قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)

محمد علی جناح برصغیر کی جدید تاریخ کی اُن نادر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی سیاسی بصیرت، قانونی ذہانت، اور غیر متزلزل عزم نے ایک نئی ریاست کے قیام کی صورت اختیار کی۔ وہ ایک نامور وکیل، مؤثر سیاست دان، اور پاکستان کے بانی تھے۔ 1913ء سے قیامِ پاکستان تک وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد رہے اور آزادی کے بعد اپنی وفات تک پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے منصب پر فائز رہے۔ پاکستان میں انہیں قائدِ اعظم اور بابائے قوم کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے، اور ان کی پیدائش کا دن قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔

ابتدائی سیاسی زندگی میں جناح ہندوستانی سیاست کے مرکزی دھارے کا حصہ تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ حالات و تجربات اور سیاسی حقائق نے انہیں اس نتیجے تک پہنچایا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ سیاسی تشخص اور بالآخر ایک الگ ریاست ناگزیر ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، جو اُس وقت برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا۔ ان کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی تھا۔ ان کے والد جناح بھائی پونجا ایک تاجر تھے جن کا تعلق گجرات کے علاقے کاٹھیاواڑ سے تھا، جبکہ والدہ مٹھی بائی ایک سادہ اور گھریلو مزاج خاتون تھیں۔ خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا، مگر تعلیم اور محنت کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی تھی۔ جناح کے والدین گجراتی زبان بولتے تھے، جبکہ بچوں نے وقت کے ساتھ کچھی اور انگریزی زبان بھی سیکھ لی۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے، اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح بعد کے برسوں میں ان کی سب سے قریبی رفیقِ کار ثابت ہوئیں۔

تعلیم اور فکری نشوونما

جناح نے ابتدائی تعلیم کراچی اور بمبئی میں حاصل کی۔ ان کی تعلیم مختلف اداروں میں ہوئی، جن میں سندھ مدرسۃ الاسلام، کرسچن مشنری اسکول، اور بعد ازاں بمبئی کے تعلیمی ادارے شامل تھے۔ ان کے لڑکپن کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں، مگر معتبر شواہد یہی بتاتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے سنجیدہ، نظم و ضبط کے پابند، اور غیر معمولی خود اعتمادی کے حامل تھے۔ کم عمری ہی میں ان میں قانون، منطق، اور دلیل سے شغف نمایاں ہو گیا تھا، جو آگے چل کر ان کے وکالتی پیشہ اور سیاسی شخصیت کی بنیاد بنا۔

انگلستان میں قیام اور قانونی تربیت

انیسویں صدی کے آخری عشرے میں جناح اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان روانہ ہوئے۔ ابتدا میں وہ ایک تجارتی ادارے سے وابستہ ہوئے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کی اصل دلچسپی قانون کے شعبے میں ہے۔ چنانچہ انہوں نے لنکن اِن میں داخلہ لے کر بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی۔ لندن میں قیام کے دوران وہ برطانوی سیاسی نظام، پارلیمانی روایات اور آئینی تصورات سے گہرے طور پر متاثر ہوئے۔ یہیں انہوں نے جمہوری سیاست، قانون کی بالادستی، اور آئینی جدوجہد کو اپنے سیاسی نصب العین کا حصہ بنایا۔ اسی دور میں انہوں نے اپنا نام مختصر کر کے محمد علی جناح رکھ لیا۔ 1895ء میں، محض انیس برس کی عمر میں، وہ بیرسٹر بننے والے کم عمر ترین ہندوستانیوں میں شامل ہو گئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وطن واپس لوٹے، جہاں ان کی عملی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔

وکالت کا آغاز اور پیشہ ورانہ عروج

واپسی کے بعد جناح نے بمبئی میں وکالت شروع کی۔ ابتدا میں یہ سفر آسان نہ تھا، مگر ان کی محنت، تیاری، اور قانونی مہارت نے جلد ہی انہیں ممتاز وکلاء کی صف میں لاکھڑا کیا۔ انگریزی زبان پر عبور، دلائل کی مضبوطی، اور ججوں کے سامنے بے خوف اندازِ گفتگو ان کی پہچان بن گیا۔ چند ہی برسوں میں وہ اعلیٰ درجے کے مقدمات لڑنے لگے۔ ایک موقع پر انہیں ایک اعلیٰ عدالتی عہدہ بھی پیش کیا گیا، مگر انہوں نے اسے مسترد کر دیا، کیونکہ وہ وکالت کو اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے زیادہ موزوں سمجھتے تھے۔ وقت کے ساتھ ان کی آمدنی، شہرت، اور اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

سیاست کی طرف قدم اور کانگریس سے وابستگی

وکالت کے ساتھ ساتھ جناح سیاست میں بھی دلچسپی لینے لگے۔ انہوں نے ابتدا میں آل انڈیا کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر شروع کیا۔ اس زمانے میں وہ ان رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جو آئینی جدوجہد، تدریجی اصلاحات، اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے۔ کانگریس کے اندر وہ اُن اعتدال پسند رہنماؤں کے قریب تھے جو قانون، تعلیم، اور سیاسی شعور کے ذریعے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جناح کا خیال تھا کہ ہندوستان کی ترقی اور خود مختاری ایک منظم اور آئینی راستے سے ہی ممکن ہے۔

علیحدہ مسلم سیاست کا تقاضا

جب بعض مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ سیاسی نمائندگی کی بات شروع کی تو جناح نے ابتدا میں اس طرزِ فکر سے اختلاف کیا۔ ان کا موقف تھا کہ مذہبی بنیادوں پر سیاست تقسیم کو جنم دے گی اور قومی وحدت کو نقصان پہنچائے گی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی حالات بدلتے گئے۔ کانگریس کے اندر اکثریتی رویے، یکطرفہ فیصلوں، اور جانبدارانہ طرزِ سیاست نے جناح کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ مسلمانوں کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران بھی وہ اس امید کے ساتھ برطانوی حکومت کی حمایت کرتے رہے کہ اس کے نتیجے میں ہندوستان کو سیاسی آزادی ملے گی۔ پھر وہ مرحلہ آیا جہاں سے جناح کی سیاسی سوچ بتدریج ایک نئے رخ کی طرف بڑھنے لگی، جو آگے چل کر برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دینے کا باعث بنی۔

کانگریس سے علیحدگی اور آئینی سیاست کا آخری مرحلہ

انیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں انڈین نیشنل کانگریس کے اندر وہ اعتدال پسند اور آئینی ذہن رکھنے والا حلقہ بتدریج کمزور پڑنے لگا جس سے محمد علی جناح کی سیاسی ہم آہنگی قائم تھی۔ گوپال کرشنا گوکھلے اور فیروز شاہ مہتہ جیسے رہنماؤں کے انتقال اور دادابھائی نوروجی کے عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے کے بعد جناح کانگریس میں تقریباً تنہا ہو گئے۔ اس کے باوجود انہوں نے آخری حد تک کوشش کی کہ ہندو مسلم تعاون کو برقرار رکھا جائے۔ اسی جذبے کے تحت 1916ء میں، جب وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت کر رہے تھے، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان میثاقِ لکھنؤ طے پایا۔ اس معاہدے کے ذریعے مختلف صوبوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے نمائندگی کے مخصوص تناسب پر اتفاق ہوا۔ اگرچہ یہ معاہدہ عملی طور پر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا، لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا کہ جناح اب بھی مفاہمت اور آئینی اشتراک کے خواہاں تھے۔

ہوم رول تحریک اور برطانوی وعدوں کی حقیقت

پہلی جنگِ عظیم کے دوران جناح ان ہندوستانی رہنماؤں کے ہم خیال رہے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہندوستان برطانیہ کی جنگی کوششوں کی حمایت کرے تو اس کے بدلے میں سیاسی خود مختاری مل سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اینی بیسنٹ اور بال گنگا دھر تلک کے ساتھ مل کر آل انڈیا ہوم رول لیگ (Home Rule League) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تحریک کا مقصد سلطنتِ برطانیہ کے اندر رہتے ہوئے ہندوستان کو Dominion کی طرز کی خود مختاری دلانا تھا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔ برطانوی حکومت نے اصلاحات کے معاملے میں سرد مہری اختیار کر لی، اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں جناح کی مایوسی ایک واضح سیاسی شعور میں ڈھلنے لگی۔ برطانوی وزراء بھی جناح کی شخصیت کو ایک باوقار، سنجیدہ، اور اصول پسند رہنما کے طور پر دیکھتے تھے، جو اپنے موقف پر ثابت قدم رہتا تھا۔

ذاتی زندگی، شادی، نجی مسائل

اسی دور میں جناح کی ذاتی زندگی میں بھی اہم تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے ایک نوجوان پارسی خاتون سے شادی کی، جنہوں نے اسلام قبول کیا اور مریم جناح کہلائیں۔ یہ شادی سماجی اور مذہبی حلقوں میں شدید مخالفت کا باعث بنی، اور مریم جناح کو اپنے خاندان اور برادری سے عملاً قطع تعلق کرنا پڑا۔ ان کی واحد بیٹی دینا کی پیدائش کے چند برس بعد مریم جناح کا انتقال ہو گیا۔ اس سانحے کے بعد فاطمہ جناح نے نہ صرف جناح کی گھریلو ذمہ داریاں سنبھالیں بلکہ عملی طور پر ان کی سب سے قریبی رفیق اور معتمد بن گئیں۔

تحریکِ خلافت کا مرحلہ اور گاندھی سے نظریاتی اختلاف

1919ء کے بعد ہندوستان میں سیاسی فضا یکسر بدل گئی۔ جلیانوالہ باغ کے سانحے نے پورے برصغیر کو جھنجھوڑ دیا اور اسی پس منظر میں مہاتما گاندھی ہندوستانی سیاست کے مرکز میں آ گئے۔ انہوں نے عدمِ تشدد اور عوامی مزاحمت کی سیاست کو فروغ دیا اور تحریکِ خلافت کی حمایت کے ذریعے مسلمانوں میں بھی مقبولیت حاصل کی۔ جناح اس طرزِ سیاست سے بنیادی طور پر اختلاف رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطرناک تھا اور ستیاگرا جیسی تحریکیں سیاسی نظم و ضبط کے بجائے انتشار کو جنم دیتی تھیں۔ وہ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ آزادی کا راستہ آئینی جدوجہد اور قانونی اصولوں سے ہو کر گزرتا ہے، مگر عوامی رائے کا رخ گاندھی کی طرف ہو چکا تھا۔ 1920ء میں کانگریس نے ستیاگرا کو اپنی مرکزی پالیسی بنا لیا۔ یہی وہ فیصلہ تھا جس کے بعد جناح نے کانگریس سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی، اگرچہ وہ مسلم لیگ سے وابستہ رہے۔

برطانیہ میں چار سالہ قیام

کانگریس سے علیحدگی کے بعد جناح ایک ایسے سیاسی دور میں داخل ہوئے جس میں تنہائی، غور و فکر، اور آئندہ راستے کی تلاش نمایاں تھی۔ وہ مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ایک فعال پارلیمنٹیرین کے طور پر سامنے آئے، مگر وہ کسی انقلابی سیاست کے بجائے ذمہ دار حکومت کے اصول پر قائم رہے۔ جب انہیں برطانوی اعزاز پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے عام شہری کی حیثیت سے پہچانے جانے کو ترجیح دی۔ اسی دوران ہندوستان کے آئینی مستقبل پر بحث کے لیے برطانوی حکومت نے کمیشن قائم کیا، جس کا ہندوستانی رہنماؤں نے بائیکاٹ کیا۔ جناح نے اس عمل کو ہندوستانیوں کی سیاسی اہلیت پر عدمِ اعتماد قرار دیا۔

نہرو رپورٹ اور چودہ نکات کا فیصلہ کن مرحلہ

جب کانگریس نے ہندوستان کے آئینی مستقبل کے لیے نہرو رپورٹ پیش کی تو جناح کو یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ مسلمانوں کے اجتماعی مفادات اس خاکے میں محفوظ نہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے۔ یہ نکات دراصل ایک وفاقی، متوازن، اور کثیر القومی ہندوستان کا خاکہ تھے، مگر انہیں نہ کانگریس نے قبول کیا اور نہ برطانوی حکومت نے۔ یہ مرحلہ جناح کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ انہیں یہ احساس ہونے لگا کہ محض آئینی اصلاحات کے ذریعے مسلمانوں کے سیاسی تحفظ کی ضمانت ممکن نہیں۔

لندن میں خاموش قیام اور فاطمہ جناح کا کردار

1930ء سے 1934ء تک جناح لندن میں مقیم رہے۔ بظاہر یہ دور خاموشی کا تھا، مگر درحقیقت یہ فکری تیاری اور سیاسی خود احتسابی کا زمانہ تھا۔ وہ قانونی مشق بھی کرتے رہے اور ہندوستان کے معاملات پر گہری نظر بھی رکھتے رہے۔ اسی عرصے میں فاطمہ جناح مستقل طور پر ان کے ساتھ رہنے لگیں۔ انہوں نے نہ صرف ان کی صحت اور روزمرہ زندگی کا خیال رکھا بلکہ رفتہ رفتہ ان کی سیاسی سوچ میں بھی قریبی مشیر کا کردار ادا کرنے لگیں۔ یہ وہ دور تھا جس نے جناح کو ایک نئی اور زیادہ واضح سمت کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا۔

فکری تبدیلی میں علامہ محمد اقبال کا کردار

جناح کی سیاسی زندگی میں سب سے گہری اور دور رس تبدیلی علامہ محمد اقبال کے افکار کے ذریعے آئی۔ اقبال نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ محض سیاسی نمائندگی کا نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری بقا کا مسئلہ ہے۔ انہی خیالات کے زیرِ اثر جناح اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ سیاسی وحدت ناگزیر ہے۔ اقبال کے ساتھ خط و کتابت اور فکری مکالمے نے جناح کی سوچ کو ایک نئے سانچے میں ڈھال دیا۔ اب وہ اسلام کو صرف ایک ذاتی عقیدہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اصول اور سماجی نظم کے طور پر دیکھنے لگے۔ ان کی تقاریر میں اسلامی تاریخ، انصاف، مساوات، اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے نمایاں ہونے لگے۔

ہندوستانی سیاست میں واپسی اور مسلم لیگ کی ازسرِ نو تشکیل

1934ء میں جناح نے مستقل طور پر ہندوستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ مسلم رہنماؤں، خصوصاً لیاقت علی خان کی کوششوں سے انہیں دوبارہ مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا گیا۔ واپسی کے بعد انہوں نے مسلم لیگ کو ازسرِنو منظم کیا، اس کی رکنیت کو وسیع کیا، اور اسے ایک فعال سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی ناکامی جناح کے لیے ایک تلخ مگر بیدار کن تجربہ ثابت ہوئی۔ کانگریس کی بھاری کامیابی نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان عملی طور پر کس قدر بے اختیار ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ احساس تھا جس نے جناح کو ایک الگ سیاسی راستے پر پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھنے پر آمادہ کیا۔

بدلتی ہوئی مسلم سیاست اور آزادئ وطن کا پس منظر

1930ء تک برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت یہ سمجھتی تھی کہ آزادی کی صورت میں وہ ہندو اکثریت کے ساتھ ایک متحد ملک میں رہ سکتے ہیں، جیسا کہ صدیوں سے ہوتا آیا تھا۔ ہندو سیاسی قیادت بھی عمومی طور پر ایک خود مختار اور متحد ہندوستان کے تصور کی حامی تھی۔ اسی دوران مستقبل کے قومی سیاسی نظم کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی سامنے آ رہی تھیں، مگر یہ سب تصورات مسلمانوں کے اجتماعی مستقبل کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کو پوری طرح دور نہ کر سکے۔

اسی فکری ماحول میں علامہ محمد اقبال نے خطبۂ الہٰ آباد میں پہلی مرتبہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور واضح انداز میں پیش کیا۔ کچھ ہی عرصے بعد چوہدری رحمت علی نے وادیٔ سندھ اور دیگر مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے ’’پاکستان‘‘ کا نام تجویز کیا۔ محمد علی جناح نے ابتدا میں ان خیالات کو ایک فکری امکان کے طور پر دیکھا، مگر علامہ محمد اقبال سے مسلسل ملاقاتوں اور مکالمے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی سیاسی سلامتی محض وعدوں یا آئینی تحفظات سے ممکن نہیں۔

کانگریس ایک متحد اور طاقتور ہندوستان کے قیام پر مصر تھی، لیکن جناح اور بہت سے دیگر مسلم رہنما اس تصور سے مطمئن نہ تھے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی حقوق کے تحفظ کی کوئی یقینی ضمانت موجود نہ تھی۔ بعض ہندو رہنماؤں کی جانب سے آزاد ہندوستان کو ہندو ریاست کے طور پر دیکھنے کے رجحانات نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور ہندی کو واحد سرکاری زبان بنانے جیسے مطالبات نے مسلمانوں میں بے چینی پیدا کی، اگرچہ اس کے باوجود ان کی ایک قابلِ ذکر تعداد اب بھی کانگریس کے ساتھ وابستہ تھی۔

1937ء کے انتخابات اور بڑھتے ہوئے ہندو مسلم اختلافات

ہندو مسلم اتحاد کا یہ نازک توازن 1937ء کے صوبائی انتخابات کے بعد ٹوٹ گیا۔ کانگریس اور مسلم لیگ متحدہ صوبوں میں حکومت سازی پر متفق نہ ہو سکیں۔ کانگریسی حکومتوں نے مسلم آبادی کی مذہبی حساسیت اور سیاسی خدشات کو سنجیدگی سے لینے میں کوتاہی کی، جبکہ مسلم لیگ نے خود کو مسلمانوں کے حقوق کی واحد محافظ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب جناح کی سیاست نے واضح طور پر تقسیم کی سمت اختیار کی۔ انہیں یہ محسوس ہونے لگا کہ کانگریس کے ساتھ مزید مفاہمت بے سود ہے۔ اسی دور میں ان کی ظاہری شناخت میں بھی تبدیلی آئی اور وہ زیادہ تر مشرقی لباس میں نظر آنے لگے۔ 1937ء کے بعد جناح کا مطالبہ یہ تھا کہ طاقت کی تقسیم پورے ہندوستان میں منصفانہ طور پر نافذ کی جائے اور مسلم لیگ کو تمام مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کیا جائے۔

دوسری جنگِ عظیم اور سیاسی خلا

ستمبر 1939ء میں جب برطانیہ نے جنگ کا اعلان کیا تو وائسرائے نے ہندوستانی قیادت سے مشاورت کے بغیر برصغیر کو جنگ میں جھونک دیا۔ اس فیصلے پر ملک بھر میں شدید ردِعمل ہوا۔ کانگریس نے آزادی اور آئینی اختیارات کا مطالبہ کیا، اور مطالبات رد ہونے پر اس نے اپنی صوبائی حکومتوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یوں کانگریسی قیادت سیاسی منظرنامے سے عملاً غائب ہو گئی۔ اس صورتحال نے جناح کو ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا۔ انہوں نے جنگ میں رکاوٹ ڈالے بغیر برطانوی حکومت سے تعاون کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں انگریزوں نے انہیں مسلمانوں کے نمائندہ رہنما کے طور پر تسلیم کرنا شروع کر دیا۔ جناح خود بعد میں اعتراف کرتے تھے کہ جنگ کے بعد انہیں وہ حیثیت دی جانے لگی جو اس سے پہلے صرف گاندھی کو حاصل تھی۔

قراردادِ لاہور اور دو قومی تصور

جنگی حالات میں مسلم لیگ نے اپنے مطالبات کو منظم شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ فروری 1940ء میں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسلم اکثریتی علاقوں کو آزاد اور خود مختار ریاستوں کی حیثیت دی جانی چاہیے۔ انہی سفارشات کی بنیاد پر مارچ 1940ء میں لاہور کے اجلاس میں وہ قرارداد منظور کی گئی جو بعد میں ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کہلائی۔ اس قرارداد میں واضح کیا گیا کہ برصغیر کے شمال مغربی اور مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں کو یکجا کر کے خود مختار ریاستیں قائم کی جائیں اور دیگر صوبوں میں اقلیتوں کے حقوق کی مکمل ضمانت دی جائے۔ مہاتما گاندھی نے اس پیشرفت کو حیران کن قرار دیا، مگر یہ بھی تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ کانگریس کی دیگر قیادت نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن جناح کے نزدیک یہ مسلمانوں کی سیاسی بقا کا واحد راستہ تھا۔

جنگِ عظیم کے ماحول میں سیاسی مذاکرات اور ناکام سمجھوتے

دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکومت نے ہندوستانی تعاون حاصل کرنے کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے، ان میں صوبوں کو مستقبل کے بارے میں انتخاب کا حق دینے کی تجویز بھی شامل تھی۔ مگر یہ منصوبے نہ کانگریس کو مطمئن کر سکے اور نہ مسلم لیگ کو۔ مسلم لیگ نے بعض تجاویز کو پاکستان کے مطالبے کی اصولی تسلیم شدگی کے طور پر دیکھا، لیکن عملی صورتحال جوں کی توں رہی۔

1942ء میں کانگریس نے ’’بھارت چھوڑو‘‘ تحریک شروع کی، جس کے جواب میں برطانوی حکومت نے کانگریسی قیادت کو قید کر دیا۔ اس پورے عرصے میں جناح نے تحریکِ پاکستان کو منظم انداز میں آگے بڑھایا، مسلم لیگ کو صوبائی سطح پر مضبوط کیا، اور اخباری و تنظیمی ذرائع سے اپنے موقف کو عام کیا۔ اسی زمانے میں انہوں نے ایک انگریزی اخبار کے ذریعے مسلم لیگ کا پیغام وسیع حلقوں تک پہنچایا۔

جنگِ عظیم کا خاتمہ اور مسلم لیگ کی مقبولیت

جنگ کے خاتمے کے بعد برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کے لیے نئے انتخابات کا اعلان کیا۔ مسلم لیگ نے واضح کر دیا کہ وہ صرف پاکستان کے مطالبے پر انتخابی مہم چلائے گی۔ جناح نے اس مرحلے پر اس جدوجہد کو مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا۔ انتخابی نتائج نے سیاسی منظرنامہ بدل کر رکھ دیا۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے مخصوص تمام نشستیں جیت لیں اور صوبائی سطح پر بھی بھاری اکثریت حاصل کی۔ یہ فتح اس بات کا عملی ثبوت بن گئی کہ مسلم لیگ واقعی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ جناح کی برسوں کی جدوجہد، دعوے، اور سیاسی حکمتِ عملی عوامی فیصلے سے درست ثابت ہو چکی تھی۔

کیبنٹ مشن اور عبوری حکومت کا مرحلہ 

1946ء میں برطانوی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی وفد ہندوستان بھیجا تاکہ آئندہ آئینی بندوبست پر اتفاق ہو سکے۔ اس منصوبے میں متحدہ ہندوستان کے اندر صوبائی خود مختاری اور مرکزی اختیارات کی محدود تقسیم شامل تھی۔ مسلم لیگ نے ابتدا میں اس منصوبے کو قبول کیا، مگر عبوری حکومت میں نمائندگی اور ویٹو کے سوال پر اختلافات پیدا ہو گئے۔ کانگریس کے حکومت میں شامل ہونے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ مختلف علاقوں میں فسادات پھوٹ پڑے اور سیاسی اعتماد تیزی سے ختم ہونے لگا۔ جناح اب کسی مبہم حل کے بجائے ایک مکمل خود مختار پاکستان پر زور دینے لگے۔ انہیں یقین ہو چکا تھا کہ ادھورے فیصلے یا عارضی سمجھوتے مسلمانوں کو مستقل عدمِ تحفظ میں مبتلا رکھیں گے۔

بالآخر تقسیمِ ہند کا فیصلہ

جب مذاکرات بار بار ناکام ہونے لگے تو جناح نے یہ سمجھ لیا کہ تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے۔ برطانوی حکومت بھی جلد از جلد انخلا کی خواہاں تھی۔ اسی تناظر میں وائسرائے کی تبدیلی اور نئی قیادت کی آمد نے اقتدار کی منتقلی کے عمل کو تیز کر دیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں تحریکِ پاکستان محض ایک مطالبہ نہیں رہی بلکہ ایک عملی اور قریب الوقوع حقیقت بن چکی تھی۔ جناح کی سیاسی زندگی اب اپنے فیصلہ کن اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی، جہاں برسوں کی آئینی جدوجہد، فکری ارتقا، اور عوامی تائید ایک نئی ریاست کے قیام کی صورت اختیار کرنے والی تھی۔

قیامِ پاکستان اور اقتدار کی منتقلی کا فیصلہ

فروری 1947ء میں برطانوی حکومت نے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا آخری وائسرائے مقرر کرنے کا اعلان کیا اور یہ واضح کر دیا کہ جون 1948ء سے پہلے اقتدار منتقل کر دیا جائے گا۔ ماؤنٹ بیٹن نے عہدہ سنبھالتے ہی سیاسی رہنماؤں سے تیز رفتار مشاورت شروع کی۔ کانگریس اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ طویل سیاسی کشمکش کے بعد اب تقسیم ہی واحد قابلِ عمل راستہ رہ گیا ہے۔ خود نہرو نے بعد کے برسوں میں اعتراف کیا کہ حالات کی مایوسی نے انہیں اس فیصلے پر مجبور کر دیا تھا۔

کانگریس ایک مضبوط وفاقی مرکز کی خواہاں تھی، مگر اس نے یہ شرط بھی طے کر لی کہ اگر پاکستان قائم ہوتا ہے تو پنجاب اور بنگال کو تقسیم کیا جائے گا۔ دوسری طرف جناح کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ برطانوی حکومت اپنے آخری دنوں میں اختیارات کانگریس کے حوالے کر دے گی، جس سے مسلمانوں کے مطالبات کمزور پڑ جائیں گے۔

ماؤنٹ بیٹن اور جناح کے درمیان ہونے والی متعدد ملاقاتیں شدید تناؤ کی فضا میں ہوئیں۔ محمد علی جناح کو برطانوی وائسرائے ماؤنٹ بیٹن ایک سخت اور اٹل مزاج مذاکرات کار سمجھتے تھے، جبکہ جناح ماؤنٹ بیٹن کی کانگریس کے ساتھ قربت سے مطمئن نہ تھے۔ جناح نے آزادی سے پہلے برطانوی ہندی فوج کی تقسیم پر زور دیا، کیونکہ وہ اسے پاکستان کی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے، جبکہ وائسرائے اس معاملے کو آزادی کے بعد نمٹانا چاہتے تھے۔

ان ملاقاتوں کے باوجود یہ واضح ہو گیا کہ اب اقتدار کی منتقلی کو مزید مؤخر کرنا ممکن نہیں رہا۔ بالآخر جون 1947ء میں وہ منصوبہ پیش کیا گیا جس کے تحت 15 اگست کو برطانیہ دو نئی ریاستوں کو اقتدار منتقل کر دے گا، اور صوبائی اسمبلیوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ بھارت یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کریں۔

تین جون کا منصوبہ اور تقسیم کا اعلان

تین جون کو وائسرائے، جناح، نہرو، اور سکھ قیادت نے ریڈیو کے ذریعے تقسیم کے منصوبے کا اعلان کیا۔ پنجاب اور بنگال کی اسمبلیوں نے تقسیم کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ سرحد، سندھ، اور بلوچستان نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ انہی ایام میں جناح کی تقریر میں پہلی بار ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کا نعرہ بے ساختہ شامل ہوا، جو اس جدوجہد کے جذباتی عروج کی علامت بن گیا۔ چند ہی ہفتوں میں حالات تیزی سے بدل گئے۔ فسادات اور ہجرت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، مگر سیاسی فیصلہ ہو چکا تھا اور واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہا تھا۔

گورنر جنرل کا عہدہ اور ہجرت کا آغاز

جولائی 1947ء میں جناح کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل نامزد کرنے کی سفارش کی گئی۔ ماؤنٹ بیٹن خود اس عہدے کو دونوں ریاستوں میں بیک وقت سنبھالنا چاہتے تھے، مگر جناح نے واضح کر دیا کہ وہ کسی ایسے انتظام پر راضی نہیں ہوں گے جس میں پاکستان کی خود مختاری مشکوک ہو۔ اسی دوران بڑے پیمانے پر ہجرت اور فسادات شروع ہو چکے تھے۔ جناح نے بمبئی میں اپنا گھر فروخت کیا اور کراچی میں قیام کا فیصلہ کیا۔ 7 اگست کو وہ دلی سے کراچی روانہ ہوئے، جو محض ایک جغرافیائی سفر نہیں تھا بلکہ ایک طویل سیاسی عہد کا اختتام اور ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ 11 اگست کو کراچی میں اسمبلی کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے تقریر کی اور تمام باشندگانِ وطن کو ان مذہبی آزادی کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ جس مذہب پر بھی عمل کرتے ہوں، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں، وہ اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ کراچی میں جشن کی فضا تھی، مگر اس خوشی کے ساتھ مہاجرین کے قتل و غارت اور ان کی خستہ حالی جیسے انسانی المیوں کا گہرا صدمہ بھی جڑا ہوا تھا۔

گورنر جنرل کے طور پر آزمائشیں

ریڈکلف کمیشن نے پنجاب اور بنگال کی سرحدوں کا فیصلہ کیا، مگر رپورٹ آزادی کے بعد منظرِ عام پر آئی۔ اس تاخیر کے دوران فسادات میں شدت آ گئی۔ لاکھوں لوگ مارے گئے اور کروڑوں بے گھر ہو کر ایک نئی سرحد کے آرپار ہجرت پر مجبور ہوئے۔ جناح اپنی شدید بیماری اور بڑھتی عمر کے باوجود مہاجر کیمپوں کا دورہ کرتے رہے اور آبادکاری کی نگرانی کرتے رہے۔

پاکستان کو ایک ساتھ کئی بحرانوں کا سامنا تھا، جن میں انتظامی ڈھانچے کی کمی، وسائل کی قلت، مہاجرین کی آبادکاری، خوراک کی فراہمی، اور داخلی سلامتی کے مسائل سرِفہرست تھے۔ اس کے باوجود نئی ریاست نے بنیادی ادارے قائم کیے اور نظم و نسق کو کسی نہ کسی طرح چلایا۔

صوبہ سرحد میں سیاسی عدمِ استحکام جناح کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی وہاں کی حکومت تحلیل کی اور ایک نئی قیادت کو ذمہ داری سونپی۔ یہ فیصلے بعد کے برسوں میں متنازع سمجھے گئے، مگر جناح انہیں ریاستی استحکام کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔

تقسیم کے وقت نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ بھارت یا پاکستان میں شمولیت اختیار کریں۔ بعض ریاستوں کے فیصلوں نے شدید تنازع پیدا کیا، خصوصاً جوناگڑھ اور کشمیر کے معاملات نے برصغیر کی سیاست کو مستقل کشیدگی سے دوچار کر دیا۔ کشمیر میں بغاوت اور اس کے بعد بھارتی مداخلت نے پہلی پاک بھارت جنگ کی بنیاد رکھی۔ جناح نے فوجی کارروائی کا حکم دیا، مگر برطانوی کمانڈر کی جانب سے انکار کے بعد یہ حکم واپس لے لیا گیا۔ اس کے باوجود جنگ پھیل گئی اور کشمیر ایک حل طلب تنازع بن کر رہ گیا۔

ان تنازعات کے دوران جناح نے بعض فیصلوں پر سخت تنقید بھی سنی، مگر وہ اپنے موقف پر قائم رہے کہ مسلمانوں کے لیے انصاف اور خود ارادیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے گاندھی کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور انہیں ہندو سماج کی عظیم شخصیات میں شمار کیا، جس سے ان کی اخلاقی وسعت جھلکتی ہے۔

ریاست کی فکری سمت اور آخری مہینے

فروری 1948ء میں جناح نے ایک خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اس میں اسلام کے بنیادی اصول شامل ہوں گے، جن میں انصاف، مساوات، اور انسانی احترام مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اصول نہ صرف ماضی میں قابلِ عمل تھے بلکہ جدید ریاست کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اسی سال انہوں نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور قومی زبان کے سوال پر اردو کو وحدت کی علامت قرار دیا۔ یہ فیصلہ بعد کے برسوں میں اختلافات کا سبب بنا، مگر جناح کا مقصد ایک متحد قومی شناخت قائم کرنا تھا۔ نئی ریاست نے مالیاتی نظام کے ابتدائی قدم بھی انہی دنوں اٹھائے۔ پاکستانی کرنسی کے اجرا اور سرکاری مہروں کے نفاذ نے علامتی طور پر ریاستی خود مختاری کو مستحکم کیا۔

بیماری اور زوالِ صحت کا انکشاف

محمد علی جناح کئی برسوں سے ایک موذی بیماری میں مبتلا تھے، مگر یہ حقیقت عوام سے پوشیدہ رکھی گئی۔ تیسری دہائی کے آغاز ہی سے وہ تپ دق کا شکار تھے، مگر اس کا علم صرف ان کی بہن فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقاء کو تھا۔ جناح کو اندیشہ تھا کہ اگر ان کی صحت کی کمزوری ظاہر ہو گئی تو یہ نہ صرف ان کی سیاسی حیثیت کو متاثر کرے گی بلکہ تحریکِ پاکستان کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی لیے وہ مسلسل دوروں، تقاریر، اور مذاکرات میں خود کو مصروف رکھتے رہے، خواہ جسمانی طاقت ساتھ دے رہی ہو یا نہیں۔ قائدِ اعظم کے قریبی افراد بعد میں لکھتے ہیں کہ وہ اپنی صحت کو تقریباً دانستہ طور پر نظر انداز کرتے رہے۔ ان کی زندگی کا مقصد اب ایک ہی تھا کہ نوزائیدہ پاکستان کو سہارا دینا ہے، چاہے اس کی قیمت ان کی اپنی جان ہی کیوں نہ ہو۔ تمباکو نوشی کی عادت، مسلسل ذہنی دباؤ، اور انتھک محنت نے بیماری کو مزید سنگین بنا دیا۔ گورنر جنرل ہاؤس کے نجی حصے میں وہ طویل وقفوں کے لیے آرام کرنے لگے، جہاں صرف فاطمہ جناح اور محدود عملے کو ان تک رسائی حاصل تھی۔

آخری سرکاری مصروفیات

جون 1948ء میں جناح صحت کی بہتری کی امید پر کوئٹہ روانہ ہوئے، جہاں نسبتاً ٹھنڈی آب و ہوا تھی۔ مگر وہاں بھی انہوں نے خود کو مکمل آرام کی اجازت نہ دی۔ انہوں نے عسکری افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ وہ صرف ریاست نہیں بلکہ عوام کی جان و مال اور عزت کے محافظ ہیں۔ یہ الفاظ اس بات کی علامت تھے کہ بیماری کے باوجود ان کی سوچ اور ذمہ داری کا احساس پوری طرح بیدار تھا۔ کراچی واپسی پر انہوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاحی موقع پر خطاب کیا اور اسی شام ایک سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ یہ ان کی آخری عوامی حاضری ثابت ہوئی۔ اس کے فوراً بعد ان کی طبیعت تیزی سے بگڑنے لگی۔

زیارت کا قیام اور کراچی واپسی

جولائی 1948ء میں ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں زیارت منتقل کیا گیا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ ہوا۔ ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ تپ دق کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کا سرطان بھی لاحق ہو چکا ہے۔ جدید ترین دوا دی گئی، مگر افاقہ نہ ہو سکا۔ عید کے موقع پر ملک بھر میں ان کی صحت کے لیے دعائیں کی گئیں، مگر بیماری مسلسل بڑھتی رہی۔ ستمبر کے اوائل میں نمونیا نے ان کی حالت مزید نازک کر دی۔ ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ انہیں کراچی منتقل کیا جائے۔ 11 ستمبر 1948ء کو وہ شدید کمزوری کی حالت میں کراچی پہنچے۔ ہوائی اڈے سے گورنر جنرل ہاؤس لے جاتے ہوئے ایمبولینس راستے میں خراب ہو گئی اور وہ تیز دھوپ میں طویل انتظار پر مجبور رہے۔ یہ منظر نئی ریاست کی مشکلات اور قائد کی تنہائی کی ایک دردناک علامت بن گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات

11 ستمبر کو صبح 10 بجے، پاکستان کے قیام کے محض ایک سال بعد، محمد علی جناح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات پر پاکستان اور بھارت دونوں میں سرکاری سوگ منایا گیا۔ علامہ محمد شبیر احمد عثمانیؒ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ لاکھوں افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ بھارتی قیادت نے بھی ان کے انتقال پر احترام اور افسوس کا اظہار کیا۔ جواہر لعل نہرو نے اعتراف کیا کہ اختلافات کے باوجود تاریخ میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو کراچی میں ایک سادہ مگر پُروقار مقام پر سپردِ خاک کیا گیا، جو بعد میں مزارِ قائد کی صورت اختیار کر گیا اور وقت کے ساتھ ایک قومی علامت بن گیا۔

بعد از وفات

قائد اعظم محمد علی جناح کی بیٹی دینا واڈیہ بعد کے برسوں میں بیرونِ ملک منتقل ہو گئیں۔ فاطمہ جناح نے بھائی کی وفات کے بعد ایک عرصے تک عوامی زندگی میں خاموشی اختیار کیے رکھی، مگر بعد میں وہ آمریت کے خلاف ایک علامتی سیاسی کردار بن کر ابھریں۔ اگرچہ وہ انتخابی کامیابی حاصل نہ کر سکیں، مگر ان کی مہم نے پاکستان میں جمہوری بحث کو زندہ رکھا۔

جناح کے ذاتی عقائد اور مسلک کے بارے میں ان کی وفات کے بعد طویل قانونی اور فکری مباحث چلتے رہے۔ مختلف عدالتوں اور دانشوروں نے بالآخر اس بات پر زور دیا کہ جناح کو فرقہ وارانہ خانوں میں محدود کرنا ان کی شخصیت اور فکر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان کے قریبی مبصرین کے نزدیک وہ ایک سادہ مسلمان تھے، جن کی اصل شناخت سیاسی اور اخلاقی اصولوں سے وابستہ تھی، نہ کہ فرقہ وارانہ تقسیم سے۔

محمد علی جناح کی سب سے بڑی وراثت پاکستان ہے۔ وہ اس ریاست کے محض بانی نہیں بلکہ اس کے فکری معمار بھی تھے۔ ان کی قیادت نے ایک منتشر قوم کو ایک سیاسی مقصد پر جمع کیا اور ایک نئی ریاست کو وجود میں لایا۔ بہت سے مؤرخین کے نزدیک پاکستان کی ابتدائی مشکلات اور بعد کے جمہوری عدمِ توازن کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ یہ ملک اپنے بانی کی رہنمائی سے بہت جلد محروم ہو گیا۔

آج جناح کی تصویر پاکستانی کرنسی پر موجود ہے، ان کے نام پر ادارے، سڑکیں، ہوائی اڈے اور یادگاریں قائم ہیں، اور ان کا مزار قومی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ان کے کردار پر مختلف زاویوں سے بحث ہوتی رہی ہے، کہیں انہیں قوم کا نجات دہندہ کہا گیا، کہیں تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، مگر اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ انہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

ایک معروف مؤرخ کے الفاظ میں، کچھ لوگ تاریخ کے دھارے کو بدلتے ہیں، کچھ دنیا کے نقشے میں ترمیم کرتے ہیں، اور بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک نئی قوم کو وجود میں لاتے ہیں۔ محمد علی جناح ان سب میں شامل تھے۔

https://ur.wikipedia.org


شخصیات

()

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۲)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد

آثار السنن از حضرت علامہ ظہیر احسن شوق نیموی (۲)
مولانا طلحہ نعمت ندوی

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

نجلاء ٹیمی کیپلر کا قبولِ اسلام
ایٹرنل پیسنجر

مذہبی القابات اور ہماری بے اعتدالیاں
مفتی سید انور شاہ

’’اسلامی قانونِ وراثت‘‘
ڈاکٹر قبلہ ایاز
ڈاکٹر انعام اللہ
اسلامی نظریاتی کونسل

27 ویں ترمیم پر وکلا اور قانون کے اساتذہ کا مکالمہ (۲)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

سپریم کورٹ کا تجربہ، تعلیمی و علمی سفر، آئینی و قانونی مباحث (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
رفیق اعظم بادشاہ

قیام پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود
پروفیسر خورشید احمد

قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
ڈاکٹر محمد طاہر القادری

قائد اعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات (۱)
ویکی پیڈیا
ادارہ الشریعہ

ائمہ مساجد کے لیے حکومتِ پنجاب کا وظیفہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا حافظ عامر حبیب

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تحفظِ مدارس دینیہ کنونشن اور تعزیتی اجتماع
مولانا حافظ امجد محمود معاویہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter