی ’مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَھَا‘  (جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا طلب گار ہو)، حالاں کہ سیاق وسباق کی رو سے یہ بھی کفار سے متعلق ہے۔

شاطبی واضح کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی مثالوں میں سلف کااستدلال دراصل نص کے ظاہری عموم سے نہیں، بلکہ معنوی پہلو سے ہوتا ہے اور وہ نص کے سیاق وسباق میں موجود تخصیص کے دلائل کے باوجود معنوی پہلو سے اس کو عموم پر محمول کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً مذکورہ مثالوں میں صحابہ نے آیات میں بیان کی گئی وعید کو عموم معنوی پر محمول کرتے ہوئے یہ سمجھا کہ اسراف اور ریاکاری جیسے رویے جس طرح اہل کفر کے لیے موجب وبال ہیں، اسی طرح اہل ایمان کے لیے بھی ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی مثالوں کا اسلوب عموم کی بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے (الموافقات ۳/ ۲۲۴- ۲۲۸)۔

قرآن، سنت سے مقدم ہے

قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے مذکورہ تمام پہلوؤں کے تناظر میں شاطبی یہ قرار دیتے ہیں کہ بطور ماخذ تشریع قرآن مجید، رتبے میں سنت سے مقدم ہے۔ اس فرق مراتب کا ایک پہلو تو معیار ثبوت سے متعلق ہے، یعنی قرآن قطعی الثبو ت ہے، جب کہ سنت ظنی الثبوت ہے اور اس میں قطعیت اگر پیدا ہوتی ہے تو وہ روایات کی مجموعی قوت سے پیدا ہوتی ہے، جب کہ انفرادی روایات فی نفسہٖ ظنی ہیں۔ اس کے مقابلے میں کتاب اللہ کی الگ الگ آیات بھی قطعی الثبوت ہیں اور اس لحاظ سے کتاب اللہ کو سنت پر تقدم حاصل ہے۔

قرآن کے مقدم ہونے کا دوسرا اور اس بحث میں زیادہ اہمیت رکھنے والا پہلو یہ ہے کہ سنت کا رتبہ بیان احکام میں بھی قرآن مجید سے متاخر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنت یا تو  کتاب اللہ کے احکام کی تبیین کرتی ہے اور یا اس سے زائد کچھ احکام بیان کرتی ہے۔ اگر وہ کتاب اللہ کی تبیین کرتی ہے تو شرح کا درجہ بدیہی طور پر اصل کے بعد ہوتا ہے، کیونکہ اگر اصل ہی نہ ہو تو شرح وبیان کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی، جب کہ اس کے برعکس شرح کی غیر موجودگی، اصل کی موجودگی پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اگر سنت، کتاب اللہ سے زائد کچھ احکام بیان کرتی ہے تو اس کا اعتبار اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کتاب اللہ میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو، یعنی سنت کسی مستقل حکم کا ماخذ تبھی بن سکتی ہے جب قرآن نے اس سے مطلقاً  کوئی تعرض نہ کیا ہو۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ سنت کا رتبہ، قرآن سے متاخر ہے (الموافقات ۴/ ۸)۔

اپنے اس موقف پر شاطبی نے بعض ممکنہ اشکالات کا بھی ذکر کیا اور ان کا جواب دیا ہے۔ مثلاً ایک اشکال یہ ہے کہ محققین کے نزدیک اگر کتاب اللہ کا حکم محتمل ہو تو اس کی تبیین میں، اور اسی طرح قرآن کے ظاہری عمومات اور اطلاقات کی تخصیص وتقیید میں سنت فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح اگر کتاب وسنت میں باہم تعارض ہو تو بھی اہل اصول کا اس میں اختلاف ہے کہ قرآن کو ترجیح دی جائے گی یا سنت کو۔ چنانچہ کتاب اللہ کو علی الاطلاق، سنت پر مقدم قرار دینے کا موقف کیونکر درست ہو سکتا ہے؟

شاطبی کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ صورتوں میں سنت کے فیصلہ کن ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کتاب اللہ کو چھوڑ کر سنت کو اس کے مقابلے میں مقدم کیا جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ سنت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کتاب اللہ ہی کی مراد کی درست وضاحت کر رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں سنت، کوئی الگ حکم بیان نہیں کرتی جو قرآن سے مختلف ہو اور اسے قرآن کے مقابلے میں ترجیح حاصل ہو، بلکہ درحقیقت وہ جو بات بیان کرتی ہے، وہ کتاب اللہ ہی کی مراد ہوتی ہے اور اسے کتاب اللہ کے بجاے سنت کی طرف منسوب کرنا بہ اعتبار حقیقت درست نہیں۔ چنانچہ جیسے کوئی مفسر یا عالم کسی آیت یا حدیث کی وضاحت کرتا ہے تو ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم فلاں مفسر کی بات پر عمل کر رہے ہیں، بلکہ یہی کہتے ہیں کہ ہم اللہ یا اس کے رسول کی بات پر عمل کر رہے ہیں، اسی طرح سنت میں کتاب اللہ کے احکام کی جو بھی وضاحت کی گئی ہے، وہ دراصل کتاب اللہ ہی کے مدعا و مفہوم کا بیان ہے۔ اس لیے کتاب وسنت کے تعلق کے اس پہلو کو سنت کے مقدم ہونے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔

جہاں تک کتاب وسنت میں تعارض کا تعلق ہے تو شاطبی کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں خبر واحد تبھی قابل قبول ہو سکتی ہے جب اس کی بنیاد خود قرآن سے ثابت شدہ کسی قطعی اصول پر ہو۔ اگر خبر واحد کسی قطعی قاعدے پر مبنی نہ ہو تو قرآن کو اس پر مقدم رکھنا لازم ہے۔ گویا تعارض کی جس صورت میں سنت کو قرآن پر ترجیح دی جاسکتی ہے، وہاں تعارض دراصل کتاب اللہ اور خبر واحد کے مابین نہیں، بلکہ خود قرآن سے ثابت دو قطعی اصولوں کے مابین ہوتا ہے اور ان میں سے ایک اصول کو دوسرے اصول پر ترجیح دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس صورت کو بھی قرآن پر سنت کو مقدم کرنے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا (الموافقات ۴/ ۹-  ۱۱)۔

حاصل بحث

شاطبی کی اس پوری بحث کا موازنہ جمہور اصولیین کے فریم ورک سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ شریعت کی تفہیم میں ان کے زاویۂ نظر سے مرکزی سوال شریعت کی قطعیت کو واضح کرنا اور ظنی الثبوت نیز ظنی الدلالۃ نصوص کے مقام اور کردار کی ایسی توجیہ کرنا ہے جس سے وہ بھی ایک طرح کی قطعیت کے دائرے میں آجائیں۔ شاطبی اس کے لیے شریعت کے جزئیات وفروع کے تقابل میں کلیات واصول پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اور شرعی نصوص کے استقرا کی روشنی میں یہ واضح کرتے ہیں کہ شریعت کا ان کلیات پر مبنی ہونا بالکل قطعی ہے۔ جہاں تک جزئیات وفروع کا تعلق ہے تو وہ چونکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انفراداً ظن کے دائرے سے باہر نہیں جا سکتیں، اس لیے ان کا کسی اصل کلی سے متعلق ہونا ضروری ہے۔ یوں ایک جہت سے ظنی ہونے کے باوجود ایک دوسری جہت سے ان فروع کو بھی ایک نوعیت کی قطعیت حاصل ہو جاتی ہے۔ شاطبی قرآن اور سنت کے باہمی تعلق کے سوال کو بھی اس بنیادی مقدمے کی روشنی میں حل کرتے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ شریعت کے کلیات کی تبیین وتوضیح میں بنیادی کردار قرآن مجید کا ہے، اس لیے شریعت کے اصل اور اساسی ماخذ کی حیثیت قرآن ہی کو حاصل ہے۔ سنت، قرآن کی فرع کے طور پر تشریع کے عمل میں شریک ہوتی ہے اور مختلف جہتوں سے قرآن کے وضع کردہ تشریعی ڈھانچے کی تکمیل کرتی اور اس کی جزئیات وفروع کو واضح کرتی ہے۔ جمہور اصولیین کی طرح شاطبی نے بھی مجملات کی توضیح، عمومات کی تخصیص اور علت کی بنیاد پر حکم کی توسیع جیسی بحثوں سے تعرض کیا اور سنت کے، قرآن کے ساتھ متعلق ہونے کی ان صورتوں پر کلام کیا ہے، تاہم ان کے اصولی فریم ورک میں یہ بحثیں ثانوی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کا مرکزی اور بنیادی سوال کلیات کی سطح پر شریعت کی قطعیت کو واضح کرنا اور ظنی نصوص سے ثابت ہونے والی فروع وجزئیات کے، ان کلیات کے ساتھ تعلق کو واضح کرنا ہے۔ اس لحاظ سے عملی نتائج میں کوئی خاص فرق نہ ہونے کے باوجود اصولی اور نظریاتی حیثیت سے شاطبی نے اس بحث کی تفہیم کا جو فریم ورک پیش کیا ہے، وہ اصول فقہ کی روایت میں بالکل منفرد حیثیت رکھتاہے۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن