محمد اسلم رانا

کل مضامین: 4

عیسائی اور یہودی نظریۂ الہام

کہنہ مشق اور پرجوش عیسائی مبلغ پادری برکت اے خان ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر ہیں۔ دورانِ ملازمت سے ہی تبلیغی سرگرمیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کی اکثر و بیشتر تحاریر کے مخاطبین مسلمان ہوتے ہیں۔ چند برس پیشتر انہیں اعزازی طور پر پادری بنا دیا گیا۔ رسمِ تقدیس سیالکوٹ چھاؤنی کے قدیم وسیع اور خوبصورت ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل نامی گرجاگھر میں منعقد ہوئی۔ راقم بھی اس تقریب میں شامل تھا۔ مؤقر جریدہ ’’الشریعۃ‘‘ بابت اپریل ۱۹۹۰ء (صفحہ ۴۰ کالم اول) میں حافظ محمد عمار خان ناصر نے پادری مذکور کی کتاب ’’اصولِ تنزیل الکتاب‘‘ (صفحات ۵، ۶) کے مندرجہ ذیل الفاظ...

ایسٹر ۔ قدیم بت پرستی کا ایک جدید نشان

عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیحؑ تیسرے دن مُردوں میں سے جی اٹھے تھے۔ عیسائی اس واقعہ کی یاد میں جو تہوار مناتے ہیں اسے ایسٹر کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسٹر کو عیدِ قیامت مسیحؑ یا عید پاشکا بھی کہتے ہیں۔ عیسائیت کی تاریخ میں یہ سالانہ منایا جانے والا پہلا اور قدیم ترین تہوار ہے۔ رومن کاتھولک جریدہ رقمطراز ہے: قیامت مسیحؑ کی عید کو انگریزی میں ایسٹر کہتے ہیں۔ انگریزوں کے مسیحی ہونے سے پہلے وہ لوگ موسمِ بہار کی دیوی مانتے تھے اور اس دیوی کا نام ایسٹر تھا۔ مسیحیوں نے اس دیوی کو بھلا دینے کے لیے موسمِ بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا...

سخت سزائیں اور کتب و اُمم سابقہ

مغرب زدہ افراد کا ایک طبقہ ہے جو اسلامی حدود کے نفاذ کا خواہاں نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ اسلامی سزائیں سخت ہیں، غیر انسانی ہیں اور وحشیانہ ہیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ یہ خیال و تاثر محض مغرب سے مرعوبیت اور مسحوریت کا نتیجہ ہے ورنہ اسلامی سزائیں جہاں نافذ ہوتی ہیں وہ معاشرہ جرم و گناہ سے تقریباً‌ پاک ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں سخت سزائیں اسلام ہی نے مقرر نہیں کی ہیں بلکہ اسلام سے قبل آسمانی مذاہب میں بھی اسی نوعیت کی سزائیں تھیں اور یہ سزائیں آج تک ان کی مقدس کتابوں میں موجود ہیں جنہیں اہل مغرب (عیسائی اور یہودی) بھی مذہبی اور مقدس مانتے ہیں۔ اس...

تلاوتِ قرآنِ مجید باعث خیر و برکت ہے

مسلمانوں کے ہاں تلاوتِ کلام پاک روح افزاء ہے، ایمان افروز ہے، موجبِ اجر و ثواب ہے۔ صبح سویرے تلاوت اور بچوں کے قرآن پڑھنے کی آوازوں کا بلند ہونا مسلمان گھروں کی نشانی ہے۔ لفظ قرآن (سورہ زمر آیت ۲۸) قرأ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں پڑھنا۔ کلامِ پاک کو قرآن یعنی ’’پڑھی ہوئی کتاب‘‘ اسی معنی میں کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ کتاب بکثرت اور بالخصوص پڑھی جانی تھی، کثرتِ تلاوت اس کا طرۂ امتیاز بننا تھا، اس لیے اللہ کریم نے اس کا نام ہی قرآن رکھا۔ تلاوتِ قرآن مجید کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں، خود قرآنِ حکیم میں ہی اس مقدس کتاب کی تلاوت کے احکام، آداب اور اجر...
1-4 (4)