لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

اس ماہِ اگست کی ۱۲ تاریخ تھی، ایک فون کسی انگریزی بولنے والے کا آیا۔ میں اپنی سماعت کی کمزوری سے، جو غیر زبان کے معاملے میں زیادہ ہی کمزور پڑجاتی ہے ( خاص کر ٹیلیفون پر) اس سے زیادہ کچھ نہ سمجھ پایا کہ کوئی مجھ سے ’’جہادیوں‘‘ کے بارے میں رائے جاننا چاہتا ہے۔ جب پتہ نہ ہو کہ کون شخص ہے اور کیا تعلق اس کا اس تفتیش و تحقیق سے ہے، تو معذرت کے سوا اور کیا مناسب؟ پس اُدھر سے اصرار کے باوجود معذرت کرکے پیچھا چھڑایا۔ دوسرے دن مفتی برکت اللہ صاحب کا فون آیا کہ لاس اینجلز ٹائمز (امریکہ) کے نمائندہ کو میں نے آپ کا فون نمبر دیا تھا۔ وہ مجھ سے موجودہ حالات پر علماء و ائمّہ کے خیالات جاننے کے سلسلہ میں ملا تھا۔ میں نے اس سے گفتگو کے ضمن میں گذشتہ ماہ کی ابراہیم کمیونٹی کالج والی ۸؍ جولائی کی نشست کا اور اس میں آپ کے خطاب کا ذکر کیا جس کی رپوٹ جنگ میں بھی نکل چکی ہے۔ اس پراس نے خواہش ظاہر کی کہ آپ سے بھی ملے۔ آج اس نے مجھے فون کرکے بتایا کہ آپ اسے وقت دینے کو تیار نہیں ہوئے۔میرے خیال میں توبات کرنا اچھا ہے ۔

اب یہ معلوم ہوجانے پر کہ کون صاحب ہیں، مجھے کوئی عذر نہ رہا ۔مفتی صاحب کو اپنے عذر کا قصہ بتاکر کہا کہ ٹھیک ہے، وہ صاحب اب آنا چاہیں تو فلاں سے فلاں وقت کے درمیان آجائیں۔ اگلے ہی دن صبح ۸ بجے فون آگیا کہ وہ ساڑھے دس بجے آرہے ہیں۔ آئے تو بارہ بجے، جبکہ میرا دیا ہوا وقت ختم ہو چکا تھا، تاہم خوش آمدید کہا اور آدھے گھنٹے کی گنجایش ان کے لیے نکالی، وہ تو اگرچہ زیادہ ہی کے موڈ میں تھے۔ میں نے ۸ جولائی کی میٹنگ اور اپنے خطاب کی تصدیق کی۔ موصوف کی اصل جستجو ’’جہادیوں‘‘ کے بارے میں رائے، مجھے گذشتہ دن کے فون ہی سے معلوم ہو چکی تھی۔اس لیے خود ہی پیش قدمی کرکے کہا کہ ’’جہادی‘‘ کارروائیوں کے نام سے جو کچھ یہاں میڈیا میں آتا ہے،خاص کر برطانیہ کے حوالہ سے، وہ اگر سچ مچ واقعات ہیں،جبکہ ثابت اکثر غلط ہو رہے ہیں، تو بلاشبہ افسوسناک اور قابلِ مذمت۔ اور ہم یقیناً چاہیں گے ایسے واقعات کا سدِّ باب ہو اور جو کچھ ہمارے کرنے کا ہو گا، وہ ہم ضرور کرنا چاہیں گے۔ اور یہی جاننا کہ ہم کیا اس سلسلہ میں کر سکتے ہیں، ۸ جولائی کی ہماری میٹنگ کا اصل مقصد تھا۔ مگرصورتِ حال یہ ہے ،اور یہی اُس دن کی میٹنگ میں میں نے کہا تھا، کہ ہماری حکومت نے ہمارے کچھ کرسکنے کے لیے مشکل ہی سے گنجایش چھوڑی ہے۔ 

یہاں ایسے لوگوں کو اپنے خیالات پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی جو اپنے ملکوں سے صرف اس لیے بھاگے تھے کہ وہاں کے ماحول کے اعتبار سے ریڈیکل ازم پھیلا نے کے ملزم بن رہے تھے۔ ’’اسلامی خلافت‘‘ ان کا نعرہ تھا جس کی رو سے سارے عالم پر اسلامی قانون کا پرچم لہرائے اور کفر سرنگوں ہو۔ یہ قصہ تقریباً بیس سال پہلے شروع ہوا اور کسی نہ کسی شکل میں اب تک چلتا رہا ہے۔ اور ہماری مشہورِ عالم فنسبری پارک مسجد کا نام تو تم نے ضرور سن رکھا ہوگاجس کا ایک خود ساختہ امام تمھارے ملک میں ٹرائل کے لیے مطلوب ہے۔ اکتوبر ۱۰۰۲ء میں افغانستان پر تمھارے حملے کے بعد سے وہ برابر ’’جہادی‘‘ خطبات اس مسجد میں دیتا رہا۔ ایم آئی فائیو کے مخبر اطلاعات بھی پہنچاتے رہے مگر مسجد کی انتظامیہ تک سے نہیں کہا گیا کہ اس کو روکیں۔ پھر ایک وقت خود ہی کسی مصلحت سے اس مسجد کو لاک کیا تو اس شخص کو اس دن تک جس دن تمھارے یہاں سے مطالبہ پر اسے گرفتار کیا گیا، پولیس پروٹیکشن کے ساتھ چھوٹ دی جاتی رہی کہ مسجد کے سامنے کی سڑک بلاک کرکے وہاں خطبہ دے اور نماز پڑھائے۔ مسجد کے علاوہ برٹش میڈیا میں اس کواتنا کوریج دیا گیا کہ خواہ مخواہ ایک ہیروکی حیثیت حاصل کرے۔ Mr Frammolino! پلیز، بتاؤ ان حالات کے اس پس منظر میں کہ بالکل جھوٹے جواز بناکر عراق پر چڑھائی کی گئی ہو، ہزارہا بے گناہ، عورتوں بچوں تک کی تفریق کے بغیر، دن رات وہاں بمباری سے مارے جارہے ہوں ، آبادیاں قبرستانوں میں بدلی جا رہی ہو ں، پھر افغانستان کے ایسے ہی مظالم کی یاد الگ اس سے تازہ ہورہی ہو، اور فلسطین کے مظالم تو ایک معمول کا مسئلہ، بتاؤ کہ ایسے میں کچھ مسلم نوجوانوں کا غم و غصہ اگر اُس انتہا پسندی میں تبدیل ہو جس کی یہ مذکورہ بالا افراد تبلیغ کرتے رہے تھے تواس کا ذمہ دار کون ہے؟

ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے نوجوانوں کو قابو کرو لیکن ان نوجوانوں کو اشتعال دلانے والی اپنی روش کے سلسلہ میں بے نیازی اور بے پروائی کا یہ عالم کہ ساری دنیا کے مقابلہ میں تنہا برطانیہ اور امریکہ ہیں جو اسرائیل کو اپنے کمزور پڑوسی لبنان اور لبنانیوں پر قیامت توڑے جانے کے لیے یو این او میں تحفظ دینے پرذرا نہیں شرما رہے ۔ اس روش سے بازآنے کے بجائے جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ صرف یہ کہ اس کے ردِّ عمل کو قطعًا بے جواز اورخالص اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی ٹھیرا کرایسے نئے نئے سخت قانون وجود میں لا ئے جارہے ہیں جن پر عملدرآمد اس اشتعال کے حلقہ کو وسیع تر کیے دے رہا ہے۔ پوری مسلم آبادی ان قوانین کی زد میں آ پڑی اور احساسِ تحفّظ سے محروم ہوئی جارہی ہے۔اس Draconian قانون سازی کے لیے کہا جاتا ہے کہ’’ رولز آف دی گیم چینج‘‘ ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ وہ استدلال ہے جو اپنے نوجوانوں کے اشتعال کو حدود میں رکھنے کی ہماری کوششوں کو اور بھی بے اثر کردے۔ ’’گیم‘‘ کے قواعد وضوابط کو تبدیل کرنا کسی کااجارہ دارانہ حق تو نہیں ہو سکتا ہے۔ قابو سے باہر جانے کو بجا سمجھنے والے نوجوان بھی پلٹ کر ہم سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اور جمہوری نظام کے حدود و قیود کے حوالہ سے آپ جو کچھ کہتے ہیں، سب بجا ۔مگر کچھ حالات ایسے بھی ہوجاتے ہیں کہ’’ رولز آف دی گیم ‘‘چینج کردینا پڑیں! اور سچ یہ ہے کہ جب تک یہ رولز آف دی گیم چینج ہونے کی بات اپنے پرائم منسٹر کی زبان سے نہیں سنی تھی، تب تک یہ سمجھنے میں دقت ہو رہی تھی کہ مسلمانوں کا کوئی طبقہ سیوسائڈ بومبنگ جیسے وہ اقدامات کیسے روا رکھ رہا ہے جس میں بے گناہ بھی نشانہ بنتے یا بن سکتے ہیں۔ پرائم منسٹر بلیر کے اس اعلان نے یہ دقّت حل کردی ۔ اندازہ ہوا کہ ہو نہ ہو، یہ بالکل اسی طرح رولز آف دی گیم میں چینج جائزسمجھنے کا نتیجہ ہے جس طرح مسٹر بلیر نے اسے جائز سمجھا ہے۔ مسٹر بلیر نے جب اسے جائز سمجھ لیا تو اس پر عملدرآمد کا راستہ روکنے کو شہری آزادی کی پہریدار انجمنیں جو زور لگا سکتی تھیں، لگاکے رہ گئیں۔ برطانوی عدلیہ جو کچھ مزاحمت کر سکتی تھی، کرکے ناکام ہوگئی۔ ہاؤس آف لارڈز کے پاس جتنی پاور اس کی راہ میں حائل ہونے کی تھی، سب آزما کے ہار گیا۔ پرائم منسٹر کسی کے روکے نہ رکے۔ہم اماموں اور علماء کے پاس وہ کون سااختیا ر واقتدار ہے کہ ہمارے روکے یہ دوسری طرف کی ’’رولز چینجڈ‘‘ کی سوچ رُک کے رہ جائے ،جبکہ پرائم منسٹر اپنی روش میں تبدیلی کی سوچ کو تیار نہ ہوں؟ ہم برطانیہ کے اندر رہنے والے کسی شخص کے لیے روا نہیں رکھتے کہ حکومت کی کسی پالیسی پر احتجاج میں تشدّد کی حد تک چلا جائے۔ جو ایسا کرے گا، جرم کرے گا، مگر جب اس کے اسباب کے تجزیہ کا سوال آئے گا تو حکومت کی پالیسی کو زیرِ بحث نہ لایا جانابے انصافی ہوگی! 


یہ باتیں جس دن مسٹر فرامولینو سے کی جا رہی تھیں، اس سے دو دن قبل برطانیہ کے مسلم نمائندگان، بشمول مسلم پارلیمینٹیرینز، کا کھلا خط بنام پرائم منسٹر اسی مسئلہ پر شائع ہوا تھا اور دوسرے دن اس پر پرائم منسٹر کے کابینی ساتھیوں کا نہایت تلخ ردِّعمل آگیا تھا۔ یہ خط اس لحاظ سے بہت اہم تھا کہ پرائم منسٹر کے اس مسلسل اصرار کے باوجود کہ اس معاملہ میں ان کی خارجہ پالیسی کی طرف بھی انگلی اُٹھانا تشدد اور دہشت گردی کو جواز دینا ہے، ملک کے سات مسلم پارلیمینٹیرینز میں سے پورے چھ نے مسلم رائے عامہ سے ہم آواز ہو کر اس اصرار کو بالکل صاف طور سے، اگرچہ دانشمندانہ ڈھنگ سے، مسترد کردیاتھا۔ خط پرحکومت کا رد عمل اور جو کچھ نت نئے ’’حفاظتی‘‘ قوانین پر عملدرآمد کی صورت میں مسلسل ہورہا ہے، وہ اگر ایک طرف اس ملک میں مسلم کمیونٹی کے مستقبل پر چھاتے ہوئے خطرات کا بھر پور اظہار کرتا ہے، جس پر نہایت سنجیدہ ہو نے کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف یہاں کے مسلم پارلیمینٹیرینز کی مسلم رائے عامہ کے ساتھ ہم آہنگی ایک بڑی نیک فال ہے۔ ان حضرات نے یہ قدم یقینًا بہت دورتک سوچ کر اُٹھایا ہوگا۔ اللہ اس راستہ کی تمام ضرورتوں کے ساتھ ان کی مددفرمائے اور ملّی اکائیوں کے نمائندہ حضرات نے ان کی تائید میں اپنے دستخطوں سے جس یکجہتی اور یک زبانی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کو استقامت نصیب ہو۔ آمین 

اخبار و آثار

نومبر ۲۰۰۶ء

جلد ۱۷ ۔ شمارہ ۱۱

اقبالؒ کا تصور اجتہاد: چند ضروری گزارشات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

لاس اینجلز ٹائمز کے نمائندے سے ایک گفتگو
مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

علامہ اقبال کے تصورات تاریخ
پروفیسر شیخ عبد الرشید

نطشے کا نظریہ تکرارِ ابدی اور اقبال
ڈاکٹر محمد آصف اعوان

اسلامی تہذیب کی تاریخی بنیاد
پروفیسر میاں انعام الرحمن

اقبال کا خطبہ اجتہاد: ایک تنقیدی جائزہ
الطاف احمد اعظمی

مکاتیب
ادارہ