حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)

غازی عبد الرحمن قاسمی

اس مقام پر ایک وزنی سوال ہے کہ شاہ صاحب جیسے جلیل القدر عالم جن کی پہچان ہی محدث دہلوی کے نام سے ہے، ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ صحیح احادیث کے ساتھ ضعیف احادیث بھی نقل کریں اور ان سے استدلال کریں؟

علامہ زاہد الکوثری ؒ کے شاہ صاحب پراعتراضات

علامہ زاہد الکوثریؒ (م -۱۳۶۸ھ)نے شاہ صاحب پر جواعتراضات کیے ہیں، ان میں سے ایک یہی ہے’’ کہ آپ کی نظر صرف متون حدیث کی طرف ہے ،اسانید کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔‘‘علامہ کوثری ؒ نے شاہ صاحب کی علمی خدمات کو کھلے دل سے سراہا ہے مگر اس کے بعد چند مقامات پر آپ کے بعض افکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گرفت بھی کی ہے ۔ علامہ کوثری ؒ لکھتے ہیں :

ولہ رحمۃ اللہ خدمۃ مشکورۃ فی انھاض علم الحدیث فی الھند،لکن ھذا لایبیح لنا السکوت عما ینطوی علیہ من اعمال تجافی الصواب(۳۷)
’’آپ ؒ کی ہندوستان میں علم الحدیث کی اشاعت میں قابل تشکر خدمات ہیں ۔لیکن محض اس بات کی وجہ سے ہم آپ کی بیان کردہ ان باتوں پر خاموشی نہیں اختیار کرسکتے جو درستگی سے دور ہیں ۔‘‘

اس کے بعد علامہ کوثری ؒ نے جو مباحث شروع کی ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

۱۔ شاہ صاحب اعتقادی اور فروعی مسائل میں حنفی مذھب پر تھے ۔اورمجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ کے موقف’’ توحید شہودی ‘‘کے قائل تھے ۔مگر جب آپ ؒ حجاز تشریف لے گئے تو شیخ ابو طاہر ؒ بن ابراہیم سے صحاح سۃ کی تعلیم حاصل کی، اور ان کے والد ابراہیمؒ کی کتب کا گہر ا اثر قبو ل کیا جب کہ ان کی کتب میں ہرقسم کی آراء موجود تھیں ۔چنانچہ آپ ؒ فقہ اور تصوف میں ان کی طرف مائل ہوگئے ۔اور جب ہندوستان لو ٹ کر آئے تو اپنے گھروالوں اور خاندان کے مذہب سے انحراف کیا ۔یعنی فقہ ،تصوف اور اعتقادی مسائل میں خاندانی مذہب(مسلک ) کو چھوڑ دیااور’’ توحید شہودی ‘‘کی جگہ ’’توحید وجودی ‘‘کے قائل ہوگئے ۔

۲۔ شاہ صاحب ؒ اللہ تعالی کے شکل وصورت میں تجلی فرمانے کے قائل ہیں ۔اوراس کے بھی کہ اللہ تعالی کا مظاہر میں ظہور ہوتاہے اور آپ ؒ کے خیال میں یہ اکابر کا عقیدہ ہے ۔جبکہ یہ بات تو ان لوگوں کے مطابق ہے جو حلول کے قائل ہیں ۔ جید علماء کے نزدیک اس قسم کا قول قابل ترک ہے ۔

۳۔ صحاح ستہ کی احادیث کے متون کی طرف آ پؒ کی خاصی توجہ ہے اسانید کی طرف نہیں ہے ۔جبکہ اہل علم کے ہاں صحیحین کی اسانید پر بھی نظر کی جائے گی ۔اور اسی طرح جب فروعی (فقہی )مسائل میں اسناد کو پرکھا جاتاہے جیسا کہ اہل علم کا طریقہ کاررہاہے ۔ تو اعتقادی مسائل میں کس طرح اسناد کی طرف نظر نہ کرنے کو جائز قرار دیا جاسکتاہے؟ جبکہ شاہ صاحب نے فقہی مسائل ہوں یا اعتقادی مسائل ہوں صرف متون حدیث کی طرف توجہ کی ہے اسانید کو نظرانداز کیاہے ۔اور محض صحاح ستہ کے متون پر اکتفاء کرنا اور اسناد کو نظرانداز کرنا یہ مذاہب فقہا ء اور ائمہ کی مسانید میں تحکم پر بڑی جرات ہے ۔تاریخ کے امام اور ماہر محقق پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے ۔

۴۔ شاہ صاحبؒ کا’’ شق قمر‘‘کے بارے میں موقف یہ ہے کہ چاند دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا بلکہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا تھا ۔علامہ کوثر ی کہتے ہیں کہ رسولوں ؑ کی شان میں سے نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی آنکھوں پر جادوکریں ۔یہ موقف شاہ صاحب کا تفرد ہے ۔

۵۔ حدیث کے مشکل مقامات کی تشریح کرتے ہوئے آپ عالم مثال کے قائل ہیں جس میں معانی (وہ چیزیں جن کا دنیا میں جسم نہیں ہے ۔)جسم کی شکل پاتے ہیں ۔جیسا کہ بعض صوفیہ اس کے قائل ہیں ۔جبکہ شرعا اورعقلا اس قسم کے کسی عالم کا وجود ثابت نہیں ہے ۔اور کسی چیز کو ایسی حالت پر محمول کرنا جس کو قرون اولی کے لوگ نہ سمجھتے ہوں وہ محض ایک خیال اور گمراہی ہے ۔چنانچہ اسناد،رجال اور وجوہ دلالت پر نظر کیے بغیر جو کہ ائمہ صالحین کے ہاں معتبر ہے ،حدیث کے مشکل مقامات کی تشریح کرنے کی کو ئی گنجائش نہیں ہے ۔

۶۔ آپ ؒ کا مطالعہ کتب محدود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات آپ ؒ ؒ متقدم علماء کے اقوال وموقف پر جو تبصرہ کرتے ہیں وہ ادھوراہوتاہے۔ اس لیے کہ ان کی اصل کتب کی طرف آپ نے مراجعت نہیں کی ہوتی جس کی وجہ سے ان علماء کے اصول مذہب اور موقف میں اختلاف محسوس ہوتاہے ۔مثلاً آپ ؒ نے فقہ حنفی کے بعض فقہی اصولوں پر جوکلام کیا ہے وہ اسی قبیل سے ہے ۔ اگر متقدمین حنفیہ کی کتب اصول مثلا عیسیٰ بن ابان کی الحجج الکبیر، الحجج الصغیر، ابوبکر رازی کی فصول، اتقانی کی شامل ،ظاہرالروایت کی کتب کی شروح کا مطالعہ کیا ہوتا تو یہ صورتحال نہ ہوتی ۔

۷۔ آپ ؒ اس بات کے قائل ہیں کہ عالم قدیم ہے جب کہ جمہور کے ہاں عالم حادث ہے ۔اور سنن ترمذی میں ابو رزین کی حدیث ’’فی العما‘‘سے آپ نے اپنے موقف کو ثابت کیاہے جبکہ اس کے راوی نے جو اس کی تشریح کی ہے اس کو آپ ؒ نے نظر انداز کردیاہے ۔اور اس میں حماد بن سلمہ اور وکیع بن حدس متکلم فیہ راوی موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے اس حدیث کو نہیں لیا ۔اللہ تعالیٰ کے لیے مکان کا اثبات یا عالم کو قدیم ثابت کرنا یہ قرآنی تعلیمات کے منافی ہے، جس شخصیت کی حدیث میں ایسی صورت حال ہو تو احکام کے دلائل میں اسے کیسے منصف مان لیا جائے۔ (۳۸)

علامہ کوثری ؒ کے مذکورہ اعتراضات کے جوابات تفصیل کے متقاضی ہیں ،ان شا ء اللہ تعالی کسی اور مقالہ میں اس پر تفصیلی قلم اٹھایاجائے گا ۔اگرکوئی اور صاحب علم بھی اس پر کام کرنا چاہے تو میدان خالی ہے ۔بہرکیف ان اعتراضات میں سے تین کا تعلق زیر نظر مقالہ کے مباحث سے ہے ۔ان کا اجمالی جواب شاہ صاحب ؒ کے کلام سے ہی پیش کیا جا ئے گا۔ علامہ کوثری ؒ کا یہ اعتراض کہ ’’شاہ صاحب کی نظر صرف متون حدیث تک ہے اسنادپر توجہ نہیں ہے ۔‘‘

اس سوال کا جواب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کی ہی ایک عبارت سے پیش کیاجاتاہے۔

شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں :

وانما الاقرب من الحق با عتبار فن الحدیث ماخلص بعد تدوین احادیث البلاد وآثار فقھا ءھا ومعرفۃ المتابع علیہ من المتفرد بہ والاکثررواۃ والاقوی روایۃ مما ھو دون ذالک علی انہ ان کان شئی من ھذا النوع استطرادا فلیس البحث عن المسائل الاجتہادیہ وتحقیق الاقرب منھا للحق بدعا من اھل العلم ولا طعنا فی احد منھم (۳۹)

’’اور فن حدیث کی رو سے وہ احادیث حق سے زیادہ قریب ہیں جو ممالک اسلامیہ میں مدون ہوئیں اور ان میں سے قابل اعتماد ہو کر سامنے آئیں اور فقہاء نے جن کی تائید کی اور متابعات نے ا ن کے تفرد کو دور کیا جن کے راوی بکثرت رہے اور اسانید وروایات قوی تر رہیں اس قسم کی احادیث حق کے زیادہ قریب ہیں بہ نسبت ان احادیث کہ جن میں یہ صفات نہیں ہیں البتہ اگر اس قسم کی کوئی حدیث تبعا بطورتائید پیش کی جائے توکوئی مضائقہ بھی نہیں ،کیونکہ مسائل اجتہادیہ میں بحث کرنا اورجو حق سے قریب تر اسے ثابت کرنا علماء کرام کے نزدیک کوئی بدعت نہیں ہے نہ اس کی وجہ سے ان علماء کی شان میں کوئی طعن ہوسکتاہے ۔‘‘

شاہ صاحب کے مذکورہ کلام سے معلوم ہوا کہ شاہ صاحب’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں احادیث پر اس لیے کلام نہیں کرتے کہ آپ نے ان احادیث کوہی ذکر کیاہے جن کو مشہور محدثین نے اپنی کتب میں نقل کیاہے ۔اوروہ قابل اعتماد روایات ہیں۔ لہٰذا مذکورہ اعتراض کا جواب ہوگیا کہ شاہ صاحب اس لیے احادیث کی صحت وسقم پر کلام نہیں کرتے کہ آپ کی تحقیق کے مطابق یہ روایات صحیح ہیں ۔اور اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ روایات ضعیف ہیں تواس کا جواب بھی شاہ صاحب کے کلام سے ملتاہے ۔کہ ایسی احادیث کوضمنا وتبعا بطور تائید کہ پیش کیا جاسکتاہے اس لیے کہ اجتہادی مسائل میں بحث کرنا اور احق کی معرفت اہل علم کے نزدیک بدعت نہیں ہے ۔

باقی آپ ؒ کے تفردات اور مطالعہ کتب کے محدود ہونے کا پس منظر کیاہے ۔؟ان اعتراضات کے جوابات آگے آرہے ہیں ۔

عقلی دلیل کی مثال

شاہ صاحب ؒ تدبیر منزل کے بیان میں فرماتے ہیں :

وھو الحکمۃ الباحثۃ عن کیفیۃ حفظ الربط الواقع بین اھل المنزل علی الحد الثانی من الارتفاق وفیہ اربع جمل الزواج ،والولادۃ والملکۃ والصحبۃ (۴۰)
’’اور تدبیر منزل وہ حکمت ہے جو ارتفاق کی حدثانی پر ایک گھر کے باشندوں میں پائے جانے والے ربط وتعلق کی کی نگہداشت کی کیفیت سے بحث کرنے والی ہے ۔اس فن میں چار جملے ہیں ۔ازدواج، ولادت، ملکیت اور رفاقت ۔‘‘

مرد وعورت کے درمیان قربت ورفاقت کی وجہ جماع کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔اسی بات کو بیا ن کرتے ہوٗے شاہ صاحب لکھتے ہیں :

و الاصل فی ذالک ان حاجۃ الجماع اوجبت ارتباطا واصطحابابین الرجل والمراۃ(۴۱)
’’اور بنیادی دلیل اس ازدواج میں یہ ہے کہ جماع کی ضرورت نے مرد اور عورت کے د رمیان باہمی تعلق اور رفاقت ثابت کی ہے ۔‘‘

۴۔ کئی مقامات پر اجمالا بات کرنے کے بعد وَمِنْہَا(اور ان میں سے )کے تحت اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں اور اسے ۲۵۰سے زائد مقامات پر لائے ہیں ۔

مثال

شاہ صاحب دین اسلام کے دیگر مذاہب پر غلبہ کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وغلبۃ الدین علی الادیان لھا اسباب (۴۲)
’’اور دین اسلام کو عالم کے تمام ادیان پر غالب اور بلندوبالا کرنے کے چند اسباب ہیں۔‘‘

اس کے بعد’’ وَمِنْہَا ‘‘سے اس اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہیں ۔

چنانچہ لکھتے ہیں :

منھا اعلان شعائرہ علی شعائر سائر الادیان وشعائر الدین امر ظاھر یختص بہ یمتاز صاحبہ بہ من سائر الادیان کالختان وتعظیم المساجد والاذان والجمعۃ والجماعات (۴۳)
’’اور ان اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ ،اسلامی شعائر کو دیگر ادیان کے شعائر پر ظاہرکرنا ۔اور دین کا شعار وہ ظاہری معاملات ہیں جو اس کے ساتھ خاص ہیں ۔جس کے ذریعے صاحب شعار تمام ادیان سے ممتاز ہوتاہے۔جیسے ختنہ کرانا ،مساجد کی تعظیم کرنا ،اذان ،جمعہ اور جماعتیں ۔‘‘

اور آگے لکھتے ہیں :

ومنھا ان یقبض علی ایدی الناس الا یظھروا شعائر سائر الادیان (۴۴)
’’اور ان میں سے یہ کہ امام لوگوں کے ہاتھوں کو پکڑ لے کہ وہ دیگر ادیان کے شعائر کو ظاہر نہ کریں ۔‘‘

یعنی دیگر ادیان کے شعائر کے ظاہرکرنے پا بندی عائد کردی جائے ۔

اور آگے مزید لکھتے ہیں :

ومنھا الایجعل المسلمین اکفاء للکافرین فی القصاص والدیات ولافی المناکحات ولافی القیام بالریاسات لیلجئھم ذالک الی الایمان الجاء (۴۵)
’’اور ان اسباب میں سے ،کہ مسلمان اور کافروں کو قصاص ودیت میں برابر نہ رکھا جائے اور نہ نکاح کے معاملوں میں ،اور ریاست کے انتظام وانصرام میں تاکہ یہ امتیاز ان میں ایمان کی رغبت پیدا کرے ۔‘‘

اور آگے لکھتے ہیں :

ومنھا ان یکلف الناس باشباح البر والاثم ویلزمھم ذالک الزاما عظیما (۴۶)
’’اور ان میں سے یہ کہ لوگوں کو نیکی اور گناہ میں ظاہری اعمال کا حکم دیا جائے اور تاکید کے ساتھ ان کو لازم کیا جائے۔‘‘

شاہ صاحب کے مذکورہ کلام ’’دین اسلام کو دیگر مذاہب پرغالب کرنے کے اسباب ‘‘کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔

۱۔ دین اسلام کے شعائر کو دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب کے شعائر سے بلندو بالا رکھا جائے اور یہ شعائر بالکل واضح ہوں اور انہی کے لیے مخصوص ہوں کہ ان شعائر کو اختیار کرنے والے دیگر مذاہب سے الگ ہوجائیں ۔مثلا ختنہ،مسجدوں کی تعظیم ،اذان ،جمعہ اور جماعتیں وغیرہ۔اس سے دیگر ادیان پر دین اسلا م کاغلبہ ہوگا ۔

۲۔ دیگر مذاہب والوں کو ممانعت کردی جائے کہ وہ اپنے مذہبی شعائر کو ظاہر اور برملا اختیار نہ کریں ۔

۳۔ قصاص ،دیت ،نکاح اور دیگر ریاست کے اہم عہد وں پر کافروں کو مسلمانوں کے برابر نہ کیا جائے تاکہ وہ ایمان کی طرف رغبت کریں ۔

۴۔ امام وقت لوگوں کو نیکی اور بدی کی ظاہری صورتوں کا پابند کرے کہ اس قسم کے ظاہری کام نیکی ہیں جو کرنے ہیں اور اس قسم کے کام گناہ ہیں جن سے بچناہے ۔

واضح رہے کہ مسلمان اور کافر کی دیت میں جو فرق شاہ صاحب نے کیا ہے ۔احناف کا موقف اس سے مختلف ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک مسلمان کوقصاصا کافرکے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافرکی دیت بھی مسلمان کی دیت سے آدھی ہے ۔

شاہ صاحب حدیث نقل کرتے ہیں :

لَا یقتل مُسلم لکَافِر (۴۷)
’’ کافر کے بدلہ مسلمان کوقتل نہ کیا جائے ۔‘‘

اس حدیث کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں :

اقول والسر فی ذالک ان المقصود الاعظم فی الشرع تنویہ الملۃ الحنیفیۃ ولایحصل الا بان یفضل المسلم علی الکافر ولایسوی بینھما(۴۸)
’’میں کہتا ہوں اس میں یہ حکمت ہے کہ شریعت اسلامیہ کا عظیم ترین مقصد یہ ہے کہ ملت حنیفیہ کی عظمت وشوکت قائم کی جائے ۔اورظاہر ہے کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ کافر کے مقابلہ میں مسلمان کی فضیلت وبرتری قائم کی جائے اور کافرومسلمان کے درمیان مساوات نہ رکھی جائے ۔‘‘

اسی طرح دیت کے مسئلہ میں شاہ صاحب حدیث نقل کرتے ہیں :

دِیَۃ الْکَافِر نصف دِیَۃ الْمُسلم (۴۹)
’’کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے ۔‘‘

اس حدیث کی تشریح میں شاہ صاحب لکھتے ہیں :

اقول السبب فی ذالک ما ذکرنا قبل انہ یجب ان ینوہ بالملۃ الاسلامیۃ وان یفضل المسلم علی الکافر ولان قتل الکافر اقل افساد ا بین المسلمین واقل معصیۃ فانہ کافر مباح الاصل یندفع بقتلہ شعبۃ من الکفر وھو مع ذالک ذنب وخطیءۃوافساد فی الارض فناسب ان تخفف دیتہ (۵۰)
’’میں کہتا ہوں اس کا سبب وہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اس سے ملت اسلامیہ کی شان وشوکت اور عظمت مقصود ہے نیز یہ بھی وجہ ہے کہ مسلمان کوکافر کے مقابلہ میں برتری دی جائے ۔نیز یہ کہ کافر کا قتل مسلمانوں کے درمیا ن فساد پیدا کرنے کے لحاظ سے کم ہے ۔اور کافرکوقتل کرنے کا گناہ بھی بہت کم ہے کیونکہ کافر مباح الاصل ہے ۔اس کے قتل کرنے سے کفر کی ایک شاخ دور ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی کافر کو قتل کرنا گناہ،خطا اور زمین میں فسا د پھیلاناہے اس لیے دیت میں تخفیف ہی مناسب ہے ۔‘‘

کافر اور مسلمان کے قصاص ودیت میں فرق کے لحاظ سے شاہ صاحب کا موقف بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آگیا کہ اس میں شریعت اسلامیہ کا مقصود ملت اسلامیہ کی شان وشوکت ہے ۔مالکیہ کا موقف بھی یہی ہے کہ کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے ۔(۵۱)اور اسی طرح کافر کے بدلے مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔(۵۲) مگر احناف کے ہاں کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے ۔ اوراگر کسی مسلمان نے کافر ذمی کو قتل کیا تو اس کے بدلے میں اس مسلمان کو قتل کیا جائے گا۔

امام محمد بن حسن الشیبانی (م-۱۸۹ھ)نے اس مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے وہ لکھتے ہیں:

والاحادیث فی ذالک کثیرۃ عن رسول اللہ ﷺ مشہورۃ معروفۃ انہ جعل دیۃ الکافر مثل دیۃ المسلم وروی ذالک افقھھم واعلمھم فی زمانہ واعلمھم بحدیث رسول اللہ ﷺ ابن شہاب الزھری فذکر ان دیۃ المعاھد فی عھد ابی بکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنھم مثل دیۃ الحر المسلم (۵۳)
’’اور اس بارے میں بہت سی مشہور ومعروف احادیث رسول اللہﷺسے مروی ہیں کہ آپ ﷺنے کافر کی دیت کو مسلمان کی دیت کے مثل مقرر کیا ۔اور یہ روایت کرنے والے اپنے زمانہ میں ان سے زیادہ حدیث رسولﷺ کے افقہ واعلم ہیں ۔امام ابن شہاب زہری نے ذکرکیا کہ معاہد کی دیت حضرت ابو بکر وحضرت عمر وحضرت عثمان کے زمانہ میں آزاد مسلمان کی دیت کے مثل تھی ۔‘‘

شیخ جمال الدین ابو محمد علی بن ابی یحییٰ (م -۶۸۶ھ )نے بھی اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔(۵۴)اسی طرح امام زیلعی نے بھی تفصیلی کلام کیاہے ۔(۵۵)اور مسلمان کو کافر کے بدلے قتل کرنے کے بارے میں صاحب ہدایہ نے تفصیلی بحث کی ہے ۔(۵۶)

۵۔ قرآن وسنت کی تفسیر وتشریح اور شریعت اسلامیہ کی تعبیر کرتے وقت شاہ صاحب جو رائے قائم کرتے ہیں وہ اکثر ان کی اپنی ہوتی ہے۔ایسا شاذ ونادر ہے کہ آپ اپنے سے پہلے گزرنے والے اہل علم کی کتب سے اقتباس اور حوالہ دیں۔ جہاں یہ بات آ پ کی علمیت کی دلیل ہے، وہیں پر حجۃ اللہ البالغہ کا مطالعہ کرنے والے کے لیے بہت بڑ ا مشکل مرحلہ ہے۔ اس لیے کہ اکثرمقامات پر آپ کی ذاتی رائے ہوتی ہے اور سابقہ کتب سے آپ نے وہ بات نقل نہیں کی ہوتی بلکہ آپ پر القاء یا الہام ہوتی ہے اور اس کاماخذ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مضامین کاسمجھنا دشوار ہوتاہے ۔اس لیے کہ اگر وہ رائے کسی سابقہ کتب سے لی گئی ہو تو اس کتاب سے مراجعت کرکے اس کا سمجھنا آسان ہے ۔مگر چونکہ ایسا نہیں ہے، اس لیے بہت سے مضامین تک اچھے خاصے علم رکھنے والے کی رسائی نہیں ہوتی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی اس کتاب میں دیگر اہل کے حوالے اوراقتباس ہیں مگر بہت کم تعداد میں ہیں ۔شاہ صاحب کی اس کتاب میں دیگر اہل علم کے زیادہ حوالے کیوں نہیں ملتے ۔؟یا بقول علامہ کوثری ’’ آپ کا مطالعہ محدود تھا‘‘اس کی کیا وجہ ہے ۔؟

اس کا جواب بھی شاہ صاحب ؒ کے کلام سے نقل کیاجاتاہے :

وانہ لایتاتی منی الامعان فی تصفح الاوراق لشغل قلبی بمالیس لہ فواق ولا یتیسر لی التناھی فی حفظ المسموعات لاتشدق بہا عند کل جاء وآت وانما انا المتفرد بنفسہ المجتمع(۵۷)
’’اور میرے لیے کتابوں کی ورق گردانی آسان نہیں ہے کیوں کہ میرا دل ایسے معاملہ میں مشغول ہے جس سے مجھے بالکل فرصت نہیں ہے ۔اور میرے لیے اساتذہ سے سنی ہوئی باتوں کو یاد رکھنے میں آخری حد تک پہنچنا بھی آسان نہیں کہ میں ہرآنے اورجانے والے کے سامنے انہیں بیان کروں ،میں اپنی ذات کے ساتھ تنہا ہونے والا ہوں ۔ ‘‘

چونکہ شاہ صاحب ہروقت اللہ کی یاد میں مصروف ومشغول رہتے تھے اس لیے زیادہ کتابوں کی طرف مراجعت نہیں کرتے تھے ۔ان کے زیادہ تر علوم کسبی و القائی ہیں ۔اس لیے آپ کی کتابوں میں کتب متقدمین کی عبارات واقتباسات بہت کم ہیں ۔

۶۔ شاہ صاحب کا انداز تحریر اور الفاظ کااستعمال فصاحت وبلاغت کے لحاظ اس قدر بلند ہے کہ عام قاری کی اس تک رسائی نہیں ہوسکتی اور بعض مقامات پر عبارت اس قدرمغلق اور دقیق ہے کہ متعدد الفاظ کا مفہوم لغت کا سہارا لیے بغیر سمجھ میں نہیں آتا اور یہ فیصلہ کرنا دشوار ہوتاہے کہ یہاں پر یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہورہاہے ۔اس لیے کتاب سے کماحقہ استفادہ کے لیے عربیت وادبیت میں اعلی استعداد کی ضرورت ہے۔

۷۔ شاہ صاحب اس قدر مختصر انداز میں مضامین کو تحریر کرتے ہیں کہ بڑی طویل بحثوں کو چند جملوں میں سمیٹ دیتے ہیں ۔بعض اوقات اسی حد سے زیادہ اختصار کی وجہ سے مضامین گرفت میں نہیں آتے ۔

۸۔ شاہ صاحب نے’’ حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ایسا اسلوب اختیار کیاہے جس سے اجتہاد وتحقیق پر طاری جمود کاخاتمہ ہوگیا کہ ہر بات میں وہی حق ہے جو سلف نے کہہ دیاہے مزیدتحقیق کی ضرورت نہیں ہے ۔چنانچہ وہ غیر منصوص فروعی مسائل جن میں علماء کی بحثیں ہوئی ہیں اگر مجبوری اور ضرورت کے وقت اس قسم کے مسائل میں مزید توضیح وتشریح کی ضرورت پیش آئے تو شاہ صاحب کا موقف یہ ہے کہ ہم پر لازم نہیں کہ ہم ان پہلے علماء کی ہر اس بات میں موافقت کریں جوانہوں نے کہی ہے ۔چنانچہ اس بارے میں آپ نے جو تفصیلی کلا م کیاہے وہ بعینہ نقل کیاجاتاہے ۔

شاہ صاحب لکھتے ہیں :

فلیس کل ما استنبطوہ من الکتاب والسنۃ صحیحا او راجحا ولاکل ما حسبہ ھولاء متوفقا علی شئی مسلم التوقف ولا کل ما اوجبوا ردہ مسلم الرد ولا کل ما امتنعوا من الخوض فیہ استصعا با لہ صعبا فی الحقیقۃ ولا کل ما جاوا بہ من التفصیل والتفسیر احق مما جاء بہ غیرھم (۵۸)
’’یہ ضروری نہیں کہ جوکچھ ان علماء نے کتاب وسنت سے مستنبط کیا ہے وہ بالکل صحیح اور راجح ہو ،اورنہ یہ ضروری ہے کہ ان علماء نے کسی مسئلہ کوکسی چیز پر موقوف سمجھا وہ حقیقت میں بھی اس پرموقوف ہو ،یا جس چیز کی انہوں نے تردید واجب سمجھی اس کی تردید واجب سمجھی جائے ،یا جن امور پرغوروغوض انہوں نے دشوار خیال کیا اور واقعہ میں بھی وہ دشوار ہی ہوں،یا جو تفصیل وتفسیر انہو ں نے پیش کی وہ دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہو۔‘‘

شاہ صاحب کی مذکورہ رائے کو نکات کی صورت میں پیش کیا جاتاہے۔

۱۔ یہ بات ضروری نہیں کہ سابقہ علماء کے قرآن وحدیث سے اخذ کیے ہوئے مسائل صحیح اور راجح ہوں جو لوگ ان کے بعد آئے ان کی تحقیقات بھی صحیح اور راجح ہوسکتی ہیں ۔

۲۔ متقدم علماء نے کسی مسئلہ کو کسی دوسری چیز پر موقوف سمجھا ،یہ ضروری نہیں کہ نفس الامر میں ایسا ہی ہو ،یہ بھی ہوسکتاہے کہ ان کی رائے غلط ہو۔

۳۔ سابقہ علماء نے جس چیز کی تردید کرنا لازمی سمجھی، ضروری نہیں کہ بعد میں آنے والے لوگوں پر بھی اس کی تردید واجب ہو ۔اس لیے کہ یہ ان کی رائے ہے جس کی اتباع کرنی دوسروں کے لیے ضروری نہیں ہے ۔

۴۔ ہر وہ معاملہ جس پر غور وفکر کرنے کے بعد سابقہ علماء نے سمجھا کہ یہ مشکل اور حل نہ ہونے والا مسئلہ ہے، ضروری نہیں کہ وہ مسئلہ یا معاملہ حقیقت میں بھی حل نہ ہوسکتاہو عین ممکن ہے بعد والے لوگ زیادہ اچھے طریقے سے اس کاحل پیش کردیں۔

۵۔ علماء متقدمین نے جن آیات واحادیث کی تفسیر وتفصیل بیان کی ہے،ضروری نہیں کہ وہ دیگر بعد میں آنے والے اہل علم کی بیان کردہ تفسیر وتشریح سے زیادہ قبولیت کی حقدار ہو۔عین ممکن ہے کہ بعد والے لوگ ان پر سبقت لے جائیں ۔

آخر میں شاہ صاحب لکھتے ہیں :

اما ھولاء الباحثوں بالتخریج والاستنباط من کلام الاوائل المنتحلون مذھب المناظرہ والمجادلۃ فلا یجب علینا ان نوافقہ فی کل ما یتفوھون بہ ونحن رجال وھم رجال والامر بیننا وبینھم سجال(۵۹)
’’بہر حال وہ لوگ جو متقدمین کے اقوال وکلام سے اخذ واستنباط کے ذریعہ بحث کرنے والے ہیں۔ مناظرہ اور مجادلہ جن کامذہب ہے ۔ان کے منہ سے نکلی ہوئی ہربات سے موافقت کرنا ہمارے لیے واجب نہیں ہے۔کیونکہ اگر وہ آدمی ہیں تو ہم بھی آدمی ہیں ۔اور معاملہ ہمارے اور ان کے درمیان کنویں کاڈول ہے ۔‘‘

شاہ صاحب نے اپنا موقف واضح کردیا کہ وہ لوگ جن کاکام ہی مناظرہ ومجادلہ ہے ان کی ہربات کو ہم کیوں تسلیم کریں وہ بھی انسان ہیں توہم بھی انسان ہیں ۔ان کے اورہمارے درمیان معاملہ بالکل ایسے ہے جیسے کنویں پرلٹکا ہوا ڈول جو بھی پہلے آئے گا وہ پانی بھرلے گا۔

۹۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بعض مقامات پر شاہ صاحب نے ایسا موقف اختیار کیاہے جس کا جمہور علماء وفقہاء میں کوئی قائل نہیں ہے ۔ان باتوں کے بیان کرنے میں شاہ صاحب منفرد ہیں اور اس قسم کی آراء کو آپ کے تفردات میں شمار کیاجائے گا ۔

شاہ صاحب لکھتے ہیں :

وستجدنی اذا غلب علی شقشقۃ البیان وامعنت فی تمھید القواعد غایۃ الامعان ربما اوجب المقام ان اقول بما لم یقل بہ جمہور المناظرین من اھل الکلام کتجلی اللہ تعالی فی مواطن المعاد بالصور والاشکال وکاثبات عالم لیس عنصر یا یکون فیہ تجسد المعانی والاعمال باشباح مناسبۃ لھا فی الصفۃ وتخلق فیہ الحوادث قبل ان تخلق فی الارض وارتباط الاعمال بھیآت نفسانیہ وکون تلک الھیآت فی الحقیقۃ سببا للمجازاۃ فی الحیات الدنیا وبعد الممات والقو ل بالقدر الملزم ونحو ذالک (۶۰)
’’اورعنقریب آپ مجھے پائیں گے جب مجھ پر زور بیان کا غلبہ ہوگا ،اور میں نہایت غورخوض سے قواعدوضوابط تیار کروں گا ،بسا اوقات اس مقا م کاتقاضا ہوگا کہ میں وہ بات کہوں جو علمائے کلام میں سے کسی نہیں کہی ہوگی،مثلا اللہ تعالی کاآخرت میں شکل وصورت میں تجلی فرمانا،اور ایک ایسے عالم کو ثابت کرنا جس کاوجود ترکیب عنصری سے بالا تر ہے ۔جن میں معانی اور اعمال مختلف حالات میں مختلف قالبوں میں مناسب شکل وصورت میں مجسم اور متشکل ہوکر ظا ہر ہوتے ہیں ۔اور اس عالم مثال میں وہ تمام حوادث وواقعات جو بعد میں جاکر زمین پر ظاہر اور رونما ہونے والے ہیں ،پہلے سے ہی رونما ہوجاتے ہیں ۔اور اعمال انسانی کا قلبی کیفیات سے ایک خاص تعلق اورربط اور انہی حالتوں کادرحقیقت دنیا وآخرت میں جزا وسزا کاموجب ہونا ہے۔اور تقدیر ملز م کا قائل ہونا اور اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں۔‘‘

شاہ صاحب کے تفردات کو نکات کی صورت میں پیش کیا جاتاہے ۔

۱۔آخرت میں اللہ تعالی کا شکل وصورت میں تجلی فرمانا جبکہ جمہور علماء اللہ تعالیٰ کو شکل وصورت سے پاک قرار دیتے ہیں۔

۲۔علماء نے دو عالم بیان کیے ہیں ۔عالم دنیا اورعالم آخرت ،جبکہ شاہ صاحب کے نزدیک ایک عالم مثال بھی ہے جس کا وجود ترکیب عنصر ی سے بالاتر ہے یعنی وہ غیر مادی جہاں ہے اور اس میں معنوی چیزوں اور اعمال کو بھی جسم ملتاہے اور پہلے اس عالم میں واقعات وحوادث کا ظہور ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ دنیا میں رونما ہوتے ہیں ۔

۳۔علماء نے جزا وسز اکا سبب اعمال انسانی کو قراردیاہے جب کہ شاہ صاحب کے نزدیک قلبی کیفیات (نیت وغیرہ) جزا وسزا کا اصل سبب ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ہی اعمال کا ربط وتعلق ہوتاہے ۔

۴۔علماء کے نزدیک تقد یر دو قسم کی ہے: تقدیر معلق اور تقدیر ملز م ،جبکہ شاہ صاحب کے نزدیک صرف تقدیر ملز م ہی ہے۔

شاہ صاحبؒ کے تفردات کا پس منظر

شاہ صاحب ؒ کے مذکورہ تفردات محض ان کے وجدانی خیالات کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ قرآن وسنت اور آثار صحابہ وتابعین سے آپ نے یہ مسائل اخذ کرکے اپنا موقف پیش کیا ہے۔چنانچہ علامہ کوثری ؒ کاشاہ صاحب ؒ کے ’’تفردات ‘‘پر اعتراض کا جواب بھی شاہ صاحب کے کلام سے نقل کیا جاتاہے۔

شاہ صاحب لکھتے ہیں:

فاعلم انی لم اجتری علیہ الابعد ان رایت الآیات والاحادیث وآثار الصحابۃ والتابعین متظاھرۃ فیہ ورایت جماعات من خواص اھل السنۃ المتمیزین منھم بالعلم اللدنی یقولون بہ ویبنون قواعدھم علیہ(۶۱)
’’جاننا چاہیے کہ میں نے اس پر لکھنے کی تبھی جرات کی جب میں نے قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اورآثار صحابہ وتا بعین کو اپنا موید پایا،نیز علماء اہل سنت میں سے مخصوص علماء کوجو علم لدنی کی وجہ سے دیگر علماء سے ممتاز ہیں اس میں کلا م کرتے اور ان پر قواعد کی بنیاد رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

مذکورہ بحث کے بعد یہ کہا جاسکتاہے کہ شاہ صاحب ؒ کے تفردات بلادلیل نہیں ہیں بلکہ نصوص پر گہرے غوروفکر کے بعد آپ ؒ نے وہ رائے قائم کی ہے ۔اور ان تفردات کے کے پیچھے عقلی نقلی دلائل ہیں جو آپ کے موقف کے موید ہیں ۔

شاہ صاحب ؒ سے اختلاف رائے کرتے ہوئے بعض مقامات پر علامہ کوثری ؒ کا قلم زیادہ ہی کاٹ دار واقع ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ عرض ہے کہ محض تفردات سے نہ کسی شخصیت کی علمیت کا انکار کیا جاسکتاہے اورنہ اس کے افکار کی بالکلیہ تردید واجب ہوتی ہے ۔اگر غور کیا جائے توشائید ہی تاریخ اسلام میں کوئی ایسا نامور عالم یا فقیہ ملے جس کے تفردات نہ ہوں تو کیا ان اکابر کی تحقیقات کو ان کے بعض تفردات کی وجہ سے ترک کردیا جائے گا ۔اس پر بھی اگر کوئی اہل علم کام کرنا چاہے تو میدا ن خالی ہے ۔اور کیا خوب ہوگا اگر وہ یہ عنوان رکھ لے ’’مشاہیر امت کے تفردات اور ان کا پس منظر ایک تحقیقی وتنقیدی مطالعہ ‘‘اس پر کام کے بعد معلوم ہوگا کہ تفردات کا آغاز کب ہوا ۔اور کتنی بڑی بڑی علمی شخصیات کے تفردات ہیں جن کو علماء امت نے قبول بھی نہیں کیا مگر ان اہل علم کے احترام میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

۱۰۔ شاہ صاحب کو اللہ تعالی نے جن خصوصیات سے نواز تھا وہ کسی بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہیں ۔ اتباع شریعت کاجذبہ اس قدر راسخ تھا کہ قرآن سنت کی خلاف ورزی تو ایک طرف اس کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور کس قدر عاجزی وانکساری کے ساتھ لکھ گئے ہیں کہ اگر میری کوئی بات قرآن وسنت یا قرون اولی کے اجماع کے خلاف تو میں اس سے برا ء ت کااعلان کرتا ہوں، اظہار لاتعلقی کرتاہوں۔

شاہ صاحب لکھتے ہیں :

وھا انا بری من کل مقالۃ صدرت مخالفۃ لآیۃ من کتاب اللہ او سنۃ قائمۃ عن رسول اللہﷺاو اجماع القرون المشہود لھا بالخیر او ما اختارہ جمہور المجتدین ومعظم سوا د المسلمین فان وقع شیی من ذالک فانہ خطا رحم اللہ تعالی من ایقظنا من سنتنا او نبھنا من غفلتنا(۶۲)
’’اور یادر ہے کہ میں ہر اس قول سے بری ہوں کہ جوکتاب اللہ کے خلاف ہو یا رسول اللہﷺکی معمول بہاسنت کے خلاف ہو ،یا ان قرون کے اجماع کے خلاف جن کے لیے خیر کی گواہی دی گئی ،یا اس رائے کے خلاف جس کو جمہور مجتہدین اور مسلمانوں کے سواد اعظم نے اختیار کیاہے ،پس اگر ایسی کوئی بات واقع ہوگئی ہے تو یہ خطا ہے ۔اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو ہمیں اونگھ سے بیدا رکرے اور ہماری غفلت پرتنبیہ کرے ۔‘‘

شاہ صاحب اپنے بعد میں آنے والے محققین کو ایک اچھا اسلوب اور منہج دے گئے ہیں ۔کہ وہی تحقیق معتبر ہوگی جو قرآن وسنت کے مطابق ہواس کے خلاف نہ ہو اور نہ خیرالقرون کے اجماع کے خلاف ہو ۔اور نہ ہی وہ ایسی تحقیق ہو جو جمہور مجتہدین اور مسلمانوں کی اکثریت کے راستہ سے ہٹاد ے ۔اور اگر میرے قلم سے کوئی ایسی بات نکل گئی ہوتو میں اس سے براء ت کا اعلان کرتاہوں۔اور کمال عظمت دیکھیے کہ دوسرے محققین کو دعوت دے رہے ہیں کہ اگر میری کوئی قابل گرفت بات ہو تو وہ ضرور مطلع کریں اور ساتھ ہی دعا بھی دے رہیں کہ اللہ ایسے شخص پر رحم فرمائے ۔

خلاصہ بحث

حضرت شاہ صاحبؒ علوم ومعارف کا بحر بیکراں تھے ۔آپ کی تما م تصانیف اس کا بین ثبوت ہیں ۔’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں آپ نے احکام شریعت کے اسرار وبھیدکی دل نشین اور موثر تشریح کی ہے ۔مصالح وحکم کو بیان کرنے میں آپ نے جو اسلوب اختیار کیاہے وہ بے مثال ہے خاص طور پر ان حالات کے تناظر میں جب زمانہ نئی کروٹ لے رہا تھا ، مسلم اقتدار کا سورج غروب ہونے کو تھا اورعقلیت پرستی کا دور شروع ہورہاتھا ۔آپ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں جو منہج طے کیا اس کے مطابق شروع سے لے کر تا آخر التزام کیا ۔قران وحدیث کے مطابق اپنا موقف پیش کیا اور فہم قران وحدیث میں جو عوارض مانع تھے ان کے تدارک کی تدابیر بیان کیں ۔زندگی کے تمام شعبوں اورپہلووں پر قرآن وسنت کی روشنی میں محققانہ کلام کیاہے ۔اور بعض مقامات پر آپ کی تحقیق ورائے جمہور علما ء سے مختلف ہوگئی ہے تو اس میں کسی نفسانی خواہش کا دخل نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے بھی قرآن وسنت سے اخذ کیے ہوئے دلائل ہیں جن کی وجہ سے آپ ؒ نے یہ موقف اختیار کیا ۔اور اپنے بعد میں آنے والے محققین کو ایک واضح پیغام دیا کہ اسلامی تحقیق اسی عالم کی معتبر ہوگی جو قرآن وسنت اور خیر القرون کے اجماع کی خلاف ورزی نہ کرے اور نہ ہی کوئی ایسی بات بلا دلیل کہے جو اس کو جمہور مجتہدین اورمسلمانوں کی اکثریت کے راستہ سے الگ کردے ۔


حوالہ جات

(۳۷) الکوثری ،محمد زاہد،حسن التقاضی فی سیرۃ الامام ابی یوسف القاضی ،مصر،دارالانوار للطباعۃ والنشر،س ن ،صفحہ ۹۶

(۳۸) ایضا،صفحہ۹۶تا ۹۹

(۳۹) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۱۰

(۴۰) ایضا،جلد۱،صفحہ۴۱

(۴۱) ایضا ،جلد۱،صفحہ۴۱

(۴۲) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹

(۴۳) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹

(۴۴) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹

(۴۵) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹

(۴۶) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱۹

(۴۷) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۲

(۴۸) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۲

۴۹) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۴

(۵۰) ایضا،جلد۲،صفحہ۱۵۴

(۵۱) ابن رشدالحفید،بدایۃ المجتھدونہایۃ المقتصد،جلد۴،صفحہ۱۹۸

(۵۲) ابن رشدالجد،محمد بن احمد،ابو الولید،المقدمات المھدات،دار الغرب الاسلامی، ۱۴۰۸ھ، جلد ۳، صفحہ ۲۸۴

(۵۳) الشیبانی،محمد بن حسن ،الامام،الحجۃ علی اہل المدینہ،بیروت عالم الکتب ،۱۴۰۳ھ،جلد۴،صفحہ۳۵۱

(۵۴) المنجبی ،الخزرجی،علی بن ابی یحییٰ،ابو محمد،اللباب فی الجمع بین السنۃ والکتاب، بیروت،دارالقلم، ۴۱۴۱ھ، جلد۲، صفحہ ۷۲۹

(۵۵) الزیلعی ،تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق،جلد۶،صفحہ۱۲۸

(۵۶) المرغینانی،علی بن ابی بکربن عبدالجلیل،الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی،بیروت ،داراحیاء التراث العربی، س ن،جلد۴،صفحہ۴۴۴

(۵۷) حجۃ اللہ البالغہ ،جلد۱،صفحہ۴

(۵۸) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۰

(۵۹) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۱

(۶۰) ایضا،جلد۱،صفحہ۹

(۶۱) ایضا،جلد۱،صفحہ۹

(۶۲) ایضا،جلد۱،صفحہ۱۰،۱۱

تعارف و تبصرہ

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ

Flag Counter