عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی

محمد عامر رانا

ممکن ہے انتہاپسندی اور تشدد سے نمٹنا آسان ہو مگر عسکریت پسند گروہوں پر قابو پانا ہرگز آسان نہیں ہے۔ کم از کم پاکستان کی حد تک تو یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر کالعدم انتہا پسند گروہوں سے نمٹنے کے معاملے میں ہم تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

ممنوع تنظیموں کی میڈیا کوریج پر پابندی کے حوالے سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حالیہ نوٹیفکیشن سے مختلف حکومتی محکمہ جات میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اس سے جہاں مختلف انتہاپسند تنظیموں کی حیثیت کے بارے میں پالیسی کی سطح پر ایہام کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں اس صورتحال سے جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ جیسے گروہوں کو ایک مرتبہ پھر یہ حکومتی اقدام رد کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان کے خلاف مغرب اور بھارت کی مہم کا حصہ ہے۔یہی نہیں بلکہ پیمرا کے نوٹس سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے معاملے پر اطلاعات اور داخلہ کی وزارتوں میں اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ یہ نوٹس جاری ہونے سے چند ہی گھنٹے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے تردیدی ردعمل ظاہر کیا۔ بعدازاں یہ بات سامنے آئی کہ پیمرا کا نوٹس وزارت اطلاعات کی ہدایات پر جاری کیا گیا تھا۔

یوں لگتا ہے وزارت اطلاعات کے پاس پاکستان میں انتہاپسند تنظیموں کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں کہ بظاہر اسے کالعدم گروہوں کی کوئی فہرست ہی فراہم نہیں کی گئی۔ وزارت داخلہ کی تردید کے بعد پیمرا نوٹس کے ساتھ منسلک کالعدم تنظیموں کی فہرست مشکوک ہو جاتی ہے۔رواں سال اگست میں وفاقی وزیر اطلاعات چودھری نثار نے فخریہ اعلان کیا کہ ممنوع قرار دی گئی 62 تنظیموں کی جامع فہرست ترتیب دی جا چکی ہے۔ مگر ہم ان کالعدم گروہوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں کہ اس حوالے سے سرکاری طور پر کوئی فہرست دستیاب نہیں ہے۔ بظاہر یہ اطلاعات انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کو مشتہر کرنی چاہئیں مگر یہ ادارہ بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست جاری کرنے میں متذبذب تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جب نیکٹا کی ویب سائٹ پر دی گئی کالعدم تنظیموں کی فہرست نے متنازع صورت اختیار کی تو اسے بند کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ یہ فہرست سرکاری نہیں تھی اور اس وقت سے نیکٹا کی ویب سائٹ ’’انڈر کنسٹرکشن‘‘ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیمرا کا نوٹیفکیشن وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ امریکا میں صدر باراک اوباما کے ساتھ مشترکہ اعلامیے اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1267 کے تحت ملک پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں کے عین مطابق تھا۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر وزارت داخلہ اس کی تردید کیوں کرتی ہے؟انتہاپسند گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں ناکامی پر افسرشاہی طرز کے بہانوں سے ہٹ کر آئیے، اس مسئلے کا وضاحت سے جائزہ لیتے ہیں۔

کیا بھارت میں انتہاپسند اور کٹر قوم پرست گروہوں کے ہوتے ہوئے پاکستان میں بھی انتہاپسند گروہوں کی ضرورت ہے؟ کیا بھارت میں پاکستان مخالف نعروں کا جواب دینے کے لیے ہمارے پاس ’’پاکستانی شیو سینا‘‘کا وجود ضروری ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ آیا ہمیں انتہاپسندی کے میدان میں بھی بھارت کی برابری کرنا ہے؟پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ ریاست اور معاشرہ ملک میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ رحجانات پر قابو پانے کے طریقے ڈھونڈ رہا ہے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی دیکھ کر ہم اعتدال پسند ذہنیت کی جانب اپنے سفر کو کھوٹا کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم نے بہت سی تکالیف اور قربانیوں کے بعد یہ راہ اختیار کی ہے۔

یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان میں بہت سے انتہاپسند گروہوں نے بھارت مخالف نعروں کی آڑ میں پناہ لے رکھی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت ہو رہا ہے جب بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی بھارت مخالف پروپیگنڈے کو ہوا دینے میں کوئی سیاسی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اسے پاکستان میں مثبت تبدیلی کہا جا سکتا ہے مگر اس سے جماعت الدعوۃ جیسے گروہوں کو صورتحال اپنے حق میں موڑنے کا موقع بھی میسر آتا ہے۔ تاہم ان گروہوں کا انتہاپسندانہ تعارف انہیں قانونی جواز اور عوامی حمایت دلانے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ کیا پاکستان میں ایک عام آدمی کے لیے بھارت سے منفی مسابقت میں عدم شمولیت پر فخر کرنا کافی نہیں ہو گا؟حکومت کی جانب سے مناسب حکمت عملی کا فقدان بھی ان کالعدم گروہوں سے نمٹنے کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتا ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ ملک میں کئی عشروں تک انتہاپسند گروہوں کو پنپنے کا موقع دیا گیا اور ان کی بیخ کنی میں بھی وقت درکار ہو گا۔ اگر حکومت نے انہیں کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے ہوتے تو اسی صورت میں یہ بات درست کہی جا سکتی تھی۔ ان گروہوں خصوصاً جماعت الدعوۃ کے فلاحی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر حکومت نے انہیں مناسب طریقے سے سماجی دھارے میں لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ملک میں موجود انتہاپسند گروہوں میں پرتشدد رحجانات خت کرنے اور انہیں دہشت گردی کے منظرنامے سے ہٹا کر قومی دھارے میں مدغم کرنے کے لیے کثیر رخی طریق کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پروگرام کے تحت حکومت آئین پاکستان پر عمل کرنے اور ہر قسم کے تشدد اور انتہاپسندانہ سرگرمیوں کو ترک کرنے کی یقین دہانی کرانے والے کالعدم گروہوں کو معافی کی پیشکش کر سکتی ہے۔ جو گروہ ہر قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں بشمول نفرت کے پرچار سے احتراز کا وعدہ کریں اور اپنی تنظیموں کو متعلقہ حکام/ محکمہ جات میں رجسٹرڈ کرائیں، انہیں قومی دھارے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ان کی رجسٹریشن اور نگرانی کا الگ طریق کار بھی وضع کیا جا سکتا ہے۔ وزارت داخلہ کو ان گروہوں کی رجسٹریشن سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے کہ اب اسے عالمی غیرسرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن کے ذریعے اس عمل کا خاطرخواہ تجربہ حاصل ہو چکا ہے۔

اس حوالے سے جماعت الدعوۃ کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے کہ یہ کالعدم لشکر طیبہ سے کسی قسم کا براہ راست رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ مگر پیمرا نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی کالعدم لشکرطیبہ کا ہی دوسرا روپ ہیں۔ بہرحال یہ ثابت کرنا جماعت الدعوۃ کی ذمہ داری ہے کہ اس کا دہشت گردی اور دہشت گرد گروہوں سے کوئی تعلق نہیں۔ جب اس کی مطبوعات میں لشکر طیبہ کی سرگرمیوں اور عسکریت پسندی کی تشہیر بند ہو جائے تو اسی صورت میں ہی عوام اور عالمی برادری کو اس کی بات پر اعتبار کرنا چاہیے۔ جماعت الدعوۃ کی قیادت کو اندازہ ہونا چاہیے کہ دنیا اندھی بہری نہیں ہے۔

(http://khabar.sujag.org/column/29261)

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ