اگر جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے!

حکیم محمد عمران مغل

دیگر ملکوں کی طرح ہمارے ملک کے بڑے شہر بھی حادثات کی زد میں آ چکے ہیں۔ لڑائی مار کٹائی، دنگا فساد اور کسی اونچی جگہ سے گرنے کے علاوہ ٹریفک کے حادثات بھی بے تحاشا بڑھتے جا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو آبادی اور ٹریفک دونوں بے ہنگم ہو چکے ہیں جس سے عام آدمی کا بازاروں میں حفاظت سے چلنا دشوار ہو چکا ہے۔ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں حادثہ پیش آ ہی جاتا ہے۔ پھر ہماری مصروفیات اور دوڑ دھوپ میں مزید تیزی آ رہی ہے۔ ہر شخص، کیا مرد کیا عورت، آگے دوڑ پیچھے چھوڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ کراچی کی طرح لاہور میں بھی آبادی کا دریا چاروں طرف بہہ نکلا ہے جو سنبھلنے میں نہیں آ رہا۔ 

گئے وقتوں میں اچھرہ، لاہور کا ایک پرسکون، مہذب اور دل آویز گاؤں ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے لاہور کے ماتھے پر علم وادب کا ایک لازوال جھومر لٹکایا گیا جس کی چمک برصغیر سے نکل کر عرب وعجم تک پہنچی۔ یوں علم کے متوالے یہاں کھنچے چلے آئے۔ یہ جھومر جامعہ فتحیہ المعروف جٹاں والی مسجد کے نام سے آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ جب لاہور کے دینی مدارس کا ذکر آتا ہے تو جٹاں والی مسجد کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اسی شہرت کو سن کر سوات کے ایک دینی گھرانے کا طالب علم جنید یہاں آیا۔ فارغ ہونے کے بعد وہ مدرس سے ناظم بن گیا اور اپنی محنت سے جامعہ فتحیہ کو چار چاند لگا دیے۔ ایک دن وہ سائیکل پر سوار فیروز پور روڈ پر پہنچا تو مخالف سمت سے ایک گاڑی دھاڑتی ہوئی آئی اور آناً فاناً اسے کچل کر رکھ دیا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ

دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل

بے چارے جنید کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ مالکان مدرسہ نے اس کا قیمتی سے قیمتی علاج کروانے کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے، مگر افاقہ نہ ہوا اور چارپائی پر پڑے کراہتے رہنا اس کا مقدر دکھائی دینے لگا۔ جب مجھے معائنہ کے لیے بلایا گیا تو سارے جسم میں پیپ پڑ چکی تھی۔ میں نے کہا کہ علاج کے ساتھ سخت پرہیز نہ کیا گیا تو صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ سب سے پہلے پیپ کو خشک کرنے کے لیے رسکپور مدبر ایک چاول کے برابر کیپسول میں ڈال کر ناشتے کے بعد دودھ سے دیا۔ ساتھ چھ دیسی انڈوں کی زردی سے تیل کشید کر کے اس میں میتھی اتنی رگڑی کہ مرہم بن گئی۔ اس مرہم کے ساتھ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر پٹی باندھی گئی۔ چار دن کے بعد نئی پٹی باندھی۔ ساتھ صبح شام ایک ایک چاول سلاجیت کھانے کے بعد دی جاتی رہی۔ مزید برآں معجون فلاسفہ بڑی چمچ دوبار، صبح شام حب ازاراقی، کیلشیم کی کمی کے لیے خمیرہ مروارید صبح شام دیا جاتا رہا۔ دو ماہ کے علاج کے بعد جنید صاحب نے دیوار کے سہارے چلنا شروع کر دیا اور پھر چل سو چل۔

بو علی سینا رحمۃ اللہ علیہ اور جگرانوی خاندان نے علم نجوم سیکھنے کی بہت تاکید کی ہے۔ بو علی سینا تو فرماتے ہیں کہ جب تک میں نے علم نجوم نہیں سیکھا، مکمل حکیم نہیں بن سکا۔ آج ہمارے ہاں حکیموں کے لیے اردو زبان میں معمولی مضمون لکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ان بزرگوں نے حکیم کے لیے علم نجوم، علم جفر، پامسٹری، علم قیافہ اور علم نقوش کا جاننا ضروری قرار دیا ہے۔ یہ سارے نکات کاش البرنی نے وضاحت سے سمجھائے ہیں۔ ان کو ہم تک پہنچانے میں کاش البرنی خاندان نے کافی تکالیف اٹھائی ہیں۔ اس لیے میں نے ان کو شہید علم لکھا ہے۔ ان علوم کے بازاری حاملین نے آج اودھم مچا رکھا ہے۔ اگر کاش البرنی کی کتابوں کا مطالعہ کر لیا جائے تو برنی صاحب کی شخصیت کا نکھار کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔

امراض و علاج

(نومبر ۲۰۱۱ء)

Flag Counter