مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

مولانا مرحوم کی تفسیر ’تدبّر قرآن‘ کا حوالہ الفرقان میں باربار آیاہے۔مولانا کو والد مرحوم سے ایک قدیم تعلق تھا۔ عمر میں بھی دونوں کی بس ایک سال کا فرق تھا۔ تدبر کی پہلی ہی جلد نکلی تو مولانا کی طرف سے ہدیہ ہمارے ہاں آئی اور تہدیہ کے الفاظ تھے: ’’ہدیہ اخلاص بخدمت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب زاد لطفہ‘‘۔ پھر مزید جلدیں بھی آتی رہیں۔ راقم سطور کو الفرقان میں جو لکھنا لکھانا ہوتاتھا، جس کا سلسلہ ۱۹۵۳ء سے شروع ہوا، اس میں اکثر قرآنی آیات بھی کسی استدلال واستشہاد میں آتیں اور ضرورت ہوتی کہ آیت جس مفہوم کے ساتھ اپنے ذہن میں آئی ہے اس کی توثیق کسی تفسیر سے بھی کر لی جائے۔ اس عمل میں کہیں کہیں الجھاؤ بھی درپیش ہوجاتا یا تشنگی رہتی۔ مولانا کی تفسیر آئی تو ایسی ضرورت کے موقع پر اس کے استعمال سے یہ مرحلہ نسبتاً آسان ہونے لگا ۔حضرت والد ماجد کا سلسلہ درس قرآن بھی اس زمانہ میں چل رہاتھا۔ آپ سے بھی یہی احساس سننے میں آیا کہ بہت سے مشکل مقامات کی گرہ کشائی میں اس سے بڑی مدد ملی ہے۔ ادھر کئی سال سے ’محفل قرآن‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ فہم قرآن اس کم علم کے قلم سے بہت ڈرتے ڈرتے محض والد ماجد کی خواہش کے احترام میں چل رہاہے۔ اس سلسلہ میں بھی یہ کہنا کچھ مبالغہ نہ ہوگا کہ مولانا اصلاحی کی کتاب نہ ملی ہوتی تو قرآنی مشکلات کے آگے اس سلسلہ کو جاری رکھنا شاید اس سے زیادہ ہمت طلب ہوتا جتنا اب تک ثابت ہوتارہا ۔ اور اس لیے اگر اس سلسلہ میں کچھ خیر ہے تو اس میں مولانا کا بھی حصہ ہے اور دعاہے کہ اللہ اس کے لیے مرحوم کو بہترین جزا دے۔ اسی کے ساتھ کتاب میں کچھ باتیں ایسی بھی نظر پڑتی رہیں کہ مولانا کی وفات پر جو تعزیتی سطور الفرقان میں لکھی گئیں، ان میں بھی ان کی کتاب کے بارے میں یہ لکھے بغیر نہیں رہا جاسکا کہ کاش فلاں فلاں قسم کی باتیں اس میں نہ ہوتیں،کہ اس کے نہایت مفید پہلووں سے استفادہ کا حلقہ وسیع تر ہوسکتا اور جو ’خذ ما صفا ودع ماکدر‘ کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے لیے کوئی خطرہ اس میں نہ سمجھا جاتا۔

ان فلاں فلاں باتوں میں سے سب سے نمایاں بات مسئلہ رجم پر ظاہر کئے گئے خیالات ہیں جو سورہ نور کی آیت حد زنا کے ذیل میں آئے ہیں۔ اس مقام کو کئی بار پڑھا اور اس میں کوئی مضبوط استدلال نہ دیکھتے ہوئے یہ بات ایک معمہ بنی رہی کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس نے مولانا کو امت کے (بجز خوارج ) ایک مسلمہّ اور سنت رسول ﷺ وخلفائے راشدینؓ سے ثابت مسئلہ میں اشکال ہی نہیں، شدّومد سے اختلاف پر آماد ہ کیا؟ پھر لطیفہ یہ کہ اس اختلاف کا اظہار مولانا نے رجم کو رد کرنے کے عنوان سے نہیں بلکہ ان لوگوں کے مقابلے میں اسے ثابت کرنے کے عنوان سے کیا ہے جو قرآن سے اس کی دلیل مانگتے ہیں۔ بالفاظ دیگر وہ رجم کے منکر نہیں، البتہ اس رجم کے قائل ہیں جو انہیں قرآن میں (سورہ مائدہ کی ایک آیت میں) ملتاہے اور سنت سے ثابت جس رجم کی بات کی جاتی ہے، مولانا اس کی اصل حقیقت بھی وہی ٹھہراتے ہیں جسے وہ قرآن میں پاتے ہیں۔ اس کے ثبوت میں وہ عہد نبویﷺ کے ایک واقعہ رجم پر گفتگو کرتے ہوئے،جو ماعز اسلمیؓ کے نام سے آتاہے، جو شکل اس کی بیان کرتے ہیں، وہ ان کے خیال میں سورہ مائدہ کی آیت پر منطبق ہوجاتی ہے۔ رہیں اس سلسلہ کے کچھ اور واقعات کی روایتیں، ان کے بارے میں مولانا یہ فرما کر آگے بڑھ گئے ہیں کہ :’’آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں رجم کے ایک آدھ اور واقعات جو پیش آئے، ان کی تفصیلات روایات میں نہیں ملتیں ۔ .....اگر ان کے مقدمات کی صحیح نوعیت معلوم ہوسکتی تو ان شاء اللہ یہ بات واضح ہوجاتی کہ ان کے واقعات کی نوعیت بھی وہی ہے جو ماعز کے واقعہ کی ہے۔‘‘ (جلد چہارم، طبع اول)

رجم کا انکار تو تھا ہی، ماعز اسلمیؓ کے واقعہ کی جو نوعیت مولانا نے بیان فرمائی، وہ خود کچھ کم نرالی اور وحشت انگیز نہ تھی۔ پھر بغیر کسی متعین حوالہ کے مجرد یہ کہہ کر کہ ’’کتابوں میں جو روایات ملتی ہیں ان میں .....‘‘ حالانکہ اس واقعہ کی متعدد روایات حدیث میں سے کسی بھی اس طرح کی بات کا، جو مولانا بے نام کی کتابوں کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں، کوئی شائبہ نہیں پایا جاتا۔

یہ بحث تدبرقرآ ن کی چوتھی جلد میں آئی ہے جو ۱۹۷۶ء میں نکلی۔ یہ وہ سال تھا کہ اسی میں راقم کا آب ودانہ لکھنو سے لندن منتقل ہوا۔ یعنی یہ جلد جب لکھنو آئی ہوگی تو وہ زمانہ میرے لندن میں ہونے کا تھا۔یاد نہیں یہاں آکر کب میں نے تدبر کی جلدیں پاکستان سے منگوائیں اورکب رجم کے اس قصہ پر نظر پڑی۔ لیکن ایک بات ذہن میں اس معا ملہ کے حوالہ سے یہ پڑی رہی کہ مولانا نے حدیث کے میدان میں بھی کچھ خدمت کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے مزید تحقیقی گفتگو اس کے لیے اٹھا رکھی ہے۔ پس انتظار رہا کہ وہ دن آئے۔ پھر تفسیر کی تکمیل سے مولانا کی فراغت کے کچھ عرصہ بعد یہ بات علم میں آگئی کہ ’تدبر حدیث‘ کا بھی ایک سلسلہ مولانا نے شروع کر دیاہے ۔ مگر کوئی ایسا رابطہ مولانا یا ان کے حلقہ سے نہ رہتاتھا کہ رفتار کار یا تکمیل کا علم ہوتا۔ اب گزشتہ جنوری میں لکھنو جانا ہوا جہاں ایک اردو میلہ لگا ہوا تھا، ایک دن ادھر جانا ہوا تو ایک بک اسٹال پر مولانا کی کتاب ’تد بر حدیث‘ نظر آئی۔ یہ موطا امام مالکؒ کے منتخب ابواب کی تشریح پر مشتمل بتائی گئی تھی۔شوق سے اٹھا کے ورق گردانی کی کہ اس پر و ہ بحث بھی شاید آئی ہو ،اور وہ نکل آئی۔ کتاب ویسے ہی لینی ہی تھی، اب تو لازم ہوئی ۔مگر متعلقہ حصہ پڑھنے سے جو نتیجہ نکلا، اس کے لیے کوئی تعبیر ،بصد افسوس ،اس کے سوا نہیں ملتی کہ مولانا نے تو خود ہی اپنے اوپر حجت تمام کرلی۔

مسئلہ سے متعلق موطاکی تمام روایتیں اس کتاب میں آئی ہیں اور ان سے نہ تو ماعز اسلمیؓ کے بارے میں مولانا کے بیان کی ذرہ برابر تائید ہوتی ہے اور نہ اس خیال کی جو کہ عہد نبویﷺ میں پیش آنے والے دیگر واقعات رجم کی بابت مولانا نے ظاہر فرمایاتھا، بلکہ یہاں تمام تر مولانا کی تردید کا (نہیں، مولانا کی خیالات کی تصحیح کا) سامان ہے۔لیکن کوئی حد حیرت کی نہیں رہتی کہ مولاناان سب روایات سے بھی اپنے اسی خیال کے ساتھ باطمینان گزرتے چلے گئے ہیں !پھر یہ کتاب تصنیف نہیں بلکہ مولانا نے اپنے حلقہ تدبر قرآن وحدیث میں موطا کے درس کا سلسلہ قائم فرمایا تھا، یہ انہیں دروس پر مبنی کتاب ہے۔ تو کیا مولانا کے حلقہ درس کے ذہین وفطین اور نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بھی کوئی ایسا نہ تھا جو اس تناقض کو محسوس کرتا اور مولانا کو توجہ دلانے کی جرات کرجاتا؟ یا پھر اللہ کو یہ منظورتھا کہ خود مولانا ہی کے ذریعہ موطا جیسی معتبر کتاب کے حوالہ سے وہ روایتیں سامنے آجائیں جن سے رجم کی شرعی حقیقت میں مولانا کی تفسیر سے پیدا شدہ شکوک کا ازالہ ہو۔

تفصیل میں نہیں جانا، بس ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ’تدبر قرآن‘ سے استفادہ کیاہے یا کرتے ہیں، اتنا کہنا ہے کہ مولانا کا جو کہناوہاں یہ ہے کہ رجم کی سزا فقط ان عادی مجرموں کے لیے ہے ’’جو معاشرہ کی عزت وناموس کے لیے خطرہ بن جائیں‘‘ ورنہ عام زنا کی سزا فقط وہی سو کوڑے والی ہے‘ ’’قطع نظر اس کے کہ مرتکب جرم شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ‘‘، موطاکی تمام روایتیں اس سے اختلاف کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ ماعز اسلمیؓ جن کی تصویر تدبر قرآن میں، اللہ مولانا کو معاف کرے، ایک ننگ ملت، ننگ دین ،عادی مجرم کے طور پر آئی ہے ،ان کے واقعہ کی روایت بھی اس تصویر کا شائبہ تو کیا دیتی، بالکل اس کے برعکس تصویر دکھاتی ہے۔ خود مولانا کے ترجمہ کا دیکھ لینا کافی ہے :

’’سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص حضرت ابو بکرؓ کی خدمت میں آیا۔ اس نے کہا کہ گنہ گار بندہ کمینہ سے زنا کا گناہ صادر ہوا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کہ اس کا میرے سوا کسی اور سے بھی ذکر کیا ہے؟اس نے کہا نہیں ۔حضرت ابو بکرؓ نے کہا، تو اللہ سے توبہ کر اور اللہ کے پردہ میں چھپ کہ اللہ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتاہے، لیکن اس کا دل اس پر نہ ٹھکا۔ پھر حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہی بات کہی جو حضرت ابوبکرؓ سے کہی تھی ۔حضرت عمرؓ نے بھی اس کو اسی طرح کا جواب دیا جو حضرت ابوبکرؓ نے دیا تھا ۔اس پر بھی اس کا دل نہ ٹھکا ۔یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺکی خدمت میںآیا اور ان سے کہا کہ اس بندہ کمینہ نے زنا کیاہے۔سعید کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا ۔تین مرتبہ اس نے کہا اور ہر مرتبہ حضورﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا ۔جب وہ بہت مصر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے گھر والوں کے پاس آدمی بھیجا اور پوچھا کہ یہ شخص مریض تو نہیں یا اس کو جنون تو نہیں؟ گھر والوں نے کہا، یا رسول اللہ ﷺ یہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ رسول اللہ نے پوچھا کہ یہ کنوارہ ہے یا شادی شدہ ؟لوگوں نے کہا کہ شادی شدہ ہے۔ رسول اللہ نے حکم دیا تو اس کا رجم کردیا گیا ۔‘‘ (ص ۲۱۳)

اس کی بھی صراحت یہ روایت کررہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رجم کا حکم کرنے سے پہلے ان کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی تحقیق فرمائی۔ تو رجم کی بنیاد شادی شدہ ہونا ٹھیری اور گنہگار کی جو تصویر یہاں سامنے آرہی ہے، اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت کہاں۔ یہ موطا کی روایت نمبر ۲ ہے۔ آگے پانچویں نمبر کی روایت جس کا تعلق ایک ایسے کیس سے ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کی سزا مذکور ہوئی ہے، وہاں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے حکم کی تفریق اور کھل کر سامنے آتی ہے۔ مرد کو جو کنوارا جوان تھا، کوڑوں کی سزا ملی اور عورت جو شوہر والی تھی، اسے رجم کیا گیا ۔یہ عورت عادی مجرم تھی یا کچھ اور؟ اس کا فیصلہ روایت کے ترجمے کے یہ الفاظ کردیتے ہیں (جن کو پڑھنے سے یہ جان لینا چاہیے کہ یہ مقدمہ حضورﷺ کے پاس زانی کا باپ اور زانیہ کا شوہر لائے تھے) ’’آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں۔اگر وہ اعتراف کرے تو اس کو رجم کریں ۔اس عورت نے اعتراف کیا اوررجم کردی گئی ۔‘‘(ص ۲۱۸)

موطا کی ان تمام ہی روایتوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کسی ایک سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ رجم کی سزا پانے والا خطا کار کوئی عادی قسم کا مجرم تھا۔ کئی ایک تو ان میں خود عورتیں نظر آرہی ہیں جن کے ناموس کے حوالہ سے کوئی مجرم معاشرہ کا عضوِ فاسد بنتاہے۔

’تدبر قرآن‘ تک بات دوسری تھی۔مولاناکو کسی غلط فہمی کے شبہے یا کسی خاص تاثر کے امکان کا فائدہ دے کر رہا جاسکتاتھا۔ اب اس ’تدبر حدیث‘ سے معاملہ کی جو صورت سامنے آتی ہے، وہ سنجیدگی سے تقاضاکرتی ہے کہ اس سبب کی تلاش کی جانی چاہیے جو مرحوم کو یہاں تک لیے چلا گیاہے۔اسلام پر مغرب کے حملوں سے خم کھانے والی کوئی شخصیت ہوتی تو سوچ لیا جاتا کہ یہ اسی مرعوبیت کا شاخسانہ ہے، مگر مولانا کی تفسیر کی آٹھ جلدوں میں کہیں، شاید کہیں بھی اس تاثر کی گنجایش نہیں ملتی،نہ ہی اس سوچ کی گنجایش اس تفسیر کے پڑھنے والے کو ملتی ہے کہ خدانخواستہ خوفِ خدا سے دل خالی رہاہو اور تفسیر کا مشغلہ کسی کج فکری کی خدمت کو اپنانا ہو۔ پھر یہ سنت ثابتہ سے معارضہ اوراس پر اصرار ،آخر کیاہے؟ اور یہ تلاش ایسے لوگوں کا کام ہے جو مولانا سے کافی قریب رہ کر مستفید ہوئے ہوں۔اس زمرہ کا سب سے نمایاں نام ’تدبر حدیث‘ کے مرتب خالد مسعود کا تھا ،مگر وہ اب اس دنیا میں نہیں۔ دوسرا ایسا نام ہمارے علم میں ڈاکٹر اسرار صاحب کا ہے اورتدبر قرآن کی متعلقہ جلد کی اولین اشاعت بھی انہیں کے ادارہ انجمن خدام القرآن لاہورسے ہوئی ہے،کیا وہ اس کام کی ضرورت سمجھیں گے؟ کاش کوئی عذر مولانا کے حق میں ہاتھ آجائے۔ (۱)

حاصل مطالعہ

یہاں تک جو کچھ لکھا گیا، وہ کچھ خوشگوار چیز نہ تھی۔ ہم نے مولانا کی تفسیر سے طالب علمانہ استفادہ کیاہے اوراسی باعث اس کتاب ’تدبر حدیث‘ کے حوالہ سے نہایت قدرِ ضرورت پر اکتفا کرتے ہوئے اور جو بہت کچھ کہنے کا تھا، اس سے بہ تقاضائے ادب اعراض کیاہے، مگر اس ناخوشگوار کام کے ضمن میں روایات موطا کے مطالعہ سے ایک اس چیز پر دماغ متنبہ ہوا ہے کہ وہی اس مطالعہ کا حاصل ٹھہرتی ہے۔پتہ چلا کہ وہ تمام مرد اور خواتین جن سے بہ تقاضائے بشریت یہ گناہ ہوگیا، ان میں سے کوئی ایک بھی کسی کی رپورٹ پر پکڑ کے نہیں لایا گیا تھا ،بلکہ بعض تو خود احساس گناہ سے مغلوب ہوکر دربار رسالت میں حاضر ہوئے تھے تاکہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی پوری سزاپا کے آخرت کے مواخذہ کی طرف سے مطمئن ہوجائیں۔اور حاضری ہی لکھانے پر اکتفا ان میں سے کسی نے نہیں کیا تھا کہ پاک نہادی کا درہ جم جائے۔آنحضرت ﷺ شبہات کے پہلو نکال کر چھوڑ دینے کی کوشش فرماتے تھے اور یہ ہر شبہ کو رد کرکے ’’پھانسی ‘‘پانے پر اصرار کرتے تھے ۔کیا چیز اللہ اللہ نبوت محمدی میں تھی! کیا شان اس فیض نگاہ کے معجزات کی تھی! مگر کون ہم نام لیواؤں کا حال دیکھ کے یقین کرے گا کہ یہ ’’دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں‘‘ والا حال جو اس کے فیض یافتہ گنہگاروں کا بھی کتابوں میں آیا ہے، وہ حق ہے؟ اللھم صلی علیہ وعلی الہ واصحابہ وسلم تسلیما! 

(۱) یہاں اس بات کا اظہار مناسب ہوگا کہ مولانا سے تعلق رکھنے والے ایک لاہوری دوست (مصطفی صادق صاحب ) نے دو تین سال پہلے لندن کی ایک ملاقات میں حضرت والد ماجد کے بارے میں بتایا کہ اس مسئلہ پر آپ کا بھی ایک خط مولانا اصلاحی کو پہنچا تھا ۔اس کا کوئی جواب مولانا اصلاحی نے دیا ہو ،اس کا علم ان کو نہ تھا ۔

(بشکریہ ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنؤ)

اسلامی شریعت

اگست ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۸

اسلام کا قانون ازدواج اور جدید ذہن کے شبہات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دین کی جامعیت اور ہمارا عمومی مذہبی رویہ
مولانا محمد یوسف

معاصر تہذیبی تناظر میں مسلم علمی روایت کی تجدید
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اچھے استاد کے نمایاں اوصاف
پروفیسر شیخ عبد الرشید

مسئلہ رجم اور مولانا اصلاحیؒ کا تفسیری موقف
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

قورح، قارون: ایک بے محل بحث
ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی

لبنان کی صورت حال اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مکاتیب
ادارہ

ذکر ندیم
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تعارف و تبصرہ
محمد عمار خان ناصر

Flag Counter