مئی ۲۰۲۰ء

کورونا وائرس کی وبا اور مذہبی سوالات / قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کی شمولیت

― محمد عمار خان ناصر

کورونا وائرس کی حالیہ عالمی وبا کے تناظر میں مذہبی نوعیت کے بعض اہم سوالات بھی قومی سطح پر زیر بحث آئے اور مختلف حلقے ان پر اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ مثلا کیا اس وبا کی نوعیت اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ یا سرزنش کی ہے یا یہ محض طبیعی وحیاتیاتی قوانین کے تحت رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے؟ کیا وبائے عام کی صورت حال میں مساجد میں باجماعت نماز کا نظام عارضی طور پر معطل یا محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس نوعیت کے فیصلوں میں بنیادی اہمیت ارباب حل وعقد یا طبی ماہرین یا علما وفقہا میں کس کی رائے کو دی جانی چاہیے؟ پاکستان میں بطور ایک طبقے...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۶۵)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

سورة الاحزاب کے کچھ مقامات۔ (۱۹۷) صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ۔ درج ذیل آیت میں صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ عام طور لوگوں نے ”عہد کو سچا کردکھایا ہے“ کیا ہے، اور اس کے بعد قَضَی نَحبَہُ کا ترجمہ بھی ”عہد یا نذر کو پورا کردیا“ کیا ہے۔ اس سے عبارت میں اشکال پیدا ہوجاتا ہے، کہ ایک ہی بات کو دو بار کیوں کہا گیا۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا کا ترجمہ کرتے ہیں ”جنھوں نے سچا عہد کیا“ اس طرح مفہوم یہ بنتا ہے کہ اہل ایمان نے جب عہد کیا تو سچے دل سے عہد کیا، اور پھر کچھ نے موقع آنے پر عہد پورا کردکھایا اور کچھ موقع کے منتظر...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ :ایک تقابلی مطالعہ (۱۱)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

پچھلی قسط میں انواعِ حدیث کے عنوان کے تحت مقبول حدیث اور اس کی اقسام سے متعلق سنی و شیعہ مواقف کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا تھا ،اس قسط میں اسی موضوع کے دوسرے جزو یعنی مردود حدیث کی اقسام کے بارے میں سنی مصطلح الحدیث و شیعہ علم الدرایہ کا تقابلی جائزہ نکات کی شکل میں لیا جائے گا: 1۔اہل سنت کے ہاں ضعیف حدیث کی جملہ اقسام میں ایک منطقی ترتیب ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ علمائے اہل سنت ضعیف حدیث کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: پہلی قسم وہ ضعیف حدیث ،جس کا سبب سقط فی السندیعنی سند میں کسی راوی کا سقوط ہو ،پھر سقوط کو بھی دو قسموں میں منقسم کیا...

دعوت ِ دین میں درپیش چیلنجز اور علماءکی ذمہ داریاں

― ڈاکٹر محمد اکرم ورک

اصلاح ِ احوال کے ذمہ دار طبقات میں جن دو طبقات کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے ان میں علماءکرام اور حکمران طبقہ خاص طور پر قابل ِ ذکر ہیں ۔مجموعی انسانی رویوں کی تشکیل میں ان دو طبقات کا کردارسب سے اہم ہے۔ اگر کسی معاشرے کا دانشور طبقہ(Intellectuals) بد دیانت ہوجائے تو پھر اس معاشرے کی اصلاح کی امیدیں دم توڑ نے لگتی ہیں ۔اس پس منظر میں دانشور طبقے کی اہمیت اور ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ سماجی اور معاشرتی سطح پر اصلاح ِ احوال کے لئے اپنے دور کی تفہیم اور در پیش تحدّیات کا ادراک اہل ِ علم کے لئے ضروری ہے۔ اس وقت ہمارے پیش ِ نظر ان تحدّیات کا جائزہ پیش کرنا...

قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سورۃ یوسف کے آخر میں اللہ تعالی ٰ نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں ماضی کی قوموں کے واقعات کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ارباب فہم و دانش کے لیے سبق اور عبرت کا ذریعہ بنیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق اور وضاحت کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ماضی کی دو قوموں کا تذکرہ موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنے اور عبرت پکڑنے کا موقع ملے، آمین یا رب العالمین۔ سورۃ الاعراف کی آیت...

قادیانیوں کوقومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک خبر کے مطابق حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی کو ان کا نمائندہ نامزد کیا جارہا ہے۔یہ بات اصولی طور پر تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا ماضی پر نظر ڈال لیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ 1974ء میں جب پارلیمنٹ نے دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اس بات کا اہتمام بھی کیا تھا کہ ایک قادیانی کو قومی اسمبلی میں اور ایک کو پنجاب اسمبلی میں رکن منتخب کروایا تھا۔ان کی نمائندگی کے لیے قادیانیوں نے انکار کر دیا تھاکہ وہ اپنی دستور...

عقل و نقل کا تعارض اور تاویل کے لیے امام غزالی کا قانون کلی

― محمد زاہد صدیق مغل

امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ علیہ) اپنی کتاب "درء تعارض" میں امام غزالی (رحمہ اللہ علیہ) اور امام رازی (رحمہ اللہ علیہ) پر اپنے روایتی جارحانہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہوتے ہیں کہ یہ حضرات آیات قرآنی کی تاویل کے باب میں ایک ایسا عمومی قانون بیان کرگئے ہیں جو زندقہ کا پیش خیمہ اور اہل کتاب کے گمراہ لوگوں جیسا کام ہے۔ اس تحریر کا مقصد امام غزالی کی متعلقہ تحریر اور امام غزالی کے تصور عقل کی روشنی میں یہ دکھانے کی کوشش کرنا ہے کہ یوں لگتا ہے اس معاملے میں علامہ ابن تیمیہ سے دو امور میں سہو نظر ہوگیا ہے: پہلا امام صاحب کی بات کو اس کے خصوصی...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۶)

― محمد عمار خان ناصر

قرآن کی روشنی میں احادیث کی توجیہ وتعبیر۔ قرآن کے ساتھ احادیث کے تعلق کو متعین کرنے کا دوسرا طریقہ جو غامدی صاحب کے علمی منہج میں اختیار کیا گیا ہے، یہ ہے کہ روایات کو ان کے ظاہری مفہوم یا عموم پر محمول کرنے کے بجائے ان کی مراد ان تخصیصات کے ساتھ متعین کی جائے جو انھیں قرآن میں ان کی اصل کے ساتھ متعلق کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اس اصول کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں: ”دوسری چیز یہ ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے۔ دین میں قرآن کا جو مقام ہے، وہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیثیت نبوت ورسالت میں جو کچھ کیا، اس کی...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter