ابتدائیہ

محمد عمار خان ناصر

’’جہاد۔کلاسیکی وعصری تناظر میں‘‘ کے زیر عنوان ’الشریعہ‘ کی اشاعت خاص قارئین کے ہاتھوں میں ہے۔ اسلام کے تصور جہاد کے مختلف نظری اور عملی پہلو اس وقت علمی حلقوں میں زیر بحث ہیں جن میں تین پہلو بہت نمایاں اور اہم ہیں:

۱۔ اسلام میں جہاد کا اصولی تصور اور اس کی وجہ جواز کیا ہے اور عہد نبوی وعہد صحابہ میں مسلمانوں نے جو جنگیں لڑیں، ان کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ اسی پر یہ بحث متفرع ہوتی ہے کہ بعد کے ادوار میں امت مسلمہ کے لیے دنیا کی غیر مسلم قوموں کے ساتھ باہمی تعلقات کی اساس کیا ہے؟ آیا اسلام کی نظر میں عالمگیر سیاسی غلبے کو مقصود کی حیثیت حاصل ہے یا دوسری قوموں کی سیاسی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہم شریعت کا اصل مطمح نظر ہے؟

۲۔ جہاد اور قتال کی عملی شرائط اور اخلاقی حدود وقیود کیا ہیں؟ مثال کے طو رپر کیا مسلمانوں کا کوئی بھی گروہ اپنے تئیں جہاد کا فیصلہ کر سکتا ہے یا یہ فیصلہ مسلم معاشرے کی اجتماعی دانش اور ارباب حل وعقد کو کرنا چاہیے؟ مظلوم مسلمانوں کی مدد اور نصرت کے تناظر میں بین الاقوامی معاہدوں کی کیا حیثیت ہے اور ان کی پاس داری کس حد تک کی جائے گی؟ کیا جنگ میں دشمن کے کیمپ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کو حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا اس حوالے سے کوئی تفریق اور امتیاز قائم کیا جائے گا؟ وغیرہ۔

۳۔ موجودہ مسلم ریاستوں کی شرعی وقانونی حیثیت کیا ہے اور ان ریاستوں میں قائم نظام اطاعت کی پابندی کس حد تک ضروری ہے؟ بالخصوص یہ کہ مسلم ریاستوں کا موجودہ سیاسی نظام اگر شریعت کی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہا ہو اور پرامن ذرائع سے اس میں خاطر خواہ تبدیلی کے امکانات بظاہر دکھائی نہ دیتے ہوں تو اس صورت حال میں مسلح جدوجہد کے ذریعے سے ریاستی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کا کس حد تک جواز، امکان اور ضرورت ہے؟

ان موضوعات پر ’الشریعہ‘ کے صفحات پر پہلے بھی بحث ومباحثہ ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی شاید کافی عرصے تک اس کو جاری رکھنے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہے گی، تاہم زیر نظر اشاعت کی صورت میں ہم نے مذکورہ نکات میں سے پہلے اور تیسرے نکتے پر بطور خاص توجہ مرکوز کی ہے اور ایسا مواد منتخب کیا ہے جس سے بحث کے بنیادی سوالات اور اہم ترین گوشے بیک نظر قارئین کے سامنے آ سکیں گے۔ 

خصوصی اشاعت کی ترتیب کے سلسلے میں وہ تمام اہل قلم ہمارے اور قارئین کے شکریے کے مستحق ہیں جنھوں نے اس کے لیے اپنی قیمتی نگارشات فراہم کیں۔ اس ضمن میں بھارت کے ممتاز محقق جناب مولانا محمد یحییٰ نعمانی (مدیر المعہد العالی للدراسات الاسلامیہ لکھنؤ) اور پاکستان مرکز برائے مطالعات امن (PIPS) اسلام آباد کے منتظمین کا شکریہ بطور خاص واجب ہے۔ اول الذکر نے اس موضوع پر اپنی تحریر کا مسودہ اور اس کی اشاعت کی اجازت عنایت کی جو اگرچہ بھارت سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہے، لیکن پاکستان میں سردست دستیاب نہیں ہے۔ زیر نظر اشاعت میں اس کے منتخب حصے شامل کیے جا رہے ہیں۔ موخر الذکر نے تکفیر اور خروج جیسے اہم موضوع پر اپنے ادارے کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی مجالس مذاکرہ کی روداد اور دیگر مقالات زیرنظر شمارے میں شائع کرنے کی فراخ دلی سے اجازت دی تاکہ ان مجالس میں زیربحث آنے والے نکات وسیع پیمانے پر اہل نظر کے غور وفکر کا موضوع بن سکیں۔

امید ہے کہ ’الشریعہ‘ کی یہ اشاعت خاص عصر حاضر کے ایک نہایت اہم اور حساس موضوع کے بہت سے علمی وعملی گوشوں کو واضح کرنے اور اس ضمن میں بحث ومباحثہ کے عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ ان شاء اللہ

محمد عمار خان ناصر

۲۶ فروری ۲۰۱۲ء

تعارف و تبصرہ

(مارچ ۲۰۱۲ء)

مارچ ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۳

ابتدائیہ
محمد عمار خان ناصر

اسلام کا تصور جہاد ۔ چند توضیحات
مولانا محمد یحیی نعمانی

جہاد ۔ ایک مطالعہ
محمد عمار خان ناصر

’’پر امن طریق کار‘‘ بمقابلہ ’’پر تشدد طریق کار‘‘
مولانا حافظ محمد رشید

حکمرانوں کی تکفیر اور خروج کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (پہلی مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (دوسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (تیسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے
الشیخ ایمن الظواہری

عصر حاضر میں خروج کا جواز اور شبہات کا جائزہ
محمد زاہد صدیق مغل

غلط نظام میں شرکت کی بنا پر تکفیر کا مسئلہ ۔ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مولانا مفتی محمد زاہد

تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں
محمد مشتاق احمد

کیا دستور پاکستان ایک ’کفریہ‘ دستور ہے؟ ایمن الظواہری کے موقف کا تنقیدی جائزہ
محمد عمار خان ناصر

پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی
محمد مشتاق احمد

خروج ۔ کلاسیکل اور معاصر موقف کا تجزیہ، فکر اقبال کے تناظر میں
محمد عمار خان ناصر

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter