نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام

یہ تحریر ایک انٹرویو کا خلاصہ ہے جو امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں پیدائش اور پرورش پانے والی خاتون نجلاء ٹیمی کیپلر کے عیسائیت سے اسلام قبول کرنے کے سفر اور اس کے بعد کی زندگی پر مبنی ہے۔ اس میں نجلاء نے اپنی ابتدائی زندگی، سچائی کی تلاش کے سفر، اسلام سے تعارف اور قبولیت، اور قبولِ اسلام کے بعد کی زندگی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

ابتدائی زندگی اور مذہبی پس منظر

نجلاء ٹیمی کیپلر پیدائشی طور پر ٹیکسن ہیں اور وہیں پلی بڑھی ہیں۔ انہیں کھیلوں اور بیرونی سرگرمیوں سے لگاؤ رہا اور وہ باسکٹ بال اور والی بال کھیلتی رہیں اور دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لیتی رہیں۔ شاعری، ڈرائنگ اور آرٹ کے مقابلوں میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں۔ والدین کی بچپن میں ہی طلاق ہو گئی تھی تو اس کے اثرات ان کی زندگی پر رہے۔

نجلاء جس ماحول میں پلی بڑھی تھیں، خواہ وہ سکول ہو یا چرچ، وہاں خدمت اور تبدیلی پیدا کرنے کی ذمہ داری کا احساس اجاگر کیا جاتا تھا۔ انہیں دو مختلف اقسام کی عیسائیت دیکھنے کا موقع ملا۔ پہلی وہ جو ان کے والد نے نوجوانی میں اپنائی، جو کافی منظم تھی۔ جب وہ نوعمر ہوئیں تو اپنی والدہ کے ساتھ رہنے چلی گئیں اور ایک بیپٹسٹ چرچ میں پروٹسٹنٹ سوچ کی حامل عیسائیت کا تجربہ کیا، جس میں تثلیث اور کرسمس کا جشن شامل تھا۔ انہوں نے دونوں چرچوں سے استفادہ کیا لیکن وہ اب بھی مزید کی جستجو رکھتی تھیں۔

ان کے والد کے چرچ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہلے حکم ’’ایک خدا‘‘ پر زور دیا جاتا تھا، اور اپنی تحقیق کی روشنی میں وہ کرسمس اور سالگرہ جیسی تعطیلات نہیں مناتے تھے، جن کا پس منظر بائبل کی تعلیمات کے مطابق غیر مذہبی پایا گیا تھا۔ خاص طور پر کرسمس 25 دسمبر کو نہ منانے اور درخت کو سجانے کو غیر مذہبی عمل قرار دیا گیا، جسے وہ آگ کی عبادت کے مماثل سمجھتے تھے۔

سچائی اور جوابات کی تلاش

نجلاء کا کہنا ہے کہ وہ ایمان تو رکھتی تھیں لیکن وہ کافی نہیں تھا۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ ان کے رب کا نام اللہ ہے اور وہ کس طرح عبادت چاہتا ہے۔ اندرونی بے چینی انہیں حقیقت اور جوابات کی گہری تلاش پر مجبور کرتی رہی۔ چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے سوالات کاغذ پر لکھے اور اپنی والدہ کے مذہبی رہنما کے ساتھ ایک ملاقات طے کی۔ عالی شان چرچ کے ایک سجاوٹ بھرے کمرے میں بیٹھ کر انہوں نے یہ سوالات پیش کیے کہ عیسائی ہونے کے باوجود کرسمس کیوں منائی جاتی ہے اور سور کا گوشت کیوں کھایا جاتا ہے؟ وہ کہتی ہیں کہ انہیں جو جوابات ملے وہ غیر مصدقہ اور ناکافی تھے۔ اس مایوس کن ملاقات کے بعد نجلاء نے چرچ جانا چھوڑ دیا اور اپنی زندگی کو کھیل، پڑھائی، آرٹ اور شاعری جیسی چیزوں میں مصروف کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اب بھی خالی پن اور خوف محسوس کر رہی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی کہ اے خدا، مجھے حکمت عطا کر اور مجھے رہنمائی چاہیے۔

پھر انہوں نے ایک بیپٹسٹ چرچ جانا شروع کیا جہاں کے لوگ خدا کی محبت کا ماحول قائم کیے ہوئے تھے، عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کرتے تھے، اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ یہ ماحول دلکش تھا اور انہیں یہ بات بھی پسند آئی کہ چرچ میں کوئی مورتیاں یا تصاویر نہیں تھیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد انہیں احساس ہوا کہ یہ وہ ماحول نہیں ہے جس کی وہ تلاش میں تھیں، تاہم، یہاں انہیں خدا کی یاد اور بائبل کی کچھ متاثر کن باتیں سیکھنے کا موقع ملا۔

اسلام کی طرف رہنمائی اور قبولیت کا فیصلہ

نجلاء کی دعا کا جواب کچھ اس طرح سے آیا کہ ان کی یونیورسٹی میں ان کی دوست کا ایک دوست ترک مسلمان تھا۔ 1991ء میں ایک مشترکہ ٹرپ کے دوران جب وہ لوگ ایک جگہ کھانے کے لیے رکے تو اس مسلمان دوست نے پوچھا کہ کون سے کھانے میں سور کا گوشت نہیں ہے، کیونکہ میرا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ بات نجلاء کے لیے توجہ کا باعث بنی کیونکہ وہ بھی اپنے والد کے چرچ کے عقائد کی وجہ سے سور کا گوشت نہیں کھاتی تھیں۔ چنانچہ وہ صاحب اس سلسلہ میں رہنمائی کا ذریعہ بنے اور انہوں نے نجلاء کو اسلامی لٹریچر مہیا کیا، جس میں انہیں اپنے والد کے چرچ کی تعلیمات سے بہت زیادہ یکسانیت ملی۔ پھر ان صاحب نے نجلاء قرآن کے بارے میں بتایا کہ وہ صرف خدا کے الفاظ ہیں اور کسی بھی نقص سے پاک ہیں، اور اس کتاب کو قیامت تک محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اور ثبوت کے طور پر بتایا کہ چونکہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے اس لیے قرآن کریم کے الفاظ ان کے نہیں ہو سکتے تھے بلکہ یہ خالص وحی تھی۔ نجلاء اس سے بہت متاثر ہوئیں۔

چونکہ 1991ء انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا اور انگریزی میں اسلامی مواد تک رسائی کم تھی، تو اس دوست نے یونیورسٹی کی لائبریری سے امام نوویؒ کی ’’چالیس احادیث‘‘ نامی ایک کتابچہ تلاش کر کے دیا۔ نجلاء کو اس کتابچہ میں اپنے بہت سے جوابات ملے، مثلاً‌: اللہ ان کا خدا ہے، جس نے ان کے لیے مذہب اسلام منتخب کیا ہے، جو زندگی گزارنے کے بہترین طریقے سکھاتا ہے۔ نجلاء نے محسوس کیا کہ یہ تعلیمات مکمل طور پر سچ، جامع، اور حکمت سے بھرپور ہیں کیونکہ یہ العلیم (سب کچھ جاننے والے) نے عطا کی ہیں۔ اس علم سے متاثر ہو کر نجلاء نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

قبولِ اسلام اور حجاب کا اعلان

نجلاء بتاتی ہیں کہ انہوں نے پہلی بار شاید اپنی ورلڈ ہسٹری کی ٹیچر سے اسلام کے بارے میں سنا تھا، جب انہوں نے مسلمانوں کے نماز سے پہلے کے وضو کی وضاحت بہت پُرجوش انداز میں کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ اسلام کے بارے میں بالکل بے خبر رہیں۔ بعد میں، فلموں کے ذریعے اسلام کی غلط نمائندگی بھی سامنے آئی، لیکن ایک فلم کے آخر میں مسلمان کردار کی پردہ پوشی سے نجلاء کے ذہن میں حیا کا تصور آیا۔

اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی ان کے دوست نے انہیں زیادہ باحیا لباس پہننے کی ترغیب دی تھی، جس میں تنگ کپڑوں کے بجائے ڈھیلے اور لمبے لباس کا انتخاب کرنا شامل تھا تاکہ لوگ ان کے جسم کی بجائے ان کی ذات پر توجہ دیں۔ نجلاء نے میک اپ کم کر دیا اور حجاب اوڑھنا شروع کر دیا، اگرچہ انہیں اس وقت اس کی جامعیت کا احساس نہیں تھا لیکن پردے کا تصور انہیں سکون بخش اور آزادی دلانے والا محسوس ہوا۔ جب وہ قبولِ اسلام کے لیے تیار ہو گئیں تو انہیں ایک امام کے گھر لے جایا گیا جہاں انہوں نے مسلمان بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ امام صاحب نے پہلے اس بات کا یقین کیا کہ انہیں اسلام کی بنیادی سمجھ بوجھ ہے، بشمول اللہ کی وحدانیت، انبیاء پر ایمان، کتابوں پر ایمان، آخرت اور تقدیر پر ایمان۔ اس کے بعد انہوں نے ’’شہادت‘‘ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔

اسلامی زندگی کی برکات

نجلاء کہتی ہیں کہ مجھے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بالکل بھی خوف محسوس نہیں ہوا۔ بلکہ انہوں نے اس حوالے سے جن تعصبات اور مخالفت کا سامنا کیا، اس نے ان کے فیصلے کو مزید حوصلہ افزائی اور یقین بخشا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام کا انتخاب ان کی زندگی کا بہترین فیصلہ تھا، اور انہیں یقین ہے کہ ان کا خاتمہ اسی پر ہو گا۔ شہادت کے اعلان کے ساتھ ہی نجلاء کو یہ احساس ہوا کہ ان کے گناہ مٹا دیے گئے ہیں اور یہ ایک نیا آغاز ہے، یہ ایک ایسا احساس تھا جو انہیں عیسائیت میں نجات یافتہ ہونے کے بعد نہیں ہوا تھا۔

ان کی والدہ نے تشویش کا اظہار کیا کیونکہ انہیں اسلام کے بارے میں صحیح معلومات نہیں تھیں اور وہ ڈرتی تھیں کہ ان پر ظلم ہوگا۔ انہوں نے روکنے کی کوشش کی لیکن نجلاء نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنے والد کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے تمہیں صحیح راستے پر چلنے کی تربیت دی ہے، اور اگر تم سمجھتی ہو کہ یہ صحیح راستہ ہے تو آگے بڑھو۔ اپنے والد کی آمادگی سے انہیں بہت اطمینان ملا۔ نجلاء کہتی ہیں کہ سماجی طور پر انہیں کچھ زیادہ مشکل پیش نہیں آئی، زیادہ تر لوگ متجسس تھے، جن کے سوالات کے جوابات انہوں نے اپنے طور پر دینے کی بھرپور کوشش کی۔

بھرپور اور بارونق زندگی

نجلاء کہتی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی اتنی خوشگوار ہو گئی کہ وہ اسے بیان نہیں کر سکتیں۔ ایک دنیا ان پر کھل گئی کہ مختلف ممالک جیسے یمن، قطر، پاکستان اور ترکی وغیرہ کی ثقافتوں کو جاننے کا انہیں موقع مل گیا، کیونکہ وہ سب ایمان میں ان کے بھائی اور بہن تھے۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ اسلام ان کی لذت بخش زندگی کو ختم کر دے گا، نجلاء کا انہیں جواب ہے کہ انہوں نے ایک زیادہ بھرپور، رنگین اور قدر کرنے والی زندگی کا تجربہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی اچھی سرگرمیاں جیسے باسکٹ بال، والی بال، یا تیراکی وغیرہ ایک موزوں اور نجی ماحول میں اب بھی کی جا سکتی ہیں۔ جبکہ وہ ابدی زندگی کی خاطر ایک مثبت اور باپردہ دنیوی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

حج کا روحانی تجربہ اور مستقبل کی خواہش

نجلاء نے حج کا تجربہ بھی بیان کیا، جو جسمانی طور پر تھکا دینے والا تھا، لیکن روحانی طور پر بہت گہرا تھا۔ کعبہ کے پاس، جہاں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے خدا کا گھر بنایا تھا، وہ نماز کا انتظار کر رہی تھیں اور اپنے دائیں طرف ایک مصری اور بائیں طرف ایک الجزائری بہن کے درمیان تھیں۔ مصری بہن کی تلاوتِ قرآن کی خوبصورت آواز نے انہیں متاثر کیا اور انہیں یہ احساس ہوا کہ یہ الفاظ ان کے نبی پر یہاں نازل ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ٹیکساس کی ایک خاتون کس طرح مصر اور الجزائر کی بہنوں کے ساتھ ایمان، اللہ کی وحدانیت، اور نبی اور کتاب کی محبت کے حوالے سے وابستہ ہو گئی ہے، وہ خوشی اور مسرت سے رونے لگیں۔ یہ اتنا گہرا تعلق تھا جو انہوں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ یہ احساس مغفرت کی تلاش اور دوبارہ پاکیزگی حاصل کرنے کا تھا۔

نجلاء کہتی ہیں کہ مجھے اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کی ضرورت نہیں ہے، اللہ ان سے براہ راست مانگنے کا موقع دے رہا ہے، اور انہیں انسانیت اور مومنین کی عالمی برادری کا حصہ بنا رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی ایک دن دیکھنے کا موقع ملے تو وہ کون سا دن چنیں گی، تو انہوں نے پہلے تو ابتدائے وحی، خاندان کو دعوت، زوجہ حضرت خدیجہ کی وفات، ہجرتِ مدینہ، اور معراج کے یادگار مواقع کا ذکر کیا، پھر بتایا کہ ان کا ذاتی انتخاب وہ دن ہے جب وہ حوضِ کوثر پر ان شاء اللہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملیں گی۔

نومسلمین کے حوالے سے پیغام

نجلاء کا کہنا ہے کہ اسلام قبول کرنے والے شخص کو سب سے زیادہ جذبۂ اخوت کی ضرورت ہوتی ہے، اگرچہ بعض اوقات مالی ضروریات بھی ہوتی ہیں کہ کسی نے اپنی نوکری گنوا دی ہے۔ البتہ ایک نئے مسلمان کو سب سے بڑی چیز یہ چاہیے کہ وہ محسوس کرے کہ وہ ایک برادری کا حصہ ہے، لہٰذا اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے ابھی اسلام قبول کیا ہے تو اس کے لیے موجود رہیں کیونکہ اسے اپنے بھائی یا بہن کے طور پر آپ کی ضرورت ہے۔ آخری خیال کے طور پر ان کا جواب تھا کہ اسلام مشکل نہیں ہے بلکہ اسلام کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے۔ خالق نے یہ مذہب ایک تحفے کے طور پر دیا ہے لیکن انتخاب انسان کا ہے۔

https://youtu.be/NGY1ch9hA98


قبولِ اسلام

()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter