ان کی پرکاری اور ہماری سادگی!

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاس دنیا میں آ کر آنکھ کھو لی تو اسلامی دنیا مغرب کی چیرہ دستیو ں سے لہو لہان تھی ۔یعنی خلافت اسلامیہ (عثمانی) کا تیا پانچہ مغربی قزاقوں کے ہاتھو ں ہوئے کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔ نو عمری شروع ہوئی تو مغرب کے آپس میں ٹکرانے اور ب ہونے (جنگ عظیم دوم )کا منظر سامنے آیا ۔پھر اس کے نتیجے میں مغربی طاقتوں کی گرفت اپنے مقبوضات پر ڈھیلی پڑی تو تاریخ کا ایک نیا باب کھلنا شروع ہوا۔ مغرب کے مقبوضات چاہے اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، ایک ایک کرکے اس کی گرفت سے آزاد ہوئے۔ اسلامی دنیا کا ایک حصہ جوکیمونسٹ روس کے پنجہء استبداد میں رہ گیا تھا، اللہ نے اس کے لیے آزادی کے اسباب غیب ہی سے پیدا کر دیے اور بیسویں صدی ختم ہونے سے پہلے ہی یہ حصہ بھی آزاد اسلامی دنیا میں شامل ہوگیا۔مگر پتہ چلا کہ آ زادی اصل میں وہ ہے جو زور بازو سے حاصل کی جائے ،نہ وہ کہ جو کسی کے دیے سے یا غیبی اسباب سے مفت مل جائے۔ ہماری اس نو آزاد دنیا کی آزادی وخود مختاری کی کیا اوقات ہے ؟ یہ ان دنوں امریکی خرمستیوں سے ایسی روشن ہوئی ہے کہ کسی مزید بیان کی حاجت نہیں۔ عالم اسلام کو پھر سے ایک نئی جدوجہد آزادی کاچیلنج درپیش ہے۔ اور جتنا بڑا ابتلا عالم اسلام کے لیے ہے اس کا ہم میں کے ہر فرد سے تقاضا ہے کہ اپنی اپنی حیثیت و بساط کے مطابق پوری سنجیدگی سے اس میں حصہ لے۔

امریکی خرمستیو ں کے پیچھے صیہونیت کا ہاتھ ہونا بھی کوئی ڈھکی چھپی چیز اب نہیں ۔ہم عام لوگ تو اس کو کہتے ہی رہتے تھے، ہمارے ارباب حکومت البتہ تکلف برتتے تھے، سو اس طبقہ پر بھی یہ تکلف بالآخر اتنا بھاری ہو ہی گیا کہ امسال او آئی سی کی دسویں سربر اہی کانفرنس (اکتوبر ۲۰۰۳ء) میں جب کہ ساری دنیا (اور خاص کر امریکی اور صیہونی) اسی طرف کو نظریں جمائے اور کان لگائے ہوئے تھی، صدر کانفرنس وزیر اعظم ملائیشیا مہاتیر محمد نے اپنی صدارتی تقریر میں اسے برطرف ہی کر دیا۔ مہاتیر نے صرف امریکہ ہی کے بارے میں نہ کہا کہ (صیہونی )یہودیوں نے اسے اپنے حق میں یرغمال بنارکھا ہے ،بلکہ دنیا (world)کالفظ اس کی جگہ بولا ۔

(Today the jews rule the world by proxy. They get others to fight and die for them.)

اور اس بیان کی سولہ آ نے سچائی سامنے آتے ذرا بھی جو دیر لگی ہو،یہودیوں کو کچھ زیادہ کرنا نہیں پڑا ۔بلکہ مہاتیر نے جس دنیا کی طرف اشارہ کیا تھا یعنی مغربی دنیا(امریکہ بشمول یورپ ) یہ پوری دنیا اسی لمحہ چیخ اٹھی کہ یہ کیسی بات کہہ دی گئی! یہ قطعاً ناقابل قبول (Totally unacceptable)ہے اور ان میں سے برطانیہ نے سب سے آ گے جاکر ملیشیائی سفیر کو باقاعدہ وزارت خارجہ میں طلب کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار اس پر کیا ۔

الغرض عالم اسلام کی موجودہ آزمائشی اور ابتلائی صورت حال کا یہ وہ خاص پہلو ہے جسے کسی وقت بھی نظر انداز کرنے کی گنجائش نظرنہیں آتی۔جو طاقت دوسروں کو اپنے مقاصد وعزائم کے لیے اس انداز میں استعمال کرسکتی ہے کہ یہ اس کا آلہ کار بن کر لڑائیاں مول لیں اور جانیں دیں، اس کے لیے دنیا میں پھر اور کون سی تدبیر ی بات ہے جو مشکل یا اس سے بعید رہ جاتی ہو؟صاف الفاظ میں آپ کو یہ بھی بعید یا مشکل نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ خود آپ کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔نہیں، بلکہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ء کے بارے میں ہم تقریباً یک زبان ہیں کہ یہ واقعہ اصل میں صیہونیوں کی کارروائی تھی جسے مسلمانوں کے سر تھوپ دیا گیا۔ مگر یہ کیونکر ہوا کہ ان کا کیا ہمارے سرلگ گیا ؟یہ ایسے کہ جیسے وہ دنیا پر by proxy حکومت کر رہے ہیں، ویسے ہی ۱۱ستمبر والے جہاز بھی انھوں نے ’’بائی پراکسی‘‘ اڑائے تھے اور ان کے یہ ’’پراکسی‘‘ ہمارے نوجوان تھے۔ خود سعودی عرب کو ،جہاں کے شہری یہ نوجوان بتائے گئے تھے، بالآخر ۱۵کے بارے میں تسلیم کر لینا پڑا ہے کہ اسی کے تھے اور اس کے جو نتا ئج سعودی عرب کو بھگتنا پڑرہے ہیں، وہ تھوڑے بہت ہمارے سامنے بھی اخبارات کے ذریعہ آرہے ہیں۔ اور یہ خود سعودی عرب میں خود کش دھماکو ں کا غارت گرانہ سلسلہ ادھر چلا ہے ،یقین کرنا چاہیے کہ یہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ نتائج کے سلسلہ کو مطلوبہ انجام تک پہنچایا جاسکے۔ امریکہ کے خلاف بجاطور پر کھولتے ہوئے جذبات نے جس طرح عر ب نوجوانوں کو دشمن سازش کے جال میں پہنچایا ، ان جذبات کو عراق کے المیہ نے اور بھی جس عالم میں پہنچادیا ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے ۔خودسعودی حکومت کی طرف ان برہم جذبات کا رخ بھی کوئی راز نہیں ہے۔پس سازشوں کی ماہر قوم کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں رہ جاتا کہ ’دہشت گرد ی‘کی کارروائیاں وہ سعودی عرب کی سرزمین پر بھی خود سعودیوں ہی کے ہاتھوں کرائے ۔ 

پر افسوس کہ ہم، خاص کر ہمارے نوجوان، اپنے غم وغصہ میں اب تک بھی نہیں سمجھ پارہے کہ اس وقت غصہ کے حکم پر عمل کرنا دشمن کے ہاتھو ں میں کھیلنا ہے،بلکہ ہماراغصہ اور اضطراب اس وقت دشمن کاہتھیار بن گیا ہے۔ ہماراغصہ اور ہمارابے حد قیمتی جذبۂ جان سپاری دشمن کے کام آرہا ہے۔ وہ اس بہانہ سے ہمارے ہر ملک میں من مانی مداخلت کا حق حاصل کرکے اسے کھلی غلامی کا شکار ،اپنی طاقت کے بل پر ،بناڈالتا ہے ۔اپنی حکومتوں سے شکایت کتنی ہی بجا اور درست ہو (اور عراق کے خلاف ۱۹۹۱ء والی وہ امریکی کارروائی جس میں سعودی حکومت کی ہر حد سے گزری معاونت اور اس کے باقیات سے وہاں کے اہل دین کی شکایت اور اشتعال کاسلسلہ شروع ہوا ہے ،یہ راقم السطور اس معاونت کے ان اولین لمحات سے ناقد ہواتھا جب شاید ہی کوئی دوسری تنقید ی آواز سعودیہ میں یا اس باہر بلند ہوئی ہو، اور تنقید روز نامہ جنگ لندن کے ریکارڈ پر ان تائیدی بیانوں کے پہلو بہ پہلو موجود ہے جو بڑے بڑے اشتہارات کی شکل میں چھپ رہے تھے) لیکن یہ وقت کہ جب سعودیہ کے وجود کو انھی طاقتوں نے نشانہ پر رکھا ہواہے جن کے خلاف ہمارے سینو ں میں طوفان موجزن ہے، یہ وقت سعودیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کاہے نہ کہ اس کے خلاف کارروائی کے لیے اس کو اچھاموقع سمجھنے کا ۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے خونی ڈرامہ کا نشانہ عام طور پر افغانستان اور عراق کو سمجھا گیا ہے۔ مگر اس ڈرامہ کا خود اپنا کوئی پہلو اگر ایسا ہے جو کسی نشانہ کی نشاندہی کرتا ہو تو صرف ایک پہلو ہے جو بالکل صاف سعودی عرب کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اور یہ ہے اس ڈرامہ کے مبینہ ۱۹ ہواباز وں میں سے کم ازکم پندرہ کاسعودی ہونا، جسے مان لینے پر سعودی حکومت بالآخر مجبور ہوگئی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے ؟ کیا امریکہ میں بسے ہوئے عربوں میں صرف سعودیوں ہی کو ہو ابازی کاشوق لاحق ہواتھا، دوسرے عرب نژاد امریکی باشند وں کو اس شوق کی بالکل ہوا نہیں لگی جو ڈرامہ کے ذمہ دار شاطروں کو سعودیوں ہی پر انحصار کرنا پڑا؟ اس نکتہ پر توجہ دیں تو صاف نظر آجاتا ہے کہ جس منصوبے کے ماتحت ۱۱ستمبر کا ہولناک ڈرامہ کھیلا گیا، اس کے نشانوں میں سعودی عرب سب سے اول طے شدہ نشانہ تھا ۔اور سعودی امریکی تعلقات کی رو سے چونکہ اس کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ، جیسا افغانستان یا عراق کے ساتھ بلا کسی ثبوت کے کر ڈالا گیا، نہیں کیا جاسکتا تھا، بلکہ کوئی معقول جواز پیدا کر نا لازم تھا کہ طوطا چشمی کی جاسکے ۔یہ ضرورت تھی جس کے لیے عربوں میں سے چھانٹ کر سعودی ہواباز ہی آلہ کار بنائے گئے۔اور ادھر واقعہ ہوا اور دوسرے دن سے سعودیہ کے ساتھ امریکہ کا جو رویہ بدلا ہے، وہ ہم دیکھ رہے ہیں اور ساری دنیا دیکھ رہی ہے ۔

کوئی اور سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو، سعودیہ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ شاطرانِ دہر نے اسے نشانے پر لگوادیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ امریکی عفریت کے مقابلہ میں اپنے بچاؤ کی کوئی طاقت اس کے پاس نہیں ہے ۔اس لیے جنرل پرویز مشرف کی طرح سراپا ’’حاضر جناب‘‘ بن کر اگرچہ نہیں ،پھر بھی بڑی حد تک ’’تعمیل ارشاد‘‘ کردینے کا رویہ سعودی حکمرانوں نے اپنایا ہوا ہے تا کہ جان اونے پونے ہی چھوٹ جائے اور بات جہا ں جاسکتی ہے، اس کی نوبت نہ آئے۔ بے شک یہ صورت حال سعودیوں ہی کے لیے نہیں، ہر خود دار مسلمان کی خودی کو چیلنج ہے۔ مگر سوائے اس کے کہ ’’تعمیل ارشاد ‘‘ کے حدود اربعہ اور سائز پر گفتگو کی جاسکے، کیا کوئی دوسرا عملی راستہ بھی ہے جو ہم میں سے کوئی سعودی ذمہ داروں کو بتاسکے؟ کاش کہ ناراض سعودی عناصر اس بات کو سمجھیں کہ وقت حکومت کے رویہ کو چیلنج کرنے کا نہیں بلکہ خارجی دباؤ کے مقابلہ میں معاونت کی پیش کش کا ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے کہ امریکہ کے سامنے حکومت کا جو جھکاؤ ہم گراں ہے وہ کچھ کم کرایا جاسکے ۔دوسری صورت میں بظاہر حالات ہم اس کے سواکچھ نہیں کرسکیں گے کہ امریکہ کو اس انداز سے اندر آجانے کا بہانہ فراہم کردیں جس انداز کی طلب میں نشانہ باندھنے والوں نے سعودیہ کا نشانہ باندھا تھا اور پھر (اللہ نہ کرے) ہم اپنے آپ کو موجودہ سے بھی بدتر صورت حال میں پائیں ۔ا م المؤ منین عائشہ صدیقہؓ ؓکا ایسے ہی آزما ئشی موقع کاارشاد ہے جس پر غو ر کیا جانا چاہیے، جو کہ حضر ت معاویہؓ ؓکے دور میں قتل حجرؓ ؓکے موقع پر آپ سے منقول ہوا ہے۔ فرمایا : لولا انا لم نغیر شیئا الا صارت بنا الامور الی ماھو اشد منہ لغیرنا قتل حجر (اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے جب بھی معاملات کے کسی غلط رخ کو طاقت سے بدلنا چاہا تو نتیجہ اس سے بدتر ہی نکلا تو ہم حجر کے قتل پر ضرور کچھ کرتے !) یہ آپ نے ان لوگوں سے فرمایا تھا جو اس سانحہ پر آپ سے کسی اقدام کے متوقع تھے۔ 

سعودی عرب کے سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رکھنے کی ہے کہ یہ اس عرب خطہ کی واحد مملکت ہے جس کی اور باتوں سے قطع نظر اس کا سیا سی استحکا م خطہ میں ایک مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ مزید برآں ،حرمین شریفین کے حوالہ سے عظمت و تقدس کا ایک یگانہ مقام اسے حاصل ہے۔اس لیے یہ مملکت اگر( خدانخواستہ)اندرونی اور بیرونی دوطرفہ دباؤ کے نتیجہ میں عد م استحکا م کا شکار اور خلفشار کی نذر ہوتی ہے تو اس کے اس سے کہیں گہر ے نفسیاتی اثرات خطہ پر پڑیں گے جواثرات عراق کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجہ میں دیکھ رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اسرائیل جس کی خاطر یہ سارا ہنگامہ بپا ہے، اس کا ایک خواب ’عظیم ترین اسرائیل‘کا ہے جس کے نقشے میں مدینہ منورہ بھی آتا ہے۔ اس خواب کو اس ہنگامہ میں پورا کر لینے کا موقع اسرائیل کو ملے یا نہ ملے، خطہ کے نفسیا تی اثر کی بدولت اپنے موجودہ حدود میں اسے وہ من مانیت آسان تر بہرحال ہوجائے گی جس نے علاقہ کی زندگی پہلے ہی کچھ کم عذاب نہیں بنا رکھی ہے۔

الغرض اسلامی دنیا اور بالخصوص عربی دنیا کو مخالف حالات کے جس چیلنج کا سامنا ہے وہ ’’کھاؤں کہاں کی چوٹ بچاؤں کہاں کی چوٹ‘‘والا ایک پیچید ہ معاملہ ہے۔ اس کا کوئی ایک پہلو رکھ کر رد عمل کو حرکت دینا قرین عقل ومصلحت نہیں ہوسکتا۔مغربی دنیا جس سے ہم ایسے معاملات میں عرصہ سے زک اٹھاتے آرہے ہیں، خیال ہوتاتھا کہ وہاں اب جو لوگ ہم میں سے آبسے ہیں، انھوں نے اس دنیا کے طور طریقوں سے ان معاملات میں ضر ور کچھ سبق سیکھ لیا ہوگا ۔مگر ان آزمائش کے دنوں میں بڑی مایوسی ہورہی ہے۔ سعودی عرب جہاں کے اندرونی ردعمل کا ابھی حوالہ آیا ،وہا ں کے لوگوں کی بھی ایک تعداد دوسرے عرب ملک والوں کی طرح یورپ میں آبسی ہے ۔ان میں ایک گروہ ہے جو سعودیہ میں نظام کی تبدیلی چاہنے والوں سے تعلق رکھتا ہے اور لندن اس کا مرکز ہے ۔سعودیہ میں رہ کر اس مقصد کے لیے آزادانہ جدوجہد نہیں کی جاسکتی ہے ۔یورپ میں کہیں ٹھکانہ بناکر آپ سب کچھ کر سکتے ہیں ۔یہاں ایک جمہوریت کے ناتے اظہار خیال کی ایسی آزادی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔دوسرے بہت دور کی سوچنے والے یہ لوگ ہیں ۔ہرملک کے ایسے گروہوں کو بڑے کام کی چیز سمجھتے اور ’’داشتہ آ ید بکار‘‘ کا معاملہ اس کے ساتھ کر تے ہیں ۔کسی ملک کی حکومت شکایت کرتی ہے کہ آپ کے زیر سایہ بیٹھ کر ہمارے خلاف یہ پروپیگنڈا ہورہا ہے تو چاہے وہ دوست ملک ہی کیوں نہ ہو ،بڑی آسانی سے عذر کردیتے ہیں کہ صاحب، ہم تو اپنے خلاف بولنے پر بھی پابند ی نہیں لگاسکتے ۔بہر حال ،جن دنوں ریا ض میں خود کش حملو ں کی وارداتیں ہوئیں، انھی دنوں میں ایک خبر پڑھی کہ اس گروہ کی کال پر ریا ض میں ایک حکومت مخالف مظاہرہ اتنے سو لوگو ں نے کیا۔ اناللہ واناالیہ راجعون،جن سے توقع کی جانی چاہیے تھی کہ جو پر جوش لوگ اس وقت حکومت کے لیے اندرون ملک مسئلہ بنارہے ہیں، یہ ان کو سمجھانا چاہیں گے کہ یہ وقت اس کا م کا نہیں ہے ،وہ تو خود بے چین ہیں کہ کسی طور پر اس میں خود بھی شرکت کر لیں۔مغر ب جو ہم پر حاوی ہے، اس میں آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جب ملک کسی بیرونی طاقت کی طرف سے دباؤ میں ہو تو حزب مخالف اپنا حساب چکانے نکلے۔

مگر اپنے اس افسوس پر بعد میں خیا ل آیا کہ یہ تو پھر بھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے باہر سے آکر یہا ں ڈیر ہ لگایا ہے۔ اپنا حال تو یہاں رشد ی کی خباثت کے بعد سے یہ ہے کہ وہ جو یہیں کی تعلیم پارہے یاپاچکے ہیں ،ان میں بھی کھیپ د رکھیپ ہمارے ایسے نوجوان دستیا ب ہیں کہ کفر کے خلاف جوش اور جذبہ کی بانسری بجاکر آپ انھیں کسی بھی مہم پر اسی ملک لگاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں ایک جماعت ’’حزب التحریر‘‘ کے نام سے قائم ہے ،جو خلافت اسلامیہ قائم کرنے کی علمبردار ہے۔ ذراغور کیجئے، یہ سرزمین برطانیہ جہاں سے نہ صرف خلافت کی آخری یادگار (ترکی )نشانہ بنی، بلکہ سارے عالم اسلام کی ہر وقت نگرانی بھی ہے کہ کہیں کسی اور اسلامی ملک کے افق سے تو یہ سورج پھر طلوع ہونے نہیں جارہا ہے! اور کہیں بھی ان کو شبہ ہوتا ہے تو فوراً اپنے اثرات اس امکان کی جڑ کاٹنے کے لیے استعما ل کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہا ں پر یہ نعرہ خلافت بلند کرنے والی جماعت مختلف مسلمان ملکو ں سے تعلق رکھنے والے یہیں کے پیدا نوجوانوں میں سینکڑوں کو اپنے نعرہ پر رقصاں کیے ہوئے ہے ۔اور ان کالجوں یونیورسٹیوں کے نوجوانو ں کی سمجھ اتنی موٹی بات کی طرف بھی نہیں جاتی کہ جو نعرہ مغرب والوں کو ہم مسلمانوں کے اپنے ملکوں میں خطرناک دکھائی دیتا ہے، اسے اپنے ملک میں گوارا ہی نہیں کررہے ،بلکہ جیسے کہ ’پرورش‘ کر رہے ہوں !

ٓٓٓٓٓٓٓاس جماعت کی طرف سے ہر طرح کا لٹریچر برسہا برس سے چھپتا اور آزادانہ تقسیم ہوتا ہے۔ جلسے جلوس ہوتے ہیں اور یہ سب محض خلافت اور اسلام کے حق میں ہی نہیں ہوتا، مغرب اور اس کی تہذیب، تاریخ اور افکارنظریا ت سے اظہار نفرت کو بھی اس میں بھر پور حصہ ملتا ہے۔پر کبھی جو روک ٹوک یہاں ہوتی ہو ۔اسی جماعت سے نکلا ہوا ایک گروہ ’’المہاجرون‘‘ کہلاتا ہے۔ وہ اپنے لیڈر کے فائر برانڈ (شعلہ بار ) ہونے کی وجہ سے حزب سے بھی چار قدم آگے ہے۔ اور ان سب کو پیچھے چھوڑنے والے مسجد فنسبری پارک لندن کے خود ساختہ امام ابوحمزہ مصری تو ساری دنیا میں معروف ہی ہوچکے ہیں جو ’’انصار الشریعہ‘‘نام کی جماعت چلاتے تھے۔ وہ بھی جب تک القاعدہ کے امریکی ہوّے نے ایک نئی پالیسی برطانیہ میں جاری نہیں کرادی، اپنی عام نصرت شریعت ہی نہیں ،خاص نصرت جہاد والی آتشیں انگریزی تقریر وں اور ٹی وی بیانوں مباحثوں کے باجود روک ٹوک سے محفو ظ نہیں تھے، برطانوی سوشل سیکورٹی سسٹم کے ماتحت دو سو پاؤ نڈ ہفتہ کا وظیفہ بھی سرکا ری فنڈ سے پارہے تھے جو اب اس بنیا د پر بند ہوا کہ ان کو عطاکردہ بر ٹش نیشنلٹی سلب کرلی گئی ہے۔ اوریہ وظیفہ کی عنایات کچھ جناب ابوحمزہ کے ساتھ مخصو ص نہیں تھیں، ان جماعتو ں کا جو شخص بھی سیکورٹی سسٹم کے ماتحت قانوناًحقد اربنتا ہو، وہ بالکل دوسرے حقدار شہریوں کی طرح اس طرح کے وظائف اور تمام لازمی شہری سہولتوں سے فیض یا ب تھا اور ہے ۔

یہ تینوں جماعتیں بھی (بلکہ گروپ کہیے ) جیسا کہ ان ناموں سے ظاہر ہورہا ہے ،ہیں تو ،سعودی گروپ کی طرح، اپنی اصل سے ،عربی ہی مگر ان تینو ں نے اپنے مبیّنہ مقصد کو کسی ملک کے ساتھ خاص نہیں کیا ہے اس لیے ان کے حلقہ میں کم وبیش ہر اسلامی ملک کی نمایند گی ہے ۔حزب التحریر اور المہاجرون کے سرگرم کارکنوں میں خاص طور سے پاکستانی اور بنگلہ دیشی نوجوان زیادہ نظر آتے ہیں۔ (وجہ شاید یہ کہ رشدی خباثت کے خلاف احتجاج دراصل برصغیر ہند ، پاکستان اور بنگلہ دیش والوں ہی کے جذبات سے عبارت تھا) ان نوجوانوں سے اگر یہ باتیں کہیے جو آپ کے لیے معما ہیں تو وہ اس پر غور کرنے کو تیار نہیں ہوں گے کہ وہ سادگی میں کسی کھیل کا شکا ر تو نہیں ہورہے ہیں،وہ کہیں گے یہاں کا قانون ہمیں ان باتوں کی آزادی دیتا ہے جو ہم کررہے ہیں۔اور یہاں کی یہی مجبوری ہے جو وہ روک ٹوک نہیں کرسکتی۔ مگر وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ قوانین نہ ان کے اپنے بنائے ہوئے ہیں، نہ ان کی بقا ان کے بس میں ہے ۔حتیٰ کہ اس ملک کی جو شہنشاہیت ہے، اور جس کے نام سے ہی تمام قانون سازی ہوتی اور ساراکاروبار حکو مت چلتا ہے،خود اس کا یہ حال بقول حکیم مشرق ہے کہ:

شاہ ہے برطانوی مندر میں اک مٹّی کا بت 
اس کو جب چاہیں کریں اس کے پجاری پاش پاش

یہ دراصل وہی ذہنیت ہے ،جسے بیمار کہیں یا بے شعور،جس کے ہم مسلمانانِ ہندوستان اسیر ہیں ۔ہندوستان کا دستور جس دستور ساز اسمبلی نے بنایا، اس میں مسلمان آٹے میں نمک کادرجہ رکھتے تھے۔پھرہندو مسلم بنیاد پر ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں کم ہی ان میں وہ رہ گئے تھے جو بقیہ ہندوستان میں برابر کا حق جتانے کی اس ماحول میں ہمت دکھا سکتے ہوں۔ ایسے دستور کاکیرکٹر سیکولر رکھا جانا،یہ ہند و ممبران کی اپنی مرضی اور پسند کا نتیجہ تھا ۔ مگر ہمیں جب یہ بنی بنائی چیز ملی جس پر (Made by Hindus )لکھا ہو انہیں تھا اور لکھا جا بھی نہیں سکتا تھا، تو ہم نے سچ مچ سمجھ لیا کہ واقعی یہاں ہم کسی سے کم نہیں ہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں کوئی وہ عملی پالیسی اپنے لیے وضع نہیں کرسکے جو واقعی ہمیں سچ مچ برابر ی کی سطح کی طرف لے جاسکے۔چنانچہ جو دن گزرتا گیا، وہ برابری کی سطح سے نیچے ہی لیتا گیا ہے اور آج ہم ایسے کھلے مید ان میں خود کو کھڑا پارہے ہیں کہ جہاں سر پہ گویا آسمان بھی نہیں۔ امریکی خرمستیوں کے مقابلہ میں مسلم اقوام کی بے بسی پر آجکل اس بات کا کافی تذکرہ ہما رے یہاں ہے کہ ہما رے اسلحہ خانوں میں تو ہتھیا ر بھی انھیں کے دیے ہوئے ہیں، مقابلہ ہو تو کیسے ہو ۔قانونی اور دستوری اسلحہ کا معاملہ بھی اس سے کوئی مختلف چیز نہیں ہے ۔وہ اگر کسی ملک کے اندر آپ کا اپنا تیار کردہ نہیں ہے یا اس کی تیا ری میں برابر کا حصہ آپ کا نہیں رہا تو اس کے اوپر بھروسہ بھی ایک دن یقینااسی طرح پچھتاوے کا باعث ہو کے رہے گا جیسے آج اسلحہ جنگ کا معاملہ ہمیں رلا رہا ہے ۔برطانیہ میں جس قسم کے قوانین کا بظاہر تصو ر نہیں تھا اور جواب تک کی قانونی روش کی روشنی میں لا قانونیت کے ہم معنیٰ معلو م ہوتے ہیں ،وہ ادھر اس تیزی سے وجود میں آنا شروع ہوئے ہیں کہ اب نہیں کہا جاسکتا کہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ؟اور قانون کی بات چھوڑیے ،عقل عام کیوں کر معاملہ کے اس پہلو سے بے اعتنائی روارکھ سکتی ہے کہ مغرب اگر اپنی سرزمین پر اسی خلافت اسلامیہ کے لیے جدوجہد کونہایت ٹھنڈے پیٹوں برداشت کررہا ہے جس کا مطلب اسلامی دنیا کا ایک سیاسی پیکر میں ڈھل جانا ہے ،تو یہ کیسے خالی ازعلت ہوسکتا ہے؟ بیشک ایسا ہوچکا ہے کہ فرعون کے محل میں موسیٰ کو پرورش ملی ۔ مگر اس مدت پرورش میں ایک معصوم موسیٰ تھے، وہ موسیٰ نہیں تھے جنہوں نے فرعون کے سامنے نعرہ حق بلند کیا۔ ایک دوسرا پہلو کہ وہ بھی عقل عام کو ایک تجسس(Curiosity) پر اکساتا ہے ، یہ ہے کہ القاعدہ کے ہوّے کے بعد سے ان جماعتوں کے بعض ارکا ن کسی نہ کسی درجہ کی گرفت میں آئے لیکن اس معاملہ میں لیڈروں پر الزام کی واضح گنجائش کے باجود صرف ایک ابو حمزہ پر تھوڑی سی آنچ آئی ہے۔وہ بھی اس منزل پر پہنچ کر کہ کیوبا کے Guantanamo Bay کیمپ میں جو چند برطانوی نوجوان طالبان کے ساتھ قید ہیں، ان کا سر ا ابو حمزہ سے ملنے کی پے بہ پے شہادتیں آتی گئیں۔ پھر بھی ان کے خلاف ایکشن کا جوانداز ہے، اس کی نیم دلی کو ،کم ازکم برطانیہ میں رہنے و الو ں کے لیے کسی بیا ن کی حاجت نہیں۔ جومسجد گزشتہ سال (۲۰۰۳) جنوری میں ان کی وجہ سے بند کی گئی، وہ اگلے ہی ہفتہ سے اس مسجد کے سامنے سڑک پر جمعہ کی نماز پڑھارہے ہیں۔ان کے شغل میں سڑک کے راہ عام ہونے کے حوالہ سے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی۔جبکہ پولیس کی نفری بھی اس موقع پر وہا ں متعین کی جا تی ہے !اور مسجد جو سال بھر ہونے کو آیا، اب تک نہیں کھل رہی، اس کی اصل وجہ جناب ابو حمزہ کی یہ چھوٹ ہے ۔

تو ہم اپنی معصومانہ اداؤں کو کیا کہیں؟اور کیا حق ہمیں زمانہ یا جور فلک سے شکوہ کا ہے ؟پاکستان وبنگلہ دیش یا سعودی عرب ومصر غیر ہ ہی نہیں، ہم برطانیہ وامریکہ والوں کے بیچ میں رہ کر بھی وہی رہنے کی گویا قسم کھائے ہوئے ہیں جن کی باریک چالو ں کی داد ایک دیدہ ور ان الفاظ میں دے گیا ہے:

یوں قتل سے بچو ں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسو س کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

’جہاد‘ اور ’اسلامی خلافت وحکومت‘ کے الفاظ ہماری وہ کمزوری ،ہماری سادگی اور ہمارے نامبار ک احساس محرومی ومظلومی کی وجہ سے بن گئے ہیں کہ ان کی صدا لگاکر جو بھی چاہے، ہمیں لوٹ لے جاسکتا ہے ۔ہم یورپ اور امریکہ میں دن بدن اپنی بڑ ھتی ہوئی تعد اد اورجمتی ہوئی جڑوں پر خوش تو ہوئے مگر چوکنّے پن سے بے نیازہونے کی بنا پر اس خطرہ کا کبھی بھی شاید نہیں سوچ سکے کہ ہمہ وقت چوکناّصیہونیت کو اس میں اپنے پروٹوکولی عزائم واہد اف کے لیے خطرہ نظر آئے گا اور اس لیے شاطر (Cunning ) ہر وہ کا م کرسکتے ہیں جس کے لیے یہاں کی فضا ناسازگار ہوجائے۔یہ ہماری کمزوریوں سے نہایت باخبررہنے کی کوشش کر تے ہیں ،ان کے ماہرین کی ریسرچ بڑی سرگرمی سے ہمارے سلسلہ میں جاری رہتی ہے ۔اور بلا شبہ یہ جتنا ہمیں جا ن گئے ہیں، ہم خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے ۔اور جہاں تک ان کو جاننے کا سوال ہے تو سوائے ہوائی اور خود ساختہ باتوں کے ہمارے پلّے کچھ بھی اور نہیں ہے ۔کم از کم برطانیہ میں جو تحریک خلافت ہے، اس کے بارے میں اگر ہمارا کوئی محنتی طالب علم ریسرچ پر لگ جائے تو اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہ رہ پا ئے گا کہ یہ سب پود انھی کی لگائی ہوئی ہے ۔

ہمارے بارے میں یہودی اور عیسائی ریسرچ کی کیا کیفیت ہے ،بہتر ہے کہ اس کی بھی دو مثالیں یہاں درج کردی جائیں۔گزشتہ روز دو کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک دیو بند پر امریکی مصنفہBarbara Metcکی کتاب Islamic Revival in British India; Deoband 1860-1900. جو اس نے ۱۹۷۲ء میں ہندوستان کا سفر کرکے لکھی۔ دوسری ابھی دو سال پہلے کی ایک فرنچ مصنف Gilles کی کتاب جہاد (Jihad) جو فرنچ سے انگریزی میں ترجمہ ہوئی۔ دیوبند سے اپنا پشتینی رشتہ hw،خو د پورے چار سال اس میں گزارے ،مگر اس کتا ب کو پڑھ کر جگر مراد آبادی مرحوم کا مصرعہ ذہن میں گھوم گیا:

غزل میں یہ وسعتیں کہا ں تھیں شعور فکرونظر سے پہلے 

دیوبند اسکول کا اس قد ر ہمہ گیر مطالعہ ہے کہ بیشتر جگہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس خاتون کو ہر ہر پہلو کی اتنی جزئیات سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جبکہ واقعہ یہ ہے کہ میں دیوبند ی طالب علم بھی ،کیساہی مفصل کرانا چاہوں تب بھی ان میں کی بہت سی تفصیلات سے تعرض کوایک طول لاطائل سمجھوں گا۔ علیٰ ہذا جہاد پر فرنچ مصنف کی کتاب ،جس میں عالم اسلام کے تازہ جہادی رخ (Trend)کا مطالعہ کیا گیا ہے،اس کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ خود اپنی دنیا کے بارے میں ہم جیسے کم علم بھی جو بزعم خود خاصی واقفیت رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، کس قدر ناکافی ہے ۔ بڑے کتابی سائز پر ۴۰۰صفحہ کی یہ کتاب مشرق سے مغر ب تک کی اسلامی دنیا کا جہادی مطالعہ، ہر ہر بیان کے لیے حوالہ کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔اور حوالے بظاہر ایسے کہ کسی استادی کا شک گزرنا مشکل۔

فرنچ مصنف کی اس کتاب کے ذکر پر یاد آیا کہ اسی میں ایک ایسا بیا ن ملتا ہے جسے اس مضمون کے شروع میں ظاہر کیے گئے اپنے ایک خیا ل کی تائید میں قرآنی الفاظ وشھد شاھد من اھلہا کا مصداق کہا جاسکتا ہے۔ مصر کے شیخ عبد الرحمان عمر (حفظہ اللہ تعالیٰ ) موجودہ جہادی ٹرینڈ کے معما روں میں سے ہیں اور جہاد افغانستان کے سرپرستو ں میں۔ جہاد افغانستان کی بدولت امریکی سی آئی اے سے ان کارشتہ جڑچکا تھا۔جب کہ اپنے ملک میں وہ حکومت کے لیے ناقابل برداشت۔مختصراً ،۱۹۹۱ء میں وہ (سوڈان کے بعد )پناہ کی طلب میں امریکہ پہنچے گئے اور اس کے بعد کی کہانی معلوم و مشہور ہے کہ ۱۹۹۳ء میں نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر بم واردات میں ملوث ٹھیر ا کر ان کا ٹھکانہ جیل کو بنادیا گیا ۔شیخ کو ملوّث کر نے کی کہانی بیا ن کرتے ہوئے جیلس کیپل نے کہا کہ ٹریڈ سینٹر کی واردات کا کام شیخ کے ارد گرد کے سادہ اور جذباتی لوگوں سے لیا گیا۔ مختصراًمسٹر کیپل کا کہنا ہے کہ جہا ں تک ان افراد کے تعین کا سوال ہے جنھوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی واردات میں بر اہ راست حصہ لیا تو اس کے مقد مہ میں کیا گیا یہ تعین یقیناکسی شک کی گنجائش نہیں رکھتا ۔یہ تما م کے تمام شیخ سے قربت والے اور ان کی آتش ناک اینٹی امریکہ ومغرب تقریروں سے متأثر لوگ تھے ۔لیکن امریکن جسٹس ڈیپارٹمنٹ کا یہ دعویٰ کہ اس واردات کی سازش کا دماغ خود شیخ تھے، یہ آج بھی قابل گفتگو ہے بلکہ یہی نہیں کہ ایک نابینا شخص جس نے یہ سینٹر کبھی دیکھا نہ اس کے لیے آسان کہ ذہن میں اس کی شبیہ قائم کرے ،کیونکر اس کوٹارگٹ بنانے کے لیے چن سکتا تھا، اس کے وہ ساتھی بھی جو اس میں ملوّث ہوئے، نہ ذہنی طور پر امریکہ سے واقفیت کے اعتبار سے اس قابل تھے کہ ان کے ہاتھوں سے ایسی کامیاب ترین پیمانہ کی واردات بغیر بیرونی امداد کے عمل میں آنا سمجھ میں آسکے ۔چنانچہ مقدمہ کے دوران میں صفائی کے وکلا کی طرف سے اس ایک مصری مخبر کے کر دار کوبھرپور نمایاں کیا گیا تھا جسے امریکن ایجنسی FBI نے شیخ کے لوگوں میں گھسادیا تھا اور ملزمان کے ساتھ اس کی ریکارڈ شدہ گفتگو ثابت کر رہی تھی کہ اس نے ان لوگوں کو اس واردات کے لیے اچھی طرح اکسایا تھا ۔ (ص:۳۰۱)

پس یہ جو اوپر یقین کے ساتھ کہا گیا تھا کہ ۱۱ستمبرکی واردات جو بظاہر ہما رے ہی ہاتھوں سے ہوئی، یہ اصل میں اوروں ہی کی ’’بائی پراکسی‘‘ واردات تھی، ہم محض استعما ل ہوئے اور اس لیے ہوئے کہ سعودی عرب کو بھی نشانہ میں لینا تھا تو مسٹرکیپل کا مذکورہ بیان اسی طریقہ واردات کی ایک دوسری مثال بھی ہمارے سامنے لے آیا ہے ،کہ شیخ عمر کو جیل میں ڈالنا تھا، ان کے آدمی قابل مؤاخذہ کا م کے لیے استعما ل کر لیے گئے ،اور اس سے پہلے کی جو کارروائی شیخ کے ساتھ اس منزل کی طرف لیجانے کے لیے ہوئی،وہ بھی مختصراً سن لینے کی ہے۔ کیپل نے لکھا ہے کہ ایک طرف تو شیخ پر مہربانی کا یہ عالم تھا کہ امریکہ پہنچ کر جنوری۹۱ء میں انھوں نے درخواست دی اور اپریل ہی میں انھیں گرین کارڈ عطا ہوگیا۔یہ اس وقت تک کی بات تھی کہ کابل ابھی روسیوں ہی کے قبضہ میں تھا ۔مگر اس کے نگاہ بدلی تو شیخ جو حج (یا عمرہ) کے لیے مکہ گئے ہوئے تھے، واپس آئے تو پتہ چلا کہ وہ اپنی درخواست میں ایک جھوٹ کے مرتکب ہوئے تھے۔وہ یہ کہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ Bigamist(ایک سے زائد بیویوں کے شوہر ) ہیں، پس اس بنیا د پر وہ گرین کارڈ سے محروم کردیے گئے ،اس پر شیخ نے سیاسی پناہ کی درخواست دی تو جیل شیخ کی پناہ ٹھیر ی ۔

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کاآسماں کیوں ہو ؟

شیخ سے دلی ہمدردی ہے ،مگر اس پر شرمند گی بھی بیحد ہے کہ جہاد کا شعلہ بار داعی، سرپرست ومربی اور امریکی طاغو ت پناہ کا طلب گار !اس کی طوطا چشمی کے بعد بھی ازسر نو طلبگار ! شیخ کے حال میں ہمارے لیے عبرت ہے کہ 

عصانہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد !

حالات و واقعات