قرآن و سنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۴)

محمد عمار خان ناصر

اب دوسری قسم سے تعلق رکھنے والی بعض مثالیں ملاحظہ کیجیے:

۹۔ قرآن مجید میں مال کی زکوٰة کا ذکر اسلوب عموم میں کیا گیا ہے: خذ من اموالھم صدقۃ (التوبہ ۱٠۳:۹)۔ تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی تفصیلات کے ذریعے سے واضح فرمایا کہ کون سے اموال میں زکوٰة عائد ہوگی اور کون سے اموال اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کن صورتوں میں زکوٰة ساقط ہو جائے گی ، زکوٰة کی مقدار کیا ہوگی اور کتنی مدت کے بعد زکوٰة وصول کی جائے گی، وغیرہ۔ گویا آپ نے بتایا کہ زکوٰة ہر مال میں نہیں، بلکہ چند مخصوص اموال میں مخصوص شرائط کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ اگر سنت کی دلالت نہ ہوتی تو ظاہر قرآن سے یہی مفہوم ہوتا ہے کہ تمام اموال یکساں حیثیت رکھتے ہیں اور ان سب میں زکوٰة عائد ہوتی ہے۔ (الام ۱/ ۸۵-۸٠، ۳/۷)

امام شافعی اس سے یہ اہم نکتہ اخذ کرتے ہیں کہ جب اس مثال میں سب کے نزدیک یہ مسلم ہے کہ قرآن کے حکم کے عموم یا خصوص کی تعیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کی روشنی میں کی جائے گی تو پھر اصولی طور پر ایسی ہر مثال کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ لکھتے ہیں:

وکان فی ما ابان من ھذا مع غیرہ ابانۃ الموضع الذی وضع اللہ بہ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم من دینہ وکتابہ، والدلیل علی ان سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ما للہ عزوجل فیہ حکم، والدلیل علی ما اراد اللہ تبارک وتعالیٰ بحکمہ اخاصا اراد ام عاما وکم قدر ما اراد منہ، واذا کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھذا الموضع من کتاب اللہ عزوجل ودینہ فی موضع کان کذلک فی کل موضع، وسنتہ لا تکون الا بالابانۃ عن اللہ تبارک وتعالیٰ واتباع امرہ (الام ۳/۷)

“اس مثال سے اور باتوں کے علاوہ اس مقام کی بھی وضاحت ہوتی ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دین اور اپنی کتاب کے حوالے سے دیا ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس معاملے میں اللہ عزوجل کا کوئی حکم ہو، اس میں سنت یہ راہ نمائی کرتی ہے کہ اللہ نے اپنے حکم سے خصوص کا ارادہ کیا ہے یا عموم کا اور (مثلاً مال کی وصولی کے حکم میں) کتنی مقدار اللہ کی مراد ہے۔ جب ایک مثال میں اللہ کی کتاب کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حیثیت ہے تو ہر مثال میں اس کی یہی حیثیت ہونی چاہیے اور (یہ ماننا چاہیے کہ) آپ کی سنت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم کی توضیح اور اللہ کے حکم کی اتباع ہوتی ہے۔”

۱٠۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وامسحوا برووسکم وارجلکم الی الکعبین (المائدہ ۶:۵) کے الفاظ میں پاوں کا حکم بیان کیا ہے۔ یہاں اسلوب عموم کی نوعیت کے لحاظ سے، یہ احتمال بھی ہے کہ ہر طرح کے وضو کرنے والے پاوؤں کو دھونے یا مسح کرنے کے پابند ہوں (۱) اور یہ بھی احتمال ہے کہ سب نہیں، بلکہ بعض وضو کرنے والے مراد ہوں۔ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور یہ ہدایت دی کہ پورے وضو کی حالت میں جس آدمی نے پاووں پر موزے پہنے ہوں، وہ مسح کر سکتا ہے تو اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد سب وضو کرنے والے نہیں، بلکہ بعض ہیں ،یعنی بعض حالتوں میں وضو کرنے والے پاوں کو دھوئیں گے اور بعض میں مسح کریں گے۔ (الام ۱/۲۹، ۳٠)

۱۱۔ اللہ تعالیٰ نے چوری کرنے والے مرد اور عورت کی سزا صیغہ عموم کے ساتھ یہ بیان کی ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ (المائدہ ۵: ۳۸) یہاں اسلوب عموم کی رو سے ہر قسم کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹنا ثابت ہوتا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ درخت سے پھل توڑ لینے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چوری کسی غیر محفوظ جگہ سے کی گئی ہو یا اس کی قیمت ایک چوتھائی دینار سے کم ہو تو بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر طرح کی چوری پر ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے۔ (الام، ۱/۳٠، ۷/۳۱۹)

۱۲۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ زانی مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ (النور ۲:۲۴) یہاں بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شادی شدہ زانی کو کوڑے لگوانے کے بجائے سنگسار کرنے کا حکم دیا تو اس سے یہ واضح ہو گیا کہ قرآن مجید میں سو کوڑوں کی سزا جن زانیوں کے لیے بیان کی گئی ہے، اس سے مراد غیر شادی شدہ زانی ہیں۔ (الام ۱/۳٠، ۵۶)

اسی طرح احادیث میں کنوارے زانی کے لیے قرآن کی بیان کردہ سزا کے ساتھ ایک سال کے لیے علاقہ بدر کیے جانے کی سزا بھی بیان کی گئی ہے۔ امام شافعی ان روایات کی بنیاد پر کوڑوں کے ساتھ جلاوطنی کو بھی زنا کی شرعی حد کا حصہ شمار کرتے ہیں۔ (الام ۷/۳۳۷، ۳۳۸) اس حوالے سے ان کا اصولی استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت کسی حکم کے بعض حصے قرآن میں بیان کر دیتا ہے اور بعض حصے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے واضح فرماتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ اللہ ہی کا حکم ہے جسے قبول کرنا ضروری ہے۔ (الام ۱/۸۸، ۱٠٠، ۶/۱۲، ۳۹٠)

۱۳۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں سے خمس کا حقدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ذوی القربیٰ، یتامی ، مساکین ا ور مسافروں کو قرار دیا گیا ہے (الانفال ۴۱:۹) یہاں ذوی القربی کے الفاظ عام ہیں اور بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام قرابت دار اس کے تحت داخل ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف بنو ہاشم اور بنو المطلب کو خمس میں سے حصہ دیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ذوی القربیٰ سے تمام اقرباءنہیں، بلکہ بعض مراد ہیں۔ (الام ۱/۳۱)

۱۴۔ اسی طرح قرآن مجید میں مال غنیمت کے خمس کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی مال کو اسلوب عموم میں مجاہدین کا مشترک حق قرار دیا ہے (الانفال ۴۱:۹) ، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت اقدام میں دشمن کو قتل کر کے اس سے چھینے ہوئے مال کو خاص طور پر قاتل کا حق قرار دیا جس سے واضح ہو گیا کہ قرآن کی مراد پورا مال غنیمت نہیں، بلکہ وہ مال ہے جو مذکورہ صورت سے ہٹ کر دشمن سے چھینا گیا ہو۔ (الام ۱/۳۲)

۱۵۔ قرآن مجید میں ترکے میں ورثاءکے حصے بیان کرتے ہوئے بظاہر عموم کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس کی رو سے ظاہراً تمام والدین، بہن بھائی اور میاں بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں۔ (النسا ء ۴: ۱٠،۱۱) تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ایسے رشتہ دار ہیں جن کا دین ایک ہی ہو اور مرنے والا اور اس کے ورثا دار الاسلام کے باشندے ہوں۔ اسی طرح دونوں کا آزاد ہونا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔ اسی طرح سنت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غلام کو ملکیت کا حق حاصل نہیں ہوتا اور اس کا مال دراصل اس کے مالک ہی کی ملکیت ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نہ تو غلام کسی کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کوئی اس کا وارث بن سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ بھی واضح فرمایا کہ اگر وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو بھی اسے اس کی وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ (الام ۱/۲۹)

۱۶۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس میں باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال نہیں کھانا چاہیے، جب تک کہ وہ باہمی رضامندی پر مبنی تجارت نہ ہو۔ (النساء۲۹:۴) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے واحل اللہ البیع (البقرة ۲: ۲۷۵) فرمایا جس سے بظاہر بیع کی ساری صورتیں جائز قرار پاتی ہیں۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید وفروخت کے بعض ایسے طریقوں کو بھی ممنوع قرار دیا جن پر فریقین رضامند ہوتے ہیں اور ان میں نہ تو غرر پایا جاتا ہے اور نہ بائع اور مشتری میں سے کوئی، کسی بات سے ناواقف ہوتا ہے، مثلاً سونے کے ساتھ سونے کے تبادلے میں کمی بیشی یا سونے اور چاندی کے باہمی تبادلے میں ادھار سے کام لینا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کی تمام صورتوں کو حلال قرار نہیں دیا بلکہ وہ صورتیں اس جواز سے خارج ہیں جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ (الام ۱/۷۳، ۷۴؛ ۴/۵) (۲)

مذکورہ دوسری قسم کی مثالوں میں امام شافعی کے موقف کا محوری نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے کچھ بیانات ایسے ہو سکتے ہیں جو بظاہر عام ہوں اور ان کے خصوص کا کوئی لفظی یا عقلی قرینہ بظاہر قرآن کے حکم میں موجود نہ ہو، اور اگر صرف ظاہر قرآن پر اعتبار کیا جائے تو ان میں کسی قسم کی تخصیص کی گنجائش دکھائی نہ دیتی ہو، لیکن سنت میں اس بات کی وضاحت کی جائے کہ ان کا ظاہری عموم مراد نہیں، بلکہ وہ خصوص پر محمول ہیں۔ امام صاحب لکھتے ہیں:

ولولا الاستدلال بالسنۃ وحکمنا بالظاھر قطعنا من لزمہ اسم سرقۃ، وضربنا مائۃ کل من زنی حرا ثیبا، واعطینا سھم ذی القربی کل من بینہ وبین النبی قرابۃ ثم خلص ذلک الی طوائف من العرب لان لہ فیھم وشایج ارحام، وخمسنا السلب لانہ من المغنم مع ما سواہ من الغنیمۃ (الام ۱/۳۲)

“اگر سنت سے استدلال نہ کیا جائے اور ہم قرآن کے ظاہر پر فیصلہ کریں تو ہمیں ہر اس شخص کا ہاتھ کاٹنا ہوگا جس نے چوری کی ہو اور آزاد شادی شدہ زانی کو بھی سو کوڑنے لگانے پڑیں گے اور ذی القربیٰ کا حصہ ان سب لوگوں کو دینا ہوگا جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری ہے اور پھر یہ عرب کے کئی اور قبیلوں کو بھی شامل ہو جائے گا کیونکہ مختلف قبائل کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔ اسی طرح جو شخص میدان جنگ میں دشمن کو قتل کر کے اس کا سامان حاصل کر لے، اس سے بھی اس سامان کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے لینا ہوگا جیسے باقی سارے مال غنیمت سے لیا جاتا ہے۔”

تاہم امام شافعی کو اصرار ہے کہ چونکہ عام الفاظ استعمال کر کے خاص صورتیں مراد لینا عربی زبان کا معروف اور مسلم اسلوب ہے اور قرآن کے یہ تمام بیانات اپنی اصل میں تخصیص کا احتمال رکھتے ہیں، اس لیے سنت میں وارد تخصیصات کو قرآن کے خلاف نہیں کہا جا سکتا اور نہ سنت، قرآن کے خلاف ہو سکتی ہے۔ لکھتے ہیں:

قال: افیعد ھذا خلافا للقرآن؟ قلت: لا تخالف سنۃ لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ بحال، قال: فما معنی ھذا عندک؟ قلت: معناہ ان یکون قصد بفرض امساس القدمین الماء من لا خفی علیہ لبسھما کامل الطھارة، قال: او یجوز ھذا فی اللسان؟ قلت: نعم، کما جاز ان یقوم الی الصلاۃ من ھو علی وضوئ، فلا یکون المراد بالوضوئ، استدلالا بان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی صلاتین وصلوات بوضوء واحد، وقال اللہ عزوجل: ”والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما جزاء بما کسبا نکالا من اللہ، واللہ عزیز حکیم“، فدلت السنۃ علی ان اللہ عزوجل لم یرد بالقطع کل السارقین (الام ۱/۲۵۳)

“مخاطب نے کہا کہ کیا اس کو قرآن کی مخالفت شمار کیا جائے گا؟ میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت کسی حال میں کتاب اللہ کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ اس نے کہا کہ پھر تمھارے نزدیک اس کا (یعنی آیت میں پاوؤں کو دھونے کے حکم کا) کیا مطلب ہوگا؟ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاوؤں کو دھونے کے حکم میں اللہ تعالیٰ کی مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے مکمل طہارت کی حالت میں پاوؤں پرموزے نہ پہنے ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا ازروئے زبان اس طرح کلام کرنا درست ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، ایسے ہی جیسے کوئی شخص پہلے سے باوضو ہو اور نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ وضو کے حکم کا مخاطب نہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو اور بعض مواقع پر کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دو، اور سنت نے اس پر دلالت کی کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر ہر چور کا ہاتھ کاٹ دینا نہیں ہے۔”

متعارض روایات میں سے اوفق بالقرآن کو ترجیح

امام شافعی کے نقطہ نظر کے مطابق صحیح اور مستند اخبار آحاد اور قرآن مجید کے مابین تعارض ممکن نہیں اور ظاہری تعارض کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توضیح کو مراد الٰہی قرار دینا لازم ہے۔ البتہ اگر کسی ایک معاملے سے مختلف اخبار آحاد میں تعارض ہو تو ان میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کے لیے قرآن مجید کے ساتھ موافقت کا اصول امام شافعی کو بھی تسلیم ہے۔ فرماتے ہیں:

ان اصل ما نبنی نحن وانتم علیہ ان الاحادیث اذا اختلفت لم نذھب الی احد منھا دون غیرہ الا .... ان یکون احد الحدیثین اشبہ بکتاب اللہ، فاذا کان اشبہ کتاب اللہ تبارک وتعالیٰ کانت فیہ الحجۃ (الام ۱/۱۲۷)

“ہمارے اور تمھارے مابین یہ اصول مسلم ہے کہ جب احادیث باہم مختلف ہوں تو ان میں سے کسی کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیں گے، الا یہ کہ ترجیح کی کوئی وجہ موجود ہو، مثلاً ان میں سے ایک حدیث کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہو۔ جب وہ کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہوگی تو وہی حجت ہوگی۔”

اس اصول کا استعمال امام شافعی کے ہاں درج ذیل مثالوں میں ملتا ہے:

روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، نماز فجر ادا کرنے کے مختلف اوقات کا ذکر ملتا ہے۔ بعض کے مطابق آپ اندھیرے کی حالت میں نماز ادا فرما لیتے تھے، جبکہ بعض میں روشنی میں ادا کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اندھیرے میں نماز ادا کرنے کی روایت کتاب اللہ کے زیادہ مطابق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی محافظت کا حکم دیا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ نماز کا وقت داخل ہونے پر جلد سے جلد نماز ادا کر لی جائے۔ (الام ۱/۱۲۷)

روایات میں صلاة الخوف مختلف طریقوں سے ادا کرنے کا ذکر ہوا ہے۔ امام شافعی ان میں سے اس روایت کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ذکر ہے کہ ایک فریق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک رکعت ادا کرنے کے بعد آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے اپنی باقی ماندہ نماز پوری کر لی اور پھر دشمن کے مقابلے میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس عرصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے فریق کے انتظار میں کھڑے رہے اور اس کے آنے پر دوسری رکعت ادا فرمائی۔ امام شافعی لکھتے ہیں کہ مختلف روایات میں سے یہ روایت کتاب اللہ کے ظاہر کے زیادہ مطابق ہے، اس لیے ہم نے اس کو اختیار کیا ہے۔ (الام ۲/۴۴٠؛ ۱٠/۱۷۶)

بعض روایات میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے کتے، گدھے اور عورت کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے، جبکہ دیگر بہت سی احادیث سے اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مذکورہ روایت ان سب احادیث کے بھی خلاف ہے جو سنداً بھی اس سے زیادہ صحیح ہیں اور ظاہر قرآن کے بھی مطابق ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: لا تزر وازرة وزر اخریٰ، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی کا عمل دوسرے آدمی کے عمل کو باطل نہیں کر سکتا، چنانچہ ایک انسان کا نماز کی حالت میں دوسرے انسان کے آگے سے گزرنا اس کی نماز کو باطل نہیں کرتا۔ (الام ۱٠/۱۲۶، ۱۲۷)

فاطمہ بنت قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے، جو کہیں سفر پر گئے ہوئے تھیں، انہیں تیسری طلاق بھیج دی تو ان کے سسرال والوں نے عدت کے دوران میں انھیں اپنے ہاں رہائش اور نفقہ دینے سے انکار کر دیا۔ فاطمہ اپنا مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں تو آپ نے ان کے سسرال والوں کی توثیق کی اور فرمایا کہ فاطمہ کا نفقہ ان کے ذمے نہیں ہے۔ پھر آپ نے فاطمہ کو عدت گزارنے کے لیے عبد اللہ بن ام مکتوم کے گھر میں رہائش کرنے کی ہدایت فرمائی۔ (ابو داود، کتاب الطلاق، باب فی نفقة المبتوتة، باب من انکر ذلک علی فاطمة، رقم ۲۲۹۱) اس روایت کے بعض طرق میں ہے کہ آپ نے فاطمہ سے کہا کہ تم نہ نفقے کی حق دار ہو اور نہ رہائش کی، جبکہ بعض طرق میں صرف نفقہ نہ ملنے کا ذکر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مطلقہ مبتوتہ کو دوران عدت میں رہائش سے محروم کرنے کی بات قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة الطلاق میں دوران عدت میں بیویوں کو گھر سے نہ نکالنے کی ہدایت دی ہے اور یہ حکم عام ہے، اس لیے درست روایت وہی ہے جس میں ایسی مطلقہ کے لیے صرف نفقہ کے حق کی نفی کی گئی ہے۔ البتہ مذکورہ واقعہ میں فاطمہ کو آپ اس وجہ سے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ عدت گزارنے کا حکم اس لیے دیا کہ فاطمہ زبان کی تیز تھیں اور ان کے سسرال والے ان کی زبان درازی سے تنگ تھے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑے اور بدمزگی سے بچنے کے لیے ازروئے مصلحت فاطمہ کو وہاں عدت گزارنے سے منع فرمایا، تاہم اصل قانون قرآن مجید کی ہدایت کے مطابق یہی ہے کہ ایسی مطلقہ کو بھی دوران عدت میں رہائش مہیا کی جائے گی۔ (الام، ۶/۲۸۱)

امام شافعی نے عبد اللہ بن عمر کی روایت ذکر کی ہے جس میں وہ سیدنا عمر سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ نے یہ بات سنی تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتے ہیں، بلکہ یہ کہا کہ کافر کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کومزید عذاب دیتے ہیں۔ پھر سیدہ عائشہ نے کہا کہ تمھیں قرآن کافی ہے اور یہ آیت پڑھی: لا تزر وازرة وزر اخری۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ کی روایت کتاب اللہ اور سنت کے مطابق ہونے کی وجہ سے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں کہا گیا ہے کہ ہر انسان اپنے ہی عمل کا بدلہ پائے گا اور کوئی جان کسی دوسرے جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (الام ۰۱/۸۱۲)

قرآن اور سنت میں نسخ کا تعلق

امام شافعی کا موقف یہ ہے کہ سنت، کتاب اللہ کے احکام کو منسوخ نہیں کر سکتی، بلکہ وہ کتاب اللہ کے تابع ہے اور اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ کلام الٰہی کی مراد کی تفصیل وتشریح کرے۔ امام شافعی نے اس کے لیے درج ذیل آیت سے استدلال کیا ہے:

قَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَـآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْـرِ ھذَآ اَوْ بَدِّلْـہ ۚ قُلْ مَا يَكُـوْنُ لِی اَنْ اُبَدِّلَـہ مِنْ تِلْـقَآءِ نَفْسِی ۖ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓی اِلَی ۖ اِنِّـی اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّی عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (یونس ۱۵:۱٠) 

“جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ تم اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے کر آؤ یا اسی کو بدل ڈالو۔ تم کہہ دو کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی طرف سے اس کو بدل ڈالوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔”

اسی طرح یَمحُو اللّٰہُ مَا یَشَاءُ وَیُثبِتُ (الرعد ۳۹:۱۳)، مَا نَنسَخ مِن آیَۃ او نُنسِہَا نَاتِ بِخَیرٍ مِّنہَا او مِثلِہَا (البقرة ۱٠۶:۲ ) اور وَِذَا بَدَّلنَا آیَۃ مَّکَانَ آیَۃ (النحل ۱٠۱:۱۶) جیسی آیات بھی اسی مدعا کو واضح کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں بیان ہونے والے کسی حکم کو قرآن ہی کی کوئی دوسری آیت منسوخ یا تبدیل کر سکتی ہے۔

امام صاحب کا کہنا ہے کہ سنت سے واضح ہونے والے خصوص کو نسخ یا تبدیلی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہر حال میں قرآن کے حکم کی وضاحت اور اس کی تبیین ہی ہوگی۔ لکھتے ہیں:

فان قال قائل: حیث وجدت القرآن ظاھرا عاما ووجدت سنۃ تحتمل ان تبین عن القرآن وتحتمل ان تکون بخلاف ظاھرہ علمت ان السنۃ منسوخۃ بالقرآن؟ قلت لہ: لا یقول ھذا عالم، فاذا کان اللہ عزوجل فرض علی نبیہ اتباع ما انزل الیہ وشھد لہ بالھدی وفرض علی الناس طاعتہ وکان اللسان کما وصفت قبل ھذا محتملا للمعانی وان یکون کتاب اللہ ینزل عاما یراد بہ الخاص وخاصا یراد بہ العام وفرضا جملۃ بینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقامت السنۃ مع کتاب اللہ ھذا المقام، لم تکن السنۃ لتخالف کتاب اللہ ولا تکون السنۃ الا تبعا لکتاب اللہ بمثل تنزیلہ او مبینۃ معنی ما اراد اللہ تعالیٰ، فھی بکل حال متبعۃ کتاب اللہ (الام ۱/۹۷)

“اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جہاں مجھے قرآن کا حکم ظاہراً عام ملے اور ایسی سنت بھی ملے جس کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ قرآن کی وضاحت کر رہی ہے اور یہ بھی کہ وہ قرآن کے ظاہر کے خلاف ہے تو کیا اس سے مجھے یہ سمجھنا چاہیے کہ اس سنت کو قرآن نے منسوخ کر دیا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، یہ بات کوئی صاحب علم نہیں کہہ سکتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر اللہ کی نازل کردہ وحی کی اتباع کو فرض ٹھہرایا اور اس کے ہدایت ہونے کی گواہی دی ہے اور اپنے بندوں پر بھی اس کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے، اور عربی زبان بھی، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا، مختلف معانی کا احتمال رکھتی ہے، مثلاً یہ کہ کتاب اللہ میں عام الفاظ نازل ہوئے ہوں لیکن مراد خاص ہو، یا الفاظ خاص اور مراد عام ہو، یا کتاب اللہ میں حکم اصولی اور اجمالی ہو جس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اور سنت کی حیثیت اللہ کی کتاب کے ساتھ یہ ہو، تو پھر یہ نہیں ہو سکتا کہ سنت، کتاب اللہ کی مخالفت کرے۔ سنت ہمیشہ اللہ کی کتاب کے مطابق ہی ہوگی، چاہے اس میں اسی حکم کو بیان کیا جائے جو کتاب اللہ میں اترا ہے یا اللہ کی مراد کو واضح کیا جائے۔ بہرحال سنت، کتاب اللہ کے تابع ہی ہوتی ہے۔”

امام شافعی کا کہنا ہے کہ سنت میں بیان ہونے والے کسی حکم کو بھی کوئی دوسری سنت ہی منسوخ کر سکتی ہے، اور اگر کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے سنت کے کسی حکم کو منسوخ کیا ہو تو اس کی بنیاد پر سنت ہی میں ناسخ حکم کی وضاحت کا وارد ہونا ضروری ہے۔ امام شافعی اس کی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا کرنا استنباط احکام میں الجھن پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا تھا۔ مثلاً اگر منسوخ حکم قرآن میں اور ناسخ سنت میں ہو، یا اس کے برعکس سنت کے کسی حکم کا ناسخ حکم قرآن میں آ جائے تو یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ ان میں سے مقدم کون سا ہے اور موخر کون سا، یعنی ان میں سے کسی کو بھی ناسخ اور دوسرے کو منسوخ تصور کرنا ممکن ہوگا۔ مثلاً سنت میں بیع کی جن صورتوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، ان کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سب بیانات واحل اللہ البیع وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرة ۲۷۵:۲) کے نازل ہونے سے پہلے کے ہیں اور اس آیت نے ان سب کو منسوخ کر دیا۔ اسی طرح شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کا حکم پہلے دور کا ہے جسے قرآن میں الزَّانِیَۃ وَالزَّانِیۃ (النور ۲: ۲۴) کے نزول نے منسوخ کر دیا۔ اسی طریقے سے موزوں پر مسح کرنے کا عمل قرآن میں آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا جو اس کے بعد منسوخ قرار پایا اور سنت میں چوری کی جن جن صورتوں کو قطع ید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، مثلاً حرز کے بغیر پڑے ہوئے مال کی چوری یا چوتھائی دینار سے کم مالیت کی چوری وغیرہ، وہ سب استثناءات وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃ فَاقطَعُوا ایدِیَہُمَا (المائدہ ۳۸:۵) کے نزول سے منسوخ ہو چکے ہیں۔ الغرض ایسی تمام احادیث کو رد کر دینا ممکن ہوگا جن میں بیان ہونے والا حکم کسی بھی پہلو سے قرآن کے ظاہر سے مختلف ہے یا حکم کے کچھ ایسے پہلووں کو بیان کرتا ہے جو قرآن سے زائد ہیں۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ قرآن میں وارد کسی حکم کا نسخ بھی قرآن کی آیت ہی کے ذریعے سے کیا جائے اور اسی طرح سنت کے کسی حکم کی تنسیخ بھی سنت ہی کے ذریعے سے کی جائے۔ (الام ۱ /۴۶، ۴۷)

امام شافعی نے اس کی مثال یہ ذکر کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ یہ اختیار فرمایا تھا کہ اگر وقت پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو اسے عذر کی بنا پر موخر کر دیا جائے اور بعد میں قضا کر لیا جائے۔ چنانچہ غزوہ خندق کے موقع پر آپ نے ظہر اور عصر کی نمازوں کو مغرب کے بعد باجماعت قضا کیا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حالت خوف میں نماز کی ادائیگی کا طریقہ نازل کیا اور نماز کو وقت سے موخر کرنے کے طریقے کو منسوخ کر دیا۔ یہ حکم نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض غزوات میں قرآن کے طریقے کے مطابق صلاة الخوف ادا کر کے اپنی سنت کے ذریعے سے بھی سابقہ طریقے کے منسوخ ہونے کو واضح کر دیا تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور ان پر واضح ہو جائے کہ وہ ایک سنت کو چھوڑ کر ایک دوسری سنت ہی کو اختیار کر رہے ہیں۔ (الام ۱/۷۹)

قطعی اور ظنی دلائل کا تقابل

کتاب الام کے آخر میں ’کتاب جماع العلم‘ کے زیر عنوان امام شافعی نے اس بحث کے بعض مزید اور بہت اہم پہلووں پر کلام کیا ہے۔ امام صاحب نے یہاں احادیث کی قبولیت یا عدم قبولیت، اجماع کی حقیقت اور قیاس کی حجیت وغیرہ مباحث کے حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے گروہوں کے ساتھ ہونے والی بحثوں کی روداد بیان کی ہے۔ ان میں سے ایک اہم بحث قطعیت اور ظنیت کے حوالے سے کتاب اللہ اور احادیث کے باہمی تقابل سے متعلق ہے۔

معترض کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ کے جو احکام نازل کیے گئے ہیں، وہ قطعی ہیں اور اگر کوئی شخص ان میں سے ایک حرف کے ثبوت میں بھی شک کرے تو اسے مرتد سمجھ کر توبہ کے لیے کہا جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اب ایسے قطعی حکم کے عام یا خاص ہونے یا فرض یا مباح ہونے کا فیصلہ احادیث کی بنیاد پر کیونکر کیا جا سکتا ہے جبکہ ان کا ثبوت یقینی نہیں اور ان کو نقل کرنے والے راویوں سے سرزد ہونے والی غلطیوں کے متعلق علمائے حدیث کے مابین اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ کسی روایت کو درست سمجھ کر قبول کرنے والے، اس کا انکار کرنے والے کو کبھی یہ نہیں کہتے کہ وہ توبہ کرے، بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ اس کی رائے غلط ہے۔ جب کتاب اللہ اور احادیث کے درمیان ثبوت کے لحاظ سے اتنا بنیادی فرق ہے تو پھر احادیث کو کتاب اللہ کے درجے میں رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر کتاب اللہ کے کسی حکم کے عموم وخصوص یا درجے کو طے کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ (الام ۹/۵، ۶)

اس اشکال کے جواب میں امام شافعی نے درج ذیل نکات بیان کیے ہیں:

۱۔ یہ اعتراض صرف قرآن کے عام احکامات کی تخصیص تک محدود نہیں، بلکہ قرآن کے مجمل احکام کی تفصیل وتشریح پر بھی وارد ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز، زکوٰة اور حج کے بارے میں قرآن مجید میں جو اصولی اور اجمالی حکم دیا ہے، اس کی تفصیل وتبیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے کی گئی ہے اور اس کا علم ہم تک نقل العامة اور خبر الخاصة، دونوں طریقوں سے پہنچا ہے۔ گویا نماز کے پورے احکام بھی اخبار آحاد کو قبول کیے بغیر نہیں جانے جا سکتے۔ یہی معاملہ حج اور زکوٰة کا ہے۔ جب کتاب اللہ کے مجمل احکام کی بہت سی تفصیلات کا علم اخبار آحاد پر منحصر ہے اور وہ قابل قبول ہیں تو اسی اصول پر کتاب اللہ کے عام احکام سے اللہ کی مراد کو جاننے کے لیے بھی اخبار آحاد کو قبول کرنا درست ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بھی حکم الٰہی کی توضیح وتبیین ہی کا ایک پہلو ہے۔ (الام ۹/۷، ۸)

۲۔ بعض مثالوں میں کتاب اللہ کے ناسخ اور منسوخ احکام کا حتمی تعین بھی اخبار آحاد کو قبول کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا ۔ مثلاً سورة البقرة میں والدین اور اقرباءکے لیے وصیت کرنے کو لازم قرار دیا گیا ہے، (البقرة۲  :۱۸٠) جبکہ سورة النساءمیں انھی رشتہ داروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ترکے میں متعین حصے بھی بیان کیے ہیں۔ (النساء۴  :۱٠، ۱۱) قرآن مجید میں ایسی کوئی فیصلہ کن دلیل موجود نہیں جو یہ بتائے کہ ان میں سے منسوخ حکم کون سا ہے اور ناسخ کون سا۔ چنانچہ یہ قیاس کرنا بھی ممکن ہے کہ وصیت کے حکم کو متعین حصے مقرر کرنے کے حکم نے منسوخ کر دیا ہے اور اس کے برعکس یہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے کہ وصیت کے حکم نے متعین حصوں کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس کا حتمی تعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ہوتا ہے، جو خبر واحد ہے، کہ ہر حق دار کا حصہ طے ہو جانے کے بعد اب وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔ (الام ۹/۱٠، ۱۱)

دوسرے مقام پر امام شافعی نے اس کی ایک دوسری مثال ذکر کی ہے۔ وہ یہ کہ سورة المزمل کے آغاز میں نماز تہجد کو فرض قرار دیا گیا ہے، لیکن آخری آیت کی رو سے کچھ عرصے کے بعد اس حکم میں تبدیلی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو، پڑھ لیا کرو۔ (المزمل ۲٠: ۷۳) اس رخصت کو نماز تہجد کی فرضیت کے سرے سے منسوخ ہونے پر بھی محمول کیا جا سکتا ہے اور اس پر بھی کہ فرضیت تو برقرار ہے، لیکن اس کے متعین دورانیے کی پابندی منسوخ کر دی گئی ہے۔ اس کی وضاحت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ہوتیہے، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز تہجد کی فرضیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ (الام، ۱/۴۸، ۴۹)

۳۔ عام قانونی معاملا ت میں بھی ہم اس اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک یقینی حکم میں کسی ایسی بنیاد پر تبدیلی کو قبول کر لیتے ہیں جو یقینی نہیں ہوتی اور اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال کسی آدمی کو قصاص میں قتل کرنا ہے۔ کوئی شخص جس پر یہ الزام لگایا جائے کہ اس نے کسی کو قتل کر کے اس کے مال پر قبضہ کر لیا ہے، اس سے پہلے اس کی جان اور مال دونوں کو قطعی اور یقینی حرمت حاصل ہوتی ہے، لیکن اگر قاضی کے سامنے دو عادل گواہ یہ گواہی دے دیں کہ اس نے قتل کیا ہے تو اس کی بنیاد پر اسے قصاص میں قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، حالانکہ ان گواہوں کی گواہی کے یقینی طور پر درست ہونے کی کوئی ضمانت موجود نہیں اور ان کا جھوٹ بولنا یا گواہی میں غلطی کا مرتکب ہونا بھی عین ممکن ہے۔ (الام ۹/۱۳)

اس پوری بحث کا خلاصہ امام صاحب کے نزدیک یہ ہے کہ کسی چیز کے ثبوت کے ذرائع مختلف ہو سکتے ہیں اور ان میں قطعیت یا ظنیت کے اعتبار سے درجے کا واضح فرق ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی ذریعہ فی نفسہ ایک قابل وثوق ذریعہ ہے تو اس پر فیصلے کا مدار رکھنا اور اسی نوعیت کا نتیجہ مرتب کرنا جو کسی قطعی اور یقینی ذریعے سے ثابت چیز پر رکھا جاتا ہے، علمی وعقلی طور پر بالکل درست ہے۔ لکھتے ہیں:

قلت: انما نعطی من وجہ الاحاطۃ او من جھۃ الخبر الصادق وجھۃ القیاس، واسبابھا عندنا مختلفۃ، وان اعطینا بھا کلھا فبعضھا اثبت من بعض، قال ومثل ماذا؟ قلت: اعطائی من الرجل باقرارہ وبالبینۃ وابائہ الیمین وحلف صاحبہ، والاقرار اقوی من البینۃ والبینۃ اقوی من اباء الیمین ویمین صاحبہ، ونحن وان اعطینا بھا عطاء واحدا فاسبابھا مختلفۃ (الام ۹/۶، ۷)

“میں نے کہا کہ ہم (عام معاملات زندگی میں بھی) کسی بات کے ثبوت کا فیصلہ قطعی اور شک سے پاک علم کی بنیاد پر بھی کرتے ہیں، سچی خبر کی بنیاد پر بھی اور قیاس کی بنیاد پر بھی۔ ہمارے نزدیک ثبوت کے ذرائع مختلف ہیں اور اگرچہ ہم ان سب کو فیصلے کی بنیاد بناتے ہیں، لیکن ان میں سے بعض ثبوت کے اعتبار سے بعض سے زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دو۔ میں نے کہا کہ جیسے میں (بطور قاضی) ایک شخص کے خلاف اس کے اپنے اقرار کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہوں، گواہ کی گواہی کی بنیاد پر بھی، ملزم کے قسم کھانے سے انکار کی بنیاد پر بھی اور مدعی کے قسم کھانے کی بنیاد پر بھی۔ اب ان میں سے ملزم کا اقرار، گواہ کی گواہی کے مقابلے میں، اور گواہی ملزم کے قسم کھانے سے انکار یا مدعی کے قسم کھانے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنیاد ہے۔ اور ہم اگرچہ ان سب بنیادوں پر ایک ہی طرح کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ثبوت کے ذرائع درجے میں باہم متفاوت ہوتے ہیں۔”

ظاہر قرآن میں جواز تخصیص کی بنیادیں

قرآن کے ظاہری عموم میں سنت کی بیان کردہ تخصیصات کو نسخ اور تغییر کے بجائے توضیح مراد اور تبیین پر محمول کرنے کے لیے امام شافعی نے جو استدلال پیش کیا، اس کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ عربی زبان کے اسالیب کے لحاظ سے عموم کا اسلوب بجائے خود ایک ایسا اسلوب ہے جو متعدد احتمالات رکھتا ہے اور جب تک قرائن سے یہ واضح نہ ہو کہ متکلم کی مراد کیا ہے، الفاظ کے عموم سے حتمی طور پر یہ سمجھنا کہ عموم مراد بھی ہے، درست نہیں۔ امام صاحب نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سنت میں وارد تخصیصات کی نوعیت بھی قرآن کی مراد کی توضیح وتبیین ہی کی ہے اور انھیں تبدیلی یا نسخ سمجھنا درست نہیں۔ تاہم اس نتیجے کو مانتے ہی ایک دوسرا سوال یہ سامنے آجاتا ہے کہ اگر کلام کا عموم اپنی دلالت میں قطعی نہیں اور ہر کلام تخصیص کا محتمل ہوتا ہے تو پھر کلام کے عموم سے استدلال کی اصولی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ کوئی معنویت اور اہمیت نہیں رکھتا اور کسی بھی بنیاد پر حکم میں تخصیص پیداکی جا سکتی ہے؟

یہ سوال امام شافعی کے پیش نظر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ ان کے لیے قابل قبول نہیں، چنانچہ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ کلام کے ظاہری عموم میں خصوص کا احتمال اسی وقت قابل توجہ ہوگا جب اس کے حق میں خود قرآن یا سنت میں دلیل موجود ہو۔ اگر خود قرآن کے اندر یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں تخصیص کا کوئی قرینہ نہ ہو تو ایسے عموم کو محض امکانی احتمال کی بنیاد پر ظاہر سے صرف کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کلام سرے سے اپنی دلالت سے ہی محروم ہو جائے گا۔ 

لکھتے ہیں:

وما کان ھکذا فھو الذی یقول لہ اظھر المعانی واعمھا واغلبھا والذی لو احتملت الآیۃ معانی سواہ کان ھو المعنی الذی یلزم اھل العلم القول بہ، الا ان تاتی سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام تدل علی معنی غیرہ مما تحتملہ الآیۃ فیقول ھذا معنی ما اراد اللہ تبارک وتعالی۔ قال الشافعی رحمۃ اللہ علیہ: ولا یقال بخاص فی کتاب اللہ تعالیٰ ولا سنۃ الا بدلالۃ فیھما او فی واحد منھما، ولا یقال بخاص حتی تکون الآیۃ تحتمل ان یکون ارید بھا ذلک الخاص، فاما ما لم تکن محتملۃ لہ فلا یقال فیھا بما لا تحتملہ الآیۃ (الام ۱/۸۹)

“جس حکم کی نوعیت یہ ہو، اسی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت کا سب سے واضح، عام اور غالب معنی ہے اور اگر آیت اس کے علاوہ کچھ اور معنوں کا احتمال رکھتی ہو تو بھی اسے اسی (واضح اور غالب) معنی پر محمول کرنا اہل علم پر لازم ہے، الا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے علاوہ دوسرے معنی پر، جس کا آیت احتمال رکھتی ہے، دلالت کرے اور یہ بتائے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ معنی ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ اللہ کی کتاب یا رسول اللہ کی سنت میں کسی حکم کو خصوص پر محمول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ اس کی دلیل ان دونوں میں یا کسی ایک میں نہ پائی جائے۔ اسی طرح آیت کے حکم کو خصوص پر محمول نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ خود آیت اس کا احتمال نہ رکھتی ہو کہ اس کی مراد خاص ہے۔ اگر آیت خصوص کا احتمال نہ رکھتی ہو تو غیر محتمل معنی پر آیت کو محمول نہیں کیا جائے گا۔”

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

القرآن عربی کما وصفت والاحکام فیہ علی ظاھرھا وعمومھا، لیس لاحد ان یحیل منھا ظاھرا الی باطن ولا عاما الی خاص الا بدلالۃ من کتاب اللہ، فان لم تکن فسنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدل علی انہ خاص دون عام او باطن دون ظاھر، او اجماع من عامۃ العلماءالذین لا یجھلون کلھم کتابا ولا سنۃ، وھکذا السنۃ۔ ولو جاز فی الحدیث ان یحال شیء منہ علی ظاھرہ الی معنی باطن یحتملہ کان اکثر الحدیث یحتمل عددا من المعانی، ولا یکون لاحد ذھب الی معنی منھا حجۃ علی احد ذھب الی معنی غیرہ، ولکن الحق فیھا واحد لانھا علی ظاھرھا وعمومھا، الا بدلالۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او قول عامۃ اھل العلم بانھا علی خاص دون عام وباطن دون ظاھر، اذا کانت اذا صرفت الیہ عن ظاھرھا محتملۃ للدخول فی معناہ (الام ۱٠/۲۱، ۲۲)

“قرآن، جیسا کہ میں نے بیان کیا، عربی ہے اور اس کے احکام ظاہری معنی پر اور عموم پر محمول ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کے ظاہری معنی میں تاویل کرے یا عام حکم کو خاص قرار دے، جب تک کہ اس پر اللہ کی کتاب میں دلیل موجود نہ ہو۔ اگر کتاب اللہ میں دلیل نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس پر دلالت کرتی ہو کہ یہ حکم خاص ہے، عام نہیں یا اس کے ظاہری معنی کے علاوہ دوسرا معنی مراد ہے۔ یا پھر اکثر اہل علم کا اس پر اتفاق ہو جو سب کے سب کتاب اور سنت کی مراد سے ناواقف نہیں ہو سکتے۔ یہی حکم سنت میں وارد احکام کا ہے۔ اگر کسی حدیث کو ظاہری معنی سے ہٹا کر کسی دوسرے معنی پر محمول کرنا،جس کا وہ احتمال رکھتی ہو، جائز ہو تو اکثر احادیث متعدد معانی کا احتمال رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جو شخص ان میں سے جو بھی معنی اختیار کرے گا، اس کے پاس دوسرے کے مقابلے میں، جس نے کوئی دوسرا معنی اختیار کیا ہے، کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ لیکن حدیث کا صحیح مفہوم ایک ہی ہے، کیونکہ احادیث اپنے ظاہری معنی اور عموم پر ہی محمول ہیں، الا یہ کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کسی دوسری حدیث میں) یا اکثر اہل علم کی رائے سے اس کی وضاحت ہوتی ہو کہ وہ عام نہیں، بلکہ خاص ہے اور اس کا ظاہری معنی نہیں، بلکہ کوئی دوسرا معنی مراد ہے۔ اس میں یہ شرط ہے کہ اگر حدیث کو ظاہری معنی سے ہٹا کر جس معنی پر محمول کیا جائے، حدیث اس کا احتمال رکھتی ہو۔”

ایک اور بحث میں لکھتے ہیں:

قال الشافعی : فاذا لم تکن سنۃ وکان القرآن محتملا فوجدنا قول اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم واجماع اھل العلم یدل علی بعض المعانی دون بعض قلنا: ھم اعلم بکتاب اللہ عزوجل وقولھم غیر مخالف ان شاءاللہ کتاب اللہ، وما لم یکن فیہ سنۃ ولا قول اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا اجماع یدل منہ علی ما وصفت من بعض المعانی دون بعض فھو علی ظھورہ وعمومہ لا یخص منہ شیء دون شیئ، وما اختلف فیہ بعض اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم اخذنا منہ باشبھہ بظاھر القرآن (الام ۸/۵۵)

“اگر کسی مسئلے میں سنت تو نہ ہو اور قرآن (تخصیص کا) احتمال رکھتا ہو، اور ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا قول یا اہل علم کی اجماعی رائے مل جائے جو مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتی ہو تو ہم کہیں گے کہ یہ لوگ اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتے ہیں اور ان کی بات اللہ نے چاہا تو کتاب اللہ کے خلاف نہیں۔ لیکن اگر کسی مسئلے میں سنت بھی نہ ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا قول اور اجماع بھی نہ ہو جو مختلف احتمالات میں سے ایک احتمال کو متعین کرتا ہو تو ایسا حکم اپنے ظاہری معنی اور اپنے عموم پر برقرار رہے گا اور اس میں کسی چیز کی تخصیص نہیں کی جائے گی۔ اور جس مسئلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا اختلاف ہو تو اس میں ہم وہ بات قبول کریں گے جو ظاہر قرآن کے زیادہ مطابق ہو۔”

مذکورہ اقتباسات اوران کے علاوہ متعلقہ مثالوں میں امام شافعی کی توجیہات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے نقطہ نظر سے آیت یا حدیث کے ظاہری عموم میں تخصیص کی درج ذیل بنیادیں متعین کی جا سکتی ہیں:

۱۔ قرآن مجید یا حدیث میں حکم کے سیاق سے مخاطب کی تحدید واضح ہو۔

مثلاً یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی (البقرة ۲: ۱۷۸) میں ابتدائے خطاب ہی سے واضح ہے کہ اس کے مخاطب مسلمان ہیں، چنانچہ اسے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے مابین قصاص کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

۲۔ حکم کے داخلی قرائن، جو لفظی بھی ہو سکتے ہیں اور عقلی بھی، اس کے دائرہ اطلاق کی تحدید کو واضح کر رہے ہوں۔ 

مثلاً وَحُرِّمَ عَلَیکم صید البر ما دمتم حُرُماً (المائدہ ۹۶:۵) کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہاں ان جانوروں کی حرمت بیان کرنا مقصود ہے جو احرام سے پہلے خوراک کے لیے حلال تھے، اور وہ جانور زیر بحث نہیں جو ویسے بھی حرام ہیں، کیونکہ ان کی حرمت کے لیے سابقہ حکم ہی کافی تھا۔ (الام ۳/۴۶۴، ۴۶۵) چونکہ درندوں اور دیگر موذی جانوروں کو قتل کرنے سے روکنا آیت کی مراد نہیں ہے، اس لیے حدیث میں پانچ موذی جانوروںکو حدود حرم کے اندر اور باہر قتل کرنے کی جو اباحت بیان کی گئی ہے، اس سے قرآن کی ممانعت میں کوئی استثناءیا تخصیص بھی واقع نہیں ہوتی۔ 

اسی طرح قرآن مجید میں چار عورتوں سے نکاح کے جواز (النساء۴: ۳) کے مخاطب آزاد مرد ہیں نہ کہ غلام، کیونکہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے کا اختیار آزاد مردوں کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی دوسری دلیل سے غلام کے لیے بیویوں کی تحدید چار سے کم ثابت ہو تو اسے قرآن کی تخصیص نہیں کہا جا سکتا۔

۳۔ نصوص میں مذکور دیگر احکام پر قیاس سے واضح ہو رہا ہو کہ کسی حکم میں عموم سے خصوص مراد ہے۔ 

اس کی مثال غلام اور باندی کی طلاق اور عدت کے مسائل ہیں۔ قرآن مجید میں مردوں کے لیے تین تک طلاقوں کا اختیار بیان کیا، (البقرة ۲: ۲۲۸، ۲۲۹) جبکہ عورتوں کو تین قروء(البقرة ۲: ۲۲۷) یا تین مہینوں تک (الطلاق ۶۵:۴) عدت گزارنے کی ہدایت کی ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ احکام اس کا بھی احتمال رکھتے ہیں کہ ان سے مراد عموم ہو اور آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ غلاموں اور باندیوں کے لیے بھی یہی حکم ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کا اطلاق صرف آزاد مرد وعورت پر مقصود ہو۔ اب ہم نے بعض دیگر احکام میں دیکھا کہ شریعت نے آزاد اور غلام میں فرق کیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے غلاموں کے لیے زنا کی سزا آزاد مرد وعورت سے نصف مقرر کی ہے۔ (النساء۴: ۲۵) اسی طرح بعض اجماعی مسائل سے بھی یہ فرق ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً غلاموں کی گواہی قابل قبول نہیں اور وہ ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت کے حق دار بھی نہیں۔ اسی طرح اس پر اجماع ہے کہ شادی شدہ غلام کو بدکاری کرنے پر سنگسار نہیں کیا جائے گا۔ 

ان تمام دلائل پر قیاس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ باندی کے لیے طلاق اور عدت کے احکام بھی آزاد عورت سے مختلف ہونے چاہییں۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کے لیے استبراءرحم کا طریقہ ایک ماہواری گزارنے کو قرار دیا ہے (جو اس لحاظ سے آزاد عورت سے مختلف ہے کہ امام شافعی کے نزدیک آزاد عورت کی عدت ماہواری کے لحاظ سے نہیں، بلکہ طہر کے لحاظ سے ہوتی ہے) ، اس لیے مذکورہ احکام پر قیاس کرتے ہوئے اہل علم کا اجماع ہے کہ باندی کی طلاقوں کی تعداد اور عدت کا دورانیہ بھی آزاد عورت سے نصف یعنی دو طلاقیں اور دو ماہواریاں ہے۔ (الام ۶/۵۵٠، ۵۵۱) 

۳۔ ایک ہی مسئلے سے متعلق وارد مختلف احکام، جو قرآن میں بھی ہو سکتے ہیں اور سنت میں بھی، باہم ایک دوسرے کے ظاہری عموم کی تخصیص کر رہے ہوں۔ 

مثلاً زانی کے لیے سو کوڑوں کی سزا کو آزاد مردوں اور عورتوں کے ساتھ مخصوص کرنے کی دلیل قرآن مجید میں ہی موجودہے، جبکہ شادی شدہ زانی کے لیے کوڑوں کے بجائے رجم کی سزا سنت میں بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح ’النفس بالنفس‘ (المائدہ ۴۵:۵) میں قصاص کا حکم بظاہر عام ہے، تاہم حدیث کی رو سے مسلمان سے غیر مسلم کا قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ’النفس بالنفس‘  سے مراد ایسے دو افراد کے مابین قصاص ہے جن کی جانیں حرمت کے اعتبار سے مساوی ہوں۔

۴۔ صحابہ کے اقوال سے ظاہری عموم کو خصوص پر محمول کرنا ثابت ہو یا اہل علم کا اجماعی فہم یہ بتاتا ہو کہ قرآن کا ظاہری معنی یا ظاہری عموم مراد نہیں۔ 

مثال کے طور پر قرآن مجید کے حکم: وان کن اولات حمل فانفقوا علیھم حتی یضعن حملھن (الطلاق ۶:۶۵) کی دلالت اس پر واضح ہے کہ حاملہ مطلقہ کے علاوہ کوئی دوسری مطلقہ دوران عدت میں نفقہ کی حق دار نہیں۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے واقعے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق فاطمہ کو، جنھیں ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی تھیں، نفقہ کا حق دار تسلیم نہیں کیا۔ یہی حکم ایسی مطلقہ کا بھی ہونا چاہیے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو، تاہم اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مطلقہ رجعیہ کا شوہر دوران عدت میں اسے نفقہ دینے کا پابند ہے۔ اگر یہاں مطلقہ رجعیہ کو نفقہ دیے جانے پر اہل علم کا اجماع نہ ہو تو قرآن کے ظاہر کی رو سے وہ نفقے کی حق دا رنہیں بنتی۔ (الام، ۶/۲۸٠)

اسی طرح قصاص کی آیت میں الحر بالحر والعبد بالعبد والانثی بالانثی (البقرة ۲: ۱۷۸) کے الفاظ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ عورت کو عورت ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے، یعنی اگر عورت کسی مرد کو یا مرد کسی عورت کو قتل کر دے تو ان کے مابین قصاص نہیں ہوگا۔ تاہم چونکہ امت کے اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ عورت کو مرد کے اور مرد کو عورت کے قصاص میں قتل کیا جائے گا، اس لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کا یہ ظاہری معنی مراد نہیں۔ امام شافعی نے شان نزول کی روایات کی روشنی میں آیت کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں عورت کو عورت کے بدلے میں قتل کرنے کی تخصیص اس واقعاتی تناظر میں کی گئی ہے جس میں یہ آیت نازل ہوئی تھی، کیونکہ عرب کے بعض قبائل خود کو دوسروں سے افضل تصور کرتے تھے اور اگر کسی دوسرے قبیلے کی عورت ان کے کسی فرد کو قتل کر دیتی تو وہ بدلے میں اس عورت کے بجائے اسی قبیلے کے کسی مرد کو قتل کرنے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے افضلیت کے اس تصور کی نفی کی ہے اور فرمایا ہے کہ جس عورت نے قتل کیا ہے، اسی عورت کو قتل کیا جائے گا۔ (الام ۷/۱۶٠، ۱۶۱)

تاہم صحابہ یا دیگر اہل علم کے مابین اختلاف کی صورت میں امام شافعی صحابی کی رائے کی بنیاد پر حدیث کی تخصیص کے جواز کے قائل نہیں۔ چنانچہ معاذ بن جبل اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ حدیث میں مسلمان کے، کافر کا وارث بننے کی جو ممانعت آئی ہے، وہ صرف مشرکین سے متعلق ہے، جبکہ اہل کتاب کی وراثت مسلمان کو مل سکتی ہے۔ امام شافعی اس مسئلے میں اور ایسی تمام مثالوں میں متعلقہ آیات واحادیث کو ان کے عموم پر برقرار رکھتے ہیں اور بعض صحابہ کی رائے کی وجہ سے ان کی تخصیص کو درست نہیں سمجھتے۔ (الام ۷/۴۲۴؛ ۹/۱۳۶)

۵۔ اگر حدیث کو نقل کرنے والا راوی یہ تصریح کرے کہ اس حکم کا تعلق فلاں مخصوص صورت سے ہے تو امام شافعی، حدیث کی حد تک، اسے جواز تخصیص کا ایک قرینہ تسلیم کرتے ہیں۔ (الام ۱٠/۴٠) مثلاً قضاءبالیمین مع الشاہد کی روایت میں حدیث کے ایک راوی، عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ مالی امور سے متعلق مقدمے میں فرمایا تھا۔ چونکہ فیصلے کا اصل طریقہ دو گواہ ہی ہے، جبکہ قضاءبالیمین مع الشاہد کی نوعیت استثنائی حکم کی ہے، اس لیے اسے اسی نوعیت کے مقدمے میں اختیار کیا جائے گا جس میں آپ نے اختیار فرمایا۔ (الام ۸/۱۶)

خلاصہ مباحث

کتاب وسنت کے باہمی تعلق کو امام شافعی نے جس طرح متعین کیا ہے، اس کے بنیادی نکات یہ ہیں:

۱۔ بیان احکام میں کتاب اللہ کو اصل کی حیثیت حاصل ہے اور سنت کا وظیفہ قرآن کے احکام کی تفصیل وتوضیح اور ان سے مزید احکام کا استنباط ہے۔ 

۲۔ سنت میں بیان ہونے والے ایسے احکام جو قرآن سے زائد ہیں، یا تو وحی کے ذریعے سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو بتائے گئے اور یا کتاب اللہ سے ہی مستنبط ہیں۔

۳۔ قرآن مجید میں عموم کے اسلوب میں بیان کیے جانے والے احکام کی نوعیتیں مختلف ہیں۔ بعض جگہ یقینا عموم مراد ہوتا ہے، لیکن بہت سے مقامات پر سیاق وسباق اور عقلی قرائن سے واضح ہو رہا ہوتا ہے کہ فلاں اور فلاں صورتیں عموم کے تحت داخل نہیں۔ اسی طرح بعض جگہ قرائن اور دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ دراصل کچھ مخصوص افراد کا ذکر عموم کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ 

۴۔ چونکہ عموم کا اسلوب ارادئہ عموم میں قطعی نہیں، بلکہ محتمل ہوتا ہے، اس لیے جب خود متکلم کی طرف سے کسی مستند دلیل سے کلام کی تخصیص ثابت ہو جائے تو اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عموم، متکلم کی مراد نہیں تھا۔ چنانچہ ایسی تخصیص کو مراد ِ متکلم میں تبدیلی یا تغییر نہیں کہا جائے گا، بلکہ اس کی نوعیت متکلم کی مراد کی وضاحت کی ہوگی۔یوں سنت میں وارد تمام تخصیصات قرآن کی مراد کی وضاحت اور بیان ہی کا درجہ رکھتی ہیں۔ 

۵۔ کتاب اللہ اور سنت،دونوں کا منبع ایک ہی چیز یعنی وحی الٰہی ہے، اس لیے اطاعت واتباع کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ جیسے قرآن میں الفاظ عموم میں بیان ہونے والے حکم میں تخصیص کی وضاحت قرآن مجید کی کوئی دوسری آیت کر سکتی ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کوئی حدیث بھی کر سکتی ہے۔ 

۶۔ عموم پر مبنی اصل حکم کا قطعیت سے ثابت ہونا اور تخصیص کا کسی ظنی دلیل یعنی خبر واحد سے ثابت ہونا درست ہے، اس لیے کہ انسان کو عملی زندگی میں قطع ویقین کے ساتھ ساتھ ظن غالب کا بھی مکلف ٹھہرایا گیا ہے۔ چنانچہ ظنی درجے میں ہی سہی، کسی حدیث کی صحت ثابت ہو جائے تو اس کے ذریعے سے قرآن کے عام حکم کی تخصیص کرنا جائز ہے۔

۷۔ سنت کے ذریعے سے قرآن کے حکم کی، اور اسی طرح قرآن کے ذریعے سے سنت کے کسی حکم کی تنسیخ نہیں کی جا سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ کتاب اللہ میں وارد حکم کا ناسخ بھی کتاب اللہ میں ہی ہو اور سنت کے کسی حکم کا ناسخ بھی سنت میں ہی بیان ہوا ہو۔

۸۔ ارادہ عموم کے خلاف کوئی دلیل یا قرینہ نہ ہونے کی صورت میں اسے اپنے ظاہری عموم پر برقرار رکھنا ضروری ہے، چنانچہ خود قرآن یا حدیث میں جب تک کسی حکم کی تخصیص کی دلیل موجود نہ ہو، محض رائے سے کسی منصوص حکم کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔

حواشی

(۱) امام شافعی کہتے ہیں کہ ہم وارجلکم کو نصب کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاوؤں کا حکم بھی وہی ہے جو چہرے اور بازوؤں کا ہے۔ تاہم امام شافعی کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھتے ہیں کہ اَرجُلَکُم کا تعلق وَامسَحُوا کے ساتھ ہو۔ یوں پاوؤں کا حکم غسل بھی ہو سکتا ہے اور مسح بھی۔ (الام ۱/۲۹، ۳٠)

(۲) یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ امام شافعی ربا الفضل یعنی ہم جنس چیزوں کے باہمی تبادلے میں کمی بیشی اور ادھار کی ممانعت کو قرآن مجید میں ممنوع ’الربا‘ میں داخل یا اس کی توسیع تصور نہیں کرتے۔ یعنی یہ ممانعت ان کے فہم کے مطابق نہ الربا کے براہ راست مصداق میں شامل ہے اور نہ اس کی قیاسی توسیع کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے الربا کو وہ قرض ہی سے متعلق سمجھتے ہیں، جبکہ سنت میں مذکور ربا الفضل ان کے نزدیک بیع کی مختلف ممنوعہ صورتوں میں سے ایک صورت ہے جن کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے۔ 


قرآن / علوم قرآن