عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ

محمد زاہد صدیق مغل

جدید لسانیاتی مباحث اپنی وضع میں پوسٹ ماڈرن مباحث سے ماخوذ ہیں۔ ان مباحث کی رو سے الفاظ کے تمام تر اطلاقات اور معانی معاشرتی ماحول اور نفس کی کیفیاتی تناظر کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ اس فلسفے کے زور پر فلسفہ لسانیات کے ماہرین الہامی کتب کی نہ صرف آفاقیت پر سوال کھڑا کرتے ہیں بلکہ الہامی کتب سے منسوب کسی بھی قسم کی قطعی معنویت کا انکار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر کسی بھی لفظ اور عبارت کا معنی قطعی نہیں تو نصوص میں بیان کردہ حلال حرام اور اچھائی برائی کا کیا معنی، وہ بھی رہتی دنیا تک؟ اسی فکری منہج کے حوالے سے چند روز قبل فیس بک پر ایک کالم "مذہب پر عصری تنقید" دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کالم کے فاضل مصنف یہ کہتے ہیں کہ جدید فلسفیانہ مباحث نے مذہبی علمیت پر چند ایسے "بدیہی سوالات" کھڑے کردئیے ہیں کہ "ان کا تسلی بخش جواب دینا اور پھر اس جواب کی علمی قدر پیدا کرنا تقریباً ناممکن ہے"۔ مصنف کے خیال میں اہل مشرق بالعموم اور اہل پاکستان بالخصوص فلسفے کے پیدا کردہ ان مسائل و مباحث سے واقف ہی نہیں۔ ان سوالات میں سے ایک کاتعلق ان لسانیاتی مباحث کے پیدا کردہ مسائل سے ہے جن کے زور پر الہامی کتب کی معنویت پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

درج بالا مقدمے کا تجزیہ کرنے سے قبل یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جو احباب فلسفیانہ مباحث کے اندر پیوست مفروضات پر سوال اٹھائے بنا "ان فلسفوں کے اندر رہتے ہوئے" ان کے پیدا کردہ مسائل کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اکثر و بیشتر ناکام ہوتے ہیں، اور نتیجتاً ان فلسفوں کے پیدا کردہ گمراہ کن نتائج کو قبول کرلیتے ہیں۔ امام غزالی (رح) نے فلسفے کے مطالعے اور نقد کے اس طریقہ کار کی غلطی کو بخوبی بھانپ لیا تھا۔ جو شخص فلسفے کو حقیقت کا کوئی اعلی علم سمجھ کر پڑھتا ہے، پھر اسکے مسائل کے تناظر میں خدا کی نازل کردہ وحی کو جانچنا اور رد کردینا شروع کردیتا ہے وہ اسی غلط منہج پر چلتا ہے جو معتزلہ نے صدیوں قبل اختیار کیا تھا۔ ایسے مسائل کے جواب کا طریقہ وہی ہے جو امام غزالی نے اختیار کیا، یعنی فلسفے کے ان غیر عقلی و غیر ثابت شدہ مفروضات کا تجزیہ کرکے انہیں رد کردیا جائے جو بزعم فلسفی "لاینحل مسائل" کو جنم دیتے ہیں۔ اس مختصر تحریر میں قدرے اختصار کے ساتھ ان مفروضات کی نشاندہی و تجزیہ کر نے کی کوشش کی جائے جن کے تحت یہ لسانیاتی مسائل کھڑے کئے جاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ "معانی کے تعین کا مسئلہ درحقیقت نفس کے تعین کا مسئلہ ہے"۔ آئندہ سطور میں اسی اجمال کی کچھ تفصیل پیش کی جائے گی۔

اہل فلاسفہ کا ایک دیرینہ مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ انسان کے کسی ایک جذبے یا پہلو کو اہم سمجھ کر پورے انسان یہاں تک کہ پوری انسانی زندگی کو اسی میں محصور کر دیتے ہیں۔ اسکی چند مثالیں نطشے، مارکس اور فرائیڈ کے تجزیوں میں ملتی ہیں جنہوں نے حصول قوت، معاشی مسابقت و صنفی جذبات کو تمام انسانی عمل اور تعلقات کی بنیاد فرض کرکے انسانی معاشروں کا تجزیہ کرڈالا۔ اہل فلاسفہ کے یہاں اسی نوع کا غیر معتدل رویہ انسانی نفس کے تعین کے سلسلے میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہاں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو انسان کو گویا ایک مشین کی طرح بالکل معین شے تصور کرتے ہیں، یعنی انسان ایک بالکل متعین شے ہے، اس اپروچ کو essentialism کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک فکر کا خیال یہ ہے کہ انسانی نفس کچھ ہے ہی نہیں، تجربات کے ذریعے یہ مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ اس فکر کو existentialism کہتے ہیں جو بیسیوں صدی کے مشہور فلسفی ہائیڈیگر کے افکار سے ماخوذ ہے۔

ہائیڈیگر اصلاً ایک ملحد تھا، وہ "آزادی بطور قدر" کو ایک مقدم و جائز مفروضے کے طور پر قبول کرتا ہے۔ جاننا چاہیے کہ آزادی کا معنی "کچھ بھی چاہنے کی صلاحیت ہے"، یہ عدم محض (nothingness) کا نام ہے۔ یہ صرف "کچھ بھی چاہنے" کی صلاحیت ہے، ماورائے اس سے کہ وہ چاہت کیا ہے۔ نفس کو کیا چاھنا چاہیے (یعنی وہ "کچھ" کیا ہے) اس کا تعین ناممکن و لاحاصل ہے، نفس جونہی کسی مخصوص چاہت کو مرکز و محور بناتا ہے آزادی ختم ہوجاتی ہے (یعنی self can posses ends but cannot be contained by them)۔ جان لو! آزادی لاحاصل کے حصول کی جستجو ہے، یہ وجود کی لامعنویت کو مستلزم ہے۔ آزادی کا معنی نفس کو تعلقات سے ماورا فرض کرنا ہے، آزادی تعلقات کی نفی کا نام ہے (اسی لئے سارتر نے کہا کہ Hell is other people یعنی دوسرے لوگ آزادی پسند انسان کے لئے رکاوٹ ہیں کہ وہ اسے اس کی آزادی محدود ہونے کا احساس دلاتے ہیں)۔ تعلقات کی نفی احساس تنہائی کو جنم دیتی ہے اور تنہائی اضطرارو یاسیت (frustration and boredom) کو۔ چنانچہ:

  • جوں جوں آزادی پڑھتی ہے، تنہائی بڑھتی ہے
  • جیسے جیسے تنہائی بڑھتی ہے اضطرار و یاسیت میں اضافہ ہوتا ہے
  • نتیجتاً انسان کا احساس محرومی اور اس کا غضب و شہوت اس کے قلب کو مسخر کرتے ہیں

آزادی کا پرستار اس اضطرار کو فطری انسانی کیفیت سمجھتا ہے۔ ھائیڈیگر کہتا ہے کہ اضطرار بالکل غیر معین ہے اور یہ عدم محض کی جستجو کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مغربی دہریت فرد کو اس اضطرار کو فطری سمجھ کر اس پر راضی ہونے کا درس دیتی ہے۔ چنانچہ اس عدم محض کی جستجو میں انسانی نفس ہمہ وقت "ہوتا رہتا" (یعنی بدلتا رہتا) ہے کیونکہ جو خیالات و خواہشات نفس میں وقوع پزیر ہورہے ہیں وہ نہ تو حتمی ہیں اور نہ ہی نفس کا اصل۔ "نفس خود کیا ہے"، نفس اس کا تعین نہیں کرسکتا۔ ہائیڈیگر کے خیال میں انسان دنیا میں پھینک دیا گیا ہے۔ یہاں کون، کب اور کیوں پھینکا گیا ہے، نفس کے لئے یہ جاننا ممکن نہیں، انسان کائنات میں تنہا ہے۔ 

درج بالا مباحث اگرچہ قدرے پیچیدہ و مشکل ہیں مگر انہیں سمجھے بنا زیر نظر مسئلے کا حل گرفت میں لانا ممکن نہیں۔ 

اب جاننا چاہیے کہ آزادی اپنے رب سے بغاوت (قرآن اصطلاح میں "بغی") ہے۔ مغربی انفردایت کے اضطرار کی بنیاد گناہ سے آگاہی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبد پیدا کیا ہے اور جب وہ عبدیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اپنے نفس کی اصل سے لڑتا ہے اور نتیجتاً ہمہ وقت اضطرار اور گناہ کے احساس سے معمور رہتا ہے۔ چنانچہ عبدیت ہی تعیین نفس کی اصل بنیاد ہے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر تاقیامت تک ہر انسان کے نفس کی حقیقت یہی ہے، اسی لیے دین ہمیشہ سے اسلام ہی تھا اور رہے گا۔ قرآن اسی لیے خود کو "ذکر" (حقیقت ازلی کی یاد دہانی) کہتا ہے۔ یہ بات کہ مبادیات دین ہمیشہ یکساں اور قطعی رہے ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس بات ہی کا بیان ہے کہ نفس کی حقیقت میں کچھ ایسا ہے جو ہمیشہ ایک ہی طرح متعین و مشترک رہا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کوئی مشین ہے۔ چونکہ تجربات کے تنوع سے نفس کی حالت میں تنوع بھی پیدا ہوسکتا ہے، لہٰذا شرع نے غیر قطعی امور میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا، اصولیین نے اس حقیقت کو ہمیشہ تسلیم کیا۔ نیز اصولیین نے یہ امر بھی بہت پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ تمام نصوص دلالت کے اعتبار سے نیز ان نصوص سے ثابت ہونے والے شرعی احکامات ایک ہی درجے پر نہیں۔ 

پس مبادیات دین ہمیشہ قطعی تھے، صحابہ کرام نے بھی انہیں اسی طرح قبول کیا جیسے آج ایک مسلمان انہیں قبول کرتا ہے، ہر غیر مسلم ان کا "انہی معنی" میں مخاطب ہے جیسے صحابہ کرام اس کے مخاطب تھے۔ چودہ سو برس سے روئے زمین پر مسلمان دن میں پانچ مرتبہ اسی طرح نماز کی ادائیگی کرتے ہیں جیسے صحابہ نے ادا کی، اس امر کو سمجھنے میں مسلمانوں کے مابین کوئی اختلاف رونما نہیں، جنہوں نے ایسا کیا وہ متفقہ طور پر گمراہ کہلائے۔ تعیین و تعمیر نفس کا مسئلہ حق کے تعین (یعنی عبد بن جانے) کا مسئلہ ہے، نفس جونہی اپنی اصل (حق) کو پہچان و مان لیتا ہے تو وہ متعین ہوجاتا ہے۔ جو نفس آزادی کا خوگر ہے وہ حقیقت کے تعین کے لئے اپنے سے باہر کسی ریفرنس کو ماننے پر تیار نہیں۔ اور جب حقیقت کا ایسے نفس، جو کچھ ہے ہی نہیں، کے سوا کوئی دوسرا ریفرنس ہی نہیں تو کسی بھی ازلی و ابدی حقیقت و معنی کا کیا مطلب؟ 

اب اگر اس مقام پر کوئی کہے کہ آپ کی اس تمام گفتگو سے تو آزادی ہی ختم ہوگئی، تو جان لینا چاہیے کہ آزادی ہائیڈیگر (یا اس جیسے دیگر فلاسفہ) اور ان کے متبعین کا مسئلہ ہے، بندہ مؤمن کا نہیں۔ بندہ مؤمن اور ہائیڈیگر کے مابین ازلی حقیقت کی طرف دعوت کا تعلق ہے، اس لیے کہ ہائیڈیگر کے متبعین اپنی ازلی حقیقت سے بھٹک چکے۔ 

اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تعمیر نفس کے اسلامی طریقہ کار کی طرف بھی کچھ اشارے کردئیے جائیں کہ جسے بنیاد بنا کر نفس کو اس طرز پر تعمیر کیا جاتا ہے جو اسے کلام الٰہی سے درست معنی اخذ کرنے لائق بناتا ہے۔ نفس جس قدر ان خطوط پر استوار ہوگا کلام الٰہی سے ثابت ہونے والے مبادیات میں اشتراک اسی قدر قائم کرنا ممکن ہوگا۔ ہر نفس کلام الٰہی کا نہ تو موضوع ہے اور نہ ہی اس سے درست طور پر استفادہ کرنے لائق ہے۔ 

تعیین نفس درحقیقت "تعمیر نفس" سے عبارت ہے۔ جیسا کہ بتایا گیا کہ جدید انسان کے اضطرار کی بنیاد گناہ (آزادی یعنی اپنے رب سے بغاوت) سے آگاہی ہے اور اس سے چھٹکارے کے لیے گناہ سے توبہ لازم ہے۔ چنانچہ تعیین نفس کا پہلا قدم نیت کی اصلاح ہے، انسان جب اپنی نیت درست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرکے اسے اضطرار سے نجات دے کر اطمینان کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ ایسا نفس ہر عمل کو اس بنیاد پر جانچتا ہے کہ آیا اس سے خدا کی رضا حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ یہی نفس کلام الہی سے فیض حاصل کرنے لائق ہوتا ہے (اسی نفس سے متعلق کہا گیا کہ "انما تنذر من اتبع الذکر وخشی الرحمن بالغیب" نیز "ھدی للمتقین")۔

پھر محض نیت ٹھیک کرلینے سے انسان خدا کی رضا حاصل کرلینے لائق نہیں ہوجاتا، اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے حال کو بھی درست کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ کہ زندگی کے ہر عمل میں اتباع سنت کی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اوڑھنا بچھونا بنایا جائے۔ ہر شخص کا حال اتنا ہی درست ہے جتنا وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے عمل میں اپنے محبوب کی سنت کا اہتمام کرتا ہے۔ گویا تعمیر نفس میں صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ فرد کی صرف نیت ٹھیک ہوجائے بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ وہ ایسے افعال بھی انجام دے جو اس کے نفس کے حال کو درست روش پر لے آئے۔ جس طرح قلبی میلانات انسان کے ظاہر پر اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح ظاہری اعمال بھی قلبی احوال پیدا کرنے میں مدد گارہ ہوتے ہیں، ان دونوں کا تعلق پہلو دار ہے۔

جب انسان کا حال درست ہوتا ہے تو وہ کائنات میں اپنے مقام کو پہچان لیتا ہے، یعنی یہ کہ وہ یہاں کس آزمائش میں رکھا گیا ہے۔ وہ یہ "محسوس کرنے" لگتا ہے کہ اس کی حقیقی پوزیشن اور کائنات اور بندوں کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ حال درست ہوئے بنا وہ قلبی تناظر (perspective) قائم نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں انسان اپنے مقام کو پہچان کر اس پر راضی ہوجائے۔ جس شخص کا قلب گناہوں کا اثیر ہو وہ اپنے مقام کو نہیں پہچان سکتا کیونکہ گناہ کے نتیجے میں قلب پر غفلت کا سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے، اور پورا قلب سیاہ ہوجاتا ہے، بالآخر توبہ کی توفیق سلب کرلی جاتی ہے۔ پس ادراک حقیقت کے لئے گناہوں سے توبہ لازم ہے۔ جب انسان اپنے مقام کو پہچان لیتا ہے تو شہوت و غضب کے میلانات کم یا ختم ہوجاتے ہیں۔ خوب جان لینا چائیے کہ مقام کو پہچان لینا محض کوئی فکری (intellectual) چیز نہیں ہے، یہ قلبی و فطری چیز ہے۔ یہ معاملہ صرف اس قدر نہیں ہے کہ کسی منطقی دلیل سے یہ ثابت کردیا جائے کہ خدا خالق ہے اور ہم مخلوق، بلکہ یہ جذبات و احساسات کو رزائل سے پاک کرکے عبدیت پر راضی ہونے کا معاملہ ہے۔

جب انسان کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ اپنا مقام پہچان کر اس میں بلندی حاصل کرلے تو اب ایسا نفس مشاہدے کے قابل ہوجاتا ہے۔ فرد جب تک عبدیت پر راضی نہ ہوگا تو اس کا زاویہ نگاہ درست نہ ہوگا۔ اس غلط زاویہ نگاہ سے وہ جس بھی شے کا مشاہدہ کرے گا، غلط نتائج تک ہی پہنچے گا۔ ایسا نفس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی کائنات تخلیق کرنا چاہتا ہے، ایک ایسی کائنات جو اس کی خودی (شہوت و غضب) کی تسکین کا باعث بن سکے۔ خود اظہاری (self expression and creation) کی اسی جستجو کو موضوعیت (subjectivity) یعنی چیزوں کو اپنی ذات کے تناظر میں دیکھنا) کہتے ہیں۔ جان لو، معروضیت فنا (نفس مطمئنہ) کا نام ہے، چونکہ انسان فی الواقع عبد ہے، لہٰذا اس موضوعیت ہی میں معروضیت ہے۔ معروضیت کی بلند ترین سطح یہی ہے کہ انسان پوری طرح خدائی تناظر میں آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کی ذات سراپا معروضیت (حق جیسا کہ وہ ہے جانچنے کا پیمانہ) ہوتی ہے کیونکہ وہ معروضیت (فنا) کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہوتا ہے۔ جو قلب طاہر نہیں وہ حقیقت سے آشنا نہیں ہوسکتا، اس کا غضب و شہوت اس کے نفس پر غالب ہوتے ہیں۔ معروضیت قلب کو غضب و شہوت سے پاک کرکے اسے تقوی و زہد کا مسکن بنا کر حاصل ہوتی ہے، عقلیت دماغی کے فروغ سے حاصل نہیں ہوتی۔ جس کا حال اور مقام جس قدر بلند ہوگا، اس کا مشاہدہ بھی اسی قدر معروضی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امت میں کسی عالم و مجتہد کے محض علم کی بنیاد پر اس کے افکار کو قبولیت حاصل نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے حال کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ جس کا حال درست نہ ہو، اس کا علم (مشاہدہ) بھی لائق اعتبار نہیں سمجھا جاتا۔

پس نیت، حال، مقام اور مشاہدہ تعمیر نفس و اصلاح نفس کے بنیادی عناصر ہیں۔ "اصلاح نفس" فی الحقیقت "تعیین نفس" کا ہی عنوان ہے۔ پس جس قدر ہم نفوس کی اصلاح کرپائیں گے، اسی قدر ہم انہیں کلام الٰہی سے اکتساب فیض کے لائق بنا پائیں گے۔ یہ امید رکھنا کہ نفس کی چاہت تو آزادی ہی ہو مگر وہ کلام الٰہی سے اکتساب کے لائق بھی ہو، یہ ممکن نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ کہ نفس سے متعلق مغربی مفروضات و افکار کے اندر رہتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ نفس کو کلام الٰہی کا مخاطب بنا کر اس کی طرف راغب کیا جاسکے۔ ایسا نفس کلام الٰہی میں نہیں، صرف خواہشات کی تسکین میں معنویت تلاش کرتا ہے۔ 

پس معلوم ہوا کہ لسانیاتی مباحث کے تناظر میں الہامی کتب کو بے معنی ثابت کرنے کی فکر نفس انسانی سے متعلق اس وجودیاتی مفروضے پر مبنی ہیں کہ نفس انسانی نہ تو کچھ ہے اور نہ ہی خود کو جان سکتا ہے، یہ مسلسل ہوتا رہتا ہے۔ اس فلسفیانہ مفروضے کی نہ تو کوئی قطعی منصوص دلیل ہے اور نہ ہی کوئی عقلی، اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ چند استقرائی نظائر پیش کیے جاسکتے ہیں۔ اس دنیا میں اربوں انسان نہ صرف یہ کہ ہر روز اپنے ہم عصر لوگوں سے ہم کلام "ہوتے ہیں" بلکہ ماضی کے لوگوں کے کلام اور افکار کو بھی ٹھیک ٹھیک "سمجھ لیتے ہیں"، اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے اور انکے افکار کا ٹھیک ٹھیک موازنہ بھی کرلیتے ہیں، یہ نہایت سادہ سی حقیقت اپنے اندر اشتراک نفس سے متعلق بہت سے معانی سمیٹے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا نہ کہ nothingness پر، انسانیت کا آغاز جہالت سے نہیں بلکہ ایسی برگزیدہ شخصیت سے ہوا جسے اللہ تعالیٰ نے اسماء اور معانی کا علم سکھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہائیڈیگر کا وجودیاتی مفروضہ ایسے انسان پر غور و فکر کا نتیجہ ہے جس کا رابطہ اپنے رب سے کٹ چکا ہے، وہ کسی نامعلوم وجہ سے دنیا میں پھینک دیے جانے (Throwness) کی کیفیت کا شکار ہو کر اضطرار سے دوچار ہے۔ ایسا نفس مضطرر اصلاح کا موضوع ہے نہ کہ معانی کے تعین میں پیمانہ بن جانے کا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

آراء و افکار

جون ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۶

غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقتدر طبقات کی تکفیر / تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے / چھوٹی عمر کے بچے اور رَسمی تعلیم کا ’’عذاب‘‘
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۹)
ڈاکٹر محی الدین غازی

فتویٰ کی حقیقت و اہمیت اور افتا کے ادارہ کی تنظیم نو
ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی

مطالعہ و تحقیق کے مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ
محمد زاہد صدیق مغل

دیوبند کا ایک علمی سفر
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

لاہور کے سیاست کدے
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی بحث
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟
ڈاکٹر عرفان شہزاد

کیا توہین رسالت پر سزا کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے؟ مولانا شیرانی، پروفیسر ساجد میر اور مولانا زاہد الراشدی کی خدمت میں
مولانا غلام محمد صادق

مولانا غلام محمد صادق کے نام مکتوب
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ