چند بزرگ علماء کا انتقال

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں چند محترم دوست اور بزرگ علمائے کرام انتقال کر گئے جن کی جدائی کا صدمہ ہمارے دینی وعلمی حلقوں میں مسلسل محسوس کیا جارہا ہے۔ 

  • شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا انتقال ملک کے علمی ودینی حلقوں کے لیے صدمہ ورنج کا باعث بنا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا قاضی نور محمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے اکابر بزرگوں میں سے تھے جنھوں نے پون صدی قبل گوجرانوالہ میں توحید وسنت کے پرچار اور علماء دیوبند کے مسلک کے فروغ وتعارف میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ صاحبؒ نے ۸۰ برس سے زیادہ عمر پائی اور زندگی بھر دینی علوم کی تدریس وترویج میں مصروف رہے۔ ۱۹۷۷ء میں انھوں نے قلعہ دیدار سنگھ کے حلقہ سے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی طرف سے پاکستان قومی اتحاد کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ وہ دینی تحریکات میں ہمیشہ سرگرم رہے اور ان کے ہزاروں تلامذہ ملک کے مختلف حصوں میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اللہ رب العزت انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور پس ماندگان اور سوگواروں کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں۔ آمین یا رب العالمین۔
  • حضرت مولانا محمد الطافؒ جمعیۃ علماء اسلام کے بزرگ راہ نماؤں میں سے تھے جن کا گزشتہ دنوں حافظ آباد میں انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق وادی سکیسر کے گاؤں کوٹلی سے تھا۔وہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فاضل تھے اورحضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے شاگرد تھے۔ ۱۹۶۱ء میں حافظ آباد آئے، مرکزی جامع مسجد قدیم کی خطابت سنبھالی اور مدرسہ اشرفیہ قرآنیہ میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ وہ جید عالم دین، بے باک خطیب، تجربہ کار مدرس اورمنجھے ہوئے سیاسی راہ نما تھے۔ انھوں نے حضرت درخواستی، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، حضرت مولانا مفتی محمود اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ساتھ مسلسل جماعتی محنت کی اور اس کے بعد مولانا فضل الرحمن کے ساتھ پورے عزم واستقامت کے ساتھ وابستہ رہے۔ انتہائی نیک، خدا ترس اور حق گو بزرگ تھے۔ طویل علالت کے بعد ۸۰ برس کے لگ بھگ عمر میں انھوں نے وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں۔ آمین یا رب العالمین۔
  • مولانا سید عبدالمالک شاہ میرے بہت پرانے دوست اور ساتھی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں استاذ الحدیث تھے اور جمعیت علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کا تعلق مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کے گاؤں سے تھا اور وہ مفتی صاحب کے معتمد کارکنوں میں سے تھے۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کی اور اسی دور میں جمعیت طلباء اسلام اور جمعیت علماء اسلام کی تحریکی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے۔ حضرت والد محترم اور حضرت صوفی صاحب کے ساتھ گہری محبت وعقیدت رکھتے تھے۔ میرا ان کے ساتھ پہلا تعارف غالباً ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران ہوا اور پھر یہ تحریکی رفاقت زندگی بھر جاری رہی۔ جمعیت علماء اسلام میں ہم نے ایک عرصے تک اکٹھے کام کیا، حتی کہ جب حضرت مفتی صاحب کی وفات کے بعد جمعیت علماء اسلام دو حصوں میں بٹی تو ہم دونوں ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں تھے، مگر باہمی روابط، دوستی اور تعاون میں اس دور میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔وہ ان دنوں مدرسہ انوار العلوم میں مدرس تھے اور میں مرکزی جامع مسجد کا خطیب ہوں۔ وہ اپنے کیمپ کے لیے متحرک تھے اور میں اپنے کیمپ کے لیے متحرک تھا۔ وہ ایم آر ڈی میں تھے اور میں اس کا شدید مخالف تھا، لیکن اس باہمی محاذ آرائی کے دور میں بھی متعدد بار ایسا ہوا کہ پولیس ان کی تلاش میں ہوتی اور وہ میرے دفتر کے عقبی کمرے میں پناہ گزین ہوتے تھے۔
    ۱۹۷۵ء میں مسجد نور گوجرانوالہ کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں دیے جانے کے فیصلے کے خلاف عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا تو اس تحریک کو منظم کرنے اور مربوط طورپر چلانے میں مولانا سید عبدالمالک شاہ، ڈاکٹر غلام محمد، نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم، صوفی رستم علی قادر اور علامہ محمد احمد لدھیانوی سب سے زیادہ متحرک رہے۔ انھی کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں تحریک کامیاب ہوئی اور حکومت کو مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم کو تحویل میں لینے کا نوٹیفکیشن واپس لینا پڑا۔ اس لحاظ سے شاہ صاحب مدرسہ نصرۃ العلوم کے محسن بھی تھے کہ ان کی شبانہ روز محنت اس مسجد ومدرسے کی آزادی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنی۔
    وہ گزشتہ کم وبیش پندرہ سال سے جامعہ نصرۃ العلوم کے استاذ تھے اور دورۂ حدیث میں عام طورپر مسلم شریف ان کے زیر درس رہتی تھی، جبکہ علوم وفنون کی دیگر کتابیں بھی انہوں نے مسلسل پڑھائیں اور ایک محنتی اور کامیاب مدرس کے طورپر شہرت حاصل کی۔ جمعیت علماء اسلام اور مولانافضل الرحمن کے ساتھ ان کا تعلق اور وفاداری قابل ذکر، بلکہ قابل رشک تھی۔ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے یہ ساتھ نبھایا اور خوب نبھایا۔ وہ ایک عرصے سے بیمار تھے، شوگر کی وجہ سے ان کے ایک پاؤں کا انگوٹھا چند سال قبل کاٹنا پڑا تھا، مگر اس موذی مرض نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹروں نے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی اور اس کا علاج چل رہا تھا کہ معدے نے کام چھوڑ دیا۔ حوصلہ مند آدمی تھے، بیماری اور معذوری کے باوجود جماعتی اور مسلکی کاموں میں ہمیشہ متحرک رہے۔
    بیماری کے ایام میں انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ ان کا جنازہ مولانا فضل الرحمن پڑھائیں اور کوشش کی جائے کہ انہیں قبر کے لیے گوجرانوالہ کے بڑے قبرستان میں حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتی کے قریب جگہ مل جائے۔ مولانا فضل الرحمن تو انتہائی کوشش کے باوجود جنازے تک نہ پہنچ سکے اور نمازہ جنازہ حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے جامعہ نصرۃ العلوم میں رات کے دس بجے پڑھائی، البتہ قبر کی جگہ انہیں حسب خواہش حضرت صوفی صاحب کے قدموں میں اور اپنے پرانے ساتھی مولانا اللہ یار خان کے پہلو میں مل گئی۔ جنازے میں مولانا عبدالغفور حیدری شریک ہوئے، جبکہ مولانا فضل الرحمن اگلے روز صبح تعزیت کے لیے تشریف لائے، اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائیں، آمین یا رب العالمین۔
  • مولانا میاں عبدالرحمن کا تعلق بالاکوٹ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم نے لاہور کے معروف بازار انارکلی میں ڈیرہ لگایا اور عمر بھر وہاں حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور جمعیت علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے۔ ان کے مزاج میں حق گوئی دبدبہ ہر شخص محسوس کرتا تھا اور ان کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تھی، جس کی وجہ سے ان کا لقب بھی مولانا محمد ابراہیم ڈنڈے والے پڑگیا تھا۔ انارکلی بازار کی مسجد کے دروازے پر ایک چھوٹی سی دکان میں، جسے دکان کہنا بھی شاید مبالغہ ہو، شہد کا ہلکا پھلکا کاروبار کرتے تھے اور عزت وآبرو کے ساتھ حق گوئی کا پرچم بلند رکھتے تھے۔ مولانا میاں عبدالرحمن ان کے فرزند اور جانشین تھے اور انہی کے اوصاف اور روایات کے امین تھے۔ جامعہ مدینہ کریم پارک سے تعلیم حاصل کی، حضرت مولانا سید حامد میاں اور حضرت مولانا عبیداللہ انورسے ارادت کا گہرا تعلق تھا اور جمعیت علماء اسلام کی دینی وسیاسی جدوجہد ان کی ہمیشہ جولان گاہ رہی۔ مجھے باپ بیٹا دونوں کی شفقت ومحبت ہمیشہ حاصل رہی اور خصوصی دعاؤں کے ساتھ جماعتی کاموں میں سرپرستی اور معاونت سے بھی بہرہ ور فرماتے تھے۔ لاہور کے دینی اجتماعات میں اکثر وبیشتر ان سے ملاقات ہوتی تھی اور وہ اپنے مسلک کے تمام حلقوں کو یکساں طورپر نوازتے تھے۔ ا نہیں لاہور کے دینی حلقوں میں دینی تحریکات کے سرپرست کے طورپر پہچانا جاتا تھا اور وہ ہر دینی تحریک اور مسلکی جدوجہد میں پیش پیش نظر آتے تھے۔
    گزشتہ جمعرات کو ایک سفر کے دوران یہ اطلاع ملی مولانا میاں عبدالرحمن مانسہرہ میں ایک دینی اجتماع میں شرکت کے بعد واپس جاتے ہوئے ٹریفک حادثہ کا شکار ہوکر شہید ہوگئے ہیں۔ ایک مشفق دوست اور مخلص جماعتی ومسلکی راہ نما کی اچانک اور حادثاتی وفات پر بے حد صدمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین، یا رب العالمین۔

اخبار و آثار

(نومبر ۲۰۱۱ء)

Flag Counter