بغاوت کی دستک

پروفیسر میاں انعام الرحمن

افغانستان سے متعلق حکومتی پالیسی سے لے کر جہادی تنظیموں پر پابندی کے حکم نامے سمیت بعض ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن پر ہر ذی شعور فرد تحفظات کا اظہار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر عدلیہ کے حوالے سے جو آرڈی ننس جاری کیا گیا ہے، اس کے مضمرات کے پیش نظر جنرل پرویز مشرف ہٹلر کی ہم سری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ برطانویوں کی طرح انگریزی بولنے پر فخر کرنے والوں کو یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ برطانوی لوگ کرامویل کے عہد کو اپنی تاریخ کا حصہ نہیں مانتے لیکن جنرل موصوف نے دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوام پر آمریت مسلط کر رکھی ہے۔ نتائج وعواقب سے بے پروا ہو کر مخصوص ومحدود مشاورت کے ساتھ اختیار کی گئی موجودہ نہج انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جنرل صاحب کے آقاؤں نے ہی ایسی خطرناک نہج کے نتائج وعواقب سے بچنے کے لیے بعض فیصلے کروا رکھے ہیں جو بین الاقوامی قانون کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔ ۱۹۴۵ء کے نورم برگ ٹربیونل (Nuremberg Tribunal) اور ۱۹۶۱ء، ۱۹۶۲ء میں ایچ مین (Eichman) کے ٹرائل اور اپیل کے مندرجات آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ ہٹلر کے عہد میں قائم ڈیتھ کیمپوں کے منتظمین کے حق میں bawality of evilکے عنوان سے دلائل پیش کیے گئے کہ انہوں نے صرف حکومتی احکامات کی پیروی کی تھی۔ وہ عام سے معمولی لوگ تھے اور غیر معمولی حالات کا شکار ہو گئے۔ ان کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی سوائے اس کے کہ اپنے سے برتر لوگوں کے احکام پر عمل درآمد کریں لہذا ان لوگوں نے کوئی جرم نہیں کیا لیکن ۱۹۴۵ء اور ۱۹۶۱ء، ۱۹۶۲ء میں ان کے موقف کو رد کر دیا گیا۔ ان فیصلوں کے مطابق طے پایا کہ :
۱۔ کسی بھی تنظیم سے ،چاہے وہ حکومتی ہو، وابستہ افراد یہ جاننے کے ذمہ دار ہیں کہ ان کے اعمال سے کون سے رسمی مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں لہذا مقصد سے دانستہ چشم پوشی کسی بھی اعتبار سے اخلاقی یا قانونی دفاع کا سبب نہیں بنے گی۔
۲۔ تنظیموں کے افراد جن سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ معقول انداز سے کام کرتے ہوئے غیر معقول مقاصد حاصل کریں، ان کا یہ قانونی حق اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ ایسے احکامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔
۳۔ تنظیموں کے ارکان اور اس معاشرے کے ارکان جن میں یہ تنظیمیں کام کرتی ہیں، ان تنظیموں کے ’’حتمی مقاصد‘‘ کی بابت جاننے کے ذمہ دارہیں۔ اگر یہ مقاصد غیر معقول ہیں تو ان میں تبدل وتغیر کے بھی ذمہ دار ہیں۔
اگر ان تین نکات کے بین السطور کو مد نظر رکھاجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بین الاقوامی اور انسانی قدروں کی پاس داری کے لیے جنرل موصوف کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا جائے؟ میرا خیال ہے معاشرے کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کے لیے دستور سے بالاتر De facto سیٹ اپ ہی کافی ہے۔ اس سے بڑھ کر غیر انسانی اور بین الاقوامی قدروں سے متصادم آرڈی نینسوں کا اجرا بغاوت کو ہوا دے سکتا ہے۔ مذکورہ بین الاقوامی ضابطے میں یہ بغاوت حق ہی نہیں، فرض بھی قرار دی گئی ہے۔

آراء و افکار

Since 1st December 2020

Flag Counter