دیوبند اور جہاد

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

(یہ مضمون بھارت میں دینی مدارس کے خلاف بعض حلقوں کی نفرت انگیز مہم کے پس منظر میں لکھا گیا ہے)


دیوبند (دار العلوم دیوبند) ان دنوں بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ افغانی طالبان پر جو قہر گزشتہ دنوں ٹوٹا، ہماری (بی جے پی) حکومت نے اس موقع پر ہر کردنی وناکردنی اس خواہش کے ماتحت کی تھی کہ امریکہ بہادر کے ساتھ اس کے لیے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالنے کی صورت بن جائے مگر امید بر نہ آ سکی۔ اس محرومی کی تلافی اب وہ طالبان کی ’دیوبندیت‘ کے حوالے سے دیوبند اور اس کی نسبت کے ساتھ ملک بھر میں پھیلے ہوئے سلسلہ مدارس پر ستم آزمائی کی شکل سے کرنے میں لگ گئی ہے۔

طالبان بے شک ’’دیوبندی‘‘ تھے۔ اور وہ اگر ’جہاد‘ پیشہ تھے تو دیوبند کو اس پر بھی کسی معذرت کی ضرورت نہیں ہے۔ دیوبند خود روح جہاد کا وارث ہے۔ یہی روح تھی جس نے اس کے اکابر واصاغر کو ہند میں برطانوی حکومت سے برسرپیکار رکھا۔ یہی روح تھی جس نے ان کی نہایت حساس اسلامیت کو بھی ان غیر مسلم برادران وطن کے شانہ بہ شانہ ہو جانے میں حائل نہ ہونے دیا جن کو انہوں نے جانا کہ برطانوی استعمار سے ہند کی آزادی کے طلب گار ہیں۔ اور یہ ان کی اس روح ہی کی تو چھاپ تھی کہ اس جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کے لیے، بلا تفریق مسلم وغیرمسلم، ’’مجاہدین آزادی‘‘ کا لفظ بولا جانے لگا اور جو اس جنگ میں کام آئے، وہ ’’شہید‘‘ کہلائے۔ یہ طالبان بھی، جن کے حوالے سے دیوبند اس وقت نشانہ بنا ہوا ہے، خود ان امریکیوں اور برطانویوں کی زبان سے بھی ایک وقت تک ’’مجاہد‘‘ ہی (بطور ایک باعزت لقب کے) کہلائے۔ پس یہ ’جہاد‘ اور ’جہاد پیشگی‘ جس فخر وعزت کے ہمیشہ سے حق دار ہیں، آج کسی کی زبان بدل جانا ان کو اپنے اس اعزاز سے محروم نہیں کر سکتا ہے۔ دیوبند کے عربی مدرسہ کو کل اگر ہندو برادران وطن سے قریب کرنے اور ان کے لیے قابل عزت بنانے والی چیز بھی اس کی جہادی روح ہی تھی تو کیسے اسی دیوبند سے توقع کی جا سکتی ہے کہ ملک کے تخت حکومت پر آج اگر کچھ اس قسم کے لوگ آ گئے ہیں جنہیں ملک کی جنگ آزادی میں کوئی دل چسپی نہ تھی اور جہاد کے معزز نام کو وہ گالی بنا دینا چاہتے ہیں تو دیوبند اپنی اس تاریخی میراث کو رسوا ہونے کے لیے چھوڑ دے؟ دیوبند میں قرآن اور حدیث پڑھائی جاتی ہے۔ وہ جب تک قرآن وحدیث پڑھانے سے دست بردار نہ ہو،جہاد کی تعلیم دینے سے دست بردار نہیں ہو سکتا۔ جہاد قرآن وحدیث کا جزو لا ینفک (اٹوٹ انگ) ہے۔ اور یہ وہی تعلیم ’جہاد‘ ہے جس کے ماتحت ۱۹۱۹ء میں خلافت اسلامیہ ترکی کی طرف سے انگریزوں کے خلاف اعلان جہاد کی حمایت میں ہندوستان کے مسلمانوں نے تحریک خلافت برپا کی تو مہاتما گاندھی نے آگے بڑھ کر اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسے تحریک آزادی ہند کا حصہ بنا یا۔ اور اس تحریک کی جہادی روح نے آزادی کی تحریک کو جیسی نئی حرارت سے آشنا کیا، اس کا انکار صرف تعصب ہی کی مجبوری سے کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔ کیا اسی جہاد کے بارے میں اب یہ قبول کیا جا سکتا ہے کہ اب یہ ’’دہشت گردی‘‘ ہو گیا؟ اور اب اس کو مان کر رہنے والوں کے لیے ہندوستان میں کوئی جگہ نہیں؟

جہاد حق کی حفاظت کے لیے ظلم وجبر کی طاقتوں سے جنگ کا نام ہے۔ اسلام نے اپنے ابتدا کے ۱۳ برس مکہ کے اندر ظلم سہنے میں گزارے۔ پھر جب اللہ کا حکم ہوا اور مدینہ والوں کے دلوں میں اسلام گھر کر گیا، مزید انہیں اس فراخ دلی کی بھی توفیق ملی کہ پیغمبر اسلام ا اور آپ کے مظلوم ساتھیوں کو اپنے وطن میں پناہ دینے بلکہ اپنا ہم وطن بنانے کو تیار ہوئے ۔ اس طرح یہ سب لوگ رفتہ رفتہ مکہ چھوڑ گئے۔ پر اس پربھی جب مکہ کے ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا، مدینہ پر بھی دھاوے ہونے لگے، تب کی یہ بات ہے کہ اسلام میں جہاد کا باب کھلا۔ اور جس طرح یہ اسلام کے دشمن ہی تھے جنہوں نے یہ باب پہلے دن کھلوایا تھا، زمانہ آج بھی گواہی دے رہا ہے کہ وہی اس کے بھی ذمہ دار ہیں کہ یہ سدا کھلا ہی رہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ یہ بڑا نازک ’’کھیل‘‘ ہے۔ اس میں بڑی آسانی سے غلطی راہ پا سکتی ہے۔ ایسی غلطی بھی جس میں حق اور حد سے تجاوز (Excess) ہو جائے اور ایسی بھی کہ اپنے ہی کو مہنگی پڑ جائے۔ مگر اس دنیا میں بعض ایسے کاموں کو بھی جائز رکھے بغیر چارہ نہیں ہوتا جن میں اونچ نیچ کے پورے خطرات ہوں۔ (مہاتما گاندھی کے لیے تو عدم تشدد عقیدہ کا درجہ رکھتا تھا اور تشدد (Vilolence) مطلقاً گناہ کا۔ لیکن ملک کی آزادی کے بعد انہیں اس عقیدہ میں گنجائش نکالنا پڑی جس کے ماتحت انہوں نے کشمیر اور گوا کے سلسلے میں حکومت ہند کے فوجی اقدامات کو بجا ٹھیرایا) تاہم اسلام نے اس پر خطر عمل کو غلطیوں سے بچانے کے لیے تعلیم وہدایت کا جو نمونہ قائم کیا ہے، اس کے حوالے سے اسلام کی عظمت ماننے سے صرف وہی لوگ انکار کر سکتے ہیں جو کھلا دل نہیں رکھتے۔ آئیے دو ایک واقعات کی مثالوں سے اس کو سمجھیں۔

پیغمبر اسلام ا کے ایک ایسے محبوب نوجوان صحابی جن سے آپ وہی محبت فرماتے جو محبت آپ کو اپنے نواسوں حسن حسین رضی اللہ عنہما سے تھی، اسامہ بن زیدؓ نامی تھے۔ یہ خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جہادی مہم میں دشمن کی شکست کے بعد انہوں نے اس کے ایک بھاگتے ہوئے آدمی کا پیچھا اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کیا۔ وہ پکڑ میں آنے لگا تو اس نے کلمہ اسلام پڑھ کر مسلمان ہونے کا اظہار کیا۔ ظاہر ہے کہ موقع بتاتا تھا کہ یہ اس نے جان بچانے کے لیے کیا۔ اسامہ نے ہاتھ نہیں روکا اگرچہ ان کے ساتھی نے اس پر ہاتھ روک لیا تھا۔ واپسی پر یہ بات رسول اللہ ا کے سامنے آئی تو اسامہ کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا ’’تم نے اس کے لا الٰہ الا اللہ کے بعد بھی اس پر ہاتھ چلایا؟‘‘ انہوں نے عرض کیا، حضور وہ تو جان بچانے کے لیے کر رہا تھا۔ مگر، کہتے ہیں، آپ بار بار یہی فرماتے تھے، ’’تم نے لا الٰہ الا اللہ کے بعد بھی اس کو قتل کیا؟‘‘ یہاں تک کہ میں آرزو کرنے لگا کہ کاش یہ گناہ مجھ سے حالت اسلام میں نہ ہوا ہوتا‘‘ (صحیح بخاری، کتاب المغازی) یہ ایک ایسے صحابی کی بات ہے جو محبوب رسول اللہ کہلاتے تھے۔

اسی طرح خالد بن ولیدؓ جن کو رسول اللہ کی سرکار سے ’’سیف اللہ‘‘ (اللہ کی تلوار) کا خطاب ملا ہوا تھا، ان سے بھی کچھ اس طرح کی ایک صورت حال میں، کہ شبہ کا فائدہ دیا جا سکتا تھا، فیصلہ کی غلطی ایک موقع پر ہوئی تو، راوی کا بیان ہے : ’’اس کی خبر ملنے پر رسول اللہ ا نے (آسمان کی طرف) ہاتھ اٹھاتے ہوئے دوبار فرمایا : ’’اے اللہ، میں خالد کے اس فعل سے تیرے حضور براء ت کرتا ہوں۔‘‘ یہ بھی بخاری ہی کی روایت ہے۔ 

دو ہی مثالیں یہ سمجھنے کے لیے کافی ہیں کہ اس عمل جہاد میں اونچ نیچ کے خطرات پر بند باندھنے کے لیے کس درجے کی سختی سے کام لیا گیا۔ ایک مسلمان کے لیے کوئی دوسری سزا اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی کہ رسول اللہ ا اس کے فعل پر ملامت فرمائیں یا بیزاری وبراء ت کا اظہار کریں۔ علاوہ ازیں قرآن میں جن آیتوں سے جہاد کا باب کھلا، ان میں پہلے ہی قدم پر اچھی طرح جتایا گیا کہ زیادتی نہ ہونے پائے: وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین۔ ’’اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو تم سے لڑ رہے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (البقرہ ۲: ۱۹۰)

پس اسلام کی تعلیم جہاد سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو ا س کی دوسری تعلیمات کی طرح دنیا کو امن دینے اور فتنہ وفساد مٹانے کا مقصد رکھتی ہے۔ ہاں وہ لوگ جن کی نیتیں مسلمانوں کے بارے میں خراب ہوں، وہ اگر اس سے ڈریں تو یہ اس اسلامی جہاد کا قصور نہیں۔ یہ ان کی اپنی بد نیتی کی خطا ہے۔ وہ اپنی نیتیں مسلمانوں کے بارے میں ٹھیک کریں، تب انہیں ذرہ برابر بھی مسلمانوں اور ان کی جہادی تعلیم سے خوف کی ضرورت نہ ہوگی۔ خاص طور سے دیوبند جیسے اسلامی تعلیم وتربیت کے مرکز کی ہند میں موجودگی اور اس کا مسلمانوں پر اثر، یہ تو یہاں کے غیر مسلموں کے لیے ایک بڑا ذریعہ اطمینان ہونا چاہیے کہ اسلام کی جہادی ’’تلوار‘‘ پر چیک (Check) کی اتھارٹی رکھنے والے ایک ایسا ادارہ موجود ہے جو علی الاعلان جہاد کی تعلیم اگرچہ دیتا تھا، جس نے قادیان میں نبوت کا دعویٰ کرکے اٹھنے والے اس مرزا غلام احمد کو اسلام سے خارج کرانے کی کوشش میں کوئی دقیقہ اٹھا کے نہ رکھا جس کی نبوت کا اصل مقصد اسلام سے جہاد کو خارج کرنا تھا، مگر اپنی اس ’جہادیت‘ کے باوجود وہ اس بات کی کوشش میں پیش پیش رہا ہے کہ آزاد ہندوستان میں ہندو مسلمان ایک ہی جھنڈے اور ایک ہی حکومت کے ماتحت مل جل کر انسانیت کی خدمت کا ایک نیا باب رقم کریں۔ حد ہے کوئی اس ستم کی کہ اس سوچ اور اس کردار کے ادارہ کی زندگی اس الزام میں تنگ کی جائے کہ یہاں سے ہندوؤں کے خلاف، ملک کے خلاف جہادی دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے!

تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

جو لوگ دیوبند کے ساتھ اس بے اعتمادی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نادانی کا وہی کھیل ہے جو کشمیر میں شیخ محمد عبد اللہ مرحوم کے ساتھ کھیلا گیا۔ اس نے اندھے اعتماد کے ساتھ کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرایا مگر جب دوسری طرف اعتماد کے معاملے کا وقت آیا تو اسے بے اعتمادی ملی۔ اس نے دیکھا کہ نگرانی کے لیے مہرے بٹھائے گئے ہیں۔ اسی بے اعتمادی کی یہ فصل ہے کہ جو ملک عزیز کو اس دن سے لے کر آج تک ’مسئلہ کشمیر‘ کے نام سے کاٹنی پڑ رہی ہے۔ (طالبان کی جہادیت میں بھی ہندوستان کے لیے کوئی شکایت کا پہلو اگر تھا تو اس کا تعلق بھی اسی مسئلہ کشمیر سے تھا۔ ان کی دیوبندیت سے کوئی تعلق اس کا نہ تھا) کاش یہ لوگ جو مسلمانوں کے بارے میں اس بے اعتمادی کے رویہ سے مسلمانوں سے زیادہ مسائل خود ملک کے لیے پیدا کرتے آ رہے ہیں، وہ کبھی آزادی سے پہلے کے کچھ ماضی کا یہ سین دیکھ کر سبق حاصل کر سکیں کہ مسلمانوں نے اپنی خالص اسلامی تحریک ’’تحریک خلافت‘‘ کی قیادت کس اعتماد کے ساتھ مہاتما گاندھی کے ہاتھوں میں دے دی تھی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کو کبھی چین نہیں نصیب ہو سکتا جب تک کہ مسلمانوں والا یہ مزاج قومی مزاج نہ بن جائے۔ ہندوستان کی تقدیر اسی باہمی اعتماد وبے اعتمادی سے وابستہ ہے۔

حالات و مشاہدات