قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد کے سوالات

دراصل جو سوالات ہم نے خورشید صاحب کے لیے ترتیب دیے ہیں، وہ بنیادی طور پر قائد اعظم کے خطبۂ لاہور (1940ء) کے ایک اقتباس سے متعلق ہیں۔ میں یہ اقتباس آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، اور پھر سوالات پیش کروں گا۔ قائد اعظم نے فرمایا تھا:

’’قوم کی ہر تعریف کے مطابق مسلمان ایک قوم ہیں۔ ان کا اپنا وطن، علاقہ اور اپنی ریاست ہے۔ ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن اور ہم آہنگی سے رہنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ہم اپنے لوگوں کا آزاد اور خودمختار تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہمارے لوگ اپنی روحانی، تہذیبی، معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی کو اپنی سوچ اور نظریات کے مطابق اس طرح استوار کریں جیسا کہ وہ چاہتے ہیں۔ ہماری قوم اپنے مقصد اور منزل کے حصول کے لیے کسی قسم کی دھمکی یا خطرے سے مرعوب نہیں ہو گی۔ میں اپنے لوگوں سے التجا کروں گا کہ تمام تر مشکلات اور مسائل کے باوجود ہمیں ہر اس قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔‘‘

اس اقتباس کی روشنی میں ہم نے کچھ سوالات مرتب کیے ہیں، جن کا تعلق پاکستان، امتِ مسلمہ، نوجوانوں، خواتین اور علم و تحقیق سے ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے کے طور پر وجود میں آیا تھا جو دنیا بھر کے لیے اسلام کے موجودہ دور میں قابلِ عمل بلکہ مفید اور بابرکت ہونے کا ثبوت پیش کرے۔ تاہم، داخلی معاملات کے علاوہ، بیرونی طور پر بھی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں نے ایک ایسے عالمی نظام کو جنم دیا ہے جس میں ایک مختلف بلکہ متضاد نظام کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔

  1. اس منظرنامے میں پہلا سوال یہ ہے: آپ کے خیال میں پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجز کیا ہیں؟ اور ان چیلنجز کی موجودگی میں آپ مستقبل کا منظرنامہ کیا دیکھتے ہیں؟
  2. ہم ایک وسیع تر تناظر میں یہ جاننا چاہیں گے کہ مسلم دنیا اس وقت جس انتشار کا شکار ہے، اور خود اسلام کو مسلم معاشروں ہی میں جن سوالات کا سامنا ہے، ان کا بہتر جواب کیا ہے؟ مغرب کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے تعلقات کے حوالے سے کیا نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے؟
  3. نوجوانوں کے لیے پیغام: نوجوان اپنی تعداد کے حوالے سے مسلم دنیا کا ایک بڑا سرمایہ ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے، بالخصوص، آپ کیا نصیحت فرمائیں گے؟
  4. چوتھا سوال: مسلم معاشروں میں خواتین کا مقام اور کردار ہمیشہ سے مسلّمہ رہا ہے۔ اس وقت خواتین کا سماجی کردار تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ایسے میں خواتین کے حوالے سے معاشرے کا، اور خود خواتین کا نقطہ نظر اور اندازِ فکر و عمل کیا ہونا چاہیے؟
  5. اور آخری سوال، جو آپ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہے: علم و تحقیق کسی بھی تہذیب اور معاشرے کی ترقی کے لیے اہم ہیں۔ اس میں کھویا ہوا نشانِ راہ پانے کی کیا سبیل ہے؟

یہ ہمارے سوالات ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنی رہنمائی کے لیے آپ سے درخواست کریں۔

پروفیسر خورشید احمد کی گفتگو

بہت شکریہ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ اما بعد، اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، رب اشرح لی صدری و یسرلی امری و احلل عقدۃ من لسانی یفقہوا قولی۔

برادرانِ عزیز خالد رحمان، ندیم، میرے نہایت عزیز، محترم اور قابلِ احترام ساتھیو، بھائیو، بہنو، بیٹیو! سب سے پہلے تو میں آپ کا، اور خاص طور پر آئی پی ایس کے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے اس محفل کا انتظام کیا اور آپ نے شرکت کی۔ میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ دیکھیے، سچی بات یہ ہے کہ میری زندگی حیرانوں سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن خالد رحمان بھائی نے مجھ سے کہا کہ ہم 23 مارچ کو ایک پروگرام کر رہے ہیں، آپ اس میں تشریف لائیں۔ تو میں نے کہا: سر آنکھوں پر۔ پھر جب انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ کی (یومِ پیدائش) ہے، تو میں تعجب میں پڑ گیا۔ میں نے کہا: یہ 85 سال کے بعد کیسے یاد آ گیا ہمارے ساتھیوں کو؟ پھر جب نوفل کا ای میل دیکھا تو گھبرایا کہ یہ تو فی الحقیقت ایک دھماکہ خیز موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ تو یہ میرے لیے ایک حیرت تھی۔ اس پہلو سے بھی کہ اس 85 سال میں اللہ کا بڑا کرم، اس کی بڑی عنایت ہے کہ اس نے مجھے یہ موقع دیا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس طریقے سے کوئی محفل منعقد ہو رہی ہے۔ بچے ضرور مجھے گھر پر مبارکباد دیتے رہے ہیں، کیک کھلاتے رہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر کبھی ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوا۔ اور غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ کوئی غلط چیز نہیں ہے، لیکن بحیثیت مجموعی ہماری تاریخی روایت یہ نہیں ہے۔ ہماری تاریخی روایت، اگر کوئی ہے، تو وہ ہے جو ایک شعر میں سمو دی گئی ہے:

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی

یعنی جو مدت آپ لے کر آئے ہیں اللہ کے حضور سے، اور جو موقع آپ کو اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کا ہے، اب اس میں اور کمی ہو گئی ہے۔ تو یہ ہماری روایت رہی ہے۔ لیکن بہرحال، زمانے کا چلن ہے، دستور ہے، آپ نے بھی اس کا انعقاد کیا۔ میں بے حد ممنون ہوں، بہت بہت شکریہ۔

دوسری حیرت آپ نے سوالات کی شکل میں دی۔ اس پر مجھے امیر خسرو یاد آئے، جو بڑے مشہور شاعر، بذلہ سنج اور ادیب ہیں۔ وہ ایک مرتبہ کسی دیہات میں گئے، پیاس لگی، کنویں پر پانی پینے کے لیے گئے۔ کنویں پر خواتین کا قبضہ تھا، اور وہ انہیں آگے نہیں بڑھنے دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا: اب میں آپ سب کے جانے کا انتظار کروں، اس میں تو بہت وقت لگے گا، مجھے موقع دیں کہ میں پانی پی لوں۔ اس دوران کچھ نے انہیں پہچان لیا اور آپس میں کھسر پھسر شروع کر دی کہ یہ تو خسرو ہے، اس سے کہو پہلے ہمیں کچھ سنائے، پھر ہم اسے موقع دیں گے۔ تو ایک نے فرمائش کی، موضوع دیا: "کھیر"۔ دوسری نے کہا: "چرخا"۔ تیسری نے کہا: "کتا"۔ چوتھی نے کہا: "ڈھول"۔ کہ پہلے ہمیں ان کے بارے میں کچھ کہو، پھر ہم اجازت دیں گے۔ تو امیر خسرو جیسا بذلہ سنج کہاں کوئی ہو سکتا تھا۔ انہوں نے فوراً کہا:

کھیر پکائی جتن سے، چرخا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا، تو بیٹھی ڈھول بجا

لا، پانی پلا۔ لیکن میرا ساتھ یہ ہوا، انہوں نے چار نہیں، پانچ سوال دے دیے۔ بہرحال، میں کوشش کرتا ہوں کہ مختصراً ان کے بارے میں کچھ گزارشات پیش کروں۔

اور اس کا آغاز میں اس بات سے کرتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک ایسے گھر میں پیدا کیا جو مسلمان گھرانہ ہے۔ کہیں بھی پیدا ہو سکتا تھا اور کچھ بھی میری قسمت ہو سکتی تھی۔ پھر ایسے ماں باپ اور گھر کا ماحول میسر کیا جس نے شروع ہی سے میری تربیت ایک خاص رخ پر کی، اور وہ خیر اور اچھائی کا رخ تھا۔ مجھے بالکل اپنے بچپن ہی میں علمی ادبی ماحول ملا۔ ہم کرول باغ میں رہتے تھے، جامعہ ملیہ قریب ہی تھی۔ اور ہر سال وہ محمد علی ٹرافی مقابلے ہوا کرتے تھے، جس میں کھیل بھی تھے، نظم پڑھنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا، تقریر کا بھی ہوتا تھا، بچوں اور نوجوانوں کے لیے۔ میں نے سات آٹھ سال کی عمر میں نظم پڑھنے، مباحثوں اور کھیلوں میں حصہ لیا۔ یہ تین دن کا پروگرام ہوتا تھا، وہیں ٹھہرنا پڑتا تھا، زمین پر سونا ہوتا تھا، تو ایک کیمپنگ لائف تھی۔ یہ بڑے اہم تجربات تھے زندگی کے۔

پھر تحریکِ پاکستان، ہندو مسلم فسادات، آزادی کی تحریک۔ 1942ء میں آزادی کی تحریک کو قوت سے کچلنے کی برطانوی کوشش۔ پھر 1945ء/46ء کے انتخابات۔ میری پوری فیملی مسلم لیگ سے وابستہ تھی۔ میں بچوں کی انجمن کا سب سے کم عمر صدر بنا تھا۔ اور بچہ مسلم لیگ کا دلی میں صدر منتخب ہوا۔ اینگلو عریبک ہائر سیکنڈری اسکول میں میری ثانوی تعلیم ہوئی، جو تحریکِ پاکستان کا مرکز تھا۔ اس کے بزمِ ادب کا مجھے سیکرٹری بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اور ہر ہفتے کم از کم ہمارے جلوس اسمبلی کی طرف پاکستان کی تائید کے لیے آیا کرتے تھے۔ انتخابی مہم میں شب و روز ہم نے کوشش کی۔ ڈاکٹر عبدالغنی قریشی ہمارے امیدوار تھے دلی میں، انہیں کامیاب کروایا۔ میرے والد کے بہت گہرے دوست تھے وہ۔ یعنی یہ سب دور سے میں گزرا ہوں۔ پھر میں نے 3 جون کی تقریر بھی ریڈیو پر سنی، اس زمانے میں ٹی وی نہیں ہوا کرتا تھا۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پھر 3 ستمبر 1947ء کو مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ اور گھر سے اس حالت میں نکلے کہ ایک تانگے میں، جو کچھ ہمارے بدن پر تھا یا ہاتھوں میں تھا، بس اسے لے کر آئے۔ اور پھر میرا گھر لوٹا گیا، جلایا گیا۔ پھر جہاں ہم نے پناہ لی تھی، وہاں پر حملہ ہوا۔ اور کئی راتیں ایسی گزری ہیں کہ جس میں پوری پوری رات ہم جاگے ہیں، ایک مکان سے دوسرے میں۔ ایک رات مجھے یاد ہے کہ اچھی جگہ ہمیں ملی ایک رات کے لیے۔ اور وہی رات تھی جس میں میں نے اپنی ناک سے خود انسانی چربی کے جلنے کی بدبو سونگھی ہے۔ پھر میں ایک مہینہ مہاجر کیمپ میں بھی رہا ہوں۔ ہمایوں کے قلعے پر جو کیمپ تھا، وہاں ہم رہے ہیں، وہاں خدمت کرتے رہے ہیں۔ وہاں سے گاڑیاں جا رہی تھیں۔ پھر وہاں سے چونکہ میرے والد الحمدللہ متمول لوگوں میں سے تھے، تو ہم نے پھر ہوائی جہاز سے آنے کا طے کیا۔ اور خاندان کا ایک حصہ دسمبر 1947ء میں، اور میں خود اور میرے والد اور والدہ 12 فروری 1948ء کو پاکستان منتقل ہوئے۔ اور اس کے بعد سے میں نے وہ گھر اور وہ جگہ نہیں دیکھی۔ تو اس سب دور سے میں گزرا ہوں۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مسلمان گھرانے میں مجھے پیدا کیا، اچھے گھرانے میں پیدا کیا، اور مجھے موقع دیا۔

پھر اس کے بعد جب ہم لاہور آگئے۔ میرے بڑے بھائی مجھ سے پہلے آ گئے تھے تو انہیں ایف سی کالج میں داخلہ مل گیا۔ میں چونکہ فروری میں آیا، سال شروع ہو چکا تھا، تو مجھے کہیں داخلہ نہیں ملا۔ ایک ہی کالج تھا، ٹی آئی کالج، جو قادیانیوں کا تھا۔ اور ایف سی کالج کے بالکل پیچھے ایک عارضی جگہ تھی جہاں وہ کالج تھا، پھر وہ دیال سنگھ میں منتقل ہوئے۔ وہاں میں نے داخلہ لے لیا۔ اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ میرا دوسرا کلاس فیلو، بہار سے آیا ہوا، وہ جو آج کل ڈاکٹر ای کیو، اقبال احمد، مشہور سوشلسٹ، جن کا انتقال ہو چکا ہے، ہم دونوں کلاس فیلو تھے اور اچھے دوست تھے۔ اور وہیں پر ہمیں پہلی مرتبہ سوشلزم اور اسلام کے بارے میں بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اور ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نوجوانوں کا مستقبل یا تو سوشلزم میں ہے یا اسلام میں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ سوشلزم کی طرف چلے گئے اور میں اسلام کی طرف آ گیا۔ 1949ء میں پہلی مرتبہ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے میں آشنا ہوا۔ الحمدللہ جو روایتی دینی زندگی ہے وہ ہم گزارتے تھے، لیکن یہ ذہن کہ اسلام کیا ہے، اسلام کیسا انسان چاہتا ہے، اسلام کیسا معاشرہ چاہتا ہے، اسلام تاریخ کو کس سمت میں لے جانا چاہتا ہے، اس کا کوئی ہمیں زیادہ شعور نہیں تھا۔ یہ 1949ء سے جماعت سے تعارف، پھر 1950ء میں میں جماعت اسلامی کا رکن بنا، جنوری میں۔ فوراً ہی بعد دو تین مہینے کے اندر ناظم کراچی منتخب ہو گیا۔ پھر ناظم سندھ، پھر ناظم اعلیٰ۔ جنہیں 1951ء، 1952ء میں، جب یہ اسکول میں تھے، جماعت اسلامی کا جو پہلا... بنا تھا، اس میں مسلم سجاد اور محبوب علی اور سب ساتھی... بھی شریک تھے۔ تو اس طرح پھر تحریکی زندگی کا آغاز ہوا۔ اور اس کے بعد کی چیزیں آپ کے سامنے ہیں۔

تو پہلا اللہ کا کرم یہ ہے کہ اس نے مسلمان گھرانے میں پیدا کیا۔ دوسرا یہ کہ ایسا گھرانہ جس میں بہرحال دین کا شعور تھا اور اس نے میری زندگی کو ایک بہتر رخ پر ڈالا۔ اور پھر اس نے مجھے تحریکِ اسلامیہ کو جاننے کی توفیق دی۔ اور اس سے بھی پہلے ایک اور چیز یہ کہ وہ دور مجھے ملا جس میں تحریکِ اسلامی موجود تھی۔ اس لیے کہ ہماری تاریخ میں ایسے ادوار بھی گزرے ہیں کہ جن میں اسلام تو تھا لیکن اسلام کے لیے جدوجہد اور اسلام کے لیے اجتماعی، دعوتی اور تبدیلی کی جو رو ہے، وہ نہیں تھی یا کمزور تھی۔ تو مجھے وہ دور ملا۔ اور پھر مجھے یہ توفیق بھی نصیب ہوئی کہ میں اسے دیکھ سکا۔ اور میری یہی دعا ہے کہ آخری سانس تک اسلام اور اسلامی تحریک کے ساتھ میرا رشتہ قائم رہے۔

اس پس منظر میں آئیے، جو سوالات آپ نے اٹھائے ہیں، ان پر تھوڑا سا غور کریں۔ بلاشبہ آج یہ ایک اتفاق ہے کہ میرا یومِ پیدائش یہی ہے۔ لیکن اصل چیز یہ ہے کہ مارچ کی اہمیت ہماری تاریخ میں کم از کم تین پہلوؤں سے ہے۔

  1. پہلی: تئیس اور چوبیس مارچ 1940ء، جب قراردادِ مقاصد (پاکستان) پیش ہوئی، سیر حاصل بحث ہوئی، اور اسے قبول کیا گیا۔ اور قراردادیں تو پیش بھی ہوتی ہیں، قبول بھی ہوتی ہیں، لیکن وہ قراردادیں جو تاریخ کے رخ کو موڑ دیں، وہ بہت کم ہوتی ہیں۔ تو اس پہلو سے مارچ، اور یہ تئیس مارچ، اور قراردادِ پاکستان کا منظور ہونا اور اس کی روشنی میں ہمیشہ اس کو منایا جانا، یہ بہت بڑی چیز ہے، ہم آج اس کا جشن منا رہے ہیں۔
  2. دوسری: الحمدللہ، یہ بھی ہے کہ قراردادِ مقاصد جس قسم کا پاکستان بنانا چاہتی تھی، اس کا واضح ترین اظہار، قراردادِ مقاصد میں، جو 9 مارچ 1949ء کو پیش ہوئی اور 12 مارچ 1949ء کو منظور ہوئی، پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں، اس اسمبلی نے جو پاکستان بنانے کی جدوجہد میں سب سے آگے تھی، اور جسے پوری تحریک نے یہ کام سونپا تھا کہ ملک کا مستقبل، اس کا آئندہ کا نظام، اس کا دستور، اس کی منزل متعین کرے گی۔
  1. اور تیسری: یہ ہے کہ اس کی روشنی میں 1956ء کا جو دستور بنا، اس دستور کا نفاذ بھی 23 مارچ 1956ء کو ہوا۔ یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے کہ ایوب خان نے اکتوبر 1958ء میں اس دستور کو منسوخ کر دیا۔ لیکن 1956ء کا دستور آج بھی رہنما ہے۔ اور بعد کے جتنے دساتیر بھی بنے ہیں، وہ اس سے ہٹ نہیں سکے، ہٹائے جانے کی ہر کوشش کے باوجود۔ اس کی میں ذرا سی وضاحت کر دوں اگر تاریخ آپ کے سامنے نہیں ہے تو۔ ایوب نے جب دستور کو منسوخ کیا، تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ اب پاکستان ایک سیکولر ریاست ہو گا، اسلامی ریاست نہیں ہو گی۔ بلکہ سکندر مرزا نے تو یہاں تک کہا تھا کہ وہ سب لوگ جو اسلامی دستور کی بات کرتے ہیں ان کو کشتیوں میں بٹھا کر بحیرۂ عرب میں ڈال دو۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔ لیکن اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ لوگ تو یہیں رہے، لیکن سکندر مرزا کو ایک ماہ کے اندر ہی اسی ملک سے جانا پڑ گیا۔

پھر ایوب نے 1962ء میں جو "I, Muhammad Ayub Khan, Field Martial Ayub Khan" کے نام سے دستور دیا تھا، آپ کو معلوم ہے کہ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بجائے جمہوریہ پاکستان تھا۔ اور اس میں سے قراردادِ مقاصد کے جو دینی پہلو تھے وہ نکال دیے گئے تھے۔ اور 1956ء کے دستور میں جو یہ فقرہ تھا کہ کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو گی، یہ نکال دیا گیا تھا۔ 1962ء میں اس نے یہ دستور نافذ کیا ہے۔ اس کے تین مہینے میں نئی اسمبلی بنی۔ اور اس اسمبلی کے اندر جو پہلی بڑی بحث ہوئی، وہ سیاسی جماعتیں ایکٹ پر ہوئی۔ اور اس ایکٹ میں اس اسمبلی نے لڑ کر یہ شق قانون کا حصہ بنائی کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اسلامی نظریے سے مطابقت رکھے اور اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے۔ اس پر بڑی بحث ہوئی۔ سیکولر طبقے نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

اور واضح رہے کہ اس وقت جسٹس منیر قانون کے وزیر تھے۔ اور یہ اس قانون کو پائلٹ کر رہے تھے۔ اور شرمناک بات ہے، ہمارے عدلیہ کا اتنا اونچا شرف، اس شخص نے اپنی کتاب From Jinnah to Zia میں لکھا ہے کہ اسلامی نظریے اور پاکستانی نظریے کا لفظ جنرل ضیاء الحق نے متعارف کروایا۔ اور اس کے بعد سے جو لبرل لیفٹسٹ لابی ہے، یہ بکواس کرتی ہے۔ آپ 1962ء کی اسمبلی کی کارروائی نکال کر پڑھ لیں، میں نے اسے اپنی حالیہ تقاریر میں حوالہ دیا ہے، کہ اس شخص نے پہلے اسلامی نظریے کے لفظ کی مخالفت کی وہاں پر۔ یہ قانون کا حصہ ہے۔ اور پھر جب اسمبلی نے اصرار کیا کہ نہیں، ہم یہ رکھیں گے، تو اس نے یہ کہا کہ میں بہت دکھی ہوں لیکن بہرحال میں نے غور کیا ہے اور آپ اگر اصرار کرتے ہیں تو ہم اس کو شامل کر لیتے ہیں۔ یہ اس کے الفاظ تھے۔ یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔

پھر اس کے بعد جب 1962ء کے دستور پر ترمیم آئی تو پہلی ترمیم یہ تھی کہ پاکستان کا نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان" بحال کیا گیا۔ قراردادِ مقاصد کو، ان الفاظ کے ساتھ جس میں وہ منظور ہوئی تھی، بحال کیا گیا۔ اور دستور کی یہ شق کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو گی، یہ بحال کی گئی۔ یہ تینوں چیزیں 1964ء میں، جبکہ ہم جیل میں تھے، اس وقت اسمبلی نے منظور کیں۔ تو فرار کی پوری پوری کوششیں ہوئیں۔ 1956ء کا آئین آج بھی...

پھر یہی چیزیں آپ کو 1973ء کے آئین میں ملیں گی۔ اس کا پہلا مسودہ جو آیا ہے، اس میں اسے سوشلسٹ جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا۔ اس کا آرٹیکل 3 یہ تھا کہ ریاست ایک سوشلسٹ ریاست ہو گی۔ پیپلز پارٹی اکثریت میں تھی، لیکن اس زمانے کی اسمبلی کے لوگوں نے جس ہمت سے، اور عوام نے جو تائید ان کی کی، اس پوری جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ دستور ان تمام شقوں کو لایا جو 1956ء کے دستور میں تھیں، اس سے بہتر شکل میں لایا، اور اتفاقِ رائے کی شکل میں لایا۔ اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ 1973ء کا آئین بنیادی طور پر ایک اسلامی آئین ہے، ایک جمہوری آئین ہے، ایک فلاحی آئین ہے، اور ایک وفاقی آئین ہے۔ یہ چاروں خوبیاں اس کے اندر ہیں۔

تو مارچ کی یہ اہمیت ہے۔ اس پہلو سے ہم آج اس کو منا رہے ہیں۔ لیکن ایک دو نکات اور بھی میں آپ سے اس ضمن میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اور وہ یہ ہیں کہ مارچ 1940ء کی جو قرارداد ہے، اس کی حقیقت کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے۔ اور بدقسمتی سے اس کی حقیقت کو غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

دیکھیے، بنیادی بات یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے ایک نظریاتی امت تھے۔ ہماری امت کی بنیاد رنگ پر نہیں ہے، نسل پر نہیں ہے، زبان پر نہیں ہے، زمین پر نہیں ہے، مفادات پر نہیں ہے، حتیٰ کہ مشترکہ تاریخ پر نہیں ہے۔ اس کی بنیاد عقیدے پر ہے۔ اس کی بنیاد ایمان پر ہے۔ اس کی بنیاد نظریے پر ہے۔ اس کی بنیاد قرآن و سنت سے ہماری وفاداری پر ہے۔ تو یہ ہماری شناخت ہے۔ پہلے دن سے آج تک۔ عملاً انحرافات ہوئے ہیں، کمزوریاں دکھائی ہیں ہم نے، اُتار چڑھاؤ ہوئے ہیں، اس سے انکار نہیں۔ اور حقائق کے بارے میں کبھی بھی ہمیں صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے، اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ لیکن حقائق کی تعبیر، ان کی تفہیم، اور ان کی روشنی میں آئندہ کی تشکیل اور تعمیر، یہ الگ چیز ہے۔ لیکن حقائق، حقائق ہیں۔

جب برصغیر میں پہلا مسلمان آیا ہے، اور وہ محمد بن قاسم نہیں تھے۔ وہ دورِ رسالت مآبؐ میں صحابہ کرامؓ تشریف لائے تھے۔ سندھ میں بھی آئے ہیں، مالابار میں بھی آئے ہیں۔ اس کے بعد پھر محمد بن قاسم۔ اس سے ایک اسلامی دور قائم ہوا، اسلامی حکمرانی قائم ہوئی، بلاشبہ ایک بڑا اہم ارتقاء تھا۔ پھر شمال سے مسلمان آئے اور پھر مسلمانوں کا دورِ اقتدار شروع ہوا۔ آپ یہ دیکھیے، اس پورے دور میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے اسلام دوسروں پر تھوپا ہو۔ زبردستی مذہب تبدیل کرانے کا کوئی واقعہ ہمیں نہیں ملتا۔ اورنگزیب کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ صریح تاریخی جھوٹ ہے، جن کی تردید خود ہندوستان کے محققین نے کی اور کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے تشخص، اپنی اجتماعی زندگی، اپنے ادارے قائم کیے، اور غیر مسلموں کو بھی پورا پورا موقع دیا کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق، اپنی روایات کے مطابق کام کریں۔ حتیٰ کہ ان کے ذات پات کے نظام کو بھی زبردستی نہیں ختم کیا۔ دعوت و تبلیغ سے اس میں دراڑیں پڑیں، اور اس سے نکل کر کے آئے۔ لیکن کوئی واقعہ جبر کا اور ظلم کا اور قوت کے استعمال کا نہیں ملتا۔

جہاں تک میں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے، مسلمانوں کے پورے دور میں ہندو مسلم فسادات کا کوئی تصور اور کوئی مثال ہمیں نہیں ملتی۔ ٹھیک ہے، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جنگیں ہوئی ہیں۔ اور مسلمانوں کی فوج میں ہندو جرنیل اور ہندو سپاہی بھی رہے ہیں۔ انتظامیہ میں بھی دونوں نے شرکت کی ہے، کبھی کم کبھی زیادہ۔ لیکن عوامی سطح پر ہندو مسلم فسادات کا کوئی تصور نہیں۔ یہ پہلی مرتبہ انیسویں صدی کے آخری چوتھائی میں ہوا ہے۔ اس وقت سے یہ فتنہ، برطانیہ کے دور میں، آپس میں لڑانے کے لیے کیا گیا۔ پھر اس کی مثالیں آپ کو بعد میں ملتی ہیں۔ تو یہ جبر ہم نے کبھی نہیں کیا۔ لیکن اپنا جو جداگانہ تشخص ہے، اور اس سلسلے کی جو اہم ترین شہادت ہے، وہ میرے خیال میں البیرونی کا سفرنامہ ہے۔ جس میں ساری دنیا کا سفر کیا ہے، جب وہ ہندوستان آیا ہے، ہندوستان کے بارے میں اس نے بتایا ہے کہ یہاں کا کلچر کیا ہے، ہندو کیسے ہیں، بدھ کیسے ہیں، مسلمان کیسے ہیں، اور کس طرح یہ برادریاں ساتھ رہتی ہیں لیکن بحیثیت خودمختار برادریوں کے۔ تو یہ ہماری تاریخ ہے۔

اور اس کے اندر پھر اقتدار میں جو لوگ رہے ہیں، ان میں اچھے بادشاہ بھی رہے ہیں اور برے بھی رہے ہیں۔ وہ بھی رہے ہیں جنہوں نے اسلام کا احترام کیا ہے، اسلامی قوانین کو ترویج دی ہے۔ اور وہ بھی رہے ہیں جنہوں نے اسلام سے انحراف کیا ہے، اور بدلنے کی کوشش کی ہے، حتیٰ کہ "دینِ الٰہی" بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ پوری تاریخ ہے۔ لیکن جداگانہ تشخص ایک حقیقت ہے۔ تو مسلمانوں کا ایک نظریاتی قوم ہونا، یہ کوئی نیا تصور نہیں تھا 1940ء میں۔ صرف یہ اس حقیقت کا ادراک، اور اس ادراک کی روشنی میں سیاسی نقشہ کیسا ہو، یہ مسئلہ تھا۔ وہ بھی کیوں ہوا؟ تاریخ یہ بتاتی ہے ہمیں کہ بیرونی کسی قوت نے جب بھی آ کر کے کسی ملک پر قبضہ کیا ہے، جب وہ وہاں سے گیا ہے، تو اس سے ماقبل جو حکمران تھا، وہ بحال ہو گئے۔ یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، یہ حال میں بھی ہوا۔ یعنی جب لیبیا پر اٹلی کا راج ختم ہوا ہے، تو جو اس سے پہلے بادشاہ تھا اس کو بلا کر سربراہ بنایا گیا۔ سپین میں ابھی بیسویں صدی کے دوسرے بلکہ تیسرے چوتھائی حصے میں جب فرانکو کا دور ختم ہوا ہے تو جو سپین کا بادشاہ تھا فرانکو کے آنے سے پہلے، اسے دوبارہ اقتدار دیا گیا۔ یہ تاریخ کی ایک روایت رہی ہے۔

تو مسلمان بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ انگریز جب جائے گا، تو ہم سے اقتدار چھینا گیا ہے، ہم اقتدار میں آئیں گے۔ اور آزادی کی جنگ میں مسلمان پیش پیش تھے، خواہ وہ 1857ء کا واقعہ ہو، اس سے پہلے مجاہدین کی جدوجہد ہو، اس کے بعد کے واقعات ہوں، لیکن پھر آہستہ آہستہ مسلمانوں پر یہ حقیقت روشن ہو گئی کہ اب جو جمہوریت کا دور ہے، یہ گنتی کا معاملہ ہے۔ اور اس میں جس کی تعداد زیادہ ہو گی وہ حاوی ہو گا۔ آپ کو معلوم ہے کہ میونسپل اصلاحات کی جو تحریک ہے ہندوستان میں، وہ 1890ء کی دہائی میں شروع ہو گئی تھی۔ سرسید پہلے لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اس کا شعور کیا اور انہوں نے یہ کہا کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سیاسی مستقبل کی جو تشکیل ہے وہ ازسرِنو کرنی پڑے گی۔ ورنہ مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہم غالب آجائیں گے۔

پھر خوش قسمتی یا بدقسمتی سے جب تحریکِ خلافت، جو میری نگاہ میں پہلی عوامی تحریک ہے — اس سے پہلے جو مزاحمت تھی، وہ محدود تھی، علمی تھی، یا تلوار کی بنیاد پر تھی، لیکن یہ کہ وہ محدود تھی — یہ عوامی تھی۔ جس میں کئی لاکھ افراد جیلوں میں گئے ہیں۔ جس میں ہزاروں افراد ہجرت کر کے افغانستان اور دوسرے علاقوں کو گئے۔ یہ عوامی تحریک تھی۔ اور اس میں ان کا خیال یہ تھا، کہ لیڈ مسلمان کر رہے تھے اس کو، تو ہندوؤں نے محسوس کیا کہ یہ عوامی تحریک اگر آزادی کی تحریک بن جاتی ہے، اور مسلمان لیڈ کرتے ہیں، تو سیاسی نقشہ بالکل مختلف ہو گا۔ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے کانگریس نے ایک جارحانہ ہندو قوم پرستانہ رویہ اختیار کیا۔ اور مسلمان اس خیال میں تھے کہ ہمیں اقتدار ملے گا۔ جب اندازہ ہوا کہ نہیں ملے گا تو پھر ان کی حکمت عملی بدلی۔ بدلی ہوئی حکمت عملی جو ہے، اس کا سب سے بڑا علمبردار مسلم لیگ تھی۔

مسلم لیگ ڈھاکہ میں 1906ء میں قائم ہوئی ہے۔ اور بنیادی مقصد اس کا یہ تھا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ۔ مسلمانوں کو ان کی ثقافت، ان کے دین، ان کی تعلیم، ان کی معاشرت، ان کی روایات، ان کے سیاسی حقوق، انہیں بچانے کی کوشش۔ 1906ء سے لے کر 1928ء، 1929ء تک بڑے پیمانے پر، مسلم لیگ محض مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی کوشش کرتی رہی۔ اور اس میں جو ایک اہم موڑ ہے، وہ ہے 1916ء، لکھنؤ کا معاہدہ۔ جس میں قائد اعظم کے چودہ نکات آئے، جس میں ایک واضح تصویر ہے کہ مسلمان اپنے وجود کے لیے کیا چاہ رہے ہیں۔

اس کی پہلی بنیاد تھی جداگانہ انتخابی حلقے، کہ مسلمان ہی اپنے نمائندے منتخب کریں، ورنہ مسلمانوں کی قابلِ ذکر پوزیشن کے باوجود ہندو تسلط کی وجہ سے مسلمان سیاسی اعتبار سے اپنے نمائندے نہیں لا سکیں گے۔ تو جداگانہ انتخابی حلقے، مسلمانوں کے جداگانہ وجود کے تحفظ کے لیے سیاسی زینے کے طور پر اختیار کیے گئے۔ پھر انہوں نے وزن مانگا۔ یعنی اگر ہم آبادی کا بیس یا پچیس فیصد ہیں، لیکن ہمیں وزن تھوڑا زیادہ چاہیے تاکہ ہم اپنی بات کو زیادہ مؤثر بنا سکیں۔ اس کی انہوں نے ایک قیمت بھی ادا کی کہ ہندوؤں کو وزن دیا ان علاقوں میں جہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ لیکن مسلم سیاسی وزن کو بڑھانے کے لیے یہ چیز کی گئی۔ پھر مسلمانوں کے انسانی حقوق، پھر سیاسی سرگرمی، پھر تعلیم، پھر روایات، ان کے معاشرتی معاملات۔ تو یہ مختلف حقوق ہیں جن کے لیے اس پورے زمانے میں کوششیں ہوتی رہیں۔ اور اگر ہندو تعصب اور جو ان کے عزائم تھے راستہ اختیار نہ کرتے تو لازماً مسلمان اکٹھے رہنے کا ہی راستہ اختیار کرتے۔ لیکن یہ اسکیم ناکام ہو گئی۔

سائمن کمیشن کی رپورٹ 1928ء کی، اور اس کو جس طریقے سے نہرو نے استعمال کیا، اور جس طرح یہ واضح ہو گیا کہ اب ہندو تسلط سیاسی اعتبار سے، یہ مستقبل ہو گا ہندوستان کا۔ تو یہ وہ موقع ہے جب مسلمان ہل گئے اور انہوں نے پھر ایک نئی حکمت عملی وضع کی۔ انفرادی طور پر یہ بات کہ مسلمان جہاں اکثریت میں ہیں ان کو وہاں اقتدار ملے، اور جہاں ہندو اکثریت میں ہیں وہاں ان کو اقتدار ملے، یہ سب سے پہلے عبدالحلیم شرر نے 1888ء، 1889ء کے دوران لکھی اس کو۔ ریکارڈ موجود ہے۔ عبدالحلیم شرر سے لے کر ڈاکٹر لطیف تک تقریباً ایک سو ستر افراد تھے جنہوں نے کھل کر، یا اشارتاً، یا سیاسی زبان میں، یا علمی زبان میں، یا طنز و مزاح کی زبان میں تقسیم کی بات کی۔ لیکن ان میں فیصلہ کن چیز ہے 1930ء کا علامہ اقبال کا خطبہ۔ اور اس میں علامہ اقبال نے اپنی سوچ کو بڑی قوت کے ساتھ، دلیل کے ساتھ، دردمندی کے ساتھ، اور سیاسی بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جو میری نگاہ میں خود قراردادِ پاکستان 1940ء کو سمجھنے کے لیے کلیدی ہے، وہ 1930ء کا اقبال کا خطبہ ہے۔ اسے اگر آپ تنقیدی نظر سے پڑھیں تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اقبال نے اس کا آغاز ایک بڑے لطیف انداز میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے اپنی صدارت کے لیے ایک ایسے شخص کو مدعو کر لیا ہے کہ جو اسلام کو محض ماضی کا قصہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسلام کو مستقبل کی امید اور مستقبل کا نظام سمجھتا ہے۔ اور جو خدا پر یقین رکھتا ہے، اور جو سمجھتا ہے خدا نے جو ہدایت دی ہے اسی میں ہماری منزل ہے۔ بلکہ یہاں تک اس میں اس نے کہا ہے کہ:

If I have learned any lesson from history, it is, it is not the Muslims who have saved Islam, it is Islam who has saved the Muslims throughout their history.

پھر اس کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ اسلام ہے کیا۔ اور اس نے کہا ہے کہ اسلام محض ایک اخلاقی اصول نہیں ہے، بلاشبہ اخلاقی بنیادیں ہیں، روحانی ہے، لیکن اسلام کا اصل کردار یہ ہے کہ اس نے اخلاقی نظام، اخلاقی اقدار، اخلاقی اصولوں کو سماجی زندگی اور سماجی بہبود کے فریم ورک کے لیے بنیاد بنایا ہے۔ اور اگر یہ سماجی اور یہ سیاسی اور یہ معاشی اس سے نکال دیں تو پھر اسلام میں اور باقی مذاہب میں کچھ فرق باقی نہیں رہ جاتا۔ یہ واضح طور پر اس نے اس خطبے کے اندر واضح کیا ہے۔ پھر کہا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہو، اور اسلام ہمارے سیاسی مستقبل کو متاثر کرے، اس کی تشکیل کرے، اس کی صورت گری کرے۔ اس دعوے کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ موجودہ حالات کے اندر یہ صرف اور صرف اسی وقت ممکن ہے جب جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں انہیں اقتدار حاصل ہو، اور جہاں غیر مسلم اکثریت میں ہیں وہاں ان کو اقتدار حاصل ہو۔ یہی وہ راستہ ہے۔

تو اس نے واضح طور پر یہ تین باتیں اس خطبے کے اندر کہی ہیں۔ آپ دیکھیے کہ پھر قائد اعظم نے آہستہ آہستہ اسی کو قبول کیا۔ قائد اعظم پہلے ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ نہیں مسلمانوں کا مفاد اس میں نہیں ہے، ان کا بھی جو تبدیلی کا عمل ہے وہ 1929ء سے شروع ہوتا ہے 1936ء تک۔ 1936ء میں وہ مطمئن ہو گئے ہیں کہ ہاں مسلمانوں کے لیے الگ ریاست ہونا ضروری ہے۔

پھر 1937ء کے انتخابات ہیں اور اس کے بعد کانگریس کی حکومتیں ہیں، ان کی زیادتیاں ہیں، جس نے مہرِ تصدیق ثبت کر دی اس کے اوپر۔

تو یہ وہ پس منظر ہے کہ جس میں جو قرارداد ہے وہ قرارداد صرف دو باتیں کہہ رہی ہے، تین باتیں کہہ رہی ہے:

  1. پہلی بات یہ کہ مسلمان ایک قوم ہیں، ان کا اپنا نظام ہے، اور اس حیثیت سے ان کے لیے سیاسی مستقبل ہندوستان یا ہندوؤں کے ساتھ مل کر چلنے میں نہیں ہے، اپنا راستہ الگ نکالنے میں ہے۔
  2. دوسری بات یہ ہے کہ جن جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان پر مبنی ایسی ریاستیں بنا دی جائیں، اور یہاں لفظ جمع استعمال ہوا ہے: ریاستیں۔ ریاست نہیں، ریاستیں۔ بنا دی جائیں۔ اور گمان غالب یہ ہے کہ یہ تقریباً پانچ مسودے تھے جن میں سے اس کو آخری شکل دی گئی ہے۔ بعد میں یہ کہا گیا کہ اصل مقصد ایک ہی ریاست تھا، لیکن شروع میں الجھن تھی، یا کم از کم وضاحت نہیں تھی کہ آیا دو گروہ ہوں گے یا ایک ہی گروہ ہو گا۔ لیکن دونوں امکانات اس کے اندر موجود تھے۔
  3. اور تیسری بات یہ کہ جہاں مسلمانوں کو اقتدار ہو گا وہاں پر جو غیر مسلم ہوں گے ان کے حقوق کا تحفظ ہو گا۔

یہ تین باتیں اس کے اندر آئی ہیں۔ اور ایک اور نکتے کی طرف آپ کو متوجہ کروں جس کی طرف لوگ بالعموم غور نہیں کرتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ اجلاس شروع ہوا ہے 22 کو، 23 کو قرارداد پیش ہوئی ہے، 24 کو منظور ہوئی ہے۔ لیکن مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے چند ہی ہفتے کے بعد باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ — قراردادِ لاہور کہتے تھے پہلے اس کو۔ قراردادِ پاکستان نہیں کہا گیا اس وقت — یہ 23 مارچ کی منائی جائے۔ 24 نہیں۔ اور آج تک وہ چل رہا ہے۔ تو کیوں؟ جہاں تک میں نے غور کیا ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ اصل چیز قرارداد کے الفاظ اور اس کی منظوری نہیں، بلکہ اصل چیز وہ بنیادی موڑ ہے جو اس قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ اب تک ہم اپنے حقوق کے تحفظ کے فریم ورک میں ایک ہندوستان میں رہنے کو تیار تھے۔ اب ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ ایک فیڈریشن نہیں چلے گی، دو ممالک ہونے چاہئیں۔ تو یہ قرارداد پیش ہوئی ہے 23 کو، چاہے منظور 24 کو ہوئی، لیکن چونکہ مسئلہ قرارداد کے الفاظ کا نہیں ہے، بلکہ اس تاریخی تبدیلی کا ہے جس کی یہ نشانی ہے، اس لیے 23 مارچ سے رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے الفاظ کو بعد میں نظرثانی کی گئی۔ قائد اعظم نے چند مہینے کے اندر اندر وضاحت کی کہ نہیں، ایک ہی ریاست ہمارے سامنے ہے۔

اور پھر سب سے اہم دستاویز جو ہے۔ پہلا دستاویز 1930ء کا خطبۂ اقبال تھا۔ دوسرا یہ قرارداد اور اس قرارداد کی تائید میں کی جانے والی تقریریں۔ اور یہاں آپ کو یاد دلاؤں کہ سب سے اہم تقریر قائد اعظم کی ہے، لیکن اس کے علاوہ فضل حق، خلیق الزمان، قاضی عیسیٰ، بیگم محمد علی، اور ایک یا دو افراد اور ہیں، ان کی تقاریر بھی ہیں۔ اور سب نے یہی نکات بیان کیے جو میں آپ کو بتا کر لایا ہوں۔

اس کے بعد پھر تیسرا اہم سنگِ میل، جسے میں کہتا ہوں، وہ ہے اپریل 1946ء کی وہ قرارداد جو مسلم لیگ کے منتخب ممبرانِ پارلیمنٹ، جس میں مرکزی اور صوبائی دونوں اسمبلیاں شامل تھیں، ان کی کانفرنس میں منظور ہوئی ہے، اور اس میں انہوں نے پھر ایک ریاست، اس کی وجوہات، اس کا تصور، یہ واضح کیا۔ یہ قرارداد سہروردی نے پیش کی تھی۔ پہلی والی قرارداد فضل حق نے پیش کی تھی۔ متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ میں اس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک تھا۔ اس لیے کہ ہمارے اسکول کے اندر ہی، عمارت میں، یہ جلسہ ہوا تھا۔ اور اس میں کچھ لوگوں نے اپنے خون سے دستخط کیے تھے۔ اور اس قرارداد سے پہلے ایک حلف نامہ، جس کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے کہ "ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العالمین"۔ اور ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس قرارداد اور پاکستان کے قیام کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اور اس کے وفادار رہیں گے۔ ہر قانون ساز نے اس پر دستخط کیے۔ تو یہ تیسرا سنگِ میل ہے۔

اور پھر چوتھا سنگِ میل ہے قراردادِ مقاصد۔ اور اس کا بھی اگر آپ تجزیہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی، اور وفاقی، ان چار بنیادوں پر ریاست کی تصویر دی گئی ہے۔

معاف کیجیے، بات ایسی تھی کہ میں بہت تفصیل میں چلا گیا۔ یہاں میں ایک بات اور کی وضاحت کر دوں۔ اور وہ یہ کہ دو قومی نظریے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز ہے۔ میں نے یہ وضاحت کر دی کہ نہیں، یہ پہلے دن سے ہے۔ اور میری نگاہ میں دو قومی نظریے کی بنیاد جو ہے وہ اسلام کا یہ تصور ہے کہ زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک ہے اللہ کو معبود مان کر اس کی عبادت کا راستہ۔ اور دوسرا ہے اس سے ہٹ کر کوئی راستہ، خواہ وہ مذہبی اعلان پر ہو، یا سیکولر کے نام پر ہو، یا الحاد کے نام پر ہو، یا اشتراکیت کے نام پر، یا کسی بھی نام پر ہو۔ اور اس کی تلقین ہمیں سورہ فاتحہ میں دن میں پانچ بار کرائی جاتی ہے کہ "اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم، غیر المغضوب علیہم ولا الضالین"۔ یہ دو دھارے ہیں... اب ہر ایک دھارے کے اندر پھر بہت سی... ہیں۔ لیکن یہ دو بڑے دھارے ہیں۔

دوسری بات جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دو قومی نظریہ ضمانت ہے اس بات کی کہ اسلام سے ہٹ کر بھی جو نظام ہو گا اسے بھی باقی رہنے کا حق ہے۔ یہ دنیا امتحان گاہ ہے، اللہ نے انسان کو یہاں پیدا کیا ہے ایک مقصد سے، وہ مقصد اس کی آزمائش ہے۔ آزمائش یہ ہے کہ اسے عقل دی گئی ہے، تقویٰ دیا گیا ہے، اور ساتھ ساتھ اسے اختیار اور بدی کی صلاحیت بھی دی گئی ہے۔ "الھمھا فجورھا وتقواھا"۔ یہ صلاحیت دے دی گئی ہے اس کو، عقل دے دی گئی ہے، اب اسے انتخاب کرنا ہے خیر اور شر، اسلام اور غیر اسلام، حلال اور حرام، اللہ کی عبادت اور طاغوت کی عبادت کے درمیان۔ لیکن جو چوائس بھی وہ کر لے، اس پر اسے حق ہے قائم رہنے کا۔ اور کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ زبردستی اس پر اپنی بات تھوپے۔ "لا اکراہ فی الدین" کا یہ معنیٰ ہے۔ اور "لا اکراہ فی الدین" کا جو سیاق سورہ بقرہ میں ہے، وہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ پہلے آیۃ الکرسی، جس میں اللہ کے دین کا تصور آگیا، اس کی کرسی، اس کا اقتدار۔ اس کے بعد یہ کہا گیا کہ "لا اکراہ فی الدین"۔ لیکن ساتھ ہی کہا گیا "قد تبین الرشد من الغی، ومن یکفر بالطاغوت و یؤمن با اللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ، لا انفصام لھا"۔ تو دلیل کیا ہے "لا اکراہ فی الدین" کی؟ دلیل یہ ہے کہ حقیقت اور کیا غلط ہے، واضح کر دیا گیا ہے۔ خیر اور شر ایک دوسرے سے واضح کر دیا گیا ہے۔ حق اور باطل کو نمایاں کر دیا گیا ہے اب یہ انتخاب تمہارا ہے۔ اب طاقت کے ذریعے سے نہیں۔ لیکن جو اللہ کا راستہ اختیار کرے گا وہ ظلمت سے نور میں آئے گا۔ اور جو طاغوت کی بندگی کرے گا وہ نور سے ظلمت کی طرف جائے گا۔ لیکن یہ دونوں موجود رہیں گے۔

تو دو قومی نظریے کا معنی صرف یہ نہیں ہے کہ ہماری بنیاد ایک خاص اصول پر ہے، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اس بنیاد سے ہٹ کر جو قومیں بنیں گی، انہیں بھی وجود کا، انہیں بھی اپنی ترقی کا، اپنے نظریے کے مطابق رہنے کا حق ہے۔ تو یہ ضمانت ہے کثرت پرستی کے لیے۔ اور اسی سے پھر میں یہ نکالتا ہوں کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ دو قومی نظریہ اگر پاکستان کی بنیاد آپ بناتے ہیں تو پھر کیا اور مسلمان ملکوں کی نہیں ہے؟ بلاشبہ ہے۔ لیکن یہ ان کی چوائس ہے۔ وہ اسے قبول کر لیں، سر آنکھوں پر ہے۔ خود مسلمان بھی اگر اس پر عمل نہ کریں تو اس سے دو قومی نظریے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم طاقت سے مسلط نہیں کریں گے ان پر۔ لیکن مسلمانوں کی حقیقی... یہی ہے۔ اور آج بھی جو پیو اور گیلیپ کے سروے آئے ہیں، ان میں آپ دیکھیں گے کہ مسلمان ممالک میں تو ستر سے اٹھانوے بلکہ ننانوے فیصد یہ کہتے ہیں کہ شریعت کو ہماری اجتماعی زندگی کی بنیاد ہونا چاہیے۔ ننانوے فیصد۔ اور باقی ممالک میں بھی جہاں جہاں مسلمان ہیں، وہاں بھی ان کی ایک... بیس فیصد سے لے کر چالیس فیصد تک یہ کہتی ہے کہ شریعت کو بنیاد ہونا چاہیے۔ تو بھئی، یہ کہنا کہ فلاں ملک نہیں کر رہا ہے، اس سے دو قومی نظریے پر فرق نہیں پڑتا۔

اور میں یہ بھی کہہ دوں کہ دو قومی نظریے کی جو حکمت عملی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان جہاں اکثریت میں ہیں، جہاں اس پوزیشن میں ہیں کہ اپنے مستقبل کو خود طے کر سکتے ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح راستہ یہی ہے کہ وہ اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور نظامِ حکومت اس کا بنائیں۔ جہاں وہ اقلیت میں ہیں، وہاں ان کے لیے صحیح آپشن یہ ہے کہ وہاں پرامن رہیں، وہاں کے قانون کا بھی احترام کریں۔ لیکن اپنے نظریے، اپنی برادری، اپنی معاشرت، اپنی روایات کو جس حد تک، اور اپنی شناخت کی حفاظت کر سکتے ہیں، حفاظت کریں، اسے تحلیل نہ ہونے دیں، اس کے لیے جدوجہد کریں۔ اور دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیں تاکہ آج کی اقلیت کل کی اکثریت بن جائے، لیکن دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے۔ اور جہاں مسلمان کسی ایسے نظام میں ہیں جو ظالمانہ جابرانہ نظام ہے، وہاں بھی آپ مزاحمت کر سکتے ہیں، لیکن ان اخلاقی حدود کے اندر جو اللہ اور اس کے رسول نے فراہم کی ہیں۔ اسی لیے اسلامی تاریخ میں اسلامی قانون میں جائز جنگ اور جنگ میں انصاف، ان دونوں کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جہاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ اور جہاد ان آداب، ان قیود، ان اصولوں، ان ضابطوں کے مطابق ہو، جو اللہ اور رسول نے طے کیے ہیں۔ اس سے ہٹ کر قوت کا استعمال جائز نہیں ہے، وہ دہشت گردی ہے۔

تو دو قومی نظریہ ایک ابدی اصول ہے۔ اور اس کے یہ مختلف نمونے ہیں۔ تو جب مسلمانوں نے جب محسوس کیا کہ ہمیں اقتدار حاصل ہے، وہاں انہوں نے اسلام قائم کیا۔ دوسروں پر جبر کیے بغیر۔ اور جہاں یہ ممکن نہیں تھا، وہاں انہوں نے کوشش کی کہ جہاں ہمیں اکثریت حاصل ہے، کم از کم وہاں ہم اپنے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ اور جہاں ہمیں اکثریت حاصل نہیں ہے، وہاں ہم وہاں کے حالات کے مطابق اپنے تشخص کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں، اپنے حقوق کی حفاظت کی کوشش کریں، اور ان مشترکات میں، جس میں کہ دوسرے بھی شریک ہیں، ہم مل کر آگے بڑھیں۔ "تعالوا الیٰ کلمۃ سوآء بیننا و بینکم" (آل عمران 64)۔ تو یہ ہے وہ فریم ورک۔

آج کا جو پہلا سوال تھا آپ کا، صرف میں اس کو چھو سکا ہوں، آگے میں نہیں بڑھ سکتا ہوں۔ لیکن میں امیر خسرو کی طرح بات کو نمٹانے کے لیے کہہ دوں کہ جہاں تک اسلامی دنیا کا تعلق ہے میرا خیال یہ ہے کہ ہم اس وقت بلاشبہ ایک بڑی آزمائش اور بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ اور اللہ کے انعامات ہمارے اوپر بیسویں صدی میں بے پناہ ہوئے ہیں، لیکن ہم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ بیسویں صدی کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلمان نیم آزاد ملک تھے۔ باقی ساری اسلامی دنیا مغربی اقوام کی غلامی میں تھی۔ اور تقریباً یہ دو سو سال کا تاریک دور تھا۔ لیکن اس صدی میں ہم اس سے نکلے، آج مسلمانوں کی ستاون آزاد ریاستیں ہیں۔

پھر 1973ء تک دنیا کا معاشی توازنِ طاقت مغرب کے ہاتھوں میں تھا۔ یعنی ایک معمولی سے جھٹکے سے، تیل کی قیمتوں سے، معاشی توازنِ طاقت ختم ہوا، اور ہمیں غیر معمولی موقع ملا۔ آزادی ہم کو اللہ نے دی ہے۔ معیشت... اور پھر اس صدی میں اللہ کا شکر ہے کہ دین کا صحیح تصور وضاحت کے ساتھ پیش ہوا۔ میں اس سلسلے میں، ویسے تو ہمیشہ رہا، شاہ ولی اللہ کا اور سید احمد شہید کا بڑا کردار ہے، لیکن میری نگاہ میں شبیر احمد عثمانی، ابوالکلام آزاد، اقبال، مولانا مودودی، حسن البنا، سید قطب، مالک بن نبی، آپ نام لیں، ایک فوج ہے جنہوں نے... پیش کیا۔ اختلافات بھی ہیں لیکن مرکزی نکتہ ایک ہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دین مکمل نظام ہے، اسے قائم کرنے کی کوشش ہمارا فرض ہے۔ مجھے الجھن ہوتی ہے جب لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ ریاست مسلمان کیسے ہو سکتی ہے۔ قانون کے اعتبار سے ریاست ایک قانونی وجود ہے۔ اور ایک قانونی وجود جو ہے، جس طرح اس کا ایک جسمانی وجود ہے، اس طرح اس کا فکری اور نظریاتی وجود ہے، ایک سیاسی وجود ہے۔ اگر ریاست ایک فلاحی ریاست ہو سکتی ہے، ایک عیسائی ریاست ہو سکتی ہے، ایک سوشلسٹ ریاست ہو سکتی ہے، ایک بدھسٹ ریاست ہو سکتی ہے، ایک ہندو ریاست ہو سکتی ہے، تو اسلامی ریاست کیوں نہیں ہو سکتی؟

کہا جاتا ہے کہ یہ تو ایک انعام ہے، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ نعمت کے تو معنی یہ ہے کہ ہم اس کے حصول کی کوشش کریں۔ نعمت کا یہ معنی تو نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ کر انتظار کریں۔ ٹھیک ہے رزق بھی ایک نعمت ہے، لیکن رزق کے لیے آپ کو کوشش کرنی ہوتی ہے۔ تو اللہ کی نعمت اور انعام ہے، تو اس کے قیام کی جدوجہد تو ضروری شے ہے۔ اور یہ پھر قرآن خود کہہ دیتا ہے کہ "الذین ان مکناھم فی الارض اقاموا الصلوٰۃ واٰتوا الزکوٰۃ وامروا بالمعروف" (الحج 41) جب تمہیں اقتدار دیا جاتا ہے تو جہاں تم نماز قائم کرتے ہو، زکوٰۃ قائم کرتے ہو، وہاں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ اور امر کے معنی درخواست کرنا نہیں ہوتے ہیں۔ اور نہی کے معنی محض متنبہ کرنا نہیں ہوتے ہیں۔ قائم کرنا۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو یہ تینوں چیزیں ہمیں حاصل ہوئیں لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس سے پورا پورا فائدہ نہیں اٹھایا۔ اور ہمارا اندرونی نظام، قیادتیں، جاہلیت کی بنیادوں پر منظم ہیں۔ لیکن اصلاح کی قوتیں، تبدیلی کی قوتیں ہر جگہ کارفرما ہیں، نشیب و فراز ہیں۔

اگر مصر میں چالیس سال تک اخوان المسلمون پر پابندی لگانے اور ہزاروں کی تعداد میں افراد کو شہید کرنے اور جیل میں ڈالنے، تشدد کرنے کے باوجود اس طرح ابھر سکتا ہے۔ ترکی میں اذان دینا ممنوع تھا، سر پر ٹوپی نہیں اوڑھ سکتے تھے باہر آپ، عربی میں آج بھی کوئی کتاب نہیں چھاپ سکتے، لیکن کیا تبدیلی آئی ہے۔ وسطی ایشیا میں، ستر سال اشتراکیت نے کیا کیا ہے؟ تو میں جہاں ایک طرف جو خرابیاں ہیں، جو تضادات ہیں، جو کمزوریاں ہیں، ان کا معترف ہوں، وہیں یہ اعتماد رکھتا ہوں کہ ہمارے پاس وہ نظریہ بھی ہے، وہ استعداد اور قوت بھی ہے، جذبہ بھی ہے، اور ساری جہالت اور کمزوریوں کے باوجود بڑی جان اور بڑا جذبہ ہے۔ صرف اسے صحیح طور پر متحرک کرنے کی، تحریک دینے کی، منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جہاں جہاں جو اس طرح ہوا ہے اس کے نتائج نکلے ہیں۔ تو نشیب و فراز ہیں۔ ان شاء اللہ آئندہ بھی۔ تو میں پر امید ہوں کہ حالات بدلیں گے۔

اور اس میں مجھے امید نوجوانوں سے ہے خاص طور پر۔ آج پچاس سے ساٹھ فیصد مسلم دنیا کی آبادی نوجوان ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ یہ بہت بڑی قوت ہے۔ اور مشورہ میرا ان کے لیے صرف ایک ہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ زندگی کو محض کھانے اور پینے اور آرام کے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ زندگی کا مقصد پہچانیں اور سمجھیں۔ اور اس مقصد کے لیے اپنے آپ کو تیار بھی کریں، اور اس مقصد کو بروئے کار لانے کی کوشش اور جدوجہد بھی کریں۔ یہ کام انفرادی سطح پر بھی ہونا ہے، اجتماعی سطح پر بھی ہونا ہے۔ اور میں اسے صرف تین لفظوں میں ادا کیا کرتا ہوں:

  1. پہلی چیز ہے خدا شناسی۔ اللہ کو پہچان لیجیے، اس کے دامن کو تھام لیجیے، اور وہ ہمیں کیسا چاہتا ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
  2. پھر خود شناسی کہ میں خود کیا ہوں۔ اور اللہ اور اس کے رسول مجھے کیسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ قرآن و سنت میں میرے لیے کیا نمونہ دیا گیا ہے، کیا مجھے ہدایت دی گئی ہے، کیسا بننے کا مجھے بتایا گیا ہے۔
  3. اور پھر خلق شناسی کہ اس کے نتیجے کے طور پر اللہ کی مخلوق سے میرے تعلقات کیسے ہوں گے۔ اپنے عزیزوں سے، اپنے خاندان سے، عام لوگوں سے، اپنے محلے سے، عام انسانوں سے، دوستوں سے، دشمنوں سے، کافروں سے، مسلمانوں سے، اداروں سے، خاندان سے لے کر ریاست تک، یہ سب اس میں آجاتے ہیں۔

تو میرا ان کو مشورہ صرف یہی ہے کہ زندگی کا مقصد متعین کیجیے اور مقصد کو پھر سنجیدگی سے قبول کر کے اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کیجیے۔

رہا معاملہ خواتین کا، تو خواتین کے بارے میں میں یہ بات صاف عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے کامیابی کے معیار کے اعتبار سے، مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ اور قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ایمان لانے والے مرد، ایمان لانے والی عورتیں، تقویٰ اختیار کرنے والے مرد، تقویٰ اختیار کرنے والی عورتیں، قرآن میں دونوں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو جس طرح مردوں کے لیے کہا اسی طرح عورتوں کے لیے کہا۔ یہ ضرور ہے کہ اپنی صلاحیت، اپنی ذمہ داریوں، اپنے ماحول... وہاں فرق ہو سکتا ہے، لیکن مقام میں، حقوق میں، کردار میں، کوئی فرق نہیں ہے۔

اور یہ بھی اللہ کا ہمارے اوپر بڑا کرم ہے کہ اس نے عقیدے کے بارے میں ہمیں تفصیل دے دی ہے۔ اس میں نہ کوئی اضافہ ہو سکتا ہے، نہ کمی ہو سکتی ہے۔ اس نے عبادات کے بارے میں، جو اللہ سے انسان کو جوڑتا ہے، اور بندوں کو اللہ کی مرضی زمین پر پوری کرنے کے لائق بناتا ہے، اس کی پوری تفصیل دے دی ہے، اس میں کوئی اضافہ اور کمی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس کے بعد باقی سارے معاملات جتنے بھی ہیں ان میں ایک بڑی حکمت کے ساتھ صرف ضروری ہدایات دی ہیں، اور باقی آپ کو آزادی دی ہے اور آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ حالات کی مناسبت سے اپنا راستہ نکالیں۔ خاندان کے نظام کو آپ دیکھیے، اس کے لیے تفصیلی قانون دیا ہے۔ پورے قانون کا چالیس فیصد صرف خاندان کے بارے میں ہے۔ معاشرتی معاملات، سیاسی معاملات، اجتماعی معاملات، بین الاقوامی معاملات، سب کے بارے میں صرف رہنما اصول ہیں، تاکہ پھر آپ زمانے کی ضروریات کی مناسبت سے ان کی روشنی میں اپنا راستہ نکالیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں قرآن پہنچایا، قرآن کی تعلیم دی، قرآن کے مطابق تزکیہ کیا، وہیں حکمت کی تعلیم دی۔ اور حکمت کی تعلیم نام ہے اس بات کا کہ ان کی روشنی میں آپ اپنے دور میں اپنے حالات کے مطابق کیسے کام کریں۔ حضورؐ نے کر کے دکھایا دیا، اس لیے حدیث اور سنت آپ کے لیے نمونہ ہے۔ لیکن یہ صرف ایک ڈیٹا نہیں ہے بلکہ طریقہ کار ہے۔ اور اس طریقہ کار سے ہر دور میں افراد کو بھی اور امت کو بھی اپنا راستہ نکالنا ہے۔

میں نے مثال دی آپ کو کہ تحریکِ پاکستان میں، اس قرارداد میں بھی، جہاں قائد اعظم نے اور فضل الحق نے اور خلیق الزمان نے تقریریں کیں، وہیں مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ نے بھی تقریر کی۔ وہ برقع پہن کر پوری تحریک میں شریک رہی ہیں۔ اور آخری وقت تک مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگز میں شریک ہوتی رہی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے کیا کردار ادا کیا۔ اور بلا کسی...، نعمت کے اقرار کے طور پر میں آپ سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جو ہماری جماعت کی خواتین آئی ہیں، انہوں نے کس طرح خدمت انجام دی ہے۔ تازہ ترین جو رپورٹ ہے... کی وہ یہ کہتی ہے کہ اس اسمبلی میں بھی، جمیعت علماء اسلام اور جماعت اسلامی، ان کی خواتین سرِفہرست ہیں، مردوں سے بھی آگے ہیں، اپنا کام کرنے میں۔ تو آپ ہر جگہ کام کر سکتی ہیں، اپنے اصول اور اپنے آداب کا خیال رکھ کر۔ باقی یہ صحیح ہے کہ گھر اولین ذمہ داری ہے اور وہ کوئی اور ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جتنی بھی مہلت ملے جتنا بھی وقت ملے وہ آپ کا بھی فرض ہے کہ آپ اس جدوجہد میں شریک ہوں اور کردار ادا کریں۔ اور آپ کا اجر دوسروں سے زیادہ ہے، اس لیے کہ اللہ کے رسول نے آپ سے یہ کہا ہے کہ آپ کی گھر کی نماز بھی اتنے ہی ثواب کی مستحق ہے جتنا جماعت میں مسجد میں جا کر مردوں کی نماز ہے۔ تو اللہ کے رسول اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے بے پناہ مواقع بھی دیے ہیں اور مراعات بھی دی ہیں۔ لیکن اس فریم ورک میں اپنا راستہ نکالیے۔

اور آخری بات تحقیق کے سلسلے میں کہہ کر بات کو ختم کرتا ہوں۔ تحقیق کے باب میں میری درخواست پہلی یہ ہے کہ تحقیق سے بھی پہلے عادت ڈالیے پڑھنے کی۔ مجھے دکھ ہے کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی، پڑھنے کی جو عادت ہے، جو اہمیت ہے، وہ کم ہو رہی ہے۔ یہ بہت نقصان کا سودا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب بھیجی ہے، تو کتاب کا معنی یہی ہے کہ پڑھنا۔ سننا بھی آجاتا ہے، اور جو آپ کی جدید ٹیکنالوجی ہے، فائدہ اٹھائیے ضرور۔ لیکن کتاب پڑھنا، کتاب سے تعلق آپ کا رہنا چاہیے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ سوچنا، سمجھنا، اور پھر تخلیقی صلاحیت کو فروغ دینا۔ تحقیق کے لیے تخلیقی صلاحیت کا فروغ بے حد ضروری ہے۔ وہ تحقیق جو تخلیقی صلاحیت کے فروغ کے بغیر ہوتی ہے، وہ مکھی پر مکھی تو مار لیتے ہیں، لیکن نئی رائے نہیں ہوتی۔ تو دوسری چیز یہ ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ حقیقت کے بارے میں کبھی سمجھوتہ نہ کیجیے۔ حقیقت کے بارے میں، نہ حقیقت کا انکار کیجیے، نہ حقیقت کے باب میں منتخب رویہ اختیار کریں۔ لیکن یہ متعین کیجیے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا افسانہ۔ افسانے کو حقیقت نہ لیں، اور حقیقت کو افسانہ نہ سمجھیں۔ لیکن حقیقت کی تعبیر، حقیقت کی روشنی میں پھر تفہیم، اور ان دونوں کی روشنی میں نئی تشکیل، آگے کی سوچ۔ حقائق آپ کا راستہ نہیں روکتے۔ حقائق آپ کو صرف بتاتے ہیں کہ کیا چیلنجز ہیں، کیا حقائق ہیں، آپ کو کیسے ردِ عمل دینا چاہیے۔ تو اس لیے حقیقت اور تفہیم اور نئی تشکیل، ان تینوں مراحل کو۔

اس کے بعد پھر میں بہت صاف الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ تحقیق کا کام اندازہ لگانے کا کام ہے، سہل انگاری کا نہیں۔ بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جو محنت نہیں کرتے، یا کوالٹی کے اعتبار سے کمزور چیز ہوتی ہے، یا پھر تعصب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان سب سے بچنے کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی حد تک کوشش کی ہے اور اسی کی تلقین بھی اپنے ساتھیوں کو کی ہے کہ تحقیق کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اور جو ادارے، اللہ نے مجھے توفیق دی ہے، قیام میں کوئی کردار ادا کرنے کی، ہم نے وہ روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور میں بات کو اسی پر ختم کرنا چاہتا ہوں کہ آئی پی ایس ایک امانت ہے آپ سب کے ہاتھوں میں۔ یہ اللہ کا ہم پر فضل رہا ہے کہ اس نے ہمیں بروقت اس باب میں سوچنے اور پھر اس سوچ کے مطابق کوشش کی صلاحیت سے نوازا، اس کی توفیق عطا فرمائی۔ آئی پی ایس اسلام کی احیائی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ لیکن آئی پی ایس اپنی تنظیم کے اعتبار سے، انتظام کے اعتبار سے، ایک آزاد ادارہ ہے۔ ہماری وفاداریاں اس تصور کے ساتھ ہیں، ہماری دعائیں اسلامی تحریک اور اسلامی قوتوں کی کامیابی کے لیے ہیں، لیکن ہمارا طریق کار یہ ہے کہ ہم ایک محدود دائرے میں، جو پالیسی کا تجزیہ ہے، کیا پالیسی ہے؟ کیا حقائق ہیں؟ پالیسیوں میں کیا خوبیاں اور کیا کمزوریاں ہیں؟ نئی پالیسیاں کیا ہونی چاہئیں؟ یہ ہے وہ فریم ورک جس میں ہم کام کر رہے ہیں۔ ہمارا حوالہ ہمارا نظریہ، اسلام، اور پاکستان اور مسلم امہ، اور اس کی خود کفالت، اس کی استطاعت کو بنانا، اسے اس لائق بنانا کہ یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔

اس کے علاوہ ہمارا سارا کام پیشہ ورانہ ہے، پیشہ ورانہ انداز میں ہونا چاہیے، جس میں ادارے میں بروقت آنے سے لے کر آپ کی تحقیق، آپ کی تحریر، آپ کی بحثیں، آپ کے فکری نتائج، ان کی تشہیر اور ان کو دوسروں تک پہنچانا، یہ سارے پہلو شامل ہیں۔ اور یہ ہر کام کارکردگی کے ساتھ اعلیٰ معیار پر، ہمیشہ بہترین کی جستجو، اوپر ہمیشہ جگہ ہے اگر اس کو آپ اپنے سامنے رکھیں گے تو ان شاء اللہ آپ... کی طرف جائیں گے اور مثال قائم کریں گے۔ یہ آئیڈیل ہمارا ہونا چاہیے۔ اسی جذبے سے یہ ادارہ ہم نے قائم کیا ہے اور اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ یہی ہمارا معیار رہے۔ میری دعا اور میری تلقین آپ لوگوں کے لیے یہی ہے کہ اس فریم ورک میں آپ اپنا کام کریں، اور مجھے خوشی ہے یہ بات کہتے ہوئے کہ میں اپنی صحت کی بنا پر اپنی غیر موجودگی کی بنا پر زیادہ وقت نہیں دے پا رہا ہوں، شروع میں تو بہرحال میں نے اپنا سارا وقت یہیں دیا ہے، لیکن اب بورڈ آف گورنرز نے میرے بھائی خالد رحمان کو ایگزیکٹو پریزیڈنٹ آئی پی ایس کا مقرر کیا ہے، جس کا چارج انہوں نے لے لیا ہے، مجھے وہ مشورہ کرتے رہیں گے، مطلع رکھیں گے، لیکن عملاً ذمہ داری ان کے اوپر ہے، اور ان شاء اللہ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم کوشش کریں گے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی دوسرا آجائے، تاکہ انتظامی معاملات میں ان کو کچھ سہولت مل سکے، فی الحال یہ دونوں ذمہ داریاں وہ پوری ادا کریں گے۔

ان گزارشات کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لے لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس میں جو خیر ہے اس کے لیے ہمارے دلوں کو کھول دے۔ اور اگر مجھ سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہمیں معاف کرے اور مجھ کو اور آپ سب کو محفوظ رکھے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

حاضرین کے سوالات

(1) السلام علیکم سر۔ میں آئی پی ایس کے ساتھ نوجوانوں کی تربیت میں شامل ہوں۔ سر میرا سوال یہ ہے کہ 1995ء میں جب میں نے سرکاری ملازمت جوائن کی تو میں... لے کر چلا تھا کہ میں سچائی اور امانت داری سے... رہوں گا اور اس کو... لیکن پندرہ سال تک کوشش کرتا رہا اس سچائی اور امانت داری سے... حکمرانی کا مسئلہ ہے، لوگوں کا مسئلہ ہے، اقداری نظام کا مسئلہ ہے؟ کیونکہ یہی ایک چیز ہے جو ہماری حکمرانی کو ٹھیک کر سکتی ہے کہ ہم اپنے سطح پر سچے اور امین ہو جائیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اسے کیسے فروغ دیا جائے، شکریہ۔

پروفیسر خورشید احمد: 

دیکھیے میرے عزیز، پہلی بات تو یہ ہے کہ سچے اور امین ہونا کوئی اختیاری چیز نہیں ہے۔ یہ ہمارے اچھا انسان ہونے کا لازمی حصہ ہے۔ آپ مجھے بتائیے کہ اگر آپ کسی کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں تو کیا آپ یہ توقع نہیں کرتے کہ جو معاملہ آپ کر رہے ہیں یہ معاملہ منصفانہ رہے، یہ دھوکہ نہیں ہے۔ آپ کسی کو قرض دیتے ہیں، کسی سے قرض لیتے ہیں، جس مقام پر آپ کام کر رہے ہیں، آپ کا وقت آپ کس طرح استعمال کر رہے ہیں، یعنی سچے اور امین ہونا تو انسان کا شرف ہے اور انسان کی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو خلا ہے ہماری زندگی میں۔ مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے اس کے اندر۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی سچے اور امین تھے۔ اور ان کی سچائی اور امانت اس معیار کی تھی کہ جنہوں نے ان کا انکار کیا انہوں نے بھی کہا کہ سچے آپ ہی ہیں اور امانتیں انہی کے پاس رکھیں۔ اور ان کی دیانت کا بھی یہ حال تھا کہ جب ہجرت کی تو آخری کام یہ کیا کہ جو امانتیں ان کے پاس تھیں وہ حضرت علیؓ کے سپرد کیں کہ یہ فلاں فلاں کی امانت ہے ان کو واپس کر دیں۔ یہ تو معیار ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ سچائی اور امانت جو ہے، ایک بات اور بھی کہہ دوں، یعنی سچائی اور امانت جو ہے وہ محض سیاست کے لیے نہیں ہے، یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان، باپ بیٹے کے درمیان، آقا اور غلام کے درمیان، ملازم کے درمیان، یعنی ہر جگہ ہے یہ۔

اور سر آئیور جیننگز بڑا مشہور مصنف ہے اور اتھارٹی ہے سیاسیات پر، تو اس کی جو کتاب ہے Cabinet Government، تو اس میں اس نے یہ کہا ہے کہ برطانوی نظام میں ایک وزیر کے لیے عالم اور ماہر ہونا ضروری نہیں ہے، وہ اہلِ علم اور ماہرین سے مدد لے سکتا ہے، لیکن اس کے لیے دیانت ضروری ہے۔ اب یہ دیانت کیا ہے؟ سچائی اور امانت۔ اور اگر دیانت نہیں ہے تو پھر وہ... ۔ تو یہ دراصل ایک عالمگیر ضرورت ہے۔ ہماری بھی ضرورت ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ فروخت نہیں ہوتی۔ یہ اپنے جذبے سے کی جاتی ہے، اور اس کے بعد پھر اچھی مثالوں سے، اس کے بعد پھر قواعد و ضوابط، فریم ورک سے، اداروں سے، جوابدہی سے، قانون کی تنفیذ سے، یہ سب چیزیں مل کر کے اس میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اور ہمارا معاملہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں اس وقت نظریاتی انتشار ہے، اخلاقی بگاڑ ہے، اداراتی انہدام ہے، جوابدہی کا نظام نہیں ہے، تو ان سب کی وجہ سے یہ چیزیں ہیں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں، کوشش جاری رکھی، اپنی مثال بہتر قائم کیجیے، اور آپ دیکھیں کہ ان شاء اللہ اس کے اثرات رونما ہوں گے۔

میں صرف ایک مثال آپ کو دیتا ہوں کہ... کا چارج میں نے سنبھالا تو آنے کے بعد میں نے یہ دیکھا کہ یہی سب معاملات ہوتے ہیں۔ تو پہلا کام میں نے یہ کیا کہ میں نے کہا کہ آپ ہر اہم فیصلے کے لیے طریقہ کار بنائیں، قواعد بنائیں۔ ان قواعد کے تحت جس کو جو بھی ذمہ داری ہو، یا جو بھی اس کو فائدہ پہنچتا ہو، وہ پہنچنا چاہیے۔ جہاں قواعد سے آپ ہٹیں، کوئی استثنیٰ تلاش کریں، وہاں آپ مجھے حوالہ کریں۔ لیکن اگر ہٹ نہیں رہے آپ تو قواعد کے مطابق کریں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ان قواعد کے نفاذ میں سب سے پہلا جو فائدہ اٹھانے والا تھا، وہ ایک قادیانی تھا۔ تو میرے پاس سیکرٹری آیا، تو میں نے کہا کہ آپ کو میرے پاس نہیں آنا چاہیے تھا، اس لیے کہ وہ قادیانی ہو، عیسائی ہو، مسلمان ہو، وہ ہمارے دفتر میں ملازم ہے، اس کا حق ہے۔ اور اگر ان قواعد کے مطابق اس کا فائدہ ہوتا ہے، اس نے جاپان جانا ہے، اس کو جاپان بھیجا گیا۔ تو ایک مرتبہ اگر آپ یہ مثال قائم کرنی شروع کر دیں تو اس سے ان شاء اللہ پھر حالات بدلتے ہیں۔ تو یہ چیز فروخت نہیں ہوتی ہے، لیکن یہ ہے کہ خود کرنا، مثال قائم کرنا، اور وہ نظام بنانا، جس سے کہ یہ جاری رہ سکے۔

(2) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میرا سوال یہ تھا کہ دو قومی نظریہ کے حوالے سے آپ نے بات کی، قومیت کا تصور جو ہے، اس کو تھوڑا سا سمجھنا چاہیں گے کہ ہم اس میں توازن کیسے رکھ سکتے ہیں؟ خود اقبال نے بھی اس پر کافی تنقید کی ہے، "تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے"، وہ شعر بھی آپ کے ذہن میں ہو گا۔ اس کے علاوہ خود مولانا نے بھی اسلامی ریاست کی بنیاد جو بتائی ہے اس میں حاکمیتِ اعلیٰ کے بعد جو دوسرا نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ قومیت کا خاتمہ۔ تو ہم بحیثیت، مطلب جو آج یومِ پاکستان ہم لوگ منا رہے ہیں، تو ایک پاکستانیت کا نعرہ ہے، ایک ایرانی کا نعرہ ہے، ایک افغانی کا نعرہ ہے، تو اگر اس نعرے کو ہم پروان چڑھاتے ہیں، تو ایک امت کا تصور، تو اس میں توازن کیسے ہو سکتا ہے؟

پروفیسر خورشید احمد: 

بہت اہم سوال ہے آپ کا بیٹے۔ جزاک اللہ خیر۔ دیکھیے، مولانا مودودی ہوں، اقبال ہوں، یا اور دوسرے مفکرین ہوں، انہوں نے جو بات کہی وہ یہ ہے کہ اگر قومیت کی بنیاد خطے پر ہو، جس کے معنی یہ ہیں کہ میرا ملک درست ہو یا نادرست یہ اسلام کی بنیادوں سے ٹکراتا ہے۔ اور اس بنیاد پر بننے والی قومیت فساد کا ذریعہ ہے، اس سے خیر رونما نہیں ہو گا۔ اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور سیاق میں لیکن اسی بات کو، یعنی اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ہو سکتی۔ عربوں میں ایک محاورہ تھا کہ "میرا بھائی درست ہو یا نادرست، مجھے اپنے بھائی کا ساتھ دینا ہے، اپنے قبیلے کا ساتھ دینا ہے، چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر ہو" تو حضورؐ نے بھی ایک مرتبہ یہ کہا کہ اپنے بھائی کا ساتھ دو خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر۔ تو صحابہؓ چونک گئے۔ یعنی ان کی تربیت ایسی تھی کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا اسلام کے اندر۔ تو انہوں نے پوچھا، حضور! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو حکمت سامنے آئی کہ حضورؐ نے ایسا کیوں کہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ حق پر ہے تو ساتھ دے کر، اگر ناحق پر ہے تو وہاں سے روک کر۔

تو یہ ہے وہ قومیت کا تصور جس کو ہم نے ضرب لگائی ہے۔ لیکن آپ کی بات بہت صحیح ہے کہ خطے چاہیے ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی خطے کا مسئلہ ہے۔ تو ان کے درمیان مطابقت کیسے ہو؟ اور احادیث میں بھی یہ آتا ہے کہ اپنے وطن سے، اپنی پیدائش کی زمین سے ایک انس اور تعلق جو ہے وہ فطری چیز ہے۔ اور مکہ اور بیت اللہ تو خیر ایسا تھا کہ اس کے لیے انسان تڑپے ہی۔ لیکن چونکہ وہ... میں تھا تو اس لیے صحابہؓ اور حضورؐ شوق سے اس کی طرف دیکھا کرتے تھے مدینے میں بھی۔ تو ان کو ہم آہنگ کیسے کیا جائے؟ یہ بات آپ کی بہت صحیح ہے۔ تو اسی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام یہ کہتا ہے کہ قومیت کی بنیاد تو نظریے پر ہے۔ اور اس میں اسلام کو اپنا دین ماننے والے ایک امت ہیں، خواہ ان کی زبان کوئی بھی ہو، ان کی نسل کوئی بھی ہو، ان کا وطن کوئی بھی ہو، رہ وہ کہیں پر بھی رہے ہوں، رنگ کیسا ہی ہو ان کا، اور اس کی بھی بنیادی وجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اگر اللہ کا خلیفہ ہے، تو جس بنیاد پر انسان کو اپنی زندگی کا مقصد اور زندگی کی روش طے کرنی چاہیے، وہ وہ ہونی چاہیے جو ہر ایک کے لیے ممکن ہو۔ رنگ آپ اپنا نہیں بدل سکتے۔ زبان شاید بدل سکیں لیکن پھر بھی فرق رہتا ہے۔ نسل میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، خون جو ہے وہ اپنا خون ہی ہے۔ زمین بدل سکتی ہے آپ کی، ہجرت کر سکتے ہیں۔ اسلام نے عقیدے کو رکھا تاکہ ہر نسل، ہر مقام، ہر زبان کے بولنے والوں کے لیے یہ آسان ہو اور سب اس میں آسکیں اور سب اس میں آ کر ایک بن جائیں۔

لیکن خوبی اس کی یہ تھی کہ اس نے سب کو ایک بنانے کے بعد تنوع کو ختم نہیں کیا، تنوع کو ختم نہیں کیا، زبان کی نفی نہیں کی، نسل کی نفی نہیں کی، رنگ کی نفی نہیں کی، بلکہ یہ کہا گیا کہ یہ سب ہم نے اس لیے بنایا "لتعارفوا"۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ تمہارے سامنے زندگی گزارنے اور فیصلے کرنے کا جو معیار ہے وہ اخلاق اور اصول ہونا چاہیے "ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم" (الحجرات 13)۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ تمہاری اصل ایک ہی ہے۔ اختلاف جو ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ تو اختلاف کو تسلیم کرنا، اختلاف کو جگہ دینا، لیکن اختلاف کو ایک نظام کے تحت لے آنا۔ تو جب ہم تصورِ قومیت دیتے ہیں تو اس سے نفی نہیں کرتے باقی لوگوں کی۔ ہم ان کو صرف مناسب جگہ، انہیں کسی جگہ ہونا چاہیے۔

اب اس سیاق میں وطن کا بھی ایک حق ہے۔ اور وطن سے محبت ایک حقیقی چیز ہے۔ اور میثاقِ مدینہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے وہ نمونہ بھی رکھ دیا کہ جس میں ایک سے زیادہ قومیں، ایک سے زیادہ قسم کے لوگ جو ہیں، وہ مل کر ایک ریاست بنا سکیں۔ اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو اس کی 88 شقیں ہیں، جن میں سے 44 کا تعلق مسلمان امت سے ہے، اور 44 کا تعلق دوسرے قبائل سے ہے۔ اور ان میں واضح طور پر بیان ہو گیا ہے کہ تمہاری شناخت، تمہارا مذہب، تمہاری روایات، تم کو تحفظ حاصل ہے، لیکن اس پورے نظام کا جو سربراہ ہو گا وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، وہ آخری اتھارٹی ہوں گے، اور سیاسی بالادستی اور فیصلہ کن حیثیت انہیں حاصل ہو گی۔

تو آپ دیکھیے کہ ایک فریم ورک بنا دیا جس کے اندر ان سب کو شامل کر لیا۔ اور یہی ہماری پوری تاریخ ہے کہ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو، بدھسٹ، اللہ کو نہ ماننے والے، سب موجود رہے ہیں۔ ان کو ان کے حقوق دیے گئے، ان کے لیے ایک جگہ دی گئی۔ اور اسی کی مناسبت سے ان سے توقعات۔ اور عالمی سطح پر بھی یہ ایک غلط بیان ہے کہ ہمارے فقہاء نے بین الاقوامی قانون میں صرف دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کی ہے۔ بلاشبہ دارالحرب اور دارالاسلام ایک بنیادی تقسیم ہے۔ اور اگر کسی ملک سے آپ حالتِ جنگ میں ہیں تو آپ حالتِ جنگ میں ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ دور اور کیٹیگریز بھی واضح طور پر ہمارے بین الاقوامی قانون کے اندر ہیں: دارالامن، کہ جن سے آپ جنگ نہیں کر رہے، وہ غیر مسلم ہیں۔ اور دارالعہد، کہ غیر مسلم وہ جن سے آپ کا کوئی معاہدہ ہو، کوئی آپ کی تفہیم ہو، تو اس میں آپ کی تفہیم اور جو معاہدہ ہو جائے، وہ فریم ورک، اس میں کام کیا جاتا ہے۔ اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے اس پر کہ حبشہ عیسائیوں کی اکثریت رہی، حکومت رہی، لیکن مسلمانوں نے کبھی اس پر حملہ نہیں کیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ فریم ورک ہے۔

تو اس کی روشنی میں آج کے دور میں آج کے حالات کے مطابق ہمیں اس کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ہماری نظریاتی اساس اسلامی قومیت ہے۔ لیکن جس ریاست میں ہیں، جس کی جسمانی خودمختاری میں ہم رہ رہے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ قومیں اگر ہیں، تو ان قوموں کا بھی اتنا ہی حق ہے، اپنے وجود کا، اپنے تحفظ کا، ان کے انسانی حقوق، قانون کے سامنے ان کی برابری، اور مشترکہ قومی مفاد میں مل کر کام کرنا۔ تو یہ ہے وہ نمونہ۔ تو اسی کو سامنے رکھ کر علماء نے 1951ء میں جو اسلامی ریاست کے 22 اصول مرتب کیے، ان کو آپ پڑھیں، یہ پہلی کوشش ہے دورِ حاضر میں، کہ جس میں مسلمان علماء نے یہ بتایا کہ آج کے دور میں ہم کس طرح اس نظریے کو ایک جسمانی خطے کے اندر جگہ دیں گے۔ اور اسی کی روشنی میں قراردادِ مقاصد منظور ہوئی اور پاکستان کا آئین بنا۔ تو پاکستان کا آئین ہم لوگوں کو فریم ورک دیتا ہے جس کے اندر سب کے لیے رہنے کا پورا پورا امکان موجود ہے۔ اور ہمارے لیے بھی نہ صرف رہنے کا بلکہ سہولت فراہم کرنے کا کہ ہم اکثریت میں اسلامی زندگی کا فروغ کر سکیں۔ لیکن کسی پر تھوپنا یا کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھنا، یہ بہرحال...

اور اس کے باوجود بھی یہ تمنا ہماری رہے گی کہ مسلمان ممالک آپس میں ملیں اور قریب آئیں۔ اور پاکستان کے آئین میں بھی آرٹیکل 41 اس اصول کو پیش کرتا ہے کہ ہمارے خصوصی تعلقات تمام مسلمان ملکوں سے ہوں گے۔ اور زیادہ سے زیادہ اسلامی اتحاد، اسلامی تعاون کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ اقبال نے ری کنسٹرکشن میں بڑے خوبصورتی سے اس بات کو لیا اور یہ کہا ہے کہ آئیڈیل چاہے خلافت ہو، ایک حکومت، لیکن موجودہ دور میں what I foresee is, a common wealth of muslim states۔ تنظیم تعاون اسلامی تک لے جانے کا ہمارا خواب جو تھا وہ بھی اسی کا ایک حصہ رہا ہے کہ شاید یہ اس کے لیے ایک سنگِ میل بن سکے۔ تو جدید ریاست کو سامنے رکھتے ہوئے، یعنی ریاست کا ایک نظریاتی وجود، اس کے اندر اکثریتی برادری کو اپنے دین کے مطابق اپنا راستہ نکالنے کا، لیکن باقی سب کو شناخت کی حفاظت اور اس کے مطابق آگے بڑھنا۔ اور یہ بھی میں آپ کو بتا دوں کہ اسلامی تاریخ میں، یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے، کہ گو پہلی لہر جو ہے مصر تک وہ اسلامائزیشن اور عربنائزیشن ساتھ ساتھ تھی، لیکن ایران اور اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ زبان، مقامی کلچر، مقامی روایات، ان سب کو باقی رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیا گیا۔ اور کوئی مثال ایسی نہیں ملتی ہے کہ علاقائی زبانوں کو کچلا گیا ہو، حوصلہ شکنی کی گئی ہو۔ یا علاقائی لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیے گئے ہوں، یا ان کو شرکت میں مواقع نہ دیے گئے ہوں۔ عثمانی سلطنت میں کم از کم سات وزیرِ اعظم ایسے ہیں جو بوسنیا ہرزیگوینا، اس علاقے کے تھے۔ یعنی شرکت کا احساس سب کو ملتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ان کو خودمختاری بھی ملتی ہے۔ اور بالعموم جو والی بنائے جاتے تھے، گورنر بنائے جاتے تھے، وہ باہر سے نہیں بھیجے جاتے تھے، بلکہ وہیں سے بنائے جاتے تھے، بالعموم۔ تو دوسری طرف ایک یگانگت، اور اس یگانگت کے فریم ورک میں کثرت پرستی اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کرنا۔ یہ ہمارا فریم ورک۔

(3) ایک سوال خواتین کی جانب سے آیا ہے... معاشیات کی پاکستان کی موجودہ جو صورت حال ہے، اس سے کس طرح سے؟

پروفیسر خورشید احمد: دیکھیے، میرا خیال یہ ہے کہ یہ ساڑھے تین سال، پچھلے پانچ سال سے تو نسبتاً بہتر رہے، لیکن جو انہوں نے اپنے منشور میں وعدے کیے تھے، اور جو امکانات تھے، بدقسمتی سے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اور بڑے جو مسائل ہیں اور جنہیں یہ حل نہیں کر سکے صحیح، اس میں سب سے اہم... توانائی کا مسئلہ ہے۔ ان کا وعدہ تھا کہ ہم ایک وزارت بنائیں گے توانائی کی، اور تمام شعبے جو اس سے متعلق ہیں، پانی، بجلی، ان سب کو ایک جگہ لائیں گے۔ اور یہ بہت ضروری تھا۔ لیکن نہیں کیا۔ اسی طرح تقسیم ہے، پانچ پانچ محکمے سنبھال رہے ہیں۔ پھر غلط منصوبے، کرپشن، مناسب نگرانی کا نہ ہونا، نتیجہ یہ ہے کہ جو بحران آپ کو تین سال میں قابو میں کرنا تھا اسے آپ پانچ سال میں بھی کرتے مجھے نظر نہیں آ رہے۔ اور اس کی وجہ سے پوری معیشت اور عام زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ملک میں مالیاتی وسعت اور پیداوار میں اضافہ، جسمانی معیشت کا بڑھنا، دونوں میں بڑا نازک سا تعلق ہے۔ اور عالمی سطح پر یہ تعلق منقطع ہو گیا ہے۔ ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ہمارے ہاں مالیاتی وسعت ہوئی، آپ اس کو دیکھیں اسٹاک ایکسچینج کو تو وہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ لیکن برآمدات کو آپ دیکھیں تو وہ سکڑ رہی ہیں۔ درآمد اور برآمد کا فرق اب تقریباً، یعنی برآمدات پچاس فیصد رہ گئی ہیں درآمدات کی۔ اور زراعت اور صنعت، جو اہم پیداواری یونٹس ہیں ان کے، وہ نہیں ابھر پا رہے ہیں۔ تو یہ بنیادی مسائل ہیں۔

اسی طریقے سے قرض۔ اندرونی بھی بیرونی بھی۔ یہ آسان راستہ لے کر کے آپ کام چلا رہے ہیں۔ لیکن آپ اپنا مستقبل گروی رکھ رہے ہیں، آپ اپنا... گروی رکھ رہے ہیں۔

تو اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی غیر متوازن، مسخ شدہ حکمت عملی ہے۔ اور بحیثیت مجموعی معمولی بہتری یا جتنا قرض کا رجسٹر ہو رہا تھا اس میں کمی کے باوجود، یعنی معیشت جو ہے وہ میری نگاہ میں، نہ خود کفالت کی طرف گئی ہے، نہ اڑان کی طرف جا رہی ہے۔ اس پہلو سے میں حالات سے خاصا غیر مطمئن ہوں۔ اور میرا خیال ہے اس معاملے میں آئی پی ایس نے جو سیمینار کیے ہیں اور خاص طور پر جو ان کے بجٹ پر تبصرے ہیں، ان کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں آپ کو صاف نظر آئے گا کہ مثبت اور منفی کیا ہیں، اور منفی کا پلڑا خاصا بھاری ہے۔


مشاہدات و تاثرات

()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter