بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہ

ادارہ

بیروت کی علما کانفرنس کا اعلامیہ
القدس اور فلسطین کی مدد، مظلوم فلسطینی عوام کی تائید، زیادتی اور غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے حق اور اپنے دفاع کی خاطر صہیونی غاصب کے بارے میں اسلام اور علماء اسلام کے موقف کو واضح کرنے کے لیے لبنان میں ’’تجمع العلماء المسلمین‘‘کی دعوت پر بیروت میں ۲۵/۲۶ شوال ۱۴۲۲ھ مطابق ۹،۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کو فلسطینی عوام کے جہاد کی تائید میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’قدس کو بچانا اور فلسطینی عوام کی مدد کرنا شریعت کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد کرنا واجب ہے‘‘۔ ا س کانفرنس میں ۳۴ ممالک کے ۱۳۰ بڑے بڑے علما اور امت مسلمہ کے قائدین شریک ہوئے جو دنیا کے کونے کونے سے تشریف لائے۔ کانفرنس کے اختتام پر شریک ہونے والوں نے اختتامی اعلامیہ جاری کیا اور سفارشات پیش کیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
اعلامیہ
صہیونی زیادتی اور دہشت گردی کے سائے تلے جس بحران سے فلسطینی عوام گزر رہے ہیں، اس کے بارے میں عالمِ عرب اور عالمِ اسلام خاموش بیٹھے ہیں۔ ان کی خاموشی ہماری سمجھ میں نہیں آتی لیکن الحمد للہ دوسری طرف دنیا بھر کے علماء کرام فلسطینی عوام کی نصرت اور امت مسلمہ کے ہر شعبہ کے افراد کی زبان بن کر اور اپنی دینی ذمہ داری کا احساس اور شریعت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور اخلاقی وانسانی فرض کو سمجھتے ہوئے مندرجہ ذیل اٹل موقف کا اعلان کرتے ہیں:
۱۔ فلسطین سارے کا سارا نہر سے لے کر سمندر تک، شمال سے لے کر جنوب تک اس کے سارے شہر اور گاؤں جس کا دار الخلافت القدس ہے، یہ سب عربی اور اسلامی زمین ہے اور یہ سارے فلسطینیوں کا وطن ہے۔ اس میں وہ بھی شامل ہیں جو مقبوضہ فلسطین میں رہ رہے ہیں اور وہ بھی جن کو زبردستی ملک بدر کیا گیا۔ فلسطین ان سب کا حق ہے، بلا کسی قید یا شرط کے فلسطین ان کا ہے اور وہ فلسطین کے۔
۲۔ القدس جس کی تاریخی حدود معروف ہے، ایک عربی اور اسلامی شہر ہے۔ یہ شہر حصے بخرے اور تقسیم کے قابل نہیں ہے۔ سب مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کو آزاد کرائیں اور اس کا دفاع کریں اور اس کو یہودیوں سے بچائیں اور اس کا اسلامی تشخص قائم رکھیں۔
۳۔ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کا کسی بھی شکل میں وجود غیر شرعی اور غیر قانونی ہے۔ یہ وجود حملے، غصب اور ناجائز قبضے کا نتیجہ ہے۔ فلسطین کے عوام کو ملک بدر اور بے گھر کر کے حاصل کیا گیا۔ یہ غاصب اپنے وجود کو مستحکم بنانے کے لیے وہاں زندگی کے ہر شعبہ کو یہودیت کا رنگ دے رہے ہیں اور اپنے وجود کو طول دینے کے لیے زیادتیاں اور دہشت گردی کر رہے ہیں اور بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں لیکن یہ وجود کتنا بھی لمبا ہوجائے، مسلمانوں کی نظر میں ہمیشہ اجنبی، زیادتی کی نشانی، زمین اور اس کے باشندوں کے حقوق اور اس کے مقدسات کا غاصب شمار ہوگا اور اس سے ہٹ کر جتنے بھی معاہدے یا بات چیت یہودیوں کے ساتھ ہوئی، سب باطل اور غیر موثر ہیں۔ ان کی شرعی یا قانونی بنیاد نہیں ہے۔
۴۔ فلسطینی عوام کی اسرائیلی سامراج اور اس کی زیادتیوں کے خلاف جدوجہد کی مختلف شکلیں ان کا حق ہے۔ اسلام نے ان کو یہ حق دیا ہے اور اس کی تائید تمام ادیان، فطری قوانین اور انسانی اقدار کرتے ہیں۔
۵۔ ایسے حملے جن کے نتیجے میں شہادت یقینی ہو، جو مجاہدین اسرائیلی دشمن کے خلاف کر رہے ہیں، جائز ہیں جس کی دلیل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں ملتی ہے بلکہ یہ کام شہادت کا بلند ترین درجہ ہے اور اللہ کی خوشنودی اور جنت حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ عقیدہ، ایمان اور اللہ کی خوشنودی کی خاطر سوچ سمجھ کر اور اپنی مرضی سے شہید ہونا دفاعی تحریک کا ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں پر معنوی برتری حاصل ہوئی ہے جو مادی طاقت کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔
۶۔ ہم بین الاقوامی سوسائٹی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کو روکے نہ کہ مظلوم فلسطینی عوام سے مطالبہ کرے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں حالانکہ اس نے یہ ہتھیار اپنے دفاع کے لیے اٹھائے ہیں۔ ہم زور دیتے ہیں کہ فلسطینی عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی جان کے دفاع کے معرکے میں ہر ذریعے سے اسلحہ حاصل کر سکتے ہیں۔
۷۔ ہم امریکہ کی تیار کردہ دہشت گردوں کی فہرست کو رد کرتے ہیں جس کے ذریعے سے لبنان ، فلسطین اور کشمیر میں جدوجہد کرنے والی طاقتوں پر داغ لگانے کی کوشش ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں ان ملکوں، اداروں اور افراد کو بھی بدنام کیا جا رہا ہے جو اس مشروع جہاد کی تائید اور پشت پناہی کر رہے ہیں۔
اگر امریکی حکومت میں صہیونیت کے حامیوں کا ہدف فلسطینی جہادی طاقتیں ہیں اس لیے کہ اسرائیل کو اگر کوئی خطرہ ہے تو صرف ان سے ہے تو ہم بھی کھل کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ جدوجہد جدید دور میں سب سے زیادہ مقدس اور بلند تحریک ہے۔ یہ پوری امت کی آواز ہے جو صہیونیت کے خلاف اپنے حقوق اور مقدسات کے دفاع میں اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ تحریک اور وہ مجاہدین جو اللہ کی خاطر جہاد کر رہے ہیں، سارے مسلمانوں کی عزت اور آبرو ہیں اور ساری دنیا کے مظلوموں کے خوابوں کی تعبیر ہیں، چاہے وہ مسلمان کہیں بھی ہوں۔
۸۔ ’’حزب اللہ‘ ‘، ’’حماس‘‘ اور ’’جہاد اسلامی‘‘ اور دوسری آزادی کی تحریکیں اس امت کی زبان ہیں۔ دوسرے ملکوں اور ان کے عوام کے دفاع کی فرنٹ لائن ہیں جو ان کے حقوق، مسائل اور ان کے مقدسات کا دفاع کرتے ہیں۔ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی عزت اور آبرو ہیں اور سارے دنیا کے مظلوموں کے خوابوں کی تعبیر ہیں۔
۹۔ تمام عرب اور مسلمان حکومتوں، ان کے عوام اور سیاسی پارٹیوں پر واجب ہے کہ فلسطینی عوام کی نصرت، حمایت اور مدد کریں اور ان کا دفاع کریں۔
۱۰۔ ہم عالم عرب اور عالم اسلام کی حکومتوں اور ان کے عوام اور وہاں کی سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر امت کو کمزوری، عاجزی، تفرقہ، قومی ومسلکی اور سیاسی اختلافات سے پاک کریں۔ ہم ان سب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ گفتگو، مصالحت اور تعاون کے ذریعے سے امت کو مضبوط بنیادوں پر متحد کریں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ القدس اور فلسطین کو امت کا مرکزی مسئلہ سمجھ کر اور اس کو فوقیت دے کر ہم عربوں اور مسلمانوں کو متحد کرنے کے لیے صحیح راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
۱۱۔ علما یہ سمجھتے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکی حکام کا ظالمانہ حملہ جس کا آغاز افغانستان میں ہوا ہے، جس میں بے گناہ عوام کا قتل عام ہوا ہے اور قلعہ جنگی میں قیدیوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کا خاتمہ کیا گیا، یہ جرم اس دور میں سنگین ترین جرم ہے جس کے ذریعے سے امریکہ پورے عالم اسلام کو اپنے شکنجے میں کسنا چاہتا ہے۔ یہ بات امت مسلمہ سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک ہو کر اس منصوبے کا مقابلہ کرے اور اس کو ناکام بنائے۔
۱۲۔ علما عرب سربراہی کانفرنس سے جو لبنان میں منعقد ہونے والی ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھڑے ہوں اور انتفاضہ کی حمایت کریں اور وہ اس کو اللہ اور اپنے عوام کے سامنے اپنی دینی اور دنیاوی ذمہ داری سمجھیں۔
۱۳۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام علما امیر عبد اللہ بن عبد العزیز کے خطاب کو جو انہوں نے خلیجی مجلس تعاون کے سامنے کیا تھا، سراہتے ہیں۔ شام اور اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کو بھی سراہتے ہیں جس میں انہوں نے فلسطینی عوام کا ساتھ دیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ جو تحریک فلسطین میں ابھری ہے، وہ سارے مسلمانوں کے موقف کی تعبیر ہے۔
۱۴۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور انتفاضہ کی بھرپور حمایت پر لبنان کی حکومت اور عوام کے جرات مندانہ موقف کی قدر کرتے ہیں اور اس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس نے اس کانفرنس کی بیروت میں میزبانی کی اور اس کو کامیاب بنانے کے لیے تمام سہولتیں فراہم کیں۔
فیصلے
۱۔ اس کانفرنس کو دائمی ادارے کی شکل دی جائے گی اور اس سلسلے میں جنرل سیکرٹریٹ، انتظامیہ اور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس کام کو جاری رکھے۔
۲۔ فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو سپورٹ دینے کے لیے ایک بین الاقوامی فنڈ قائم کیا جائے گا۔
سفارشات
۱۔ دنیا کے کسی ملک پر امریکی جارحیت کی مدد کرنا حرام ہے۔
۲۔ سکولوں کے سلیبس میں فلسطین اور القدس کے نام سے ایک مضمون پڑھایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے ذہن میں یہ مسئلہ اجاگر رہے۔
۳۔ عرب ممالک میں فلسطینی پناہ گزینوں کے مسائل اور مشکلات کا احاطہ کرنا اور اس کے حل پر غور اور تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔
۴۔ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو میڈیا کو استعمال کر کے سیاسی دباؤ ڈال سکے جس میں میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام موثر شعبوں کے ماہرین ہوں۔
۵۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے علما فلسطین میں جدوجہد اور انتفاضہ کو زکوٰۃ، صدقات، خمس، ہدیے اور عطیات یا کسی بھی قسم کی مالی مدد کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کی سفارش کرتے ہیں۔
۶۔ فلسطین کی سرزمین کی ملکیت یہودیوں کو منتقل کرنا حرام ہے۔ یہ بات خرید وفروخت سے ہو یا کسی اور ذریعے سے، سب ناجائز ہے۔
۷۔ کانفرنس میں شریک ہونے والے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ شرکا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خاتمے کو واجب سمجھتے ہیں۔ تعلقات استوار کرنے اور اس کی کسی بھی سیاسی ،ڈپلومیٹک، اقتصادی اور تجارتی شکل کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی سیاسی، معاشی یا تجارتی شکلیں باطل اور ناجائز ہیں۔
۸۔ حج کے دنوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور ان دنوں میں فلسطین کے مسئلے کی وضاحت کی جائے اور اس کی مدد کے لیے لوگوں کو پکارا جائے۔ ملاقاتوں، اجتماعات اور مختلف طریقوں سے یہ مقصد حاصل کیا جائے۔
۹۔ جہاد کے مختلف معانی کی تشریح وتوضیح کے سلسلے میں علما کے کردار پر زور دیا جائے۔ امت کے افراد زندگی کے اجتماعی، اقتصادی، ثقافتی اور ہر میدان میں کام کریں، کسی میدان کو خالی نہ چھوڑیں۔
۱۰۔ امت مسلمہ کا اتحاد اور فلسطین کی آزادی کی بنیادوں میں سے ایک بنیاد فلسطین میں صہیونیت کے خلاف جدوجہد اور انتفاضہ کی تائید اور مدد کرنا ہے۔
(بہ شکریہ ’’جریدۃ الاتحاد‘‘ لاہور)

عالم اسلام اور مغرب

Flag Counter