ایک سفر کی روداد

محمد بلال فاروقی

۱۲ نومبر جمعرات کو استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کے ہمراہ لاہور اور پھر رائے ونڈ کے ایک روزہ سفر کا موقع ملا۔ لاہور میں ہمیں ملتان روڈ پر اسکیم موڑ کے قریب مولانا محمد رمضان کی مکی مسجد میں رکنا تھا جہاں ظہر کے بعد درس قرآن کی تقریب تھی۔تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہم منزل پہ پہنچے تو منڈی بہاؤالدین کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبد الماجد شہیدی بھی وہاں موجود ہیں۔ مولانا محمد رمضان نے استقبال کیا اور چائے سے تواضع کی۔ استاد جی نے دونوں علماء کو پاکستان شریعت کونسل کا نیوز لیٹر ’’نوائے شریعت‘‘ پیش کیا۔ ساتھ ہی نظر پڑی تو ایک رسالہ ’’نوائے راجپوت‘‘ نظر آیا۔ مولانا عبد الماجد نے اپنا قصہ سنایا کہ میں اپنی اہلیہ کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا۔ اس نے گفتگو سے اندازہ لگایا کہ ہم راجپوت ہیں تو اس نے کریدنا شروع کیا کہ آپ کہاں سے ہیں وغیرہ وغیرہ۔جب یقین ہوا کہ راجپوت ہیں تو کہنے لگا کہ آپ راجپوت ہیں تو پھر یہ پگڑی اور داڑھی کیسی؟ مولانا نے جواب دیا کہ کیا آپ کو یاد نہیں کہ راجپوت مسلما ن ہو گئے ہیں؟

تھوڑی دیر گزری تو دارالعلوم مدنیہ کے سینئر استاد مولانا حمید حسین بھی تشریف لے آئے اور پھر مختلف موضوعات پر اساتذہ کے مابین گفتگو ہوئی۔مختلف مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی کشمکش کو ختم کرنے پہ بات ہوئی تو مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں میں فیصل آباد گیا ۔ساتھیوں نے بتایا کہ یہاں بریلوی مسلک کے معروف مناظر مولانا سعید احمد اسد چاہتے ہیں کہ آپ سے ملاقات ہو۔میں نے کہا، ضرور ملتے ہیں۔ملاقات کا اہتمام حافظ ریاض احمد چشتی چیئرمین النور ٹرسٹ نے کیا تھا۔مولانا سعید صاحب کا کہنا تھا کہ مولانا !کیا ممکن ہے کہ بریلوی دیوبندی علماء آپس کے مختلف فیہ مسائل میں کوئی درمیانی راہ نکال لیں تاکہ صورتحال میں بہتری کی گنجائش نکل سکے۔میں نے ان سے کہا کہ میرے خیال میں سردست دو باتیں ممکن ہیں۔ایک یہ کہ آپس کے اختلاف کو علمی مجالس تک محدود کیا جائے، فتویٰ بازی بند کرکے اختلاف بیان کرنے میں سلیقے سے کام لیا جائے اور دوسری یہ بات کہ مشترکہ دینی مقاصد کے لیے مل جل کر محنت کا ماحول پیدا کیا جائے۔مولانا سعید احمد کا کہنا تھا کہ میں آپ سے مزید مشاورت کے لیے گوجرانوالہ آؤں گا۔ اس موقع پر مولانا مفتی منیب الرحمن کی ایک ویڈیو کا تذکرہ بھی ہوا جس میں انہوں نے مسلکی روادری کے فروغ کے لیے علماء کو ذمہ داری کا احساس دلایا ہے۔

مذہبی سیاست کا تذکرہ چھڑا تو مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ میں یہ بات کئی بار لکھ چکا ہوں اور مختلف مواقع پہ عرض بھی کرتا رہتا ہوں کہ ہمارا مزاج دو انتہاؤں کا عادی ہوچکا ہے۔ یا ہم پارلیمانی سیاست پر قناعت کرلیتے ہیں یا پھر بندوق اٹھا لیتے ہیں، جبکہ ہماری اصل طاقت ’’اسٹریٹ پاور‘‘ ہے، پرامن جلسے، جلوس، ہڑتالیں وغیرہ جس کے ختم ہو جانے کی وجہ سے ہم نقصان اٹھا رہے ہیں۔ باتوں باتوں میں مولانا زاہدا لراشدی نے دو واقعات سنائے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری کے ایک مطبوعہ خطاب میں اس بات کا ذکر ہے کہ سندھ میں انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کے دور میں امروٹ شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا تاج محمود امروٹی بھی اس کے راہنماؤں میں شامل تھے۔ ان سے ایک بے تکلف مرید نے کہا: حضرت! آپ ساری ساری رات اللہ تعالیٰ سے براہ راست بات چیت کرتے ہیں تو آپ وہاں کیوں نہیں عرض کرتے کہ یا اللہ انگریز حکومت سے نجات عطا فرما۔ یہ کیا ہرروز کے جلسے جلسوں کے چکر میں ہم پڑے ہوئے ہیں۔مولانا نے فرمایا کہ میں نے یہ عرضی ڈالی تھی۔ جواب آیا کہ ’’ان سے لے لوں تو دوں کس کو ؟‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ کیا تمہارے اندر اتنی صلاحیت ہے کہ دنیا سنبھال سکو ؟

دوسرا واقعہ مولانا مفتی محمود کا ہے۔ تحریک نظام مصطفی کے دوران ان سے روزنامہ نوائے وقت کے ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ مفتی صاحب! کیا یہ ممکن ہے کہ سو فیصد آپ کی حکومت آئے بغیر اسلام کا نفاذ ہوجائے ؟ مفتی صاحب نے فرمایا کہ نہیں یہ ممکن نہیں۔ اس نے دوسرا سوال کیا: کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کوسوفیصد حکومت ملے؟ کہنے لگے، یہ بھی ممکن نہیں۔ رپورٹر نے کہا کہ پھر آپ لوگ یہ سیاست کیوں کررہے ہیں ؟ مفتی صاحب نے فرمایا کہ ہم اس پوزیشن میں تو نہیں کہ اپنی خالص حکومت بنا سکیں۔ ہاں یہ پوزیشن ہمیں حاصل ہے کہ کسی کو آرام سے حکومت نہ کرنے دیں، سو وہ ہم کر رہے ہیں۔

مولانا عبد الماجد شہیدی کے ساتھ گفتگو کے دوران مولانا زاہد الرشدی نے فرمایا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اب دہلوی طریقے سے ہٹ کر مجددی طریقے پہ آنا پڑے گا اور میرے خیال میں پاکستان میں اس طریقے کا ایک نمونہ مولانا طارق جمیل ہیں۔چونکہ مزاحمت کا مزاج ختم ہوتا جارہا ہے، اس لیے ہمیں اس پہ سوچنا پڑے گا کہ دہلوی طریقہ شاید اب ممکن نہ ہو اور حضرت مجدد صاحب کے طریقے کی طرف جانا پڑے۔

گفتگو کے دوران شیخ الہند اکادمی کے منتظم مولانا نصیر احمد احرار بھی تشریف لائے۔ استاد جی نے ان سے اکادمی کے حوالے سے پوچھا تو بتایا کہ بس اسی حوالے سے ایک میٹنگ جلد بلارہے ہیں۔ ساتھ ہی کہا کہ اکادمی کا کام کرنے میں رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں اور اکثر رکاوٹیں اپنوں کی طرف سے ہیں۔ 

ظہر کی نماز کے بعد درس قرآن کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز مولانا محمد عثمان نے قرآن کریم کی تلاوت سے کیا۔ نعت کے بعد مولانا عبدالماجد شہیدی نے سود کی حرمت پہ بیان فرمایا۔ لعن اللہ والی حدیث شریف کی تشریح بیان کی اور ایک بڑا کمال کا جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’ سود کھانا روح ایمانی کی موت ہے۔ سود کھانے کے بعد ایمان کا جسم تولیے پھریں گے اور اپنے آپ کو تسلی دیں گے کہ ہم مسلمان ہیں، لیکن ایمان کی روح نہیں ہوگی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سودی نظام کے خلاف اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کرنی چاہیے۔بیان کے اختتام پر انہوں نے مولانا راشدی سے درخواست کی کہ یہ نظام جس نے ہمیں جکڑا ہوا ہے، اس سے نجات کیسے حاصل کی جاسکتی ہے، اس پر ہماری راہنمائی فرمائیں۔

اس کے بعد مولانا راشدی نے بیان فرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ تو ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ سود حرام ہے اور شرعاً اس کے کیا نقصانات ہیں۔لیکن یہ اشکال بیان کیا جاتا ہے کہ غیر سودی بینکاری ممکن نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ سودی بینکاری ممکن ہے اور اس پر چندشہادتیں پیش کرتا ہوں۔

سب سے پہلی شہادت یہ ہے کہ اسلامی بینکاری جس کو یہ حضرات ناممکن کہتے ہیں، دنیا میں اس وقت فرانس اور پرطانیہ کی کشمکش جاری ہے کہ اسلامی بینکاری کا مرکز پیرس بنے گا یا لندن۔ برطانیہ کے وزیراعظم نے پچھلے سال ایک کانفرنس کی اور اس میں یہ وعدہ کیا ہے کہ میں آئندہ چند برسوں تک لندن کو غیر سودی بینکاری کا مرکز بناؤں گا، جبکہ پاکستان میں ابھی تک یہ ماحول نہیں بن رہا۔ اس پر ایک لطیفہ سنایا کہ انگریزی دور میں لاہور میں دو کالج تھے، ایک اسلامیہ کالج اور دوسرا خالصہ کالج۔امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے پاس چند نوجوان آئے تو شاہ جی نے کہا کہ بھئی مسلمان ہو، کوئی ٹوپی پہنا کرو، داڑھی رکھو۔ اس پر یہ نوجوان کہنے لگے کہ ہم کالج میں پڑھتے ہیں، کالج کے ماحول میں یہ ممکن نہیں ہے۔ تو شاہ جی نے فرمایا کہ ہاں بھئی !خالصہ کالج میں ممکن ہے، لیکن اسلامیہ کالج میں ممکن نہیں۔یہی بات ہے کہ برطانیہ پیرس میں توغیر سودی بینکاری ممکن ہے لیکن پاکستان میں ممکن نہیں سمجھی جا رہی۔ 

دوسری شہادت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک غیر ملکی ادارے کے ساتھ مل کر ایک سروے کیا جس میں یہ سوال پوچھا گیا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری ہونی چاہے یا نہیں؟ تو سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان کے اٹھانوے فی صد عوام چاہتے ہیں کہ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

تیسری شہادت یہ ہے کہ جب چند سال پہلے بین الاقوامی سطح پر معاشی بحران آیا تو عالمی سطح پربعض بینک دیوالیہ ہوگئے۔اس پر مسیحی دنیا کے اس وقت کے روحانی پیشوا پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے مختلف معاشی ماہرین کی ایک کمیٹی بنائی اس لیے کہ اس مسئلے پہ ویٹی کن سٹی کو کیا مؤقف دینا چاہیے۔ اس کمیٹی نے جورپورٹ مرتب کی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس معاشی بحران کا یک ہی حل ہے کہ معیشت کو ان اصولوں پہ استوار کیا جائے جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔

چوتھی شہادت یہ ہے کہ ورلڈ بینک کے ایک سابق صدر سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ دنیا میں امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب غریب تر، اس کا حل کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا حل ہے کہ سود کی شرح کم کی جائے۔پوچھا گیا کہ اس کی کم ازکم کیا شرح ہونی چاہیے تو ان کا کہنا تھا کہ آئیڈیل پوزیشن تو صفر ہے، یعنی سود کو بالکل ختم کر دیا جائے۔

اس کے بعد مولانا نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو واضح کیا اور بتایا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ یہاں سے اٹھیں اور جلوس نکالیں، لیکن اتنا تو ضروری ہے کہ ہرآدمی اپنی صلاحیت کے مطابق رائے عامہ ہموار کرے، لوگوں کو تیار کرے اور سود کی نحوستوں سے باخبر کرے۔

مولانا محب النبی صاحب کی دعا پر درس قرآن کی یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

بعد ازاں استاد جی کے ساتھ رائے ونڈ جانا تھا۔ میرے ایک دوست مولانا محمد فراز بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ مولانا راشدی میری گاڑی میں رائے ونڈ جائیں۔استاد جی ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے اور میں دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا۔ راستے میں عصر کی نماز پڑھی اور مغرب سے چند ساعتیں قبل رائیونڈ پنڈال میں پہنچ گئے۔ مولانا فراز کے پاس خواص کے حلقے میں جانے کا ’’پاس‘‘ تھا لیکن استاد جی نے کہا کہ مجھے پروٹوکول سے طبعی مناسبت نہیں، اس لیے سیدھا پنڈال پہنچے جہاں حضرت مولانا نذر الرحمن کا بیان شروع تھا۔ ہم منڈی بہاؤ الدین کے حلقے میں بیٹھے۔ مولانا عبدالماجد شہیدی نے وہاں کے مقامی لوگوں سے ملاقات کروائی۔ استاد جی نے اپنے شاگرد مفتی خالد محمود کا نکاح پڑھانا تھا جو مسلسل رابطے میں تھے۔انہوں نے استاد جی سے کہہ رکھا تھا کہ میرا نکاح آپ نے پڑھانا ہے اور پڑھانا بھی تبلیغی اجتماع میں ہے۔تھوڑی دیر بعد وہ اپنے رفقاء سمیت تشریف لائے۔ استاذ جی نے نکاح پڑھایا اور چھوہارے تقسیم ہوئے۔ مغرب کے بعد مولانا احمد لاٹ صاحب کا بیان تھا ۔بڑے جوش میں بیان فرمارہے تھے۔ میرے ایک دوست مولانا شاہد صاحب بھی سال میں چل رہے تھے۔ ان سے بھی ملاقات ہوئی۔رائے ونڈ اجتماع میں تقریباً تین گھنٹے گزارنے کے بعد ہم گوجرانوالہ واپس روانہ ہوگئے۔

اخبار و آثار

دسمبر ۲۰۱۵ء

جلد ۲۶ ۔ شمارہ ۱۲

دینی قوتوں کے باہمی انتشار کو کم کرنے کی ضرورت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

عدالتِ عالیہ لاہور کے ایک فیصلے کا تنقیدی جائزہ
محمد مشتاق احمد

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)
غازی عبد الرحمن قاسمی

فرانس نہیں، اسلام پر حملہ
رعایت اللہ فاروقی

ممتاز قادری کی سزا ۔ تحفظِ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر
ڈاکٹر محمد شہباز منج

سید احمد شہید کی تحریکِ جہاد: ایک مطالعہ
ڈاکٹر عرفان شہزاد

عسکریت پسند گروہ اور ہماری قومی پالیسی
محمد عامر رانا

شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ ۔ مولانا عبد اللطیف انورؒ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجلس مذاکرہ ۔ ’’فضلاء مدارس دینیہ کا معاشی مستقبل‘‘
مولانا محمد عبد اللہ راتھر

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

ایک سفر کی روداد
محمد بلال فاروقی

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس
ادارہ

گوجرانوالہ کی دینی جماعتوں اور تاجر برادری کا اجلاس
ادارہ