علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ (۱۹۲۳ء۔۲۰۰۵ء)

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

صدیاں ہوتی ہیں، وقت کے ایک عظیم عالم (ابن تیمیہؒ ) کی وفات پر دمشق کے میناروں سے آواز بلند ہو ئی تھی: الصلاۃ علی ترجمان القرآن (ترجمان قرآن کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی)۔ ۲۴؍ جنوری ۲۰۰۵ء کو ہندوستان کو بھی حق تھا کہ اس کے گوشہ گوشہ سے بھی یہی آواز بلند ہوتی کہ وقت کے ابن تیمیہ، ترجمان قرآن وسنت، محدث عصر علامہ شبیر احمد ازہر میرٹھیؒ نے اسی دن دنیا کو خیر باد کہا۔ ان کی وفات پر ایک عظیم علمی روایت کا خاتمہ ہوا۔ یہ کو ئی معمولی حادثہ نہ تھا کہ اس پریوں ہی گزر جایاجائے، لیکن مسلمانان ہند اپنے علمی وفکری زوال وانحطاط کے جس مقام پر ہیں، وہاں یہ کوئی تعجب کی بات نہ تھی کہ کسی کو پتہ نہیں چلاکہ کیا ہوگیا۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایک عہد فراموش دور میں جی رہے ہیں جہاں پرہر چیز کو بھلا دیاجاتاہے، تاہم عوام تو عوام، علما ، ارباب مدارس، اسلامی تحریکوں اور اسلامی علوم کے طلبہ کا ایسے گوہر نایاب اور متاع بے بہا کے بارے میں تجاہل، تغافل اور ناآشنائی کا یہ رویہ جس کا ایک عمومی مشاہدہ کیا گیا، ایک ملی المیہ اور ہماری علمی تاریخ کے ایک عبرت ناک باب سے کم نہیں۔ خصوصاً ایسے دور میں جہاں درباری مدعیان علم اور مختلف فرقوں، جماعتوں ، تنظیموں اور اداروں کے قائدین پر زور سیمینار ہوتے ہیں اور اخباری شہرت رکھنے والے ہما وشما پر خصوصی گوشے اور نمبرات شائع کیے جاتے ہیں!!

خاندان :عہد اسلامی میں شمالی ہند میں جو لوگ مسلمان ہوئے تھے، ان میں برہمنوں وراجپوتوں اور گوجروں سے نکلی ہوئی بہت سی برادریاں بھی ہیں۔ انھی میں ایک چودھری برادری بھی ہے جن کاآبائی پیشہ کاشتکاری ہے ۔موضع توڑی ضلع غازی آباد میں سکونت پذیر اسی برادری کے ایک متوسط درجہ کے خاندان میں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔ آپ کے دادا ایک نیک دل اور سیدھے سادے دیندار کسان تھے جنہوں نے خود تو معمولی دینی تعلیم پائی تھی لیکن اپنے بچوں کو اچھی دینی و قرآنی تعلیم سے آراستہ دیکھنے کی بڑی تمنا اور آرزو تھی ۔والد حافظ بشیر احمد علاقہ کے انتہائی جید حافظ وقاری تھے جن کے حفظ کا دور دور تک شہرہ تھا۔ والدہ زبیدہ خاتون بھی نہایت عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔ اوپر کے شجرہ کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ نہ خودمولانا نے کہیں تذکرہ کیا اور نہ وہ شجروں اور نسبتوں وغیرہ کے وہ قائل تھے کہ بقول امام الہند مولاناابو الکلام آزادؒ :

’’اسلا م نے ساری نسبتوں اور ا متیازوں کو مٹا کر صرف اپنی ایک نسبت نوع انسانی کو عطا کی اور اس نسبت سے بڑھ کر اور کون سی نسبت ہوسکتی ہے جس کی ایک مسلمان کو تلاش ہو؟ انسان کے لیے معیار شرف جوہر ذاتی اور خود حاصل کردہ علم وعمل ہے نہ کہ اسلاف کی روایت یا رینہ اور نسب فروشی کا غرور باطل ۔ہم کو ایسا ہونا چاہیے کہ ہمارے نسب سے ہمارے خاندان کے شرف رفتہ کے محتاج ہوں! ارباب ہمت نے ہمیشہ اپنی راہ خود نکالی ہے۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۲۶) 

تعلیم و تربیت

مولانا شبیر احمد ازہر نے کم سنی میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا تھااور ۱۷،۱۸سال کی عمرمیں ہی علوم دینیہ کے اکتساب سے فارغ ہوگئے تھے۔ اس وقت کے مروجہ درس نظامی کے پورے کورس، جو ۱۲سال کو محیط ہوتا تھا، کی تکمیل انھوں نے صرف ۵سال میں کرلی تھی۔ ان کے خاص استاد مولانا شاہ اختر خان امروہوی تھے جن کے خاص استاد کانام بھی شبیر احمد تھا اورجو شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کے شاگرد بھی تھے۔ شاہ اختر خان ؒ نے ان کو پورا قرآن صرفی و نحوی ترکیب کے ساتھ پڑھایا اور حدیث و فقہ کی منتخب کتابیں خصوصی طور پر پڑھائیں۔اپنے اس شاگرد پر ان کی خصوصی نظر عنایت تھی۔وہ اپنے اور شاگرد دونوں کی مناسبت سے کہا کرتے کہ’’ شبیر سے لیا اور شبیر کو دے دیا‘‘۔ مروجہ علوم کی تکمیل شاہ اختر خان صاحب سے کرنے کے بعد انھی کی ایما پر جامعہ تعلیم الدین ڈھا بیل گجرات تدریس کے لیے جانا ہوا۔ وہا ں انتہائی کم عمر ی کے باوجو د اونچے درجوں کی کتابیں پڑھائیں۔ کچھ عرصہ بعد شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ ہندوستان آئے اور دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدر مدرس بنائے گئے تو استاد کے اشار ہ پر ڈھابیل سے لوٹے اور دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ وہاں خاص اساتذہ میں شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ ، مولانا فخرالحسنؒ اور حضرت مدنیؒ تھے۔

تدریسی خدمات

دیوبند سے سندفضیلت کے حصول کے بعد آپ نے مختلف مدارس اور اداروں میں علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس کا آغاز کیا اور تقریباً ۷۵سال کی عمر ہونے تک ہندوستان کے بڑے اور اہم مدارس میں تدریس کی خدمات انجام دیں۔ ۳۰ سال سے زائد عرصہ تک صحیح بخاری پڑھائی۔ ان مدراس اور اداروں میں جامعہ تعلیم الدین ڈھابیل، جامعہ ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ، مدرسۃ الاصلاح سرائے میراعظم گڑھ، ریاض العلوم دہلی، جامعہ امدادیہ مراد آباد ،نورالاسلام صدرمیرٹھ، جامعہ ندوۃ السنہ کیرالا اور جامعۃ الصالحات رامپور، مدرسہ عربیہ چلہ امروہہ اور دوسرے بہتیرے مدارس اور ادارے شامل ہیں۔ علوم اسلامیہ، قرآن وحدیث، تفسیر، اصول، فقہ، اصول فقہ، فلسفہ ومنطق اور ادب عربی، بلاغت اور علم عروض میں بھی زبردست تبحر حاصل تھا۔ ساتھ ہی طب یونانی، بنوٹ، گھڑسواری وشمشیر زنی میں بھی انھیں مہارت وحذاقت تامہ حاصل تھی۔ یادداشت اور قوت استحضار اتنی تھی کہ جو چیزیں ۵۰، ۶۰ سال پہلے پڑھی تھیں، وہ بلا کتاب دیکھے پڑھادیا کرتے تھے۔ ابتدائی درجوں کی تمام کتابیں انھوں نے خود راقم کو پڑھائیں، چنانچہ ان کے اس کمال کا خوب تجربہ ہوا۔ یوں تو تمام علوم کا استحضار تھا لیکن علو م قرآن اور علوم سنت سے خصوصی شغف تھا۔ یہی دونوں زندگی بھر اوڑھنا بچھونا رہے۔ 

علمی خدمات

اردو عربی اور فارسی لکھنے اور بولنے کی زبردست صلاحیت تھی۔ عربی واردو بے حد روانی سے اور بے تکان لکھتے چلے جاتے۔ انھوں نے زندگی کے آخری دن تک لکھا۔ ان کے گہربار قلم سے کتاب وسنت کے علوم سے متعلق درج ذیل شاہ کار کتابیں نکلیں:

۱۔ تفسیر مفتاح القرآن مکمل اردو جس کے سورۂ آل عمران تک صرف ۶؍اجزائابھی تک طبع ہوئے ہیں، باقی مسودات کی شکل میں ہیں۔اس تفسیر کی سب سے بڑی خصوصیت تفسیری روایات پر تحقیقی کلام ہے۔

۲۔ الکلم الطیب(قرآنی ڈکشنری)۔ اس سے قبل میرٹھ کے مولاناقاضی زین العابدین مرحوم کے ساتھ ایک ’’قاموس القرآن‘‘ کوئی ۶۰ برس پہلے بھی ترتیب دیاتھا۔

۳۔ مفتاح القرآن (عربی) سورۃ فاتحہ طبع ہوئی، آل عمران تک غیر مطبوعہ ہے۔

۴۔ کلمات المثانی (مفردات القرآن)ناتمام

۵۔ قرآن کی حجتیں۔ (وفات کے وقت تک اس پرکام کررہے تھے)

۶۔ تحفۃ القاری بشرح صحیح البخاری عربی، مکمل (۱۹جلدیں)

۷۔ شرح مسند احمد بن حنبل اردو (۱۶جلدیں)

۸۔اقوم المسالک شرح مؤطا مالک (اردو ۶جلد، ناتمام)

۹۔ بخاری کا تحقیقی مطالعہ (بعض احادیث کی تحقیق وتنقید) ۳؍اجزا

۱۰۔ صحیح مسلم کا تحقیقی مطالعہ (۳؍اجزا) ناتمام

۱۱۔ تحقیق مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وواقعہ حرہ۔

۱۲۔ حدیث الافک العظیم (اردو میں تفسیر سورۂ نور کے نام سے طبع ہوئی) عربی غیر مطبوع ہے۔

۱۳۔ احادیث دجال کا تحقیقی مطالعہ (ظہور مہدی، خروج دجال اور نزول مسیح کی تحقیق)

۱۴۔ حدوداللہ (تاوفات زیر تصنیف تھی)۔

شخصی احوال و اوصاف

نوخیزی ونوجوانی کی عمر بڑے جوش وولولہ کی اور مجاہدانہ تھی۔ صحت نہایت قابل رشک، گھڑسواری، شمشیر زنی اور بنوٹ کے ماہرتھے اور شکار کھیلا کرتے۔ ۱۹۴۷ء کے مسلم کش فسادات میں (بطور خاص جب گڑھ مکتیسور جل رہاتھا) انھوں نے اپنی قوت بازو، جرأت وشجاعت اور ہمت سے کئی مسلم لڑکیوں کو شرپسند ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ سے بچایا تھااور ان کے چنگل سے چھڑا کر لائے۔ اس کی پوری داستان اپنے ایک ناول غم میں رقم کی تھی (جو افسوس کہ ضائع ہوگیا)۔ اسی طرح انہوں نے عربی کے ایک تاریخی ناول واسلاماہ کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا لیکن وہ بھی چھپ نہیں سکا۔

۱۷سال کی عمر میں ہی موضع ٹیالہ (غازی آباد) میں شادی ہوگئی اور چار برس بعد پہلی بچی عمارہ کی آمد ہوئیجو اب حجن آپا عمارہ کہلاتی ہیں۔دوسری بچی کی پیدائش میں اہلیہ کا انتقال ہوگیا تو میرٹھ کے موضع رائدھنہ میں ان کے ماموں چودھری توصیف احمد کی دختر نیک اختر نفیسہ بیگم (میری والدہ محترمہ)سے شادی ہوئی ۔ مولانا کے بقیہ لڑکے لڑکیاں انھیں کے بطن سے تولد ہوئی ہیں جن میں ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں۔

علمی امتیازات و خصائص 

علوم عربیہ واسلامےۃ میں تبحر کے ساتھ ہی علامہ اردو، فارسی وعربی کے ایک بڑے شاعر بھی تھے۔ انھوں نے جو مختصر دیوان چھوڑا ہے، اس میں اردو کے علامہ فارسی کی بھی بعض غزلیں ہیں۔ فن عروض کے امام تھے۔ اسی طرح نحو وصرف میں بھی بے نظیر مہارت پائی تھی۔ عام طور پر عربی مدارس میں ابتداکے کئی سال نحو صرف کی تعلیم میں ضائع کیے جاتے ہیں۔ علامہ کا طریقہ تعلیم انتہائی آسان، شگفتہ اور عملی تھا۔ محض ایک سال میں کتابوں کے بجائے کاپیوں پر قواعدو مثالیں لکھوا کر وہ صرف ونحو کی ضروری تعلیم دے دیا کرتے۔ اپنے بہت سے تلامذہ کو انھوں نے اسی طرح تعلیم دی۔ خود راقم نے ان سے ایک سال پڑھ کر عربی چہارم میں داخلہ لے لیاتھا۔

علامہ میرٹھی کی ایک بڑی علمی خصوصیت، جوانھیں معاصرین واقران سے ممتاز کرتی ہے، وہ علوم اسلامیہ اور بطور خاص قرآن وحدیث کا وسیع مطالعہ تھا اور وہ بھی اول درجے کے مصادر ومراجع سے۔ انھوں نے کبھی دوسرے او ر تیسرے درجہ کی کتابوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ علوم قرآن سے متعلق ہمیشہ متقدمین کی نمایندہ اور بلند پایہ کتابیں اور تفسیریں ان کے زیر مطالعہ رہیں۔ ابن جریر طبریؒ ، ابن کثیرؒ ، بیضاویؒ ، رازؒ ی وزمخشریؒ اور ابو حیان الاندلسیؒ کا مطالعہ کرتے اور مؤخرالذکر کو زیادہ پسند کرتے۔ شاہان دہلی (شاہ عبد القادؒ ر وشاہ رفیع الدینؒ ) کے ترجمے انھیں پسند تھے۔ نیز اردو کے سبھی متداول تراجم وتفاسیر کو دیکھا تھا، لیکن سبھی کے بارے میں ناقدانہ رائے رکھتے تھے۔ 

حدیث کے باب میں، صحاح ستہ اور دیگر امہات کتب پر گہری نگاہ تھی، رجال کے دفتر از برتھے۔ مؤطا، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابوداؤد، ابن ماجہ، داری، مسند احمد وبیہقی فتح الباری و تہذیب التہذیب وغیرہ مسلسل مطالعہ میں رہیں۔ ساتھ ہی معاصرین کی چیزیں بھی دیکھتے رہتے۔ شرح مسند احمد بن حنبل کی تصنیف شروع کی تو مولانا عبداللہ رحمانی مبارک پوریؒ شارح مشکوٰۃ اور علامہ حبیب الرحمن اعظمیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے استفادہ کیا۔ بخاری پر انتہائی گہری نظر تھی۔ اس کی جلالت قدر کے بارے میں خود لکھتے ہیں: ’’کتاب اللہ قرآن کریم کے بعدصحیح بخاری کے علاوہ مجھے کسی کتاب میں دلکشی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ میرا چالیس سالہ مستقل احساس ہے۔‘‘ (میرامطالعہ، ص ۱۹۰، مرکزی مکتبہ اسلامی ) 

فقہ میں بھی یہی حال تھا۔ بطور خاص فقہ حنفی کے امہات کا گہرا استحضار تھا، اس لیے بدا ےۃ المجتہد سے خوش نہ تھے کہ صاحب بداےۃ نے حنفی نقطہ نظر پیش کرنے میں غلطیاں کی ہیں۔ اسی طرح متاخرین ومعاصرین علما کی چیزیں ان کے نزدیک غیر معیاری تھیں۔ علم فقہ پر زبردست گرفت اور مجتہدانہ نظر کے باوجود ان کی دلچسپی اصل میدان قرآن وحدیث اور ان سے متعلقہ علوم تھے جس کو اپنے ایک شعر میں یوں تعبیر کیا ہے:

جز کلام یار ہر تقریر بار گوش ہے
جز رخ جاناں کوئی منظر نہیں بھاتا مجھے

علمی زندگی کے تین دور 

راقم کے خیال میں علامہ کی علمی زندگی کوتین ادوار میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پہلے دور میں وہ فقہاے حنفیہ کے خوشہ چیں ہیں، لیکن نصوص کے راست مطالعہ و تحقیق اور تطبیق وترجیح کے بعد اگر دوسرے نتیجہ پر پہنچے ہیں تو پورے اعتماد اور جرأت کے ساتھ ان سے اختلاف بھی کرتے ہیں اور دوسرے مسالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی ’’اقوم المسالک الی مؤطا امام مالک‘‘ اس کی بین مثال ہے، البتہ حدیث کے مسلسل ومطالعہ وتحقیق نے انھیں تقلید جامدسے دور کردیا اور کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے سلفیت یا عدم تقلید کی طرف قدم بڑھائے۔ رفع الیدین، طلاق ثلاثہ اور عبادا ت کے زیادہ تر نزاعی مسائل میں اخیر تک ان کی رائے محدثین کے مسلک سے قریب تررہی ہے۔ انھوں نے خبر واحد کی ظنیت کے بارے میں فقہا کے نظریہ کا علمی تعاقب کیا۔ (ملاحظہ ہو رسالہ: تقریب المأ مول فی حدیث الرسول بر نہاےۃ التحقیق شرح مند ابو بکر صدیقی صفحہ ۱۹تا۷۵) اخیر تک ان یہی قطعی تحقیق تھی کہ خبر واحد اگر صحیح ثابت ہے تو قطعی الدلالت ہوتی ہے۔ یہ زندگی کا دوسرا دور تھا۔ تیسرا دور وہ ہے جب انھوں نے علوم حدیث پر بے مثال تبحر حاصل کر لیا، علم الرجال کا وسیع مطالعہ کیا اور قرآن پاک کے مسلسل تحقیقی مطالعہ وتدبر نے فکر ونظر میں زبردست بصیرت پیدا کر دی تھی۔ اب انھوں نے روایت ودرایت کے لحاظ سے ذخیرۂ حدیث پر گہری نظر ڈالی، ایک ایک حدیث کو پرکھا، جانچا، مثالب کو تایا، مطاعن کو دیکھا حتی کہ خود اس فن پر ایک سند اور مرجع بن گئے۔

نقد حدیث

کتب حدیث میں حدیث کی سب سے اہم کتاب صحیح بخاری کو انھوں نے سب سے زیادہ پڑھا اور پڑھایا۔ قرآن کے بعد یہی کتاب انھیں سب سے زیادہ محبوب تھی، لیکن اس کے سلسلہ میں علما کا جو ایک غیر علمی اور خالص اندھی تقلید کا رویہ ہے کہ ’’ بخاری میں جو کچھ ہے، وہ سب صحیح ہے اور اِس پر تنقید نہیں کی جاسکتی‘‘ اس سے انھیں ذرا بھی اتفاق نہ تھا۔ بخاری و مسلم کی علمی عظمت وجلالت قدر کے پورے اعتراف کے باوجود ان کی سوچی سمجھی اور تحقیقی رائے یہ تھی کہ ان میں بھی متعدد کمزور اور غلط روایتیں جگہ پا گئی ہیں۔اس رائے کا انہوں نے نہایت جرات سے اظہار بھی کیا، چنانچہ اپنی ’’تحفۃ القاری‘‘ میں تفصیل سے ان روایات پر محدثانہ کلام کیاہے اور ان تحقیقات کا خلاصہ ’’بخاری کا مطالعہ‘‘ (۳؍اجزا) میں اردو زبان میں پیش کر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں نام نہاد اجماع یا جمہور کے اتفاق کی انہوں نے کوئی پروا نہیں کی اور اسی وجہ سے بعض علمی طور پر کوتاہ قداور متعصب اہل حدیث علما، علامہ کو بھی منکرین حدیث کی صف میں لے جاکر کھڑاکرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ایسے ہی کم ظرفوں اور کم علموں کے لیے کہا گیا ہے کہ ؂ شعرمن بمدرسہ کے برد۔

زندگی کے تیسرے دور میں علامہ کا حاصل مطالعہ یہ تھا کہ اکثر اختلافی مسائل میں فقہاے امصار میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کی فقہی بصیرت وامامت بدر جہا فائق ہے۔ ان کی رائے محدثین کے مسلک کے مقابلہ میں زیادہ لائق ترجیح ہے۔ اخیر کی تحریروں میں یہ رجحان صاف محسوس کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فقہاے حنفیہ کی تقلید جامد کرنے لگے تھے، بلکہ متعدد مسائل میں ان سے اختلاف کیاہے۔ 

ذوق اجتہاد

کتاب وسنت کے مسلسل تحقیقی مطالعہ نے ان کے اندر اجتہادی بصیرت پیداکی۔ انھوں نے متعدد مسائل میں جمہور سے کھلا ہوا اختلاف کیا۔ قرأت سبعہ کا مسئلہ، اجماع کا ثبوت، نسخ کا مسئلہ، تحویل قبلہ، واقعہ افک، خبر واحد کی قطعیت کا مسئلہ اور اس کے علاوہ سیکڑوں احادیث اور آیات کی تشریح و توضیح میں وہ جمہورسے بالکل الگ رائے رکھتے ہیں اوران کا جرأت کے ساتھ اظہار بھی کیاہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ متاخرین میں ان کے تفردات سب سے زیادہ ہیں تو غالباً بے جانہ ہوگا نہ اس میں کوئی مبالغہ ہوگا۔ یہ تفردات یا اجتہادی رائیں دراصل ان کی دراکی، وسعت مطالعہ، تخلیقی ذہن، فکری شادابی، حاضر دماغی،علوم کے استحضار اور اعتماد ذاتی کی پیداوار ہیں۔

مسائل کے سلسلہ میں ان کی نظر جزئیات سے زیادہ کلیات پر رہتی تھی۔ فقہی نقطہ نظر میں وسعت تھی۔ ہر حال میں کسی ایک مسلک کی تقلید و تنقید کو ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ علمی اختلاف و تحقیق ان کی نظر میں علما کی متوارث چیز تھی۔ چنانچہ انھوں نے محدثین کی رایوں اور فقہا کے اجتہاد ات سے خوب خوب اختلاف کیا ہے۔ فقہا حدود سے محدود معنی لیتے ہیں۔ علامہ نے اس کو پوری شریعت کے مترادف قراردیا ہے اور اسی تصورپر ان کی کتاب حدود اللہ مبنی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشاجرات کے سلسلہ میں ان کی رائے جمہور سے الگ ہے۔ مروان، یزید اور حجاج بن یوسف ثقفی کے بارے میں بھی ان کی تحقیق الگ تھی۔ وہ ان حضرات کے اقدامات کو کسی حد تک جواز کی حد میں داخل سمجھتے تھے۔شیعیت کو وہ اسلام کا سب سے بڑا داخلی انحراف سمجھتے تھے ۔ مولانا مودودیؒ کی کتاب خلافت وملوکیت سے مطمئن نہ تھے بلکہ ا س مسئلہ میں ان کا نقطۂ نظر ٹھیک وہی تھا جوامام ابن تیمیہؒ اور صاحب العواصم من القواصم قاضی ابن العربیؒ کا ہے۔ِ

شیدائے قرآن

علامہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وقت کی بڑی قدر کرتے تھے، ضیاع وقت سے انھیں بڑی نفرت تھی۔ سفر میں ہوں، حضر میں، شہر میں ہوں یا گاؤں میں، بس ہر وقت مطالعہ غوروفکر، ہر وقت کچھ نہ کچھ تحریر۔ لائٹ موجود ہے تو بہتر، نہ آرہی ہو تو لالٹین کی روشنی کام آئے گی۔ سفر میں زیادہ وقت تلاوت قرآن میں گزارتے، مجلسوں اور جلسوں جلوسوں سے حتی کہ لوگوں کے زیادہ خلا ملا سے بھی وحشت ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث اور قرآنیات پر اتنے بڑے بڑے کام انجام دے دیے جو بڑی بڑی اکیڈمیوں اور اداروں کے کرنے کے ہیں۔ ٹرین سے سفر کررہے ہیں یا بس سے کہیں جارہے ہیں تو بے تکی اور فضول باتوں کی بجائے قرآن پاک کی تلاوت کررہے ہیں۔ ان کی تلاوت قرآن نری تلاوت نہیں، تدبر کی تلاوت ہوتی تھی۔ قرآن کا ترجمہ اور تفسیر مستقل پڑھتے رہتے تھے۔ تلاوت کے دوران اکثر آنکھوں سے آنسو ٹپکتے۔ یہی نمازمیں قراء ت کے وقت ہوتاتھا۔قرآن ان کے لیے اصل مصدر و مرجع تھا۔ تمام علوم اسلامیہ میں وہ قرآن ہی کوحکم بناتے اور اسی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ 

نمازوں کے بعد دیر تک مسنون اور اذکار کا اہتمام ہمیشہ رہا۔ جہاں رہتے اور جس کمرے میں بیٹھتے، وہ صبح سے شام تک قال اللہ وقال الرسول کے ترانوں اور تلاوت قرآن کے زمزموں سے گونجاکرتی۔ ان کی نوجوانی کے ایام میں ذرائع مواصلات محدود تھے۔ اس وقت گھوڑے سے یا پیدل سفر کرتے اور دوران سفر بڑی سے بڑی مسافت تلاوت قرآن میں طے کرلیتے۔ ہر رمضان المبارک میں کئی کئی قرآن ختم کرتے۔ طریقہ یہ ہوتا کہ عشا کے بعد تراویح میں الگ قرآن پڑھتے، تہجد میں الگ۔ دن کو حافظ عبدالخالق صاحب (رادھنہ گاوں کی جامع مسجد کے امام اور ہمارے حفظ قرآن کے استاد) کو مستقل کئی کئی پارے سنایا کرتے۔ زندگی کے آخری ایام تک حافظہ قابل رشک رہا۔ قرآن انتہائی پختہ یادرہا اور اسی شان سے اس کی تلاوت جاری رہی حتی کہ وفات کے وقت بھی قرآن کی تلاوت دیر تک کرتے رہے تھے۔

شخصیت پرستی سے اجتناب

راقم نے اپنے شعور کے بعدتقریباً ۲۰ سالوں سے انھیں مسلسل دیکھا اور برتاہے۔ مسلمانوں میں شخصیت پرستی ایک مرض کی طرح پھیل گئی ہے۔ مختلف مکاتب فکر، فقہی مسالک، جماعتیں اور تنظیمیں وغیرہ مختلف شخصیتوں کی اسیر ہیں اور انھی کی عینک سے دین کو دیکھتی اور سمجھتی اور سمجھاتی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کو سبھی نے پس پشت ڈال رکھا ہے کہ انظر الی ما قال ولا تنظر الی من قال  (یہ دیکھو کہ کیا کہا، یہ نہ دیکھو کہ کس نہ کہا) لیکن والد صاحب رحمہ اللہ علیہ کے متعلق یہ عاجز پورے وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ شخصیت پرستی کے مرضی سے اللہ نے انھیں پورے طور پر محفوظ رکھا تھا۔ ماضی کی طرح اس صدی میں بڑی بڑی شخصیات ہوئی ہیں، لیکن والد صاحب علوم میں رسوخ کے اس درجہ پر تھے کہ ماضی وحال کی کسی بڑی سے بڑی شخصیت سے انھیں مرعوب نہیں دیکھا۔

اپنے اساتذہ کا ذکر احترام سے کرتے، لیکن دواستادوں مولانا اختر شاہ خانؒ امروہوی اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کا تذکرہ بڑے ہی احترام کے ساتھ کرتے۔ انھی دونوں سے زیادہ متأثر بھی رہے۔ ماضی قریب کے علما میں مولاناحمیدالدین فراہیؒ سے بہت مسائل میں اختلاف کے باوجود ان کا ذکر بلند کلمات میں کرتے کہ بر صغیر میں قرآن پر براہ راست غور وفکر اور اکتساب کی مبارک فضا کا آغاز انھی سے ہوا اس چیز کو بہت بڑا کارنامہ قرار دیتے تھے۔ قدیم مفسرین میں ابو حیان اندلسیؒ کو زیادہ پسند کرتے اور طالبان قرآن کو اس کے مطالعہ کا مشورہ دیتے۔ قرآن سے امت کی دوری کا بڑا سبب اسرائیلیات کے رواج، تصوف کی خرافات کے ساتھ واعظوں کی داستان گوئی اور راویان حدیث کی روایت بازی کو قرار دیتے تھے۔ ماضی کے علما وائمہ میں سب سے زیادہ قائل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے تھے بلکہ یہ تک فرماتے کہ امامت کے حقیقی مصداق صرف ابو حنیفہؒ ہیں۔ تاہم متاخرین حنفیہ پر خوب تنقیدیں بھی کی ہیں۔

شان قلندری

علامہ ایک مفلوک الحال گھرانہ میں پلے بڑھے، لیکن ابتدا ہی سے غیرت ، توکل ، خودداری اور قلندری کی شان تھی جس میں زندگی بھر فرق نہیں آنے دیا۔ جب نئے نئے پڑھ کر وطن واپس آئے تو بعض رشتہ داروں اور احباب کے کہنے پر للیانہ گاؤں میں ایک مدرسہ ازہر العلوم کھولا۔ کچھ عرصہ بعد ایک مسودہ (بیان اللسان) میرٹھ کے قاضی زین العابدینؒ کو فروخت کرکے ۱۹۵۰ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ کلمہ حق کہنے اور غلط کوغلط بتانے میں انتہائی بے باکی اور جرأت کی دولت سے مالا مال تھے۔ اسی دوران علماء دیوبند کا ایک حلقہ اور ان کے مسترشدین مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر ناروا قسم کی تنقیدیں کرنے اور گمراہ پروپیگنڈے میں مشغول تھے، لیکن مولانا نے نہ صرف یہ کہ اپنے استاد وں اور مشائخ سے اس معاملہ میں کھل کر اختلاف کیابلکہ بہت سی چیزوں میں پوری جرأت وقوت کے ساتھ جماعت اور مولانا مودودیؒ کی حمایت کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علاقہ کے بعض فتنہ بازمولویوں اور پیروں نے عوام کو ان کے خلاف بھڑکادیا اور انھیں’’مودودیا‘‘ مشہور کردیا۔ لوگوں نے مدرسہ کا تعاون چھوڑدیا۔ حج سے واپس آنے کے بعد اس صورت حال کا سامنا ہواتو مدرسہ کو خیر باد کہہ کر پھر سے درس وتدریس اختیار کرلی۔ حیدرآباد گئے، وہاں کریم نگر میں جماعت اسلامی کی نگرانی میں دارالہدیٰ کھولا گیا جس کے پہلے استادآپ ہی تھے۔ وہیں جماعت سے باقاعدہ وابستگی ہوئی اور رکن بنے، لیکن خالص علمی افتاد طبع ہونے اور فکری اختلاف کی بنا پر جلدہی اس تحریک کے جھمیلوں سے نکل آئے۔ اس کے بعد مولانا مجیب اللہ ندوی ؒ صاحب کے ساتھ مل کر جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کی بنا وتکوین میں بھی حصہ لیا۔

زندگی بھر مدارس اسلامیہ میں قلیل تنخواہ پر علوم اسلامیہ کی خدمت کی۔ کبھی سرمایہ داروں اور ثروت مندوں کا رخ نہیں کیا۔ کبھی جماعتوں، تنظیموں اور ملی اداروں کے ارباب حل وعقد کی جبہ سائی اور کفش برد اری کا تصور بھی حاشیہ خیال میں نہیں آیا۔ کتابیں لکھتے رہے، الماریوں میں مسوادات کی شکل میں جمع ہوتی رہیں، لیکن یہ نہیں ہوا کہ کسی کی جھوٹی خوشامد یا جھوٹی تنقید کرکے اپنی تحریر چھپوانے کا سامان کریں، چنانچہ مولانا اسعد مدنیؒ صدر جمعیت علماء ہند (جو شیخ زادہ بھی ہیں) کی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا کہ تفسیر میں مودودی ؒ صاحب پر تنقید کی جائے تو طباعت کے مصارف ہم اٹھائیں گے۔ جماعت اسلامی حلقہ آندھرا پردیش کا وفد یہ تجویز لے کر آیا کہ اپنی تفسیر سے مولانا مودودیؒ پر تنقیدیں نکال دیں تو وہ اس کی اشاعت میں تعاون کریں گے، اس وفد کو بھی لوٹا دیا، مگر عدل وانصاف، امانت ودیانت اور علمی وقاروغیر ت پر آنچ نہ آنے دی۔ مدارس کے ارباب اہتمام سے بھی اکثر تصادم ہوجاتا۔ وہ چاہتے کہ آپ ٹھیک تقلیدی مزاج کے ساتھ ہی کام کریں، لیکن علامہ شان قلندری وبے نیازی کے ساتھ بڑے بڑوں کو خاطر میں نہیں لاتے، نہ مرعوب ہوتے نہ اپنی کسی رائے سے دست بردار ہوتے۔ معاصرین میں یہ شان بے نیازی ان کا امتیاز تھی۔

تزکیہ و احسان

علامہ میرٹھیؒ کے اساتذہ وشیوخ میں بیعت واردات کی مستحکم روایت ہے، لیکن تحقیقی ذہن، شخصیت پرستی سے نفور اور قرآن سے شغف، یہ ان کی شخصیت کے عناصر ترکیبی تھے، اس لیے جہاں تک راقم کو معلوم ہے، وہ کسی حلقہ ارادت سے وابستہ سکہ بند صوفی نہ تھے۔ البتہ ان کے جن احوال ومقامات کا مشاہدہ ۲۰ سالوں سے ہوتا رہا ہے، ان کو سامنے رکھ کر بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ ذات نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عشق، تقویٰ وپرہیز گاری، انابت اور رجوع الی اللہ کی جو کیفیت ان کو حاصل تھی، وہ موجودہ دور کے مروجہ حلقائے طریقت ومشیخت کے لوگوں کو شایدنصیب ہوتی ہو۔

تزکیہ وسلوک ’’ہو ہو‘‘ کرنے یا الااللہ کی بے روح ضربیں لگانے، بزرگوں کے عرس اور ان کے مزاروں پر چلہ کشی کا نام نہیں، وہ تو دراصل عرفان ذات، جذبہ وشوق اور خدا کے لیے جذبات محبت سے عبارت ہے۔ اس کے لیے جذبہ شکر اور والہانہ عقیدت سے ہی سلوک کا جوہر تیار ہوتاہے۔ محبت کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو بندہ کو اپنے خالق ومالک اور پالن ہار سے ہوتی ہے اور اس محبت کے بغیر تو ایمان بھی معتبر نہیں۔ کسی شخص کے ظاہری احوال اور کاموں کو دیکھ کر اگر اس کے باطن کے بارے میں رائے قائم کرنا درست ہو تو مبالغہ کہا جاسکتاہے کہ حب مال، حب جاہ اور تنگ دلی سے ان کے قلب کو صاف کردیاگیا تھا اور وہ ان شاء اللہ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ہم المفلحوں  (جو لوگ نفس کی تنگی سے بچا دیے گئے، وہی کامیاب ہیں۔تغابن:۱۶) کے خاص مصداقوں میں سے ہوں گے۔ ان کے چہرہ سے پاکیزگی جھلکتی اور پیشانی سے نور کی بارش ہوتی تھی۔

حادثہ وفات

ڈیڑھ سال قبل نماز کو جاتے ہوئے راستہ میں گرگئے تھے۔ دوچار دن تو کچھ معلوم نہ ہوا، پھر دائیں ٹانگ میں درد محسوس ہوا جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ جانچ کرانے پر معلوم ہوا کہ معمولی سا فریکچر ہے۔ علاج ہوا لیکن فائدہ نہ ہوا تو ڈاکٹروں نے آپریشن تجویز کیا۔ آپریشن ہوا۔ اس کے بعد توقع تھی کہ ٹانگ ٹھیک ہوجائے گی، لیکن آپریشن سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ والامعاملہ ہوگیا ۔ اس بیماری میں تقریباً چودہ مہینے بستر پر رہے۔ حوائج ضروریہ بھی بستر پر کرائے جارہے تھے۔ اس کے باوجودلکھنے پڑھنے کا کام جاری تھا۔ قرآن کریم کی تلاوت وتدبر کے معمول میں کوئی کمی نہیں آئی۔ 

۴؍جنوری ۲۰۰۵ء کو یکایک ایک حادثہ پیش آیا کہ آپ کے دوسر ے صاحبزادے (میرے برادر مکرم) جناب مولانا انظارالحقؒ صاحب (بانی مدرسہ ازہر العلوم رادھنہ) اچانک علی الصباح حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئے۔ انہوں نے عمر عزیز کی صرف ۴۲ بہاریں دیکھیں۔ یہ تمام اولاد میں آپ کو سب سے زیادہ عزیز تھے۔ شروع سے آخر تک تعلیم بھی آپ نے ہی دی تھی۔ اس حادثہ فاجعہ نے زیادہ صدمہ پہنچایا۔ عید کے دوسرے دن طبیعت ناساز ہوئی تھی۔ قرآن پڑھواکر سنا، افاقہ ہوگیا۔ تیسرے دن بھی طبیعت خراب ہوگئی۔ پھر سورہ ےٰسین پڑھوا کر سنی، طبیعت بحال ہوگئی۔ ۲۴؍جنوی کو اچھی دھو پ نکلی تھی۔ سارے دن دھوپ میں بیٹھے ہشاش بشاش تھے۔ ’’قرآن کی حجتیں‘‘ پڑھوا کر سنی۔ پھر لکھنے میں مشغول ہوگئے۔ دوپہر میں مجھے طلب کرکے اپنے مسودات دکھائے۔ اپنا ذخیرۂ کتب، صحاح اور ان کی شرحیں، تفسیر مفتاح القرآن اور تحفۃ القاری شرح صحیح بخاری کے مسودے خود اٹھ کر اور الماریوں کے پاس جا جا کر دیکھے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ ان کی آخری زیارت ہے۔ یہ کتابیں ہی کل زندگی کا سرمایہ تھیں۔ مغرب کے بعد لوگ ملاقات کے لیے آتے رہے، عشا کی نماز پڑھ کر روز مرہ کے اور ادووظائف پڑھے۔ پھر کچھ دیر کے لیے سوگئے اور اچھی نیند سوئے۔ تقریباً ساڑھے بارہ بجے آنکھ کھلی تو وضوکرکے تلاوت قرآن شروع کی اور ایک گھنٹہ تک کرتے رہے۔ پھر بڑے بھائی سے مدرسہ ازہرالعلوم کے بارے میں باتیں کیں ۔ دو بجے سے بعد تکلیف شروع ہوئی۔ دوا وغیرہ لی۔ مقامی ڈاکٹر کو بلایاگیا۔ اس نے انجیکشن لگائے۔ اس کے بس دو تین منٹ بعد ہی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پورے قصبہ میں صف ماتم بچھ گئی۔ آفتاب علم غروب ہوا، وقت کا امام الحدیث چلا گیا۔

جا چکی خاموش ہو کر شمع ہوئے آسماں
عالم بالا میں پایا ہے سراغ آرزو 

(ازہرؔ )

متعدد علمی مجلات اور تحقیقی رسالوں نے آپ کی وفات پر تعزیتی نوٹ اور شذرے شائع کیے جن میں البعث الاسلامی ندوۃالعلماء لکھنؤ، الرشاداعظم گڑھ، ماہنامہ ترجمان جدید دارالعلوم (دہلی) اور اردوبک ریویو خاص ہیں۔

شخصیات