علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ ۔ فکری مماثلتیں

پروفیسر محمد یونس میو

کلام اقبال میں ملا‘ ملائے حرم‘ پیر حرم‘ فقیہان حرم‘ جناب شیخ‘ شیخ مکتب‘ فقیہ شہر‘ صوفی‘ ذکر نیم شبی‘ مراقبے‘ سرور‘ خانقہی اور کرامات جیسی اصطلاحات اور تراکیب سے ایک عامی اس بدگمانی میں بجا طور پر مبتلا ہوتا ہے کہ اقبال طبقہ علماء ومشائخ پر طنز کر رہے ہیں۔ یہ صرف بدگمانی نہیں‘ کچھ حقیقت بھی ہے لیکن اس تنقید کا مصداق جید اور مستند علماء کرام نہیں بلکہ علم وہنر سے بے نیاز اور فکر وعمل سے تہی دامن حضرات ہیں۔ قدیم وجدید میں رشتہ قائم کرنا وقت کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے اور بدقسمتی سے علما کی اکثریت اس امرخاص سے بے نیاز رہی ہے۔ دراصل اقبال مستقبل کے چیلنجوں سے بے خبر انہی روایت پسند رویوں پر اعتراض کرتے ہیں اور اپنی اس تنقید میں وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ تقلیدِ محض اسلام کے اصول حرکت کے منافی ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے اقبالؒ علما کے محسن تصور کیے جا سکتے ہیں۔ رشید احمد جالندھری اپنے ایک مضمون ’’اقبال اور علما‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وہ تو علما کو ان کی معنوی بیماریوں، جمود، تنگ نظری، بے کیف رسوم پرستی اور حقائق حیات سے تغافل وغیرہ سے صحت یاب کر کے ان کو ان کا صحیح مقام دلانا چاہتے ہیں۔‘‘
یہاں اقبال علما تعلقات پر تفصیلی بحث مطلوب نہیں۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ اقبال کے علماء ومشائخ سے گہرے روابط کے باوجود آج ان کو علما کا نقاد خیال کیا جاتا ہے تو اس کی کئی ایک ظاہری وجوہ ہیں۔ ایک وجہ تو اقبال کی علما پر وہ تنقید ہے جو انہوں نے عصری تقاضوں سے غفلت کی وجہ سے ان پر کی ہے۔ دوسری وجہ بعض قدامت پسند حضرات کے وہ فتوے ہیں جو انہوں نے علامہ پر لگائے ہیں۔ ایک اور وجہ علما کا سیاسی کردار بھی ہو سکتا ہے جس کی آڑ میں خاص وعام نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔ 
تاہم یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عصری تقاضوں سے علما کی اس علمی بے نیازی کے باوجود اقبال علما سے بے نیاز نہیں ہوئے بلکہ وقتاً فوقتاً ان حضرات سے مقدور بھر استفادہ کرتے رہے چنانچہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی تنقیدات کو علما سے بعد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ علماء ومشائخ سے غایت درجہ کی عقیدت رکھتے تھے۔ مولانا شبلی نعمانی، سید سلمان ندوی اور مولانا انور شاہ کشمیری وغیرہ سے آپ کو خصوصی علمی ودینی تعلق رہا ہے۔ سید سلمان ندوی کے نام علامہ کے بیسیوں خطوط ملتے ہیں۔ ان خطوط سے شبلی، ندوی اور اقبال کی ایک خوبصورت علمی تکون بنتی نظر آتی ہے۔ ’’تشکیل جدید الہیات اسلامیہ‘‘ کی تیاری کے سلسلے میں اقبالؒ نے مولانا ندوی کو ایک طویل سوال نامہ ارسال فرمایا۔ اس سے ان حضرات کے علمی تعلقات پر روشنی پڑتی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے ’’زندہ رود‘‘ جلد ۳ میں ان سوالات کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ سفر افغانستان بھی ندوی اقبال دوستی پر دال ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری سے اقبال کی متعدد ملاقاتیں اور مسئلہ زمان ومکان، مسئلہ ختم نبوت، فقہ حنفی اور مسئلہ حدوث عالم وغیرہ پر علمی استفادہ بھی ثابت ہے۔ علامہ کشمیری کی وفات پر شاعر مشرق نے لاہور میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کرایا اور اپنی صدارتی تقریر میں شاہ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ’’اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ شاہ صاحب کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔‘‘ مولانا کشمیری کا یہ قول بھی قابل غور ہے کہ ’’مجھ سے جس قدر استفادہ اقبال نے کیا، کسی مولوی نے نہیں کیا۔‘‘
علما کے ساتھ ذاتی روابط کے علاوہ بہت سے معاصر علما اور مشائخ کے ساتھ اقبال کاعلمی، دینی اور فکری اشتراک بھی پایا جاتا ہے جس پر ہمارے سکالرز اور محققین پوری طرح سے توجہ نہیں دے سکے۔ زیر نظر سطور میں، میں مولانا تھانویؒ اور علامہ اقبالؒ کے مابین پائی جانے والی فکری مماثلتوں کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ 
ڈاکٹر محمد اجمل نے اپنے مقالہ ’’علم اور مذہبی واردات‘‘ میں ڈاکٹر محمد اقبال اور مولانا اشرف علی تھانوی کے لیے ’’دو حکیم الامت‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں:
’’بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے مسلمانوں نے دو ممتاز ہستیوں کو ’’حکیم الامت‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ ایک تھے مولانا اشرف علی تھانوی اور دوسرے علامہ اقبال۔حقیقت میں یہ دونوں ہستیاں حکیم الامت تھیں۔‘‘
پروفیسر انور صادق کے نزدیک اقبال کی بنیادی حیثیت ایک مصلح کی ہے۔ اپنے مضمون ’’اقبال کی بنیادی حیثیت‘‘ میں فرماتے ہیں: 
’’واقعہ یہ ہے کہ اقبال بنیادی طور پر شاعر ہیں اور نہ فلسفی بلکہ وہ کچھ اور ہی ہیں۔ شاعری اور تفلسف ان کی ذات کے اضافی پہلو ہیں۔ درحقیقت وہ مصلحِ قوم ہیں۔‘‘
عالم اسلام کی موجودہ حالت پر ایک نظر ڈالی جائے تو یہ سوچ ایک سوال بن کر ابھرتی ہے کہ جب اسلام ایک ابدی دین ہے جس کو اللہ تمام ادیان پر غالب کرنا چاہتے ہیں تو آخر اس دین حق کی موجودگی میں مسلمان اپنی سیاسی بے چارگی‘ معاشی پس ماندگی‘ معاشرتی بد حالی اور اخلاقی بے راہ روی سے کیوں دوچار ہیں؟ علامہ محمد اقبال نے ’’علم الاقتصاد‘‘ ، ’’قومی زندگی‘‘، ’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘ اور ’’خطبات‘‘ خاص طور پر خطبہ اجتہاد میں انہی وجوہ کا جائزہ لیا ہے۔ ’’شکوہ‘‘، ’’جواب شکوہ‘‘، ’’طلوع اسلام‘‘ اور ’’خضر راہ‘‘ میں بھی ان سوالات کا جواب ملتا ہے۔ غالباً برصغیر میں ڈاکٹر محمد اقبال پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے ’’اسلام کی تشکیل جدید‘‘ کی ضرورت محسوس کی۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی ’’خطبات اقبال پر ایک نظر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’اس کی داد دینی چاہیے کہ ایک ایسے دور جمود وتعطل ذہنی میں جبکہ اجتہاد کا لفظ زبان سے نکالتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں ان پر آزاد خیالی کا لیبل نہ لگ جائے، علامہ نے اپنی چشم بصیرت سے آنے والے زمانے کو دیکھ لیا۔‘‘
آپ اسلامی فقہ کی تدوین نو کو کتنا ضروری خیال کرتے تھے؟ صوفی غلام مصطفی کے نام خط میں لکھتے ہیں:
’’میرا عقیدہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے جورس پروڈنس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت ثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدد ہوگا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہوگا۔‘‘
یہی بات قدرے زیادہ شہرت کے پس منظر میں مولانا تھانویؒ کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ اصلاحِ احوال امت کے موضوع پر آپ نے مستقل کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ ’’اصلاح انقلاب امت‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں ایک ضخیم تصنیف جسٹس تقی عثمانی صاحب نے مرتب کی ہے۔ جناب شیخ محمد اکرام نے حضرت تھانویؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’دیوبند سے متعدد بلند پایہ ہستیوں نے فیض حاصل کیا۔ ان میں سے بعض مثلاً انور شاہ کشمیری اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی اس لائق ہیں کہ ان کے کارنامے علیحدہ عنوانات کے تحت بیان کروں لیکن اکابرین دیوبند میں ایک بزرگ ایسے تھے کہ ان کے ذکر کے بغیر گزشتہ پچاس برس کی مذہبی تاریخ کسی طرح مکمل نہیں ہو سکتی۔‘‘
گردوپیش کے احوال کے لحاظ سے اصلاح امت کے لیے ان دونوں بزرگوں نے جو افکار پیش کیے، ان میں اشتراک اور ہم آہنگی کے متعدد دل چسپ پہلو پائے جاتے ہیں۔ آئیے ان پر ایک نظر ڈالیں:
سیاسی افکار
۱۔ دو قومی نظریہ تحریک پاکستان کا سنگ بنیاد ہے اور مولانا تھانوی روز اول ہی سے دو قومی نظریہ کے حامی اور ہندو مسلم اتحاد کے مخالف رہے تھے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اقبال اور قائد اعظم ایک عرصہ تک ہندو مسلم اتحاد کے داعی رہے۔ میثاق لکھنو وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘، ’’نیا شوالہ‘‘ اور ’’ترانہ ہندی‘‘ ایسی نظمیں اقبال کی اسی فکر کی مظہر ہیں لیکن مولانا تھانوی نے اپنی سیاسی بصیرت سے کام لے کر بہت پہلے ہندوؤں کی ذہنیت سے آگاہ کر دیا تھا۔ اپنے ایک وعظ میں فرمایا:
’’یہ ہندو مسلمانوں کی جان، مال اور ایمان سب کے دشمن ہیں اور انہیں کو اپنا ہم درد اور خیر خواہ سمجھ رکھا ہے۔ یہی ان کی بڑی زبردست ناکامی کا راز ہے۔ جو شخص دوست دشمن میں امتیاز نہ کر سکے، وہ کیا خاک کام کرے گا۔‘‘
گاندھی جسے کانگرس کا دماغ کہنا چاہیے، اس نے نہایت مہارت کے ساتھ مسلمانوں کی قوت اور جذبہ کا استعمال اپنی جماعت کے حق میں کیا۔ عام مسلمان کا تو ذکر ہی کیا، بڑے بڑے اس کے سیاسی فریب کاشکار ہو کر کانگرس کا دم بھرنے لگے۔ مولانا تھانویؒ نے کانگرس کی اسلام دشمنی کو بے نقاب کر کے اس میں عدم شرکت پر فتویٰ دیا: 
’’مسلمانوں کا کانگریس میں شرکت کرنا، ہندوؤں کے ساتھ مل کر یا ان کو ساتھ ملا کر کام کرنا یہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نہایت خطرناک بات ہے۔‘‘ 
آپ نے اپنے ایک ملفوظ میں مزید فرمایا: ’’کانگرس خالص مذہبی اور سیاسی ہندوؤں کی تحریک ہے جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنا ہے۔‘‘ 
آپ نے ایک اور سلسلہ گفتگو میں فرمایا:’’ہم کانگرس کی امداد نہیں کر سکتے۔‘‘ 
مولانا تھانوی کے ملفوظات میں بڑے حقیقت پسندانہ تبصرے موجود ہیں۔ ایک خاص مجلس میں گاندھی کے بارے میں فرمایا:’’یہ توحید اور رسالت کا منکر ہے، اسلام اور مسلمانوں کا دشمن اور رئیس المشرکین والکافرین ہے۔‘‘ 
ایک جگہ گاندھی کو ’طاغوت‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ایک ملفوظ میں اسے چالاک، مکار، اسلام اور مسلمانوں کا دشمن کہا ہے۔ تحریک شدھی، ہجرت، قربانی گاؤ،موہلا بغاوت وغیرہ کے پیچھے گاندھی کا ذہن کام کر رہا تھا۔ ان تحاریک کے نتائج مسلمانوں کے حق میں نہایت مضر اور ہندوؤں کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوئے۔ مولانا نے ان امور پر یوں گرفت فرمائی:
’’بعض کفار پر مجھے بہت ہی غیظ ہے۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ ہجرت کا سبق پڑھایا، شدھی کا مسئلہ اٹھایا، مسلمانوں کے عرب جانے کی آواز اٹھائی، قربانی گاؤ پر انہوں نے اشتعال دیا۔ یہ لوگ مسلمانوں کی جان کے دشمن ہیں بلکہ ایمان، جان ومال اور ماہ وجاہ، مسلمانوں کی سب چیزوں کے دشمن ہیں۔‘‘
اس قدر سخت تنقید کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ آپ ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں سوچ بھی سکتے تھے۔ وہ تو اتحاد کو مسلمانوں کی شان کے خلاف سمجھتے تھے نیز ہندوؤں اور انگریز کے بجائے خدا پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ 
علامہ اقبال بھی مسلمان علما کے کانگریسی کردار کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک گفتگو کے دوران میں فرمایا: 
’’کانگرسی خیال کے علما ہندوؤں کا ساتھ دے کر بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اگر قوم نے ان کا ساتھ دیا تو اس کا نتیجہ بہت مہلک ہوگا۔‘‘
مسئلہ وطنیت وقومیت پر مولانا حسین احمد مدنی سے آپ کا اختلاف ایک مشہور بات ہے۔ ’’ارمغان حجاز‘‘ میں ’’حسین احمد‘‘ کے زیر عنوان نظم بھی اس بحث کی یاد دلاتی ہے۔ علامہ نے اپنے موقف کی حمایت میں ’’جغرافیائی حدود اور مسلمان‘‘ کے نام سے مضمون قلم بند کروایا جو ۹ مارچ ۱۹۳۸ء کے روزنامہ ’’احسان‘‘ میں شائع ہوا۔ اس تحریر کے ۴۳ روز بعد آپ راہئ ملک عدم ہوئے۔ مذکورہ مضمون ’’مقالات اقبال‘‘ (مرتبہ سید عبد الواحد) میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
۲۔ علامہ اقبال ترکِ موالات کے مخالف تھے بلکہ اس کے رہنماؤں سے بھی نالاں تھے۔ مولانا تھانویؒ بھی اس تحریک میں مستور نقصانات کو دیکھ رہے تھے۔ چنانچہ اس کے اثرات پر یوں تبصرہ کیا کہ ایک صاحب جو ترک موالات کا شکار ہوئے اور ملازمت کھو بیٹھے، اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
’’یہ صاحب سرکاری ملازم تھے۔ اس تحریک کے سبب مستعفی ہو گئے۔ ملازمت تلاش کرتے ہیں مگر ملتی نہیں۔ پریشان ہیں۔ دین ودنیا دونوں خراب ہوئے۔ اس کانگریس کی وجہ سے ہر شخص پریشان ہے۔‘‘
۳۔ آپ نے تحریکِ ہجرت کی بھی مخالفت کی اور فتویٰ دیا کہ شریعت نے وجوبِ ہجرت کے لیے جو شرائط عائد کی ہیں وہ شرائط ابھی موجود نہیں۔ آپ ہجرت کو گاندھی کا سبق کہتے تھے اور اس کے فتاویٰ جاری کرنے والے علما پر سخت ناراضی اور غصے کا اظہار کرتے تھے۔ 
علامہ اقبال کے خطوط میں ہجرت کے متعلق اشارات ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس تحریک کی حمایت بالکل نہیں کی بلکہ اس کو مولانا تھانوی کی طرح ناپسند فرمایا۔ پروفیسر محمد اکبر منیر کو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: 
’’ہندوستان اور بالخصوص پنجاب سے بے شمار لوگ افغانستان کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ اس وقت تک پندرہ بیس ہزار آدمی جا چکا ہوگا۔‘‘ 
اس تحریک کے نتائج کے بارے میں جسٹس جاوید اقبال رئیس بروک ولیمز کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’کابل سے پشاور تک شاہراہ پر دونوں طرف زمین ان بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کی قبروں سے بھر گئی جو اس سفر کی مصیبتیں برداشت نہ کر سکے۔ جب مہاجرین اپنے اپنے دیہات واپس پہنچے تو بالکل قلاش اور گھربار سے محروم تھے اور سرچھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔‘‘
سید ریاض حسین نے اس تحریک کے بارے میں اپنا خیال ان الفاظ میں بیان کیا ہے:’’بس یہی قدم تھا جو مسلمانوں نے بغیر سوچے سمجھے کیا۔‘‘
۴۔ اقبال اور مولانا تھانوی تحریک خلافت کے بارے میں بھی ہم خیال تھے۔ اقبال صوبائی خلافت کمیٹی کے رکن تھے، بعد ازاں مستعفی ہو گئے۔ وہ وفد خلافت کو انگلستان بھیجنے کے بھی خلاف تھے چنانچہ سید سلمان ندوی کے نام ایک خط میں اس وفد پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ مولانا تھانوی نے تحریک خلافت سے علیحدگی اختیار کی۔ اس پر مولانا کو قتل کی دھمکی بھی موصول ہوئی۔ آپ نے ایک مجلس میں فرمایا: ’’تحریک خلافت کا زمانہ نہایت ہی پرفتن زمانہ تھے۔ بڑے بڑے پھسل گئے۔ عجب ایک ہڑبونگ مچا ہوا تھا۔ حق وباطل میں بھی امتیاز نہ رہا تھا۔‘‘
طریقت وتصوف
تصوف اور مسائل تصوف مسلمانوں کا ایک قدیمی مسئلہ ہے۔ تصوف کے بارے میں عام طور پر تین مکاتب فکر موجود ہیں۔ ایک افراط کا شکار ہے اور دوسرا تفریط کا اور تیسرا ان کے بین بین ہے اور یہی مسلک ہر دو حکیم الامت کا تھا۔ علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ کا عقیدہ یہ تھا کہ شریعت وطریقت دو چیزیں نہیں ہیں بلکہ طریقت شریعت کا ایک جز ہے اور شریعت کے تابع ہے جس کا مقصد تزکیہ نفس ہے۔ اقبال اپنے ایک خط میں شاہ سلمان پھلواری کو لکھتے ہیں:
’’حقیقی اسلامی تصوف کا میں کیونکر مخالف ہو سکتا ہوں کہ خود سلسلہ عالیہ قادریہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ بعض لوگوں نے ضرورغیر اسلامی عناصر اس میں داخل کر دیے ہیں۔ جو شخص غیر اسلامی عناصر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، وہ تصوف کا خیر خواہ ہے نہ کہ مخالف۔‘‘
آج بھی نام نہاد صوفیوں نے سادہ لوح عوام کو ظاہر وباطن کی بحث میں الجھا رکھا ہے حالانکہ شریعت ظاہر وباطن دونوں پر حاوی ہے اور ان میں تفریق کی قائل نہیں۔ اقبال نے ’نیو ایرا‘ کی ۲۸ جولائی ۱۹۱۷ء کی اشاعت میں اپنے ایک مضمون ’’تصوف اور اسلام‘‘ میں شیخ احمد رفاعی کے حوالے سے لکھا ہے:
’’شیخ وہ ہے جس کا ظاہر وباطن مشروع ہو۔ طریقت عین شریعت ہے۔ جھوٹا اس فرقے کو نجاست آلود کرتا ہے اور کہتا ہے باطن اور ہے ظاہر اور ہے۔‘‘
علامہ نے تصوف پر کئی اور مضامین بھی لکھے۔ یہ مضامین خواجہ حسن نظامی کے مثنوی اسرار خودی پر اعتراضات کے جواب میں تحریر کیے جن میں ’اسرار خودی اور تصوف‘ (۱۹۱۶ء)، ’سرِاسرار خودی‘ (۱۹۱۶ء)، ’تصوفِ وجودیہ‘ (۱۹۱۶ء) اور ’علم ظاہر وباطن‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مسئلہ تصوف کی تفہیم میں اقبال کی یہ تحریریں بڑی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ مذکورہ بالا مضامین ’مقالاتِ اقبال‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ۱۹۱۶ء سے ۱۹۱۸ء کے عرصے میں لکھے گئے مکتوبات میں یہ بحث مل سکتی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ حقیقی اسلامی تصوف کے قائل ہیں اور طریقت کو شریعت کا ہی ایک حصہ اور جز خیال کرتے ہیں۔
تصوف پر مولانا تھانوی کا گراں قدر سرمایہ موجود ہے۔ ’انفاس عیسیٰ‘، ’الرفیق فی سواء الطریق‘، اور ’شریعت وطریقت‘ خالص تصوف کی کتابیں ہیں۔ تیرہ سو صفحات پر مشتمل ’تربیت السالک‘ مولانا کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ ’التکشف عن مہمات التصوف‘ نہایت مستند اور ادبی مزاج کی کتاب ہے جو ۷۵۰ صفحات پر مشتمل آٹھ رسائل کا مجموعہ ہے۔ اس میں ’عرفان حافظ‘ کے نام سے حافظ شیرازی کے کلام کی متصوفانہ شرح کے علاوہ ’حقیقت الطریقۃ من السنۃ الانیقۃ‘ کے عنوان سے ۳۵۰ احادیث کی روشنی میں تصوف اور متعلقات تصوف کو ثابت کیا ہے۔ علاوہ ازیں ’مسائل السلوک من کلام ملک الملوک‘ کے نام سے قرآن کی متصوفانہ تفسیر فرمائی ہے۔ ’بیان القرآن‘کے حاشیے میں جابجا مسائل تصوف کی نشان دہی کی گئی ہے۔ آپ کے ملفوظات وفرمودات میں بھی موقع ومحل کی مناسبت سے تصوف وسلوک پر عمدہ بحثیں موجود ہیں۔ پھر آپ کے خلفا اور مریدین اور سوانح نگاروں نے آپ کی زیر نگرانی جو کام کیا ہے، وہ اس پر مستزاد ہے۔ 
مولانا تھانوی تصوف کی کیا تفسیر فرماتے ہیں، ’شریعت وطریقت‘ سے چند سطور قارئین کی نذر ہیں:
’’شریعت کے پانچ اجزا ہیں۔ پانچواں جز تصوف ہے جسے شریعت میں اصلاح نفس کہتے ہیں۔ آج کل لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تصوف کے لیے بیوی، بچوں اور دوسرے دنیاوی امور کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ یہ جاہل صوفیوں کا مسئلہ ہے جو تصوف کی حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘
اسی چیز کو اقبال نے بار بار غیر اسلامی اور عجمی تصوف کہا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ دونوں حضرات ایسے غیر اسلامی رہبانی تصوف کے مخالف ہیں جو زندگی کے تقاضوں سے فرار کی راہ دکھاتا ہے۔
مثنوی مولانا رومؒ 
علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ میں ایک اور فکری ہم آہنگی مولانا رومؒ اور ان کی مثنوی ہے۔ شاعر مشرق کی مولانا جلال الدین رومیؒ سے عقیدت محتاج بیان نہیں جبکہ مولانا تھانویؒ کے مولانا رومیؒ سے استفادہ سے ایک عام آدمی بھی باخبر ہے۔ جو حضرات مولانا تھانویؒ کے علمی افادات سے شغف رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کے ملفوظات اور تصانیف میں جابجا مولانا رومی کے اشعار ملتے ہیں۔ ’’عرفان حافظ‘‘ کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہاں یہ سن لیجیے کہ آپ نے مثنوی مولوی معنوی کی شرح کی ہے جس کو کلید مثنوی کے نام سے ۲۴ جلدوں میں ادارۂ تالیفات اشرفیہ ملتان نے شائع کیا ہے۔ فارسی اور اردو کا ذوق رکھنے والے احباب کے لیے یہ ایک خاصے کی چیز ہے۔ اس شرح کا تذکرہ علامہ کے خطوط میں ملتا ہے۔ خان محمد نیاز الدین خان کو ایک مکتوب محررہ ۳ فروری ۱۹۱۷ء میں لکھتے ہیں:
’’مولوی اشرف علی تھانوی، جہاں تک مجھے معلوم ہے، وحدۃ الوجود کے مسئلے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے ان کی کتاب عمدہ ہوگی۔‘‘
اپنے مضمون ’’سر اسرار خودی‘‘ میں حضرت خواجہ حسن نظامی کو مخاطب کر کے لکھا ہے:
’’حضرت، میں نے مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی کو بیداری میں پڑھا ہے اور بار بار پڑھا ہے۔ آپ نے شاید اسے سکر کی حالت میں پڑھا ہے کہ اس میں آپ کو وحدۃ الوجود نظر آتا ہے۔ مولوی اشرف علی تھانوی سے پوچھیے، وہ اس کی تفسیر کس طرح کرتے ہیں۔ میں اس بارے میں انہی کا مقلد ہوں۔‘‘
تعلیم وتربیت
شعبہ تعلیم وتربیت میں بھی مشترک اقدار موجود ہیں۔ خاص طور پر تعلیم وتربیت نسواں کے بارے میں ان حضرات نے بہت زیادہ لکھا ہے۔ اقبالؒ عورت کو تمدن کی جڑ قرار دیتے ہیں چنانچہ آپ نے ضرب کلیم میں عورت پر متعددقطعات رقم فرمائے ہیں۔ مدراس میں انجمن خواتین کے سپاس نامہ کے جواب میں آپ نے تقریر فرمائی جو ’’شریعت اسلام میں مرد وعورت کا مرتبہ‘‘ کے عنوان سے مقالاتِ اقبال کی زینت بن چکی ہے۔
اقبالؒ عورت کو کیسی تعلیم دینا چاہتے تھے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے ’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’قومی ہستی کی مسلسل بقا کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو ابتدا میں ٹھیٹھ مذہبی تعلیم دیں۔ جب وہ مذہبی تعلیم سے فارغ ہو چکیں تو ان کو اسلامی تاریخ، علم تدبیر، خانہ داری اور علم اصول حفظ صحت پڑھایا جائے۔ اس سے ان کی دماغی قابلیت اس حد تک نشوو نما پا جائے گی کہ وہ اپنے شوہروں سے تبادلہ خیال کر سکیں گی اور امومت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے سکیں گی۔‘‘
علامہ اقبالؒ نے یہاں عورتوں کی تعلیم کا نصاب مقرر کر دیا ہے۔ اس نصاب کی عملی شکل ہم کو مولانا تھانویؒ کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ کی صورت میں ملتی ہے۔ حضرت تھانوی ؒ کتاب کے دیباچے میں اس کی غرض تصنیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’حقیر ناچیز اشرف علی تھانوی مظہر مدعا ہے کہ ایک مدت سے ہندوستان کی عورتوں کے دین کی تباہی دیکھ کر قلب دکھتا ہے اور اس کے علاج کی فکر میں رہتا ہے اور زیادہ وجہ فکر کی یہ تھی کہ یہ تباہی صرف ان کے دین تک محدود نہ تھی بلکہ دین سے گزر کر ان کی دنیا تک پہنچ گئی تھی اور ان کی ذات سے گزر کر ان کے بچوں بلکہ بہت سے آثار ان کے شوہروں تک اثر کر گئی تھی اور جس رفتار سے یہ تباہی بڑھتی جاتی تھی، اس کے اندازہ سے معلوم ہوتا تھا کہ اگر چندے اور اصلاح نہ کی جائے تو شاید یہ مرض قریب قریب لاعلاج ہو جائے اس لیے علاج کی فکر زیادہ ہوئی اور سبب اس تباہی کا بالقاء الٰہی اور تجربہ اور دلائل اور خود علم ضروری سے محض یہ ثابت ہوا کہ عورتوں کا علوم دینیہ سے ناواقف ہونا ہے جس سے ان کے عقائد، ان کے اعمال، ان کے معاملات، ان کے اخلاق، ان کا طرز معاشرت سب برباد ہو رہا ہے۔‘‘
اس کے بعد مولانا عورت کے جذبہ امومت کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’چونکہ بچے ان کی گود میں پلتے ہیں، زبان کے ساتھ ان کا طرز عمل، ان کے خیالات بھی ساتھ ساتھ دل میں جمے جاتے ہیں جس سے دین تو ان کا تباہ ہونا ہی ہے مگر دنیا بھی بے لطف بد مزہ ہو جاتی ہے، اس وجہ سے کہ بد اعتقادی سے بد اخلاقی پیدا ہوتی ہے اور بد اخلاقی سے بد اعمالی اور بد اعمالی سے بد معاملگی جو جڑ ہے تکدر معیشت کی۔‘‘
یہی وہ چیزیں ہیں جن کو اقبالؒ نے ’اسرار ورموز‘ کے ان اشعار میں بیان کیا ہے:
از امومت پختہ تر تعمیر ما
در خطِ سیمائے او تقدیر ما
از امومت گرم رفتار حیات
از امومت کشف اسرارِ حیات
مال او فرزند ہائے تندرست
تر دماغ وسخت کوش وچاق چست
حافظِ رمزِ اخوت مادراں
قوتِ قرآن وملت مادراں
ضرب کلیم کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں:
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موت
مختصر یہ کہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ میں ایک معنوی اتحاد موجود ہے خاص طور پر ان کی سیاسی و تعلیمی اصلاح وفلاح کے ابواب میں حد درجہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان سطور کا مقصد یہ ہے کہ اس علمی ربط کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ اس سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ امت کے دو بڑے گروہ جنہیں عرف عام میں قدیم وجدید کہا جاتا ہے، ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، بد گمانیوں کے بادل چھٹ جائیں گے، علمی بعد اور معاشرتی نفرتیں کم ہوں گی اور فکر وعمل کی نئی نئی راہیں سامنے آئیں گی۔ ان شاء اللہ۔

شخصیات