قادیانیوں کوقومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک خبر کے مطابق حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی کو ان کا نمائندہ نامزد کیا جارہا ہے۔یہ بات اصولی طور پر تو ٹھیک ہے، لیکن ذرا ماضی پر نظر ڈال لیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟

1974ء میں جب پارلیمنٹ نے دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اس بات کا اہتمام بھی کیا تھا کہ ایک قادیانی کو قومی اسمبلی میں اور ایک کو پنجاب اسمبلی میں رکن منتخب کروایا تھا۔ان کی نمائندگی کے لیے قادیانیوں نے انکار کر دیا تھاکہ وہ اپنی دستور کی طے کردہ حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے،اس لیے وہ ان کے نمائندے نہیں ہیں۔اس لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کی نمائندگی نہ ہونے کی ذمہ داری خود ان کے انکار پر ہےجو اس وقت سے اب تک چلی آرہی ہے۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ جس دستور کے کسی فورم پر قادیانیوں کو نمائندگی دی جا رہی ہے،اس دستور کو تو وہ تسلیم نہیں کر رہے تو ان کو کس اصول کے تحت نمائندگی دی جا رہی ہے؟پہلے قادیانیوں سے تقاضا کیا جائے، ان کو آمادہ کیا جائے کہ وہ دستوری فیصلے کو، پارلیمنٹ کے فیصلے کو، عدالت عظمی کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں کہ ان کی جو معاشرتی حیثیت ملک کا دستور طے کر چکا ہے، وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں۔اس کے بعد کسی بھی فورم پر ان کی نمائندگی پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔لیکن دستور سے ان کا انکار قائم رہے، اور دستوری اداروں میں ان کی نمائندگی حکومت کی طرف سے کی جائے،یہ کنفیوژن بڑھانے والی بات ہو گی، معاملات کو بگاڑنے والی بات ہو گیاور مسئلے کو مزید پیچیدگی  کی طرف لے جائے گی۔ حکومت پاکستان کو اس اقدام سے گریز کرنا چاہیے اور ان کو کسی بھی فورم میں نمائندگی سے پہلے ان کی حیثیت کا ان سے اعلان کروانا چاہیے۔

اگر قادیانی دستور کے مطابق اور  عدالت عظمی کے فیصلے کے مطابق اپنی اقلیتی حیثیت تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں کسی بھی فورم پراس حیثیت سے ان کی نمائندگی سے انکار نہیں ہو گا،لیکن کنفیوژن کی فضا میں، انکار کی فضا میں، اور گومگو کی فضا میں یہ بات تسلیم نہیں کی جائے گی اور حکومت کو اس سلسلے میں دینی حلقوں اور عوامی حلقوں کی مخالفت کا بلکہ ہو سکتا ہے کہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔اس لیے معاملے کو خراب نہ کریں، معاملے کو صحیح طریقے سے سلجھائیں جو یہ ہے کہ قادیانیوں سے کہا جائے کہ وہ دستوری اسٹیٹس کو تسلیم کریں اور  اس کے بعد ان کو کسی بھی فورم پرنمائندگی دے دی جائے۔اس کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا، مزید بگڑے گا۔

حالات و واقعات