قومی سلامتی۔ نئے حقائق، نئے تقاضے

سلیم صافی

عید الفطر کے موقع پر طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر مجاہد اور حزب اسلامی کے امیر گلبدین حکمت یار کے جاری کردہ تفصیلی پیغامات نظروں کے سامنے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر ان کے یہ پیغامات دراصل پالیسی بیانات ہوتے ہیں جن میں افغان قضیے کے تمام پہلووں کا احاطہ ہو چکا ہوتا ہے۔ اب کی بار دونوں کے پیغامات کا لب ولہجہ ماضی کے لب ولہجے سے بہت مختلف اور بنیادی سوچ بڑی حد تک یکساں ہے۔ دونوں کے پیغامات میں کسی بھی شکل میں افغانستان کے اندر غیر ملکی افواج یا پھر ان کے اڈوں کی موجودگی کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا ہے۔ جہاں غیر ملکیوں کے بارے میں لہجہ بے لچک اور سخت ہے، وہاں کرزئی حکومت پر ماضی کے برعکس کوئی تبرا نہیں بھیجا گیا ہے۔ 

ملا محمد عمر نے اپنے پیغام میں پہلی بار نیا پیغام دیا ہے کہ غیر ملکیوں کے نکلنے کے بعد سوویت یونین کے انخلا کے بعد کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان تمام افغانوں کا ملک ہے اور نئے نظام میں تمام طبقات کو سمونے کی کوشش کی جائے گی۔ افغانستان کے قدرتی وسائل او رمعدنی وسائل کے تذکرے کے بعد انھوں نے ان سے استفادہ کرنے اور غربت وبدحالی کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ دنیا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ نظم وضبط کا مظاہرہ اور غیر متحارب انسانوں کو دکھ پہنچانے سے گریز کریں۔ گلبدین حکمت یار تو دو قدم آگے بڑھ کر مجاہدین پر زور دیتے ہیں کہ وہ سرکاری حکام، اساتذہ، ججوں، علما، انجینئروں، ڈاکٹروں، صحافیوں اور غیر متحارب لوگوں کو مارنے سے گریز کریں اور یہ تک کہہ گئے کہ مساجد، مدارس، اسکولوں، ہسپتالوں، دفتروں اور پبلک مقامات پر دھماکے کرنے والے دشمن کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ 

مذکورہ دونوں افغان رہنماؤں نے پڑوسی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے، لیکن ان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی خاطر افغانوں کے خلاف سازش کا حصہ نہ بنیں۔ ان پیغامات میں چھپا پیغام، جہاں تک میں سمجھا ہوں، یہ ہے کہ طالبان اور حکمت یار کی طرف سے کابل اور اسلام آباد کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ امریکی اثر سے آزاد ہو کر غیر ملکی افواج کے انخلا میں تعاون کریں تو وہ ماضی کی طرح صرف ایک طبقے کی حکومت قائم کرنے پر اصرار نہیں کریں گے۔ حکمت یار تو خیر پہلے سے ہی انتخابات اور وسیع البنیاد حکومت کا ذکر کیا کرتے تھے، لیکن اب طالبان کی طرف سے بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے رویے کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

ملا محمد عمر نے اس پیغام میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا بھی اعتراف کیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ہونے والے مذاکرات کو امریکیوں نے قضیے کے حل کے لیے باقاعدہ مذاکرات کی شکل میں پیش کیا۔ انھوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ صرف قیدیوں کے تبادلے کے جزوی مسئلے پر ہونے والے مذاکرات کسی صورت قضیے کے حل کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق طالبان رہنما طیب آغا گزشتہ ماہ تک امریکی رابطے میں تھے، لیکن اب طالبان نے یہ سلسلہ مکمل طو رپر ختم کر دیا ہے اور طیب آغا چند روز قبل ایک خلیجی ملک سے پراسرار طور پر غائب ہو گئے، حالانکہ امریکی ان کا انتظار کرتے رہ گئے۔

گویا طالبان اب امریکہ کے ساتھ براہ راست معاملہ کرنے کی بجائے افغان اور پاکستان حکومتوں کے ساتھ مکالمے کا عندیہ دے رہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ اس کے لیے اپنے آپ کو بااختیار ثابت کرنا اور فضا سازگار بنانا ان حکومتوں کا کام ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ کابل اور اسلام آباد مزید قریب آئیں، وہ امریکہ اور طالبان سے متعلق ایک ہی راستہ اپنا لیں اور خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور طالبان یا پھر حزب اسلامی کے ساتھ مفاہمت کے لیے ایک مشترکہ اور قابل عمل فارمولا سامنے لائیں۔ یقیناًیہ یکسر ایک نئی صورت حال ہے اور پاکستانی پالیسی سازوں کو اس کے تناظر میں اپنی پالیسی ازسرنو مرتب کرنی چاہیے۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ، ۶ ستمبر ۲۰۱۱ء)

حالات و واقعات