فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوری
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا افتتاح

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی (اٹاوہ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ) کے ابتدائی بلاک کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے۔ یہ بلاک جو عارضی طور پر تعمیر کیا گیا ہے یونیورسٹی کے سائٹ آفس کے علاوہ تعمیری ضرورت کے اسٹورز پر مشتمل ہے اور اس میں پانچ کمرے اور ایک برامدہ شامل ہے، جبکہ پہلے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ شاہ ولی اللہ یونیورسٹی نے سلیم آرکیٹیکٹس لاہور کے ساتھ تعمیر کی نگرانی کے لیے باقاعدہ معاہدہ کیا ہے اور مذکورہ فرم کی طرف سے یونیورسٹی کا ماسٹر پلان طے کر لیا گیا ہے جس کے مطابق پہلا تعلیمی بلاک اٹھارہ کلاس رومز، اساتذہ کے چودہ کمروں اور دیگر ضروریات پر مشتمل ہوگا جس کی تعمیر کم و بیش ستر لاکھ روپے کی لاگت سے تقریباً ایک سال میں مکمل ہوگی۔

۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء کو صبح ساڑھے دس بجے حرم پاک مکہ مکرمہ کے مدرس اور ممتاز عالم دین فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی مدظلہ العالی یونیورسٹی کے سائٹ آفس میں تشریف لائے اور ایک سادہ سی تقریب میں دعا کے ساتھ سائٹ آفس کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر راقم الحروف، الحاج میاں محمد رفیق، میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، شیخ محمد یوسف وزیر آبادی، حاجی شیخ محمد یعقوب، ڈاکٹر محمد اقبال لون، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، جناب حاجی علاء الدین، حاجی نذیر احمد، حافظ محمد یحیٰی میر، شیخ محمد ابراہیم طاہر، جناب محمد سلیم (آرکیٹیکٹ)، مولانا قاری حماد اللہ شفیق، مولانا عبد الرؤف ربانی اور دیگر حضرات بھی موجود تھے۔ مولانا محمد مکی حجازی نے تعلیمی بلاک کی بنیادوں کی کھدائی کا معائنہ کیا اور اس موقع پر اس عظیم تعلیمی منصوبہ کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ انہیں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تعلیمی منصوبہ بہت بڑا ہے جس کی تکمیل کے لیے اَن تھک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلیمی ادارہ امتِ مسلمہ کے ایک بہت بڑے مجدد اور امام کے نام پر قائم کیا جا رہا ہے اور اس کے قیام سے دینی حلقوں میں فکری انقلاب کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے منتظمین کو اس سلسلہ میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

۱۶ مارچ کو رات ساڑھے آٹھ بجے الحاج میر ریاض انجم کی رہائش گاہ کشمیر ہاؤس ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس الحاج میاں محمد رفیق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تعمیری پروگرام اور دفتری امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تعمیری کام کی نگرانی کے لیے ایک تعمیراتی کمیٹی قائم کی گئی جس میں میاں محمد عارف ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمد اقبال لون اور حاجی شیخ محمد یعقوب شامل ہیں اور باقی ارکان کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ جبکہ ڈاکٹر محمد اقبال لون کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کا ڈپٹی سیکرٹری منتخب کر کے یونیورسٹی کے دفتری امور کی نگرانی ان کے سپرد کر دی گئی۔

دریں اثنا شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اصحابِ ثروت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس عظیم تعلیمی و دینی منصوبہ کی تکمیل کے لیے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں اور رمضان المبارک کے دوران اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈال کر اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کریں۔

مشاہدات و تاثرات

(اپریل ۱۹۹۰ء)

اپریل ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۴

اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

رشاد خلیفہ - ایک جھوٹا مدعئ رسالت
پروفیسر غلام رسول عدیم

تحریکِ پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آیت ’’توفی‘‘ کی تفسیر
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘
غازی عزیر

فقہی اختلافات کا پس منظر اور مسلمانوں کے لیے صحیح راہِ عمل
الاستاذ محمد امین درانی

علمِ نباتات کے اسلامی ماہرین (۱)
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘
مولانا سراج نعمانی

مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ کی بے بسی
حافظ محمد عمار خان ناصر

بابری مسجد اور اجودھیا - تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش
دیوبند ٹائمز

کرنسی نوٹ، سودی قرضے اور اعضاء کی پیوندکاری
ادارہ

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہے
سرور میواتی

روزے کا فلسفہ
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

سرمایہ داری کا بت
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

تلاش

Flag Counter