الشریعہ اکادمی میں تعزیتی نشست

ادارہ

۱۵ اکتوبر کو الشریعہ اکادمی میں مولانا سید عبد المالک شاہؒ ، مولانا میاں عبدالرحمنؒ اور مولانا قاری خلیل احمد نعمانی ؒ کی وفات پر ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے کی اور اس سے مولانا مفتی محمد اویس، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کیا، جبکہ شہر کے علماء کرام اور دینی مدارس کے اساتذہ وطلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی نے مرحومین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ ان مجاہد علما میں سے تھے جو معاشرہ میں حق کی آواز بلند کیے رکھتے ہیں اور اس کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں۔ شاہ صاحب مرحوم نے تدریس وخطابت کے ساتھ ساتھ بھرپور جماعتی وتحریکی زندگی گزاری ہے اور وہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے معتمد ساتھیوں میں سے تھے۔ انھوں نے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں تعلیم حاصل کی اور ان کے سبق اور کمرے کے ساتھیوں میں مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبد الحکیم اکبری بھی تھے۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ معاشرہ میں حق کی آواز بلند ہوتی رہے اور منکرات کے خلاف روک ٹوک کانظام قائم رہے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی رکا رہتا ہے اور اگر باطل اور منکرات کا فروغ عام ہو اور کوئی روک ٹوک نہ ہو تو پوری قوم پر خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے، اس لیے وہ علماء کرام قوم کے محسنین ہیں جو حق کے اظہار اور باطل کے خلاف احتجاج میں مصروف رہتے ہیں اور مولانا سید عبد المالک شاہؒ بھی ایسے ہی علماء کرام میں سے تھے۔

مولانا میاں عبد الرحمنؒ کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیمؒ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے خصوصی مریدین میں سے تھے اور حق گو عالم دین تھے جن کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے انھیں ڈنڈے والے مولانا کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ مولانا میاں عبد الرحمنؒ اپنے والد گرامی کے صحیح جانشین تھے۔ دینی درد رکھنے والے حق گو عالم دین اور دینی تحریکات میں بھرپور حصہ لینے والے متحرک کارکن تھے۔

مفتی صاحب نے مولانا قاری خلیل احمد نعمانی مرحوم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے محترم بزرگ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی آف ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان کے فرزند تھے۔ ایک عرصہ سے گوجرانوالہ میں مقیم تھے اور جامعہ اسلامیہ میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے کہ گزشتہ دنوں وہ اچانک بیمار ہوئے اور آناً فاناً دنیا سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک صالح اور مخلص عالم دین تھے اور اکابر علماء کرام کے ساتھ مسلسل تعلق اور عقیدت رکھتے تھے۔

مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ کے ساتھ ان کی تحریکی اور مسلکی رفاقت رہی ہے۔ وہ مسلکی کاموں میں ہمیشہ خوش دلی کے ساتھ تعاون کرتے تھے اور دینی ومسلکی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹے موٹے خلا تو پیدا ہوتے رہتے ہیں، لیکن مولانا سید عبد المالک شاہؒ کی وفات پر شہر میں دینی جدوجہد اور مسلکی خدمات کے حوالے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے ان کے ساتھی کافی عرصے تک محسوس کرتے رہیں گے۔

مولانا مفتی محمد اویس نے اپنے خطاب میں ایک واقعہ سنایا اورکہا کہ اس واقعہ کے بعد ان کے دل میں احساس پیدا ہوا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ کتنے بڑے بزرگ تھے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ وہ ایک بار گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری پر انھیں گکھڑ واپس چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے کہ شیرانوالہ باغ کے قریب ٹریفک کے ہجوم کی وجہ سے گاڑی آہستہ ہو گئی۔ اتنے میں سامنے دیکھا کہ مولانا سید عبد المالک شاہؒ آ رہے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ڈرائیور سے کہہ کر گاڑی رکوائی اور گاڑی سے اتر کر سڑک پر شاہ صاحبؒ سے ملاقات کی۔ مجھے اس وقت احساس ہوا کہ شاہ صاحبؒ کے علم، خلوص اور سید ہونے کی وجہ سے حضرت شیخؒ نے ان کا یہ اکرام فرمایا ہے اور شاہ صاحبؒ ہمارے بزرگوں کے معتمد ساتھیوں میں سے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں شاہ صاحبؒ کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ان کی سادگی اور تواضع تھی۔وہ ہمارے پاس المشرق سائنس کالج میں کئی بار تشریف لائے۔ ان کی بچیاں ہمارے پاس تعلیم حاصل کرتی تھیں، لیکن وہ جب بھی آئے، سادگی اور تواضع کے ساتھ بات کی اور کبھی اپنے علم اور بزرگی کا رعب جمانے کی کوشش نہیں کی اور میں ان کے اس طرز عمل سے بہت متاثر ہوا کہ اہل حق اور بزرگوں کا طرز عمل ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے۔

ڈاکٹر عبد الماجد نے اس موقع پر ایک تجویز پیش کی کہ کچھ اصحاب خیر کو آپس میں مل کر کوئی ایسا مستقل فنڈ قائم کرنا چاہیے جس سے وفات پا جانے والے علماء کرام کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ تجویز ایک تلخ تجربہ کے بعد پیش کر رہے ہیں کہ ایک عالم کسی دینی جدوجہد میں گرفتار ہو گئے اور کئی ماہ تک جیل میں رہے۔ میں نے ان کی مسجد کی انتظامیہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ مولانا صاحب کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور ان کو کوئی خرچہ دے رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہم تو ان کے گھر میں کوئی خرچہ نہیں دے رہے، اس لیے کہ وہ مسجد کی تو کوئی ڈیوٹی نہیں دے رہے۔ ڈاکٹر مشرقی نے کہا کہ ایسا عام طور پر ہوتا ہے کہ جب کوئی عالم دین کسی مصیبت کا شکار ہو جاتا ہے یا وفات پا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے خاندان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، اس لیے میری تجویز ہے کہ ایسا کوئی فنڈ مستقل طور پر قائم ہونا چاہیے۔

مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں مولانا سید عبد المالک شاہ، میاں عبدالرحمن اور قاری خلیل احمد نعمانی کی دینی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ملکی حالات کے بارے میں مولانا سید عبدالمالک شاہ کی فکر مندی کا حال یہ تھا کہ بیماری کے دنوں میں، جبکہ شوگر کی وجہ سے ان کا ایک پاؤں کاٹا جا چکا تھا، میں ان کی عیادت کے لیے گیا تو میں ان سے ان کی طبیعت کے متعلق پوچھتا اور وہ مجھ سے مختلف قومی اور ملی مسائل سے متعلق دریافت کرتے رہے۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے بتایا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شدید علالت کی اس کیفیت میں شاہ صاحب جمعیت کی کسی میٹنگ میں شریک ہوں گے، لیکن وہ ہر میٹنگ میں سب سے پہلے موجود ہوتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ایسے دوستوں کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عبد الماجد المشرقی کی تجویز پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ 

تقریب کا اختتام مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی پرسوز دعا پر ہوا اور تینوں مرحومین کی مغفرت وبلندئ درجات کے ساتھ ساتھ ان کے پس ماندگان ومتوسلین کے لیے صبر جمیل کی توفیق کی دعا کی گئی۔ اللہم آمین

الشریعہ اکادمی

(نومبر ۲۰۱۱ء)

Flag Counter