آیت ’’توفی‘‘ کی تفسیر

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

سورۃ آل عمران کی آیت ۵۵ یوں ہے:

اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ الخ۔

ترجمہ از شاہ عبد القادر صاحبؒ: ’’جس وقت کہا اللہ نے اے عیسٰیؑ! میں تجھ کو پھر لوں گا (یعنی تجھ کو لے لوں گا اور قبض کر لوں گا زمین سے) اور اٹھا لوں گا اپنی طرف (یعنی اپنے آسمان کی طرف جو کرامت کی جگہ اور ملائکہ کا مقام ہے) اور پاک کر دوں گا کافروں (کی ہمسائیگی اور برے قصد) سے‘‘۔

پہلا معنٰی

اس صورت میں لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا معنی ’’قَابِضْکَ‘‘ کا ہے جیسے کہتے ہیں ’’تَوَفَّیْتُ مَالِی‘‘ یعنی قبض کیا اور واپس لیا میں نے اپنے مال کو اور یہی معنی جلالین میں مذکور ہیں۔

دوسرا معنی

یا لفظ ’’متوفیک‘‘ کا معنی ’’مُسْتَوفِی اَجَلِکَ‘‘ کے ہیں اور معنی یوں ہیں: ’’اے عیسٰی! تجھ کو تیری زندگی کی مدت پوری دوں گا‘‘ (یعنی تو اپنی عمر مقرر تک پہنچے گا اور مخالف تجھے قتل نہ کر سکیں گے)۔

تیسرا معنی

یا بمعنی ’’مُسْتَوفِی عَمَلِکَ‘‘ کے ہے اور اس میں بشارت ہے عیسٰیؑ کو ان کی اطاعت اور اعمال کی قبولیت کا اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں پورے اور کامل کروں گا تیرے اعمال کو‘‘۔

چوتھا معنی

یا متوفی بمعنی ’’مستوفی‘‘ کے ہے اور مضاف محذوف نہیں ہے اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں پورا اور کامل لے لوں گا تجھ کو (یعنی روح اور بدن سمیت)‘‘۔ اور اس صورت میں ارشاد سے فائدہ یہ ہے کہ آسمان کی طرف عیسٰیؑ کی روح مع بدن کے اٹھائی گئی ہے، کوئی فقط روح کو بغیر بدن کے نہ سمجھے۔

پانچواں معنی

یا متوفی بمعنی ’’اَجْعَلُکَ کَالْمُتَوَفِّی‘‘ کے ہے اور معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰیؑ میں تجھ کو مردہ کی مانند کر دوں گا (یعنی زمین سے اثر و خبر کے انقطاع کے اعتبار سے)‘‘۔

چھٹا معنی

یا متوفیک بمعنی ’’مُتَوَفِیْ نَفْسَکَ بِالنَّوم‘‘ کے ہے جیسے سورہ زمر کی آیت ۴۲ یوں ہے:

اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِھَا الخ

’’یعنی اللہ کھینچ لیتا ہے جانوں کو جب وقت آتا ہے ان کے مرنے کا (اور کھینچ لیتا ہے) ان جانوں کو نیند میں جو نہیں مریں ۔۔۔‘‘

اس آیت میں لفظ متوفی کا اطلاق نیند کی حالت پر آیا ہے، پس اس صورت میں معنی یوں ہے: ’’اے عیسٰی! میں تجھ کو کھینچ لوں گا سوتے ہوئے (تاکہ آسمان کی طرف عروج کے وقت خوف نہ لگے)‘‘۔ اور ربیع بن انسؓ سے بھی روایت ہے کہ عیسٰیؑ نیند کی حالت میں اٹھائے گئے اور اسی طرح اس کے اور معانی ہیں۔ اور کسی معتبر مترجم یا مفسر نے نہیں لکھا کہ مسیح مر گیا پھر اٹھایا گیا۔ البتہ بیضاویؒ نے آخر میں ایک مجہول شخص کا قول قِیْلَ کے لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے جو نصارٰی کے مذہب کے موافق ہے اور ایسے مجہول شخص کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ 

(بتفسیر یسیر از ’’ازالۃ الشکوک ج ۱ ص ۱۵۳)

(انتخاب: حافظ محمد عمار خان ناصر)

قرآن / علوم قرآن

(اپریل ۱۹۹۰ء)

اپریل ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۴

اسلامی نظریاتی کونسل کی رجعتِ قہقرٰی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فضیلۃ الشیخ مولانا محمد مکی حجازی کی تشریف آوری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

رشاد خلیفہ - ایک جھوٹا مدعئ رسالت
پروفیسر غلام رسول عدیم

تحریکِ پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آیت ’’توفی‘‘ کی تفسیر
مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

’’کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن‘‘
غازی عزیر

فقہی اختلافات کا پس منظر اور مسلمانوں کے لیے صحیح راہِ عمل
الاستاذ محمد امین درانی

علمِ نباتات کے اسلامی ماہرین (۱)
قاضی محمد رویس خان ایوبی

’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘
مولانا سراج نعمانی

مسیحی ماہنامہ ’’کلامِ حق‘‘ کی بے بسی
حافظ محمد عمار خان ناصر

بابری مسجد اور اجودھیا - تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش
دیوبند ٹائمز

کرنسی نوٹ، سودی قرضے اور اعضاء کی پیوندکاری
ادارہ

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

تختۂ کابل الٹنا چند دن کی بات ہے
سرور میواتی

روزے کا فلسفہ
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

سرمایہ داری کا بت
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

تلاش کریں

Flag Counter