قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۱)

محمد عمار خان ناصر

امام شاطبی کا نظریہ

اب تک کی بحث کی روشنی میں ہمارے سامنے سنت کی تشریعی حیثیت اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے علمائے اصول کے اتفاقات اور اختلافات کی ایک واضح تصویر آ چکی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سنت کا ایک مستقل ماخذ تشریع ہونا فقہاءواصولیین کے ہاں ایک مسلم اصول ہے اور وہ ماخذ تشریع کو صرف قرآن تک محدود رکھنے کو ایمان بالرسالة کے منافی تصور کرتے ہیں۔ اس ساری بحث میں ایک بہت بنیادی مفروضہ جو جمہور علمائے اصول کے ہاں مسلم ہے، یہ ہے کہ شرعی احکام کا ماخذ بننے والے نصوص کو قطعی اور ظنی میں تقسیم کرنا لازم ہے، کیونکہ ایک مستقل ماخذ تشریع ہونے کے باوجود سنت کا بیشتر حصہ اخبار آحاد سے نقل ہوا ہے جو تاریخی ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہیں۔ جمہور اصولیین اور فقہاءنے اس کو ایک حقیقت واقعہ کے طور پر قبول کیا اوریہ قرار دیا کہ دین کے جزوی اور تفصیلی احکام کو ظنی الثبوت ماخذ یعنی اخبار آحاد سے اخذ کرنا درست ہے۔ البتہ اس ظنی ماخذ سے ثابت کوئی حکم کسی پہلو سے قطعی الثبوت حکم کے معارض ہو یا مثلاً اس کی تخصیص وتقیید یا اس پر زیادت کر رہا ہو تو اس کی قبولیت کی شرائط وقیود کے حوالے سے ان کے مابین بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔

جمہور فقہاءومحدثین کے نزدیک کسی حدیث کو ماخذ حکم بنانے اور اس پر عمل کرنے کے لیے محض اس کا سنداً صحیح ہونا کافی ہے اور دین کے دیگر اصولوں یعنی قرآن، سنت اور ان سے مستنبط اصول کلیہ پر اس کو پرکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ روایت جب سنداً ثابت ہو تو وہ بذات خود ایک اصل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے دوسرے اصولوں پر پرکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ (ابن حجر، فتح الباری ۴/۳۶۶) اس کے مقابلے میں فقہائے حنفیہ اور مالکیہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ خبر واحد کا حجت ہونا اس سے مشروط ہے کہ وہ اپنے سے قوی تر کسی دلیل کے ساتھ نہ ٹکراتی ہو۔ اگر خبر واحد قرآن کی نص، سنت مشہورہ یا امت کے اجماع میں سے کسی کے ساتھ ٹکراتی ہو تو معارضہ کے عام عقلی اصول کے مطابق خبر واحد کو رد کر دیا جائے گا یا اس کے ظاہری مفہوم کو چھوڑ کر مناسب تاویل کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

اس جزوی اختلاف سے قطع نظر، خبر واحد کے معتبر ہونے کے باب میں جمہور اصولیین متفق الرائے ہیں اور اس کی عقلی وشرعی توجیہ کے حوالے سے ان کا عمومی استدلال یہی ہے کہ تکلیف شرعی کا مدار علی الاطلاق قطعی دلائل پر رکھنا ناممکن ہے اور اسی وجہ سے شارع نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ظن کو بھی ایک درجے میں معتبر قرار دیا ہے۔ ابن حزم نے اس ضمن میں ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا اور تاریخی ثبوت کے اعتبار سے قرآن مجید اور اخبار آحاد کے مابین پائے جانے والے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مذہبی اور دینیاتی استدلال سے قطعی اور ظنی کی تقسیم کو غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ابن حزم نے کہا کہ قرآن مجید میں ’الذِّكر‘ کی حفاظت کا جو وعدہ کیا گیا ہے، اس سے مراد صرف قرآن نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی جانے والی ہر طرح کی وحی ہے۔ دوسرے لفظوں میں قرآن کی طرح حدیث بھی اس وعدئہ حفاظت میں شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر احادیث کو بھی مکمل طور پر محفوظ رکھنے اور حفاظت کے ساتھ امت تک منتقل کرنے کا اہتمام فرمایا ہے ۔ (الاحکام فی اصول الاحکام ۱/۹۸) اس وعدئہ حفاظت سے ابن حزم یہ اخذ کرتے ہیں کہ شریعت کا کوئی حکم جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہو، کسی ایسے سند سے منقول نہیں ہو سکتا جس کے راویوں کے بیان پر حجت قائم نہ ہو سکتی ہو،کیونکہ ا س سے شریعت کا ایک مستند حکم ضائع ہو جائے گا۔ اسی اصول پر اگر کسی ثقہ راوی سے کسی حدیث کے بیان میں غلطی ہوئی ہو تو لازم ہے کہ تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس غلطی کی وضاحت کا بھی بندوبست کیا ہو، تاکہ امت ایک غیر مستند حکم کو شریعت کا حصہ سمجھنے کی غلطی میں مبتلا نہ ہو جائے۔ (الاحکام ۱/۱۳۶)

اس پس منظر میں آٹھویں صدی ہجری میں غرناطہ کے جلیل القدر مالکی عالم امام ابو اسحاق الشاطبی نے اپنی کتاب ”الموافقات“ میں ایک مربوط عقلی نظام کے طور پر شریعت کی تفہیم کو موضوع بنایا تو قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے تناظر میں قطعیت اور ظنیت کا سوال ازسرنو اٹھایا اور ایک نئے زاویے سے اس بحث کے مختلف پہلووں کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ زیر نظر سطور میں ہم اس حوالے سے شاطبی کے اصولی نظریے کی وضاحت کریں گے۔

تشریع کا اصل الاصول: انسانی مصالح

شاطبی کے نظریے میں تشریع کے مقاصد اور احکام شرعیہ میں ملحوظ انسانی مصالح کا تصور بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاطبی اسی کی روشنی میں شریعت کی تفہیم ایک مربوط اور منضبط نظام کے طور پر کرتے اور شریعت میں قطعیت یا ظنیت کے سوال کو حل کرتے ہیں اور اسی فریم ورک میں قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو بھی واضح کرتے ہیں۔ احکام شرعیہ کی بنیاد میں مخصوص مقاصد ومصالح کے کارفرما ہونے کے تصور کو ایک باقاعدہ نظریے کے طور پر پیش کرنے کی نسبت عموماً امام الحرمین الجوینی کی طرف کی جاتی ہے۔ الجوینی کے زیراثر شافعی روایت میں امام غزالی اور پھر عز الدین بن عبد السلام نے اس تصور کے مختلف پہلوؤ¶ں کو واضح کیا۔ دوسرے فقہی مکاتب فکر سے منتسب بعض اہل علم مثلاً شہاب الدین القرافی، نجم الدین الطوفی، ابن تیمیہ اور ابن القیم کے ہاں بھی اس بحث سے خصوصی اعتنا ملتا ہے۔ شاطبی اسی اصولی روایت سے منسلک ہیں اور ان کے ہاں تشریع کے تصور، مقاصد اور عمل تشریع کے بنیادی اصولوں کی توضیح جس طرح کی گئی ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ شارع کی تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاءکے ذریعے سے انسانوں کی راہ نمائی سے انسانوں ہی کی بھلائی او رمصلحت مقصود ہے۔ شارع کا مطالبہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں ایسے اصولوں اور ضابطوں کی پابندی کریں جن سے ان مخصوص مصالح کی حفاظت ممکن ہو جو شارع کا مقصود ہیں۔ یہ مصالح حسب ذیل ہیں:

۱۔ دین، ۲۔ انسانی زندگی، ۳۔ نسل، ۴۔ مال، اور ۵۔ عقل

احکام شرعیہ کے استقرا سے واضح ہوتا ہے کہ تشریع کے پورے عمل میں انھی مخصوص انسانی مصالح کی حفاظت کو موضوع بنایا گیا ہے اور انھی پر بنی نوع انسان کی دنیوی واخروی فلاح کا مدار ہے۔

۲۔ شاطبی حفظ دین کو عبادات (ایمان، نماز، زکوٰة، روزہ اور حج) کے ساتھ، نفس اور عقل کی حفاظت کو عادات (خور ونوش، لباس اور رہائش وغیرہ) کے ساتھ اور حفظ نسل اور حفظ مال کو اور بعض پہلووں سے حفظ نفس اور حفظ عقل کو معاملات (بیع وشرا، نکاح، قصاص ودیت اور جنایات وغیرہ) کے ساتھ متعلق کرتے ہیں۔ شارع کی طرف سے دی گئی ہدایات تین مختلف سطحوں پر مذکورہ مصالح کی حفاظت کو موضوع بناتی ہیں۔ غزالی کی پیروی میں، شاطبی ان سطحوں کو ضروریات، حاجیات اور تحسینیات سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عبادات، عادات اور معاملات، تمام دائروں میں ان تینوں درجات کی حفاظت شریعت کا مقصود ہے۔

ضروریات کا درجہ ان مصالح کو محفوظ رکھنے کا وہ کم سے کم درجہ ہے جس کے بغیر انسانی زندگی صحیح ڈگر پر قائم نہیں رہ سکتی اور اس کا نتیجہ فساد، انتشار اور زندگی کے کلی خاتمے کی صورت میں نکلنا یقینی ہے۔ ان کی حفاظت جانب وجود اور جانب عدم، دونوں طرف سے ہونی چاہیے، یعنی ایسا بندوبست بھی ہونا چاہیے کہ یہ مصالح مثبت طور پر قائم رہیں اور ایسا انتظام بھی درکار ہے کہ ان مصالح میں خلل ڈالنے والے امور کا سدباب کیا جا سکے۔ شریعت میں بیان کیے گئے بنیادی فرائض اور ممنوعات مثلاً عبادات میں نماز اور زکوٰة، معاملات میں خرید وفروخت کی اباحت اور قتل، زنا اور چوری وغیرہ کی حرمت اس کی مثالیں ہیں۔ ضروریات کے ساتھ ملحق تکمیلی امور کی مثال کے طور پر شاطبی باجماعت نماز کا اہتمام کرنے، خرید وفروخت کے وقت گواہ مقرر کرنے، نشہ آور اشیاءکی معمولی مقدار سے بھی گریز کرنے، اجنبی عورت کو دیکھنے اور سود کی ممانعت وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں۔

حاجیات کے درجے میں مقصود یہ ہوتا ہے کہ مکلفین کے لیے احکام شریعت کی پابندی میں وسعت اور سہولت پیدا کی جائے اور انھیں مشقت اور تنگی میں پڑنے سے بچایا جائے۔ اس درجے میں وہ تمام رخصتیں آ جاتی ہیں جو شریعت میں کسی بھی دائرے میں اصل حکم سے لاحق ہونے والی مشقت کو دور کرنے کے لیے بیان کی گئی ہیں، مثلاً بیماری اور سفر میں روزہ ترک کرنے کی رخصت، جانو رکو ذبح کرنا ممکن نہ ہونے کی صورت میں شکار کی اجازت اور مالی لین دین کے دائرے میں مضاربت، مساقاة اور سلم کی اباحت اور دیت کی ادائیگی کو عاقلہ کی اجتماعی ذمہ داری قرار دینا وغیرہ۔ حاجیات کے ساتھ بھی کچھ تکمیلی احکام ملحق ہوتے ہیں جس کی مثال نکاح میں کفو کی رعایت کرنے اور سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے جیسی ہدایات ہیں جن کی رعایت نہ کرنے سے ضروریات تو متاثر نہیں ہوتیں، لیکن تخفیف اور تیسیر کے اصول پر زد پڑتی ہے۔

تحسینیات سے مراد یہ ہے کہ انسان محاسن عادات اور مکارم اخلاق کو اختیار کرے اور عقل سلیم جن چیزوں سے نفو رمحسوس کرتی ہے، ان سے اجتناب کرے۔ تحسینیات، اصل ضروری اور حاجی مصالح سے زائد ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا فقدان کسی ضروری یا حاجی مصلحت میں خلل انداز نہیں ہوتا اور ان کی نوعیت محض تحسین اور تزیین کی ہوتی ہے۔ شاطبی نے اس کی مثال کے طور پر عبادت کرتے ہوئے طہارت، ستر عورت اور زینت کا اہتمام کرنے، کھانے پینے کے آداب کا لحاظ رکھنے، غلام اور عورت کو حکمرانی کے منصب کے لیے نااہل قرار دینے اور جنگ میں عورتوں، بچوں اور راہبوں وغیرہ کے قتل سے ممانعت کا ذکر کیا ہے۔ ضروریات اور حاجیات کی طرح تحسینیات کے ساتھ بھی کچھ مکملات ملحق ہوتے ہیں اور اس کی مثال کے طور پر شاطبی پیشاب پاخانہ کے آداب اور قربانی کے لیے اچھے جانور کے انتخاب کا ذکر کرتے ہیں۔ (الموافقات ۲/۱۳-۹)

۳۔ یہ مصالح ناقابل تنسیخ ہیں اور ان مصالح کی رعایت وحفاظت صرف شریعت محمدی کا خاصہ نہیں، بلکہ یہ تمام شرائع میں مقصود رہی ہے، اگرچہ ان کی حفاظت کے لیے وضع کی جانے والے عملی صورت مختلف اوقات میں مختلف رہی ہے ۔ مختلف شرائع میں دیے گئے جن احکام میں نسخ واقع ہوا ہے، وہ بھی فروع اور جزئیات میں ہوا ہے، اصول وکلیات میں نہیں ہوا۔ تمام شرائع ضروریات، حاجیات اور تحسینیات کی رعایت اور حفاظت پر مبنی رہی ہیں، اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان میں سے کسی کلی مصلحت کو سرے سے منسوخ کر دیا گیا ہو۔ نسخ صرف اس پہلو سے واقع ہوا ہے کہ کسی مصلحت کی رعایت اور حفاظت کے ایک طریقے کو دوسرے طریقے سے تبدیل کر دیا گیا۔ (الموافقات ۲ /۲۳؛ ۳/۹۶، ۹۷)

تشریع کے عمل میں مصالح کی بنیادی اور مرکزی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے شاطبی لکھتے ہیں:

ان الشارع قد قصد بالتشریع اقامۃ المصالح الاخرویۃ والدنیویۃ وذلک علی وجہ لا یختل لھا بہ نظام، لا بحسب الکل ولا بحسب الجزئ، وسواءفی ذلک ما کان من قبیل الضروریات او الحاجیات او التحسینیات، فانھا لو کانت موضوعۃ بحیث یمکن ان یختل نظامھا او تخل احکامھا لم یکن التشریع موضوعا لھا، اذ لیس کونھا مصالح اذ ذاک باولی من کونھا مفاسد، لکن الشارع قاصد بھا ان تکون مصالح علی الاطلاق، فلابد ان یکون وضعھا علی ذلک الوجہ ابدیا وکلیا وعاما فی جمیع انواع التکلیف والمکلفین وجمیع الاحوال وکذلک وجدنا الامر فیھا والحمد للہ (الموافقات ۲ /۳۳)

”تشریع سے شارع کا مقصد اخروی اور دنیوی مصالح کو اس طرح قائم کرنا ہے کہ (شریعت کے وضع کردہ) نظام میں کل یا جزءکسی بھی اعتبار سے خلل واقع نہ ہو۔ اس میں ضروریات، حاجیات اور تحسینیات سب برابر ہیں، کیونکہ اگر ان کی وضع اس طرح کی گئی ہو کہ نظام میں خلل کا واقع ہونا یا احکام کا خلل پذیر ہونا ممکن ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تشریع، مصالح کے لیے نہیں کی گئی، کیونکہ خلل ممکن ہونے کی صورت میں ان کو مصالح کے بجائے مفاسد کہنے کا بھی پورا جواز ہے۔ لیکن چونکہ شارع کا مقصود یہ ہے کہ احکام سے علی الاطلاق مصالح کی حفاظت کی جائے، اس لیے لازم ہے کہ ان کے مصالح ہونے کی نوعیت ابدی ہو اور تکلیف کی تمام انواع اور جملہ مکلفین اور تمام احوال کے لیے عام ہو، اور بحمد اللہ ہم نے شریعت کو اسی طرح پایا ہے۔“

شریعت کے قطعی ہونے کی نوعیت

شاطبی کے نزدیک شریعت کا قطعی ہونا تکلیف شرعی میں بنیادی نکتے کی حیثیت رکھتا ہے اور شارع کی طرف سے انسان کو ہدایت مہیا کرنا اور اسے اس کا مکلف ٹھہرانا قطعیت کے بغیر ناقابل فہم ہے۔ تاہم شاطبی کے سامنے سوال یہ ہے کہ جب شرعی نصوص اپنے ثبوت اور دلالت، دونوں اعتبارات سے قطعی اور ظنی میں منقسم ہیں اور خاص طور پر شریعت کے تفصیلی اور فروعی احکام کا ثبوت زیادہ تر اخبار آحاد کی صورت میں ظنی دلائل پر منحصر ہے تو پھر بحیثیت مجموعی شریعت کے قطعی ہونے کا دعویٰ کیونکر اور کس معنی میں کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں شاطبی مقاصد ومصالح کے مذکورہ نظریے سے مدد لیتے ہیں۔ شاطبی کہتے ہیں کہ شریعت، کلیات واصول اور جزئیات وفروع پر مشتمل ہے اور ان میں سے کلیات، جو اصل اور اساس کی حیثیت رکھتے ہیں، قطعی جبکہ جزئیات وفروع ظنی ہیں۔ کلیات سے ان کی مراد وہی اجتماعی انسانی مصالح ہیں جن کی توضیح انھوں نے ضروریات، حاجیات اور تحسینیات کے عنوان سے کی ہے۔ شاطبی کا کہنا ہے کہ شریعت میں ظن کا تعلق صرف جزئیات وفروع سے ہے، جبکہ کسی کلی اصول کا ثبوت ظنی دلائل پر منحصر نہیں۔ شریعت کی تشکیل جن قواعد کلیہ کی روشنی میں کی گئی ہے، وہ باعتبار ثبوت بھی قطعی اور یقینی ہیں اور باعتبار دلالت بھی واضح اور محکم ہیں اور شریعت کا حجت ہونا دراصل انھی کے قطعی اور محکم ہونے پر منحصر ہے۔ ظن، شریعت کی جزئیات کو تو لاحق ہو سکتا ہے، لیکن اگر کلیات کا بھی ظن کے دائرے میں آنا ممکن مانا جائے تو اس سے خود شریعت معرض شک میں آ جاتی ہے جو اس کے محفوظ ہونے کے منافی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔ (الموافقات ۱/۲۴) اسی طرح دلالت کے اعتبار سے فروع اور جزئیات میں تو تشابہ واقع ہو سکتا ہے، لیکن اصول وقواعد کے متشابہ اور غیر واضح ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ شریعت کا اکثر حصہ متشابہ ہو جائے اور یہ اس کے ’ہدایت‘ ہونے کے منافی ہے۔ (الموافقات ۳/۷۹)

شریعت کے کلیات کا قطعی ہونا کیسے ثابت ہوتا ہے؟ اس سوال کے حوالے سے شاطبی کا منہج عام اصولیین سے مختلف ہے اور وہ اس کے لیے کسی قطعی الثبوت اور قطعی الدلالۃ نص سے انفرادی سطح پر استدلال کا طریقہ اختیار نہیں کرتے۔ شاطبی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی انفرادی دلیل شرعی سے قطعیت مستفاد کرنا ناممکن ہے، کیونکہ انفرادی دلیل یا تو ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہوگی جیسا کہ اخبار آحاد ہیں اور یا اگر وہ باعتبار ثبوت قطعی ہو تو بھی اس کی دلالت گوناگوں عوارض کی وجہ سے قطعی نہیں ہو سکتی۔ شاطبی نے اس ضمن میں معتزلی اور اشعری متکلمین کے اس معروف استدلال کا حوالہ دیا ہے جو وہ دلالت نصوص کی بحث میں پیش کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

وجود القطع فیھا علی الاستعمال المشھور معدوم او فی غایۃ الندور اعنی فی آحاد الادلۃ، فانھا ان کانت من اخبار الآحاد فعدم افادتھا القطع ظاھر، وان کانت متواترۃ فافادتھا القطع موقوفۃ علی مقدمات جمیعھا او غالبھا ظنی، والموقوف علی الظنی لابد ان یکون ظنیا، فانھا تتوقف علی نقل اللغات وآراءالنحو وعدم الاشتراک وعدم المجاز والنقل الشرعی او العادی والاضمار والتخصیص للعموم والتقیید للمطلق وعدم الناسخ والتقدیم والتاخیر والمعارض العقلی، وافادۃ القطع مع اعتبار ھذہ الامور متعذر، وقد اعتصم من قال بوجودھا بانھا ظنیۃ فی انفسھا، لکن اذا اقترنت بھا قرائن مشاھدۃ او منقولۃ فقد تفید الیقین، وھذا کلہ نادر او متعذر  (الموافقات ۱/ ۲۸)

”معروف معنی کے لحاظ سے انفرادی دلائل میں قطعیت کا پایا جانا معدوم یا بے حد نادر ہے، کیونکہ انفرادی دلائل اگر اخبار آحاد ہوں تو ان سے قطعیت کا ثابت نہ ہونا واضح ہے، اور اگر انفرادی دلائل متواتر ہوں تو ان سے قطعیت کا اثبات بہت سے مقدمات پر موقوف ہے جو سب کے سب یا ان میں سے بیشتر ظنی ہیں اور ظنی مقدمات پر موقوف استدلال بھی لازماً ظنی ہوتا ہے۔ قطعی الثبوت دلیل سے قطعیت کا اثبات اس پر موقوف ہے کہ لغات اور نحوی مسائل نقل کیے جائیں، لفظ مشترک نہ ہو اور اس سے مجازی مفہوم مراد نہ ہو، لفظ اپنے اصل معنی سے کسی شرعی یا عرفی مفہوم کی طرف منتقل نہ ہوا ہو، کلام میں حذف اور اضمار نہ ہو، عموم کی تخصیص اور مطلق کی تقیید نہ ہوئی ہو، حکم منسوخ نہ ہو چکا ہو، کلام میں تقدیم وتاخیر نہ ہو اور اس کے معارض کوئی عقلی دلیل بھی موجود نہ ہو۔ ان تمام پہلووں کا لحاظ کرتے ہوئے کسی نص کی قطعی مراد طے کرنا، ناممکن ہے۔ جو حضرات اس کے قائل ہیں، انھوں نے اس نکتے کا سہارا لیا ہے کہ انفرادی دلائل فی نفسہ تو ظنی ہوتے ہیں، لیکن اگر ان کے ساتھ کچھ مشاہد یا منقول قرائن شامل ہو جائیں تو وہ یقین کا فائدہ دے سکتے ہیں، لیکن ایسی صورتیں بھی بالکل نادر یا ناپید ہیں۔“

اب اگر شرعی نصوص کی اکثریت ثبوت کے اعتبار سے بھی ظنی ہے اور انفرادی نصوص کی دلالت بھی، چاہے وہ قطعی الثبوت ہوں یا ظنی الثبوت، اپنی مراد پر قطعی نہیں ہو سکتی تو سوال یہ ہے کہ شریعت کے کلیات کی قطعیت کیسے ثابت ہوگی؟ شاطبی کا جواب یہ ہے کہ اس کا طریقہ شرعی دلائل کا استقرا ہے اور یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کی مدد سے جزئی اور انفرادی ادلہ کے مجموعے سے قطعیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ شریعت میں جتنے بھی احکام قطعی اور یقینی مانے جاتے ہیں، ان کا مدار کسی جزوی نص کی قطعی دلالت پر نہیں، بلکہ ان کی قطعیت شریعت میں وارد متعدد نصوص کی مجموعی دلالت سے ثابت ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر نماز کی فرضیت کے اثبات کے لیے صرف ’اقیموا الصلوۃ‘ کی نص کافی نہیں، کیونکہ انفرادی سطح پر اس نص کو مختلف مفاہیم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ نماز کا فرض ہونا درحقیقت ان تمام نصوص کے مجموعے سے مستفاد ہے جن میں مختلف پہلووں سے نماز کی تاکید وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ کہیں نماز ادا کرنے کی مدح وتوصیف کی گئی ہے، کہیں نماز ترک کرنے والوں کی مذمت وارد ہوئی ہے، کہیں مکلفین کو ہر ہر حالت میں نماز ادا کرنے کا پابند ٹھہرایا گیا ہے، اور کہیں تارکین نماز کے ساتھ قتال کی بات بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح انسانی جان کی حرمت کا قطعی ہونا کسی ایک آیت یا حدیث پر منحصر نہیں، بلکہ یہ بات اس باب میں وارد جملہ نصوص کی دلالت سے ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً کسی نص میں انسان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، کسی میں قاتل کو قصاص کا سزاوار قرار دیا گیا ہے، کہیں قتل کا ذکر شرک کے ساتھ کبیرہ گناہوں کے زمرے میں کیا گیا ہے، کہیں حالت اضطرار میں جان بچانے کے لیے حرام کو مباح قرار دیا گیا ہے، اور کہیں انسانی جان کی حرمت کا احترام نہ کرنے والوں کے خلاف قتال کی ہدایت کی گئی ہے۔

ان مثالوں کی روشنی میں شاطبی واضح کرتے ہیں کہ شریعت کے تمام قطعی احکام اور اصولی قواعد اسی طرح شرعی نصوص کے استقرا سے اخذ کیے گئے ہیں اور ثبوت کے پہلو سے ان کلی قواعد اور جزئی مسائل میں یہی چیز فارق ہے کہ فروعی احکام اور مسائل کا ماخذ جزئی نصوص ہوتے ہیں اور وہ ظنی الدلالۃ کے دائرے میں رہتے ہیں، جبکہ اصول اور کلیات متفرق ومتعدد نصوص کی مجموعی دلالت سے اخذ کیے جاتے ہیں اور استقرا کے اصول کے تحت ان میں قطعیت پیدا ہو جاتی ہے۔ (الموافقات ۱ /۳۱-۲۸)

اخبار آحاد کی ظنیت کا مسئلہ

شاطبی کے نظریے کے مطابق شریعت بطور ایک کلی نظام کے قطعیت سے متصف ہے، جبکہ ظن صرف جزئیات اور فروع کی سطح پر پایا جاتا ہے۔ اسی نکتے کی روشنی میں شاطبی یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ’الذکر‘ کی حفاظت اور ’الدین‘ کی تکمیل سے متعلق جو بیانات وارد ہوئے ہیں، وہ بھی شریعت کے کلیات کے حوالے سے ہیں، کیونکہ استقرا سے واضح ہے کہ جزئیات کے متعلق یہ بات درست نہیں ہو سکتی۔ لکھتے ہیں:

ان الحفظ المضمون فی قولہ تعالی ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ انما المراد بہ حفظ اصولہ الکلیۃ المنصوصۃ، وھو المراد بقولہ تعالی ”الیوم اکملت لکم دینکم“ ایضا، لا ان المراد المسائل الجزئیۃ اذ لو کان کذلک لم یتخلف عن الحفظ جزئی من جزئیات الشریعۃ، ولیس کذلک لانا نقطع بالجواز ویویدہ الوقوع لتفاوت الظنون وتطرق الاحتمالات فی النصوص الجزئیۃ، ووقوع الخطا فیھا قطعا، فقد وجد الخطا فی اخبار الآحاد وفی معانی الآیات، فدل علی ان المراد بالذکر المحفوظ ما کان منہ کلیا (الموافقات ۱/۲۵، ۲۶)

”اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ میں جس حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے، اس سے مرا د دین کے کلی اور منصوص اصولوں کی حفاظت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”الیوم اکملت لکم دینکم“ سے بھی یہی مراد ہے، جزئی مسائل کی حفاظت مراد نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شریعت کاکوئی جزئی حکم حفاظت کے دائرے سے باہر نہ ہوتا (یعنی تمام اخبار آحاد صحت اور حفاظت سے منقول ہوتیں اور ان میں کسی غلطی کا امکان نہ ہوتا)، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہم قطعی طور پر اس کے امکان کو جانتے ہیں جس کی تائید عملاً اس کے وقوع سے ہوتی ہے۔ (نص کو سمجھنے میں) خیالات مختلف ہوتے ہیں، جزئی نصوص میں کئی طرح کے احتمالات بھی در آتے ہیں اور اس میں غلطی کا واقع ہونا یقینی ہے، چنانچہ اخبار آحاد (کی روایت) میں اور مختلف آیات کا مفہو م سمجھنے میں (اہل علم سے) غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر کی حفاظت سے مراد اس کے کلیات کی حفاظت ہے۔“

تاہم شاطبی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کلیات کے قطعی ہونے کی صورت میں جزئیات کے ظنی ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس سطح پر ظنی دلائل کی قبولیت سے شریعت کی اصولی اور کلی قطعیت مجروح نہیں ہوتی۔ چنانچہ شاطبی جمہور علمائے اصول کی موافقت میں جزوی اور فروعی مسائل کے دائرے میں اخبار آحاد کے حجت ہونے کے قائل ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ اخبار آحاد کو قبول کرنا کوئی رعایتی موقف نہیں، بلکہ بذات خود ایک کلی مصلحت پر مبنی ہے۔ اس مصلحت کی رو سے قطعیت کلیات ہی میں مطلوب ہے اور جزئیات میں یہ شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔ کلیات اور جزئیات، دونوں میں قطعیت کی شرط عائد کرنا دونوں کا درجہ یکساں کر دینے کے مترادف ہے جو شارع کو مطلوب نہیں۔ شاطبی لکھتے ہیں :

ان الشارع وضع الشریعۃ علی اعتبار المصالح باتفاق وتقرر فی ھذہ المسائل ان المصالح المعتبرۃ ھی الکلیات دون الجزئیات، اذ مجاری العادات کذلک جرت الاحکام فیھا، ولولا ان الجزئیات اضعف شانا فی الاعتبار لما صح ذلک، بل لولا ذلک لم تجر الکلیات علی حکم الاطراد، کالحکم بالشھادۃ وقبول خبر الواحد مع وقوع الغلط والنسیان فی الآحاد، لکن الغالب الصدق، فاجریت الاحکام الکلیۃ علی ما ھو الغالب حفظا علی الکلیات، ولو اعتبرت الجزئیات لم یکن بینھما فرق ولامتنع الحکم الا بما ھو معلوم ولاطرح الظن باطلاق، ولیس کذلک (الموافقات ۱/۱٠۸)

”شارع نے بالاتفاق شریعت کو مصالح کی رعایت سے وضع کیا ہے اور سابقہ مباحث میں یہ بات طے ہو چکی ہے کہ جو مصالح معتبر ہیں، وہ کلیات ہیں نہ کہ جزئیات، کیونکہ انسانی زندگی کے معمول وعادت میں احکام اسی طرح جاری ہوتے ہیں، اور اگر جزئیات کے معتبر ہونے کا نسبتاً کمزور معیار قبول نہ کیا جائے تو ایسا کرنا درست نہیں ہو سکتا، بلکہ اگر ظن کو قبول نہ کیا جائے تو بعض کلیات بھی برقرار نہیں رہ سکتیں، مثلاً گواہی پر فیصلہ کرنا اور افراد کی خبر کو قبول کرنا، حالانکہ افراد سے غلطی اور بھول چوک ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ عموماً وہ سچ ہی بیان کرتے ہیں، اس لیے کلیات کو محفوظ رکھنے کے لیے احکام کلیہ کا مدار غالب اور عمومی حالات پر رکھا گیا ہے۔ اگر جزئیات کے اعتبار میں بھی یہی شرط (یعنی یقینی ہونا) عائد کی جائے تو کلیات اور جزئیات میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور یقینی معلومات کے علاوہ کسی بھی بنیاد پر فیصلہ کرنا ممتنع ہو جائے گا اور ظن کو کلیتاً ترک کر دینا مطلوب قرار پائے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔“

البتہ شاطبی کا زاویہ نظر اس پہلو سے جمہور اصولیین سے مختلف ہے کہ وہ فروع وجزئیات کے لیے اخبار آحاد کو علی الاطلاق ماخذ تسلیم نہیں کرتے، بلکہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اخبار آحاد میں بیان کردہ حکم کا کسی کلی اور قطعی شرعی اصول کے تحت اور اس کے ساتھ متعلق ہونا ضروری ہے یا نہیں۔ جیسا کہ واضح کیا گیا، اصولیین کا ایک گروہ اخبار آحاد کی قبولیت کو اس شرط سے مشروط کرتا ہے کہ وہ کسی قوی تر دلیل کے معارض نہ ہوں۔ شاطبی کا سوال اس سے مختلف ہے۔ وہ سوال کو اس صورت تک محدود تک نہیں رکھتے جب خبر واحد کسی قوی تر دلیل کے معارض ہو۔ ان کا سوال یہ ہے کہ تعارض کے بغیر بھی، کیا اصولی طور پر یہ متعین کرنا ضروری ہے یا نہیں کہ خبر واحد میں جو حکم بیان کیا گیا ہے، وہ شریعت کے کون سے قطعی اور کلی اصول کی فرع ہے؟

شاطبی کا جواب یہ ہے کہ ظنی دلیل اگر کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہو تو اس کا قابل قبول ہونا واضح ہے اور اخبار آحاد کی اکثریت یہی نوعیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اخبار آحاد میں یا تو قرآن میں مذکور کسی اصولی حکم کی تفصیل بیان کی جاتی ہے، جیسے طہارت صغریٰ وکبریٰ، نماز اور حج وغیرہ سے متعلق سنت میں وارد تفصیلی احکام، یا قرآن میں بیان کیے گئے کسی اصولی ضابطے کی فروع وجزئیات واضح کی جاتی ہیں، جیسے ’لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل‘ کی تفصیل کے طور پر سنت میں وارد خرید وفروخت کی مختلف صورتوں اور ربا وغیرہ کی ممانعت، اور یا شریعت کے احکام میں ملحوظ کسی قطعی اصول کی وضاحت کی جاتی ہے، جیسے مثلاً ’لا ضرر ولا ضرار‘ اور اس نوعیت کی دیگر اخبار آحاد۔ شاطبی کے نزدیک اس نوعیت کی تمام اخبار آحاد معتبر ہیں، لیکن اگر اخبار آحاد شریعت کے کسی قطعی اور اصولی حکم کی طرف راجع نہ ہوں تو انھیں علی الاطلاق قبول کرنا درست نہیں، بلکہ ان کے متعلق غور وفکر اور تحقیق کرنا واجب ہے۔ شاطبی لکھتے ہیں:

وان کان ظنیا فاما ان یرجع الی اصل قطعی او لا، فان رجع الی قطعی فھو معتبر ایضا، وان لم یرجع وجب التثبت فیہ ولم یصح اطلاق القول بقبولہ (الموافقات ۳/۱۶)

”اگر دلیل شرعی ظنی ہو تو یا تو وہ کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہوگی یا نہیں۔ اگر اصل قطعی کی راجع ہو تو وہ بھی معتبر ہے، لیکن اگر راجع نہ ہو تو اس کے متعلق تحقیق اور غور وفکر کرنا واجب ہے اور اس کے مطلقاً قبول ہونے کی بات درست نہیں۔“

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

لا بد فی کل مسالۃ یراد تحصیل علمھا علی اکمل الوجوہ ان یلتفت الی اصلھا فی القرآن، فان وجدت منصوصا علی عینھا او ذکر نوعھا او جنسھا فذاک والا فمراتب النظر فیھا متعددۃ .... اما اذا لم یرد من المسالۃ الا العمل خاصۃ فیکفی الرجوع فیھا الی السنۃ المنقولۃ بالآحاد کما یکفی الرجوع فیھا الی قول المجتھد وھو اضعف، وانما یرجع فیھا الی اصلھا فی الکتاب لافتقارہ الی ذلک فی جعلھا اصلا یرجع الیہ او دینا یدان اللہ بہ، فلا یکتفی بمجرد تلقیھا من اخبار الآحاد  (الموافقات ۳/۳٠٠)

”ہر وہ مسئلہ جس میں علم کا حصول کامل ترین طریقے پر مطلوب ہو، اس میں قرآن میں اس کی اصل کی طرف متوجہ ہونا لازم ہے۔ اگر وہ قرآن میں بعینہ منصوص مل جائے یا اس کی نوع یا جنس کا وہاں ذکر ہو تو درست، ورنہ اس کے متعلق مختلف درجوں میں غور وفکر مطلوب ہوگا۔ .... البتہ اگر کسی مسئلے میں صرف عمل مقصود ہو تو اس میں آحاد کے ذریعے سے منقول سنت کی طرف رجوع بھی کافی ہوگا، جیسا کہ مجتہد کے قول کی طرف رجوع کافی ہوتا ہے حالانکہ وہ اس سے بھی کمزور ہے۔ البتہ اخبار آحاد کو کتاب اللہ میں ان کی اصل کی طرف لوٹایا جائے گا کیونکہ یہ کتاب اللہ کے بنیادی ماخذ اور اللہ کے دین کا مصدر ہونے کا تقاضا ہے، چنانچہ ایسے احکام کو صرف اخبار آحاد سے لینے پر اکتفا نہیں کی جا سکتی۔“

یہ شاطبی کا موقف ہے، تاہم وہ یہاں اجتہادی اختلاف کی گنجائش کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خبر واحد اگر کسی قطعی اصول کی طرف راجع نہ ہو، لیکن کسی قطعی اصول کے ساتھ متعارض بھی نہ ہو تو اس صورت کی یہ تعبیر بھی کی جا سکتی ہے کہ کسی اصل قطعی کے ساتھ تعلق نہ ہونا گویا اس کے اصول شرعیہ کے معارض ہونے کے ہم معنی ہے، اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی قطعی اصول کے ساتھ تعلق نہ ہونے کے باوجود وہ ایک ظنی دلیل کی حیثیت بہرحال رکھتی ہے اور کسی قطعی دلیل کے معارض نہ ہونے کی صورت میں ظنی دلیل بھی شریعت میں معتبر ہوتی ہے۔ (الموافقات ۳/۲۳)

بہرحال شاطبی کے نزدیک اخبار آحاد کا کسی اصل قطعی پر مبنی ہونا ضروری ہے اور ان کے زاویہ نظر سے اس شرط کے التزام سے گویا شریعت کے فروع وجزئیات کا باعتبار ثبوت ظنی ہونا شریعت کے بحیثیت مجموعی محفوظ ہونے کے منافی نہیں رہتا، کیونکہ یہ فروع وجزئیات کسی نہ کسی اصل قطعی سے پیدا ہوئی ہیں اور اس پر مبنی ہونے کی وجہ سے یہ بھی بالواسطہ قطعی ہیں۔ یوں شریعت بحیثیت مجموعی اپنے اصول کلیہ اور فروع، دونوں کے لحاظ سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ شاطبی لکھتے ہیں:

القسم الاول ھو الاصل والمعتمد والذی علیہ مدار الطلب والیہ تنتھی مقاصد الراسخین وذلک ما کان قطعیا او راجعا الی اصل قطعی، والشریعۃ المبارکۃ المحمدیۃ منزلۃ علی ھذا الوجہ ولذلک کانت محفوظۃ فی اصولھا وفروعھا کما قال اللہ تعالی ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“، لانھا ترجع الی حفظ المقاصد التی بھا یکون صلاح الدارین، وھی الضروریات والحاجیات والتحسینیات وما ھو مکمل لھا ومتمم لاطرافھا، وھی اصول الشریعۃ وقد قام البرھان القطعی علی اعتبارھا، وسائر الفروع مستندۃ الیھا (الموافقات ۱/۵۸)

”علم کی پہلی قسم اصل اور معتمد ہے اور اسی پر طلب علم کا مدار ہے اور علم میں پختگی رکھنے والوں کے مقاصد اسی کی طرف منتہی ہوتے ہیں، اور یہ وہ ہے جو خود قطعی ہو یا کسی اصل قطعی کی طرف راجع ہو۔ بابرکت شریعت محمدیہ اسی درجے کا علم ہے اور اسی لیے وہ اپنے اصول اور فروع، دونوں میں محفوظ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شریعت ان مقاصد کی حفاظت پر مبنی ہے جو دارین کی کامیابی کا ذریعہ ہیں، یعنی ضروریات، حاجیات اور تحسینیات اور ان کی تکمیل واتمام کرنے والے احکام۔ یہی شریعت کے اصول ہیں اور ان کے معتبر ہونے پر برہان قطعی قائم ہو چکی ہے، جبکہ تمام فروع انھی اصولوں پر مبنی ہیں۔“

یہ ساری بحث تو اس صورت میں ہے جب ظنی دلیل کسی اصل قطعی کے معارض نہ ہو۔ اگر ظنی دلیل اور اصل قطعی کے مابین تعارض بھی پایا جائے تو شاطبی کے نزدیک اس کی دو مزید صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ جو ظنی دلیل کسی قطعی دلیل کے معارض ہے، کیا وہ کسی دوسرے قطعی شرعی اصول کے تحت آتی ہے؟ اگر زیر بحث ظنی دلیل بذات خود کسی قطعی شرعی اصول کی فرع ہو تو اسے رد نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس کی تائید میں خود شریعت کا ایک دوسرا قطعی اصول موجود ہے، اگرچہ اس صورت میں اجتہادی اختلاف کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ مثال کے طو رپر سیدہ عائشہ نے اسراءکے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کے قول کو رد کر دیا کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ انسانی نگاہیں اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں پا سکتیں، تاہم دیگر اہل علم نے اس کو اس بنیاد پر قبول کیا کہ خود شریعت کے دیگر قطعی دلائل سے آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ثابت ہے اور اس کی روشنی میں دنیا میں بھی اس کا امکان ثابت ہوتا ہے۔ (الموافقات ۳/۹۱) یوں یہ ظنی اور قطعی دلیل کے تعارض کی نہیں، بلکہ دو قطعی دلیلوں کے تعارض کی صورت بن جاتی ہے۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اصل قطعی کے معارض ظنی دلیل بذات خود کسی دوسری اصل قطعی سے موید نہ ہو۔ ایسی صورت میں اسے رد کرنا واجب ہے۔ شاطبی اس کی مثال کے طور پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور امام مالک کی آرا کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے بعض احادیث کو اس وجہ سے رد کر دیا کہ وہ قرآن مجید کی آیت أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃ وِزْرَ أُخْرَی وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَی (کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور انسان کے کام وہی عمل آئے گا جو اس نے خود کیا ہو) کے خلاف ہیں۔ چنانچہ سیدہ عائشہ نے اس بنیاد پر سیدنا عمر کی روایت کردہ اس حدیث کو قبول نہیں کیا کہ مرنے والے پر اگر اس کے اہل خانہ آہ وبکا کریں تو اس کی وجہ سے مردے کو عذاب دیا جاتا ہے۔ اسی طرح امام مالک نے اسی قاعدے کے تحت اس حدیث کو قبول نہیں کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مرنے والے کے ذمے روزے ہوں تو اس کے وارث کو اس کی طرف سے روزے قضا کرنے چاہییں۔ (الموافقات ۳/۱۹، ۲۱) شاطبی کے نقطہ نظر سے یہ خبر واحد کے ایک انفرادی آیت کے ساتھ تعارض کی نہیں، بلکہ شریعت کے ایک قطعی اور کلی اصول کے ساتھ تعارض کی مثال ہے جو اس خاص آیت پر منحصر نہیں، بلکہ استقرا کے طریقے پر بے شمار شرعی دلائل سے ماخوذ ہے۔ (الموافقات ۲/۱۹۵)

اس بحث کا بنیادی نکتہ شاطبی نے ان الفاظ میں واضح کیا ہے کہ:

وھذا القسم علی ضربین: احدھما ان تکون مخالفتہ للاصل قطعیۃ فلا بد من ردہ۔ والآخر ان تکون ظنیۃ، اما بان یتطرق الظن من جھۃ الدلیل الظنی واما من جھۃ کون الاصل لم یتحقق کونہ قطعیا، وفی ھذا الموضع مجال للمجتھدین ولکن الثابت فی الجملۃ ان مخالفۃ الظنی لاصل قطعی یسقط اعتبار الظنی علی الاطلاق وھو مما لا یختلف فیہ (الموافقات ۳/ ۱۷، ۱۸)

”ظنی دلیل اگر قطعی دلیل کے مخالف ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اس کا اصل کے مخالف ہونا قطعی ہو ، اس صورت میں اس کو رد کرنا لازم ہے۔ دوسری یہ کہ اس کا اصل کے خلاف ہونا ظنی ہو، یاتو اس لیے کہ اصل کے ساتھ اس کی مخالفت ظنی ہے اور یا اس لیے کہ اصل کا قطعی ہونا متحقق نہیں ہوا۔ اس دوسری صورت میں مجتہدین کے لیے اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ظنی کا قطعی کے مخالف ہونا ظنی کو ساقط الاعتبار کر دیتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔“

تشریع میں سنت، قرآن کی فرع ہے

تشریعی اصولوں اور مقاصد ومصالح نیز دلائل شرعیہ کی قطعیت وظنیت کی اس بحث کے تناظر میں شاطبی نے قرآن وسنت کے باہمی تعلق کو بھی موضوع بنایا ہے۔ شاطبی کتاب اور سنت کے باہمی تعلق کو اصل اور فرع کے طور پر متعین کرتے ہیں اور یہ قرار دیتے ہیں کہ تشریع میں اصل اور بنیادی کردار قرآن مجیدکا ہے جبکہ سنت، کتاب اللہ کے تابع اور اس پر مبنی ہے اور اس کا وظیفہ قرآن کی توضیح وتبیین اور اس کی تفریع وتفصیل ہے۔

یہ تصور اصولی طور پر جمہور علمائے اصول کا متفق علیہ تصور ہے۔ اس باب میں استثنائی موقف غالباً صرف ابن حزم کا ہے جو قرآن اور سنت، دونوں کو بالکل یکساں اور مساوی نوعیت کا ماخذ قرار دیتے ہیں اور ان کے نزدیک دونوں میں فرق صرف اس ظاہری صورت کے لحاظ سے ہے جو وحی کے ابلاغ کے لیے اختیار کی گئی۔ قرآن کے اصل اور سنت کے تابع ہونے کے تصور کو واضح انداز میں سب سے پہلے امام شافعی نے پیش کیا اور اس کی توضیح یوں کی ہے کہ سنت میں قرآن سے زائد جو احکام وارد ہیں، وہ یا تو کتاب اللہ سے ہی مستنبط ہیں اور یا اگر مستقل وحی یا اجتہاد پر مبنی ہیں تو بھی کتاب اللہ ہی میں مذکور کسی اصولی اور بنیادی حکم کی تفصیلات وفروع بیان کرتے ہیں۔ جصاص اور دیگر اصولیین نے اس حوالے سے یہ نکتہ بھی شامل کیا کہ قرآن کے علاوہ جن دیگر مآخذ مثلاً سنت، اجماع اور قیاس وغیرہ سے شرعی احکام اخذ کیے جاتے ہیں، ان کا ماخذ ہونا بھی بنیادی طور پر قرآن مجید سے ثابت ہوا ہے۔ گویا قرآن نے بہت سے امور میں متعین اور جزئی احکام بیان کرنے کے علاوہ تشریع کے ان دیگر مآخذ اور اصولوں کی بھی تعیین کر دی ہے جن سے مزید احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ (احکام القرآن ۳/۹۸۱، ۰۹۱)

شاطبی بھی اس بحث میں جمہور اصولیین سے اتفاق رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سنت میں جو بھی حکم بیان کیا جاتا ہے، وہ اصولاً قرآن ہی کے حکم میں مضمر ہوتا ہے، بلکہ شاطبی کو اصرار ہے کہ سنت میں کوئی حکم ایسا نہیں جو قرآن سے اس معنی میں زائد ہو کہ قرآن کا حکم کسی بھی مفہوم میں اس کو متضمن نہ ہو اور سنت ایک بالکل نئے اور مستقل بالذات حکم کے طور پر اس کا اثبات کرتی ہو۔ لکھتے ہیں:

السنۃ راجعۃ فی معناھا الی الکتاب، فھی تفصیل مجملہ، وبیان مشکلہ وبسط مختصرہ، وذلک لانھا بیان لہ وھو الذی دل علیہ قولہ تعالی ”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم“، فلا تجد فی السنۃ امرا الا والقرآن قد دل علی معناہ دلالۃ اجمالیۃ او تفصیلیۃ، وایضا فکل ما دل علی ان القرآن ھو کلیۃ الشریعۃ وینبوع لھا فھو دلیل علی ذلک .... ولان اللہ جعل القرآن تبیانا لکل شیءفیلزم من ذلک ان تکون السنۃ حاصلۃ فیہ فی الجملۃ، لان الامر والنھی اول ما فی الکتاب، ومثلہ قولہ ”ما فرطنا فی الکتاب من شیئ“ وقولہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ وھو یرید بانزال القرآن، فالسنۃ اذا فی محصول الامر بیان لما فیہ وذلک معنی کونھا راجعۃ الیہ  (الموافقات ۴/۱۲، ۱۳)

”سنت اپنے معنی کے اعتبار سے کتاب کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کے مجمل کی تفصیل کرتی، باعث اشتباہ امور کی وضاحت کرتی اور مختصر احکام کو کھولتی ہے۔ یہ اس لیے کہ وہ قرآن کا بیان ہے اور اسی پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ ”وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم“ (اور نے تمھاری طرف یہ ذکر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اس چیز کو کھول کر بیان کرو جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے)۔ پس تمھیں سنت میں کوئی بات ایسی نہیں ملے گی جس کے مفہوم پر قرآن میں اجمالی یا تفصیلی دلالت موجود نہ ہو۔ مزید یہ کہ ہر وہ دلیل جس سے قرآن کا، شریعت کا بنیادی ماخذ اور سرچشمہ ہونا معلوم ہوتا ہے، وہ بھی اس بات کی دلیل ہے۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہر بات کی وضاحت پر مشتمل قرار دیا ہے جس سے یہ لازم آتا ہے کہ سنت بھی اصولی طور پر قرآن ہی میں موجود ہو، کیونکہ اوامر ونواہی سب سے پہلے کتاب ہی میں آئے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”ما فرطنا فی الکتاب من شیئ“ (ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان میں کوئی کسر نہیں چھوڑی) ۔ نیز فرمایا ہے کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ (آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے) اور اس سے مراد قرآن کے نزول کے ذریعے سے دین کی تکمیل کرنا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سنت قرآن ہی کے مضامین کی تشریح کرتی ہے اور یہی اس کے، قرآن کی طرف راجع ہونے کا مطلب ہے۔“

مزید لکھتے ہیں:

”وقولہ فی السوال ”فلا بد ان یکون زائدا علیہ“ مسلم، ولکن ھذا الزائد ھل ھو زیادۃ الشرح علی المشروح اذ کان للشرح بیان لیس فی المشروح والا لم یکن شرحا ام ھو زیادۃ معنی آخر لا یوجد فی الکتاب؟ ھذا محل النزاع (الموافقات ۴/۷۱، ۸۱)

”معترض کا یہ کہنا کہ سنت کا قرآن سے زائد ہونا لازم ہے، مسلم ہے، لیکن اس زائد کی نوعیت کیا ایسی ہے جیسے شرح، مشروح پر زائد ہوتی ہے؟ کیونکہ شرح میں بہرحال ایسی توضیح ہوتی ہے جو مشروح میں نہیں ہوتی، ورنہ اسے شرح ہی نہ کہا جائے۔ یا زائد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سنت کوئی ایسی بات بیان کرتی ہے جو کتاب میں موجود ہی نہیں؟ ہمارا اختلاف اس دوسری بات میں ہے۔“

شاطبی نے اس نکتے کو جمہور اصولیین کی بہ نسبت کہیں زیادہ وسعت اور تحقیق وتدقیق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کے فریم ورک میں سنت کے، کتاب اللہ پر مبنی اور اس کی طرف راجع ہونے کے جو پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں، ذیل میں ان کی کچھ تفصیل پیش کی جائے گی۔

(جاری)

قرآن / علوم قرآن