جمہوریت، قرآن کریم کی روشنی میں

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

قلت و کثرت کا مسئلہ اکثر انسانی اذہان میں کھٹکتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ارشاد ہے ’’قُلْ‘‘ اے پیغمبرؐ! آپ کہہ دیجئے ’’لَا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّب‘‘ خبیث اور طیب چیز برابر نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ پاک اور ناپاک چیز یکساں نہیں۔ ’’وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْث‘‘ اگرچہ خبیث کی کثرت تمہیں تعجب میں کیوں نہ ڈالے۔ اگر دنیا  میں کفر، شرک، معاصی اور گندے نظام کا غلبہ ہو، دنیا میں ملوکیت اور ڈکٹیٹرشپ کا دور دورہ ہو، تو یہ نہ سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ اچھی اور خدا کی پسندیدہ چیزیں ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کلمۂ حق ہی اچھا ہے اگرچہ دنیا میں اس کی تعداد کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو۔ 

مثال کے طور پر اگر دنیا کا بیشتر حصہ حرام سے بھرا ہوا ہے اور حلال کا حصہ بالکل کم ہے تو حرام کی کثرت اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے نزدیک حلال ہی پسندیدہ ہے خواہ وہ کتنی قلت میں ہو۔ اگر ایک مومن آدمی اپنی محنت کے ذریعے پانچ روپے رزق حلال کماتا ہے تو وہ اس سو روپے سے زیادہ بہتر ہیں جو رشوت کے ذریعے حاصل کیے گئے ہوں۔ اسی طرح جائز کمائی کے سو روپے سود کے ایک لاکھ روپے سے اچھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ سو روپے ہی محبوب ہیں۔ اسی طرح اگر دنیا میں اچھے اخلاق والے قلیل تعداد میں ہیں تو اکثریت کے مقابلے میں وہی کامیاب ہیں۔ عقل مندوں کی قلیل تعداد بیوقوفوں کے جم غفیر سے بدرجہا بہتر ہے۔

یورپ کی جمہوریت کا بھی یہی حال ہے۔ اس میں انسانوں کی قابلیت کی بجائے ان کی تعداد کو معیار بنایا گیا ہے، جو زیادہ ووٹ حاصل کرے وہی کامیاب ہے اگرچہ خود ووٹر معیار سے گرے ہوئے لوگ کیوں نہ ہوں۔ علامہ اقبال مرحوم نے یہی تو کہا تھا ؎

از مغز دو صد خر فکرِ انسانے نمی آید

یعنی دو سو گدھے ایک انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگرچہ وہ غالب اکثریت میں ہیں۔ ہاں اگر طیب اور پاک چیز ہے تو وہ نورٌ علیٰ نور ہے۔ اور اگر گندی چیز یا گندہ نظام اکثریت میں ہے تو اس سے گبھرانا نہیں چاہیئے۔ بری چیز بہرحال بری ہے محض اکثریت کی بنا پر اسے اچھائی کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جا سکتا۔ اس وقت پوری نیا کی پانچ ارب آبادی میں سے سوا چار ارب کفر، شرک اور معاصی میں مبتلا ہے۔ ہر طرف امپریلزم، ملوکیت اور ڈکٹیٹرشپ کا دور دورہ ہے مگر کلمہ جامع نہیں ہے۔ ترکوں میں خلافت کے زمانے تک مسلمانوں میں کسی قدر اجتماعیت موجود تھی مگر انگریز نے بالآخر اسے ختم کر کے چھوڑا۔ اب مسلمانوں کا اجتماعی نظام بالکل ناپید ہے، حق مغلوب ہو چکا ہے اور باطل غالب ہے۔ مگر یہ اس کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کے ہاں کلمہ حق، ایمان، اسلام اور پاکیزہ اخلاق ہی صداقت کا معیار ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ناپاک چیز بہرحال ناپسندیدہ ہے اگرچہ وہ تمہیں کتنا بھی تعجب میں ڈال دے۔ انجام انہی لوگوں کا اچھا ہو گا جو حق پر ہیں خواہ وہ کس قدر قلیل تعداد میں ہوں۔

صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ قریب سے ایک اعلیٰ حیثیت کا آدمی گزرا۔ آپؐ نے صحابہؓ سے دریافت کیا، یہ کیسا آدمی ہے؟ آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ اشراف میں سے ہے، جہاں جائے گا ہر شخص اس کے لیے گھر کا دروازہ کھولے گا، اگر کہیں نکاح کا پیغام دے گا تو فورًا قبول کیا جائے گا، لوگ اس کے رشتہ پر فخر کریں گے، اگر یہ شخص کسی کی سفارش کرے گا تو قبول کی جائے گی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے شخص کا گزر ہوا۔ حضور علیہ السلام نے اس کے متعلق بھی دریافت فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فقراء میں سے ہے، اس کو کوئی پوچھتا نہیں اور نہ کوئی اس کا احترام کرتا ہے، اگر کہیں جاتا ہے تو لوگ گھر کا دروازہ نہیں کھولتے، اگر یہ کسی کو نکاح کا پیغام دے تو کوئی قبول نہیں کرے گا، کسی کی سفارش کرے تو کوئی پروا نہیں کرتا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! پہلے آدمی جیسے لوگوں سے اگر پوری زمین بھری ہوئی ہو تو اللہ کے نزدیک یہ دوسرا آدمی ان سب سے بہتر ہے کیونکہ اس کے ہاں عزت و شرف کا معیار دنیاوی جاہ و جلال اور کثرت نہیں بلکہ ایمان اور تقوٰی ہے۔

بہرحال (قُل) فرما دیجیئے کہ خبیث اور طیب برابر نہیں اگرچہ کثرت کتنی ہی خوش کون کیوں نہ ہو۔۔۔حلال اور طیب کی قلیل مقدار حرام کی کثیر  مقدار سے بہرصورت بہتر ہے۔ اللہ کے ہاں پسندیدگی کا معیار حق و صداقت ہے نہ کہ کثرتِ تعداد یا کثرتِ مقدار۔ فرمایا ’’وَاتَّقُوا اللہَ یَا اُولِی الْاَلْبَاب‘‘ اے صاحبِ عقل و خرد لوگو! اللہ سے ڈر جاؤ۔ اس کی وحدانیت کے خلاف کوئی بات نہ کرو، اس کے بتلائے ہوئے پاکیزہ اصولوں پر عمل کرو۔ ’’لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن‘‘ تاکہ تمہیں فلاح و کامیابی نصیب ہو جائے۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہو گی اور آخرت میں بھی نجات کا دارومدار اسی پر ہے۔

قرآن / علوم قرآن

(اگست ۱۹۹۰ء)

اگست ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۸

ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جمہوریت، قرآن کریم کی روشنی میں
شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

احادیث کی تعداد پر ایک اعتراض
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

ایک مسلم حکمران کیلئے جناب رسالتمآب ﷺ کی ہدایات
مولانا سید وصی مظہر ندوی

توریت و انجیل وغیرہ کو کیوں پڑھنا چاہیئے؟
سید ناصر الدین محمد ابو المنصورؒ

علامہ عبد اللہ یوسف علی کی تفسیرِ قرآن کا ایک مطالعہ
محمد اسلم رانا

قرآنی آیات کو مسخ کرنے کی گھناؤنی حرکت
ادارہ

شعرِ جاہلی اور خیر القرون میں ارتقائے نعت
پروفیسر غلام رسول عدیم

اختِ ہارون و بنتِ عمران حضرت مریم علیہا السلام
محمد یاسین عابد

آپ نے پوچھا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

امراضِ گردہ و مثانہ
حکیم محمد عمران مغل

معاشرتی زندگی کے آداب
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ

حکمران جماعت اور قرآنی پروگرام
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ

تلاش کریں

Flag Counter