اپریل ۲۰۰۲ء

پاکستان کے دینی حلقوں کا اصولی موقف

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۸ مارچ ۲۰۰۲ء کو ہمدرد کانفرنس سنٹر لٹن روڈ لاہور میں روزنامہ پاکستان ویلغار کے زیر اہتمام ’’خلافت راشدہ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ اتحاد العلماء پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک خان نے کی اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے جبکہ کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا میاں محمد جمیل، جمعیۃ العلماء پاکستان کے مولانا قاری زوار بہادر، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا خلیل الرحمن حقانی، تحریک خلافت پاکستان...

بیروت کی علماء کانفرنس کا اعلامیہ

― ادارہ

بیروت کی علما کانفرنس کا اعلامیہ۔ القدس اور فلسطین کی مدد، مظلوم فلسطینی عوام کی تائید، زیادتی اور غاصبانہ قبضے کو ختم کرنے کے حق اور اپنے دفاع کی خاطر صہیونی غاصب کے بارے میں اسلام اور علماء اسلام کے موقف کو واضح کرنے کے لیے لبنان میں ’’تجمع العلماء المسلمین‘‘کی دعوت پر بیروت میں ۲۵/۲۶ شوال ۱۴۲۲ھ مطابق ۹،۱۰ جنوری ۲۰۰۲ء کو فلسطینی عوام کے جہاد کی تائید میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی جس کا عنوان تھا ’’قدس کو بچانا اور فلسطینی عوام کی مدد کرنا شریعت کا حکم ہے اور اس کی خاطر جہاد کرنا واجب ہے‘‘۔ ا س کانفرنس میں ۳۴ ممالک کے ۱۳۰ بڑے...

گجرات کا المیہ اور اس کے اثرات

― مولانا محمد رابع حسنی ندوی

ہندوستا ن کو بدیسی غلامی سے آزادی ملنے پر ملک کی ضرورت کے لائق حکومت قائم کرنے اور چلانے کے لیے اس کے دانش وروں اور قانون دانوں نے جو دستور دیا، وہ اس کے قومی اقدار اور مفادات کا حامل دستور ہے جو ہندوستان میں اس عظیم ملک کے تاریخی مزاج وکردار کی جھلک پیش کرتا تھا۔ اس ملک کا ماضی فرقہ وارانہ مذہبی منافرت کا حامل نہیں رہا ہے۔ یہاں ماضی میں جو بھی ٹکراؤ یا کشمکش رہی ہے، وہ ا س کے حکمرانوں کے سیاسی وفوجی اقتدار کی بقا اور طلب تک محدود رہی ہے، مذہبی فرقہ بندی پر نہیں رہی ہے چنانچہ مسلم حکمرانوں کے ماتحت عہدہ داروں میں ہندو دانش ور اور منتظم اور ہندو...

دورِ جدید کے چند اجتہاد طلب مسائل

― ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلامی علوم وفنون کی تدوینِ نو کا کام ایک ہمہ پہلو تعلیمی اور فکری جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس جدوجہد میں بعض نئے مسائل پر اجتہادی نقطہ نظر سے غور وخوض بھی شامل ہے اور بعض اجتہادی آرا پر ازسرنو ناقدانہ نظر ثانی بھی ناگزیر ہے۔ دور جدید نے بعض ایسے مسائل ومعاملات ہمارے سامنے پیش کر دیے ہیں جو سلف کے سامنے نہیں تھے اس لیے ماضی میں مجتہدین امت اور مفکرین اسلام کو ان پر کوئی رائے قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر ایک کثیر العناصر (Pluralistic) معاشرے میں اسلام کا کردار کیاہے اور کیا ہونا چاہیے؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو بیسویں صدی کے اواخر...

یورپ میں چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی۔ ایک جائزہ

― سلطان احمد اصلاحی

عیسائیت کبھی فکر ونظر کا کوئی مکمل نظام نہیں رہی جس کی بنیاد پر سماج کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل کی جا سکے۔ قوم یہود کے اندر جو زرپرستی اور دنیا طلبی پیدا ہو گئی تھی، اس کے علما ورہبان جس طرح روح شریعت کو چھوڑ کر اس کے الفاظ سے کھیلنے لگے تھے اور اپنے دینی منصب کو کلیتاً جلبِ دنیا کا ذریعہ قرار دے رکھا تھا، حضرت مسیح علیہ السلام ایک عارضی وقفے کے لیے انہی کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے تھے جس کی صراحت وہ خود ان لفظوں میں کرتے ہیں: ’’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ (متی باب...

علامہ اقبالؒ اور مولانا تھانویؒ ۔ فکری مماثلتیں

― پروفیسر محمد یونس میو

کلام اقبال میں ملا‘ ملائے حرم‘ پیر حرم‘ فقیہان حرم‘ جناب شیخ‘ شیخ مکتب‘ فقیہ شہر‘ صوفی‘ ذکر نیم شبی‘ مراقبے‘ سرور‘ خانقہی اور کرامات جیسی اصطلاحات اور تراکیب سے ایک عامی اس بدگمانی میں بجا طور پر مبتلا ہوتا ہے کہ اقبال طبقہ علماء ومشائخ پر طنز کر رہے ہیں۔ یہ صرف بدگمانی نہیں‘ کچھ حقیقت بھی ہے لیکن اس تنقید کا مصداق جید اور مستند علماء کرام نہیں بلکہ علم وہنر سے بے نیاز اور فکر وعمل سے تہی دامن حضرات ہیں۔ قدیم وجدید میں رشتہ قائم کرنا وقت کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے اور بدقسمتی سے علما کی اکثریت اس امرخاص سے بے نیاز رہی ہے۔ دراصل اقبال...

آہ ! مولانا عاشق الٰہی برنی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ

― حافظ مہر محمد میانوالوی

۱۳ رمضان المبارک ۱۴۲۲ء کو مدینہ طیبہ میں ولی کامل، مفسر قرآن حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری اپنے محبوب مولیٰ سے جا ملے اور جنت البقیع میں سب سے افضل مدفون ذو النورین خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مزار کے پاس تدفین کی سعادت نصیب ہوئی۔ اللہم زدہ رحمۃ واکراما واجعل الجنۃ مثواہ۔ مولانا عاشق الٰہی ۱۳۴۳ھ میں بسی ضلع بلند شہر انڈیا میں پیدا ہوئے۔ تبلیغی جماعت کے عظیم پیشوا شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے سہارنپور میں ۱۳۶۳ھ میں دورۂ حدیث شریف پڑھا۔ پھر دہلی، کلکتہ کے علاوہ اپنے استاذ محترم مولانا محمد حیات سنبھلی کے مدرسہ جامعہ...

پیٹ معذور ہوتا ہے

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

وہ بے چینی سے ہاتھ پر ہاتھ مسل رہا تھا۔ بھاری بھرکم کھردرے ہاتھوں پر جمی ہوئی پتلی سی سیاہی صاف چغلی کھا رہی تھی کہ یہ ’’دستِ محنت‘‘ ہیں۔ اپنا خون پسینہ ایک کرکے روزی کمانے والا پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے سوالی بننے پر مجبور ہو گیا تھا۔ .......’’یقین کریں باؤ صاحب، میں مانگنے والا نہیں ہوں۔ ........ بڑا عجیب سا لگ رہا ہے۔ ...... شرم آ رہی ہے۔ میں تو ..... میں تو جی کاری گر ہوں۔ لوہے کی الماریاں مرمت کرتا ہوں۔ ہفتہ ہو گیا ہے کام نہیں ملا۔ ...... میرے پاس ڈیڑھ سو روپے تھے، وہ ختم ہو گئے ہیں۔ ..... اگر ..... اگر آپ ......‘‘ اس سے آگے کچھ کہنے سے وہ ہچکچا رہا تھا۔ میرا...

مولانا درخواستی کا دورۂ جنوبی افریقہ، فجی وبنگلہ دیش

― ادارہ

دنیا بھر کے مسلمانوں میں عقائد واعمال کی پختگی اور دینی اقدار وروایات کے ساتھ وابستگی کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے اور وہ اپنا اسلامی تشخص برقرار رکھتے ہوئے اس میں مزید رنگ بھر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے ساؤتھ افریقہ، فجی آئی لینڈ اور بنگلہ دیش کے تبلیغی دورے سے واپسی پر اسلام آباد میں علما کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں احیاء اسلام کا جذبہ موج زن ہے اور دین داری کی لہریں اٹھ رہی ہیں جس کا زندہ اور واضح ثبوت روز افزوں دینی اداروں کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا...

تعارف کتب

― ادارہ

معجزات پیغمبر ﷺ ۔ معروف محقق اور مناظر حضرت مولانا عبد اللطیف مسعود نے جناب نبی اکرم ﷺ کے معجزات پر قلم اٹھایا ہے اور معجزہ کی نوعیت ومقصد کی وضاحت کے ساتھ ساتھ معجزہ اور سحر کے فرق کوواضح کرنے کے علاوہ جناب نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بارے میں کتب سماویہ کی پیش گوئیوں نیز مہاتما بدھ اور ویدکی پیش گوئیوں کا بھی باحوالہ تذکرہ کیا ہے۔ مولانا عبد اللطیف مسعود مسیحیت کے محققین میں شمار ہوتے ہیں اور جناب نبی اکرم ﷺ کے بارے میں انجیل کی پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مسیحی علما نے جو حربے اختیار کیے ہیں، اس کتاب میں ان کا بھی پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ۳۰۰...

بغاوت کی دستک

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

افغانستان سے متعلق حکومتی پالیسی سے لے کر جہادی تنظیموں پر پابندی کے حکم نامے سمیت بعض ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن پر ہر ذی شعور فرد تحفظات کا اظہار کر سکتا ہے۔ خاص طور پر عدلیہ کے حوالے سے جو آرڈی ننس جاری کیا گیا ہے، اس کے مضمرات کے پیش نظر جنرل پرویز مشرف ہٹلر کی ہم سری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ برطانویوں کی طرح انگریزی بولنے پر فخر کرنے والوں کو یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ برطانوی لوگ کرامویل کے عہد کو اپنی تاریخ کا حصہ نہیں مانتے لیکن جنرل موصوف نے دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوام پر آمریت مسلط کر رکھی ہے۔ نتائج وعواقب سے بے پروا ہو کر مخصوص...

قافلہ میعاد

― ادارہ

ملک کے بزرگ عالم دین اور مایہ ناز مفتی حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ گزشتہ دنوں کراچی میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے تھے اور برصغیر پاک وہند کے بلند پایہ علماء کرام اور مفتیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے ساری زندگی دینی علوم کی تدریس واشاعت اور عامۃ المسلمین کی دینی راہ نمائی میں بسر کی اور ان کی سرپرستی میں ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ نے افغانستان اور دیگر مظلوم خطوں کے مظلوم اور بے سہارا مسلمانوں کی کفالت وخدمت کی وقیع خدمات انجام...

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تاریخ پر ایک نظر

― ادارہ

گوجرانوالہ شہر کی تاریخی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ) اب سے کوئی سوا سو برس قبل ۱۰۳۱ھ میں دو بھائیوں شیخ صاحب دین مرحوم اور شیخ نبی بخش مرحوم کی کوششوں سے تعمیر ہوئی۔ جامع مسجد کے پہلے خطیب حضرت مولانا سراج الدین احمدؒ اپنے وقت کے بڑے عالم دین اور فقیہ تھے جنہوں نے فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’ہدایہ‘‘ کی شرح ’’سراج الہدایہ‘‘ کے نام سے لکھی۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے والد محترم نے سکھ مذہب سے توبہ کر کے حضرت مولانا سراج الدین احمدؒ کے ہاتھ پر جامع مسجد گوجرانوالہ میں اسلام قبول کیا اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے قرآن کریم...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter