عصر حاضر میں خروج کا جواز اور شبہات کا جائزہ

محمد زاہد صدیق مغل

چند روز قبل ایک این جی او کی طرف سے راقم الحروف کو مکالمہ بعنوان ’’عصر حاضر میں تکفیر و خروج‘‘ کے موضوع پر شرکت کی دعوت دی گئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت فرمائی۔ چند وجوہات کی بناء پر راقم مکمل پروگرام میں شرکت نہ کرسکا، البتہ پروگرام کی ریکارڈنگ کے ذریعے شرکائے گفتگو کا مقدمہ اور ان کے دلائل سننے کا موقع ملا۔ پوری نشست کا خلاصہ یہ ہے کہ تقریباً تمام ہی شرکائے محفل نہ صرف یہ کہ عصر حاضر میں مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کے اصولی عدم جواز پر متفق ہیں بلکہ قریب قریب ان کا یہ نظریہ ایک آفاقی قضیہ بھی ہے، یعنی ماسوا کفر بواح خروج ہر حال میں ناجائز و حرام ہے۔ رہی یہ بات کہ کفر بواح کی صورت میں کیا کیا جائے تو شرکائے مجلس کے رجحانات ذیل میں سے ایک تھے: 

  • خروج وجہاد کے لیے ایسی سخت شرائط عائد کرنا جن کا مقصد اس جدوجہد کو عملاً ناممکن بنا دینا ہے ۔
  • ایسے حالات میں امت مسلمہ کے لیے مروجہ جمہوری طٖریقوں سے تبدیلی لانے کی جدوجہد کو بہترین طرز عمل قرار دینا، یعنی زیادہ سے زیادہ احتجاج وغیرہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ (اس نکتے پر باقاعدہ حدیث سے استدلال بھی فرمایا گیا۔) 

شرکائے مجلس نے دلائل کے طور پر قرآنی آیات واحادیث سے بھی اپنے استدلال کو مزین فرمانے کی کوشش کی۔ نیز اس سلسلے میں (سیاق و سباق سے کاٹ کر) کتب فقہ کی عبارات سے بھی اپنے دعوے کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی۔ ممانعت خروج کی حکمتوں پر انتہائی شدو مد کے ساتھ زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ خروج سے منع کرنے کی وجہ مسلمانوں کو فساد سے بچانا نیز امن و سلامتی پر مبنی ریاست قائم کرنا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے جاری رہنے والے اس مکالمے میں جہاں یکطرفہ طور پر خروج کی ممانعت ثابت کرنے کیلئے اس کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا گیا، وہاں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حضرت حسینؓ کے خروج کا کلیتاً ذکر تک نہ ہوا کہ جاری بحث کی روشنی میں ان دونوں حضرات کے خروج کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ 

اس مضمون کے پیش نظر دو مقاصد ہیں: اولاً اپنے موقف کو پیش کرنا (جس کا موقع پروگرام میں نہ مل سکا)۔ ثانیاً، دیگر شرکائے محفل کے موقف کا جائزہ پیش کرنا ۔ دھیان رہے، نفس مضمون کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ خروج کرنا ہر حال میں واجب ہے یا مصلحانہ اسلامی جدوجہد کرنا باطل ہے اور نہ ہی اس کا مقصد کسی مخصوص تحریک خروج کا جواز فراہم کرنا ہے، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ جس طرح اصلاحی تحریکات کا دین میں مخصوص مقام ہے، اسی طرح انقلابی جدوجہد (خروج وجہاد) بھی ایک جائز حکمت عملی ہے اور موجودہ دور میں اس کی ضرورت و اہمیت کا انکار کرنے والے حضرات نہ صرف یہ کہ غلطی پر ہیں بلکہ ایک جائز و اہم طریقہ تبدیلی کے مواقع کو اپنے ہاتھ سے ضائع کردینے والے ہیں۔ مباحث مضمون چار حصوں میں تقسیم کیے گئے ہیں: 

۱) بنیادی مدعا یہ ہے کہ دور حاضر کی ریاستیں کسی بھی درجے میں خلافت اسلامیہ کے ہم پلہ نہیں، بلکہ درحقیقت یہ سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں کے خلاف خروج کی بحث اصولاً غلط ہے کیونکہ خروج تو فاسق و فاجر مگر ’اسلامی ریاست ‘ کے خلاف ہوتا ہے۔ چنانچہ موجودہ ریاستوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کا جواز خروج سے بھی آگے بڑھ کر مباحث جہاد سے فراہم کیا جا نا چاہیے۔ اس بنیادی دعوے کی تفہیم کے لیے جن اصولی مباحث کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، ان کی وضاحت حصہ اول میں کی گئی ہے ۔ ان مباحث سے اقوال فقہاء سمجھنے میں بھی مدد حاصل ہوگی ۔

۲) موجودہ سرمایہ دارانہ مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا عدم جواز ثابت کرنے والے مفکرین اپنے دعوے میں وزن پیدا کرنے کے لیے فقہائے کرام کے جن خلافِ خروج اقوال کا سہارا لیتے ہیں، ان اقوال کا درست فقہی تناظر حصہ دوئم میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

۳) حصہ سوئم میں منکرین خروج کے ان شکوک و سوالات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جنہیں اکثر و بیشتر انقلابی وجہادی جدوجہد کے خلاف بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے ۔

۴) آخری حصے میں تحریکات اسلامی کی خدمت میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی قوت کا بھر پور اظہار کس طرح ممکن ہے۔ وما توفیقی الا باللہ 

(۱) خروج کے ضمن میں چند اصولی مباحث 

زیر بحث موضوع پر درست زاویہ نگاہ سے غور کرنے کے لیے چند اصولی نکات کی وضاحت ضروری ہے، لہٰذا پہلے ان کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ 

ریاست و حکومت کا فرق 

خروج کی بحث کو درست طورپر سمجھنے کے لیے حکومت و ریاست کا فرق سمجھنا نہایت ضروری امر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو ریاست کے ہم معنی سمجھنا ہی بے شمار علمی و فکری مسائل کی اصل وجہ ہے۔ درحقیقت جب تک یہ فرق واضح نہ ہو، فقہائے کرام کی خلاف خروج عبارات کا اصل محل سمجھنا نہایت دشوار امر ہے۔ چنانچہ ریاست کا معنی ’نظام اقتدار‘ یا نظام اطاعت و جبر ہوتا ہے جبکہ حکومت محض اس کا ایک جز وہے نہ کہ کل ریاست ۔ نظام اقتدار کا دائرہ خاندان سے لے کر حکومت تک پھیلا ہوتا ہے جس میں نظام تعلیم، معاشرتی تعلقات کی حد بندیاں ، نظام تعزیر ، قضا، حسبہ اور انہیں نافذ کرنے والے ادارے وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں جن میں سے ایک اہم مگر جز وی ادارہ حکومت بھی ہوتا ہے۔

درج بالا فرق کی وضاحت ہم جمہوریت کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ جمہوریت محض تبدیلی حکومت کے ایک مخصوص طریقے ( ووٹنگ) کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ریاستی نظام ہے جسکا نقشہ کچھ یوں کھینچا جا سکتا ہے: 

جمہوری نظم ریاست کے کلیدی ادارے:

مقننہ، بیوروکریسی (انتظامیہ ) وٹیکنوکریسی (سرمایہ دارانہ علوم کے ماہرین)، عدلیہ، کورٹس، پولیس، فوج ، کارپوریشن وفائنانشل ادارے (مثلاً بینک)، تعلیمی نظام، انٹرسٹ گروپس ، آزاد میڈیا وغیرہ۔

جمہوری نظم ریاست میں سرمایہ دارانہ عقلیت کے فروغ میں سرگرم کلیدی کردار:

دانشور، کلچرل ہیروز (سپورٹس مین، سائنسدان وغیرہ)، ٹیکنوکریٹ ، استعماری ایجنٹ ۔

جمہوری نظام نمائندگی کے اہم ادارے:

انٹرسٹ گروپس، ہیروز کی پرستش، سیاسی پارٹیاں، ایڈمنسٹریشن ، سرمایہ دارانہ تحریکیں ۔

جمہوری نظام نفاذ کے اہم ادارے:

فوج و پولیس، کورٹس اور عدلیہ کا نظام، شمولیت (سیاسی مخالفین کو ساتھ ملانا)، اخراج (مخالفین کو بے دست وپا کر دینا)، سوشل ویلفیئر، صنعتی تعلقات ۔

درحقیقت جمہوریت ایک پیچیدہ اور گنجلک ریاستی نظام ہے جس میں طاقت کے بے شمار مراکز ہوتے ہیں (۱) اور ان کا مقصد فرد و معاشرے پر سرمایہ دارانہ عقلیت (rationality) و علوم کی فرماروائی قائم کرنا ہے۔ جمہوری ’ریاست‘ کے اس نقشے کی روشنی میں حکومت اور ریاست کا فرق سمجھنا ممکن ہے، یعنی جمہوری حکومت سے مراد محض مقننہ (وہ بھی محض ایوان زیریں) ہے جبکہ جمہوری ریاست (نظام اطاعت) سے مراد درج بالا تمام ادارے ہیں۔ اب فرض کریں، اگر محض حکومت بدلنے کے طریقے کو تبدیل کرکے کوئی خاندان جمہوری نظام ریاست پر قبضہ کرلے اور پھر بعینہ انہی جمہوری اداروں کے تحت حکمرانی کرنے لگے تو اسے جمہوری نظام کی تبدیلی نہیں کہا جاتا بلکہ اس قسم کی جمہوریت کو ’آمرانہ جمہوریت‘ (ill-liberal democracy) کہتے ہیں (مثلاً جیسے پاکستان میں فوجی مداخلت کے بعد قائم ہونے والی جمہوریت ہوتی ہے)۔ چنانچہ کئی مسلم مفکرین (۲) کے خیال میں ایسی مسلم ریاستیں جہاں روایت پسند اسلام اور روایت پسند اسلامی تحریکات کا زور بہت زیادہ ہے، وہاں لبرل جمہوریت قائم کرنا سرمایہ دارانہ ریاستی نظم کے لیے شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ (مثلاً اگر عوام ایسی پارٹی کو ووٹ دے کر حکومت میں لے آئیں جو آزادی، مساوات، ترقی، ہیومن رائٹس وغیرہ کو رد کرتی ہو تو پھر عین ممکن ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہی لپیٹ دیا جائے)۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایسے مسلم اکثریتی علاقوں میں آمرانہ جمہوریتیں (بصورت استعمار دوست بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں کی حکومت) قائم کی جائیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ جس قدر سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہوتا چلا جائے گا، اسی قدر اس بات کے امکانات بڑھ جائیں گے کہ روایت پسندی جدیدیت پسندی میں تبدیل ہوجائے گی، سرمایہ دارانہ علوم و اداروں کا فروغ لوگوں کو اسلام کے بجائے خواہشات نفس کا خوگر بنا دے گا، ساتھ ہی ساتھ اسلامی تحریکیں بھی جمہوری نظام میں اپنی جگہ بنانے کیلئے حقوق کی سیاست کرنے پر آمادہ ہوتی چلی جائیں گی اور جب یہ اطمینان ہو جائے کہ ا ب جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں، تب آمرانہ جمہوریت کو لبرل جمہوریت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ (عرب دنیا میں جاری بے چینی کی حالیہ لہر درحقیقت آمرانہ جمہوریتوں کو لبرل جمہوریتوں میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے، انہیں اسلامی تبدیلی کا پیش خیمہ سمجھنا سادہ لوحی کے سوا کچھ نہیں )۔ چونکہ جمہوری نظام ریاست جس شیطانی انفرادیت (یعنی ہیومن بینگ) کے وجود کا تقاضا کرتا ہے، وہ انسانی فطرت کے کلیتاً منافی ہے، لہٰذا یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں آج تک جمہوری ریاست بذات خود جمہوری طریقے سے نافذ نہیں کی جاسکی بلکہ اس کے لیے ابتدائی دور میں قتل و غارت گری اور جبر و استبداد سے کام لینا پڑتا ہے اور جس رفتار سے جمہوری ریاستی ادارے مستحکم ہوجاتے ہیں، اسی قدر جمہوریت کو بھی لبرل بنادیا جاتا ہے۔ اسی طرح فرض کریں، اگر کسی جمہوری ریاست میں آزاد میڈیا نہ ہو (جیسے پاکستان میں مشرف کے دور سے پہلے نہ تھا) یا عدلیہ کرپٹ ہو تو اسے جمہوری ریاست کے عدم وجود کے ہم معنی نہیں کہا جاتا۔ حکومت و ریاست کا یہ فرق ذہن میں رکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کی روشنی میں ہم ان شاء اللہ فقہاء کرام کے اقوال سمجھنے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔ 

خلافت اسلامی کے درجات 

خروج کے ضمن میں فقہائے کرام کے اقوال کی درست تعبیر بیان کرنے کے لیے اسلامی خلافت اور اس کے درجات کو پیش نظر رہنا بھی نہایت اہم امر ہے۔ ذیل میں اس کا مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔ 

اسلامی خلافت وریاست (نظام اقتدار) کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی نیابت ہے، یعنی یہ ماننا کہ انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات میں فیصلے اس بنیاد پر ہوں گے کہ شارع کی رضا کیا ہے ، حکمران خود بھی اس پر عمل کرے گا اور عوام کو بھی عمل کرائے گا ۔ اس نیابت میں درجات کی مثال درحقیقت درجات ایمان کی سی ہے، یعنی جیسے مسلمانوں کے ایمان کے درجات ہوتے ہیں، کچھ وہ ہیں جنہیں ہم ابو بکرؓ و عمرؓ وصحابہؓ کہتے ہیں ، کچھ اس سے کم ایمان رکھتے ہیں، کچھ ہم جیسے کمزور ایمان والے ہیں، ان میں بھی کچھ کم درجے کے فاسق ہیں اور کچھ انتہا ئی درجے کے فاسق، لیکن اس توافق درجات کے باوجود سب کے سب مسلمان ہی ہیں۔ گو کہ مطلوب اصل تو صحابہؓ جیسا ایمان ہی ہے، لیکن اس درجہ ایمانی سے کم ایمان والے لوگوں کو ہم مسلمان کہنے کے بجائے کچھ اور نہیں کہتے۔ بعینہ یہی معاملہ خلافت کا بھی ہے کہ اس میں ایک درجہ وہ ہے جسے ہم ’خلافت راشدہ ‘ کہتے ہیں جو خلافت اسلامی کے اظہار کا بلند ترین درجہ تھا جبکہ اس کے بعد گو کہ خلافت تو موجود رہی، مگر اس کے اظہار کا وہ معیاری درجہ مفقو دہوگیا۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت کا آئیڈیل نظام باقی نہ رہا اور مطلوب اصلی وہی نظام ہے، لہٰذا ہم بعد والے دور کو خلافت کے بجائے کسی اور نام (مثلاً مسلمانوں کی تاریخ) سے پکاریں گے تو یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخض یہ کہے کہ چونکہ آئیڈیل اور مطلو ب ایمان تو صحابہؓ کا ہی تھا اور اس کے بعد مطلوب ایمان کا درجہ قائم نہ رہا، لہٰذا ہم بعد والے لوگوں کو مسلمان کے علاوہ کچھ اور (مثلاً مسلمانوں جیسے) کہیں گے۔ پھر جیسے ہر ریاست کے ذمے چند اندرونی اور بیرونی مقاصد کا حصول اور اس کے لیے لائحہ عمل وضع کرنا ہو تا ہے، اسی طرح خلافت کے بھی دو تقاضے ہیں: ریاست کے اندرونی معاملات کی سطح پر اقامۃ دین کے لیے نفاذ شریعت ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بنیاد پر نظام اقتدار کی تشکیل اور بیرونی معاملات میں اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے جہاد وتبلیغ کا کام مر تب کرنا۔ درجات خلافت کی تفصیلات درج ذیل طریقے سے بیان کی جاسکتی ہے: 

الف) خلافت راشدہ:

اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیابت رسول میں بندگان خدا کی اصلاح ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، نفاذ شریعت واعلاء کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کے سوا ذاتی سطح پر ہرگز بھی کچھ مطلوب نہ ہو ۔ یعنی اتباع نفس و مرغوبات نفسانیہ کا ہرگز بھی کوئی گذر نہیں ہوتا یہاں تک کہ رخصتوں ، مباحات و توسع کے بجائے عزیمت ، تقویٰ و احتیاط کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس رویے کی وضاحت خلفائے راشدین کے طرز عمل کی دو مثالوں سے ہوجاتی ہے: (۱) باوجود اس کے کہ اسلام میں خلیفہ کے لیے متوسط درجے کا معیار زندگی اختیار کرنا جائز ہے، خلفائے راشدین نے ہمیشہ کم سے کم تر پر ہی اکتفا کیا۔ (۲) باوجود اس کے کہ خلیفہ کے لیے اپنی حفاظت کا مناسب بندوبست کرنا جائز ہے، خلفائے راشدین نے کبھی اس کا اہتمام نہ فرمایا، حالانکہ تین خلفاء شہید تک ہوئے۔ نیابت رسول میں اختیار عزیمت و احتیاط کا یہ پہلو ہر معاملے میں اپنایا جاتا تھا اور خلفائے راشدین کے طرز عمل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کسی بھی خلیفہ راشد نے اقتدار کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی ادنی درجے میں بھی کوشش نہیں کی۔ درحقیقت یہی وہ پہلو ہے جو خلافت راشدہ کو محض خلافت سے ممیز کرتا ہے۔

ب ) خلافت /امارت / سلطنت

سے مراد یہ ہے کہ نفاذ شریعت و جہاد کے ساتھ ساتھ دنیاوی مقاصد، مثلاً مرغوبا ت نفسانیہ ، مال وجاہ کی خواہش، اقربا پروری، امصار و بلدان پر تسلط اور طول حکومت کی آرزو وغیرہ بھی شامل حال ہوجاتے ہیں۔ اس ہوا ہوس کے بھی کئی مراتب ہیں جن کی بنا پر خلافت کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے: 

اول: امارت عادلہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان حکمران عادل ہو، جیسے عمر بن عبد العزیزؒ ، سلیمان بن عبد الملکؒ ، اورنگ زیب عالمگیرؒ وغیرہم ۔ یعنی نیابت رسول میں ظاہر شریعت حاکم کے ہاتھ سے نہ چھوٹتی ہو، نہ ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوتا ہو۔ اگر معصیت میں مبتلا ہو بھی جائے تو اس پر دوام اختیار نہ کرتاہو، نیز مباحات و توسعات کے درجے میں لذات نفسانیہ تلاش کرلیتا ہو ۔

دوئم : امارت جابرہ سے مراد فاسق مسلمان حکمران ہے، لیکن اس کا فسق انتہائی درجے کا نہیں ہوتا۔ یہ ایسا حاکم ہوتا ہے جس سے احکامات شرعیہ میں کوتاہی ہوجاتی ہے، یعنی اطاعت نفس میں دائرہ شریعت سے باہر نکل کر فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر اس پر پشیماں بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی توبہ کی فکر کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود نفاذ شریعت و مقاصد شریعت کے نظام کو قصداً تہہ و تیغ نہیں کرتا بلکہ انہیں جوں کا توں بجا لانے کی روش برقرار رکھتا ہے ۔

سوئم : امارت ضالہ کا معنی ایسا مسلمان حکمران ہے جو انتہائی فاسق ،فاجر و ظالم ہو۔ تکبر ، ظلم و تعدی کی بنیاد ڈالتا ہے، نفس پرستی میں ہمت صرف کرتا ہے، فسق و فجور کے طریقوں کو عام کرنے کو اپنی پالیسی بنا لیتا ہے، بیت الما ل کو ذاتی ملکیت بنا لیتا ہے وغیرہ۔ گویا امارت جابرہ و ضالہ میں فرق کرنے والی ایک اہم شے حکمران طبقے کے فسق و ظلم کا اسلامی ریاستی نظم کے لیے لازم یا متعدی ہونا ہے ۔

چہارم : ا مارت کفر ایک ایسی ریاست جو شریعت کے برعکس کسی دوسری بنیاد (مثلاً ہیومن رائٹس) پر قائم ہوتی ہے۔ یہاں خود ساختہ قوانین کو شرع پر ترجیح دی جاتی ہے، حرام کو قوانین کا درجہ دے دیا جاتا ہے، حلال پر قدغنیں عائد کردی جاتی ہیں، شارع کے واضح احکامات کو بھی پس پشت ڈال کر دشمنان اسلام کے طریقوں کو رائج کرکے ان کے ہاتھ مضبوط کیے جاتے ہیں وغیرہ۔ کسی ریاست کے کفریہ ہونے کے لیے یہ بات غیر اہم ہے کہ اس کا حاکم مسلمان ہے یا کافر۔ مثلاً بارک اوبامہ (یا کسی اور مسلمان ) کے امریکہ کے صدر بن جانے سے امریکہ دارالاسلام نہیں بن جائے گا۔ یا جیسے افغانستان میں اشتراکی نظام نافذ کرنے والے تمام لوگ بظاہر کلمہ گو ہی تھے، مگر ان کا یہ دعوائے ایمانی کسی اشتراکی ریاست کو اسلامی کہلانے کے لیے کفایت نہ کرے گا۔

اس تقسیم سے ضمناً یہ اہم بات واضح ہوتی ہے کہ ہماری تاریخ میں اقتدار ( نظام جبر ) بحیثیت مجموعی اسلامی تھا گو کہ اچھی بری حکومتیں آتی رہیں ۔ یقیناًاسلامی تاریخ میں برائیاں رہی ہیں، مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسلامی ریاست ناپید ہوگئی تھی، بلکہ صرف اس لیے کہ مسلمان فرشتے نہیں بلکہ دوسرے انسانوں کی طرح انسان ہی ہیں جن سے غلطی اور گناہ کا صدور ممکن ہے۔ چنانچہ بیرونی طور پر اسلام مخالف طاقتوں کا مقابلہ اور ان سے جہاد اور اندرون ریاست مذہبی و تمدنی زندگی کے اداروں و شعبوں میں احکامات شرعیہ کے نفاذ کے مقاصد مختلف درجات میں ادا کیے جاتے رہے، گو خلافت راشدہ کے بعد اس کے ساتھ ذاتی مفادات اور عملی کوتاہیوں کے معاملات بھی شامل حال ہوگئے تھے۔ (اس نکتے کی مزید وضاحت درج بالا مثال سے سمجھی جا سکتی ہے)۔ 

موجودہ مسلم حکومتوں کی حیثیت 

اقوال فقہاء کو درست طور پر سمجھنے نیز موجودہ دور پر انہیں چسپاں کرنے کی غلطی سمجھنے کے لیے خلافت اور موجودہ مسلم ریاستوں کے فرق پر غور کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے جس سے یہ واضح ہوسکے گا کہ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں خیر القرون کی خلافت تو کجا خلافت عثمانیہ و مغلیہ کے ہم پلہ بھی نہیں۔ درج ذیل تمام نکات بذات خود تفصیل طلب موضوعات ہیں، لیکن نفس مضمون اور خوف طوالت ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم ان کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں (۳) : 

اول: قومی بمقابلہ اسلامی ریاست 

دوئم : نمائندگی عوام بمقابلہ نیابت رسول

سوئم : سوشل سائنسز بمقابلہ علوم شرعیہ کی بالادستی 

چہارم : دوستور (ہیومن رائٹس ) بمقابلہ شریعت (نظام قضاء) کی بالادستی 

پنجم : مذہبی معاشرت بمقابلہ سول سوسائٹی 

ان نکات کی نوعیت سے واضح ہے کہ موجودہ مسلم ریا ستیں دانستہ و نا دانستہ طور پر ایک ایسے نظام پر مبنی اور اس کی حامی و ناصر ہیں جہاں خدا کے بجائے عوام کی حاکمیت، علوم شرعیہ کے بجائے سرمایہ دارانہ علوم اور شرع کے بجائے دستور نافذ ہے۔ درحقیقت جدید مسلم ریاستیں ہیومن رائٹس کی بالا دستی کا اقرار کرکے بذات خود اپنے سرمایہ دارانہ ہونے کا کھلم کھلا اعلان کررہی ہیں اور یہ بات پولیٹیکل سائنس کے ہر طالب علم پر واضح ہے کہ ہیومن رائٹس پر مبنی جمہوری ریاست ایک pluralistic (کثیر الخیر تصوراتی) ریاست ہوتی ہے جہاں کسی مذہب کی بالادستی کا دعویٰ سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کے لیے بطور ایک حربہ کچھ عرصے قبول تو کیا جاسکتا ہے (جسے آمرانہ جمہوریتیں کہا جاتا ہے) البتہ ایسی ریاست کے اندر مذہبی حاکمیت کو محفوظ کرنا اور فروغ دینا ناممکن الوقوع شے ہے۔ یہ ریاستیں ’خیر ‘ نہیں بلکہ ’حقوق ‘ پر مبنی ریاستیں ہوتی ہیں، لہٰذا ہر وہ ریاست جو ہیومن رائٹس کو جزوی یا کلی طور پر قبول کرتی ہے، وہ سیکولر ریاست ہوتی ہے۔ جمہوری ریاست کے اندر عبوری دور کے لیے کسی قسم کی مذہبیت کو محض اس لیے روا رکھا جاتا ہے کہ چونکہ مقامی لوگ ابھی پوری طرح Enlightened (مہذب یعنی ہیومن بینگ ) نہیں ہو سکے ہیں، لہٰذا انہیں ان کے مقامی تعصبات (مثلاً مذہبی یا روایتی وابستگیوں) کے ساتھ ہیومن رائٹس کی بالادستی قبول کرنے کا پابند بنا یا جائے تاکہ ایک طرف ان کی ’نفسیاتی تسکین ‘ کا سامان بھی فراہم ہوجائے اور دوسری طرف ’عملاً سرمایہ دارانہ نظام کو قبولیت عامہ ‘ فراہم کرنے کے لیے ادارتی صف بندی کرنے کا موقع بھی میسر آجائے۔ جوں جوں سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہوتا چلا جاتا ہے، روایتی مذہبی عقلیت و علمیت تحلیل ہوکر بے معنی ہوتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ دنیا میں ہر جگہ سرمایہ دارانہ نظام کو اسی حربے کے ذریعے آفاقی قبولیت فراہم کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عصر حاضر کا سب سے بڑا اور غالب ترین کفر بواح ’ہیومن رائٹس کی حقیقت واضح ہوجانے کے بعد اس کا اقرار کرنا‘ ہے (۴)۔ 

اس مختصر وضاحت سے معلوم ہوا کہ موجودہ مسلم ریاستیں درحقیقت سرمایہ دارانہ ریاستیں ہیں گو انہیں چلانے والے مسلمان ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ریاستی اداروں کے ممبران بہر حال مسلمان ہی ہیں (جن میں سے کئی ایک مخلصین بھی ہیں)، مگر یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عیسائی یا ہندو ریاست قائم کرکے اس کے کے قانون کے ما تحت زندگیاں بسر کرنے لگیں۔ انہیں معنی میں موجودہ دور میں پائی جانے والی عمومی صورت حال نئی اور منفرد ہے کہ ’قومی نوعیت ‘ کے مسلمان حکمران (باستثناے چند) اس سے پہلے کسی ’باطل نظام ‘ کے تحت حکمرانی نہیں کیا کرتے تھے ، بلکہ ان کا جرم فسق و فجور کی نوعیت کا ہوتا تھا نہ کہ کسی نظام باطل کے حامی و ناصر ہونے کا۔ (ان معنوں میں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ مسلم ریاستیں تو یزید کی امارت سے بھی بدتر ہیں، کم از کم وہ کسی اسلام کش نظام کا حامی تو نہیں تھا۔ خیال رہے ہم یزید کی حمایت نہیں کررہے بلکہ موجودہ مسلم ریاستوں کو اس کی امارت سے بھی بد تر کہہ رہے ہیں)۔ اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں جس علمیت، قانون ، معاشرت و سیاست کو فروغ دے رہی ہیں، وہ سرمایہ دارانہ خدوخال پر مبنی ہیں جن کا اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں۔ 

امت مسلمہ میں خروج کی حالیہ لہر کی وجوہات 

یہ بات سمجھنا بھی نہایت اہم ہے کہ آخر پچھلی نصف صدی میں ہی امت مسلمہ کے اندر خروج کی اس قدر تحریکات کیوں برپا ہورہی ہیں۔ مختصراً ذیل کے نکات پر غور کرنے سے اس کی جائز فکری بنیادیں سمجھی جاسکتی ہیں: 

  • لگ بھگ ۱۹۲۴ تک کم یا زیادہ کے فرق کے ساتھ اسلامی ریاست اور شریعت کی حکومت مسلمانوں پر قائم تھی ۔
  • ایک بیرونی استعمار نے فوجی، قانونی، سیاسی، سماجی، تعلیمی و نظریاتی استبداد کے ذریعے مسلم دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام مسلط کردیا۔ (مزے کی بات یہ ہے کہ جدید مسلم مفکرین جن مغربی تصورات و اداروں (مثلاً جمہوریت) پر فریفتہ ہو کر انہیں ’عین اسلام‘ قرار دے رہے ہیں، ان کا کوئی سراغ تک اسلامی تاریخ میں نہیں ملتا۔ یہاں سے یہ نکتہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آخر ابتدائی دور میں آمرانہ جمہوریتیں کیوں قائم کی جاتی ہیں۔ ظاہر ہے اس کا مقصد اسی قسم کی غلامانہ ذہنیت پیدا کرنے کا موقع حاصل کرنا ہوتا ہے۔) 
  • اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ تبدیلی جس سے امت مسلمہ کو سابقہ پڑا، ان معنوں میں پہلی تبدیلی تھی کہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کی بنیاد اسلام و شریعت کے سوا کچھ اور ہوگئی۔ (ان معنوں میں کمزور ترین مغل سلطان بہادر شاہ ظفر کی ریاست بھی جدید مسلم ریاستوں سے ہزارہا گنا بہتر تھی)۔ 
  • مسلم علاقوں سے استعمار کے جانے کے بعد ان علاقوں کے اس سیکولر و جدیدیت زدہ طبقے کو جو دین استعمار کا دلدادہ اور پیروکار تھا، تقریباً ہر مسلم علاقے میں ؒ ’ہیرو ‘ بنا کر وہاں ایک قوم پرست ریاست قائم کرکے قابض کردیا جاتا ہے اور یہ طبقہ ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام کا ’مقامی رکھوالا‘ بن بیٹھتا ہے تو دوسری طرف اسلام پسندوں پر کوڑے برسانے اور نظم اجتماعی میں انہیں دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ۔
  • ساتھ ہی طویل عرصے تک کئی اسلامی تحریکات کو اس غلط فہمی میں مبتلا رکھا جاتا ہے کہ تمہار امسئلہ عوامی رائے کا تمہارے ساتھ نہ ہونا ہے، لہٰذا اگر تم عوامی رائے کی بنیاد پر حکومت بنا لو تو جو جی میں آئے کرلینا۔ (وہ اور بات ہے کہ بذات خود یہ جمہوری ریاستیں قائم کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی رائے ضروری نہیں)، لیکن اگر کہیں (مثلاً الجزائر میں) اسلامی تحریکات نے اکثریتی ووٹ لاکر ان کے سامنے دھر بھی دیے تو ایسے الیکشن کو کالعدم قرار دے کر اسلامک فرنٹ کی حکومت قائم نہ ہونے دی گئی کیونکہ اس حکومت سے خود جمہوری نظام کو خطرہ لاحق تھا ۔
  • پس جہاں ایک طرف جمہوریت پسند طبقوں کے ’عمل‘ نے حقیقت پسند اسلام پسندوں کی اس غلط فہمی کا پردہ چاک کردیا کہ جمہوری راستے سے سرمایہ دارانہ نظم ریاست ختم کرکے اسلامی نظم ریاست قائم کرنا ممکن ہے، وہاں ساتھ ہی مغربی فکر کے تفصیلی مطالعے سے یہ نظریاتی حقیقت بھی عیاں ہوگئی کہ جمہوریت کا مطلب ’اکثریتی رائے ‘ (will of all) نہیں بلکہ ’ارادہ عمومی‘ (general will) یعنی آزادی و ہیومن رائٹس کی بنیاد پر ریاستی نظام قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس ارادہ عمومی کو کسی مذہب یا روایت کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اس فریم ورک کے اندر کسی مذہب کی بالادستی قائم کرنا ممکن ہوتا ہے کیونکہ ارادہ عمومی کی حاکمیت بندگی رب نہیں بلکہ آزادی (بغاوت) کو فروغ دیتی ہے۔
  • چنانچہ جس طرح ریاستی سرپرستی ختم ہوجانے کے بعد علوم دینیہ کے تحفظ کے لیے علمائے کرام نے مساجد و مدرسہ کی سطح پر علمی جدوجہد برپا کی، معاشرے کے اجتماعی بگاڑ کے پیش نظر ان گنت اصلاحی اسلامی تحریکات سامنے آئیں، بالکل اسی طرح اسلامی قوت جمع کرکے اقتدار کو کفر کے بجائے شریعت کے تابع کرنے کے لیے انقلابی و جہادی تحریکات کا وجود میں آنا بھی نہ صرف یہ کہ عین فطری تقاضا تھا، بلکہ امت مسلمہ کی ایک اہم ضرورت بھی (۵)۔ لہٰذا قابل فکر بات یہ سوچنا نہیں کہ ان تحریکات کو ختم کیسے کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ تمام اسلامی تحریکوں کے کام میں ربط کیسے پیدا کیا جائے ۔ (اس نکتے پر کچھ گفتگو ذیل میں آئے گی) ۔
  • چنانچہ اگر سرمایہ دارانہ نظام اور استعمار ایجنٹ حکمرانوں کو مسلم علاقوں میں بے دست و پا کرکے اسلامی خلافت قائم کر دی جائے تو تحریکات خروج و انقلاب خود بخود ختم ہوجائیں گی، جب تک ایسا نہ ہوگا ان تحریکات کا استحقاق وجود اور وجہ جواز بہر حال قائم رہے گا ۔ (اسی لیے کہتے ہیں ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘) ۔

(۲) اقوال فقہاء اور خروج 

ان اصولی مباحث کے بعد اب آئیے اقوال فقہاء کی طرف۔ معاصر منکرین خروج اپنے دعوے کے اثبات کے لیے فقہائے کرام کے ان اقوال کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جن میں فاسق و متغلب ملوک کے خلاف خروج سے منع کیا گیا ہے۔ درحقیقت اقوال فقہاء کو بطور دلیل پیش کرنے سے پہلے ان کا درست محل سمجھنا ضروری ہے جسے دو پہلووں سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ ایک اسلامی خلافت کے درجات کی روشنی میں دوئم خلافت اور جدید ریاستوں کے فرق کی روشنی میں۔ ذیل میں دونوں پر بالترتیب گفتگو کی جائے گی۔ 

(۲.۱) اقوال فقہاء کا ایک پہلو 

جیسا کہ واضح کیا گیا خروج سے مراد فاسق مسلمان حکمران کی اطاعت سے نکل کر بذریعہ قوت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جدوجہد برپا کرناہے۔ خروج کی اصل اطاعت امیر کااطاعت شارع سے مشروط ہو نا اور مسلمانوں پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا لازم ہونا ہے ۔ یہ امر کہ خروج کب کیا جائے، علماء کے ہاں ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے میں درج ذیل امور اہمیت کے حامل ہیں: 

  • علماء کا اس امر میں اجماع ہے کہ امام عادل کی اطاعت واجب ہے اور اس کی اطاعت سے نکلنا ان تمام وعیدوں کا مصداق بننا ہے جو احادیث میں الجماعۃ سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ ایسے عادل حاکم کا تختہ الٹنے کے لیے ہتھیار اٹھانا یا اس کے اقتدار کو کمزور کرنے کے لیے گروہ بندی کرنا بغاوت کے زمرے میں شمار ہوگا اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ باغیوں کا سا معاملہ کیا جائے گا ۔
  • اسی طرح خروج کے مفاسد سے بچنے کے لیے امارت جابرہ کے خلاف بھی خروج نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ چھوٹے منکر کی جگہ بڑے منکر کا خدشہ مول لینے کے مترادف ہے۔ لیکن بذریعہ قوت نہی عن المنکر نہ کرنے کا مطلب حکمرانوں کو کھلا چھوڑ دینے یا ہر درجے میں نہی عن المنکر ترک کردینے کے مترادف نہیں ۔ شیخ عبد المنعم المصطفی حلیم نے ایسے حاکم کی اطاعت کے رویے پر نہایت خوبصورت بات کہی ہے کہ ’’اس صورت حال میں اطاعت سلبی نہیں کہ جس میں نہ تو نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت ہے اور نہ ہی ظالموں کے سامنے حق کہنا، بلکہ یہ رشد وہدایت اور حکمتوں پر مبنی ایجابی اطاعت ہے جو باطل کے سامنے نہ تو ذلت و رسوائی اور حقارت پر مبنی ہے اور نہ ہی ظالموں کے اثر و رسوخ سے خوف کھانے والی۔ چنانچہ ظالم حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کے نمونے ہمارے سلف صالحین کی زندگیوں میں بے شمار ملتے ہیں۔‘‘ چنانچہ بزرگان دین کے ایسے تمام واقعات جن میں ملوک کے خلاف خروج سے ہاتھ روکنے کو کہا گیا، ان کا تعلق اسی قبیل سے ہے اور عقل کا تقاضا بھی ایسا طرز عمل اختیار کرنا ہی ہے۔ یعنی جب نظام اطاعت بحیثیت مجموعی اسلامی بنیاد پر قائم ہو، اسلامی علوم (کلام، فقہ و تصوف) کی بالادستی قائم ہو، ریاستی ادارے معاشرے میں اسلامی احکامات کے مطابق کام کررہے ہوں، عدالتیں فقہ اسلامی کی بنیاد پر فیصلے کررہی ہوں وغیرہ تو ایسے حالات میں قرین قیاس بات یہی ہے کہ خروج سے اعتنا برتا جائے کیونکہ اس طریقے سے ایک بڑے خیر (یعنی نظم اطاعت اسلامی) کے بکھر جانے کا اندیشہ ہے، لہٰذا اس حکمت عملی سے اغماز کرتے ہوئے کم تر شر کو قبول کیا جانا چاہیے۔
  • مسئلہ خروج میں اختلاف اس مرحلے پر ہوتا ہے جب امارت ضالہ کے خلاف خروج درپیش ہو۔ اس میں شک نہیں کہ علمائے اہل سنت کی ایک بڑی تعداد کے خیا ل میں ایسے حاکم کے خلاف بھی خروج نہیں کرنا چاہیے جس کی وجہ ان کے نزدیک مسلمانوں میں دنگا فساد ، کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی شان و شوکت کم ہوجانے کا خوف نیز بہت سے مصالح دینیہ کا فوت ہوجانے کا خطرہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خروج کے خلاف ان علماء کے فتوے کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے نزدیک خروج سرے سے شرعاًجائز ہے ہی نہیں، بلکہ اس رویے کی وجہ درج بالا حکمتیں ہیں ۔
  • جس طرح علماء کی ایک بڑی تعداد بوجہ فروغ فساد امارت ضالہ کے خلاف خروج کرنے کی مخالف رہی ہے، بالکل اسی طرح کئی جید علماء کرام جن کے سرخیل امام ابوحنیفہؒ ہیں، ان کے خیا ل میں خروج جائز ہے کیوں کہ مسلمانوں پر شریعت اسلامی قائم کرنا اور فاسق امام کی جگہ امام عادل کے قیام کی جدوجہد ضروری ہے۔ اس مقدمے کے دلائل درج ذیل ہیں: 

الف) قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا: واجتنبوا الطاغوت (نحل ۳۶) یعنی ’طاغوت سے الگ ہوجاؤ‘ ۔ علمائے تفسیر (۶)نے صراحت کی ہے کہ طاغوت سے مراد اللہ کے دین کے مقابلے میں اطاعت کرانے والا بھی ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست چونکہ طاغوت ہے، لہٰذا یہ الجماعۃ کا مصداق کیسے ہوسکتی ہے جبکہ طاغوت سے بچنے والوں کو قرآن خوشخبری سنا رہا ہے۔ (زمر ۱۷) ساتھ ہی انہیں سیدھے ومضبوط راستے کا مژدہ سنا رہا ہے (بقرۃ ۲۵۶)، اور طاغوت کی اطاعت کرنے والوں کو لعنتی، شیطان کے ساتھی اور بدترین لوگ قرار دیا گیا ہے (نساء ۵۱ ۔۵۲، ۷۶ اور مائدہ ۶۰)۔ 

ب) قرآن میں ارشاد ہوا: تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (مائدہ ۲) ’ایک دسرے کی مدد کرو نیکی اور تقوے کے کاموں میں اور مددمت کرو گناہ اور زیادتی کے معاملات میں‘ ۔ معلوم ہوا کہ گناہ و عدوان پر مبنی اور انہیں فروغ دینے والی ریاست (مثلاً جمہوری ریاست) کے ساتھ تعاون جائز نہیں، اور ایسی ریاست کی برضا و رغبت اطاعت کرنا درحقیقت اس کی مدد کرنے ہی کی ایک صورت ہے۔

ج) اہل ایمان کی امامت کا حقدار کون ہے؟ اس ضمن میں ارشاد ہوا : قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لا ینال عہد الظالمین (بقرۃ: ۱۲۴) ’’اللہ نے (جب ابراہیم ؑ ) سے کہا کہ بے شک میں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں (تو ابراہیم ؑ نے) عرض کی کیا میری اولاد سے بھی؟ فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں‘‘۔ امام جصاصؒ ، امام رازیؒ اور امام قرطبیؒ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ ظالم اصولاً منصب امامت کا حقدار ہے ہی نہیں۔ 

د) اس ضمن میں مزید ارشاد ہوا : ان اللہ یامرکم ان تؤدواالامانات الی اھلھا (نساء: ۵۸) ’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہیں سپرد کرو جو اس کے حقدار ہیں‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ منصب امامت ایسے شخص کو دینا چاہیے جو اس کا اہل ہے یعنی اس کی شرائط پوری کرتا ہو ۔

ھ) اذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (نساء: ۵۸) ’’(اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ) جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل (یعنی شریعت) کی بنیاد پر کرو‘‘۔ اسی طرح فرمایا گیا : یا ایہا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء (نساء ۱۳۵) ’’اے ایمان والو عدل پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بن جاؤ‘ ‘۔

و) اطعیوااللہ واطیعوا الرسول والی الامر منکم (نساء: ۵۹) ’’اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں‘‘۔ معلوم ہوا کہ اطاعت امیر درحقیقت اطاعت شارع سے مشروع ہے، اگر وہ اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کی اطاعت ضروری نہیں ۔

ذ) حدیث شریف میں اصول بیان ہوا : لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ (متفق علیہ) یعنی اللہ کی نافرمانی کے معاملے میں کسی مخلوق کی اطاعت معتبر نہیں۔ نیز فرمایا: لا طاعۃ لمن لم یطع اللہ (فتح الباری، کتاب الاحکام) یعنی جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتا، اس کی کوئی اطاعت نہیں ۔ اسی بات کو قرآن میں یوں بیان کیا گیا : لاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ہواہ (کہف : ۲۸) ’’ اس کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتا ہے‘‘ ، نیز : لاتطیعوا امر المسرفین الذین یفسدون فی الارض ولا یصلحون (شعراء : ۲۔۱۵۱) ’’حد سے گزرنے والوں کے حکم کی پیروی مت کرو، یہ وہ ہیں جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے‘ ‘۔ 

ان نصوص سے معلوم ہوا کہ امیر کی اطاعت اطاعت شارع سے مشروط ہے، فسق و فجور اور نظام باطل برپا کرنے والوں کی اطاعت جائز نہیں، نیز مسلمانوں پر عدل و قسط پر قائم رہنا لازم ہے۔ 

ح) ایک حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا: ستکون امراء فتعرفون و تنکرون فمن عرف بری ومن انکر سلم ولکن رضی و تابع قالوا افلا نقاتلہم قال لا ما صلوا (مسلم) یعنی عنقریب ایسے حکمران ہوں گے جنہیں تم پہچانتے ہو گے اور ان کا انکار کرو گے، پس جس کسی نے ان (کی حقیقت) پہچان لی، وہ بری ہوگا۔ جس کسی نے برملا ان کا انکار کیا، وہ تو سلامتی کے راستے پر ہوگا سوائے اس کے جو ان پر راضی ہوگیا اور ان کی اطاعت کرنے لگا (یعنی نہ وہ بری ہے اور نہ سلامتی کے راستے پر)۔ صحابہ نے عرض کی، اے اللہ کے رسول، کیاایسے امرا کے خلاف ہمیں قتال نہیں کرلینا چاہیے؟ آپ نے فرمایا جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں، ایسا مت کرنا۔ 

اس حدیث سے پتہ چلا کہ فاسق حکمرانوں کی اطاعت کی کم از کم شرط یہ ہے کہ وہ نظام صلوٰۃ قائم رکھیں (یعنی خود بھی ادا کریں، اس کی ادائیگی کا اہتمام کریں، نیز رعایا کو بھی اس کا حکم دیں)۔ اس حدیث میں لفظ ’قتال‘ یہ واضح کررہا ہے کہ اس شرط کی عدم موجودگی میں محض احتجاج (منازعت) نہیں بلکہ ’ مسلح جدوجہد‘ کی اجازت بھی ہے۔ اس کے علاوہ بھی ایسی احادیث ہیں جن سے حکمرانوں کے خلاف بذریعہ قوت نہی عن المنکر پر استدلال ہوتا ہے۔ 

اس حدیث پر گفتگو فرماتے ہوئے کچھ حضرات نے یہ نکتہ پیش کیا کہ چونکہ قرون اولیٰ میں نماز ان معنی میں شعائر اسلام سمجھی جاتی تھی کہ ہر کوئی نماز پڑھتا تھا، لہٰذا اس کی عدم ادائیگی پر خروج کی اجازت دی گئی لیکن چونکہ آج کے دور میں اکثریت بے نمازیوں کی ہے، لہٰذا آج یہ اس طور پر شعائر اسلام نہیں رہی ،اس لیے آج ترک صلوٰۃ پر خروج جائز نہ ہوگا۔ ہم اس تاویل کا سر اور پیر دونوں ہی تلاش کرنے سے قاصر ہیں، اہل علم خود ہی اس تاویل کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ البتہ اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ حدیث شریف کا مدعا یہ بتانا ہے کہ اقامت صلوٰۃ ہر دور کے لیے حقیقی اسلام کے اظہار کا کم سے کم درجہ ہے۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیمانہ بتا دیا جس میں تول کر فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ مومن اور کافر میں فرق کرنے والی شے نماز ہے۔ اس نکتہ شناسی کا مطلب یہ ہوا کہ شعائر اسلام کا تعین قرآن و سنت کی نصوص سے نہیں بلکہ فاسق مسلم اکثریت کے اعمال سے ہونا چاہیے۔ 

ط) پھر خیر القرون میں خروج کی سب سے اعلی نظیر حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ اور امام حسینؓ کے طرز عمل میں نظر آتی ہے جس کا مقصد اسلامی خلافت و ریاست کو امارت و سلطنت کے بجائے خلافت راشدہ کی طرف پلٹادینے کی جدوجہد کرنا تھا۔ دوسرے لفظوں میں ان اصحاب کی جدوجہد اختیار عزیمت کی اعلی مثال ہے جسے علماء اہل سنت نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ان دونوں حضرات کی نظیر اہل سنت و الجماعت کے نزدیک اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ اسی طرح امام ابوحنیفہؒ کا نفس زکیہ وغیرہ کے خروج کا ساتھ دینا بھی اہل علم کو خوب اچھی طرح معلوم ہے ۔

ی) اسی طرح متعدد قواعد فقہ سے بھی خروج پر استدلال ہوتا ہے، مثلاً: ان الضرر یزال،یعنی نقصان کا ازالہ کیا جانا ضروری ہے، نیز : ازالۃ الضرر الاکبر بالضرر الاصغر یعنی بڑے نقصان کا ازالہ نسبتاً کم تر نقصان سے کیا جائے گا، وغیرہ۔

★ خروج کی اجازت دینے والے علماء کے نزدیک بھی اس کی اجازت چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے: 

اول: خروج تب کیا جائے جب بگاڑ بڑی نوعیت کا ہو ، یعنی جب حکمران کھلے بندوں واضح احکامات شرعیہ کی دھجیاں بکھیرنے لگیں، اسلامی نظام اطاعت معطل ہو کر غیر اسلامی نظام اطاعت غالب آچکا ہو۔ دوسرے لفظوں میں خروج امارۃ ضالہ و کفر کے خلاف کرنا چاہیے۔ فقہاء کرام نے جواز خروج کی جس شرط پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وہ شریعت اسلامی کا معطل ہوجانا ہی ہے: 

  • علامہ شامیؒ فرماتے ہیں: ’’تین چیزوں سے دارالاسلام دارلحرب میں تبدیل ہوجاتا ہے، اہل شرک کے احکام کے اجراء سے، اس شہر کے دارالحرب سے متصل ہونے سے، امن اسلام کے خاتمے سے‘ ‘ (فتاویٰ شامی: جلد ۴) 
  • امام یوسف ؒ و محمدؒ کے نزدیک کسی علاقے میں مذکورہ امور میں سے صرف کفریہ احکامات کا اجرا ہی اسے دارالحرب بنانے کے لیے کافی ہے ۔
  • امام سرخسیؒ فرماتے ہیں: ’’احکام اسلام کے اجرا کے بغیر دارالحرب دارالاسلام میں تبدیل نہیں ہو سکتا ‘ ‘ (مبسوط : جلد ۱۰) 
  • علامہ علاؤ الدین کاسانیؒ فرماتے ہیں: ’’ہمارے علماء میں اس بات میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ دارالکفر اسلامی احکامات ظاہر ہونے سے دارالاسلام میں تبدیل ہوتا ہے۔‘ ‘ (بدائع الصنائع: جلد ۷) 
  • شاہ ولی اللہ ؒ لکھتے ہیں : ’’اگر کوئی ایسا شخص حکمران بن جائے جس میں تمام شروط نہ پائی جائیں تو س کی مخالفت میں جلدی نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ اس کی مخالفت سے ملک میں لڑائی جھگڑے اور فساد پیدا ہوں گے ... لیکن اگر حکمران کسی اہم دینی امر کی مخالفت کرے تو اس کے خلاف قتال جائز بلکہ واجب ہوگا، اس لیے کہ اب اس نے اپنی افادیت ختم کردی اور قوم کے لیے مزید فساد و بگاڑ کا سبب بن رہا ہے، لہٰذا اس کے خلاف قتال جہاد فی سبیل اللہ کہلائے گا۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغۃ: ۲؍۳۹۹) 
  • علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ’’جب دین (نظم اطاعت) غیر اللہ کے لیے ہوجائے تو قتال واجب ہوجاتا ہے، چنانچہ جو لوگ اسلام کے واضح و متواتر احکامات و قوانین کی پابندی نہیں کرتے، ان سے قتال کے واجب ہونے پر میں علماء اسلام میں کوئی اختلاف نہیں جانتا‘۔‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ: ۲۸؍۵۱۱-۵۰۲) 

دوئم: حالات اتنے ساز گار اور قوت اتنی ہو کہ خروج کی صورت میں کامیابی کے امکانات روشن ہوں ۔ کامیابی کے امکانات اور تیاری کے مراحل بہر حال اجتہادی مسائل ہیں کیونکہ نہ تو حالات ہی ہمیشہ یکساں کیفیت کے ہوتے ہیں اور نہ تیاری کے لگے بندھے اصول ہیں بلکہ تیاری کی کیفیت و مراحل کو در پیش حالات پر منطبق کرنے کے نتیجے میں ایک حکمت عملی وضع کرناہوتی ہے جس کی نوعیت ہمیشہ مختلف ہواکرتی ہے۔ البتہ جدوجہد کے متوقع نتائج کے اعتبار سے علامہ ابن قیم ؒ کی بات بہت خوبصورت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ انکار منکر کے چار درجات ہیں: 

۱) ایک منکر ختم ہوجائے اور اس کی جگہ معروف قائم ہوجائے، ایسا کرنا مشروع ہے ۔

۲) ایک منکر کم ہوجائے اگرچہ ختم نہ ہو، یہ بھی مشروع ہے ۔

۳) ایک منکر ختم ہوجائے، مگر اس کی جگہ ویسا ہی منکر قائم ہوجائے، یہ اجتہادی مسئلہ ہے (کہ آیا واقعی اسی درجے کا دوسرا منکر آجائے گا یا نہیں ) ۔

۴) ایک منکر ختم ہوجائے، مگر اس کی جگہ اس سے بھی بڑا منکر قائم ہوجائے، ایسا کرنا حرام ہے ۔

★ رہی یہ بات کہ جب بذریعہ قوت خروج کی استطاعت نہ ہو تو کیا کیا جائے تو اس کا جوا ب یہ نہیں کہ اس جدوجہد کو روز محشر تک کے لیے خیر باد کہہ دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ مناسب تیاری کی جائے، یعنی ایسی صورت میں خروج کی تیاری کرنا لازم ہے کیونکہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ہواکرتا ہے ۔ شیخ عبد المنعم المصطفی حلیم فرماتے ہیں کہ اس تیاری کی کئی صورتیں اور درجے ممکن ہیں: 

۱) حسب استطاعت فکری و عملی تیاری کرنا تاکہ ایک طرف خروج کے لیے ذہن سازی ہو سکے تو دوسری طرف متبادل ادارتی صف بندی کی کوشش کی جاسکے تاکہ قوت کو موجودہ اداروں و افراد سے چھین کر (یعنی ان کا اقتدار معطل کرکے ) متبادل اداروں و افراد میں مجتمع کردیا جائے تاکہ خروج کے لیے راہ ہموار ہو اور امت مسلمہ کو باطل کے غلبے سے نجات ملے۔

۲) حکمرانوں سے علیحدگی اختیار کرکے نظام باطل کی مضبوطی کا باعث نہ بننا۔ یعنی ایسے امور ترک کردیے جائیں جن سے ان کی سلطنت مضبوط ہو یا ملک پر ان کا اثرو رسوخ بڑھے۔ اس کی اعلیٰ مثال امام ابوحنیفہؒ کی زندگی میں نظر آتی ہے جنہوں نے باوجود سرکاری جبر کے منصور کی سلطنت میں قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول نہ کیا ۔

۳) ان کے آئین و باطل قوانین کو برضا و رغبت تسلیم نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسی بات کی جائے جو اعتراف حاکمیت یا قبولیت نظام کا فائدہ دے اور اگر کچھ لوگ متفق ہوکر ان سے علیحدہ ہونے اور ان کے خلاف تیاری کرنے کے رویے کو اپنائیں تو ان کا فکری وعملی سطح پر ساتھ دینا چاہیے تا کہ باطل نظام اقتدار کمزور ہو اور اس سے نجات مل سکے ۔

یاد رہے کہ باطل نظام اقتدار پر مطمئن رہنا درحقیقت اس سے رضا مندی کی علامت ہے کیونکہ اقتدار کے معاملے میں لاتعلقی یا نیوٹرل رویے کی کوئی حقیقت نہیں ، یعنی یا تو آپ کسی نظام اقتدار کے خلاف ہوتے ہیں یا اس کے حق میں۔ ان کے درمیان کوئی راستہ موجود نہیں۔ 

خلاصہ بحث:

اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ: 

★  ایسی احادیث جن میں خروج سے منع فرمایا گیا ہے، ان کا تعلق یا تو انفرادی و شخصی حقوق سے ہے یعنی اگرحکمران ذاتی طور پر تم پر ظلم کررہا ہو مگر ریاست کی بنیاد شریعت ہو تو تم صبر کرو اور اجتماعیت کو نقصان نہ پہنچاؤ اور یا پھر حکمران کی انفرادی برائیوں سے ہے۔ اس استدلال کا قرینہ اس حدیث میں موجود ہے: 

’’حضرت عبادہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا تو ہم نے آپ کی بیعت کرلی۔ آپ نے بیعت کے لیے جو شرطیں لگائیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہم اپنے امیر کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، خوشی کی حالت میں بھی اور ناخوشی کی حالت میں بھی، تنگی میں بھی اور آسانی میں بھی، اور اس حالت میں بھی کہ ہم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے اور یہ کہ ہم اہل امور سے جھگڑا نہیں کریں گے، یہاں تک کہ تم ان میں ایسا کھلا کفر دیکھ لو جس کے کفر ہونے پر تمہارے پاس اللہ (کی کتاب) کی طرف سے کھلی دلیل ہو۔‘‘ (بخاری کتاب الفتن و مسلم کتاب الامارۃ)۔ 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انفرادی حقوق تلفی (مثلاً باوجود اہلیت عہدہ نہ ملنے ) کی بنیاد پر اطاعت امیر سے نکلنا جائز نہیں البتہ نظم اجتماعی میں واضح رخنہ اندازی کی صورت میں ایسا کرنا جائز ہے۔ چنانچہ اس قبیل کی دیگر احادیث کو یہ معنی پہنانا کہ دین سے منحرف اور سرمایہ داری کی ایجنٹ ریاست کے ساتھ بھی التزام جماعت تقاضائے شریعت ہے، درحقیقت نصوص میں تضاد پیدا کرنا ہے ۔

★  اصول حدیث کے مسلمہ اصول ’’احادیث ایک دوسرے کی تشریح کرتی ہیں‘‘ کی رو سے ایسی تمام احادیث جن میں اطاعت امیر کیلئے اطاعت شارع کی شرط لگائی گئی ہے ان تمام احادیث کی تشریح کرتی ہیں جن میں بظاہر اس قید کا ذکر موجود نہیں۔ چنانچہ امام قرطبیؒ سورۃ بقرۃ آیت ۱۲۴ کے تحت فرماتے ہیں: ’’امام وہ ہوتا ہے جس کا دامن گناہ کبیرہ سے داغدار نہ ہو، احسان کی صفت سے متصف ہوتا ہے اور اس میں حکومت کی ذمہ داریوں کو بجا لانے کی صلاحیت بھی ہو۔ ان خوبیوں والے امام کے متعلق ہی نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ ان سے مت جھگڑو لیکن جو فاسق و فاجر ہوں وہ امامت کے حقدار ہیں ہی نہیں‘‘۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو جن آخری باتوں کی وصیت فرمائی ان میں سے ایک یہ بھی تھی: ولواستعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اللہ فاستمعوا لہ واطیعوا (بخاری) یعنی اگر تم پر ایک غلام بھی امیر بنا دیا گیا ہوجو تمہاری امارت اللہ کی کتاب کے مطابق کررہا ہو تو اسکی بات سنو اور اطاعت کرو ۔

★  علماء کرام کے اقوال و افعال میں تطبیق دینے کی صورت یہ ہے کہ اصولاً خلاف خروج اقوال کو امارۃ عادلہ اور جابرہ کے خلاف خروج پر محمول کیا جائے ۔

★  اگر علماء کرام کے خلاف خروج اقوال کو امارۃ ضالہ پر بھی محمول کیا جائے تو اس کی وجہ فساد برپا ہونے کا اندیشہ ہے نہ کہ خروج کا اصولاً ہر حال میں ناجائز ہونا ۔ امارۃ ضالہ کے خلاف خروج کے ان اقوال کا پس منظر یہ ہے کہ گو ان میں گوں نہ گوں برائیاں پائی جاتی ہیں، البتہ ان امارتوں کے ذریعے اسلامی ریاستی (بشمول تعلیمی، عدالتی، معاشرتی، ادارتی، تعزیری، تبلیغی، جہادی وغیرہم) نظم بہر حال محفوظ اور قائم و دائم ہوتا ہے اور ریاستی نظام بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو اپنی زندگیاں شارع کی رضا کے مطابق گزارنے سے نہیں روکتا بلکہ اس میں مدد و مددگار ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایسی حکومتوں کو بھی بصورت عدم دستیابی قوت برداشت کرلیا جائے کہ بصورت دیگر خیر کم اور شر زیادہ پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔

★  البتہ ان اقوال فقہاء کا تعلق غیر اسلامی ریاستوں کے ساتھ جوڑنا یا تو علمی خیانت ہے اور یا پھر نا سمجھی ۔

(۲.۲) اقوال فقہاء کا دوسرا پہلو 

حصہ اول میں بیان کردہ اصولی مباحث سے واضح ہوتا ہے کہ: 

★  عدم خروج کے جو اقوال کتب فقہ میں موجود ہیں وہ فاسق حکمران کی موجودگی میں ہی صحیح مگر اسلامی ریاست (نہ کہ محض حکومت) کی موجودگی کو بہرحال فرض (pre-suppose) کرتے ہیں ۔

★  لہٰذا علمائے متقدمین نے خروج کے خلاف جو فتوے دئیے تھے انہیں موجودہ صورت حال پر منطبق کرنا درست نہیں کیونکہ یہاں تو سرے سے وہ اسلامی ریاست ہی مفقودہے جس کے خلاف خروج پر وہ فتوے دئیے گئے تھے، یعنی جس ’اسلامی ریاست کے اندر ‘ فساد کے اندیشے کی وجہ سے یہ فتوے دیے گئے، وہ ریاست ہی جب سرے سے مفقود ہے تو ان فتووں کی آڑ میں موجودہ ریاستوں کو تحفظ دینے کا کیا مطلب؟ ہماری فقہ کے اہم اصول پہلی اور دوسری صدی ہجری میں مرتب ہوئے جب بنوامیہ اور عباسی خلافتیں قائم تھیں۔ آج کے دور میں تو مسلمان آبادیوں اور حکمرانوں سب پر طاغوت کا غلبہ ہے، لہٰذا ان حالات میں بجائے انقلابی جدوجہد کی ضرورت کا دفاع کرنے کے انہیں غلط طور پر ان اصولوں پر منطبق کرنے کی کوشش کرنا جو فقہاء کرام نے ’خلافت اسلامیہ ‘ کے تناظر میں مرتب کیے تھے، قیاس مع الفارق ہے۔ پس فقہائے کرام کے اقوال منکرین خروج کے حق میں دلیل بننے سے قاصر ہیں، اگر وہ واقعی اپنے حق میں کوئی دلیل پیش کرنا چاہتے ہیں تو فقہائے کرام کے ایسے اقوال پیش کریں جن کے مطابق غیر اسلامی ریاست کے خلاف ہر حال میں جہاد (خروج) کرنا ناجائز قرار دیا گیا ہو۔ اگر ایسا کوئی قول ہے تو براہ مہربانی پیش کیا جانا چاہیے کیونکہ موجودہ ریاستوں کے تناظر میں خلاف خروج اقوال پیش کرنا ظلم (وضع الشیء علی غیر محلہ) کا مصداق ہے کہ یہ تمام اقوال تو ’اسلامی ریاست‘ نہ کہ ’غیر اسلامی ریاست ‘ کے پس منظر میں نقل ہوئے ہیں۔ پس موجودہ حکومتوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کو خروج کہنا ایک کم تر اور نسبتاً کمزور دلیل سے اسکا جواز فراہم کرنا ہے کیونکہ اس کے لیے زیادہ مناسب اور بہتر علمی اصطلاح شاید جہاد ہونی چاہیے۔ (۷)۔ 

فقہ اسلامی میں خروج سے مراد ’اسلامی ریاست‘ کی اصلاح کیلئے اسلامی حکومت کے خلاف بذریعہ قوت جدوجہد کرنا ہے۔ خروج بطور حکمت عملی تب محل بحث ہوسکتی ہے جب اسلامی ریاست موجود ہو۔ البتہ جب اسلامی ریاست سرے سے موجود ہی نہ ہو تو ایسے حالات میں ریاست کے خلاف بذریعہ قوت کی جانے جدوجہد خروج نہیں بلکہ اصطلاحاً جہاد کہلاتی ہے (جیسے تاتاری حکومت کے خلاف برپا کی گئی اسلامی جدوجہد)۔ دوسرے لفظوں میں تصور خروج خلافت اسلامی کی موجودگی کو فرض کرتا ہے اور اسکی عدم موجودگی میں جو شے مدار بحث ہونی چاہئے وہ خروج سے آگے بڑھ کر جہاد ہونی چاہئے۔ یہ بات درست ہے کہ فاسق و فاجر اسلامی حکومت کے خلاف جائز خروج بھی معناً جہاد کے زمرے میں شمار ہوتا ہے (جیسا کہ حدیث شریف میں بیان ہوا: ’’جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا بہترین جہاد ہے‘‘، نیز تفسیر جصاص میں نفس زکیہ کے خروج کے حق میں امام ابوحنیفہؒ کا قول منقول ہے کہ آپ نے اسے کفار کے خلاف جہاد سے افضل قرا ر دیا )، البتہ یہاں بات اصطلاح کی ہو رہی ہے۔ یہ فرق بالکل ایسا ہے جیسے لفظ ’حد‘ بطور فقہی اصطلاح اوربطور قرآنی اصطلاح میں معنوی فرق ہے۔ پس دور جدید میں خروج کی بحث اٹھانے والے حضرات پر درحقیقت موجودہ مسلم ریاستوں کی اصل حقیقت ہی واضح نہ ہوسکی۔ 

جمہوریت کی درج بالا مثال پر قیاس کرتے ہوئے چند اہم باتوں کو بھی سمجھا جا سکتا ہے : 

★  اسلامی خلافت بھی محض تبدیلی حکومت کے مخصوص نظام (شوریٰ کے مشورے سے خلیفہ کے تعین) کا نام نہیں بلکہ یہ بھی ایک مکمل نظم اطاعت ہے، لہٰذا کسی ایک ادارے کے کرپٹ ہوجانے سے پورا اسلامی نظام ختم نہیں ہوجاتا۔ دور ملوکیت میں جو بنیادی ادارتی خرابی پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ ’اہل الرائے ‘ کے مشورے سے خلیفہ کی نامزدگی کا نظام ختم ہو گیا اور ریاست و حکومت کے اس فرق کو نہ پہچاننے کی وجہ سے خلافت راشدہ کے بعد اسلامی نظام اقتدار میں آنے والی جزوی تبدیلی (اہل الرائے کے مشورے سے خلیفہ کے تعین) کو جدید مفکرین نے بذات خود اسلامی ریاست کی تبدیلی پر محمول کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے بادشاہوں کے فسق کے باوجود خروج سے منع فرمایا ہے کہ ان انفرادی خرابیوں کے باوجود ریاستی نظام بحیثیت مجموعی اسلامی تھا اور خروج کے نتیجے میں نظم اطاعت کو خطرہ ہوسکتا تھا 

★  یہاں سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ خروج کا وقت اجتہادی مسئلہ کیوں ہے۔ جیسا کہ واضح کیا گیا، ریاست درحقیقت ایک پیچیدہ ساخت ہوتی ہے جس کا مقصد مخصوص علمیت و عقلیت کے مطابق احکامات کا صدور و نفاذ کرنا ہوتا ہے۔ چانچہ یہ فیصلہ کہ آیا نظام اطاعت میں کتنی تبدیلی کے بعد نظام اطاعت کی ’بنیاد ‘ تبدیل ہوگئی ہے اور اب خروج (بذریعہ قوت اصلاح ) کے لیے نکلنا ضروری ہوگیا، ایک مشکل امر ہوتا ہے اور لامحالہ ایک مجتہد فی مسئلہ ہے۔ خروج کاو قت طے کرنے کا مسئلہ محض فقہاء اسلام ہی نہیں بلکہ جمہوری مفکرین کے لیے بھی ایک خاصا مشکل امر ہے۔ ان مفکرین کے نزدیک جمہوری انقلاب برپا کرنے کے لیے تو ہر قسم کی جدوجہد (بشمول مسلح جدوجہد) جائز ہے کیونکہ ان کے نزدیک جمہوریت تو عقل و فطرت کا تقاضا ہے، البتہ جمہوریت کے خلاف کوئی انقلابی جدوجہد جائز نہیں، لیکن یہ طے کرنا کہ کب اور کہاں آمرانہ جمہوری ریاست بنانے کا وقت آگیا ہے، ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے جس کے ضمن میں یہ مفکرین ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ (مثلاً کچھ امریکی مفکرین کا خیال ہے کہ عرب دنیا یا پاکستان میں آمرانہ حکومتوں کا ساتھ دینے سے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے جبکہ کچھ کے خیال میں حالات کی روشنی میں ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے) ۔

★  اسی طرح یہ بھی واضح ہوگیا کہ موجودہ دور کی مسلم ریاستوں کو فقہاء کے اقوال کی روشنی میں جانچتے وقت یہ بات ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ تقریباً تمام ہی مسلم ریاستیں یا تو لبرل یا آمرانہ جمہوری نظم کے تحت کام کررہی ہیں اور جن کا اسلامی نظم اطاعت سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں۔ لہٰذا ان ریاستوں کو غلط طور پر اسلامی فرض کرکے انہیں ان اقوال کی روشنی میں خروج سے پناہ دینا قیاس مع الفارق ہے۔ پس ائمہ سلف کے فتاوی کو ان کے پورے محل سے کاٹ کر الگ اور بے محل پیش کرنے کے بجائے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہ فتوی کن حالات اور کن امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیا گیا تھا۔ 

(۳) منکرین خروج کے اشکالات کا جائزہ 

درج بالا بحث کے بعد اب ہم منکرین خروج کی طرف سے پیش کئے جانے والے اہم شکوک و شبہات کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔ یہ مسلمہ اصول شرعی ہے کہ کسی شے کے عدم جواز کے لیے دلیل شرعی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ منکرین خروج پر اپنے مقدمے کو دلیل شرعی سے ثابت کرنا لازم ہے ، بصورت دیگر یہ محض ان کی رائے کہلائے گی۔ خروج کا انکار کرنے والے حضرات کا دعوی درج ذیل میں سے کسی ایک حالت پر محمول ہوتا ہے: 

(۳.۱) اسلامی حکومت (چاہے وہ کیسی ہی ہو) کے خلاف خروج مطلقاً ( حالات کیسے ہی ہوں) ناجائز ہے:

اگر کسی کا دعویٰ یہی ہے (جیسا کہ بعض شرکائے مجلس نے بھی کیا) تو اسے اپنی دلیل قرآن و سنت، آثار صحابہ اور اجماع امت سے پیش کرنا ہوگی، محض چند فقہاء کی عبارات پڑھ دینا اسے کفایت نہیں کرے گی۔ پھر اس شخص پر لازم ہے کہ وہ ان تمام احادیث کی توجیہ بھی بتا دے جن میں کفر بواح یا ترک اقامت صلوٰۃ ( یعنی ترک فرائض) کی صورت میں خروج کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ پھر اس شخص پر حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے خروج کے بارے میں بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرنا لازم ہے اور ساتھ ہی اسے یہ بات بھی صاف صاف بتا دینا چاہیے کہ ان دونوں حضرات کے خروج کے بارے میں اہل سنت کی جو اجماعی رائے رہی ہے، اس کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتا ہے۔ (ظاہر ہے اس مضمون کے مخاطبین اہل سنت ہی کے گروہ ہیں) ۔

(۳.۲) مخصوص حالات میں اسلامی حکومت کے خلاف خروج جائز تو ہے، مگر ’موجودہ مسلم ‘ (نہ کہ اسلامی ) حکومتوں کے خلاف خروج ناجائز ہے:

فرض کریں یہ شخص اپنے درج بالا عمومی دعوے سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ دعوی کرتا ہے کہ چند ناگزیر حالات (مثلا کفر بواح وغیرہ ) میں خروج جائز ہوتا ہے اور اس بنا پر وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا خروج جائز قرار دے کر خود کو اہل سنت کا ہم نوا ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ مگر چونکہ اس کی اصل دلچسپی تو محض موجودہ حالات میں خروج کا عدم جواز ثابت کرنا ہے، لہٰذا وہ یہ لاحقہ بھی لگا دیتا ہے کہ ’’’موجودہ حالات میں یہ ناجائز ہے، بالکل اسی طرح جیسے مسلمان بادشاہوں کے خلاف فقہا نے اس کا ناجائز ہونا لکھا ہے‘‘، مگر یہ تاویل بھی اس کی مشکلات حل نہیں کرپائے گی کیونکہ اب اسے یہ بتا نا ہوگا کہ : 

★  امارت یزید میں آخر امت مسلمہ کو ایسا کون سا ’کفر بواح‘ پیش آگیا تھا جو آج کی (مفروضہ) اسلامی ریاستوں میں درپیش نہیں؟ ہماری عاجزانہ رائے میں یزید کے تمام جرائم اپنی جگہ مسلم، مگر اس کی امارت کئی وجوہات کی بنا پر آج کی مسلم ریاستوں سے بہتر تھی ۔

★  پھر اس شخص کے بقول اگر فقہاء کے نزدیک ظالم بادشاہ کی اطاعت لازم ہے تو پھر اسے چاہیے کہ ان اقوال کی روشنی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے خروج کو پرکھ کر یا تو ان حضرات کے خروج کو باطل قرار دے اور یا پھر ان میں کوئی ایسی تطبیق پیش کرے جسے عقل قبول کرنے پر آمادہ ہوسکے ۔

★  پھر اس شخص کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ فقہائے کرام کے جن اقوال کو وہ پڑھ کر سنا رہا ہے، ان کا تعلق ’اسلامی ریاست‘ سے ہے یا ’مسلم ریاست‘ سے؟ منکرین خروج کے خیال میں اگر کسی علاقے میں بسنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہو اور وہ اپنی مرضی سے چند افراد کو اپنا حاکم چن لیں تو ایسی ریاست ’مسلم ریاست‘ (بمعنی عادلانہ ریاست) کہلاتی ہے، علی الرغم اس سے کہ ان کا نظم اجتماعی کس بنا پر قائم ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ’مسلم ریاست‘ کا یہ اچھوتا و نرالا فلسفہ کس دلیل شرعی سے کشید ہ گیا ہے، کیونکہ فقہ اسلامی میں ریاست یا تو اسلامی (بشمول فاسق) ہوتی ہے اور یا پھر کافر، بالکل اسی طرح جیسے ایک شخص یا تو مومن ہوتا ہے اور یا پھر کافر۔ آخر اہل سنت کے ہاں معتزلہ کے ’المنزلۃ بین المنزلتین‘ کے جس عقیدے کو فرد کے لیے غیر عقلی و باطل سمجھا گیا ہے، اسے ریاست کے لیے کس شرعی و عقلی دلیل کی بنا پر جواز فراہم کیا جا رہا ہے؟ اگر اقوال فقہاء کا تعلق اسلامی ریاست سے ہے تو انہیں موجودہ مسلم ریاستوں پر چسپاں کرکے کیا علمی خیانت نہیں کی جارہی ؟ 

★  درج بالا سیکشن میں طاغوت کا مفہوم واضح ہوجانے نیز دیگر نصوص کے بعد یہ سوال ہی غیر متعلق ہوجاتا ہے کہ حکومت کو عوام الناس کا اعتماد حاصل ہے یا نہیں۔ نصوص شریعت میں امارت عادلہ کی شرط ’شریعت کا پابند ہونا ‘ بتائی گئی ہے نہ کہ عوامی رائے پر قائم ہونا۔ مثلاً اوپر ذکر کی گئی نصوص میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ اگر طاغوت عوامی رائے پر مبنی ہو تو اس کی حکمرانی اور اطاعت نہ صرف جائز بلکہ لازم ہوتی ہے۔ چنانچہ جو بھی ریاست اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انحراف پر قائم ہو، طاغوت کے حکم میں شامل ہے، خواہ وہ استبدادی بادشاہت ہو، یا لبرل و آمرانہ جمہوریت۔ یہ دلیل دینے والے حضرات پر لازم ہے کہ اپنے دعوے پر ایسی شرعی دلیل پیش کریں جس سے نصوص میں تعارض واقع نہ ہو۔ جدید مفکرین کا مسئلہ یہ ہے کہ دور جدید میں پائے جانے والے ہر تصور کو اسلامیانے کے لیے ایک ایسی ’لمبی چھلانگ ‘ لگاتے ہیں جس کا ذکر اسلامی علمیت میں کہیں نہ پایا جاتا ہو۔ چنانچہ کسی معتبر اسلامی سیاسی مفکر نے یہ بات نہیں لکھی کہ عوامی رائے پر مبنی ریاست علی الرغم اس سے کہ وہ شریعت کی پابند ہے یا نہیں عادل ریاست ہوتی ہے۔ مثلاً شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ازالۃ الخفا (ص ۲) میں خلافت کی تعریف اور اس کے فرائض منصبی کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ’’خلافت وہ عمومی ریاست ہے جو اقامت دین کے لیے عملاً متوجہ رہتی ہو (اور دین کو قائم رکھنے کے لیے) دینی علوم کی اشاعت اور احیا کا فرض انجام دیتی ہو، ارکان اسلام کو قائم رکھتی ہو، جہاد اور اس سے متعلقہ امور کے لیے کمر بستہ اور تیار رہتی ہو...، عدالتی نظام قائم رکھتی ہو، شرعی سزائیں قائم کرتی ہو، مظالم کا خاتمہ کرتی ہو، نیکی کا حکم دیتی ہو اور برائی سے روکتی ہو اور یہ سارے فرائض ریاست وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کے طور پر انجام دیتی ہو‘‘۔ گویا جو ریاست یہ امور سر انجام نہ دے، وہ خلافت ہے ہی نہیں۔ اسی طرح علامہ ابن تیمیہؒ کی کتاب السیاسۃ الشرعیہ اور امام ماوردیؒ کی الاحکام السلطانیہ بھی متجددین حضرات کے اس نظریے کا چیخ چیخ کا رد بیان کرتی ہیں۔

★  اگر یہ سنہری اصول مان لیا جائے کہ ہر وہ حکومت جسے عمومی رائے عامہ حاصل ہو، امارت عادلہ ہوتی ہے علی الرغم اس سے کہ وہ شریعت کی پابند ہے یا نہیں، تو موجودہ دور کی تمام کافر حکومتیں بھی عین امارت عادلہ قرار پائیں گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ موجودہ دار الحرب بھی عین عادلانہ ریاستیں کہلانے کی مستحق ٹھہریں گی ، فیا للعجب ۔

★  پھر ’عوامی رائے پر مبنی موجودہ مسلم ریاستوں کے خلاف خروج ناجائز ہونے ‘ کی اس دلیل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ فرض کریں، اگر مستقبل میں کبھی امریکہ کی ایک اکثریت مسلمان ہوجائے اور جمہوریت کی بنا پر وہاں حکمرانوں کی اکثریت مسلمانوں پر ہی مشتمل ہوجائے اور اپنے دل کو بہلانے اور عوام الناس کو جھانسا دینے کے لیے وہ اپنے آئین میں اس جملے کا اضافہ کرلیں کہ ’ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا‘ (اور اس کے ساتھ ہی مضحکہ خیز طور پر ہیومن رائٹس پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کر وا دیں جیسا کہ آئین پاکستان میں ہے) جبکہ سارا کا سارا نظام جوں کا توں ویسا ہی چلتا رہے جیسا کہ آج چل رہا ہے، تب بھی اس ریاست کو روز محشر تک کے لیے خروج کے خلاف ’اسلامی پناہ گاہ‘ میسر آجائے گی ۔

★  پھر اس اصول کا مطلب یہ بھی ہوا کہ عمومی رائے عامہ کے بغیر قائم ہونے والی تمام ریاستیں غیر عادلانہ کہلائی جانی چاہئیں۔ خدا نخواستہ اگر کہیں محمد بن قاسمؒ بھی عادلانہ ریاست کے قیام کے لیے ’عوامی تائید‘ کی اس غلط فہمی کا شکار ہوتا تو کبھی ہندوستان میں اسلامی ریاست کی بنیاد نہ ڈالتا۔ ’عوامی تائیدکی شرط‘ کے اس فلسفے کے مطابق ہندوستان اور اندلس کی اسلامی ریاستیں یقیناًغیر اسلامی ٹھہریں گی، کیونکہ ان علاقوں میں مسلمانوں کو کبھی عوامی اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ گویا اموی دور سے لے کر ترک خلافت تک تقریباً تمام ریاستیں غیر عادلانہ اسلامی ریاستیں تھیں ۔

★  منکرین خروج کو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ آخر مسلمانوں کی مرضی سے قائم شدہ ریاست غیر اسلامی کیسے ہوسکتی ہے! اس مشکل کا حل انہوں نے یہ نکالا ہے کہ اگر مسلمان کسی جگہ اپنے اجتماعی معاملات اپنی مرضی سے طے کرنے کے مجاز ہوں تو بس اتنی اجازت ہی ان کے معاملات کے اسلامی ہونے کے لیے کافی دلیل ہے، حالانکہ اس مفروضے کی غلطی سمجھنے کے لیے اس متفقہ اصول پر غور کرلینا کافی ہوگا جسے سب مانتے ہیں کہ کسی امر پر مسلمانوں کا اجتماعی طرز عمل اس امر کے اسلامی ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ چنانچہ اسی اصول کی بنا پر مسلمانوں کے بے شمار اخلاقی، سماجی و مالی معاملات کو شریعت کی روشنی میں پرکھ کر ان کے باطل ہونے کا حکم لگاد یا جاتا ہے، حالانکہ وہ سب کے سب رویے مسلمان اپنی مرضی سے اجتماعی زندگی میں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس اصول کو دین کے دیگر تمام معاملات میں تو متفقہ طور پر قبول کیا جاتا ہے، مگر سیاسی معاملات میں نہ جانے کیوں یہ عجیب و غریب مفروضہ بنا لیا گیا ہے کہ ریاستی معاملات میں مسلمان اجتماعی طور پر جو جی میں آئے کرلیں، بس اسی طرز عمل کا نام اسلام ہے۔ گویا مسلمانوں کا اجتماعی ارادہ، علی الرغم اس سے کہ وہ مطابق شریعت ہے یا نہیں، خدا کی مرضی کا مظہر و تفسیر ہے۔ ظاہر بات ہے اسلامی علمیت میں اس مفروضے کی کوئی دلیل موجود نہیں، کیونکہ اگر مسلمانوں کا طرز عمل شریعت کی تعبیر کا دوسرا نام ہے تو پھر شارع کی رضا معلوم کرنے کے لیے اصول وضع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ 

درحقیقت ان حضرات کا خروج کے خلاف زیر بحث مقدمہ دو مفروضوں پر قائم ہے : (۱) خلافت راشدہ کے بعد قائم ہونے والی امارت اسلامیہ گویا موجودہ مسلم ریاستوں ہی کے حکم میں ہیں، اور چونکہ فقہاء نے ان امارتوں کے خلاف خروج سے منع کیا ہے، لہٰذا موجودہ مسلم ریاستوں کو بھی ان اقوال فقہاء کی آڑ میں چھپانا ممکن ہے۔ منکرین خروج کے اس مفروضے کی غلطی ہم حصہ دوئم میں واضح کرچکے ہیں۔ (۲) سرمایہ دارانہ ریاستی عمل و علمیت کو غیر اقداری فرض کرلینا جو بالکلیہ باطل تصور ہے۔ 

(۳.۳) مخصوص دینی مصالح و منہاج کی بناء پر موجودہ مسلم حکومتوں کے خلاف خروج نا جائز ہے:

اب فرض کریں، ہمارے محترم منکرین خروج ایک قدم اور پیچھے ہٹ کر اپنے دعواے انکار خروج کو ’دینی حکمتوں اور مصالح‘ تک محدود کردیتے ہیں۔ اگر واقعی ان کا دعویٰ یہی ہے تو اب بحث کا دائرہ ’دلیل شرعی و فقہ الاحکام ‘ کے بجائے ’حکمت عملی‘ اور ’فقہ الواقع‘ کے ابواب میں سکڑ گیا۔ لیکن یہ بالکل واضح ہے کہ ’حالات کے تجزیے کی روشنی میں اختیار کردہ حکمت عملی‘ ایک فرد کی اجتہادی رائے سے زیادہ کوئی دینی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ منکرین کو اس معاملے میں اجتہاد کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کا پورا حق حاصل ہے، مگر وہ گروہِ مخالف کے حق کو بھی کسی دلیل شرعی کی بنا پر ان سے سلب نہیں کرسکتے۔ اگر وہ دین کا درد رکھتے ہوئے اپنی رائے پر ثابت قدم ہیں تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ گروہ مخالف بھی غیرت دینی سے پوری طرح معمور ہے۔ لہٰذا اپنی انفرادی اجتہادی رائے پر مبنی حکمت عملی کو ’عین قرآن و سنت‘ اور گروہ مخالف کی رائے کو ’ باطل اور گمراہی‘ کہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ 

موجودہ جہادی حکمت عملی کو غلط ثابت کرنے کیلئے ایک مزید دلیل یہ بھی تراش لی گئی ہے کہ موجودہ صورت حال میں یہ طریقہ سنت نبوی کے منہاج کے خلاف ہے۔ (بعینہ یہی دلیل ایک فاضل مصنف اویس پاشا قرنی صاحب نے ماہنامہ الشریعہ ۲۰۱۱ کے شمارہ ستمبر مضمون ’’’عصر حاضر میں غلبہ اسلام کے لیے جہاد‘‘ میں دہرائی ہے)۔ اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد مدنی دور میں فرض ہوا جبکہ موجودہ حالات میں مسلمان مکی دور سے گزر رہے ہیں، اور مکی دور کا تقاضا صرف اور صرف دعوت و تبلیغ پر ساری توجہ مرکوز کردینا ہے۔ چلیے ہم ایک لمحے کے لیے قرآنی آیت: الیوم اکملت لکم دینکم کو نظر انداز کرکے ان کی اس ترتیب احکام اور حکمت منہاج کے فلسفے کو مان لیتے ہیں، پھر بھی ان سادہ لوح مفکرین سے کوئی پوچھے کہ جناب مکی و مدنی دور کے منہاج میں فرق کرنے والی شے آخر کیا تھی؟ یہی نا کہ مدینہ میں باقاعدہ ایک ریاست میسر آگئی تھی۔ ہم تاکید کے لیے پھر کہے دیتے ہیں کہ منہاج کا فرق کرنے والی شے مدینہ میں باقاعدہ ایک ریاست کا میسر آجانا ہی تھا نا؟ اگر ایسا ہی تھا جیسا کا امر واقعہ ہے اور منکرین کو بھی قبول ہے تو دور حاضر میں مسلمانوں نے جو یہ درجنوں اسلامی یا مسلم ریاستیں قائم کر رکھی ہیں، کیا اتنی طویل المدت اور ڈھیر ساری ریاستوں کے قیام کے بعد بھی مدنی دور کا آغاز نہیں ہوا؟ آخر اس مدنی دور کا آغاز کس طلوع آفتاب سے ہوگا؟ اس مقام پر منہاج کی یہ دلیل دینے والے حضرات کو کوئی ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا: 

★  یا تو اس حقیقت کا اعتراف کرلیں کہ موجودہ ریاستیں سرے سے اسلامی ہیں ہی نہیں (مگر یہ ماننا ان کے لیے مصیبت ہے، کیونکہ اسی کی آڑ میں تو ان کے خلاف خروج کو ناجائز کہا جارہا ہے۔) 

★  یا یہ دعویٰ کریں کہ یہ ریاستیں محض ’مسلم‘ ہیں۔ اس صورت میں انہیں ’بغیر اسلام‘ مسلم ہونے کا فارمولا قرآن و سنت اور اقوال فقہاء کی روشنی میں سمجھا نا پڑے گا۔

★  اور یا پھر اپنے منہاجی فلسفے کی روشنی میں ان ’شرائط‘ (ہم یہ لفظ فقہی اصطلاح میں استعمال کررہے ہیں) کا ٹھیک ٹھیک تعین فر مادیں جو مدینہ میں تو جہادی حکمت عملی کا وجہ جواز بن سکتی تھیں، لیکن موجودہ حالات میں مانع ہیں۔ 

درحقیقت منکرین کے اس ’منہاجی فلسفے‘ کا منطقی تقاضا یہ تھا کہ انہیں موجودہ حالات میں نہ صرف یہ کہ جہاد کا سب سے بڑا حامی ہونا چاہیے تھا بلکہ پاکستان کو اس کا بیس کیمپ بنانے پر اصرارکرنا چاہیے تھا کہ پاکستانی ریاست تو (بقول ان کے) بنائی ہی اسلام کے لیے گئی تھی، چنانچہ جب ریاست بھی بن گئی تو اب مکی دور کی دہائی کا کیا مطلب؟ 

(۳.۴) خروج و انقلابی جدوجہد کے نتائج فسادا ور نقصانات سے عبارت ہیں، لہٰذا انہیں ترک کردینا چاہیے:

اس مقام پر منکرین ایک اور پلٹی لے کر خروج و جہاد کو غلط ثابت کرنے کے لیے نتیجہ خیزی یا نتیجیت پسندی (pragmatism) اختیار کرلیتے ہیں اور یہ دعویٰ کرنے لگتے ہیں کہ طویل عرصے پر محیط تجربات کے تجزیے سے یہ ثابت ہوچکا کہ انقلابی جدوجہد نہ صرف یہ کہ کوئی مفید نتائج پیدا کرنے سے قاصر رہی ہے بلکہ امت مسلمہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ اس دلیل کا اصولی جواب تو یہ ہے کہ فائدوں اور نقصانات کا تعلق بھی حکمت کے باب سے ہے نہ کہ اصل دلائل شرعیہ سے، لہٰذا ان کی بنا پر کسی شے کی مخالفت ایک اجتہادی رائے سے زیادہ کچھ نہیں۔ پھر ’فائدے اور نقصان‘ کا تعین طرز فکر سے ہوتا ہے یعنی ایک شے جو کسی ایک نقطہ نظر کے لحاظ سے فائدہ سمجھی جاتی ہے، عین ممکن ہے کسی دوسرے نقطہ نظر کے اعتبار سے نقصان قرار پائے۔ جس طرح منکرین کو اپنے نقطہ نظر سے فائدے اور نقصان کا تعین کرنے کا حق حاصل ہے، بالکل اسی طرح دوسروں کو بھی اسکا حق حاصل ہے۔ نتائج کی بنیاد پر کسی شے کا حکم متعین کرنا اصول فقہ میں ’سد الذرائع‘ کہلاتا ہے، اور یہ اصول فقہ کا نہایت ہی پیچیدہ باب ہے جہاں فیصلہ کرتے وقت کسی ایک نہیں، بلکہ تمام عوامل (مقاصد شریعت، سماجی حقائق و ضروریات، وقت کی ترجیحات وغیرہ) کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ 

مثلاً فرض کریں کوئی شخص یہ مطالبہ کرتا ہے کہ چونکہ ہر روز ٹریفک حادثات میں ہزاروں جانیں ضائع ہوجاتی ہیں، لہٰذا زیادہ سے زیادہ حد رفتار دس کلو میٹر فی گھنٹہ کردینی چاہیے۔ گو کہ اس قانون کے ذریعے ٹریفک حادثات کو تو زیرو کی سطح پر لایا جا سکتا ہے، لیکن ایسا کرنے کا لازمی نتیجہ انسانی زندگی کو معطل کردینا ہوگا، لہٰذا قانون بنانے والے حضرات اس عنصر کو بھی سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ چونکہ دنیا کی ہر شے میں کسی نہ کسی پہلو سے شر ضرور موجودہ ہوتا ہے، لہٰذا حکم لگاتے وقت کسی ایک پہلو پر ہی ساری توجہ مرکوز نہیں کی جاسکتی بلکہ مکمل پیکیج کو سامنے رکھنا ہوگا۔ لہٰذا اس بنیاد پر کیا گیا فیصلہ بہر حال ایک اجتہادی امر ہوتا ہے جس سے علمی اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن فریق ثانی کو گمراہ یا فاسق کہنا بھی حد درجہ بے اعتدالی ہے۔ اگر یہ طرز عمل اپنا لیا جائے تو کوئی گروہ اس کی زد سے بچ نہ سکے گا۔ مثلاً منکرین خروج کی یہ خواہش ہے کہ مسلمان انقلابی جدوجہد ترک کرکے خود کو جمہوری جدوجہد کے اندر سمو کر یہ امید رکھیں کہ اس طریقے سے وہ غلبہ اسلام کے قابل ہوسکیں گے۔ اس پر ہمارا تبصرہ محض اتنا ہے کہ ایں خیال است ومحال است و جنوں۔ یہ خواہش ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص ببول کے درخت کی آبیاری کے نتیجے میں پھول کھل اٹھنے کی خواہش رکھے۔ تو اگر اس تجزیے کی بنیاد پر کوئی شخص منکرین خروج کو گمراہ، فاسق اور خارجی کہے تو اسے حد درجہ ظلم نہیں کہا جائے گا؟ 

چلیے نتیجیت پسندی کے فلسفے ہی کو معیار بنا لیجیے تو کیا بعینہ یہی سوال پر امن اصلاحی و جمہوری جدوجہد کرنے والی تحریکات پر نہیں اٹھایا جاسکتا؟ آخر ان کے نامہ اعمال میں کامیابیوں کی ایسی کون سی نہ شمار ہونے والی سنہری لسٹ موجود ہے؟ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ’پرامن اصلاحی و جمہوری تحریکات‘ نے مغرب کے باطل تصورات کی بودی اسلام کاری کرکے امت مسلمہ کو عالمی سیکولر ریاستی نظم میں سمو کر جس قدر نقصان پہنچایا ہے، اس کا ازالہ کرنے کے لیے شاید ایک صدی کا عرصہ بھی کم ہوگا۔ مثلا اصلاحی و جمہوری جدوجہد کے نقصانات میں سے چند یہ ہیں: 

  • ایسے فکری لٹریچر کا فروغ جو اسلام کو مغربی قالب میں ڈھالنے کا ذمہ دار ہے ۔
  • اس فکری لٹریچر کے نتیجے میں نوجوانان امت کی ایسی غلط ذہن سازی ہوئی جو کسی صورت سیدھی ہوتی دکھائی نہیں دیتی ۔
  • اس جدوجہد کے نتیجے میں اسلامی جدوجہد حقوق کی جدوجہد کا دوسرا نام قرار پائی ۔
  • یہ جدوجہد مسلمانوں کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں سمونے کا اہم ترین ذریعہ بن رہی ہے ۔
  • امت کے نہایت قیمتی اور نابغہ عصر افراد کو اس جدوجہد میں ضائع کردیا گیا ۔
  • نصف صدی سے لمبے عرصے پر محیط اس جدوجہد نے آج سیاسی اسلامی تحریکات کو ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے جس سے آگے انہیں کوئی راہ نہیں سوجھتی ۔

منکرین خروج کی یہ دلیل درحقیقت دلیل سے زیادہ الزام ہے اور اس قسم کی الزام تراشیوں کے جواب میں شیخ عبد المنعم المصطفی حلیم نے نہایت نفیس نکات بیان کیے ہیں: 

’’جہادی و انقلابی جدوجہد کے جن مفاسد کی طرف اکثر و بیشتر اشارہ کیا جاتا ہے، درحقیقت ان کے پھیلنے کا سبب راہ خداوندی میں جہاد اور طاغوتی حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا نہیں بلکہ ہمارا اپنا نفس اور حکمت عملی کی غلطیاں ہیں۔ ان غلطیوں میں سے چند ایک یہ ہیں: 

۱) مطلوبہ تعداد و تیاری ہونے سے پہلے ہی اقدام کردینا یعنی جلد بازی کا مظاہرہ کرنا ۔

۲) دائرہ عمل کا مجاہدین و انقلابیوں کی طاقت اور صلاحیت سے بڑا ہونا ۔

۳) دور حاضر کی طاغوتی قوتوں کی فکر ، وسائل اور لائحہ عمل کا غلط اندازہ لگاکر توکل کے جذبات سے ان کا مقابلہ کرنا۔

۴) جہادی کاروائیوں کے بارے میں بعض اوقات شدت پسندی کا ایسا رویہ اختیار کرنا جو خارجیوں کے اصولوں پر استوار ہے ۔

۵) اپنی جدوجہد کی کامیابی کے لیے استعمار کی وفادار حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں سے اس طرز کا تعلق رکھنا کہ ان کی مدد کے بغیر جہادی تنظیموں کا وجود ہی برقرار نہ رہ سکے۔ اسی بنا پر جہادی لشکروں کو کارروائیوں کے نتائج حاصل کیے بغیر ہی لوٹنا پڑتا ہے ۔

۶) مسلمانوں کی اکثریت کا مجاہدین کی نصرت و حمایت سے ہاتھ کھینچ کر کھیل تماشوں، دنیاوی لہو لہب اور لغویات میں مشغول ہوجانا ۔

۷) آپس میں مسلکی گروہ بندیوں کا شکار ہونا اور اپنی جدوجہد کو دیگر دینی کاموں سے مربوط کرنے کے بجائے تفریق کے اصول پر کار بند ہوکر باقی سب کاموں کو لایعنی قرار دے کر محض اپنے کام کو دینی کام سمجھنا ۔

۸) سب سے بڑھ کر یہ کہ مبادیات واخلاقیات اسلام و دیگر مقدس امور جن کی بناء پر اللہ تعالی کی جانب سے مدد اترا کرتی ہے، ان میں سست روی اختیار کرنا ۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں جہاد کی ابتدا ہی میں ایسی مشکلات اور غلطیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، لیکن بڑا ظلم کرتا ہے وہ شخص جو ان غلطیوں کو ناقص حکمت عملی کے بجائے خود جہاد کے آثار و نتائج گرداننے لگے۔ ‘‘

یہ درست ہے کہ جہادی و انقلابی تحریکات میں درج بالا نوع کی خرابیاں موجود ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی بنا پر اس جدوجہد ہی کو ترک کردیا جائے بلکہ کرنے کا کام ان کی اصلاح و تزکیہ ہے ۔ اگر ایسی کمزوریوں کو بہانہ بنا کر مجاہدین و انقلابی تحریکات کی مخالفت کرنا جائز سمجھ لی جائے تو پھر ساری دینی تحریکات کی مخالفت کا رویہ اپنانا پڑے گا کیونکہ ان میں سے اکثر و بیشتر اور ان کے علاوہ کئی دیگر خرابیاں ایسی ہیں جو صرف جہادی تنظیموں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ تقریباً سب ہی دینی جماعتیں و تحریکات بشمول مدارس کے علماء، خانقاہوں کے صوفیاء، تبلیغی و دعوتی تحریکات وغیرہ ان میں مبتلا ہیں۔ تو کیا یہ سارے دینی کام بند کرکے ہم ’مسند تنقید‘ سنبھال لیں؟ 

پھر یہ بات بھی یاد رہے کہ ہر جدوجہد محتاط اندازے و تخمینے کے مطابق ہی کی جاتی ہے جس میں کامیابی و ناکامی کے امکانات ’جدوجہد کرنے والوں‘ کے خیال میں برابر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان امکانات کا تخمینہ لگانا ’جدوجہد سے باہر ‘ کسی بیرونی ادارے، افراد یا تحریک کا نہیں بلکہ خود جدوجہد کرنے والوں کا کام ہوتا ہے اور اس ضمن میں انہی کا قول ’قول فیصل‘ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ خروج کرنے والا گروہ زیادہ بہتر طور پر جان سکتا ہے کہ اس کے پاس کتنی قوت ہے اور کب اس کو استعمال کیا جائے۔ پھر کامیابی و ناکامی کے امکانات طے کرنے کاکوئی سائنٹفک معیار و طریقہ کار موجودہ نہیں ہوتا اور نہ ہی جدوجہد سے پہلے اس کی عوامی مقبولیت کا کوئی معین اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جب آغاز جدوجہد میں ناقدین اسے ناکامی کا سرٹیفیکیٹ دے چکے تھے لیکن حالات و واقعات نے ایسی کروٹیں لیں کہ طاقتور ترین دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا۔ 

پھر فائدوں اور نقصان پر غور کرتے وقت کسی ’مثالی نکتہ نگاہ ‘ سے نہیں بلکہ حقائق کی دنیا میں رہ کر ہمہ جہت پہلووں سے غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے (۸) ۔ چنانچہ بعض اوقات یہ پہلو بذات خود نہایت اہم ہوتا ہے کہ اگر ایک معاملہ ’پوری طرح‘ ہمارے حق میں نہیں بیٹھ رہا تو ہم اسے مخالف کے حق میں بھی پوری طرح نہیں بیٹھنے دے رہے، یا یہ کہ اگر کوئی شے ہمارے حق میں بہتر نہیں ہورہی تو ہم اسے بدتر حالت میں نہیں جانے دے رہے، یا اگر یہ بھی ہمارے بس سے باہر ہے تو ہم حالات کو اپنے مخالف کے حق میں اتنا سازگار نہیں ہونے دے رہے جتنا کہ وہ چاہتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات اتنا سا نتیجہ نکالنے کے لیے بھی ڈھیر ساری جدوجہد صرف کرنا پڑتی ہے۔ انقلابی جدوجہد کلیتاًرد کرنے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ ہم استعمار کا غلبہ قبول کرکے اسے اپنی زمینیں، انفرادیت، معاشرت، ریاست و علمیت روند ڈالنے کی کھلی چھٹی دے دیں اور درحقیقت یہی اصل نقصان ( فتنہ) ہے۔ مسلمانوں کا اجتماعی فائدہ اور نقصان یہ ہے کہ آیا نفاذ اسلام اور کفر کی راہ میں مزاحمت کے مواقع پیدا ہورہے ہیں یا نہیں۔ اسلام کا کام صرف عقائد درست کرنا ہی نہیں بلکہ ان عقائد پر نظام عبادت قائم کرکے پوری زندگی کو اس کے تابع کرنا ہے اور یہ کام نظام اقتدار تبدیل کیے بغیر نا ممکن ہے جس کے لیے جہادی و انقلابی جدوجہد مرتب کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اصلاحی جدوجہد۔ 

درج بالا دلیل دینے والے مفکرین اس بات پر نہایت شد و مد سے زور دیتے ہیں کہ خروج وغیرہ سے قتل و غارت اور فساد کا اندیشہ ہوتا ہے جو شریعت کو قطعا مطلوب نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ قتل نفس انتہائی معیوب عمل ہے اور تشکیل حکمت عملی میں اس سے حتی الامکان بچنا ضروری ہے، مگر یہ قرآنی خبر بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ ’فتنہ‘ قتل سے بھی بڑی برائی و گناہ ہے۔ (بقرۃ ۱۹۱، ۲۱۷)۔ فتنے کا معنی آزمائش ہے اور اس سے مراد ہر وہ کیفیت ہے جس میں صاحب ایمان کے لیے ایمان پر قائم رہنا اور اسلام پر چلنا مشکل ہو جائے۔ زیر نظر آیات میں اس سے مراد کفر کا غلبہ اور حق کی راہیں مسدود کرنا ہے، ان معنی میں دور حاضر کے معاشرے و ریاستیں فتنہ ہیں جہاں حلال کے راستے مسدود ہیں جبکہ حرام کے لیے کھلی چھٹی ہے، حیا و عصمت کی زندگی بسر کرنا مشکل ہے جبکہ بدکاری و فحاشی کے فروغ کی کھلی اجازت ہے، زہد، فقر و تقوے کے بجائے حرص، حسد و شہوت کا فروغ معاشرتی عمل کی بنیاد ہے، واضح حرام کو قوانین کا درجہ دے کر حدوداللہ کی پامالی کا ماحول ساز گار کردیا گیا۔ پس جس معاشرے و ریاست پر باطل کا غلبہ ہوگیا، وہ فتنہ ہے اور اسے ختم کرنا حفاظت نفس سے بھی اہم تر ہے۔ چنانچہ اسلام میں فتنے کے خاتمے (حفاظت دین) کو حفاظت نفس پر ترجیح دی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ شریعت میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے کہ اگرچہ اس میں جان کا ضیاع ہے، مگر یہ دین کی حفاظت و بقا اور فتنے کے خاتمے کا ذریعہ ہے (قرآن میں جہاد کی غرض و غایت فتنے کا خاتمہ ہی قرار دی گئی ہے: بقرۃ ۱۹۳)۔ دور حاضر کا سب سے بڑا فتنہ غالب سرمایہ دارانہ نظام ہے جس نے اسلامی انفرادیت، معاشرت و ریاست سب کچھ پراگندہ کر رکھا ہے، لہٰذا اس کے خاتمے کے لیے حالات کے تناظر میں ہر قسم کی حکمت عملی کو اپنانا اصولاً جائز ہوگا ۔ 

(۳.۵) اسلام امن چاہتا ہے:

خروج وجہاد کے خلاف ایک عجیب تاویل کچھ یوں پیش کی جاتی ہے کہ ’اسلام درحقیقت امن کا مذہب ہے اور یہ ہر حال میں قیام امن چاہتا ہے اور صرف اسی ذریعے سے اس کا فروغ ممکن ہے، لہٰذا ہمیں تشدد پر مبنی جدوجہد ترک کردینا چاہیے‘۔ یہ نظریہ امن بداہتاً باطل ہے، کیونکہ امن کا کوئی غیر اقداری اور آفاقی تصور (universal conception of peace) ممکن نہیں، ہر نظام زندگی ایک مخصوص تصور امن کا حامل ہوتا ہے جس کی وجہ حقوق کی تعیین و تفسیر میں اختلاف پایا جانا ہے۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظام زندگی فرد کو جن حقوق کا اہل قرار دیتا ہے، وہ نظام فرد کے ان حقوق کو محفوظ کرکے اسے ان حقوق کا مکلف بناتا چلا جائے۔ چونکہ حقوق کی تعیین و تفسیر میں اختلاف ہے، لہٰذا امن کے تصورات بھی جداگانہ ہیں۔ مثلاً اشتراکی نظام فرد کو نجی ملکیت کا حق عطا نہیں کرتا، لہٰذا اشتراکی نظریے کے مطابق فرد سے نجی ملکیت چھین کر سرکاری تحویل میں لے لینا کوئی ظلم نہیں۔ دوسرے لفظوں میں لبرل نظام جس اصول (نجی ملکیت کی حرمت) کو امن کا لازمی جزو گردنتا ہے، اشتراکیت عین اسی شے کو ظلم اور فساد کی بنیاد کہتی ہے۔ اس بنیادی نکتے کو نہ سمجھنے اور امن کو آفاقی و غیر اقداری تصور فرض کرنے کی وجہ سے مسلم مفکرین لبرل فریم ورک کے فراہم کردہ حقوق (مثلاً انفرادی عبادات کی ادائیگی کی اجازت، جان و مال کی حرمت وغیرہم) کی روشنی میں کسی علاقے کی اسلامیت و کفر کو جانچنے کی غلط فہمی کا شکار ہوگئے۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے امن کا مطلب صرف جان و مال کا تحفظ ہی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک فرد خود کو تمام حدود اللہ کی خلاف ورزی پر اکسانے والے ماحول سے بھی محفوظ و مامون پائے (مثلاً خود کو اس چیز سے محفوظ سمجھے کہ اس کی اولاد فحا شی کی طرف راغب ہو یا اسے سود لینا و دینا پڑے وغیرہ)۔ ظاہر ہے لبرل ریاست فرد کو یہ تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ پس معلوم ہوا کہ شریعت اسلامیہ کے علاوہ کسی دوسری شے کی بنیاد پر قائم کردہ امن ہرگز معتبر نہیں کیونکہ امن کا مطلب صرف شریعت کے عطا کردہ حقوق کو محفوظ و نافذ کرنا ہے۔ شریعت کے علاوہ حقوق کی کسی دیگر تفسیر (مثلاً ہیومن رائٹس) کو محفوظ و نافذ کرنا درحقیقت ظلم و فساد فی الارض کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ شرعی حقوق کا تحفظ و نفاذ اسلامی ریاست ہی کرسکتی ہے، لہٰذا امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب طاغوتی ریاست معطل ہوکر اسلامی ریاست قائم ہوجائے۔ جب تک ایسا نہ ہوگا امن قائم نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا موجودہ حالات میں قیام امن کے سلسلے میں علماء کرام کے کرنے کا ایک اہم کام انقلابی جدوجہد کی لیڈرشپ سنبھالنا ہے۔ 

یہ دعویٰ (۹) کرنے والوں کا مفروضہ یہ ہے کہ اسلام کا مقصد دنیا کی ہر ریاست (چاہے وہ کیسی ہی ہو) چلانے کے لیے پر امن اور وفادار رعیت فراہم کرنا ہے۔ گویا ان کے خیال میں اسلام محض چند عقائد اور اصول اخلاق کا نام ہے جو ہر نظام زندگی میں کھپ سکتاہے ۔ لیکن اگر معاملہ یہی ہوتا تو اسلام دیگر مذاہب سے کچھ مختلف چیز نہ ہوتا۔ اس کے برخلاف اسلام خود ایک نظام زندگی اور علمیت ہے جس میں عقائد، عبادات، اخلاقیات کے ساتھ ساتھ انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام معاملات سے متعلق احکام و قوانین بھی ہیں۔ پھر اسلا م کا اپنے بارے میں دعوی یہ نہیں کہ میں بہت سے تصورات حق میں سے ایک حق ہوں بلکہ وہ خود کو ’الحق‘ (the truth)کہتا ہے، یعنی وہ پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ صرف میرا ہی نظام بر حق ہے اور اسی میں نوع انسانیت کی بھلائی و کامیابی ہے، نیز میرے علاوہ سب دعوتیں و نظام تباہی و بربادی کے راستے ہیں۔ (آل عمران: ۱۹، ۸۵؛ انعام: ۱۵۳) یہ بات تو ہر معمولی ذہن رکھنے والا شخص بھی سمجھتا ہے کہ دنیا کا کوئی صحیح الدماغ شخص جس شے کو حق اور جسے باطل گردانتا ہے ان دونوں کو کبھی اپنی زندگی میں مساوی حیثیت نہیں دیتا اور نہ ہی انہیں پنپنے کے برابر مواقع فراہم کرتا ہے، تو کیا اللہ کے دین ہی سے یہ امید لگائی جارہی ہے کہ ایک طرف تو وہ پوری قوت کے ساتھ اپنے لیے یہ دعویٰ کرے کہ صرف میں ہی حق ہوں، باقی سب باطل ہیں، نیز صرف میرا ہی راستہ حقیقی کامیابی اور نجات کا ضامن ہے، باقی سب جہنم و بربادی کے راستے ہیں ، لیکن اس کے بعد اس اصولی دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں جہنم اور بربادی کی طرف لے جانے والی باقی تمام باطل قوتوں کا راستہ نہ صرف یہ کہ کھلا چھوڑ دے بلکہ ان کے فروغ کے لئے ہر قسم کی سہولتیں بھی فراہم کرے ؟ اگر واقعی اسلام ہی حق ہے تو یہ ماننا بھی ناگزیر ہے کہ اسلام زمین میں اپنے نظام کے علاوہ دوسرے نظامات زندگی کو مغلوب کرنے کا تقاضا بھی کرے۔ 

یہ بات ہی سراسر مہمل ہے کہ ایک نظام زندگی کو باطل بھی کہا جائے اور پھر اسکا غلبہ بھی برداشت کیا جائے۔ وہ صرف ایک فاتر العقل انسان ہی ہوسکتا ہے جو بیک وقت اپنے پیش کردہ نظام کو حق بھی کہے، اس کی پیروی کا حکم بھی دے، مگر ساتھ ہی اپنے ماننے والوں کو دوسرے باطل نظامات کے اندر پر امن وفادارانہ زندگی بسر کرنے کی تعلیم بھی دے۔ آخر دنیا میں وہ کون شخص ہے جو جس شے کو شر سمجھتا ہے پھر اسے پھیلنے کی مکمل آزادی اور حق بھی دے دے؟ ایسی بے وقوفی کی امید تو ایک عام انسان سے بھی نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ اس کی نسبت اللہ اور اس کے رسول کی طرف کرنے کی جسارت کی جائے۔ اسلام کا خود کو حق کہنا اور اس کی طرف پوری قوت سے دعوت دینا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ دوسرے نظامات کو ہٹا کر ان کی جگہ اپنا نظام اقتدار قائم کرنے کا مطالبہ کرے اور اپنے ماننے والوں کا طرہ امتیاز اسی کو قرار دے کہ آیا وہ اس جدوجہد میں جان و مال کھپا تے ہیں یا نہیں۔ اس معاملے میں یہ سوال ہی غیر اہم ہے کہ کفار ہماری اس جدوجہد کو برداشت کریں گے یا نہیں یا ہمیں غیر مسلموں کا تعاون حاصل ہوگا یا نہیں۔ 

بلاشک و شبہ اسلام امن و سلامتی کا حامی ہے مگر اس کی نگاہ میں حقیقی امن اور سلامتی وہی ہے جو نفاذ شریعت سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کوئی اسلام میں امن و سلامتی کا مطلب یہ سمجھا کہ شیطانی و طاغوتی نظاموں کے زیر سایہ سارے کاروبار زندگی پورے اطمینان سے چلتے رہیں اور مسلمان کو خراش بھی نہ آئے، وہ اسلام کا نقطہ نظر بالکل نہیں سمجھا ۔ اسی لیے اقبالؒ نے فرمایا: 

چوں می گویم مسلمانم بلرزم

کہ دانم مشکلات لا الہ را 

(جن مسلم مفکرین کے خیال میں ’ہر حال میں قیام امن‘ اسلام کا اولین اصول ہے، وہ سرمایہ داری کو بطور ایک معاشرتی و ریاستی عمل اور ایک علمیت نہیں پہچانتے۔ ان مفکرین کے خیال میں حالت ’امن‘ گویا کسی نیوٹرل مقام کا نام ،ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں، کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’امن کس اصول کی بالادستی و غلبے پر قائم ہوا ہے؟‘ یہ مفکرین اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ اگر واقعی ہر حال میں امن اسلام کا اولین اصول ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کی درخواست کے باوجود صلح حدیبیہ کو کالعدم قرار دے کر مکہ پر حملہ کیوں کیا تھا؟ )۔ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام کو کفر و طاغوت کا قائم کردہ امن نہیں، بلکہ اپنا قائم کردہ امن مطلوب ہے اور اسی میں وہ انسان کی سلامتی دیکھتا ہے (۱۰) ۔ 

کفرو طاغوت کی بالادستی پر مبنی قیام امن کا مطلب صرف یہ ہے کہ نوع انسانیت اطمینان و سکون کے ساتھ جہنم کے راستے پر چلنے پر راضی ہوجائے اور مسلمان ٹس سے مس نہ ہوں۔ ظاہر ہے قیام امن کا یہ تصور اس مقصد ہی کے خلاف ہے جس کے لیے امت مسلمہ برپا کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا: کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر ’’تم دنیا میں وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے برپا کی گئی ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو‘‘۔ (آل عمران: ۱۱۰) ۔ معروف حدیث میں بیان ہوا: ’’تم میں سے جو شخص برائی ہوتے دیکھے تو اسے ہاتھ سے روک دے، اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روک دے، یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو دل سے برا جانے، مگر یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘ حدیث سے معلوم ہوا کہ برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کا سب سے اعلی درجہ ہے، وعظ و نصیحت کے درجے سے بھی زیادہ۔ جو لوگ محض نصیحت کو کافی سمجھتے ہیں، گویا وہ مسلمانوں کو ایمان کے اعلی درجے پر فائز ہونے سے منع کررہے ہیں۔ پھر یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگر ہاتھ سے روکنے کی صلاحیت نہیں تو اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ مومن تو ہمیشہ ایمان کے خوب سے خوب تر درجے کا ہی متلاشی رہتا ہے۔ گویا جو لوگ محض نصیحت و دعوت کے فلسفے کے قائل ہیں وہ امت کو ’دل سے برا جاننے‘ کی کیفیت سے اوپر اٹھا کر ’زبان سے برا کہنے‘ کے درجے پر لانے کے تو قائل ہیں مگر ’ہاتھ سے روکنے‘ کا درجہ دلانے کے انکاری ہیں۔ 

(۳.۶) اسلام دعوت و اصلاح کا مذہب ہے:

یہ دلیل بھی ایک قسم کی بے اعتدالی کا شاخسانہ ہے کیونکہ اس میں دین کے کسی ایک پہلو کو دیگر تمام پہلووں کی ضد کے طور پر باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے جو سراسر ظلم ہے۔ اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ دین اسلام میں دعوت و تبلیغ کی بہت اہمیت ہے، لیکن یہ بات ماننا بھی عقل کا تقاضا ہے کہ انسانی زندگی و معاشرت کی اصلاح کے لیے جس قدر اہمیت دعوت، تبلیغ و نصیحت کی ہے اسی قدر ضرورت جبر و تنظیم (structures and discipline) کی بھی ہے۔ دنیا کا ایسا کوئی معاشرتی و ریاستی ادارہ نہیں جو محض نصیحت کی بنیاد پر قائم و دائم رہ سکے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ مدارس اسلامیہ جن کا مقصد ہی علوم دینیہ پڑھانا ہے، وہاں بھی طلباء و اساتذہ پر نصاب، دروس ، حاضری ، ٹائم ٹیبل، امتحانات وغیرہ کا ایک جبری نظام لاگو کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اگر یہ سب نہ ہو تو ’ادارہ ‘ چل نہیں سکتا۔ ظاہر ہے اس سب جبر و نظم کا مقصد اصلا ح ہی ہوتا ہے (اسی طرح والدین بچوں کی اصلاح کی خاطر ان پر جبر اور نظام اطاعت نافذ کرتے ہیں)۔ تو اگر ایک مدرسے میں طلباء کی اصلاح و تعلیم کے نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لیے جبر (نظام اطاعت) کے بغیر چارہ نہیں، تو کیا یہ منطق عجیب نہیں کہ پورے معاشرے اور افراد کو کسی نظم اطاعت سے منسلک کیے بغیر ہی اصلاح کی امید کی جائے؟ ظاہر ہے جہاں اصلاح کے لیے جبر کی ضرورت ہے، وہاں محض نصیحت پر تکیہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ یہ تو عجیب بات ہے کہ طاغوتی طاقتوں کو تو ہر قسم کی ریاستی قوت استعمال کرکے حق کے راستے مسدود کرنے کی اجازت ہو، مگر اہل حق محض نصیحت ہی پر کفایت کئے رکھیں؟ اگر نصیحت کافی ہے تو دنیا کی تمام درس گاہوں اور آفسوں سے حاضری ، امتحانات ، ٹائم ٹیبل وغیرہ کے نظاموں کو ختم کرکے وہاں محض واعظین کو بٹھا دینا چاہیے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کہیں نہیں ہورہا۔ تو آخر دین کے چاہنے والوں ہی کو یہ سبق کس نے پڑھا دیا ہے کہ جناب اصلاح کے لیے محض نصیحت کافی ہے؟ (یہ دلیل دینے والوں کا مضحکہ خیز فکری پہلو یہ ہے کہ ان کے نزدیک ’نفاذ شریعت بذریعہ قوت ‘ تو ناجائز ہوتی ہے مگر ’نفاذ آئین ‘ کے لیے ہر قسم کی فوج کشی و جبر عین جائز قرار پاتا ہے، فیا للعجب!)

اصلاح کے لیے محض نصیحت پر اکتفا کرنے والے مفکرین کا یہ مفروضہ غلط ہے کہ اسلامی انفرادیت کا سیاسی اظہار اور ترتیب اقتدار خودبخود رونما ہو جاتا ہے۔ (کئی مصلحانہ اسلامی تحریکات کا خیال ہے کہ اگر سب لوگوں کو اچھا مسلمان بنادو گے تو معاشرہ و ریاست خود بخود ٹھیک ہوجائے گا)۔ ظاہر ہے جب اسلامی علمیت کے تحفظ کیلئے شعوری طور پر ادارتی صف بندی عمل میں لانا لازم ہے، محض افراد کو اس کی اہمیت بتلا دینے سے کام نہیں چلتا تو اسلامی اقتدار کے قیام کے لیے مطلوبہ صف بندی سے صرف نظر کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس کا ظہور خود بخود کیسے ہوجائے گا؟ اس میں کچھ شک نہیں کہ فرد کی اصلاح نہایت اہم کام ہے، مگر اس کی اصلاح کو ترتیب اقتدار کے ہم معنی یا ترتیب اقتدار کو اصلاح کا غیرشعوری منطقی نتیجہ سمجھنا بھی غلط ہے۔ پس دور حاضر میں اقتدار (نہ کہ محض حکومت) اور غلبے کے مسئلے پر دینی کام کو مربوط کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ اگر یہ نہ کیا گیا تو کچھ نفوس کی انفرادی اصلاح تو ہوجائے گی، لیکن اس کے نتیجے میں کافر اقتدار کو نقصان نہیں پہنچے گا اور بالآخر اصلاح نفوس بھی مشکل ہوتا چلا جائے گا کیونکہ اصلاح کتنی ممکن ہے، اس کا انحصار واقعیت (facticity) کی ان معاشرتی و ریاستی جکڑ بندیوں پر ہوتا ہے جن سے ایک فرد دوچار ہوتا ہے۔ اسلامی انفرادیت کے فروغ کے لیے ایسی ترتیب اقتدار چاہیے جو واقعیت کو بدل دے اور اسلامی انفرادیت کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کردے۔ 

(۳.۷) دین کے تمام احکامات پر عمل کرنا کوئی مطلق حکم نہیں:

دور جدید کے چند مفکرین یہ استدلال عام کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ دین کے احکامات پر عمل کرنا کوئی مطلق حکم نہیں ہوتا بلکہ یہ اضافی اور حالات کے ساتھ مقید ہوتا ہے۔ مثلاً گو کہ صاحب نصاب پر زکوٰۃ دینا اور صاحب استطاعت پر حج کرنا فرض ہے البتہ صاحب نصاب و استطاعت بننا کوئی شرعی فرض نہیں۔ یہی معاملہ دین کے اجتماعی احکامات کا بھی ہے کہ ان پر عمل بھی حالات کے تقاضوں کے ساتھ مشروط ہے۔ چنانچہ اگر حالات سازگار نہیں تو شریعت کا یہ کوئی حکم نہیں کہ مسلمان ساری شریعت لاگو کرنے کی فکر کریں، بلکہ ’حالات جس قدر اجازت دیں ‘ اسی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ 

اس دلیل کا ممانعت خروج سے تعلق سمجھنے سے ہم بالکلیہ قاصر ہیں، کیونکہ زیر بحث موضوع یہ نہیں کہ کیا مسلمانوں پر ہر حالات میں ساری شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا مسلمانوں پر اپنے اجتماعی معاملات کو بمطابق شریعت بنانے کی ’کوشش کرنا‘ ضروری ہے یا نہیں؟ ظاہر سی بات ہے اپنے حالات (facticity) کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کرنا اگر غیر ضروری ٹھہرے تو صرف انقلابی جدوجہد ہی نہیں بلکہ اصلاحی و دعوتی جدوجہد کرنا بھی ناجائز ٹھہرے گا، کیونکہ ان کا مقصد بھی فرد و معاشرے کے حالات تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ہی ہے۔ نیز یہ بات بالکل واضح ہے کہ خروج کا مقصد بھی اجتماعی حالات کو تبدیل کرنے کے سوائے اور کچھ نہیں، تو اگر تبدیلی حالات کے لیے اصلاحی جدوجہد جائز ہے تو انقلابی جدوجہد کس دلیل شرعی سے ناجائز ہوئی؟ اگر یہ دلیل خروج کے خلاف معتبر مان لی جائے تو پھر ہر تبلیغی، دعوتی، تدریسی، اصلاحی جدوجہد کو آج سے بند کردیا جانا چاہیے۔ پھر اس دلیل کی رو سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی ساری جدوجہد ہی لایعنی قرار پائے گی کیونکہ آپ جس ماحول میں مبعوث ہوئے، وہاں تو توحید تک کا اقرار کرنا ممکن نہ تھا۔ پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اپنے صحابہ کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کی تلقین کرنے کے علاوہ کبھی کوئی دوسرا حکم نہ دیتے کیونکہ حالات جو ٹھیک نہیں تھے! 

اس دلیل کا دوسرا کمزور پہلو یہ ہے کہ یہاں فرض کفایہ کو فرض عین کے ساتھ خلط ملط کردیا گیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ حج کرنے کی استطاعت حاصل کرنا فرض عین نہیں، البتہ فقہا ء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حج کا بندوبست کرنا نیز اس کی ادائیگی فرض کفایہ ضرور ہے۔ چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سارے مسلمان حج ادا کرنا چھوڑ دیں، نیز اس کے بندوبست کا بھی کوئی انتظام نہ کریں تو کیا یہ شرع کو مطلوب ہے؟ ان حالات میں شریعت کا حکم کیا ہے؟ کیا ان حالات میں اگر مسلمان ’حج کا حکم مطلق نہیں ہے‘ کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں تو ان پر کوئی گناہ ہوگا یا نہیں؟ اسی بات پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور دیگر اجتماعی معاملات شرعیہ کے قیام کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ بھی فرض کفایہ ہیں جن کی عدم موجودگی میں ان کے بندوبست کی کوشش کرنا شرعی تقاضا ہے۔ 

(۳.۸) خروج کے لیے عوامی حمایت ضروری ہے:

انقلابی جدوجہد کے جواز کو پرکھنے کے لیے یہ انوکھا پیمانہ بھی قائم کرلیا گیا ہے کہ ’اگر کسی گروہ کے نزدیک خروج کی ضرورت ہے ، تب بھی اس گروہ کو عملاً خروج کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ اسے بڑی تعداد میں عوامی حمایت نہ حاصل ہو‘ ۔ یعنی آیا خروج کرنا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ مخصوص گروہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی اجتماعیت کرے گی اور جب تک ایسی عوامی حمایت حاصل نہ ہوجائے، اس وقت تک خروج کرنا ناجائز ہوگا۔ دوسرے لفظوں میں عوامی حمایت خروج کے لیے بمنزلہ شرط ہے۔ 

ہم نہیں جانتے کہ خروج کے لیے ’عوامی تائید کی شرط‘ کس دلیل شرعی کی بنیاد پر اخذ کی گئی ہے۔ اصولیین جس شے کو ’شرط ‘ کہتے ہیں، اس کے لییجس درجے کی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ایسی کوئی دلیل ہے تو پیش کی جائے، ورنہ محض قیاسات اور تاویلات کی بنیاد پر کسی بات کو شرط قرار دینے کی اسلامی علمیت میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ ( درحقیقت اسے بدعت کہتے ہیں کہ دین میں ایسا اضافہ کرنا جس کی کوئی اصل و دلیل دین میں موجود نہ ہو)۔ فقہائے اسلام نے خروج کے لیے مناسب تیاری اور کامیابی کے امکانات کا ذکر تو کیا ہے لیکن عوامی تائید کی اس شرط کا سراغ جدید فقیہان امت کے سوا اسلامی علمیت میں کہیں نہیں ملتا۔ 

یہ ایک اصولی و بدیہی بات ہے کہ ہر جدوجہد کا فیصلہ کرنے کا حق اسی فرد اور گروہ کو ہوتا ہے جو اس کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، نہ کہ اس مجمع عام کو جو اس کا مخاطب ہے۔ اگر یہ اصول نہ مانا جائے تو پھر ہر دینی جدوجہد پر ہی سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہو گا۔ مثلاً: 

  • ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۸۵۷ کے جہاد میں ناکامی کے بعد علمائے کرام نے مسلح و سیاسی جدوجہد ترک کرکے مدارس کی سطح پر اسلامی علمیت کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیا کوئی یہ کہنا چاہتا ہے کہ علماء کو عملاً یہ قدم اٹھانے سے پہلے عوامی رائے سے راہنمائی لینا چاہیے تھی اور چونکہ انہوں نے ایسا نہ کیا، اس لیے ان کی ساری جدوجہد غیر شرعی ہے؟ 
  • اسی طرح دین کا درد رکھنے والے عالم دین جب یہ محسوس کرتے ہیں کہ امت کی اصلاح کے لیے ایک دعوتی و تبلیغی سرگرمی شروع ہونی چاہیے تو وہ یہ کام شروع کرنے سے پہلے کسی عوام کی طرف رجوع کیے بغیر ہی دعوت و تبلیغ کاکام (مثلاً تبلیغی جماعت یا دعوت اسلامی کی صورت میں) اپنے نقشے کے مطابق شروع کردیتے ہیں۔ تو کیا اس اصول کے مطابق یہ کام ناجائز ٹھہریں گے کہ ان بزرگوں نے پہلے عوامی حمایت کیوں نہ حاصل کی؟ 
  • ایک شخص محسوس کرتا ہے کہ مسلمانوں کو جدید علوم سکھانے کی ضرورت ہے تو وہ علی گڑھ میں اپنا ادارہ قائم کرکے مسلمانوں کی جدید تربیت کا بیڑا اٹھا لیتا ہے، کیا اس نے ایسا کرنے سے قبل عوام سے اجازت مانگی تھی؟ 
  • جب علمائے کرام کو یہ محسوس ہوا کہ مسلمانوں کے مالیاتی مسائل کی اصلاح کرنے کی سخت ضرورت ہے تو انہیں اپنے طور پر جو طریقہ درست سمجھ میں آیا، اسے اسلامی بینکاری کے طور پر دنیا کے سامنے عملاً متعارف کروایا اور اس کی خوب ترویج بھی کی۔ یہی صورت حال جمہوری اسلامی جدوجہد کرنے والے علماء کا بھی ہے۔ آخر اس وقت کسی نقطہ شناس نے یہ کیوں نہ کہا کہ جناب پہلے عوامی تائید حاصل کیجیے، ورنہ ساری جدوجہد رائیگاں چلی جائے گی؟ 

اس نوع کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ اگر یہ انوکھا اصول مان لیا جائے کہ احیائے دین کی ہر جدوجہد شروع کرنے سے قبل عوامی تائید ہونا ضروری ہے تو سارے دینی کام نہ صرف یہ کہ غیر شرعی کہلائیں گے بلکہ کوئی دینی کام کبھی عملاً شروع ہی نہ ہونے پائے گا (کہ نہ نو من تیل ہو اور نہ رادھا ناچے)۔ اگر احیائے دین کے دیگر کام شروع کرنے کے لیے عوامی تائید ضروری نہیں تو خروج کس دلیل کی بنا پر اس اصول سے مستثنیٰ ہے؟ پس یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کہ جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ خود اس گروہ کے پاس نہیں جو اس کا داعی ہے بلکہ اس گروہ سے باہر کسی دوسرے ایجنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ 

ممکن ہے، اس بحث پر یہ کہا جائے کہ خروج کے عملی نتائج بہت دور رس اور وسیع ہوتے ہیں، لہٰذا جتنے لوگ اس سے اثر انداز ہوسکتے ہیں ان سب کی رائے شامل حال ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی محض ایک عذر لنگ ہے۔ کیا کوئی عقلمند انسان یہ مان سکتا ہے کہ دعوتی، تبلیغی، تعلیمی و جمہوری جدوجہد دور رس و وسیع نتائج کی حامل نہیں؟ کیا جدوجہد کے ان منہاج نے موجودہ امت اور ہماری آنے والی نسلوں کی فکری و عملی جہات پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں کیے ہیں؟ اگر کیے ہیں اور جیسا کہ امر واقعہ ہے تو اس خروج ہی کے اثرات اتنے بڑھا چڑھا کر کیوں بیان کیے جاتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ بشریات و سماجیات کا ادراک رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ عملی انقلابی جدوجہد کے زیادہ تر اثرات وقتی (spontaneous) نوعیت کے ہوتے ہیں جبکہ اصلاحی دعوت مستقل و دیرپا اثرات کی حامل ہوتی ہے۔ تو اس اصول کے مطابق اگر خروج کے لیے عوامی رائے کوئی شرط ہے تو اصلاحی جدوجہد کے لیے اسے بدرجہ اولیٰ شرط ہونا چاہیے۔ 

(۳.۹) جہاد کے لیے ریاست کا وجود لازم ہے، لہٰذا اس کے بغیر کی جانے والی جدوجہد غیر اسلامی ہے (۱۱):

انقلابی جدوجہد کے خلاف یہ دلیل بکثرت دہرائی جاتی ہے، لہٰذا اس کا جائزہ متعدد جہات سے پیش کیا جاتا ہے: 

★  پہلی بات: جو حضرات یہ دلیل پیش کرتے ہیں ان پر لازم ہے کہ اس کے لیے قطعی شرعی دلیل قائم کریں ۔

★  دوسری بات: پھر جو حضرات یہ دلیل پیش کرتے ہیں، کیا ان کے نزدیک اسلامی ریاست کا قیام کوئی واجب شے ہے بھی یا نہیں؟ ان کی اکثریت یا تو غلط طور پر موجودہ سرمایہ دارانہ مسلم ریاستوں ہی کو اسلامی سمجھتی ہے اور یا پھر خلافت اسلامیہ کے قیام کو غیر ضروری اور اضافی شے قرار دیتی ہے۔ بھلا ایسے مفکرین کو تعمیر ریاست کے لیے انقلابی جدوجہد کا جواز کیوں کر سمجھ آسکتا ہے جو سرے سے اس کے قیام ہی کے قائل نہیں؟ 

★  تیسری بات: کیا دفاعی جہاد کے لیے بھی یہی شرط عائد کی گئی ہے؟ اگر ہاں تو نقل و عقل کی روشنی میں اسپر دلیل پیش کی جائے؟ 

★  چوتھی بات: کتب احادیث میں حضرت ابوجندلؓ اور ابو بصیرؓ کے بغیر اولی الامر مسلح کارروائی کرنے کی جو روایات درج ہیں، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 

★  پانچویں بات: کتب احادیث میں قتال کے لیے جہاں امام کا ذکر ہے (مثلاً: انما الامام جنۃ یقاتل من وراۂ یعنی امام ڈھال کی مانند ہے جس کے پیچھے رہ کر قتال کیا جاتا ہے) تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب امام عادل خود جہاد کررہا ہوتو اس کے ساتھ مل کر جہاد کرنا چاہیے۔ اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ جب امام ہو ہی نہ، یا استعمار کا ایجنٹ ہو تو جہاد سمیت تمام امور اجتماعی (بشمول جماعت، جمعہ، قضاء، امربالمعروف ونہی عن المنکر) ساقط ہوجائیں گے؟ درحقیقت یہ حدیث تو امام عادل کے ساتھ مل کر قتال کرنے کا حکم بتارہی ہے، اسے ’امام عادل غیر حاضر‘ کے حالات پر کیسے منطبق کرلیا جائے؟ دوسری بات یہ کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امام تو اصل میں ہوتا ہی وہ ہے جس کے ساتھ مل کر قتال کیا جاتا ہے نہ کہ وہ جو قتال کو ساقط قرار دے۔ گویاحدیث ’جہاد بلا امام‘ نہیں ’امام بلا جہاد‘ کی مذمت بیان کررہی ہے۔ ظاہر ہے جو امام مسلمانوں کے بجائے استعمار کی ڈھال کا کام کررہا ہو، اس کا مسلمانوں کی امامت سے کیا لینا دینا؟ 

★  چھٹی بات: کیا شرائط کی رعایت کرنے کا اصول صرف جہاد کے لیے خاص ہے یا دین کی دیگر تمام اجتماعی صف بندیوں کو پرکھ کر انہیں ’دینی‘ قرار دینے کے لیے اپنانا بھی ضروری ہے؟ اگر ضروری ہے (جیسا کہ منطقی طور پر ہونا چاہیے) تو کیا ہماری ہم عصر بہت سے ایسی صف بندیاں جنہیں ہم ’دین‘ کا کام قرار دیتے ہیں، کیا وہ بھی ’غیر دینی‘ نہ ہوجائیں گی؟ پھر کیا شریعت نے جہاد کے علاوہ کسی اور معاملے پر کوئی شرائط عائد نہیں کیں؟ مثلاً پڑوس میں رہنے کی شرائط وغیرہ۔ کیا ہم نے تمام معاملات عین مطابق شریعت حل کر لیے ہیں؟ آخر جہاد ہی کی شرائط پورا کرنے پر اسقدر زور کیوں دیا جاتا ہے؟ 

★  ساتویں بات: کتب فقہ میں شرائط جہاد کے ضمن میں ریاست کا ذکر ملتا ہے یا امیر کا؟ اگر شرط امیر کی ہے تو کیا یہ شرط دور حاضر کے ہر جہاد میں پوری ہوتی ہے یا نہیں، خصوصاً طالبان افغانستان کے جہاد میں کہ انہوں نے تو ریاست بھی قائم کردی تھی؟ 

★  آٹھویں بات: اگر کہا جائے کہ امیر سے مراد تمام مسلمانوں کا مشترکہ امیر ہے تو اس صورت میں کیا ہر مسلم حکومت کا اعلان جہاد بھی غیر معتبر نہیں ہو گا کیوں کہ ہر ملک تمام مسلمانوں کی نہیں بلکہ مخصوص جغرافیائی حدود پر قائم ایک قومی ریاست ہی ہے اور اس کے حکمران تمام مسلمانوں کے حکمران نہیں مانے جاتے؟ 

★  نویں بات: پھر کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ قرآن میں جہاں استخلاف فی الارض کا مومنین سے وعدہ کیا گیا ہے، وہاں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جب بھی انھیں زمین میں اقتدار حاصل ہوگا تو وہ چار کام کریں گے: اقامت صلوٰ ۃ ،زکوٰۃ کا قیام اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (الذین ان مکنہم فی الارض اقاموا الصلوۃ واتوالزکوۃ وامروا بالمعروف ونہوا عن المنکر)۔ اسلامی ریاست کے یہ چار بنیادی فرائض قرآن میں بیان کیے گئے ہیں، چنانچہ اس آیت سے منکرین جہاد کی طرح کوئی منکر صلوٰۃ و زکوٰۃ یہ استدلال کرسکتا ہے کہ جناب زکوٰۃ وصلوٰۃ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی ریاست کا فریضہ اور وظیفہ ہے، لہٰذا مسلمانوں پر یہ تمام کام بھی اسلامی ریاست کے قیام تک ترک کرنا لازم ہے۔ چونکہ اسلامی ریاست موجود نہیں ہے، لہٰذا مساجد تعمیر نہ کی جائیں، نیزنظام صلوٰۃ کا اہتمام بند کیا جائے، کیونکہ زکوٰۃ وصول کرنے والی ریاست نہیں ہے، لہٰذا زکوٰۃ بھی ساقط ہے اور ساتھ ہی ’منہاجی فلسفے‘ کی بنیاد پر یہ استدلال بھی پیش کردے کہ دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں مسجد کا کوئی اجتماعی بندوبست نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے زکوٰۃ لی۔ اسی طرح اچھے کاموں کا حکم دینا اور برائی سے روکنے کا فریضہ بھی اسلامی ریاست کی سرپرستی اور موجودگی میں ہی اداکیا جاسکتا ہے، لہٰذا ان کاموں کو بھی ترک کردیا جائے۔ کیوں جناب، کیسا رہا یہ استدلال؟ 

اس مقام پر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ’کسی نظیر یا مثال کا سوفیصد انطباق نہیں ہوتا بلکہ کسی نسبت سے اُس کا اطلاق ہوتا ہے اور کسی پہلو سے نہیں بھی ہوتا۔ اُسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ حالات کی رعایت کے ساتھ عمل کرنا مقصود ہوتا ہے اور یہ عقل عام کی بات ہے‘۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آج یہ فیصلہ ’کون‘ اور ’کس پیمانے ‘ کی بنیاد پر کرے گا کہ مقیس اور مقیس علیہ میں مماثلت و عدم مماثلت کن کن معاملات میں معتبر اور کن میں غیر معتبر مانی جائے گی؟ 

★  دسویں بات: چلیے، بطور بحث مان لیا کہ جہاد کرنے کا موزوں ترین طریقہ اس کا ریاست کے زیر سر پرستی ہونا ہی ہے۔ مگر سوال یہ نہیں کہ جہاد کرنے کا مثالی درست طریقہ کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب اسلامی ریاست سرے سے مفقود ہو یا وہ اتنی بزدل ہو کہ کفر کے غلبے کے مقابلے میں ذلت کی زندگی کو ترجیح دے یا کفر کی آلہ کار بن چکی ہو اور جہاد کرنے والوں کی مخالفت پر اتر آئے تو ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟ آپ کے خیا ل میں ہمیں صرف ریاست کو اس ذمہ داری کا احساس دلانا چاہیے، کیونکہ غیر ریاستی سطح پر ایسے کام کرنے سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں، لیکن یہ طرز فکر صائب نہیں کیونکہ اس میں ایک طرح کا تضاد ہے۔ وہ ایسے کہ اگر ریاست بذات خود نفاذ شریعت اور اعلاء کلمۃ اللہ کے مقاصد سے دور اور طاغوتی نظام کی حامی ہو تو پھر کیا کیا جائے؟ یقیناًایسی صورت میں حکومت تبدیل کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے اور اس کے لیے دو میں سے ایک طریقہ اختیار کرنا ہوگا: (۱) پر امن جمہوری طریقہ، (۲) انقلابی طریقہ۔ پہلے طریقے سے ریاست کی تبدیلی نا ممکن ہے کیونکہ جمہوری سیاست سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم ہوجانے کا دوسرا نام ہے ۔ اب رہ گیا دوسرا طریقہ تو وہ غیر ریاستی سطح پر قوت جمع کرکے کشت و خون کے انہیں موہوم خطرات سے ہو کر گزرتا ہے جو جہادی تحریکات کا حصہ ہوتے ہیں۔

★  گیارہویں بات: جہاد کے معاملے میں ریاست کو محض اس کی ذمہ داری کا احساس دلا دینا کافی نہیں، کیونکہ اگر اس طریقے کا اعتبار ہر معاملے پر کر لیا جائے تو دین کے بہت سے مصالح فوت ہو جائیں گے۔ مثلاً : 

(۱) لوگوں کے جان و مال کو حفاظت فراہم کرنا ریاست کا کام ہے، لیکن اگر پولیس خود چور، بے ایمان اور رشوت خور ہو اور لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کی خاطر پرائیویٹ سکیورٹی کا بندوبست کریں (جیسے ہمارے ہاں عام ہو گیا ہے) تو کیا یہ فعل غیر شرعی ہوگا؟ سب کو معلوم ہے کہ کراچی کی کئی سکیورٹی ایجنسیاں جعلی نکلیں، گارڈز نے لوگوں کے گھر، دوکانیں یہاں تک کہ بینک بھی لوٹ لیے اور کئی دفعہ یہ گارڈز لوگوں کو قتل تک کر دیتے ہیں۔ تو کیا ان مفاسد کی بنا پر پرائیویٹ سکیورٹی ناجائز ہو جائے گی؟ کیا لوگوں کا کام بس اتنا ہی ہے کہ وہ ڈاکووں سے اپنے بچاؤ کی تدبیر کرنے کے بجائے صرف بے ایمان پولیس افسروں کو اصلاحی دروس دلوانے کے لیے اچھے واعظ تلاش کرتے پھریں؟ 

(۲) اسی طرح لوگوں کے معاملات کو احکامات شرعیہ کے مطابق طے کرنے کے لیے نظام قضاء کا قیام بھی ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جب ریاست نے یہ سرپرستی چھوڑ دی تو علماء نے نجی طور پر اور مدارس کی سطح پر فتووں کے ذریعے یہ کام سر انجام دیا ۔ سب جانتے ہیں اس طریقہ کار کے ذریعے بہت سے غلط فتوے جاری ہوئے جن کی وجہ سے کئی مفاسد سامنے آئے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا سب مفتیان کرام دارالافتاء بند کرکے سپریم کورٹ آف پاکستان میں نظام قضاء کے قیام کے لیے مقدمہ دائر کرکے اس کی پیروی کے لیے ایک قابل وکیل تلاش کرنا شروع کردیں؟

(۳) یہ بات عیاں ہے کہ نظام زکوٰۃ کے ثمرات تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب حکومت اسے قائم کرے، لیکن جب ریاست ایسا نہ کرے تو کیا اس دلیل سے کہ بہت سے ٹھگ اور غیر مستحقین لوگوں سے زکوٰۃ لے اڑتے ہیں، افراد زکوٰۃ دینا بند کرکے محکمہ سی بی آر کو اس کام کی اہمیت کا احساس دلانا شروع کردیں؟ 

(۴) اور تو اور مسجدوں کا موجودہ ’مسجد کمیٹی‘ نظام کیا عین اسلامی ہے؟ سب کو معلوم ہے کہ جب سے مسجدیں بنانے کی کھلی آزادی ملی ہے، مسجدوں کو فرقہ بندی کے لیے استعما ل کیا جانے لگا ہے، باقاعدہ مسجدوں پر قبضے ہوتے ہیں، مسجدوں کے نام پر پلاٹوں پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ تو کیا مسلمان ساری مسجدیں بند کرکے زرداری صاحب کو اقامت صلوٰۃ کی اہمیت بتلانے پر سارا زور صرف کردیں؟ 

اس قبیل کی اور بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ بات یہ ہے کہ ایک کام جب اپنے مثالی طریقے کے بجائے کسی دوسرے طریقے سے کیا جاتا ہے تو اس میں گوں نا گو ں خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ بہر حال ہوتا ہے اور جہادی تحریکات کی جدوجہد کو بھی اسی پر قیاس کرلینا چاہیے۔ اس موقع پر اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قتل کی صورت میں فرد کو خود قصاص لینے کے بجائے صبر کرنا چاہیے، لیکن عقل عام کہتی ہے کہ اگر ریاست قتل کرنے والوں سے اغماض کرنے کو نہ صرف یہ کہ اپنی مستقل پالیسی بنالے بلکہ ان کی پشت پناہی کرے تو افراد اپنے تئیں قصاص لینے پر مجبور ہوجائیں گے جس سے بہت سی خرابیاں جنم لیں گی اور پھر کسی مفتی کے فتوی دینے سے کام نہیں چلے گا۔ انسانی زندگی کسی جمود کا نام نہیں اور نہ ہی یہ خلا میں متشکل ہوتی ہے۔ جب حصول مقاصد میں مدد گار ایک قسم کی اکائیاں تحلیل ہوتی ہیں تو اس کی جگہ دوسری اکائیاں لازماً جنم لیتی ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ انسانی معاشرت ایک قسم کی اکائی ختم ہو جانے کے بعد ضروری مقاصد چھوڑ کر خلا میں معلق ہو جاتی ہے۔ پس جس طرح اسلامی علمیت کی حفاظت اور فروغ کیلئے مثالی ماحول یعنی ریاستی سرپرستی معدوم ہوجانے کے بعد علماء نے مساجد و مدارس کی سطح پر اس کا انتظام کیا ، اسی طرح دفاع و غلبہ امت کے آئیڈیل نظام کے ختم ہوجانے کے بعد مجاہدین اسلام نے اپنی بے مثال قربانیوں اور جہادی صف بندی کے ذریعے اس چراغ کو روشن رکھ کر احیاے اسلام کے مواقع زندہ رکھے ہیں۔ 

(۴) اسلامی قوت کا اظہار: چند قابل غور پہلو 

زیر نظر مضمون میں دور حاضر میں خروج کے جواز و اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ اب ہم اس سوال پر چند نکات پیش کرتے ہیں کہ غلبہ و دفاع اسلام کا کام کرنے والی تحریکات کی جدوجہد برآور کیسے ثابت ہوسکتی ہے نیز اس قدر بڑے پیمانے پر جاری کام کے باوجود اسلامی قوت نظر کیوں نہیں آتی۔ مباحث مضمون کی روشنی میں ذیل کے نکات کو سمجھنے سے ان کا جواب مل جائے گا : 

★  جو لوگ موجودہ دور کے اصل چیلنج یعنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے جواب میں امت مسلمہ میں برپا جدوجہد کی ہمہ گیریت کا درست ادراک نہیں رکھتے، وہ معاصر جہادی جدوجہد کو اصلاحی جدوجہد کا متبادل و مد مقابل سمجھتے ہیں جبکہ درحقیقت یہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ ہیں۔ اصل بات یہ سمجھنے کی ہے کہ تبدیلی ریاست کے بہت سے طریقے اور سطحیں ہیں اور ان تمام طریقوں اور سطحوں کو آپس میں مربوط کرنے کی سخت ضرورت ہے، نہ کہ کسی ایک طریقے کو یکسر کالعدم قرار دے کر ترک کردینے کی۔ جان لینا چاہیے کہ سرمایہ دارانہ نظام فرد، معاشرے اور ریاست تینوں سطحوں پر اسلام کے ساتھ بر سر پیکار ہے، اور یہ اسلامی انفرادیت کو ہیومن بینگ، اسلامی معاشرت کو سول سوسائٹی اور خلافت اسلامی کو جمہوریت سے بدل دینا چاہتاہے۔ اب تک سرمایہ دارانہ استعمار کے جواب میں احیائے اسلام کے لیے بے شمار تحریکات برپا ہوئیں جن کے کام کو تقسیم کار کے اعتبار سے چارسطحوں پر دیکھا جاسکتا ہے: 

۱۔ مدرسین اور مزکی: ان کا بنیادی ہدف اسلامی علوم کا تحفظ اور اسلامی انفرادیت و تشخص کا فروغ ہے۔ ان کے بنیادی ادارے مسجد، مدرسہ اور خانقاہ ہیں ۔

۲۔ مبلغین اور مصلحین: ان کا بنیادی مقصد اسلامی معاشرت کا استحکام و فروغ ہے اور جو دینی تہذیبی روایات کے تحفظ و فروغ اور حلال کاروبار کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔

۳۔ انقلابی: ان کا نقطہ ماسکہ ریاست کی اسلامی نہج پر اصلاح و قیام ہے اور یہ رائج شدہ نظام اطاعت میں مکمل تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔

۴۔ مجاہدین: ان کا مرکزی نکتہ بھی تعمیر و غلبہ اسلامی ریاست ہے اور یہ استعماراور اس کے ایجنٹوں سے عسکری سطح پر بر سر پیکار ہیں اور طاغوتی طاقتوں کے پھیلاؤ کے مدمقابل مزاحمت پیدا کرکے اسلامی ریاستوں کے قیام کے مواقع فراہم کررہے ہیں ۔

اول الذکر دو تحریکات دفاع امت جبکہ موخر الذکر دونوں غلبہ دین کی تحریکات ہیں۔ یہ تمام راسخ العقیدہ دینی گروہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنے اپنے کام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ البتہ ان کے کاموں میں ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ یہ تینوں کام (فرد، معاشرے و ریاست کی تطہیر) ان معنی میں جدا جدا ہوگئے ہیں کہ تطہیر نفس اور اصلاح معاشرے کاکام وہ علماء ، صوفیا ء اور جماعتیں کررہی ہیں جو تعمیر ریاست کے کام سے بالکل لاتعلق ہیں، اسی طرح تعمیر ریاست اور جہاد کا کام وہ جماعتیں کررہی ہیں جن کے پاس بالعموم تطہیر قلب کا کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں۔ نتیجتاً تطہیر قلب کا کام محض تبلیغ و تطہیر اور ریاست کا کام محض قتال یا جمہوری عمل بن کر رہ گیا ہے۔ تقریباً ہر اسلامی گروہ اور جماعت اپنے کام کو دوسرے اسلامی گروہ کے کام کا متبادل (substitute) اور اس سے اعلیٰ و ارفع سمجھتی ہے جبکہ حقیقتاً ان کے درمیان تعلق ایک دوسرے کے تکملے (complementarity) کا ہے اور ان تینوں میں سے کسی دینی کام کو دوسرے دینی کام پر کوئی اقداری فوقیت حاصل نہیں۔ اصل ضرورت کسی ایک طریقے کو چھوڑدینے، یا نئے دینی کام کو شروع کرنے یا ایک دینی کام کو چھوڑ کر کسی دوسری دینی جماعت میں ضم ہوجانے یا کوئی ایسی نئی دینی جماعت بنانے کی نہیں جو سب کام کرے، کیونکہ الحمد للہ مختلف انفرادی دینی جماعتوں کا کام مل کر مطلوبہ مجموعی دینی کام کی کفایت کرتا ہے۔ اصل ضرورت موجودہ دینی تحریکات کے کام میں ارتباط پیدا کرنے کی ہے۔ ہر دینی گروہ اس بات کو لازم پکڑے کہ اپنے کارکنان کو دوسری دینی تحریکات کا قدر دان بنائے اور ان کے ساتھ اشتراک عمل کرنے اور انکے مخصوص پہلووں سے فائدہ اٹھانے پر رغبت دلائے۔ جب تک اسلامی گروہوں میں اشتراک عمل کا یہ طرز فکر عام نہ ہوگا، دوسرے گروہ کے دینی کام کو برابر اہمیت نہ دی جائے گی اور مجموعی کام کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط نہیں کیا جائے گا، انقلابی جدوجہد کا سہ جہتی (three dimensional) کام ادھورا ہی رہے گا۔ 

★  موجودہ دور میں خروج کا مقصد محض حکمران ٹولے کو تبدیل کرنا نہیں (جیسا کہ قرون اولیٰ میں تھا، کیونکہ نظام اسلامی تھا) بلکہ پورے ریاستی نظم کو تبدیلی کرنا ہے، کیونکہ جمہوری ریاست شخصی نہیں ہوتی اور نہ ہی طاقت کے سر چشمے کو کسی ایک معین ادارے میں محدود کرنا ممکن ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایسی انقلابی جدوجہد برپا کی جائے جس کا مقصد اقتدار (نہ کہ محض حکومت ) کو متبادل اداروں اور افراد میں جمع کرکے موجودہ اداروں اور افراد کے اقتدار کو معطل کرنا ہو۔ جب تک ایسا نہ ہوگا، کوئی معنی خیز تبدیلی نہ آسکے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خروج صرف قتال تک محدود نہیں بلکہ اس کا مطلب اطاعت سے نکل کر متبادل نظم اطاعت (state within state) کے قیام کی کوشش کرنا ہے۔ گویا قتال لازماً خروج کا پہلا زینہ نہیں ہوتا، بلکہ خروج میں قتال کا وقت بھی آسکتا ہے جس کا فیصلہ حالات اور تیاری کی روشنی میں ہی طے کرنا ہوگا ۔

★  لہٰذا انقلابیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ موجودہ نظام کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اسے اچھی طرح سمجھیں تاکہ اپنی جدوجہد کو موثر طور پر مربوط کرسکیں۔ بصورت دیگر ایک چہرے کے بعد دوسرا چہرہ آتا چلا جائے گا مگر نظام نہیں۔ سب دیکھ سکتے ہیں کہ مملکت پاکستان میں فوج ، سیکولر سیاستدان یا دینی تحریکوں میں سے جو بھی حکومت میں ہو، نظام بہر حال جوں کا توں چلتا ہے ۔

★  انقلابی جدوجہد محض تخریبی عمل نہیں بلکہ تعمیری عمل کا نام بھی ہے، یعنی انقلاب کا مقصد صرف موجودہ نظام کو نقصان پہنچانا یا اسے تباہ کرنا نہیں ہوتا بلکہ متبادل نظام اطاعت تعمیر کرنا اور اس کے جواز و فروغ کا انتظام کرنا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابیوں کو اصلاحی تحریکات کے ساتھ اپنا کام مربوط کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ یہی تحریکات عوام الناس میں اقتدار کے جواز اور فروغ کا باعث بنتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی صحیح معنی میں ’عوامی اسلامی تحریکات ‘ یہی اصلاحی تحریکات ہیں جو نچلی سطح تک اسلامی اقتدار کو سرایت کرانے میں انتہائی مفید کام سرانجام دے سکتی ہیں۔ ان اصلاحی تحریکات کے کارکنان اگر انقلابی تحریکات کے قدردان اور دست و بازو بن جائیں تو ایسی قوت جمع کی جاسکتی ہے جس سے کفر کے ایوانوں میں لرزا طاری ہوجائے۔ لہٰذا ان اصلاحی تحریکات کے ساتھ اشتراک عمل کا رویہ اپنائے بغیر انقلابی تحریکات کے لیے کوئی بڑی اور پائیدار ریاستی تبدیلی حاصل کرنا قریب قریب ناممکن ہے ۔

★  دفاع اسلام کا کام کرنے والی اصلاحی تحریکات کو بھی جان لینا چاہیے کہ محض نصیحت کے زور پر ریاستی اداروں کا جبر ختم کرنا ممکن نہیں ہے بلکہ انہیں اپنے کام کو انقلابی تحریکات کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔ جب تک دفاع کے کام کو غلبے کے کام سے مربوط کرکے قوت یکجا نہیں کی جائے گی، اصلاح کا دائرہ بھی سکڑتا چلا جائے گا ۔

★  اسلامی تحریکات کو ایک دوسرے کی نیتوں پر شک کرنے، اپنے درمیان مسالک کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنے یا دوسرے کے کام کو غیر ضروری یا کم اہم کہنے کے بجائے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ سب کے سب ایک بہت بڑے کام کے مختلف حصوں کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے (۱۲) جیسے کوئی بہت بڑی تصویر بنانے کا کام جاری ہے، جسے پورا کا پورا بنانا کسی ایک فرد کے بس سے باہر ہے۔ ایسی صورت حال میں دوسرے کے کام پر تنقید کرنے کے بجائے ہر شخص و گروہ کو اپنے حصے کا کام کرڈالنا چاہیے کہ جب تک یہ سب چھوٹے چھوٹے کام نہیں ہوں گے، تب تک مکمل تصویر سامنے نہیں آئے گی۔ اور اگر مکمل تصویر بنتی دکھائی نہیں دیتی نہ سہی، اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیابی کا پیمانہ تصویر مکمل کرنا نہیں بلکہ اس میں پورے خلوص کے ساتھ اپنا حصہ ڈال دینا ہے اور بس۔ یا اسکی مثال ایسے ہے جیسے کوئی نہایت بلند و بالا اور عالی شان عمارت کا کام جاری ہے جہاں کچھ لوگ صفائی کے کام، کچھ دیواریں بلند کرنے، کچھ فرش بنانے، کچھ لکڑی کے کام اور کچھ رنگ و روغن وغیرہ میں مصروف ہیں۔ اگر ان میں سے ہر گروہ اپنے کام کو دوسرے کا متبادل یا دوسرے کے کام کو غیر ضروری سمجھ کر اسے بند کرانے کی کوشش کرے گا تو بھلا یہ عمارت کیسے قائم ہوسکے گی؟ اگر عمارت کا فرش بنانے والے مزدوروں نے عمارت کی دیواریں کھڑی کرنے والے مزدوروں کی ضروریات کا خیال نہ رکھا تو اسلامی نظام زندگی کی عظیم الشان عمارت کس طرح کھڑی کی جا سکے گی؟ پس یہ عمارت کسی ایک فرد، جماعت یا مسلک نے اکیلے نہیں بلکہ سب نے مل کر بنانی ہے۔ 

پھر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح ان ’مختلف دینی‘ کاموں میں ’کم اور زیادہ اہم ‘ کا سوال لایعنی ہے، اسی طرح ان کی ’تقدیم و تاخیر ‘ کا سوال بھی غیر اہم ہے۔ اسلامی انقلاب کا کام ایک مسلسل عمل (process) ہے، اسی لیے اداروں (institutions) کا قیام ناگزیر ہے جو ایک مستقل عمل کو چلاتے رہیں اور ہمیشہ نیتیں بھی ٹھیک ہوتی رہیں، ہمیشہ حال بھی درست ہوتا رہے، ہمیشہ لوگ اپنے معاملات بھی ٹھیک کرتے رہیں اور ہمیشہ جہاد بھی جاری و ساری رہے۔ یہ سب بیک وقت کرنے کے کام ہیں۔ ان میں پہلے اور بعد یا زیادہ اہم اور کم اہم کا سوال نہیں ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ کسی معاشرے میں جب تعلیم کو عام کرنا ہو تو وہاں اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی تربیت، بچوں کی تعلیم، ماں باپ میں تعلیم کی اہمیت کے احساسات کا فروغ ، نصاب کی تعمیر و تطہیر ، ریاستی تعلیمی پالیسی کا وضع کرنااور اس کی پشت پناہی کے لیے مناسب قانونی انتظام کا بندوبست وغیرہ سب پر ایک ساتھ توجہ کی جاتی ہے۔ یہاں پہلے اور بعد کا سوال غیر اہم ہے کہ پہلے ’ایک دینی کام یا مرحلہ ‘ سر ہوجائے پھر دوسرا کام شروع کیا جائے گا، کیونکہ معاملہ یہ ہے کہ ’سب جماعتوں کا کام سب جماعتوں پر منحصر ہے‘ اور کسی ایک کا عدم وجود دوسرے کے عدم وجود کا پیش خیمہ ہے۔ اگر کسی ایک جماعت نے کوئی خیر جمع کر لیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بظاہر غلطی پر نظر آرہے ہیں انہوں نے دین کے بعض اہم شعبوں کو سنبھال رکھا ہے اور اس طرح انہوں نے آپ کو یہ موقع دیا ہے کہ آپ دوسرے کاموں سے مطمئن و یکسو ہو کر اپنا کام کر سکیں۔ 

★  تحریکات اسلامی کے درمیان اشتراک عمل کی ضرورت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کوئی ایک جماعت سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں دین کا سارا کام اپنے زور بازو سے کرنے کی صلاحیت نہ تو رکھتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی متحمل ہو سکتی ہے۔ ہر جماعت صرف وہی کام کرسکتی ہے، اور اسے وہی کرنا چاہیے جس کے لییے اس نے خود کو تاریخی طور پر مخصوص انداز سے منظم کیا اور اپنے افراد کو اس کے لیے تیار کیا ہے، اس جماعت سے کسی دوسرے کام کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک بڑھئی سے یہ امید رکھیں کہ وہ رنگ و روغن کا کام بھی سر انجام دے، ظاہر ہے اس نے خود کو اس کام کیلئے تیار ہی نہیں کیا۔ افراد کی طرح یہی حال جماعتوں کا بھی ہوتا ہے، ہر جماعت خود کو ایک مخصوص کام کیلئے منظم کرتی ہے اور اس کے اختیار کردہ تعلقات کی وہ مخصوص ترتیب اسی مقصد کو سر انجام دینے کے لیے ہی ممد و مددگار ہوتی ہے۔ چنانچہ مجاہدین کی تنظیمیں عوام کی اصلاح کا کام نہیں کرسکتیں کیونکہ اپنی تنظیم سازی میں وہ اس کام کے لیے کو ئی مہارت پیدا نہیں کرتیں، یہ کام تو وہی تحریکیں سر انجام دیں گی جنہوں نے اس کے لیے خود کو خوب تیار (specialize) کیا۔ اسی طرح مصلحانہ تحریکوں سے یہ شکوہ کہ وہ قتال کیوں نہیں کرتیں یہ بھی ایک ناقابل عمل خواہش ہے کیونکہ انہوں نے خود کو اس کے لیے تیار کیاہی کب تھا، البتہ وہ جہاد کے کام کا عوامی جواز اور بالائی سطح پر قائم ہونے والے اسلامی اقتدار کو محلے، بازار اور مسجد (grassroot level) تک توسیع دینے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں۔ پس انہیں یہی کام کرتے رہنا چاہئے، کیونکہ مجاہدین یہ کام ہرگز نہیں کرسکتے۔ 

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اصلاحی تحریکیں عوام کو مسجد تک کھینچ لانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں، لیکن اس سے آگے کا لائحہ عمل ان کے پاس نہیں، مگر جو ’آگے کا لائحہ عمل ‘ رکھتے ہیں، وہ عوام کو مسجد لانے کے ماہر نہیں۔ نتیجتاً مسجد آنے والا مخلص مسلمان ادھوری بات سن کر رہ جاتا ہے اور آگے والے اس عوام کو مخاطب بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جو مسجد ہی کم آتے ہیں۔ کیا اسلام کا پیغام ’مسجدکے اندر والے‘ کو سمجھانا آسان ہے یا اسے جو مسجد کا رخ ہی نہیں کرتا؟ تو اگر یہ مسجد لانے والے اور مسجد سے آگے لے جانے والے مل جائیں تو کتنی قوت جمع کی جاسکتی ہے؟ اگر ان دونوں طرح کے کام کرنے والی جماعتوں کے کارکن دونوں جماعتوں کے نمائندے بن جائیں تو بھلا منزل کتنی دور ہے؟ بات یہ ہے کہ سب کو اپنا اپنا کام اس طرح کرنا ہے کہ دوسرے کے کام کو تقویت ملے، کسی کو اپنا کام چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھئے حضرت ابو ہریرہؓ نے ساری زندگی حدیث پڑھائی، مگر جہاد نہ کیا۔ اس کے برعکس خالد بن ولیدؓ ساری عمر گھوڑے کی پیٹ پر ہی سوار نظر آئے، مگر حدیث نہ پڑھائی؛ لیکن کیا کبھی کسی سے خالد بن ولیدؓ کا یہ شکوہ سنا کہ ’ابو ہریرہؓ کو تو دیکھو، بیٹھا حدیثیں سناتا رہتا ہے، کبھی جہاد تو کرتا نہیں‘، یا کسی نے ابو ہریرہؓ کا یہ قول سنا کہ ’خالدؓ بھی کوئی عاشق رسول ہے کہ آپ کی حدیث سے کوئی شغف ہی نہیں رکھتا‘؟ اصل یہ ہے کہ ابو ہریرہؓ ساری عمر جہاد کی فضیلت اور اس سے متعلق حدیثیں سناتے رہے اور خالد بن ولیدؓ حفاظت دین کے لیے علم حدیث کی اہمیت کے قائل رہے۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا : ’’میرے صحابہ تو ستاروں کی مانند ہیں، جس کسی کی اتباع کرو گے ہدایت ہی پاؤ گے۔‘‘ پس آج اس اسوہ صحابہ سے سبق لینے کی سخت ضرورت ہے ۔

★  اسی طرح مدارس میں اسلامی علوم سکھانے والے علماء کرام کا کردار بھی بھولنا نہ چاہیے کہ یہی وہ طبقہ ہے جس نے اسلامی علمی ورثہ کو بعینہ اپنی اصل صورت میں محفوظ کیا ہے اور بیسویں صدی میں جمع کیا جانے والا یہ اتنا بڑا خیر ہے جسے شاید عام عقل سمجھ ہی نہ پائے۔ اصلاحی و انقلابی تحریکیں کامیاب ہو بھی جائیں، لیکن اگر اسلامی علوم ہی محفوظ نہ ہوں تو ریاستی عمل کو شارع کی رضا کے مطابق چلانے اور قائم رکھنے کی سرے سے کوئی بنیاد ہی باقی نہ رہے گی۔ درحقیقت علماء کرام ہی اس لائق ہیں کہ وہ ’ہر محاذ‘ پر امت کی راہنمائی اور سرپرستی فرمائیں، کیونکہ انبیاء کے وارث تو بس وہی ہیں اور انبیاء کے مشن (لیظہرہ علی الدین کلہ) کو توڑ چڑھانے کا یہ قرض سب سے زیادہ انہی کے کاندھوں پر ہے۔ جب تک وہ ایسا نہ کریں گے، یہ قرض ادا ہونے والا نہیں، چاھے کوئی کتنا ہی زور لگا لے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ کسی علاقے میں کوئی وبا پوری طرح پھیل گئی (جیسے ڈینگی) مگر ڈاکٹروں نے علاج کی ذمہ داری سے ہاتھ کھنچ لیا ۔ ایسے میں چند خیرخواہ لوگ آگے بڑھ کر لوگوں کی بیماری کم کرنے کے لیے دوا دارو کا بندوبست کرنے لگے، مگر چونکہ وہ علم طب کے ماہر نہیں اس لیے یا تو وہ غلط علاج کریں گے اور یا پھر ادھورا علاج۔ جب تک علم طب کا ماہر اس کام پر کمر بستہ نہ ہوگا، وبا سے چھٹکارا نا ممکن ہے، چاہے کتنے ہی خیر خواہ کیوں نہ جمع ہو جائیں۔ پس علماء کی مثال ماہر طبیب کی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام وہ وبا ہے جس نے امت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور علماء کی قیادت سے محروم دینی جماعتیں امت کے خیر خواہوں کی مانند ہیں جو اپنی اپنی سمجھ کے مطابق پورے خلوص کے ساتھ علاج تجویز کررہے ہیں، اگر وہ طبقہ میدان میں آجائے جو دین متین کے مقاصد اور شارع کی رضا معلوم کرنے کا اہل ہے تو وبا کا علاج کچھ دور نہیں۔ پھر اس طبقے کو یاد رہنا چاہیے کہ جب تک اظہار دین کا یہ فریضہ وہ سرانجام نہیں دیں گے، اس وقت تک جہاں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کا قرض ان کے ذمے باقی رہے گا، وہیں اسلامی علوم کے تحفظ، جس پر انہوں نے خود کو معمور کررکھا ہے، اس کا اصل مقصد (یعنی ان کی معاشرتی و ریاستی بالادستی ) بھی پورا نہ ہوسکے گا ۔

ہذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب ۔


حواشی: 

(۱) سرمایہ دارانہ نظام ریاست کی ہئیت سمجھنے کے لیے دیکھئے ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری صاحب کا نہایت قیمتی و اہم مضمون ’’لبرل سرمایہ دارانہ ریاست‘ ‘ ، مشمولہ کتاب ’’جمہوریت یا اسلام‘ ‘۔

(۲) لبرل اور آمرانہ جمہوریتوں کا فرق، ان کے وجہ جواز اور برائے نام اسلامی ریاستوں کی حقیقت سمجھنے کے لیے دیکھیے فرید زکریا کی کتاب Future of Freedom ۔

(۳) ان کی مختصر وضاحت کے لیے دیکھئے راقم کا مضمون ’’اسلامی خلافت اور موجود ہ مسلم ریا ستوں کا تاریخی تناظر میں موازنہ‘ ‘، مشمولہ کتاب ’’جمہوریت یا اسلام‘‘۔

(۴) ہیومن رائٹس کی تفصیلی وضاحت نیز اسلامی تعلیمات میں اس کے جائزے کے لیے دیکھئے راقم الحروف کا مضمون ’’جدید اعتزال کے فکری ابہامات کا جائزہ‘‘ ، ماہنامہ محدث نومبر ۲۰۰۹۔ نیز جمہوری ریاست کے اندر اسلامی جدوجہد کی لایعنیت سمجھنے کے لیے دیکھیے ہمارا مضمون ’’جمہوریت اور اس کے تناظر میں برپا اسلامی جدوجہد کا تنقیدی جائزہ‘‘ ، مشمولہ کتاب ’’جمہوریت یا اسلام‘‘۔ 

(۵) انقلابی تحریکات کے لییے قدرے نرم گوشا رکھنے والے مفکرین و علماء کا بھی یہ خیال ہے کہ یہ تحریکیں علمی و نظریاتی نہیں، بلکہ منافق قسم کے مسلم حکمرانوں کے خلاف انتقام ، ناامیدی و غصے کے جذبات کا (ناجائز) اظہار ہیں، حالانکہ یہ تجزیہ محل نظر ہے۔ کیونکہ جس طرح انیسویں صدی کے مخصوص حالات میں علمائے کرام کا سیاسی صف بندی سے کنارہ کش ہوکر مدارس کی سطح پر اسلامی علوم کو محفوظ کرنے کا فیصلہ خالصتاً علمی و نظریاتی (اور الحمد للہ کامیاب) اجتہاد تھا، بالکل اسی طرح بیسویں صدی میں انقلابی و جہادی تحریکات کا زور پکڑنا بھی ایک شعوری و نظریاتی اجتہادی فیصلہ ہے۔

(۶) مثلاً دیکھئے تفسیر ابن جریر سورۃ بقرۃ ۲۵۶، ابن کثیر سورۃ نساء۔ ماضی قریب کے تقریباً تمام روایت پسند مکاتب فکر کے مفسرین نے اس سے یہی مراد لیا ہے ۔

(۷) البتہ مسلمانیت کے فرق کی بنا پر دونوں کے فقہی معاملات میں یقیناًفرق کیا جائے گا، مثلاً یہ کہ مسلمانوں کو غلام نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی ان کے اموال کو مال غنیمت سمجھا جائے گا وغیرہ ۔

(۸) فائدوں اور نقصان کے تناظر پر حامد کمال الدین صاحب نے اپنے مضمون ’’معاصر جہاد اور کچھ عمومی اشکالات‘‘ میں بہت عمدہ بحث کی ہے، دیکھیے ماہنامہ ایقاظ جولائی تا دسمبر ۲۰۱۱۔ یہ نکتہ اسی سے اخذ کردہ ہے ۔

(۹) یہ نکتہ مولانا مودودی مرحوم کے مضمون ’’اسلام کا تصور رواداری‘‘ سے لیا گیا ہے ۔

(۱۰) منکرین خروج درحقیقت لبرل مغربی مفکرین کے اس جھوٹے دعوے سے مرعوب ہیں کہ لبرل سیکولر ریاست خیر کے معاملے میں غیر جانبدار اور اسی لیے Tolerant ہوتی ہے اور وہ ہر خیر کے پنپنے کے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے؛ لہٰذا ہم لوگوں کو بھی جمہوری طریقوں سے اسلامی مطالبات منوانا چاہیے ۔ یہ بنیادی طور پر ایک باطل دعویٰ ہے کیونکہ خیر کے معاملے میں غیر جانبداری کا رویہ ممکن ہی نہیں۔ مختصراً یہ کہ لبرل جمہوری ریاست بھی ایک مخصوص تصور خیر کو تمام دیگر تصورات خیر پر بالاتر کرنے کی ہی کوشش کرتی ہے اور وہ تصور خیر آزادی ہے، یعنی یہ تصور کہ تمام تصورات خیر مساوی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا کہ تمام تصورات خیر مساوی ہیں، غیر جانبداری کا رویہ نہیں بلکہ بذات خود خیر کا ایک مستقل مابعد الطبعیاتی تصور ہے کہ ’’اصل خیر تمام تصورات خیر کا مساوی ہونا ہے‘‘، اور اسی تصور خیر کے تحفظ اور فروغ کی لبرل جمہوری دستوری ریاست پابند ہوتی ہے۔ یہ سمجھنا کہ لبرل جمہوری ریاست کوئی tolerant ریاست ہوتی ہے ایک فریب ہے، کیونکہ اپنے دائرہ عمل میں یہ صرف انہیں تصورات خیر کو برداشت کرتی ہے جو اس کے اپنے تصور خیر (یعنی تمام تصورات خیر کی مساوات و لایعنیت ) سے متصادم نہ ہو، اور ایسے تمام تصورات خیر جو کسی ایک چاہت کو بقیہ تمام چاہتوں سے بالاتر سمجھ کر اس کی برتری کے قائل ہوں، ان کی بذریعہ قوت بیخ کنی کردیتی ہے جس کی مثال طالبان کی حکومت پر بمباری سے عین واضح ہے۔ درحقیقت خیر کے معاملے میں لبرل جمہوری ریاست بھی اتنی ہی dogmatic (راسخ العقیدہ ) اور intolerant (ناروادار) ہوتی ہے جتنی کوئی مذہبی ریاست کیونکہ دونوں ہی اپنے تصورات خیر سے متصادم کسی نظریے کی بالادستی کو روا نہیں رکھتیں۔ خوب یاد رہے کہ تمام تصورات خیر کی لایعنیت کا مطلب غیر جانبداری نہیں بلکہ مساوی آزادی (سرمائے کی بالادستی) بطور اصل خیر کا اقرار ہے۔ یہ اسی کا مظہر ہے کہ پختہ (matured) جمہوری ریاستوں میں ارادہ انسانی یعنی اس کے حق کی بالادستی تمام تصورات خیر پر غالب آجاتی ہے اور کسی مخصوص خیر کی دعوت دینا ایک لایعنی اور مہمل دعوت بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسی ریاستوں میں آپ کسی مخصوص خیر (مثلاً مذہبیت) کے اظہار کو ’’بطور ایک حق‘‘ کے پریکٹس (Practice) تو کرسکتے ہیں مگر اسے دیگر تمام تصورات خیر اور زندگی گزارنے کے دوسرے طریقوں پر غالب کرنے کی بات نہیں کرسکتے کہ ایسا کرنا ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی ہے۔

(۱۱) اس جواب کے بہت سے نکات ماہنامہ ایقاظ جولائی تا دسمبر ۲۰۱۱ کے مضمون ’’معاصر جہاد اور کچھ عمومی اشکالات‘‘ سے حاصل کیے گئے ہیں۔

(۱۲) یہ مثال بھی حامد کمال الدین صاحب کے مضمون ’’معاصر جہاد اور کچھ عمومی اشکالات‘‘ سے حاصل شدہ ہے۔

اسلام اور سیاست

مارچ ۲۰۱۲ء

جلد ۲۳ ۔ شمارہ ۳

ابتدائیہ
محمد عمار خان ناصر

اسلام کا تصور جہاد ۔ چند توضیحات
مولانا محمد یحیی نعمانی

جہاد ۔ ایک مطالعہ
محمد عمار خان ناصر

’’پر امن طریق کار‘‘ بمقابلہ ’’پر تشدد طریق کار‘‘
مولانا حافظ محمد رشید

حکمرانوں کی تکفیر اور خروج کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (پہلی مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (دوسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

معاصر مسلم ریاستوں کے خلاف خروج کا مسئلہ (تیسری مجلس مذاکرہ)
ادارہ

پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے
الشیخ ایمن الظواہری

عصر حاضر میں خروج کا جواز اور شبہات کا جائزہ
محمد زاہد صدیق مغل

غلط نظام میں شرکت کی بنا پر تکفیر کا مسئلہ ۔ خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں
مولانا مفتی محمد زاہد

تکفیر اور خروج : دستورِ پاکستان کے تناظر میں
محمد مشتاق احمد

کیا دستور پاکستان ایک ’کفریہ‘ دستور ہے؟ ایمن الظواہری کے موقف کا تنقیدی جائزہ
محمد عمار خان ناصر

پروفیسر مشتاق احمد کا مکتوب گرامی
محمد مشتاق احمد

خروج ۔ کلاسیکل اور معاصر موقف کا تجزیہ، فکر اقبال کے تناظر میں
محمد عمار خان ناصر

تعارف و تبصرہ
ادارہ