مولانا درخواستی کا دورۂ جنوبی افریقہ، فجی وبنگلہ دیش

ادارہ

دنیا بھر کے مسلمانوں میں عقائد واعمال کی پختگی اور دینی اقدار وروایات کے ساتھ وابستگی کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور وہ اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھتے ہوئے اس میں مزید رنگ بھر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ساؤتھ افریقہ، فجی آئی لینڈ اور بنگلہ دیش کے تبلیغی دورے سے واپسی پر اسلام آباد میں علما کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں احیاء اسلام کا جذبہ موج زن ہے اور دین داری کی لہریں اٹھ رہی ہیں جس کا زندہ اور واضح ثبوت روز افزوں دینی اداروں کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کے دورے میں بیانات کے لیے جوہانس برگ، ڈربن، لیڈیز منٹ، آزاد ولڈ اور اسپرنس جانے کا اتفاق ہوا۔ ان تمام شہروں میں خوبصورت ایئر کنڈیشنڈ مساجد، وسیع وعریض مدارس اور بڑی بڑی خانقاہیں وجود میں آ چکی ہیں جہاں دین کی تبلیغ واشاعت اور تعلیم وتربیت کا کام وسیع پیمانے پر ہو رہا ہے۔ خاص طور پر آزاد ولڈ اور اسپرنس کے مدارس قابل دید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کے مسلمان، علماء ومشائخ کے ساتھ بے پایاں عقیدت اور وارفتگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی اجتماعات میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔
مولانا درخواستی نے اپنے دورۂ بنگلہ دیش کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے لوگ پاکستانیوں سے بے حد محبت کرتے ہیں خاص طور پر علما کا بہت زیادہ احترام واکرام کرتے ہیں اور دین داری میں بہت پختہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کا سب سے بڑا تبلیغی اجتماع بنگلہ دیش میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ مدنیہ قاضی بازار سلہٹ کے جلسہ دستار بندی کے عظیم اجتماع سے فضیلت علم کے موضوع پر خطاب ہوا۔ اس کے علاوہ مولوی بازار، سنام گنج اوردیگر شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات میں بیانات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سلہٹ اور ڈھاکہ مسجدوں کے شہر مشہور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کی موجودہ حکومت سابقہ حکومت سے بہتر ہے۔ وہاں کی اسمبلی کے انتخابات میں علما نے شریعت گروپ کے نام سے حصہ لیا اور تین علما اسمبلی کے ممبر قرار پائے اور اب اسمبلی کے اندر اور باہر حق کی آواز بلند کر رہے ہیں۔ 
انہوں نے اپنے دورۂ فجی آئی لینڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اگرچہ مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کی تعداد آٹھ فیصد ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنا دینی تشخص برقرار رکھے ہوئے ہیں اور علما کی بڑی قدر کرتے ہیں اور وہاں ایک سو بیس مساجد موجود ہیں۔ فجی آئی لینڈ مختلف جزائر پر مشتمل ہے۔ مشہور جزیروں میں دار الحکومت صوبہ، لمباسا اور طاویونی، جہاں سے دن کی ابتدا ہوتی ہے، شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کے تمام جزیروں میں مختلف عنوانات پر بیانات ہوئے۔ (رپورٹ: مولانا محمد ادریس ڈیروی)
علماء کرام نئی نسل کی ذہن سازی پر توجہ دیں
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ۳۰ مارچ کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں علماء کرام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہندو تہذیب کے اثرات کی روک تھام کے لیے نئی نسل کی صحیح دینی واخلاقی تربیت کی ضرورت ہے اور یہ کام علماء کرام ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں علماء کرام اور دینی اداروں کو تعلیم وتربیت اور رفاہی خدمات کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے اور ان این جی اوز کا عملی میدان میں مقابلہ کرنا چاہیے جو غیر ملکی سرمایہ سے پاکستان میں تعلیم، صحت اور رفاہی خدمات کی آڑ میں عیسائیت اور مغربی تہذیب کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان این جی اوز کو ہمارے معاشرے میں آنے کا اس لیے موقع ملا ہے کہ ہمارے ہاں ان کاموں کا خلا ہے۔ اگر ہم خود ان کاموں میں پیش پیش ہوں تو کسی اور کو یہاں آکر اس خلا سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دینی تعلیم، نوجوانوں کی روحانی واخلاقی تربیت اور سوسائٹی کے نادار لوگوں کی کفالت مذہبی طور پر بھی ہماری ذمہ داری ہے اور علماء کرام ودینی مراکز کو اس کے لیے منظم طور پر کام کرنا چاہیے۔
مولانا درخواستی الشریعۃ اکادمی بھی تھوڑی دیر کے لیے تشریف لائے اور منصوبہ کی کام یابی کے لیے دعا کی۔

اخبار و آثار

Since 1st December 2020

Flag Counter