دورِ جدید کے چند اجتہاد طلب مسائل

ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلامی علوم وفنون کی تدوینِ نو کا کام ایک ہمہ پہلو تعلیمی اور فکری جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس جدوجہد میں بعض نئے مسائل پر اجتہادی نقطہ نظر سے غور وخوض بھی شامل ہے اور بعض اجتہادی آرا پر ازسرنو ناقدانہ نظر ثانی بھی ناگزیر ہے۔ دور جدید نے بعض ایسے مسائل ومعاملات ہمارے سامنے پیش کر دیے ہیں جو سلف کے سامنے نہیں تھے اس لیے ماضی میں مجتہدین امت اور مفکرین اسلام کو ان پر کوئی رائے قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ 
مثال کے طور پر ایک کثیر العناصر (Pluralistic) معاشرے میں اسلام کا کردار کیاہے اور کیا ہونا چاہیے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بیسویں صدی کے اواخر میں سامنے آیا۔ بالخصوص مجاہدین افغانستان کے ہاتھوں سوویت یونین کی تباہی وبربادی اور بالآخر کمیونزم کے زوال کے نتیجے میں جو یک قطبی دنیا سامنے آئی تو اس مسئلہ کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا۔ اب ایک طرف تو مغرب کے بالادست فاتحین کی کوشش یہ ہے کہ تاریخ کے خاتمے کے اعلانات اور تہذیبوں کے تصادم کے پردوں میں ایک یک عنصری نظام دنیا پر مسلط کر دیں اور دوسری طرف کثیر العناصر نظاموں کی تلاش کے نام پر دوسروں کے معاملات میں مداخلت کا جواز پیدا کریں۔ ان حالات میں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ قرآن وسنت کی نصوص اور فقہاء اسلام کی تصریحات کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا تعین کریں کہ ایک مسلم معاشرہ میں دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کی بقا کیونکر اور کن حدود کے اندر رہ کر ہو سکتی ہے اور ایک غیر مسلم معاشرے میں اسلامی ثقافت اور اسلامی تمدن کا تحفظ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
آج دنیا کا کوئی بڑا شہر ایسا نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ نہ ہو رہا ہو، جہاں آئے دن مسلم تنظیمیں قائم نہ ہو رہی ہوں، جہاں مسجدیں اور اسلامی مراکز پھل پھول نہ رہے ہوں، جہاں قدیم اور جدید مسلمانوں کے مابین تفاعل نہ ہو رہا ہو۔ ان شہروں میں تیزی سے پھیلنے والی مسلم آبادیاں اپنے آپ کو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر منظم کر رہی ہیں۔ مشرق ومغرب کے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے یہ لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلم نوجوان اپنے تشخص کا تحفظ اور اپنی شخصیت کا اظہار چاہتے ہیں۔ ان حالات میں ان کو آئے دن نت نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شریعت اسلامی کی رو سے ان مسائل کا حل کیا ہے؟ ان سب سوالات کا شافی جواب آج کے اہل علم کے ذمہ ایک قرض اور فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں یہ صورت حال اتنی شدید اور وسیع نہیں تھی جتنی آج ہو چکی ہے۔ اس کی شدت اور وسعت میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر آنے والا دن ایک نیا مسئلہ لے کر طلوع ہوتا ہے۔
ہماری قدیم فقہی کتابیں اسلام کے دور عروج میں مرتب ہوئیں۔ مجتہدین اسلام نے اسلامی ریاست، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامی معاشرہ اور اسلامی زندگی کے ایسے مسائل تو نہایت باریک بینی اور دقت نظر سے مرتب کر دیے جو مسلمانوں کو اپنے دور عروج میں پیش آئے یا جن سے مسلمانوں کو مسلم ماحول میں واسطہ پڑتا ہے۔ رہے وہ مسائل جو ایک مسلم اقلیت کو پیش آ سکتے تھے یا غلامی کی زندگی گزارنے والے مسلمانوں کو پیش آ سکتے تھے، ان سے فقہاء اسلام کو زیادہ اعتنا کرنے کا نہ موقع ملا اور نہ اس کی ضرورت پیش آئی۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب مسلمانوں کو سیاسی زوال کا سامنا کرنا پڑا تو یہ وہ زمانہ تھا جب فقہ اسلامی بھی ایک طرح کے تعطل کا شکار تھی اور دور انحطاط سے گزر رہی تھی۔ اجتہاد کا سلسلہ تقریباً بند ہو چکا تھا اور علماء اسلام بالعموم دور انحطاط میں لکھی ہوئی فقہی کتابوں اور متون کی شرحوں اور حاشیوں کے پڑھنے پڑھانے میں مصروف تھے۔ ان حالات میں مغربی ممالک میں جا کر بسنے والے مسلمانوں کی راہ نمائی کا کوئی خاص سامان فراہم نہ ہوا اور یہ لوگ مختلف مغربی معاشروں میں جا جا کر گم ہوتے رہے۔ آج نئی تحقیقات اور تاریخی اکتشافات سے ان لاتعداد مسلم آبادیوں کا پتہ چل رہا ہے جو امریکہ، آسٹریلیا، برازیل اور ارجنٹائنا جیسے بڑے ممالک کے سمندروں میں گم ہو گئیں۔ اگر اٹھارویں صدی کے اوائل ہی سے کسی فقہ الاقلیات پر غور وخوض کی داغ بیل ڈال دی جاتی اور ایسے غیر موافقانہ ماحول میں مسلم وجود کے احکام پہلے سے مرتب شدہ موجود ہوتے تو شاید یہ مسلمان آبادیاں یوں آسانی اور تیزی سے گم نہ ہوتیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ آج فقہاء اسلام اور علماء امت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ ان بدلتے ہوئے حالات میں پیش آنے والے سوالات اور نت نئی مشکلات کا ایسا قابل عمل حل پیش کریں جو غیر مسلم ماحول میں مسلم وجود کے تحفظ اور بقا کا ضامن ہو۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آج کے حالات کی مناسبت سے مسلم معاشرہ اور مسلم ریاست کی تحدید نو کی جائے اور جدید معروضی حقائق اور فکری مباحث کے پس منظر میں یہ واضح کیا جائے کہ اسلامی معاشرے کی تعریف کیا ہے اور اسلامی ریاست آج کے سیاق وسباق میں کس ریاست کو کہا جائے گا۔ اس بات کی ضرورت اس لیے پیش آ رہی ہے کہ فقہاء اسلام نے آج سے کم وبیش ایک ہزار دو سو سال قبل دار الاسلام، دار الحرب اور دار الصلح وغیرہ کی جو حد بندیاں تجویز کی تھیں، وہ آج کے زمینی حقائق کی روشنی میں اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ خود فقہاء اسلام کو ابتدائی دو تین صدیوں میں ہی ان تقسیمات پر کئی بار ازسرنو غور وخوض کرنا پڑا۔ دوسری صدی ہجری کے نصف اول کے زمینی حقائق کی روشنی میں امام ابو حنیفہؒ (متوفیٰ ۱۵۰ھ) کے فہم اسلام کی رو سے روئے زمین کو صرف دو حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے تھے یعنی دار الحرب اور دار الاسلام۔ لیکن جلد ہی امام شافعیؒ (متوفیٰ ۲۰۴ھ)بلکہ خود امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ کو اس تقسیم پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہوں نے دار الاسلام اور دار الحرب کی دوگانہ تقسیم کے مابین دار العہد اور دار الصلح کی درمیانی تقسیمیں تجویز کرنا ضروری سمجھا۔ کچھ اور بعد کے فقہا نے دار العدل، دار البغی اور ایسی ہی دوسری تقسیموں کی ضرورت محسوس کی۔ آج کے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں جدید زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ان تمام تقسیموں پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کوئی ایک ملک نہ دنیا سے بالکلیہ لاتعلق ہو کر رہ سکتا ہے اور نہ کسی ملک سے تعلق کی وہ نوعیت ہو سکتی ہے جو فقہاء اسلام نے دار الحرب کے حوالے سے سوچی تھی۔ یہاں تک کہ جن ممالک سے مسلمان عملاً برسر جنگ ہیں (مثلاً ہندوستان، اسرائیل، روس اور فلپائن) ان کو بھی کلی طور پر دار الحرب قرار دینا اس لیے مشکل ہے کہ فقہائے اسلام نے اس وقت دار الحرب کی جو شرائط بیان کی تھیں، ان میں سے کئی شرائط ان ممالک میں نہیں پائی جاتیں۔ اسی طرح کئی ایسے ممالک ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، جہاں مسلمانوں کی خود مختار حکومتیں بھی ہیں، جہاں انہیں مذہبی مراسم اور مذہبی تعلیم کی آزادی بھی حاصل ہے لیکن وہ خود کو آئینی طور پر سیکولر یعنی لامذہبی ریاست قرار دیتے ہیں۔ ان کو نہ شاید دار الاسلام کے زمرہ میں رکھا جا سکتا ہے اور نہ غالباً ان کو دار الحرب قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ اور ا س طرح کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے پیش نظر ایک نئی تقسیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ قرآن مجید اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام اور نصوص اور فقہاء اسلام کے متفق علیہ اجتہادات کو سامنے رکھتے ہوئے ان حدود کا آسانی سے تعین کیا جا سکتا ہے جن کے ذریعے سے جدید بین الاقوامی تعلقات اور میل جول کے معاملات کو نئے انداز سے منظم کیا جا سکے۔
اسی طرح کا ایک اور مسئلہ گزشتہ چند سالوں کے درمیان ہونے والی بحثوں کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہ بحثیں جو مشہور امریکی فضلا سموئیل ہنٹنگٹن اور فوکویاما کی تحریروں سے شروع ہوئی تھیں، اس وقت دنیا میں بحث ونظر کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اس نے مستقبل میں ممکنہ تہذیبی جنگ یا کم از کم کشمکش کے بارے میں مسلمانوں کے لیے اہمیت رکھنے والے متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ تہذیبوں کے اس تصادم میں اسلام کا رویہ کیا ہوگا؟ جس چیز کو اسلامی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کے تحفظ اور بقا کے لیے مسلمانوں کو کس حد تک جانا چاہیے؟ کیا اسلامی تہذیب کے مادی اور فنی مظاہر (مثلاً تاج محل اور الحمرا) اسی طرح دفاع کے مستحق ہیں جس طرح اسلامی تہذیب کے فکری اور تعلیمی امتیازات (مثلاً اسلامی علوم، کلام اور اصول فقہ وغیرہ)؟ تہذیبوں کے اس ممکنہ تصادم یا کشمکش میں مذاہب کی روایتی تقسیم (مذاہب اہل کتاب، شبہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب) کی حیثیت کیا ہوگی؟ تہذیبوں کے اس تصادم کے دوران مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہوگی؟ اس باب میں کیا مسلم حکومتوں، مسلم عوام اور مسلم اقلیتوں کی ذمہ داریوں کے مابین فرق کیا جائے گا؟ اگر تہذیبوں کا یہ تصادم شروع ہوا تو دنیائے اسلام میں اس وقت قائم قومی ریاستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ قومی ریاستوں اور تصور امت کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ دنیائے اسلام کے وہ علاقے جہاں بہت سے لوگ خود کو مغربی تہذیب کا تسلسل قرار دیتے ہیں، ان کا طرز عمل اس تصادم کے دوران میں کیا ہونا چاہیے؟ یہ اور ایسے بے شمار سوالات ہیں جو ایک اجتہادی بصیرت کے متقاضی ہیں۔ ان سوالات کا جواب نہ محض فقہی اسلوبِ استدلال سے کام لے کر دیا جا سکتا ہے اور نہ محض متکلمین اسلام کی تحریروں سے۔ اس کام کے لیے نہ صرف قرآن مجید پر گہری نظر اور پیغام قرآن میں عمیق بصیرت کی ضرورت ہے بلکہ فکر اسلامی میں مہارت، تصوف اور کلام سے واقفیت اور تاریخ اسلام پر گہری نظر کے ساتھ ساتھ جدید مغربی افکار بالخصوص فلسفہ تاریخ اور معرکہ مذہب وسائنس کی تاریخ اور نشیب وفراز سے ناقدانہ واقفیت بھی ضروری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں اس کی گنجائش ہے کہ ایسے اصحاب بصیرت پیدا ہو سکیں جو اس طرح کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے میں امت مسلمہ کی راہ نمائی کر سکیں؟ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے نظام تعلیم کا کم از کم ایک بنیادی ہدف ایسے افراد کار کی تیاری بھی ہونا چاہیے۔
اسلامی علوم وفنون کی تدوین نو کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ جو جدید دینی تحریکات اور تحریکی فکر کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، وہ جہاد اور دعوت کے رشتہ شکستہ کی بازیابی ہے۔ بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائیوں میں جب پہلی جنگ عظیم میں کام یابی کے بعد سلطنت برطانیہ کا آفتاب نصف النہار پر معلوم ہوتا تھا، جب لینن اور اسٹالن کی سربراہی میں کمیونزم کی جبروتی طاقت سامنے آئی، جب ہٹلر اور مسولینی کی قائم کردہ کلیت پسندانہ اور مستبدانہ سلطنتیں وجود میں آئیں تو دنیائے اسلام میں بہت سے حساس اور مخلص خادمین اسلام نے یہ محسوس کیا کہ دنیائے اسلام کی کمزوری اور ادبار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ کی پشت پناہی کے لیے کوئی ایسی بڑی سلطنت موجود نہیں جو مذکورہ بالا ریاستوں کے مقابلے میں کھڑی ہو سکے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام کے موقف کو بیان کر سکے۔ اس احساس نے جس کی بنیادیں اخلاص اور دردمندی کے خمیر سے اٹھی تھیں، متعدد طاقت ور اسلامی تحریکات کو جنم دیا۔ ان تحریکوں کی صفوں سے بہت سے ایسے اہل قلم اور ارباب صحافت سامنے آئے جنہوں نے ملت اسلامیہ کی نشأۃ ثانیہ کی لازمی شرط اور خشت اول کے طور پر اسلامی ریاست کے وجود کو لازمی قرار دیا اور یوں بیسویں صدی کے وسط سے لے کر آئندہ کم وبیش پچاس سال کے دوران میں یہ بحث معاصر اسلامی فکر کی شاید سب سے اہم بحث بن گئی جس نے دنیائے اسلام میں مغربی تعلیم یافتہ نوجوانو ں کی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا اور اس طرح احیاء اسلام اور اقامت دین کی اصطلاحیں تاسیس ریاست کے مترادف بن گئیں۔ ان مباحث میں جہاد اور دعوت کی اصطلاحات کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا لیکن اکثر وبیشتر یہ دونوں اصطلاحات ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئیں حالانکہ یہ دونوں اصطلاحات مسلمانوں کی دینی ذمہ داریوں کے دو مختلف مراحل کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اسلامی تعلیم کی بنیادی روح ایمان کامل، تعلق مع اللہ اور اخروی کامیابی کا حصول ہے۔ اسلام کا مزاج داعیانہ ہے، فاتحانہ نہیں۔ وہ سنگ وخشت کو فتح کرنے سے نہیں، قلب وروح کو فتح کرنے سے غرض رکھتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معاصر حکمرانوں کو جتنے بھی تبلیغی والانامے تحریر فرمائے، ان میں بہت سے والا ناموں میں یہ بات قدر مشترک کی حیثیت رکھتی تھی کہ اگر تم اس پیغام کو قبول کر لو تو تمہاری حکومت برقرار رہے گی اور تمہارا اقتدار قائم رہے گا۔ اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بات انتہائی اہمیت رکھتی ہے کہ آغاز وحی سے لے کر ریاست مدینہ کے قیام اور سنہ ۲ ہجری میں میثاق مدینہ کی تحریر وتدوین تک کا یہ سارا پندرہ سالہ عمل ایک انتہائی پرامن تبدیلی کے عمل سے عبارت تھا۔ بغیر ایک قطرہ خون بہائے اور تلوار ہاتھ میں لیے ایک مسلم معاشرہ اور مسلم ریاست وجود میں آ گئی۔ جہاد بالسیف کی اجازت اس وقت دی گئی جب اس ریاست پر بیرونی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ دعوت اور جہاد کے مابین اس نہایت اہم تاریخی ترتیب کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں اصل دعوت ہے اور جہاد بالسیف اس کا ایک ناگزیر مرحلہ۔ یوں بھی قرآن مجید کی متعلقہ نصوص کی رو سے جہاد کی بہت سی قسموں (جہاد بالمال، جہاد بالقرآن، جہاد بالنفس) کے ساتھ جہاد بالسیف محض ایک مرحلہ ہے، اگرچہ وہ اپنی اہمیت اور فضیلت کے اعتبار سے بقیہ تمام مراحل سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
بیسویں صدی کی اسلامی تحریکات میں جو مزاج تیار ہوا اور جو ادب سامنے آیا، اس میں دعوت اور جہاد کے ان مراحل اور ترتیب کا لحاظ رکھنے کی، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شعوری کوشش نہ کی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دعوت کا خالص نبوی اسلوب پس منظر میں چلا گیا اور مغربی انداز کے سیاسی عمل اور سیاسی تنظیم نے اس کی جگہ لے لی۔ سیاسی سرگرمیوں کا یہ انداز خالص دعوتی انداز سے چونکہ خاصا مختلف تھا اس لیے جب ان سرگرمیوں کو دینی مکالمہ اور دینی محاورہ میں بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس میں جہاد کی اصطلاح زیادہ موزوں اور قریب الفہم محسوس ہوئی اس لیے اس کو بلاتکلف استعمال کیا جانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاد کے وہ تمام مستلزمات جو جہاد بالسیف کے ساتھ خاص ہیں، روزہ مرہ کے سیاسی عمل کا لازمی حصہ سمجھے جانے لگے اور یوں دینی تحریکات کے پرجوش کارکنوں کے ذہنوں میں معمول کا مغربی انداز کا سیاسی عمل ایک جہادی سرگرمی بن گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب اس میں شدت پیدا ہوتی گئی تو اس کا اظہار شدت پسندانہ اور بعض دفعہ دہشت پسندانہ انداز میں ہونے لگا۔ گزشتہ چوتھائی صدی کے دوران میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی بہت سی اسلامی تحریکات کے کارکنوں کی شدت پسندی کے اسباب اسی فکری پس منظر میں تلاش کیے جانے چاہییں۔
ان حالات میں مسلمان اہل علم اور مفکرین کی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاد اور دعوت کے گرد گھومنے والے اس نئے علم کلام کا ازسرنو جائزہ لیں اور یہ واضح کریں کہ دعوت اور جہاد کا رشتہ کیا ہے اور یہ کہ دور جدید کے مغربی انداز کے عام سیاسی عمل کی اسلام میں کیا حیثیت ہے اور یہ کہ اس عمل کو کب اور کس طرح دعوتی رنگ دیا جانا چاہیے اور کب اور کن حالات میں اس عمل کو جہاد بالسیف میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جہاد کے سیاق وسباق میں جہاں دعوت وجہاد کے رشتہ شکستہ کی بحالی ضروری ہے اور جہاں اسلام کے داعیانہ (بمقابلہ فاتحانہ) کردار کی اہمیت پر زور دینے کی ضرورت ہے، وہاں جہاد اصغر (جہاد بالسیف) اور جہاد اکبر (جہاد بالنفس) کا تعلق یاد دلانا بھی ضروری ہے۔ عدل، وفاء عہد، احساس ذمہ داری، نظم، سمع وطاعت اور اس طرح کے بہت سے احکام جہاد کے لازمی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان عناصر کے بغیر اگر تلوار اٹھائی جائے گی تو وہ فتنہ اور افراتفری پیدا کرے گی اور اس سے جہاد کے تقاضے پورے نہ ہوں گے۔ تلوار آخری چارہ کار ہے۔ اس سے پہلے دعوت اور اس کے مراحل، تالیف قلب اور اس کے مراحل اور دشمن پر پرامن دباؤ کے مراحل کا گزرنا ضروری ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ جدید اسلامی فکر کے نمائندہ بعض انتہائی محترم اسلامی مفکرین کی تحریروں سے جو یک طرفہ رجحان جنم لے رہا ہے، اس میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عدم توازن کی بڑی وجہ سلف کی احتیاط، توازن اور جامعیت کا نظروں سے اوجھل ہو جانا ہے۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے نئے معاملات ہیں جو سنجیدہ اور گہرے غور وخوض کے متقاضی ہیں۔ اسلامی علوم وفنون کی تدوینِ نو کا عمل ان بنیادی تصورات ومفاہیم کی تصحیح وتوضیح کے بغیر ممکن نہ ہوگا۔

اسلام اور عصر حاضر

Flag Counter