شعرِ جاہلی اور خیر القرون میں ارتقائے نعت

پروفیسر غلام رسول عدیم

شعر و شاعری عرب معاشرے کی ایک ناگزیر ضرورت تھی۔ قبائل و احزابِ عرب شاعر قبیلے کی آنکھ کا تارا، عزتِ نفس کا پاسبان اور غیرت کا نشان تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ آج جاہلی عرب کے بارے میں جو کچھ معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اس کا بیشتر حصہ انہی شعراء کے ملکۂ سخن کا مرہونِ منت ہے۔ بادیہ نشین عرب فطرت کے نہایت قریب تھے اس لیے ان کے اطوار و عادات میں فطری بے ساختہ پن بدرجۂ اتم موجود تھا۔ تکلف، تصنع اور مبالغہ آمیزی ان کی عادت کے خلاف تھی۔ بات میں کھرا پن ضرور مگر کھراپن لہجے کی صداقت ہوتا ہے۔ آج کل کی اصطلاح میں انہیں حقیقت پسندانہ رویے کا مالک کہنا چاہیے۔

ان کے اصنافِ سخن کو آسانی کے لیے ہم بڑی بڑی پانچ قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں: فخر، حماسہ، تشبیب، ہجا، مدیح۔

(۱) فخر

دنیا میں ہر قبائلی نظامِ فخر قبیلے کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ چنانچہ عرب بھی عصبیتِ جاہلی کے زیرِ اثر اپنے قبیلے کی برتری کا اظہار کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بارہا مفاخرت و معاظمت کے معرکے پیش ہوئے۔ کبھی اجتماعی کبھی انفرادی۔ جیسے ایک عرب شاعرہ خنساء نے اپنے باپ اور بھائیوں کے قتل ہو جانے پر ایک میلے میں ’’انا اعظم العربِ مصیبۃ‘‘ (میں عرب میں سب سے زیادہ مصیبت زدہ ہوں)، صدر اسلام میں غزوۂ بدر میں جب ہند بنت عتبہ کا باپ،  چچا اور بھائی غازیانِ اسلام کے ہاتھوں قتل ہوئے تو وہ بازارِ عکاظ میں جا کر بولی ’’اقرنوا جملی بجمل الخنساء‘‘ (میرا اونٹ خنسا کے اونٹ کے قریب کر دو) چنانچہ ایسا کیا گیا، پھر اس نے مصیبتیں برداشت کرنے میں ایک دوسرے پر مفاخرت و مقارعت کی۔  اسلام کی آمد پر قبائلی عصبیت جاتی رہی اور مفاخرت کے ایسے واقعات کا خاتمہ ہو گیا۔

(۲) حماسہ

جاہلی شاعری کی دوسری سب سے اہم صفت حماسہ تھی۔ یہ لوگ بلاشبہ شجاعت و حماست کے کوہ گراں اور دلاوری کے پیکر تھے۔ عملاً بھی بہادری کے جوہر دکھاتے اور زبانِ شعر سے بھی اپنی جگرداری سے لوگوں کو مرعوب کرتے۔ مثلاً جب تغلب کے رئیس عمرو بن کلثوم کی ماں لیلٰی نے عمرو بن ہندوائی حیرہ کے ہاں احساس تحقیر کے پیشِ نظر ’’واذلّا یا لتغلب‘‘ (اے بنی تغلب مقام رسوائی ہے) کا بے باکانہ نعرہ بلند کیا تو ایک طرف تو عمرو بن کلثوم نے والیٔ حیرہ کو آنِ واحد میں قتل کر دیا، دوسری طرف وہ زوردار شعر پڑھے جو حماسہ کی نہایت شاندار مثال ہے ؎

وقد علم القبائل غیر فخر

اذا قبب با بطحھا بنینا

وانا الحاکمون بما اردنا

وانا النازلون بحیث شئنا

ونشرب ان وردنا الماء صفوًا

ویثرب غیرھا کدر وطینا

’’قبیلے جانتے ہیں کہ ہم نے بغیر کسی فخر کے ان کے کنکر والے نالوں تک میں گنبد بنا ڈالے۔ ہم جو چاہیں حکم دیں، جہاں چاہیں اتر پڑیں، جب ہم کسی جگہ آئیں تو صاف چشموں سے متمتع ہوتے ہیں، ہمارے دشمن کو گدلا پانی پینا پڑتا ہے۔‘‘

(۳) تشبیب

تیسری اہم صفت اہلِ عرب کے ہاں تشبیب تھی۔ اس میں شرب و شباب کی کیف آور فضا سے لے کر مناظر فطرت کی رنگینیوں تک سارے مضامین آجاتے تھے۔ وہ سوسائٹی جہاں شراب پینا معیوب نہ تھا اور جہاں مناظر فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ نظارہ دیتے تھے وہاں امراء القیس، مرقش الاکبر، عبد اللہ بن عجلان اور مسافر بن ابی عمرو جیسے رنگین مزاج اور غزل گو شعراء کا پیدا ہونا ناگزیر تھا۔

(۴) ھجاء

عرب شاعروں کے ہاں ان کی افتاد طبع اور مخصوص سماجی ماحول کی بنا پر ہجویہ شاعری خاص اہمیت کی حامل ہے۔ وہ اپنے قبیلے کے دفاع میں دوسروں پر طعن کرتے مگر مگر معیارِ اخلاق کی گراوٹ کے بغیر۔ وہاں عبید زاکانی، بسحق شیرازی (فارسی)، اور جعفر زٹلی واٹل نارنولی (اردو) جیسے پھکڑباز اور لچرگو نہیں ملتے۔ ان کے ہاں محبت کی گرم گفتاری ہے تو لہجے کی صداقت کے ساتھ، اور عداوت کی جگر دوزی ہے تو بھی حقیقت پسندی کا دامن چھوٹے بغیر۔ قریط بن انیف اپنے قبیلہ کی بزدلی کی ہجو کرتے ہوئے کہتا ہے ؎

یجزون من ظلم اھل الظلم مغفرۃ

ومن اساءۃ اھل السوء احسانا

’’میرے قبیلے کے لوگ وہ ہیں جو ظالم کا بدلہ بخشش سے دیتے ہیں اور برے کی برائی کے بدلے اس پر احسان کرتے ہیں۔‘‘

کان ربک لم یخلق لخشیتہ

سوا ھم من جمیع الناس انسانا

’’گویا کہ تیرے رب نے ان کے سوا مخلوق میں کسی کو اپنی خشیت کے لیے پیدا ہی نہیں کیا۔‘‘

(۵) مدیح

یہی وہ صنفِ سخن ہے جس سے عرب کی وصفی شاعری کئی رنگوں میں ظہور پذیر ہوئی۔ کبھی قبیلے کی تعریف کی جاتی ہے، کبھی رؤسائے قبیلہ ممدوح بنتے، گھوڑے کی گرم رفتاری، تلوار کی کاٹ اور برق ریزی، اور ناقہ کی سرعتِ رفتار کو موضوعِ سخن بنایا جاتا۔ یہی نہیں حیوانات، منازل، اخلاق، وقائع سب کو مقامِ مدح میں رکھا گیا۔ اسی سے ایک صنفِ سخن پھوٹی جو بعد میں ایک مستقل صنف بن گئی اور وہ ہے مرثیہ۔ اس میں بڑے معرکے کی شاعری نے جنم لیا۔ خنساء کے مرثیے خاصے کی چیز ہیں۔ ایک اعرابیہ نے اپنے بیٹے کی موت پر کیسے بلند پایہ شعر کہے ہیں ؎

من شاء بعدک فلیمت

فعلیک کنت احاذر

کنت السواء لناظری

تعمی علیک الناظر

’’تیرے بعد (کوئی جیے کوئی مرے) مجھے تو تجھی سے رونق تھی۔ تو میری آنکھ کی پتلی تھا، اب میری آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔‘‘

بسا اوقات مدح گوئی حالات کے دھارے کو دوسرے رخ پر پھیر دیتی۔ بنی انف شرم کے مارے اپنے آپ کو بنی انف نہیں کہلواتے تھے بلکہ بنی قریع کہلواتے تھے۔ مگر جب حطیۂ نے ان کی مدح میں شعر کہا تو وہ فخریہ بنی انف کہلوانے لگے ؎

قوم ھم الاناف ولاذباب غیرھم

ومن یسوی انف الناقۃ الذنباء

’’وہ ناک ہیں اور دوسرے لوگ دم۔ اونٹنی کی ناک اور دم کو بھلا کون ایک درجے میں رکھے گا۔‘‘

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عرب شاعر جب مدح گستری کرتے تو باستثنائے چند وہ ان کے دل کی آواز ہوتی۔ وہ ممدوح کو مدح کے قابل نہ پاتے تو برملا کہہ دیتے ’’افعل حتی اقول‘‘ کچھ کر کے دکھاؤ تاکہ تمہاری مدح کریں۔ اس زمانے کے مشہور ممدوحین میں ایک تو رؤسائے ھرم بن سنان، عامر بن ظرف، اقرع بن حالیس، ربیعہ بن مخاشن، دوسرے مناذرۂ حیرہ اور عنساسۂ شام اور ان کے امراء تھے۔

ادھر مداحین کی صفِ اول میں امشٰی، ربیع بن زیاد، نابغہ ذبیانی، منخل لشیکری، ابوزبید الطائی، معن بن اوس، زبیر بن ابی سلمٰی، حلیئہ اور حسان بن ثابت کے نام قابل ذکر ہیں۔

’’جاء الحق وزھق الباطل‘‘

جب چھٹی صدی کی آخری دہائیوں میں غلغلۂ اسلام بلند ہوا تو اس نے زندگی کے ہر دائرے میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔ کفر و ضلالت کی جگہ نور و ہدایت نے لے لی۔ رسوم کہن کی بجائے شریعتِ اسلامیہ، اور تقلیدِ آبائی کی جگہ اتباعِ رسولؐ مطمحٔ نظر بن گئے۔ قرآن نے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تو زندگی کو ایک نیا رنگ اور آہنگ ملا۔ جب ہر پہلوئے حیات میں دور رس تبدیلیاں ہوئیں تو شعر و شاعری میں بھی تبدیلی کا آنا ضروری تھا۔ اب قرآن ہی فرزندانِ توحید کے فکر و نظر کا محور بن گیا۔ قرآن نے جب شعر کو ذم کے درجے میں رکھا تو وقتی طور پر حماست، تشبیب اور ہجا وغیرہ کا جاہلی غلغلہ مکمل سکوت میں بدل گیا۔ توحید و رسالت کے پرجوش آہنگ نے ہر طرح کی خطابتِ جاہلی، فصیح البیانی اور شعری روایات کو مغلوب کر لیا بلکہ کھلا چیلنج دیا۔

فَأْتُوا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِثْلِہٖ وَادْعُوْا شُھَدَاءکُمْ مِنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْن (بقرہ ۲۳)

بعض صفِ اول کے شاعروں نے تو شاعری ہی ترک کر دی۔ چنانچہ لبید بن ربیعہ (م ۶۶۲ء) نے، جو اصحابِ معلقات میں سے تھے، قبولِ اسلام کے بعد صرف ایک ہی شعر کہا اور وہ بھی تحدیثِ نعمتِ اسلام کے جذبے سے سرشار ہو کر ؎

الحمد للہ ان لم یاتنی اجلی

حتی لبست من الاسلام سربالا

’’الحمد للہ میں نے موت سے پہلے پہلے جامۂ اسلام زیب تن کر لیا ہے۔‘‘

نزولِ قرآن سے فکر و نظر کے زاویے بدلے، ذہن بدلے، دل بدلے، سوچ کے دھارے بدلے، غرضیکہ سوسائٹی کے نفسیاتی اسالیب اور اقتصادی، تہذیبی، سیاسی اور مذہبی اطوار میں ایک عظیم تغیر آ گیا۔ خیر القرون میں لوگ عقیدۂ توحید میں ’’اشد حبا اللہ‘‘ کے مقام پر جا پہنچے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کی محبت و عقیدت ایک پیکرِ انسانی کی ذات میں سمٹ آئی۔ عقیدتوں کا مرجع اور داعیاتِ محبت کا سرچشمہ ایک مکمل اور اکمل انسان تھا جو ان کے سامنے تھا۔ اس لیے منطقی طور پر لازمی تھا کہ جاہلی فخر و حماست، ہجو اور تغزل کو خیرباد کہہ دیا جاتا اور اگر ثناخوانی کی جاتی تو احمدِ مختار کی، اور مدح و ستائش کے اعلٰی ترین مقام پر رکھا جاتا تو محمد مصطفٰیؐ کو۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں شعرِ جاہلی کے ممدوحین کے بدلے ممدوح کائنات بلکہ ممدوحِ خالق کائنات توجہ کا مرکز بنا۔ اب تک مدحیہ شعر مدیح ’’جم و کسے‘‘ کے لیے مختص تھا، اب فخرِ بنی آدم کے تا قیامت چرچے کے لیے مخصوص ہو گیا۔

افصح العرب کی نظر میں شعر

حقیقت یہ ہے کہ عرب کی جاہلی شاعری خصوصاً ہجائی اور تشبیبی شاعری قرآنی افکار سے متصادم تھی۔ جذباتی سلسلے کے اعتبار سے اس کی کڑیاں قبائلی عصبیت سے جا ملتی تھیں۔ اسلام نے عصبیتِ جاہلی کو ختم کیا تو ایسی شاعری اور شعراء کی ضرورت بھی باقی نہ رہی۔ اب وہیں قوتیں اسلام اور قرآن کے تحریکی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگیں۔ اسی لیے قرآن نے اسے بنظرِ استحسان نہیں دیکھا ’’الشعراء یتبعھم الغاوٗن (الشعراء ۲۲۴) شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ ’’وما علمناہ الشعر‘‘ (یس ۶۹) اور ہم نے آپ کو شعر کی تعلیم نہیں دی۔ ’’وما ھو بقول شاعر‘‘ (الحاقہ ۴۱) اور یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں۔ جیسے سرمدی الہامات سے شعر کو بمقابلۂ قرآن مقام ذم میں رکھا گیا۔

ادھر امام الانبیاء بھی عمومی طور پر شعر کی طرف راغب نہ تھے۔ ایک تو یہ کہ شاعری مقامِ نبوت سے نہایت فروتر درجے کی چیز ہے، دوسرے یہ کہ شعر سے قبائلی عصبیت ابھرتی تھی اور رسولؐ اتفاق و اتحاد کے داعی تھے۔ فرمایا ’’لان یمتلی جوف احدکم قبیحا حتی یرید خیر من ان یمتلی شعرًا‘‘ تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے اور متعفن ہو جائے تو شعر سے بھر جانے سے پھر بھی بہتر ہے۔ مگر غور کیا جائے تو آیاتِ کریمہ اور احادیثِ نبویؐ میں علی الاطلاق شعر کی مذمت نہیں۔ ہجائی اور ایذا رساں شاعری کی مذمت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی سرورِ عالمؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوا، شعر میں گفتگو کی۔ آپؐ نے فرمایا ’’ان من الشعر لحکمۃ و ان من البیان لسحر‘‘ بے شک شعروں میں دانائی کی باتیں ہوتی ہیں اور بعض باتیں جادو کا سا اثر رکھتی ہیں۔ شاعری کے لیے اس حوصلہ افزا ارشاد کے ساتھ لبید بن ربیعہ کا یہ شعر سنا ؎

الا کل شئی ما خلا اللہ باطل

وکل نعیم لا محالۃ زائل

’’آگاہ رہو کہ اللہ کے سوا ہر شے باطل ہے اور نعمت بالآخر زوال پذیر ہے۔‘‘

تو فرمایا ’’اصدق کلمۃ قالھا شاعر قول لبید‘‘ (بخاری) اس سے حضورؐ کے ذوقِ شعر کا بھی پتہ چلتا ہے۔ مزید برآں عرب کے بعض حکیم شعراء مثلاً امیہ بن ابی الصلت (م ۶۲۴ء) ورقہ بن نوفل (م ۵۹۲ء) زید بن عمرو بن نفییل (م ۶۲۰ء) اور قس بن ساعدہ (م ۶۰۰ء) کی شاعری میں اخلاقی، مابعد الطبیعاتی حقائق، خدا، رسولؐ، ملائکہ اور یومِ آخرت کے مضامین ملتے ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ سرورِ کائناتؐ امیہ بن ابی الصلت کے وہ شعر جن میں اللہ اور آخرت کا ذکر ہوتا، بڑے شوق سے سماعت فرماتے۔

نعت کا نقطۂ آغاز

جاہلی دور میں ہجا اور مدیح کا سلسلہ جاری رہا تاآنکہ اسلام آ گیا۔ قبائلی عصبیت مٹی تو نظریاتی بنیادوں پر کفار و مومنین کے درمیان مہاجاۃ ہوئی۔ عبد اللہ بن زبعری، ابو سفیان بن الحارث اور عمرو بن العاص کفار کی طرف سے مشہور ہجوگو شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا ’’ما یمنع الذین نصر و رسول اللہ بلاحھم ان ینصروہ بالمنتقم‘‘ جن لوگوں نے اللہ کے رسولؐ کی ہتھیاروں سے مدد کی انہیں زبان سے مدد کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟ پھر تین سربرآوردہ شعراء کو جواب آں غزل کے طور پر مقرر فرمایا۔ حسان بن ثابت، کعب بن مالک اور عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم اس شرف سے مشرف ہوئے۔

کفار کے مقابلے میں ان کے لسانی اور شعری معرکوں سے متاثر ہو کر فرمایا ’’ھولاء النفر اشد علی قریش من نضع النبل‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قریش کے لیے تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت حسانؓ سے فرمایا ’’اھجھم ن اللہ لھجاؤک علیھم اشد من وقع السھام فی غلس الظلام و معک جبریل روح القدس‘‘ ان کی ہجو کر، اللہ کی قسم! تیری ہجو ان کے لیے تاریکی شب میں تیر لگنے سے بھی سخت تر ہے۔ تیرے ساتھ جبریل روح القدس ہیں۔ ان شاعرانِ سحر بیان نے ایک طرف تو دشمنانِ اسلام پر ہجو کے تیر برسائے تو دوسری طرف ممدوحِ کائنات کے حضور گلہائے عقیدت نچھاور کیے۔ یوں اپنی تمام تر شاعرانہ صلاحیتوں کو ثنائے خواجہ گیہاںؐ کے لیے وقف کر دیا۔

یہ تو ہے نعت کے آغاز کا تاریخی و تدریجی ارتقاء۔ دوسری طرف قرآن جس کی ابتداء توحید و رسالت کے زوردار خطبوں سے ہوتی ہے، آگے چل کر معاش و معاد، اوامر و نواہی، تبشیر و انداز، معاشرت و معاملت کی جزئیات تک کو حصر ہے۔ اصل میں سرور کائناتؐ کی حیاتِ طیبہ ہی کا لفظی عکس ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے اس ضمن میں جب سوال کیا گیا تو بلاتامل فرمایا ’’کان خلقہ القراٰن‘‘ (ابوداؤد باب صلوٰۃ اللیل)۔ قرآن میں نعت ختم المرسلین کے چند تابناک جواہر ریزے ملاحظہ ہوں:

احمد ومبشرًا برسول یاتی من بعد اسمہ احمد (صف ۶)

محمد محمد رسول اللہ (فتح ۲۹)

یس یس والقراٰن الحکیم (یس ۱)

طہ طہ ما انزلنا علیک القراٰن لتشقٰی (طہ ۱)

کملی والے یا ایھا المزمل (مزمل ۱)

چادر والے یا ایھا المدثر (مدثر ۱)

روشن چراغ سراجًا منیرًا (احزاب ۴۶)

شاہد مبشر انا ارسلنٰک شاھد و مبشرًا ونذیرًا (احزاب ۴۵)

نذیر مبشرًا و نذیرًا (احزاب ۴۵)

نور قد جاءکم من اللہ نور (مائدہ ۱۵)

سراپا ہدایت و رحمت وانہ لھدًی (نمل ۷۷)

رحمۃ للعالمین وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (انبیاء ۱۰۷)

رؤف رحیم وبالمومنین رؤف الرحیم (توبہ ۱۲۸)

یہ تو مشتے نمونہ از خردارے ہے ورنہ سارا قرآن نعتِ ختم المرسلینؐ ہی تو ہے۔ نہ صرف یہ کہ قرآن کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ نعت گوئی پر مشتمل ہے بلکہ خود خدائے قدوس اور اس کے فرشتے نعت گویانِ رسولؐ اور اہلِ ایمان کو وجوبی طور پر یوں ارشاد ہوتا ہے ’’ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما‘‘۔ اللہ! اگر بندہ اس پر پکار اٹھے تو بے جا نہیں بلکہ اس کی سعادت کی انتہا ہے ؎

من ایں مقام بدنیا و آخرت مذھم

اگرچہ درینیم افتند ہر دم انجمنے

 قرآن کے بعد ذخیرۂ حدیث کی طرف آئیں تو اس کام میں جانیں کھپانے والے قدسی نفس لوگوں نے کوئی ۱۴ لاکھ فرموداتِ رسولؐ جمع کر دیے ہیں۔ تا قیامت ان اقوال و ارشادات کو اَن گنت لوگ دہرا دہرا کر اپنی زندگیوں کی اصلاح و فلاح میں بھی منہمک رہیں گے اور نعتِ رسولؐ کا بھی اہتمام ہوتا رہے گا۔ یوں تو سارے کا سارا ذخیرۂ حدیث نعتِ رسولؐ ہی ہے تاہم امام محمدبن عیسٰی ترمذی (۲۰۹ ۔ ۲۷۹) نے شمائل النبویہ میں، جو ۴۰۰ احادیث کا لاجواب انتخاب ہے، ۵۶ ابواب پر تقسیم کر کے سراپائے اقدس، معمولاتِ مطہر اور فضائل و شمائل رسولؐ کا حسین ترین نعتیہ مرقع پیش کر دیا ہے۔

ہاں تو سرکارِ دو جہاں کی صبوت و ملفولیت ہی میں آپ کو عوام الناس کا بہ نگاہِ تحسین دیکھنا نعتیہ طرزِ فکر کا حامل تھا، مگر عنفوانِ شباب میں تو صداقت و امانت میں بے مثال کہلایا جانا نعتِ مصطفٰیؐ ہی کی ذیل میں آتے ہیں۔ اعلانِ نبوت سے پہلے جب حجرِ اسود کو خانہ کعبہ کی دیوار میں رکھتے ہوئے نزاع چھڑی تو آپؐ کو دیکھ کر الجھتے ہوئے لوگوں کی زبان سے بیک آواز ’’ھذا امین رضینا بہ‘‘ کے الفاظ نکلنا کتنی پیاری نعت تھی۔ حضرت جعفر طیارؓ کا نجاشی کے دربار میں خطبہ، نعتیہ خطبہ ہی تو تھا۔ ہجرت کے موقع پر ایک اعرابیہ ام معبد کی نثری نعت شمائل رسولؐ کی نہایت دلآوایز تصویر ہے۔ مدینہ منورہ میں تشریف آوری پر نعت ہی سے استقبال ہوا۔ پردہ نشین خواتین نے چھتوں پر آن کر یوں زمزمہ پردازی کی ؎

طلع البدر علینا — من ثنیات الوداع

وجب الشکر علینا — ما دعٰی للہ داع

ایھا المبعوث فینا — جئت بالامر المطاع

’’وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر چودھویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے۔ جب تک دعا کرنے والا دعا کرے ہم پر شکر کرنا واجب ہے۔‘‘

اور معصوم بچیاں دف بجا بجا کر گا رہی تھیں ؎

نحن جوار من بنی النجار

یا حبذا محمد بن جار

’’ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں، واہ محمد کیا اچھے ہمسائے ہیں۔‘‘

(سیرت النبیؐ از شبلی جلد اول)

خیر القرون کے چند اہم نعت گو شاعر

صحابہ میں یوں تو کون ایسا شخص تھا جو شاعر تھا مگر ثنائے خواجہ عالمؐ میں رطب اللسان نہ ہوا۔ تاہم ۲۲ صحابہؓ کے نعتیہ اشعار روایتوں میں مل جاتے ہیں (ارمغان نعت کا دیباچہ از عبد القدوس ہاشمی)۔ ان میں حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن رواحہ، حضرت کعب بن مالک، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہم وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

امشٰی قیس (م ۶۲۹ء) جو شراب و شباب کا شاعر تھا اس نے ایک زوردار نعت سرور عالمؐ کی مدح میں لکھی، عازم بارگاہِ رسولؐ ہوا۔ ابو سفیان بن حرب کو پتہ چلا تو اس نے اپنی قوم کو ترغیب دی کہ اسے اس کام سے روکیں، مبادا وہ اسلام لے آئے اور نصرتِ رسولؐ کرے۔ چنانچہ انہوں نے اسے ۱۰۰ اونٹ پیش کر کے واپس بھیج دیا۔

حسان بن ثابتؓ

حسان بن ثابت بن منذر بن حرام بن عمرو البخاری خزرجی، ان کے دادا منذر نے اوس و خزرج کے حَکم کی حیثیت سے فریقین میں صلح کروائی، مدینہ میں پیدا ہوئے۔ عمر میں حضورؐ سے کوئی آٹھ برس بڑے تھے، اپنے زمانے کے سب سے بڑے حضری شاعر تھے۔ غسانی بادشاہوں کے مداح رہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد ۶۰ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ کبرسنی کی وجہ سے جہاد بالسیف سے معذور رہے۔ جب ہجائینِ قریش کے خلاف رسول اللہؐ نے شعرائے اسلام کو تحریض کی تو حسان بن ثابتؓ نے کہا کہ میں ان کی ہجو کروں گا۔ حضورؐ نے فرمایا ’’کیف تھجوھم وانا منھم‘‘ ان کی ہجو کرے گا تو کیسے جبکہ میں ان میں سے ہوں؟ جواب تھا ’’انی اسلک منھم کما تسل الشعرۃ من العجین‘‘ میں آپ کو ان میں سے یوں کھینچ نکالوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیتے ہیں۔ ابو سفیان بن الحارث نے ہجو کی تو جوابًا کہا ؎

ھجوت محمدًا فاجبت عنہ

وعند اللہ ذاک الجزاء

ھجوت مبارکا براحنیفا

امین اللہ شیمتہ الوفاء

فان ابی و والدتی وعرضی

لعرض محمد منکم وقاء

’’تو نے محمدؐ کی ہجو کی، میں جواب دیتا ہوں۔ اس کی اللہ کے ہاں جزا ہے۔ تو نے اس مبارک نیک اور یکسو کی ہجو کی۔ وہ امامت خداوندی کا امین ہے اور وفا اس کی خصلت ہے۔ میرے ماں باپ اور میری عزت، عزتِ محمدؐ کے تحفظ کے لیے ڈھال ہے۔‘‘

ان کا سب سے بڑا کارنامہ وفد بنی تمیم کے ایمان لانے پر نصرتِ رسولؐ ہے۔ ستر یا اَسی افراد پر مشتمل یہ وفد حاضرِ خدمت ہوا۔ پہلے خطابت میں مقارعت ہوئی پھر شعر میں مفاخرت ہوئی۔ بنی تمیم نے اپنے مشہور شاعر زبرقان بن بدر کو پیش کیا۔ حضرت حسان بن ثابتؓ کو بلا کر (جو اس وقت موجود نہ تھے) فرمایا، جواب دے۔ آپ نے نعتیہ اشعار پڑھ کر مسکت جواب دیا۔ بنی تمیم دولتِ ایمان سے مالامال ہو گئے۔ ان کے یہ شعر تو ہر عربی خواں کی زبان پر ہیں ؎

و اجمل منک لم ترقط عینی

و احسن منک لم تلد النساء

خلقت مبرءًا من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء

’’آپؐ سے حسین تر میری آنکھ نے نہیں دیکھا اور آپؐ سے بہتر کسی ماں نے نہیں جنا۔ آپؐ ہر عیب سے یوں پاک پیدا کیے گئے گویا آپ اپنی مرضی کے مطابق پیدا ہوئے۔‘‘

عبد اللہ بن رواحہؓ

عبد اللہ بن رواحہؓ (متوفی ۹۴ھ) آپ خزرجی تھے۔ حضورؐ کے اتنے معتمد تھے کہ اہم ترین مشن اور سفارتیں انہی کے ذمہ ہوتیں۔ ان ۱۲ نقیبوں میں شامل تھے جو بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد مقرر فرمائے گئے۔ غزوۂ موتہ (۹ھ) میں سپہ سالاری کے دوسرے جانشین تھے، اسی جنگ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قریش کو ان کے کفر کی وجہ سے طعن کرتے تھے، جبکہ دربارِ رسالت کے دوسرے شعراء حسانؓ و کعبؓ کفار کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ملامت کرتے تھے۔ ان کے صرف ۵۰ شعر محفوظ رہ گئے ہیں (اردو دائرہ معارف اسلامیہ)۔

کعب بن زہیرؓ

کعب بن زہیرؓ (متوفی ۲۴ھ) اسلام لانے سے پہلے حضورؐ کی ہجو کرتے تھے اور مسلمان عورتوں کے بارے میں یاوہ گوئی کرتے۔ فتح مکہ کے بعد ان کے لیے حکم تھا کہ پکڑے جائیں تو قتل کر دیے جائیں۔ مگر خوش قسمتی دیکھئے کہ اپنے بھائی کی ترغیب پر ۹ھ میں بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے، مشہور نعتیہ قصیدہ پڑھا جس کا مطلع ہے ؎

بانت سعاد فقلبی الیوم متبول

ھتیم اثرھا لم یجز مکبول

’’سعاد چلی گئی اور آج میرا دل بیمار ہے۔ اس کی محبت میں میرا دل اس قیدی کی طرح ہے جس کا فدیہ نہیں دیا گیا اور وہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔‘‘

جب اس شعر پر پہنچے ؎

ان الرسول لسیف یستضاء بہ

مھند من سیوف الھند مسلول

تو اس جان رافت نے اصلاح فرمائی، سیوف الہند کی بجائے سیوف اللہ کروا دیا جس سے شعر معنوی طور پر زمین سے آسمان پر پہنچ گیا۔ ساتھ ہی پاس بیٹھے ہوئے صحابہؓ کو کعب کے شعر سننے کی تاکید فرمائی۔ جب وہ نعت پڑھ چکے تو آپؐ نے فرطِ مسرت سے اپنی چادر مبارک کعب پر ڈال دی، اس لیے اس کو قصیدہ بردہ بھی کہتے ہیں۔

کعب بن مالکؓ

کعب بن مالک (م ۵۳ھ) خزرجی تھے۔ بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔ سرورِ عالمؐ نے حسانؓ و عبد اللہ بن رواحہؓ کے ساتھ انہیں بھی قریش کی ہجو کا جواب دینے پر مامور فرمایا تھا۔ غزوۂ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ ۵۰ دن بائیکاٹ رہا پھر معافی مل گئی۔ آخری عمر میں بصارت کھو دی۔ کلام میں جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ساتھ اسلام کے لیے حقیقی جوش پایا جاتا ہے۔ 

خیر القرون میں نعت کی شعری روایت

سرورِ دو جہاں کے حین حیات جو نعتیہ شعر لکھے گئے ان کی کڑیاں فنی طور پر ماضی کے مدیحی ادب سے جا ملتی ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ’’بانت سعاد‘‘ میں آغاز ذکرِ رسولؐ سے نہیں بلکہ شاعر کی محبوبہ کے ذکر سے ہوتا ہے، پھر اونٹنی کی تعریف ہے، اور پھر آخر میں مدحِ رسولؐ پر تان ٹوٹتی ہے۔ تاہم جاہلی ادب کی شعری روایت سے ہٹ کر بھی بہت سا نعتیہ کلام موجود ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں عام امراء سے سابقہ تھا، یہاں خیر البشر سے تعلق خاطر ہے۔ وہاں کسی کے بارے میں دروغ بانی کا امکان تھا مگر یہاں ہر بات ہوش و خرد کی ترازو میں تول کر عقیدت و محبت کی چاشنی کے ساتھ کہنا پڑتی تھی۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا تھا۔ ایک شائبہ شرک کا خدشہ، دوسرے اہانت و گستاخی رسول کا ڈر۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ شاگردانِ رسولؐ نے توحید و رسالت کی الٰہی تعلیم کے پیش نظر شعری روایت کو برقرار رکھا، یہاں اہم شعری خصائص کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

(۱) محبوب کے حسن و جمال کے چشم دید مرقعے

سرورِ عالمؐ مشتاقانِ دید کے اکثر سامنے رہتے، سرتابقدم کرشمہ دامنِ دل کھینچ کھینچ لیتا۔ ماہِ عرب جب ماہِ فلک کو شرماتا تو موازنہ  کرنے والے بے اختیار ہو کر پکار اٹھتے ؎

فلک یہ تو ہی بتا دے حسن و خوبی میں

زیادہ تر ہے تیرا چاند یا ہمارا چاند

ایک چاند رات جابر بن سمرہؓ کو موازنہ کرتے دیکھا تو فرمایا جابر کیا دیکھتے ہو؟ عرض کیا اے صاحبِ لولاکؐ! آپؐ کے سامنے آسمانی چاند گہنایا ہوا لگتا ہے۔ ختم المرسلینؐ اس دنیا میں تشریف کیا لائے اہلِ نظر کی نظر نوازی کا سامان پیدا ہو گیا۔ سچ فرمایا آپ کے جاں نثار چچا حضرت عباسؓ نے ؎

نحن فی ذالک الضیاء و فی النور

دو سبل الرشاد نخترق

’’ہم لوگ اس (ہدایتِ رسولؐ) کی روشنی میں ہیں، ہدایت و استقامت کی راہیں نکال رہے ہیں۔‘‘

(۲) ایثار کے بے مثال نمونے

تربیت یافتگانِ تربیت گہِ رسولؐ میں اس قدر ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ ان کی عملی زندگیاں اسوۂ رسولؐ کا بہترین نمونہ پیش کرتی تھیں۔ جب عضل و قارہ کے قبیلوں نے دس حفاظ کو شہید کر دیا تو حضرت خبیبؓ نے، جو کشتگانِ خنجر تسلیم میں سے ایک تھے، تختۂ دار پر چڑھ کر بے مثال عملِ ایثار کا مظاہرہ کر دکھایا۔ دوسرے ان کی زبان سے جو اشعار ادا ہوئے وہ ایثار للرسولؐ کا نہایت عمدہ اظہار ہے۔ آخری دعا تھی ؎

اللھم بلغنا رسالۃ رسولک 

فبلغہ ما یصنع بنا

’’اے اللہ! ہم نے تیرے رسولؐ کا پیغام پہنچا دیا، اب تو ہمارے حال کی خبر اپنے رسولؐ کو کر دے۔‘‘

حضرت ابو طالب اگرچہ بروایت امام بخاریؒ دولتِ ایمان سے محروم رہے مگر جاں نثاری میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔ رسول اللہ کی نعت میں ان کے اشعار آبدار ایثار کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ کیا خوب کہا عمِ رسولؐ نے ؎

واللہ لن یصلوا الیک بجمعھم
حتٰی او سد فی التراب دفینًا
فاصدع بامرک ما الیک غضاضۃً
وابشر وقر بذاک منک عیونًا

’’خدا کی قسم وہ آپ تک اپنی جمعیت کے ساتھ نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ مجھے دفن کر کے مٹی میں ٹیک لگا کر لٹا نہ دیا جائے۔ تو اپنا کام کیے جا تجھ پر کسی قسم کی تنگی نہیں اور خوش رہ اس کام سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیے جا۔‘‘

(۳) حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت کا اظہار

صدرِ اسلام کے مشتاقانِ جمال، اجمل ترین جمیلانِ کائنات کے دیدار سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے تھے اور ساتھ ہی اسوۂ رسولؐ کے ایک ایک جزئیے کو اپنانے کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ یہی بے تابی جب زبان پر آتی تو لغت کے قالب میں ڈھل جاتی۔ چنانچہ اس زمانے کی نعت حسنِ ظاہری کے ساتھ شمائل و فضائل کا نہایت حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ سچ کہا ثنا خوانِ رسولؐ عبد اللہ بن رواحہؓ نے ؎

روحی فدا لمن اخلاقہ شھدت

بانہ خیر مولود من البشر

’’جس کے اخلاق شاہد ہیں وہ نوعِ بشر میں سب سے بہتر پیدا کیا گیا، اس پر میری جان قربان ہو۔‘‘

عمت فضائلہ کل العبد کما

عم البریۃ ضوء الشمس القمر

’’آپؐ کی فضیلتیں سب بندوں پر اس طرح ہیں جس طرح خلقت پر سورج اور چاند کی روشنی عام ہے۔‘‘

(۴) شیفتگی و وارفتگی کے اعلٰی نمونے

نعت چونکہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ہی تبیدہ دلوں کی راحتِ جان کا سامان اور مظہر وارفتگی ہے لہٰذا اصولاً ان دلدارگانِ ختم الرسلؐ کے کلام میں شیفتگی اور والہانہ پن کے اعلٰی نمونے ملنے چاہئیں جو فیضانِ رسالت سے براہِ راست بہرہ مند ہوئے۔ اس ضمن میں ام المومنین حضرت عائشہؓ وارفتۂ جانِ مصطفٰیؐ ہو کر یوں لب کشا ہوتی ہیں ؎

متی یبد فی الدجٰی الیھم جبینہ

یلح مثل مصباح الدجٰی المتوقد

’’اندھیری شب میں ان کی پیشانی نظر آتی ہے تو اس طرح چمکتی ہے جیسے روشن چراغ۔‘‘

نیز فرماتی ہیں ؎

لنا شمس وللافاق شمس

وشمسی خیر من شمس السماء

’’ایک آفتاب تو دنیا کا ہے اور ایک آفتاب ہمارا بھی ہے، مگر میرا آفتاب آفتابِ آسمان سے کہیں بڑھ کر روشن ہے۔‘‘

(۵) پیامِ رسولؐ کا تذکرہ

اس دور سعادت آثار میں ہر فرزندِ اسلام دل و دماغ کے ایک نہایت خوش آئند اور کیف پرور انقلاب سے روشناس ہوا۔ اس لیے تحدیثِ نعمت کے طور پر بھی پیامِ رسولؐ کا تذکرہ زبانوں پر اکثر آتا۔ تعلیماتِ رسولؐ نعتِ رسولؐ کا جزولاینفک بن گئیں۔ حضرت حمزہؓ کے یہ اشعار کس قدر تحدیثِ نعمت کا اظہار ہیں ؎

رسائل جاء احمد من ھدٰھا

بایات مبینۃ الحروف

’’وہ پیغامات جن کی ہدایات احمدؐ واضح حروف والی آیات میں لے کر آئے۔‘‘

و احمد مصطفٰی فینا مطاعًا

فلا تفشوہ بالقول الحنیف

’’اور احمدؐ برگزیدہ ہم میں مطاع ہیں اور آپؐ کے ساتھ ناملائم لفظ بھی زبان سے نہ نکالنا۔‘‘

حضرت حسانؓ یوں نغمہ پیرا ہوتے ہیں ؎

نبی اتانا بعد یاس وفترۃ
من الرسل والاوثان فی الارض تعبد
وانذرنا نارًا وبشّــر جنۃ
وعلمنا الاسلام فاللہ نحمد

(۶) قرار خاطر آشفتہ حالاں

سرورکائناتؐ کا وجود مسعود صحابہ کرامؑ کے لیے مینارۂ نور تھا۔ وہ اس سے اکتسابِ ضیاء کرتے تو ان کے دل کو تسلی اور روح کو قرار ملتا۔ وہ اس کا تذکرہ کرتے تو ان کا وجدان جھوم اٹھتا۔ آپؐ کی موجودگی میں وہ اپنے آپ کو ہر طرح کی گمراہی سے محفوظ و مامون پاتے۔ آپؐ کے عم زاد ابو سفیان بن الحارث کہتے ہیں ؎

ویھدینا فلا نخشی ضلالا

علینا والرسول لنا دلیل

یختبرنا بظھر الغیب عما

یکون فلا یخون ولا یحول

’’آپؐ کے ہدایت دینے سے ہمیں کسی گمراہی کا خوف نہیں، خود رسولؐ ہمارے رہنما ہیں۔ آپؐ جو کچھ ہوتا ہے اس کے بارے میں غیب کی خبریں دیتے ہیں، نہ ان کی خبر میں خامی ہوتی ہے نہ ہیرپھیر۔‘‘

(۷) میلاد النبیؐ

اس زمانے کی نعت کا ایک موضوع میلادِ رسولؐ بھی ہے۔ یہ تذکرہ عشق و محبت کی اس بلندی سے کیا گیا ہے کہ مابعد کے ادوار میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت عباسؓ کا یہ شعر ملاحظہ ہو ؎

وانت لما ولدت اشرقت الارض

وضاءت بنورک الافق

’’جب آپؐ کی ولادت ہوئی تو زمین چمک اٹھی، اور آپؐ کے نور سے آفاق روشن ہو گئے۔‘‘

(۸) نعت نگار کا احساس کمتری اور عفو رسولؐ

ایسے موقعے بھی آئے کہ دشمنانِ اسلام نے بزبانِ شعر حضورؐ کی ہجو کی مگر اس رحمۃ عالم نے عفو و کرم سے کام لے کر ان کو موہ لیا۔ کعبؓ بن زہیر کا یہی معاملہ تھا۔ ۔لیکن جب ضلالتِ کفر سے نکل آئے تو نعت نگاری میں بہت سے لوگوں سے گوئے سبقت لے گئے مگر اس کا آغاز صرف اعتذار ہی سے کیا۔ اگرچہ فنی طور پر جاہلی شاعری کے قصائد کا انداز قائم رکھا تاہم رحمۃ عالمؐ نے اس انداز کو بھی پسند فرمایا اور پچھلی تمام خطاؤں پر خطِ عفو کھینچ دیا۔ حضورؐ کی اس پسندیدگی سے رنگِ تغزل کے قلم کاروں کے لیے بھی جواز نکل آیا۔ کعب یوں نغمہ طراز ہوتے ہیں ؎

فقد اتیت رسول اللہؐ معتذرًا

والعفو عند رسول اللہ مقبول

’’میں رسولؐ اللہ کی خدمت میں عذر خواہ ہو کر آیا ہوں اور حضورؐ کے نزدیک معافی دے دینا پسندیدہ ہے۔‘‘

(۹) رثائی انداز

شمعِ رسالت جب اپنی پوری جلوہ سامانیوں کے ساتھ ضیاء بار تھی تو جاں نثار پروانے اس پر نچھاور ہونے کے لیے بے تابانہ لپکتے، مگر جب ان کی آنکھوں کے سامنے سے یہ تجلیاں اوجھل ہو گئیں تو ان کی جان پر بن گئی۔ ادھر نامِ محمدؐ زبان پر آیا ادھر آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی ؎

جب نام تیرا لیجئے تب چشم بھر آوے

اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے

چونکہ نبوت کے ماہ شبِ چہار دہم کے اوٹ میں چلے جانے کا قیامت خیز منظر ان فداکاروں میں سے اکثر کے پیشِ نظر تھا اس لیے ان کے تاثرات میں کرب ناکی بھی تھی اور احساسِ محرومی بھی۔ دردِ دل کھٹک بھی تھی اور خلش ذہن کی کسک بھی۔ اس کا اظہار بھرپور طریقے سے ان کے کلام میں بھی موجود ہے۔ محبوب سے بچھڑ جانے کے بعد عشاق دلزدہ کی زندگی بے لطف ہو گئی ؏

مرا اے کاش کہ مادر نہ زادے

سرکارِ دو جہاںؐ کے یارِ غارؓ کا دل غم و اندوہ سے کس قدر بوجھل تھا، اس کا اندازہ ذیل کے شعروں سے لگائیے ؎

فکیف الحیاۃ لفقد الحبیب 

و زین المعاشر فی المشھد

فلیت الممات لنا کلنا 

و کنا جمیعاً مع المھتدٰی

’’محبوب کے بچھڑ جانے سے زندگی بے کیف ہو گئی ہے۔ زینتِ دو عالم قبر میں جا سویا۔ کاش ہم سب کو بھی موت آجاتی ،اور ہم بھی اس سراپا ہدایت سے جا ملتے۔‘‘

آنکھیں تارِ اشک پرونے لگیں، شدتِ غم سے چہرے اتر گئے، بدن نڈھال ہو گئے، فضا اپنی وسعتوں کے باوصف تنگ ہو گئی، روز روشن شبِ یلدا سے تاریک تر ہو گیا۔ سورج نے روشنی کھو دی، کائنات کی نبضیں رک گئیں، پہنائی عالم غبار آلود ہو گئی، زمین و آسمان حزن و اندوہ میں ڈوب گئے۔ ایسے میں نعت میں رثائی مضامین دفعتاً در آتے تو بے جا نہ تھا۔ وہ لوگ جو رسماً شاعر نہ تھے ان کے امڈے ہوئے جذبات بھی شعر میں ڈھل کر سامنے آ گئے۔ چند الم انگیز اور کربناک نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں۔ عثمان غنیؓ روتے نہیں تھکتے ؎

فیا عینی ابکی ولا تسامی

وحق ابکاء علٰی السیدی

’’اے میری آنکھ بے تکان روتی جا، سردار پر رونا تیرا حق ہے۔‘‘

علی المرتضٰیؓ یوں نڈھال نظر آتے ہیں ؎

امن بعد تکفین نبی و دفنہ

یاتو بہ اسی علی ھالک لوٰی

’’نبیؐ کو کپڑوں میں  کفن دینے کے بعد میں اس مرنے والے کے غم میں غمگین ہوں جو خاک میں جا بسا۔‘‘

آپؐ کے عم زاد ابو سفیان بن الحارث کی اس سانحہ سے یوں نیند اڑی ؎

ارقت وبات لیلی لا یزول

ولیل فی مصیبۃ فیہ طول

’’میری نیند اڑ گئی ہے اور رات یوں ہو گئی ہے جیسے اب ختم نہ ہو گی۔ مصیبت کی رات دراز ہی ہوا کرتی ہے۔‘‘

جگر گوشۂ رسولؐ فاطمۃ الزہراءؓ اپنے دل کے ٹکڑوں کو یوں شعری جامہ پہناتی ہیں ؎

صبت علی مصائب لوانھا

صبت علی الایام صرن لیالیا

’’(حضورؐ کی جدائی میں) وہ مصیبتیں مجھ پر ٹوٹ پڑی ہیں کہ اگر یہ مصیبتیں دنوں پر ٹوٹتیں تو دن راتوں میں تبدیل ہو جاتے۔‘‘

اغبر آفاق السماء و کورت

شمس النھار و اظلم الازمان

’’آسمان کی پہنائیاں غبار آلود ہو گئیں اور لپیٹ دیا گیا دن کا سورج اور تاریک ہو گیا سارا زمانہ۔‘‘

فلیبکہ شرق البلاد وغربھا

یا فخر من طلعت لہ النیران

’’اب چاہے مشرق و مغرب آنسو بہائے ان کی جدائی پر۔ فخر تو ان کے لیے ہے جن پر روشنیاں چمکیں۔‘‘

غرض یہ وہ چند مضامینِ نعت ہیں جو خیر القرون میں چودہ صدیوں کی دوری پر بھی ہمیں نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان چودہ صدیوں کے عرصے میں اسلام مشرق و مغرب کے اکناف تک جا پہنچا۔ جہاں جہاں یہ نور پہنچا وہاں نعتِ رسولؐ بحیثیت صنفِ سخن ابھری۔ فرزندانِ توحید نے نعت نگاری، نعت خوانی اور سماعِ نعت سے قلب و نظر کو روشن کیا۔ چنانچہ موید بہ روح القدس شاعرِ اسلام حسان بن ثابتؓ سے لے کر بوصیری جیسے عشاقِ رسولؐ اور امیر الشعراء احمد شوقی جیسے ہزاروں لاکھوں جادہ پیمایان راہِ محبت نے اس ذاتِ اقدس پر عقیدت کے پھول برسائے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا مگر ؏

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

کے مصداق غالب کی زبان میں یہ کہہ کر چپ ہونا پڑے گا کہ ؎

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم

کاں ذاتِ پاک مرتبہ دان محمدؐ است

ان گنت مدحت طرازانِ دربارِ نبوتؐ اس بارگاہ کی قدر افزائی تو کیا کریں گے، ہاں اپنی نجات اور سرفرازی کا سامان ضرور بہم پہنچائیں گے۔ کتنے ہی حرف ناشناس سخن دان بن کر ابھریں گے۔ سچ کہا شاعرِ رسالتؐ نے ؎

ما ان مدحت محمدًا بمقالتی

لٰکن مدحت مقالتی بمحمد

’’میں نے اگر اپنے شعر سے سرورِ عالمؐ کی تعریف کی ہے تو اس سے ان کی قدر افزائی نہیں ہوئی، ہاں میرا شعر ان کی وجہ سے ضرور بلند ہو گیا ہے۔‘‘

آج مضامینِ نعت اس قدر متنوع ہیں جیسے ایک صد پہلو ہیرا جس کا ہر پہلو ایک نیا رنگ منعکس کرتا ہے۔ ہجر و فراقِ دیارِ رسولؐ، سیرتِ اطہر کے مختلف گوشے، معراجِ رسولؐ، ہجرت، مغازی، بزم آرائی، شمائل و فضائل، غمِ دل، غمِ روزگار، پیغامِ رسولؐ کی اشد ضرورت کا احساس، اپنی بے سروسامانی، سراپائے اقدس، اعترافِ گناہ، زندگی کی بے لطفی، اجتماعی طور پر امت مرحوم کی فریادیں، شفاعتِ رسولؐ کا دل خوش کن تصور، تپشِ حشر میں حضورؐ کی سایہ گستری اور رحمۃ للعالمینی ایسے مضامین نے آج اس صنف کو گلہائے رنگارنگ کا نہایت دل آویز گلدستہ بنا دیا ہے۔ اس پر اسلوبِ بیان کی جدت فرازیاں مستزاد کر لیجئے تو فنِ نعت بطور صنفِ شعر کے جان تغزل بھی ہے، ادبِ عالیہ کا معیار بھی اور معارف و حقائق کا بہتا ہوا دریا بھی۔ مختصرًا یوں کہہ لیجئے کہ شاعری (خصوصاً عربی، اردو، فارسی) سمٹ سمٹا کر ایک قدسی بانکپن کے ساتھ آج نعت کی صورت میں جلوہ گر ہو رہی ہے۔ کیوں نہ ہو جس کا تذکرہ ہے وہ بھی تو روحِ کائنات ہے۔

وصلی اللہ علٰی حبیبہ سیدنا محمدًا واٰلہ وصحبہ و بارک وسلم۔


ادبیات

(اگست ۱۹۹۰ء)

اگست ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۸

ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جمہوریت، قرآن کریم کی روشنی میں
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

احادیث کی تعداد پر ایک اعتراض
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

ایک مسلم حکمران کیلئے جناب رسالتمآب ﷺ کی ہدایات
مولانا سید وصی مظہر ندوی

توریت و انجیل وغیرہ کو کیوں پڑھنا چاہیئے؟
سید ناصر الدین محمد ابو المنصورؒ

علامہ عبد اللہ یوسف علی کی تفسیرِ قرآن کا ایک مطالعہ
محمد اسلم رانا

قرآنی آیات کو مسخ کرنے کی گھناؤنی حرکت
ادارہ

شعرِ جاہلی اور خیر القرون میں ارتقائے نعت
پروفیسر غلام رسول عدیم

اختِ ہارون و بنتِ عمران حضرت مریم علیہا السلام
محمد یاسین عابد

آپ نے پوچھا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

امراضِ گردہ و مثانہ
حکیم محمد عمران مغل

معاشرتی زندگی کے آداب
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

حکمران جماعت اور قرآنی پروگرام
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

تلاش

Flag Counter